Ayah 5:816 " النبی " سے بعض مفسرین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور بعض نے رسول کریم ﷺ کو مراد لیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر ان یہود کو واقعی یقین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت اور تعلیمات پر ہوتا تو نبی آخرالزمان کے مقابلہ میں جن کی بشارت خود موسیٰ (علیہ السلام) دے چکے ہیں مشرکین سے دوستی نہ کرتے یا یہ اگر نبی کریم ﷺ پر مخلصانہ ایمان لے آتے تو ایسی حرکت ان سے سر زد نہ ہوتی کہ دشمنان اسلام سے ساز باز کریں۔ اس دوسری تقدیر پر آیت منافقین یہود کے حق میں ہوگی۔
7 خدا کی اور خود اپنے تسلیم کردہ پیغمبر کی نافرمانی کرتے کرتے یہ حالت ہوگئی کہ اب موحدین پر مشرکین کو ترجیح دیتے ہیں۔ افسوس کہ آج ہم بہت سے نام نہاد مسلمانوں کی حالت بھی یہ ہی پاتے ہیں کہ مسلمان اور کفار کے مقابلہ کے وقت کافروں کو دوست بناتے اور انہی کی حمایت و وکالت کرتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا۔
Ayahs 5:82–861 ان آیات میں بتلایا گیا کہ یہود کا مشرکین سے دوستی کرنا محض اسلام اور مسلمانوں کی عداوت و بغض کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کو جن اقوام سے زیادہ سابقہ پڑتا تھا ان میں یہ دونوں قومیں یہود اور مشرکین علی الترتیب اسلام و مسلمین کی شدید ترین دشمن تھیں۔ مشرکین مکہ کی ایذا رسانیاں تو اظہر من الشمس ہیں۔ لیکن ملعون یہود نے بھی کوئی کمینہ سے کمینہ حرکت اٹھا کر نہیں رکھی۔ حضور ﷺ کو بیخبر ی میں پتھر کی چٹان گرا کر شہید کرنا چاہا، کھانے میں زہر دینے کی کوشش کی، سحر اور ٹوٹکے کرائے، غرض غضب پر غضب اور لعنت پر لعنت حاصل کرتے رہے۔ اس کے بالمقابل نصاریٰ باوجودیکہ وہ بھی کفر میں مبتلا تھے، اسلام سے جلتے تھے، مسلمانوں کا عروج ان کو ایک نظر نہ بھاتا تھا، تاہم ان میں قبول حق کی استعداد ان دونوں گروہوں سے زیادہ تھی۔ ان کے دل اسلام اور مسلمانوں سے محبت کرنے کی طرف نسبتاً جلد مائل ہوجاتے تھے اس کا سبب یہ تھا کہ اس وقت تک " عیسائیوں " میں علم دین کا چرچا دوسری قوموں سے زائد تھا، اپنے طریقہ کے موافق ترک دنیا اور زاہدانہ زندگی اختیار کرنے والے ان میں بکثرت پائے جاتے تھے۔ نرم دلی اور تواضع ان کی خاص صفت تھی جس قوم میں یہ خصال کثرت سے پائی جائیں ان کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئیے کہ اس میں قبول حق اور سلامت روی کا مادہ دوسری اقوام سے زیادہ ہو کیونکہ قبول حق سے عموماً تین چیزیں مانع ہوتی ہیں جہل، حب دنیا یا حسد و تکبّر وغیرہ۔ نصاریٰ میں قسیسین کا وجود جہل کو، رہبان کی کثرت حب دنیا کو، نرمی دل اور تواضع کی صفت کبرو نخوت وغیرہ کو کم کرتی تھی چناچہ قیصر روم مقوقس مصر اور نجاشی ملک حبشہ نے جو کچھ برتاؤ نبی کریم ﷺ کے پیغام رسالت کے ساتھ کیا وہ اس کا شاہد ہے کہ اس وقت نصاریٰ میں قبول حق اور مودت مسلمین کی صلاحیت نسبتاً دوسری قوموں سے زائد تھی۔ مشرکین مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر جب ایک جماعت صحابہ ؓ نے " حبشہ " کو ہجرت کی اور مشرکین نے وہاں بھی ملک حبشہ کے دربار تک اپنا پروپیگنڈا نہ چھوڑا تو بادشاہ نے ایک روز مسلمانوں کو بلا کر کچھ سوالات کئے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی نسبت بھی ان کا عقیدہ دریافت کیا۔ حضرت جعفر نے سورة مریم کی آیات پڑھیں اور اپنا عقیدہ صاف صاف بیان فرمایا۔ بادشاہ بےانتہا متاثر ہوا اور اقرار کیا کہ جو کچھ قرآن نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت عقیدہ ظاہر کیا ہے وہ بلا کم وکاست صحیح ہے۔ اس نے کتب سابقہ کی بشارات کے موافق حضور پر نور ﷺ کی نبی آخرالزمان تسلیم کیا۔ قصہ طویل ہے انجام کار ہجرت کے کئی سال بعد ایک وفد جو ستر نو مسلم عیسائیوں پر مشتمل تھا نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں روانہ کیا۔ یہ لوگ جب مدینہ پہنچے اور قرآن کریم کے سماع سے لذت اندوز ہوئے تو کلام الہٰی سن کر وقف گریہ و بکا ہوگئے۔ آنکھوں سے آنسو اور زبان پر " رَبَّنَا اٰمنَّا " الخ یہ کلمات جاری تھے۔ ان آیات میں اسی جماعت کا حال بیان فرمایا ہے۔ قیامت تک کے لئے کوئی خبر نہیں دی گئی کہ ہمیشہ عیسائیوں اور یہود و مشرکین وغیرہ کے تعلقات کی نوعیت اسلام و مسلمین کیساتھ یہ ہی رہے گی۔ آج جو لوگ عیسائی کہلاتے ہیں ان میں کتنے قسیس و رہبان اور متواضع و منکسر المزاج ہیں اور کتنے ہیں جن کی آنکھوں سے کلام الہٰی سن کر آنسو ٹپک پڑتے ہیں جب اقربھم مودۃ کی علت ہی جو ( ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ :82) سے بیان کی گئی، موجود نہیں تو معلول یعنی " قرب موئدت " کیوں موجود ہوگا۔ بہرحال جو اوصاف عہد نبوی کے عیسائیوں اور یہود و مشرکین کے بیان ہوئے، وہ جب کبھی اور جہاں کہیں جس مقدار میں موجود ہونگے، اسی نسبت سے اسلام و مسلمین کی محبت و عداوت کو خیال کرلیا جائے۔
Ayahs 5:87–882 آغاز سورت میں " ایفائے عہود " کی تاکید کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہوا تھا۔ اسی ضمن میں خاص خاص مناسبات سے جن کا ذکر موقع بہ موقع ہم کرچکے ہیں، دوسرے مفید مضامین کا سلسلہ شروع ہوگیا " الشیء بالشیء یذکر " بات میں سے بات نکلتی رہی تمام استطرادی مضامین کو تمام کر کے اس پارہ کے پہلے رکوع سے پھر اصل موضوع بحث کی طرف عود کیا گیا ہے اور لطف یہ ہے کہ اس رکوع سے متصل پہلے رکوع میں جو مضمون گزرا اس سے بھی رکوع حاضر کا مضمون پوری طرح مربوط ہے۔ کیونکہ پچھلے رکوع میں یہود و نصاریٰ کی جو فضائح بیان کی گئیں سمجھنے والوں کے نزدیک ان کا خلاصہ دو چیزیں تھیں۔ یعنی یہود کا لذات و شہوات دنیا اور حرام خوری میں انہماک جو " تفریط فی الدین " کا سبب ہوا۔ اور نصاریٰ کا دین میں غلو اور افراط جو آخرکار رہبانیت وغیرہ پر منتہی ہوا۔ بلاشبہ رہبانیت جسے دینداری یا روحانیت کا ہیضہ کہنا چاہئیے، نیت اور منشائے اصلی کے اعتبار سے فی الجملہ محمود ہوسکتی تھی۔ اسی لئے (ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ :82) کو من وجہ معرض مدح میں پیش کیا گیا۔ لیکن چونکہ اس طرح کا تجرد و ترک دنیا، اس مقصد عظیم اور قانون قدرت کے راستہ میں حائل تھا جو فاطر عالم نے عالم کی تخلیق میں مرعی رکھا ہے اس لئے وہ عالمگیر مذہب جو ابدی طور پر تمام بنی نوع انسان کی فلاح دارین اور اصلاح معاش و معاد کا متکفل ہو کر آیا ہے، ضروری تھا کہ اس طرح کے متبدعانہ طریق عبادت پر سختی سے نکتہ چینی کرے۔ کوئی آسمانی کتاب آج تک ایسی جامع، معتدل، فطری تعلیم انسانی ترقیات کے ہر شعبہ کے متعلق پیش نہیں کرسکتی، جو قرآن کریم نے ان دو آیتوں میں پیش کی ہے۔ ان آیتوں میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو صاف طور پر اس سے روک دیا کہ وہ کسی لذیذ حلال و طیب چیز کو اپنے اوپر عقیدۃ یا عملاً حرام ٹھہرا لیں۔ نہ صرف یہ ہی بلکہ ان کو خدا کی پیدا کی ہوئی حلال و طیب نعمتوں سے متمتع ہونے کی ترغیب دی ہے مگر سلبی اور ایجابی دو شرطوں کے ساتھ (1) اعتداء نہ کریں (حد سے نہ بڑھیں) (2) اور تقویٰ اختیار کریں (خدا سے ڈرتے رہیں) اعتداء کے دو مطلب ہوسکتے ہیں حلال چیزوں کے ساتھ حرام کا سا معاملہ کرنے لگیں اور نصاریٰ کی طرح رہبانیت میں مبتلا ہوجائیں۔ یا لذائذ و طیبات سے تمتع کرنے میں حد اعتدال سے گزر جائیں حتٰی کہ لذات و شہوات میں منہمک ہو کر یہود کی طرح حیات دنیا ہی کو اپنا مطمح نظر بنالیں۔ الغرض غلو و جفا اور افراط وتفریط کے درمیان متوسط و معتدل راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ نہ تو لذائذ دنیاوی میں غرق ہونے کی اجازت ہے اور نہ " ازراہ رہبانیت " مباحات و طیبات کو چھوڑنے کی۔ " ازراہ رہبانیت " کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ بعض اوقات بدنی یا نفسی علاج کی غرض کسی مباح سے عارضی طور پر پرہیز کرنا ممانعت میں داخل نہیں۔ نیز مسلمان تقویٰ کے مامور ہیں جس کے معنی ہیں خدا سے ڈر کر ممنوعات سے اجتناب کرنا، اور تجربہ سے معلوم ہے کہ بعض مباحات کا استعمال بعض اوقات کسی حرام یا ممنوع کے ارتکاب کی طرف مفضی ہوجاتا ہے۔ ایسے مباحات کو عہد و قسم یا تقرب کے طور پر نہیں بلکہ بطریق احتیاط اگر کوئی شخص کسی وقت باوجود اعتقاد اباحت ترک کر دے تو یہ رہبانیت نہیں بلکہ ورع وتقویٰ میں شامل ہے حدیث میں ہے لا یبلغ العبدان یکون من المتقین حتّٰی یَدَعَ مَالَا بَاسَ بہ حذراً ممابہ باس (ترمذی) الحاصل ترک اعتداء اور اختیار تقویٰ کی قید کو ملحوظ رکھ کر ہر قسم کے طیبات سے مومن مستفید ہوسکتا ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں ترقیات کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
Ayah 5:893 یعنی ان پر دنیا میں کفارہ نہیں جیسا کہ " یمین منعقدہ " میں واجب ہے۔ " لغو " و بیہودہ قسم کی تفسیر پارہ سیقول کے اواخر میں گزر چکی) آیت نمبر 225 میں موجود ہے (۔ چونکہ اوپر تحریم طیبات کا ذکر تھا اور تحریم کی ایک قسم " یمین " بھی ہے اس لئے " یمین " کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔
1 یعنی قسم توڑنے کے بعد یہ کفارہ دیا جائے گا۔ کھانا دینے میں اختیار ہے خواہ دس مساکین کو گھر بٹھلا کر کھانا کھلا دے یا صدقہ فطر کے برابر ہر مسکین کو غلہ یا اس کی قیمت ادا کر دے۔
2 اس قدر جس سے بدن کا اکثر حصہ ڈھک جائے۔ مثلاً کرتہ اور پاجامہ یا لنگی اور چادر۔
3 یعنی ایک بردہ آزاد کرنا اس میں مومن ہونا شرط نہیں۔
4 یعنی متواتر روزے تین دن کے رکھے اور میسر نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ صاحب نصاب نہ ہو کذا فی روح المعانی۔
5 قسموں کی حفاظت یہ ہے کہ بلا ضرورت بات بات پر قسمیں نہ کھائے یہ عادت بھلی نہیں۔ اور اگر قسم کھائی تو تا مقدور پوری کرے اور اگر کسی وجہ سے توڑے تو کفارہ ادا کرے۔ یہ سب چیزیں حفاظت یمین میں داخل ہیں۔
6 کتنا بڑا احسان ہے کہ ہم نے طیبات سے گریز کیا تو اس گریز سے منع فرمایا۔ اور اگر کسی نے غلطی سے طیبات کو اپنے اوپر حرام ہی کرلیا تو اس کو حفاظت یمین کے ساتھ اس سے حلال ہونے کا طریقہ بھی بتلا دیا۔
Ayah 5:907 " انصاب " و " ازلام " کی تفسیر اسی سورت کی ابتداء میں وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِا لْاَزْلاَمِ ) المائدہ رکوع 1 آیت نمبر 3) کے تحت میں گزر چکی۔
8 اس آیت سے پہلے بھی بعض آیات خمر (شراب) کے بارے میں نازل ہوچکی تھیں۔ اول یہ آیت نازل ہوئی (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2 ۔ البقرۃ :219) گو اس سے نہایت واضح اشارہ تحریم خمر کی طرف کیا جا رہا تھا مگر چونکہ صاف طور اس کے چھوڑنے کا حکم نہ تھا اس لئے حضرت عمر ؓ نے سن کر کہا اللھم بین لنا بیانا شافیا اس کے بعد دوسری آیت آئی ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى۔ الی آخر الآیۃ) 4 ۔ النسآء :43) اس میں بھی تحریم خمر کی تصریح نہ تھی۔ گو نشہ کی حالت میں نماز کی ممانعت ہوئی اور یہ قرینہ اسی کا تھا کہ غالباً یہ چیز عنقریب کلیۃ حرام ہونے والی ہے۔ مگر چونکہ عرب میں شراب کا رواج انتہا کو پہنچ چکا تھا اور اس کا دفعتاً چھڑا دینا مخاطبین کے لحاظ سے سہل نہ تھا اس لئے نہایت حکیمانہ تدریج سے اولاً قلوب میں اس کی نفرت بٹھلائی گئی اور آہستہ آہستہ حکم تحریم سے مانوس کیا گیا۔ چناچہ حضرت عمر نے اس دوسری آیت کو سن کر پھر وہ ہی لفظ کہے اللّٰھم بین لنا بیاناً شافیاً آخرکار " مائدہ " کی یہ آیتیں جو اس وقت ہمارے سامنے ہیں (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 90 اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ 91 ) 5 ۔ المائدہ :91-90) جن میں صاف صاف بت پرستی کی طرح اس گندی چیز سے بھی اجتناب کرنے کی ہدایت تھی۔ چناچہ حضرت عمر " فھل انتم منتھون " سنتے ہی چلا اٹھے " انتھینا انتھینا " لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے، خم خانے برباد کر دئیے۔ مدینہ کی گلی کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہتی پھرتی تھی۔ سارا عرب اس گندی شراب کو چھوڑ کر معرفت ربانی اور محبت و اطاعت نبوی کی شراب طہور سے مخمور ہوگیا اور ام الخبائث کے مقابلہ پر حضور ﷺ کا یہ جہاد ایسا کامیاب ہوا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ جس چیز کو قرآن کریم نے اتنا پہلے اتنی شدت سے روکا تھا، آج سب سے بڑے شراب خوار ملک امریکہ وغیرہ اس کی خرابیوں اور نقصانات کو محسوس کر کے اس کے مٹا دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ فللّٰہ الحمد والمنۃ۔
