Supplications for healing

شفا کی دعائیں17 duas

1

سورة الفاتحہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ‎۝‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‎۝‏ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ۝‏ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ‎۝ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۝‏ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۝‏ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ‎۝

Bismillāhir Raḥmānir Raḥīm Alḥamdulillāhi Rabbil ‘ālamīna. Ar Raḥmānir Raḥīmi. Māliki yawmid dīni. iyyāka na‘budu wa iyyāka nasta‘īnu. ihdinaṣ ṣirāṭal mustaqīma. ṣirāṭal ladhīna an‘amta ‘alaihim ghairil maghḍūbi ‘alaihim walaḍ ḍāllīna.

(All) praise is (due) to Allah, Lord of the worlds. The Entirely Merciful, the Especially Merciful. Sovereign of the Day of Recompense. You we worship and You we ask for help. Guide us to the straight path. The path of those upon whom You have bestowed favour, not of those who have evoked anger nor of those who are astray.

سب تعریف الله کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے بدلے کے دن کامالک ہے ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ہمیں سیدھی راه دکھا ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا، ان لوگو ں کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نه گمراہوں کی

Sunan Abū Dawūd: 3896 Ṣaḥīḥ

سنن أبی داؤد :3896 صحیح

Background & narration

i. Abū Sa‘īd Khudrī (r.a) reported that some people amongst the Companions of Allah’s Messenger (s.a.w) set out on a journey and happened to pass by a tribe from the tribes of Arabia. They requested hospitality from the members of that tribe, but they did not extend any to them. Then a scorpion stung their chief, and they came to the Companions asking, ‘Is there anyone to do incantation amongst you?’ A person amongst us said, ‘Yes’. So he came to him and he practiced incantation through Surah Al-Fātiḥah and the chief became fine. That man was given a flock of sheep (as reward), but he refused to accept, saying, ‘I shall mention it to Allah’s Messenger (s.a.w) and if he approves of it then I will accept it.’ So we came to Allah’s Messenger (s.a.w) and mentioned it to him, and he (that person) said, ‘O Messenger of Allah (s.a.w) I swear by Allah, I did not practice incantation but with Surah Al-Fātiḥah.’ The Messenger of Allah (s.a.w) smiled and said, ‘How did you come to know that it can be used (as incantation)?’ and said, ‘Take of that and allocate a share for me along with your share.’ [Al-Fātiḥah: 1-7] [Ṣaḥīḥ Muslim: 5733] ii. Kharjah bin Ṣalt al-Tamīmi (r.a) narrated from his uncle that he (r.a) came to the Messenger of Allah (s.a.w) and embraced Islām. On his return from the Messenger of Allah (s.a.w), he passed by some people who had a lunatic fettered in chains. His people said, ‘We have heard that your companion (i.e. Muhammad (s.a.w)) has brought some good. Have you something with which you can cure him?’ I then recited Surah Al-Fātiḥah: (All) praise is (due) to Allah, Lord of the worlds. The Entirely Merciful, the Especially Merciful. Sovereign of the Day of Recompense. You we worship and You we ask for help. Guide us to the straight path. The path of those upon whom You have bestowed favour, not of those who have evoked anger nor of those who are astray. And he was cured. They gave me one hundred sheep. I then came to the Messenger of Allah (s.a.w) and informed him of what happened. He (s.a.w) asked, ‘Did you say anything other than this?’ I said, ‘No.’ He (s.a.w) said, ‘Take it, for by my life, some accept it for a worthless incantation, but you have done so for a genuine one.’ [Sunan Abū Dawūd: 3896] Ṣaḥīḥ

