Sunan Abu Dawood 1233

نماز کا بیان

1233Sunan Abu Dawood

مسافر نماز کو کب پورا پڑھے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَفَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقُلْنَا: هَلْ أَقَمْتُمْ بِهَا شَيْئًا ؟ قَالَ: أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ (اس سفر میں) دو رکعتیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم لوگوں نے پوچھا: کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے؟ انہوں نے جواب دیا: مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا ١ ؎۔

Narrated Anas bin Malik (RA) : We went out from Madina to Makkah with the Messenger of Allah ﷺ and he prayed two rakahs (at each time of prayer) till we returned to Madina. We (the people) said: Did you stay there for some time ? He replied: We stayed there ten days.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث حجۃ الوداع کے سفر کے بارے میں ہے، اور ابن عباس ؓ کی حدیث فتح مکہ کے بارے میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨١)، والمغازي ٥٢ (٤٢٩٧)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (الجمعة ٤٠) (٥٤٨)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٧)، ٤ (١٤٥١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٦ (١٠٧٧)، مسند احمد (٣/١٨٧، ١٩٠، ٢٨٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠ (١٥٥١)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٢) (صحیح )