Ayah 5:919 شراب پی کر جب عقل جاتی رہتی ہے تو بعض اوقات شرابی پاگل ہو کر آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ کہ نشہ اترنے کے بعد بھی بعض دفعہ لڑائی کا اثر باقی رہتا ہے اور باہمی عداوتیں قائم ہوجاتی ہیں، یہ ہی حال بلکہ کچھ بڑھ کر جوئے کا ہے۔ اس میں ہار جیت پر سخت جھگڑے اور فساد برپا ہوتے ہیں جس سے شیطان کو اودھم مچانے کا خوب موقع ملتا ہے یہ تو ظاہری خرابی ہوئی اور باطنی نقصان یہ ہے کہ ان چیزوں میں مشغول ہو کر انسان خدا کی یاد اور عبادت الہٰی سے بالکل غافل ہوجاتا ہے۔ اس کی دلیل مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ شطرنج کھیلنے والوں ہی کو دیکھ لو۔ نماز تو کیا، کھانے پینے اور گھر بار کی بھی خبر نہیں رہتی۔ جب یہ چیز اس قدر ظاہری و باطنی نقصانات پر مشتمل ہے تو کیا ایک مسلمان اتنا سن کر بھی باز نہ آئے گا۔
Ayah 5:9210 اگر کسی چیز کے منافع و مضار کا احاطہ نہ کرسکو تب بھی خدا اور رسول ﷺ کے احکام کا امتثال کرو اور قانون کی خلاف ورزی سے بچتے رہو۔ اگر نہ بچو گے تو ہمارے پیغمبر تم کو قانون و احکام الہٰی کھول کر پہنچا چکے۔ نتیجہ خلاف ورزی کا خود سوچ لو کیا ہوگا۔
Ayah 5:931 نہایت صحیح اور قوی احادیث میں ہے کہ جب تحریم کی آیات نازل ہوئیں تو صحابہ ؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ان مسلمانوں کا کیا حال ہوگا جنہوں نے حکم تحریم آنے سے پہلے شراب پی اور اسی حالت میں انتقال کر گئے۔ مثلاً بعض صحابہ جو جنگ احد میں شراب پی کر شریک ہوئے اور اسی حالت میں شہید ہوگئے کہ پیٹ میں شراب موجود تھی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ عموم الفاظ اور دوسری روایات کو دیکھتے ہوئے ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ زندہ ہوں یا مردہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح رکھتے ہیں ان کے لئے کسی مباح چیز کے بوقت اباحت کھا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ خصوصاً جب کہ وہ لوگ عام احوال میں تقویٰ اور ایمان کی خصال سے متصف ہوں۔ پھر ان خصال میں برابر ترقی کرتے رہے ہوں حتٰی کہ مدارج تقویٰ و ایمان میں ترقی کرتے کرتے مرتبہ احسان تک جا پہنچے ہوں جو ایک مومن کے لئے روحانی ترقیات کا انتہائی مقام ہوسکتا ہے۔ جہاں جہاں پہنچ کر حق تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ خصوصی محبت کرتا ہے و فی حدیث جبریلَ " اْلاَحْسَان ان تَعْبَدَاللّٰہَ کَانَّکَ تَرَاہُ " پس جو پاک باز صحابہ ایمان وتقویٰ میں عمر گزار کر اور نسبت احسان حاصل کر کے خدا کی راہ میں شہید ہوچکے ان کی نسبت اس طرح کے خلجان اور توہمات پیدا کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں کہ وہ ایک ایسی چیز کا استعمال کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں جو اس وقت حرام نہیں تھی مگر بعد کو حرام ہوئی۔ محقیقن نے لکھا ہے کہ تقویٰ (یعنی مضار دینی سے مجتنب ہونے کے) کئی درجے ہیں۔ اور ایمان و یقین کے مراتب بھی بلحاظ قوت و ضعف متفاوت ہیں تجربہ اور نصوص شرعیہ سے ثابت ہے کہ جس قدر آدمی ذکر و فکر، عمل صالح اور جہاد فی سبیل اللہ میں ترقی کرتا ہے اسی قدر خدا کے خوف اور اس کی عظمت و جلال کے تصور سے قلب معمور اور ایمان و یقین مضبوط و مستحکم ہوتا رہتا ہے۔ مراتب سیرالی اللہ کی اسی ترقی و عروج کی طرف اس آیت میں تقویٰ اور ایمان کی تکرار سے اشارہ فرمایا اور سلوک کے آخری مقام " احسان " اور اس کے ثمرہ پر بھی تنبیہ فرما دی۔ اور جن حضرات صحابہ کے متعلق سوال کیا گیا تھا اس کا جواب ایک عام و تام ضابطہ بیان فرما کر ایسے عنوان سے دے دیا گیا جس میں ان مرحومین کی فضیلت و منقبت کی طرف بھی لطیف اشارہ ہوگیا۔ ذخیرہ احادیث صحیحہ میں دو مواقع ایسے ہیں جہاں صحابہ ؓ نے اس قسم کا سوال کیا ہے۔ ایک موقع تو یہی " تحریم خمر " کے متعلق ہے اور دوسرا تحویل قبلہ کے وقت سوال کیا گیا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ جو لوگ حکم تحویل قبلہ سے پہلے وفات پا گئے اور ایک نماز بھی کعبہ کی طرف نہیں پڑھی ان کی نمازوں کا کیا حال ہوگا۔ اس پر آیت ( ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 2 ۔ البقرۃ :143) نازل ہوئی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہی دو مسئلے ایسے تھے جن میں صاف صاف دو ٹوک حکم نازل ہونے سے پہلے نہایت ہی واضح آثار و قرائن ایسے موجود تھے جن کو دیکھ کر صحابہ ؓ ہر آن نزول حکم صریح کا انتظار کر رہے تھے۔ خمر کے متعلق تو ابھی چند فوائد پہلے ہم ایسی روایات نقل کرچکے ہیں جن سے ہمارے اس دعوے کا کافی زائد ثبوت ملتا ہے اور " تحویل قبلہ " کے باب میں قرآن کریم کی آیات (قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا) 2 ۔ البقرۃ :144) جو سیقول کے شروع میں گزریں خبر دے رہی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہر وقت منتظر تھے کہ کب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسے واضح حالات صحابہ پر مخفی نہیں رہ سکتے تھے۔ اس لئے تحویل قبلہ کا حکم جب ایک آدمی نے کسی محلہ کی مسجد میں جا کر سنایا تو سارے نمازی محض خبر واحد سن کر بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھرگئے حالانکہ بیت المقدس کا استقبال قطعی طور پر انہیں معلوم تھا اور خبر واحد ظنی قطعی کے لئے ناسخ نہ ہوسکتی تھی اس لئے علمائے اصول نے تصریح کی ہے کہ یہ خبر واحد محفوف بالقرائن ہونے کی وجہ سے قطعی سمجھی گئی پس جو قرائن و آثار حتمی طور پر خبر دے رہے تھے کہ " تحریم خمر " یا " تحویل قبلہ " کا حکم امروز و فردا میں پہنچنے والا ہے۔ گویا وہ ایک طرح سے صحابہ کو نزول حکم سے پہلے مرضی الہٰی پر فی الجملہ مطلع کر رہے تھے۔ اسی لئے ان دو مسئلوں میں نزول حکم سے قبل کی حالت کے متعلق سوال کرنا محل استبعاد نہیں ہوسکتا۔ خصوصاً خمر کی نسبت جس کی ممانعت کے نہایت واضح اشارات (وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2 ۔ البقرۃ :219) وغیرہ میں موجود تھے۔ واللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 5:942 پچھلے رکوع میں تحریم طیبات اور اعتداء سے منع فرما کر بعض چیزوں سے اجتناب کا حکم دیا تھا جو دائمی طور پر حرام ہیں، اس رکوع میں بعض ایسی اشیاء کے ارتکاب سے منع کیا گیا ہے جس کی حرمت دائمی نہیں۔ بلکہ بعض احوال و اوضاع سے مخصوص ہے یعنی بحالت احرام شکار کرنا، مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرف سے مطیع و فرمانبردار بندوں کا یہ امتحان ہے کہ وہ حالت احرام میں جب کہ شکار ان کے سامنے ہے اور بسہولت اس کے مارنے یا پکڑنے پر بھی قادر ہوں، کون ہے جو بن دیکھے خدا سے ڈر کر اس کے حکم کا امتثال کرتا اور اعتداء (احکام خداوندی سے تجاوز کرنے) کی خدائی سزا سے خوف کھاتا ہے۔ " اصحاب سبت " کا قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا کہ ان کو حق تعالیٰ نے خاص شنبہ کے دن مچھلی کے شکار کی ممانعت فرمائی تھی۔ مگر انہوں نے مکاری اور حیلہ بازی سے اس حکم کی مخالفت کی اور حد سے تجاوز کر گئے۔ خدا نے ان پر نہایت رسوا کن عذاب نازل فرمایا۔ اسی طرح حق تعالیٰ نے امت محمدیہ ﷺ کا تھوڑا سا امتحان اس مسئلہ میں لیا کہ حالت احرام میں شکار نہ کریں۔ حدیبیہ کے موقع پر جب یہ حکم بھیجا گیا تو شکار اس قدر کثیر اور قریب تھا کہ ہاتھوں اور نیزوں سے مار سکتے تھے۔ مگر اصحاب رسول اللہ ﷺ نے ثابت کر دکھایا کہ خدا کے امتحان میں ان کے برابر دنیا کی کوئی قوم کامیاب نہیں ہوسکی۔
3 لیعلم اللّٰہ کے لفظ سے جو حدوث علم باری کا وہم گزرتا ہے اس کے ازالہ کے لئے پارہ سیقول کے شروع میں الا لنعلم من یتبع الرسول کا فائدہ ملاحظہ کرو۔
Ayah 5:954 اس کے متعلق بعض احکام سورة مائدہ کے شروع میں میں گزر چکے۔
5 جان کر مارنے کا یہ مطلب ہے کہ اپنا محرم ہونا یاد ہو اور یہ بھی مستحضر ہو کہ حالت احرام میں شکار جائز نہیں۔ یہاں صرف " متعمد " کا حکم بیان فرمایا کہ اس کے فعل کی جزا یہ ہے اور خدا جو انتقام لے گا وہ الگ رہا جیسا کہ ومن عاد فینتقم اللہ منہ سے تنبیہ فرمائی۔ اور اگر بھول کر شکار کیا تو جزاء تو یہ ہی رہے گی یعنی " ہدی " یا " طعام " یا " صیام " البتہ خدا اس سے انتقامی سزا اٹھا لے گا۔
6 حنفیہ کے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اگر احرام میں شکار پکڑا تو فرض ہے کہ چھوڑ دے۔ اگر مار دیا تو صاحب بصیرت اور تجربہ کار معتبر آدمیوں سے اس جانور کی قیمت لگوائی اسی قدر قیمت کا مویشی میں سے ایک جانور لے کر (مثلاً بکری، گائے، اونٹ وغیرہ) کعبہ کے نزدیک یعنی حدود حرم میں پہنچا کر ذبح کرے، اور خود اس میں سے نہ کھائے یا اسی قیمت کا غلہ لے کر محتاجوں کو فی محتاج صدقۃ الفطر کی مقدار تقسیم کر دے یا جس قدر محتاجوں کو پہنچتا، اتنے ہی دنوں کے روزے رکھ لے۔
7 یعنی نزول حکم سے پہلے یا اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں کسی نے یہ حرکت کی تھی تو اس سے اب خدا تعرُّض نہیں کرتا۔ حالانکہ اسلام سے پہلے بھی عرب حالت احرام میں شکار کو نہایت برا جانتے تھے اس لئے اس پر مواخذہ ہونا بیجا نہ تھا کہ جو چیز تمہارے زعم کے موافق جرائم میں داخل تھی اس کا ارتکاب کیوں کیا گیا۔
8 یعنی نہ کوئی مجرم اس کے قبضہ قدرت سے نکل کر بھاگ سکتا ہے اور بہ مقتضائے عدل و حکمت جو جرائم سزا دینے کے قابل ہیں نہ خدا ان سے درگزر کرنے والا ہے۔
Ayah 5:961 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں احرام میں دریا کا شکار یعنی مچھلی حلال اور دریا کا کھانا یعنی جو مچھلی پانی سے جدا ہو کر مرگئی اس نے نہیں پکڑی وہ بھی حلال ہے۔ فرمایا یہ تمہارے فائدہ کو رخصت دی۔ پھر کوئی نہ سمجھے کہ حج کے طفیل سے حلال ہے۔ فرمایا کہ اور سب مسافروں کے فائدہ کو مچھلی اگر تالاب میں ہو وہ بھی شکار دریا ہے۔ یہ حکم شکار کا معلوم ہوا احرام کے اندر، اور احرام میں قصد ہے مکہ کا۔ اس شہر مکہ اور گرد و پیش میں ہمیشہ شکار مارنا حرام ہے بلکہ شکار کو ڈرانا اور بھگانا بھی۔
Ayah 5:972 کعبہ شریف دینی اور دنیاوی دونوں حیثیت سے لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔ حج وعمرہ تو وہ عبادات ہیں جن کا ادا کرنا براہ راست کعبہ ہی سے متعلق ہے۔ لیکن نماز کے لئے بھی استقبال قبلہ شرط ہے، اس طرح کعبہ لوگوں کی دینی عبادات کے قیام کا سبب ہوگیا۔ پھر حج وغیرہ کے موقع پر تمام بلاد اسلامیہ سے لاکھوں مسلمان جب وہاں جمع ہوتے ہیں تو بیشمار تجارتی، سیاسی، اخلاقی، مذہبی اور روحانی فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ خدا نے اس جگہ کو " حرم اٰمن " بنایا۔ اس لئے انسانوں بلکہ بہت جانوروں تک کو وہاں رہ کر امن نصیب ہوتا ہے۔ عہد جاہلیت میں جب کہ ظلم و خونریزی اور فتنہ و فساد محض معمولی بات تھی ایک آدمی اپنے باپ کے قاتل سے بھی حرم شریف میں تعرض نہ کرسکتا تھا۔ مادی حیثیت سے انسان یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ اس وادی غیر ذی زرع میں اتنی افراط سے سامان خوردو نوش اور نفیس قسم کے پھل اور میوے کہاں سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہ سب حیثیات " قیاماً للناس " میں معتبر ہوسکتی ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ علم الہٰی میں پہلے ہی مقدر ہوچکا تھا کہ نوع انسان کے لئے اسی جگہ سے عالمگیر اور ابدی ہدایت کا چشمہ پھوٹے گا اور مصلح اعظم سید کائنات محمد ﷺ کے مولد ومسکن مبارک بننے کا شرف بھی سارے جہان میں سے اسی خاک پاک کو حاصل ہوگا۔ ان سب وجوہ سے کعبہ کو " قیاماً للناس " کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ کعبہ تمام روئے زمین کے انسانوں کے حق میں اصلاح اخلاق، تکمیل روحانیت اور علوم ہدایت کا مرکزی نقطہ ہے اور کسی چیز کا قیام اپنے مرکز کے بدون نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ محقِّیقن کے نزدیک " قیاماً للناس " کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ شریف کا مبارک وجود کل عالم کے قیام اور بقا کا باعث ہے۔ دنیا کی آبادی اسی وقت تک ہے جب تک خانہ کعبہ اور اس کا احترام کرنے والی مخلوق موجود ہے۔ جس وقت خدا کا ارادہ یہ ہوگا کہ کارخانہ عالم کو ختم کیا جائے تو سب کاموں سے پہلے اسی مبارک مکان کو جسے " بیت اللہ شریف " کہتے ہیں اٹھا لیا جائے گا، جیسا کہ بنانے کے وقت بھی زمین پر سب سے پہلا مکان یہ ہی بنایا گیا تھا۔ (اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ للنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ ) 3 ۔ آل عمران :96) بخاری کی حدیث میں ہے کہ ایک سیاہ فام حبشی (جسے ذوالسویقتین کے لقب سے ذکر فرمایا ہے) عمارت کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھیڑ کر ڈال دے گا جب تک خدا کو اس دنیا کا نظام قائم رکھنا منظور ہے کوئی طاقتور سے طاقتور قوم جس کا مقصد کعبہ کو ہدم کرنا ہو، اپنے اس ناپاک ارادہ میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اصحاب فیل کا قصہ تو ہر شخص نے سنا ہے لیکن ان کے بعد بھی ہر زمانہ میں کتنی قوموں اور شخصوں نے ایسے منصوبے باندھے ہیں اور باندھتے رہتے ہیں۔ یہ محض خدائی حفاظت اور اسلام کی صداقت کا عظیم الشان نشان ہے کہ باوجود سامان و اسباب ظاہرہ کے فقدان کے آج تک کوئی شخص اس ابلیسانہ مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا اور نہ ہو سکے گا اور جب عمارت کعبہ کے گرا دینے میں قدرت کی طرف سے مزاحمت نہ رہے گی تو سمجھ لو کہ عالم کی ویرانی کا حکم آن پہنچا۔ دنیا کی حکومتیں اپنے دارالسلطنت اور قصر شاہی کی حفاظت کے لئے لاکھوں سپاہی کٹوادیتی ہیں لیکن اگر کبھی خود ہی قصر شاہی کو کسی مصلحت سے تبدیل یا ترمیم کرنا چاہیں تو معمولی مزدوروں سے اس کے گردا دینے کا کام لے لیا جاتا ہے۔ شاید اسی لئے امام بخاری نے " باب جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِــيٰمًا لِّلنَّاس الایہ " میں ذوالسویقتین کی حدیث درج کر کے قیاما للناس کے اسی مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے جو ہم نقل کرچکے ہیں (نبہ علیہ شیخنا المترجم قدس اللّٰہ روحہ فی دروس البخاری) بہر حال آیت زیر بحث میں احکا م " محرم " بیان فرمانے کے بعد کعبہ شریف کی عظمت و حرمت بیان کرنا مقصود ہے پھر " کعبہ " اور " احرام " کی مناسبت سے " شہر حرام " اور " ہدی " و " قلائد " کا بھی ذکر فرما دیا۔ جیسا کہ اسی سورت کے شروع میں (غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ) 5 ۔ المائدہ :1) کے ساتھ ( لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ ) 5 ۔ المائدہ :2) کو ملحق فرمایا تھا واللہ اعلم۔
3 یعنی کعبہ وغیرہ کے قیاماً للناس بنانے میں جن مصالح دینی و دنیاوی کی رعایت فرمائی اور بظاہر بالکل خلاف قیاس جو عظیم الشان پیشین گوئی کی گئی وہ اس کی دلیل ہے کہ آسمان و زمین کی کوئی چیز حق تعالیٰ کے غیر محدود علم کے احاطہ سے باہر نہیں ہوسکتی۔
Ayah 5:984 یعنی جو احکام حالت احرام یا احترام کعبہ وغیرہ کے متعلق دیے گئے اگر ان کی عمداً خلاف ورزی کرو گے تو سمجھ لو کہ خدا کا عذاب بہت سخت ہے۔ اور بھول چوک سے کچھ تقصیر ہوجائے پھر کفارہ وغیرہ سے اس کی تلافی کرلو تو بیشک وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان بھی ہے۔
Ayah 5:995 پیغمبر (علیہ السلام) نے خدا کا قانون اور پیام پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا اور خدا کی حجت بندوں پر تمام ہوچکی اب ظاہر و باطن میں جیسا عمل کرو گے وہ سب خدا کے سامنے ہے۔ حساب و جزا کے وقت ذرہ ذرہ تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔
Ayah 5:1006 اس رکوع سے پہلے رکوع میں فرمایا تھا کہ طیبات کو حرام مت ٹھہراؤ بلکہ ان سے اعتدال کے ساتھ تمتع کرو۔ اس مضمون کی تکمیل کے بعد خمر وغیرہ چند ناپاک اور خبیث چیزوں کی حرمت بیان فرمائی۔ اسی سلسلے میں محرم کے شکار کو حرام کیا۔ یعنی جس طرح خمر سیتہ وغیرہ خبیث چیزیں ہیں اسی طرح محرم کے شکار کو سمجھو محرم کی مناسبت سے چند ضمنی چیزوں کا بیان فرمانے کے بعد اب متنبہ فرماتے ہیں کہ طیب اور خبیث یکساں نہیں ہوسکتے۔ تھوڑی چیز اگر طیب و حلال ہو وہ بہت سی خبیث و حرام چیز سے بہتر ہے۔ عقلمند کو چاہیے کہ ہمیشہ طیب و حلال کو اختیار کرے، گندی اور خراب چیزوں کی طرف خواہ وہ دیکھنے میں کتنی ہی زیادہ ہوں اور بھلی لگیں نظر نہ اٹھائے۔
Ayah 5:1017 پچھلے دو رکوع کا حاصل احکام دینیہ میں غلو اور تساہل سے روکنا تھا یعنی جو طیبات خدا نے حلال کی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام مت ٹھہراؤ اور جو چیزیں خبیث و حرام ہیں خواہ دائمی طور پر یا خاص احوال و اوقات میں ان سے پوری طرح اجتناب کرو۔ ان آیات میں تنبیہ فرما دی کہ جو چیزیں شارع نے تصریحاً بیان نہیں فرمائیں ان کے متعلق فضول اور دوراز کار سوالات مت کیا کرو جس طرح تحلیل و تحریم کے سلسلہ میں شارع کا بیان موجب ہدایت و بصیرت ہے۔ اس کا سکوت بھی ذریعہ رحمت و سہولت ہے۔ خدا نے جس چیز کو کمال حکمت و عدل سے حلال یا حرام کردیا وہ حلال یا حرام ہوگئی اور جس سے سکوت کیا اس میں گنجائش اور توسیع رہی۔ مجتہدین کو اجتہاد کا موقع ملا عمل کرنے والے اس کے فعل و ترک میں آزاد رہے۔ اب اگر ایسی چیزوں کی نسبت خواہ مخواہ کھود کرید اور بحث وسوال کا دروازہ کھولا جائے گا بحالیکہ قرآن شریف نازل ہو رہا ہے اور تشریع کا باب مفتوح ہے تو بہت ممکن ہے کہ سوالات کے جواب میں بعض ایسے احکام نازل ہوجائیں جن کے بعد تمہاری یہ آزادی اور گنجائش اجتہاد باقی نہ رہے۔ پھر یہ سخت شرم کی بات ہوگی کہ جو چیز خود مانگ کرلی ہے اس کو نباہ نہ سکیں۔ سنت اللہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب کسی معاملہ میں بکثرت سوال اور کھود کرید کی جائے اور خواہ مخواہ شکوک اور احتمالات نکالے جائیں تو ادھر سے تشدید (سختی) بڑھتی جاتی ہے کیونکہ اس طرح کے سوالات ظاہر کرتے ہیں کہ گویا سائلین کو اپنے نفس پر بھروسہ ہے اور جو حکم ملے گا اس کے اٹھانے کے لئے وہ بہمہ وجوہ تیار ہیں۔ اس قسم کا دعویٰ جو بندہ کے ضعف و افتقار کے مناسب نہیں، مستحق بنا دیتا ہے کہ ادھر سے حکم میں کچھ سختی ہو اور جتنا یہ اپنے کو قابل ظاہر کرتا ہے اسی کے موافق امتحان بھی سخت ہو۔ چناچہ بنی اسرائیل کے " ذبح بقرہ " والے قصہ میں ایسا ہی ہوا۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگوں خدا نے تم پر حج فرض کیا ہے ایک شخص بول اٹھا کیا ہر سال یا رسول اللہ ﷺ فرمایا اگر میں (ہاں) کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا پھر تم ادا نہ کرسکتے، جس چیز میں تم کو " آزاد " چھوڑوں تم بھی مجھ کو چھوڑ دو ۔ ایک حدیث میں فرمایا کہ مسلمانوں میں وہ شخص بڑا مجرم ہے جس کے سوالات کی بدولت ایسی چیز حرام کی گئی جو حرام نہ تھی۔ بہر حال یہ آیت احکام شرعیہ کے باب میں اس طرح کے دورازکار اور بےضرورت سوالات کا دروازہ بند کرتی ہے۔ باقی بعض احادیث میں جو یہ مذکور ہے کہ کچھ لوگ نبی کریم ﷺ سے جزئی واقعات کے متعلق لغو سوال کرتے تھے ان کو روکا گیا وہ ہماری تقریر کے مخالف نہیں۔ ہم " لاَ تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ " میں " اشیآء " کو عام رکھتے ہیں جو واقعات و احکام دونوں کو شامل ہے اور " تَسُؤْکُمْ " میں بھی جو برا لگنے کے معنی پر مشتمل ہے تعمیم رکھی جائے۔ حاصل یہ ہوگا کہ نہ احکام کے باب میں فضول سوالات کیا کرو اور نہ واقعات کے سلسلہ میں کیونکہ ممکن ہے جو جواب آئے وہ تم کو ناگوار ہو مثلاً کوئی سخت حکم آیا یا کوئی قید بڑھ گئی۔ یا ایسے واقعہ کا اظہار ہوا جس سے تمہاری فضیحت ہو، یا بیہودہ سوالات پر ڈانٹ بتلائی گئی، یہ سب احتمالات تَسُؤْکُمْ کے تحت میں داخل ہیں۔ باقی ضروری بات پوچھنے یا شبہ ناشی عن دلیل کے رفع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
8 یا تو مراد یہ ہے کہ ان اشیاء سے درگزر کی، یعنی جب خدا نے ان کے متعلق کوئی حکم نہ دیا تو انسان ان کے بارے میں آزاد ہے خدا ایسی چیزوں پر گرفت نہ کرے گا۔ چناچہ اسی سے بعض علمائے اصول نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے اور یا یہ کہ ان فضول سوالات سے جو پہلے کرچکے ہو اللہ نے درگزر کی آئندہ احتیاط رکھو۔
Ayah 5:1029 حدیث صحیح میں ہے کہ پہلی قومیں کثرت سوال اور انبیاء سے اختلاف کرنے کی بدولت ہلاک ہوئیں۔
Ayah 5:1031 بحیرہ، صائبہ، وسیلہ، حامی یہ سب زمانہ جاہلیت کے رسوم و شعائر سے متعلق ہیں۔ مفسرین نے ان کی تفسیر میں بہت اختلاف کیا ہے ممکن ہے ان میں سے ہر ایک لفظ کا اطلاق مختلف صورتوں پر ہوتا ہو ہم صرف سعید بن المسیب کی تفسیر صحیح بخاری سے نقل کرتے ہیں۔ " بحیرہ " جس جانور کا دودھ بتوں کے نام کردیتے تھے کوئی اپنے کام میں نہ لاتا تھا۔ " سائبہ " جو جانور بتوں کے نام پر ہمارے زمانے کے سانڈھ کی طرح چھوڑ دیا جاتا تھا۔ " وصیلہ " جو اونٹنی مسلسل مادہ بچہ جنے درمیان میں نر بچہ پیدا نہ ہو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ " حامی " نر اونٹ جو ایک خاص عدد سے جفتی کرچکا ہو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑتے تھے۔ علاوہ اس کے کہ یہ چیزیں شعائر شرک میں سے تھیں، جس جانور کے گوشت یا دودھ یا سواری وغیرہ سے منتفع ہونے کو حق تعالیٰ نے جائز رکھا اس کی حلت و حرمت پر اپنی طرف سے قیود لگانا، گویا اپنے لئے منصب تشریع کو تجویز کرنا تھا اور بڑی ستم ظریفی یہ تھی کہ اپنی ان مشرکانہ رسوم کو حق تعالیٰ کی خوشنودی اور قربت کا ذریعہ تصور کرتے تھے اس کا جواب دیا گیا کہ اللہ نے ہرگز یہ رسوم مقرر نہیں کیں۔ ان کے بڑوں نے خدا پر یہ بہتان باندھا اور اکثر بےعقل عوام نے اسے قبول کرلیا۔ الغرض یہاں تنبیہ کی گئی کہ جس طرح فضول دبے کار سوالات کر کے احکام شرعیہ میں تنگی اور سختی کرانا جرم ہے اس سے کہیں بڑھ کر یہ جرم ہے کہ بدون حکم شارع کے محض اپنی آراء و اہواء سے حلال و حرام تجویز کر لئے جائیں۔
Ayah 5:1042 جاہلوں کی سب سے بڑی حجت یہ ہی ہوتی ہے کہ جو کام باپ دادا سے ہوتا آیا ہے اس کا خلاف کیسے کریں۔ ان کو بتلایا گیا کہ اگر تمہارے اسلاف بےعقلی یا بےراہی سے قعر ہلاکت میں جا گرے ہوں تو کیا پھر بھی تم ان ہی کی راہ چلو گے ؟ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " باپ کا حال معلوم ہو کہ حق کا تابع اور صاحب علم تھا تو اس کی راہ پکڑے نہیں تو عبث ہے " یعنی کیف ما اتفق ہر کسی کی کو رانہ تقلید جائز نہیں۔
Ayah 5:1053 یعنی اگر کفار رسوم شرکیہ اور آباؤ اجداد کی اندھی تقلید سے باوجود اس قدر نصیحت و فہمائش کے باز نہیں آتے تو تم زیادہ اس غم میں مت پڑو۔ کسی کی گمراہی سے تمہارا کوئی نقصان نہیں بشرطیکہ تم سیدھی راہ پر چل رہے ہو۔ سیدھی راہ یہ ہی ہے کہ آدمی ایمان وتقویٰ اختیار کرے، خود برائی سے رکے اور دوسروں کو روکنے کی امکانی کوشش کرے پھر بھی اگر لوگ برائی سے نہ رکیں تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔ اس آیت سے یہ سمجھ لینا کہ جب ایک شخص اپنا نماز روزہ ٹھیک کرلے تو " امر بالمعروف " چھوڑ دینے سے اسے کوئی مضرت نہیں ہوتی، سخت غلطی ہے۔ لفظ " اہتدائ " امربالمعروف وغیرہ تمام وظائف ہدایت کو شامل ہے۔ اس آیت میں گو روئے سخن بظاہر مسلمانوں کی طرف ہے لیکن ان کفار کو بھی متنبہ کرنا ہے جو باپ دادا کی کو رانہ تقلید پر اڑے ہوئے تھے یعنی اگر تمہارے باپ دادا راہ حق سے بھٹک گئے تو ان کی تقلید میں اپنے کو جان بوجھ کر کیوں ہلاک کرتے ہو۔ انہیں چھوڑ کر تم اپنی عاقبت کی فکر کرو اور نفع و نقصان کو سمجھو۔ باپ دادا اگر گمراہ ہوں اور اولاد ان کے خلاف راہ حق پر چلنے لگے تو آباؤ اجداد کی یہ مخالفت اولاد کو قطعاً مضر نہیں۔ یہ خیالات محض جہالت کے ہیں کہ کسی حال میں بھی آدمی باپ دادا کے طریقہ سے قدم باہر نہ رکھے، رکھے گا تو ناک کٹ جائے گی۔ عقلمند کو چاہیے کہ انجام کا خیال کرے۔ سب اگلے پچھلے جب خدا کے سامنے اکٹھے پیش ہوں گے تب ہر ایک کو اپنا عمل اور انجام نظر آجائے گا۔
4 یعنی جو گمراہ رہا اور جس نے راہ پائی سب کے نیک و بد اعمال اور ان کے نتائج سامنے کے دئیے جائیں گے۔