(a) ابو سعید خدری رضی الله عنه سے روایت ہے که رسول الله صلی الله علیه وسلم کے اصحاب میں سے بعض صحابه ایک سفر میں جا رہے تھے وه عرب قبائل میں سے ایک قبیله کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان قبیله والوں سے مہمانی طلب کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی نه کی پھر انہوں نے صحابه کرام سے پوچھا کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے کیونکه قبیله کے سردار کو (کسی جانور نے) ڈس لیا ہے یا کوئی تکلیف ہے۔ صحابه میں سے کسی نے کہا جی ہاں پس وه اس کے پاس آئے اور اسے سورة الفاتحه کے ساتھ دم کیا تو وه آدمی تندرست ہوگیا انہیں بکریوں کا ریوڑ دیا گیا لیکن اس صحابی نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا که جب تک اس کا ذکر میں نبی صلی الله علیه وسلم سے نه کرلوں نہیں لوں گا، وه نبی صلی الله علیه وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی الله علیه وسلم سے یه سارا واقعه ذکر کیا اور عرض کیا اے الله کے رسول الله کی قسم میں نے سورة الفاتحه ہی کے ذریعے دم کیا ہے آپ صلی الله علیه وسلم مسکرائے اور فرمایا تمہیں یه کیسے معلوم ہوا که یه دم ہے پھر فرمایا ان سے لے لو اور اپنے ساتھ میرا حصه بھی رکھو۔ (صحیح مسلم: 5733) (b) خارجه بن صلت تمیمی رضی الله عنه اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں که وه نبی صلی الله علیه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ صلی الله علیه وسلم سے واپسی پر ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا، جن کا ایک دیوانه شخص بیڑیوں میں جکڑا ہواتھا۔ اس کے گھر والوں نے ان سے کہا: ہمیں بتایا گیا ہے که آپ کے صاحب (نبی صلی الله علیه وسلم) خیر کے ساتھ آئے ہیں تو کیا آپ لوگوں کے پاس اس کے علاج کے لیے کوئی چیز ہے؟ میں نے سورة الفاتحه پڑھ کر دم کیاتو وه صحت یاب ہوگیا اور انہوں نے مجھے سوبکریاں دیں۔ پھر میں رسول الله صلی الله علیه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور صورت حال عرض کی تو آپ صلی الله علیه وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تو نے اس کے سوا بھی کچھ پڑھا۔ میں نے عرض کی: نہیں آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: اس کو لے لو، میری زندگی کی قسم اگر کوئی باطل جھاڑ پھونک سے کھا سکتا ہے، تو تم تو سچے دم کے ذریعه کھا رہے ہو۔ (سنن أبی داؤد :3896) صحیح

2

Surah Al-IkhlaasSurah Al-Ikhlaas

سورة الاخلاصسورة الاخلاص

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ۝ اللَّـهُ الصَّمَدُ ۝ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۝ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ۝ ×3

Bismillāhir Raḥmānir Raḥīm. Qul huwallāhu aḥadun. allāhuṣ ṣamadu. lam yalid wa lam yūlad. wa lam yaku(n)l lahū kufuwan aḥadun. (Thrice in the morning and evening)

Say: He is Allah, the One and Only. Allah, the Eternal Refuge. He neither begets nor is He born. Nor is there to Him any equivalent. (Thrice in the morning and evening)

کہہ دیجئے! که وه الله ایک ہے الله بے نیاز ہے نه اس سے کوئی پیدا ہوا اور نه ہی وه کسی سے پیدا ہوا، اور نه ہی کوئی اس کا ہمسر ہے (تین بار)

Recite 3 times

0 / 3 · tap the circle to count

Sunan Abū Dawūd: 5082 Ḥasan

سنن أبی داؤد: 5082 حسن

Background & narration

‘Abdullah Ibn Khubaib (r.a) narrated, ‘We went out one rainy and intensely dark night to look for the Messenger of Allah (s.a.w), to lead us in prayer, and when we found him, he (s.a.w) said: ‘Say’, but I did not say anything. He (s.a.w) again said: ‘Say’, but I did not say anything. He (s.a.w) then said: ‘Say’. So I asked: ‘What am I to say?’ He (s.a.w) said, ‘Say: Say: He is Allah, the One and Only. Allah, the Eternal Refuge. He neither begets nor is He born. Nor is there to Him any equivalent. And say Mu‘awwidhatain i.e. Say: I seek refuge in the Lord of the daybreak. From the evil of what He created. And from the evil of darkness when it settles. And from the evil of the blowers in knots. And from the evil of an envier when he envies. And Say: I seek refuge in the Lord of mankind, the Sovereign of mankind, the God of mankind, from the evil of the retreating whisperer, who whispers [evil] in the chests of mankind, amongst the Jinn and mankind. Recite them three times each in the morning and in the evening; they will serve you for every purpose.’ [Sunan Abū Dawūd: 5082] Ḥasan

حضرت معاذ ؒ بن عبد الله بن خبیب رضی الله عنه اپنے والد سے روایت کرتے ہیں که ہم ایک بارش والی اور سخت اندھیری رات میں نکلے جب که ہم رسول الله صلی الله علیه وسلم کو ڈھونڈ رہے تھے تاکه وه ہمیں نماز پڑھائیں۔ چنانچه ہم نے آپ صلی الله علیه وسلم کو پالیا تو آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ’’کہو‘‘ تو میں کچھ نه بولا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے پھر فرمایا: ’’کہو‘‘ تو بھی میں کچھ نه بولا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے پھر فرمایا: ’’کہو‘‘ تو میں نے عرض کیا۔ اے الله کے رسول صلی الله علیه وسلم! میں کیا کہوں؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا؛ کہو (قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌ o اَللهُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ o وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ o) کہہ دیجئے! که وه الله ایک ہے۔ الله بے نیاز ہے۔ نه اس سے کوئی پیدا ہوا اور نه ہی وه کسی سے پیدا ہوا، اور نه ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔ اور معوذتین یعنی (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ o مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ o وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ o وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ o وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ o) کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وه پھیل جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وه حسد کرے۔ اور (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ o مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰهِ النَّاسِ o مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ o الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ o مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ o) کہہ دیجئے! میں لوگوں کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسه ڈالنے والے، بار بار پلٹ کر آنے والے کے شر سے۔ وه جو لوگوں کے سینوں میں وسوسه ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے۔ صبح اور شام تین تین بار یه کہہ لو تو یه ہر چیز سے تمہاری کفایت کریں گی۔ (صبح و شام تین بار) (سنن أبی داؤد: 5082) حسن

3

Surah Al-FalaqSurah Al-Falaq

سورة الفلقسورة الفلق

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۝ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ۝ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ۝ وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ۝ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ۝ ×3

Bismillāhir Raḥmānir Raḥīm. Qul a‘ūdhubi rabbil falaqi. min sharri mā khalaqa. wa min sharri ghāsiqin idhā waqaba. wa min sharrin naffāthāti fil‘uqadi. wa min sharri ḥāsidin idhā ḥasada. (Thrice in the morning and evening)

Say: I seek refuge in the Lord of the daybreak. From the evil of what He created. And from the evil of darkness when it settles. And from the evil of the blowers in knots. And from the evil of an envier when he envies. (Thrice in the morning and evening)

کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناه چاہتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وه پھیل جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وه حسد کرے (تین بار)

Recite 3 times

0 / 3 · tap the circle to count

Sunan Abū Dawūd: 5082 Ḥasan

سنن أبی داؤد: 5082 حسن

Background & narration

‘Abdullah Ibn Khubaib (r.a) narrated, ‘We went out one rainy and intensely dark night to look for the Messenger of Allah (s.a.w), to lead us in prayer, and when we found him, he (s.a.w) said: ‘Say’, but I did not say anything. He (s.a.w) again said: ‘Say’, but I did not say anything. He (s.a.w) then said: ‘Say’. So I asked: ‘What am I to say?’ He (s.a.w) said, ‘Say: Say: He is Allah, the One and Only. Allah, the Eternal Refuge. He neither begets nor is He born. Nor is there to Him any equivalent. And say Mu‘awwidhatain i.e Say: I seek refuge in the Lord of the daybreak. From the evil of what He created. And from the evil of darkness when it settles. And from the evil of the blowers in knots. And from the evil of an envier when he envies. And Say: I seek refuge in the Lord of mankind, the Sovereign of mankind, the God of mankind, from the evil of the retreating whisperer, who whispers [evil] in the chests of mankind, amongst the Jinn and mankind. Recite them three times each in the morning and in the evening; they will serve you for every purpose.’ [Sunan Abū Dawūd: 5082] Ḥasan

حضرت معاذ ؒ بن عبد الله بن خبیب رضی الله عنه اپنے والد سے روایت کرتے ہیں که ہم ایک بارش والی اور سخت اندھیری رات میں نکلے جب که ہم رسول الله صلی الله علیه وسلم کو ڈھونڈ رہے تھے تاکه وه ہمیں نماز پڑھائیں۔ چنانچه ہم نے آپ صلی الله علیه وسلم کو پالیا تو آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ’’کہو‘‘ تو میں کچھ نه بولا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے پھر فرمایا: ’’کہو‘‘ تو بھی میں کچھ نه بولا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے پھر فرمایا: ’’کہو‘‘ تو میں نے عرض کیا۔ اے الله کے رسول صلی الله علیه وسلم! میں کیا کہوں؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا؛ کہو (قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌ o اَللهُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ o وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ o) کہہ دیجئے! که وه الله ایک ہے۔ الله بے نیاز ہے۔ نه اس سے کوئی پیدا ہوا اور نه ہی وه کسی سے پیدا ہوا، اور نه ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔ اور معوذتین یعنی (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ o مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ o وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ o وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ o وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ o) کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وه پھیل جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وه حسد کرے۔ اور (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ o مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰهِ النَّاسِ o مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ o الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ o مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ o) کہہ دیجئے! میں لوگوں کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسه ڈالنے والے، بار بار پلٹ کر آنے والے کے شر سے۔ وه جو لوگوں کے سینوں میں وسوسه ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے۔ صبح اور شام تین تین بار یه کہہ لو تو یه ہر چیز سے تمہاری کفایت کریں گی۔ (صبح و شام تین بار) (سنن أبی داؤد: 5082) حسن