Ayah 5:1065 یعنی بہتر یہ ہے۔ باقی اگر دو نہ ہوں یا معتبر نہ ہوں تب بھی " وصی " بنا سکتا ہے اور گواہ سے مراد یہاں وصی ہے اس کے اقرار و اظہار کو گواہی سے تعبیر فرما دیا۔
6 یعنی مسلمانوں میں سے۔
7 یعنی غیر مسلم۔
8 یعنی نماز عصر کے بعد کہ وہ وقت اجتماع اور قبول کا ہے شاید ڈر کر جھوٹی قسم نہ کھائیں۔ یا کسی نماز کے بعد یا وصی جس مذہب کے ہوں ان کی نماز کے بعد۔
1 یعنی جب خدا کے پاس سب کو جانا ہے تو جانے سے پہلے سب کام ٹھیک کرلو۔ اسی میں سے ایک اہم کام ضروری امور کی وصیت اور اس کے متعلقات ہیں۔ ان آیات میں وصیت کا بہترین طریقہ تلقین فرمایا ہے۔ یعنی مسلمان اگر مرتے وقت کسی کو اپنا مال وغیرہ حوالہ کرے تو بہتر ہے کہ دو معتبر مسلمانوں کو گواہ کرے۔ مسلمان اگر نہ ملیں جیسے سفر وغیرہ میں اتفاق ہوجاتا ہے تو دو کافروں کو وصی بنائے پھر اگر وارثوں کو شبہ پڑجائے کہ ان شخصوں نے کچھ مال چھپالیا اور وارث دعویٰ کردیں اور دعوے کے ساتھ شاہد موجود نہ ہوں تو وہ دونوں شخص قسم کھائیں کہ ہم نے نہیں چھپایا اور ہم کسی طمع یا قرابت کی وجہ سے جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ اگر کہیں تو گنہگار ہیں۔
Ayah 5:1072 ایک ہو تب بھی مضائقہ نہیں۔
3 یعنی اگر قرائن و آثار سے اوصیاء کی قسم کا جھوٹ معلوم ہو اور وہ بذریعہ شہادت شرعی اپنی سچائی ثابت نہ کرسکیں تو میت کے وارثوں کو قسم دی جائے گی کہ ان کو اوصیاء کے دعوے کی واقعیت کا کوئی علم نہیں اور یہ کہ ان کی گواہی اوصیاء کی گواہی سے زیادہ احق بالقبول ہے۔ ان آیات کی شان نزول یہ ہے کہ ایک شخص " بُدَیل " نامی جو مسلمان تھا دو شخصوں " تمیم وعدی " کے ساتھ جو اس وقت نصرانی تھے بغرض تجارت ملک شام کی طرف گیا۔ شام پہنچ کر بدیل بیمار پڑگیا۔ اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اسباب میں رکھ دی اور اپنے دونوں رفیقوں کو اطلاع نہ کی۔ مرض جب زیادہ بڑھا تو اس نے دونوں نصرانی رفقاء کو وصیت کی کہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ انہوں نے سب سامان لاکر وارثوں کے حوالہ کردیا، مگر چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کا ملمع یا نقش و نگار تھے اس میں سے نکال لیا۔ وارثوں کو فہرست اسباب میں سے دستیاب ہوئی۔ انہوں نے اوصیاء سے پوچھا کہ میت نے کچھ مال فروخت کیا تھا یا کچھ زیادہ بیمار رہا کہ معالجہ وغیرہ میں کچھ خرچ ہوا ہو، ان دونوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ آخر معاملہ نبی کریم ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا۔ چونکہ وارثوں کے پاس گواہ نہ تھے، تو ان دونوں نصرانیوں سے قسم لی گئی کہ ہم نے میت کے مال میں کسی طرح کی خیانت نہیں کی نہ کوئی چیز اس کی چھپائی۔ آخر قسم پر فیصلہ ان کے حق میں کردیا گیا۔ کچھ مدت کے بعد ظاہر ہوا کہ وہ پیالہ ان دونوں نے مکہ میں کسی سنار کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔ جب سوال ہوا تو کہنے لگے کہ وہ ہم نے میت سے خرید لیا تھا۔ چونکہ خریداری کے گواہ موجود نہ تھے اس لئے ہم نے پہلے اس کا ذکر نہیں کیا مبادا ہماری تکذیب کردی جائے۔ میت کے وارثوں نے پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مرافعہ کیا۔ اب پہلی صورت کے برعکس اوصیاء خریداری کے مدعی اور وارث منکر تھے۔ شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے وارثوں میں سے دو شخصوں نے جو میت سے قریب تر تھے قسم کھائی کہ پیالہ میت کے ملک تھا اور یہ دونوں نصرانی اپنی قسم میں جھوٹے ہیں۔ چناچہ جس قیمت پر انہوں نے فرو خت کیا تھا (ایک ہزار درہم) وہ وارثوں کو دلائی گئی۔
Ayah 5:1084 یعنی وارثوں کو شبہ پڑے تو قسم دینے کا حکم رکھا۔ اس لئے کہ قسم سے ڈر کر اول ہی جھوٹ نہ ظاہر کریں پھر اگر ان کی بات جھوٹ نکلے تو وارث قسم کھائیں۔ یہ بھی اسی واسطے کہ وہ قسم میں دغا نہ کریں۔ جانیں کہ آخر ہماری قسم الٹی پڑے گی۔ کذافی موضح القرآن۔
5 خدا کی نافرمانی کرنے والا انجام کار رسوا اور ذلیل ہی ہوتا ہے حقیقی کامیابی کا چہرہ نہیں دیکھتا۔
Ayah 5:1096 یہ سوال محشر میں امتوں کے رو برو پیغمبروں سے کیا جائے گا کہ دنیا میں جب تم ان کے پاس پیغام حق لے کر گئے تو انہوں نے کیا جواب دیا اور کہاں تک دعوت الہٰی کی اجابت کی ؟ گزشتہ رکوع میں بتلایا تھا کہ خدا کے یہاں جانے سے پہلے بذریعہ وصیت وغیرہ یہاں کا انتظام ٹھیک کرلو۔ اب متنبہ فرماتے ہیں کہ وہاں کی جواب دہی کے لئے تیار رہو۔
7 محشر کے ہولناک دن میں جب خدائے قہار کی شان جلالی کا انتہائی ظہور ہوگا، اکابرو اعاظم کے بھی ہوش بجا نہ رہیں گے، اولوالعزم انبیاء کی زبان پر نفسی نفسی ہوگا۔ اسی وقت انتہائی خوف و خشئیت سے حق تعالیٰ کے سوال کا جواب " لا علم لنا " (ہمیں کچھ خبر نہیں) کے سوا نہ دے سکیں گے پھر جب نبی کریم ﷺ کے طفیل میں سب کی طرف خدا کی نظر لطف و رحمت ہوگی تب کچھ عرض کرنے کی جرات کریں گے۔ حسن و مجاہد وغیرہ سے ایسا ہی منقول ہے۔ لیکن ابن عباس کے نزدیک " لا علم لنا " کا مطلب یہ ہے کہ خداوندا ! تیرے علم کامل و محیط کے سامنے ہمارا علم کچھ بھی نہیں۔ گویا یہ الفاظ " تادب مع اللّٰہ " کے طور پر کہے۔ ابن جریج کے نزدیک " لا علم لنا " سے یہ مراد ہے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ ہمارے پیچھے انہوں نے کیا کچھ کیا۔ ہم صرف انہی افعال و احوال پر مطلع ہوسکتے ہیں جو ہمارے سامنے ظاہری طور پر پیش آئے تھے۔ بواطن و سرائر کا علم عالم الغیوب ہی کو ہے۔ آئندہ رکوع میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبانی جو جواب نقل فرمایا ہے " وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیدًا الخ " اس سے آخری معنی کی تائید ہوتی ہے۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ جب حوض پر بعض لوگوں کی نسبت حضور فرمائیں گے " ھَولاء اصْحَابِی " تو جواب ملے گا " لاَ تَدْرِی مَا اَحَدَثُوا بَعْدَکَ " ) الحدیث (یعنی آپ کو خبر نہیں کہ آپ کے پیچھے انہوں نے کیا حرکات کیں۔