4

Surah An-NaasSurah An-Naas

سورة الناسسورة الناس

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۝ مَلِكِ النَّاسِ ۝ إِلَـٰهِ النَّاسِ ۝ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ۝ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ۝ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۝ ×3

Bismillāhir Raḥmānir Raḥīm. Qul a‘ūdhubi rabbin nāsi. malikin nāsi. ilāhin nāsi. min sharril waswāsil khannāsi. alladhī yuwaswisu fī ṣudūrin nāsi. minal jinnati wannāsi. (Thrice in the morning and evening)

Say: I seek refuge in the Lord of mankind, the Sovereign of mankind, the God of mankind, from the evil of the retreating whisperer, who whispers [evil] in the chests of mankind, amongst the Jinn and mankind. (Thrice in the morning and evening)

کہہ دیجئے! میں لوگوں کے رب کی پناه چاہتا ہوں لوگوں کے مالک کی لوگوں کے معبود کی وسوسه ڈالنے والے، بار بار پلٹ کر آنے والے کے شر سے وه جو لوگوں کے سینوں میں وسوسه ڈالتا ہے جنوں اور انسانوں میں سے (تین بار)

Recite 3 times

0 / 3 · tap the circle to count

Sunan Abū Dawūd: 5082 Ḥasan

سنن أبی داؤد: 5082 حسن

Background & narration

‘Abdullah Ibn Khubaib (r.a) narrated, ‘We went out one rainy and intensely dark night to look for the Messenger of Allah (s.a.w), to lead us in prayer, and when we found him, he (s.a.w) said: ‘Say’, but I did not say anything. He (s.a.w) again said: ‘Say’, but I did not say anything. He (s.a.w) then said: ‘Say’. So I asked: ‘What am I to say?’ He (s.a.w) said, ‘Say: Say: He is Allah, the One and Only. Allah, the Eternal Refuge. He neither begets nor is He born. Nor is there to Him any equivalent. And say Mu‘awwidhatain i.e Say: I seek refuge in the Lord of the daybreak. From the evil of what He created. And from the evil of darkness when it settles. And from the evil of the blowers in knots. And from the evil of an envier when he envies. And Say: I seek refuge in the Lord of mankind, the Sovereign of mankind, the God of mankind, from the evil of the retreating whisperer, who whispers [evil] in the chests of mankind, amongst the Jinn and mankind. Recite them three times each in the morning and in the evening; they will serve you for every purpose.’ [Sunan Abū Dawūd: 5082] Ḥasan

حضرت معاذ ؒ بن عبد الله بن خبیب رضی الله عنه اپنے والد سے روایت کرتے ہیں که ہم ایک بارش والی اور سخت اندھیری رات میں نکلے جب که ہم رسول الله صلی الله علیه وسلم کو ڈھونڈ رہے تھے تاکه وه ہمیں نماز پڑھائیں۔ چنانچه ہم نے آپ صلی الله علیه وسلم کو پالیا تو آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ’’کہو‘‘ تو میں کچھ نه بولا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے پھر فرمایا: ’’کہو‘‘ تو بھی میں کچھ نه بولا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے پھر فرمایا: ’’کہو‘‘ تو میں نے عرض کیا۔ اے الله کے رسول صلی الله علیه وسلم! میں کیا کہوں؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا؛ کہو (قُلْ ھُوَ اللهُ اَحَدٌ o اَللهُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ o وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ o) کہہ دیجئے! که وه الله ایک ہے۔ الله بے نیاز ہے۔ نه اس سے کوئی پیدا ہوا اور نه ہی وه کسی سے پیدا ہوا، اور نه ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔ اور معوذتین یعنی (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ o مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ o وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ o وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ o وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ o) کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وه پھیل جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وه حسد کرے۔ اور (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ o مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰهِ النَّاسِ o مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ o الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ o مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ o) کہہ دیجئے! میں لوگوں کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسه ڈالنے والے، بار بار پلٹ کر آنے والے کے شر سے۔ وه جو لوگوں کے سینوں میں وسوسه ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے۔ صبح اور شام تین تین بار یه کہہ لو تو یه ہر چیز سے تمہاری کفایت کریں گی۔ (صبح و شام تین بار) (سنن أبی داؤد: 5082) حسن

5

شفا کی دعا

اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ

Indeed, adversity has touched me, and You are the most merciful of the merciful.

بے شک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم والا ہے۔

Al-Anbiya 21:83

الأنبیآء:83

6

شفا کی دعا

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللهِ كَاشِفَةٌ

None can remove it except Allah.

اللہ کے سوا اسے ہٹانے والا کوئی نہیں۔

An-Najm 53:58

النجم:58

7

شفا کی دعا

رَبَّنَا اكَْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ

Our Lord, remove from us the torment; indeed, we are believers.

اے ہمارے رب!ہم سے عذاب کو ہٹا دے، بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں۔

Ad-Dukhan 44:12

الدخان:12

8

شفا کی دعا

اَللّٰهُمَّ انْقُصْ مِنَ الْمَرَضِ،وَلَا تَنْقُصْ مِنَ الْاَجْرِ

O Allah, reduce the illness but do not reduce the reward.

اے اللہ!بیماری کو کم کر دے اور اجر میں کمی نہ کر۔

Sahih Al-Adab Al-Mufrad: 504

صحیح الأدب المفرد:504

9

شفا کی دعا

اَسْاَلُ اللهَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَكَ

I ask Allah the Great, the Lord of the Mighty Throne, to cure you.

میں عظمت والے اللہ سے دعا کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفادے۔

Sunan Abu Dawood: 3106

سنن أبی داود:3106

10

شفا کی دعا

اَذْهِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ اَنْتَ الطَّبِیْبُ وَاَنْتَ الشَّافِیْ

Remove the disease, O Lord of the people, You are the Healer, and You are the Curer.

اے لوگوں کے رب!بیماری دور کر دے تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔

Musnad Ahmad: 24774

مسند أحمد:24774

11شفاء کی دعا

شفا کی دعا

اِمْسَحِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا يَكْشِفُ الْكَرْبَ اِلَّا اَنْتَ

O Lord of mankind! Remove the suffering, for You are the Healer. There is no cure except Your cure, and none can relieve distress except You.

اے لوگوں کے رب! شفا تیرے ہی ہاتھ میں ہے، اس تکلیف کو دور کر دے، تیرے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔

Musnad Ahmad: 24234

مسند احمد: 24234

12شفاء کی دعا

شفا کی دعا

اَذْهِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِيْ لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَّا يُغَادِرُ سَقَمًا

O Lord of mankind! Remove the illness and heal. You are the Healer; there is no healing but Yours — a healing that leaves behind no illness.

اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا (عطا فرما) جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔

Sahih Muslim: 5707

صحیح مسلم: 5707

13

شفا کی دعا

اَللّٰهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذهِبَ الْبَاْسِ اشْفِ اَنْتَ الشَّافِیْ لَا شَافِیَ اِلَّا اَنْتَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا

O Allah! Lord of the people, Remover of distress, grant cure. You are the Healer, there is no cure except Your cure, a cure that leaves no disease.

اے اللہ!لوگوں کے رب!تکلیف کو دور کر نے والے!شفاعطا فرما، تو ہی شفادینے والا ہے تیرے سوا کوئی شفادینے والا نہیں، ایسی شفا(عطا فرما)جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔

Sahih Bukhari: 5742

صحیح البخاری:5742

14

شفا کی دعا

بِسْمِ اللهِ ×3 اَعُوْذُ بِاللّٰهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّمَا اَجِدُ وَاُحَاذِرُ.×7

In the name of Allah (3 times), I seek refuge with Allah and His power from the evil of what I find and fear (7 times).

اللہ کے نام کے ساتھ۔میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں،اس چیز کے شر سے جس کو میں پاتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں۔

Sahih Muslim: 5737

صحیح مسلم:5737

15

بِاسْمِ اللهِ یُبْرِیْكَ وَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ یَشْفِیْكَ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ وَ شَرِّ كُلِّ ذِیْ عَیْنٍ

Bismillāhi yubrīka wa min kulli dā’i(n)y yashfīka wa min sharri ḥāsidin idhā ḥasada wa min sharri kulli dhī ‘ainin.