Ayah 5:1108 غالباً یہ پورا رکوع آنے والے رکوع کی تمہید ہے۔ احسانات یاد دلاکر وہ سوال ہوگا جو آئندہ رکوع میں مذکور ہے۔
9 اول تو اولاد پر احسان کرنا من وجہ ماں پر احسان ہے۔ دوسرے ظالم لوگ جو تہمت مریم صدیقہ پر لگاتے تھے حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی برات و نزاہت کے لئے برہان مبین بنادیا اور تولد مسیح سے پہلے اور بعد عجیب و غریب نشانات حضرت مریم کو دکھلائے جو ان کی تقویت و تسکین کا باعث ہوئے۔ یہ احسانات بالواسطہ ان پر تھے۔
1 گود میں جو کلام کیا اس کا ذکر سورة مریم میں آئے گا (اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ ڜ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ ) 19 ۔ مریم :30) تعجب ہے کہ عیسائیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے " تکلم فی المہد " کا کچھ ذکر نہیں کیا۔ البتہ یہ لکھا ہے کہ بارہ برس کی عمر میں یہود کے سامنے انہوں نے ایسی حکیمانہ دلائل وبراہین بیان فرمائیں کہ تمام علماء عاجزو مبہوت رہ گئے اور سامعین عش عش کرنے لگے۔ یوں تو " روح القدس " سے حسب مراتب سب انبیاء (علیہم السلام) بلکہ بعض مومنین کی بھی تائید ہوتی ہے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جن کا وجود ہی " نفخہ جبرائیل یہ " سے ہوا، کوئی خاص قسم کی فطری مناسبت اور تائید حاصل ہے جسے تفضیل انبیاء کے صدد میں بیان فرمایا گیا۔ (تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۘ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ ۭ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ) 2 ۔ البقرۃ :253) " روح القدس " کی مثال " عالم ارواح " میں ایسی سمجھو جیسے عالم مادیات میں قوت کہربائیہ (بجلی) کا خزانہ، جس وقت اس خزانہ کا مدیر معین اصول کے موافق کرنٹ چھوڑتا اور جن اشیا میں بجلی کا اثر پہنچاتا ہے، ان کا کنکشن درست کردیتا ہے تو فوراً خاموش اور ساکن مشینیں بڑے زور سے گھومنے لگتی ہیں۔ اگر کسی مریض پر بجلی کا عمل کیا گیا تو مشلول اعضاء اور بےحس ہوجانے والے اعصاب میں بجلی کے پہنچنے سے حس و حرکت پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات ایسے بیمار کے حلقوم میں جس کی زبان بالکل بند ہوگئی ہو قوت کہربائیہ کے پہنچانے سے قوت گویائی واپس کی گئی ہے۔ حتٰی کہ بعض غالی ڈاکٹروں نے تو یہ دعویٰ کردیا کہ ہر قسم کی بیماری کا علاج قوت کہربائیہ سے کیا جاسکتا ہے (دائرۃ المعارف فرید وجدی) جب اس معمولی مادی کہربائیہ کا حال یہ ہے تو اندازہ کرلو کہ " عالم ارواح " کی کہربائیہ میں جس کا خزانہ روح القدس ہے کیا کچھ طاقت ہوگی۔ حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات گرامی کا تعلق روح القدس سے کسی ایسی خاص نوعیت اور اصول کے ماتحت رکھا ہے جس کا اثر کھلے ہوئے غلبہ روحیت، تجرد اور مخصوص آثار حیات کی شکل میں ظاہر ہوا۔ ان کا " روح اللہ " سے ملقب ہونا، بچپن، جوانی اور کہولت میں یکساں کلام کرنا، خدا کے حکم سے افاضہ حیات کے قابل کا لبد خاکی تیار کرلینا، اس میں باذن اللہ روح حیات پھونکنا، مایوس العلاج مریضوں کی حیات کو باذن اللہ بدون توسط اسباب عادیہ کے کار آمد اور بےعیب بنادینا، حتٰی کہ مردہ لاشہ میں باذن اللہ دوبارہ روح حیات کو واپس لے آنا، بنی اسرائیل کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملا کر آپ کا آسمان پر اٹھا لیا جانا، اور آپ کی حیات طیبہ پر اس قدر طول عمر کا کوئی اثر نہ ہونا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب آثار اسی تعلق خصوصی سے پیدا ہوئے ہیں جو رب العزت نے کسی مخصوص نوعیت واصول سے آپ کے اور روح القدس کے مابین قائم فرمایا ہے۔ ہر پیغمبر کے ساتھ کچھ امتیازی معاملات خدا تعالیٰ کے ہوتے ہیں، ان کے علل و اسرار کا احاطہ اسی علام الغیوب کو ہے۔ ان ہی امتیازات کو علماء کی اصطلاح میں " فضائل جزئیہ " کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ ایسی چیزوں سے کلی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ چہ جائیکہ " الوہیت " ثابت ہو۔ " واذتخلق من الطین " میں خلق کا لفظ محض صوری اور حسی لحاظ سے استعمال کیا گیا ہے ورنہ خالق حقیقی " احسن الخالقین " کے سوا کوئی نہیں۔ اسی لئے " باذنی " کا بار بار اعادہ کیا گیا اور " آل عمران " میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے باذن اللہ کی تکرار کرائی گئی۔ بہرحال جو خوارق ان آیات میں اور ان سے پہلے " آل عمران " میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہوئے ہیں، ان کا انکار یا تحریف صرف اسی ملحد کا کام ہوسکتا ہے جو " آیات اللہ " کو اپنی عقل شخصی کے تابع کرنا چاہے۔ باقی جو لوگ قانون قدرت کا نام لے کر " معجزات و خوارق " کا انکار کرنا چاہتے ہیں، ان کا جواب ہم نے ایک مستقل مضمون میں دیا ہے اس کے مطالعہ سے انشاء اللہ تمام شکوک و شبہات کا ازالہ ہو سکے گا۔
2 معجزات اور فوق العادت تصرفات کو جادو کہنے لگے اور انجام کار حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قتل کے درپے ہوئے۔ حق تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اس طرح یہود کو ان کے ناپاک مقصد میں کامیاب ہونے سے روک دیا گیا۔
Ayahs 5:111–1123 " کرسکتا ہے " اس لئے کہا کہ آپ کی رعایت اور دعا سے ہمارے لئے بطور " خرق عادت " نہ معلوم ایسا کرے یا نہ کرے۔
4 یعنی آسمان کی طرف سے بےمحنت روزی پہنچ جایا کرے۔ یہ ضرور نہیں کہ وہ خوان جنت ہی کا ہو۔
5 یعنی ایماندار بندہ کو لائق نہیں کہ ایسی غیر معمولی فرمائشیں کر کے خدا کو آزمائے خواہ اس کی طرف سے کتنی ہی مہربانی کا اظہار ہو، روزی ان ہی ذرائع سے طلب کرنا چاہیے جو قدرت نے اس کی تحصیل کے لئے مقرر فرما دیئے ہیں بندہ جب خدا سے ڈر کر تقویٰ اختیار کرے اور اسی پر ایمان و اعتماد رکھے تو حق تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کو رزق پہنچائے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ (وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا ۙ وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ) 65 ۔ الطلاق :2)