In the name of Allah, may He cure you and from every illness heal you, and (protect you) from the evil of one who envies when he envies and from the evil of every one with an (evil) eye.

الله کے نام کے ساتھ، وه آپ کو صحت دے اور ہر بیماری سے شفا دے اور حاسد کے شر سے جب وه حسد کرے اور ہر بُری نظر والے کے شر سے [محفوظ رکھے]ـ

Ṣaḥīḥ Muslim: 5699

صحیح مسلم: 5699

Background & narration

‘Ā’ishah (r.a) narrates that once Jibra’īl (a.s) read this du‘ā when the Prophet (s.a.w) was ill, In the name of Allah, may He cure you and from every illness heal you, and (protect you) from the evil of one who envies when he envies and from the evil of every one with an (evil) eye. [Ṣaḥīḥ Muslim: 5699]

حضرت عائشه رضی الله عنہا سے روایت ہے که ایک مرتبه رسول الله صلی الله علیه وسلم بیمار ہوئے تو جبرئیل علیه السّلام نے یه دعا پڑھی بِاسْمِ الله یُبْرِیْکَ وَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ یَشْفِیْکَ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ وَ شَرِّ کُلِّ ذِیْ عَیْنٍ۔ اﷲ کے نام کے ساتھ، وه آپ کو صحت دے اور ہر بیماری سے شفا دے اور حاسد کے شر سے جب وه حسد کرے اور ہر (برُی) نظر والے کے شر سے (محفوظ رکھے)۔ (صحیح مسلم: 5699)

16

بِاسْمِ اللهِ اَرْقِیْكَ مِنْ كُلِّ شَیْئٍ یُّؤْذِیْكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ، اَللهُ یَشْفِیْكَ بِاسْمِ اللهِ اَرْقِیْكَ

Bismillāhi arqīka min kulli shai’i(n)y yu’dhīka, min sharri kulli nafsin aw ‘aini ḥāsidin, allāhu yashfīka, bismillāhi arqīka.

In the name of Allah, I blow on you (to remove from you) from all that harms you, and from the evil of every soul or envious eye; May Allah cure you; in the name of Allah, I blow on you.

میں الله کے نام سے آپ کو جھاڑتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے اور ہر نفس اور حاسد کی نظر کے شر سے، الله آپ کو شفا دے، میں الله کے نام سے آپ کو جھاڑتا ہوں

Ṣaḥīḥ Muslim: 5700

صحیح مسلم: 5700

Background & narration

Abū Sa‘īd (r.a) reported, Jibra’īl (a.s) came to Allah’s Messenger (s.a.w) and said, ‘O Muḥammad (s.a.w), have you fallen ill?’ Thereupon he (s.a.w) said ‘Yes’. Jibra’īl (a.s) said, In the name of Allah, I blow on you (to remove from you) all that harms you, and from the evil of every soul or envious eye; May Allah cure you; in the name of Allah, I blow on you. [Ṣaḥīḥ Muslim: 5700]

حضرت ابو سعید رضی الله عنه سے روایت ہے که حضرت جبرئیل علیه السّلام نبی صلی الله علیه وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے محمد صلی الله علیه وسلم آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ہاں۔ جبرئیل علیه السّلام نے فرمایا:٠ بِاسْمِ اللهِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُّؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَیْنٍ حَاسِدٍ، اَللهُ یَشْفِیْکَ بِاسْمِ اللهِ اَرْقِیْکَ۔ میں الله کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے اور ہر نفس اور حاسد کی نظر کے شر سے، الله آپ کوشفا دے، میں الله کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم: 5700)

17

شفا کی دعا

بِسْمِ اللهِ تُرْبَةُ اَرْضِنَا بِرِیْقَةِ بَعْضِنَا یُشْفٰی بِهِ سَقِیْمُنَا بِاِذْنِ رَبِّنَا

In the name of Allah, the dust of our land with the saliva of some of us, may our sick be healed by the permission of our Lord.

اللہ کے نام کے ساتھ( میں آپ کو دم کرتا ہوں)، ہماری زمین کی مٹی ،ہم میں بعض کے لعاب سے، ہمارا بیمار شفا دیا جاتا ہے ،ہمارے رب کے حکم سے۔

Sahih Muslim: 5719

صحیح مسلم:5719