5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا12 تو کہہ دے پھر کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کرے مسیح مریم کے بیٹے کو اور اس کی ماں کو اور جتنے لوگ ہیں زمین میں سب کو1 اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ درمیان ان دونوں کے ہے پیدا کرتا ہے جو چاہے2 اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے3

12 یعنی مسیح کے علاوہ خدا کوئی اور چیز نہیں کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ نصاریٰ میں سے " فرقہ یعقوبیہ " کا ہے جس کے نزدیک مسیح کے قالب میں خدا حلول کئے ہوئے ہے (معاذاللہ) یا یوں کہا جائے کہ جب " نصاریٰ " حضرت مسیح کی نسبت " الوہیت " کے قائل ہیں اور ساتھ ہی توحید کا بھی زبان سے اقرار کرتے جاتے ہیں یعنی خدا ایک ہی ہے تو ان دونوں دعو وں کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک مسیح کے سوا کوئی خدا نہ ہو۔ بہرحال کوئی صورت لی جائے اس عقیدہ کے کفر صریح ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ 1 یعنی اگر فرض کرو خدائے قادر وقہار یہ چاہے کہ حضرت مسیح اور مریم اور اگلے پچھلے کل زمین پر بسنے والوں کو اکٹھا کر کے ایک دم میں ہلاک کر دے، تو تم ہی بتلاؤ کہ اس کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے۔ یعنی ازل و ابد کے سارے انسان بھی اگر فرض کرو مجتمع کردیے جائیں اور خدا ایک آن میں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو سب کی اجتماعی قوت بھی خدا کے ارادہ کو تھوڑی دیر کے لیے ملتوی نہیں کرسکتی۔ کیونکہ مخلوقات کی قدرت جو عطائی اور محدود ہے خدا کی ذاتی اور لا محدود قدرت کے مقابلہ میں عاجز محض ہے جس کا اعتراف خود وہ لوگ بھی کرتے ہیں جن کے رد میں یہ خطاب کیا جا رہا ہے بلکہ خود مسیح ابن مریم بھی جن کو یہ لوگ خدا بنا رہے ہیں اسکے معترف ہیں چناچہ مرقس کی انجیل میں حضرت مسیح کا یہ مقولہ موجود ہے۔ " اے باپ ہر چیز تیری قدرت کے تحت میں ہے تو مجھ سے یہ (موت کا) پیالہ ٹلا دے اس طرح نہیں جو میں چاہتا ہوں بلکہ اس طرح جیسے تیرا ارادہ ہے " پس جب حضرت مسیح (علیہ السلام) جن کو تم خدا کہتے ہو اور ان کی والدہ ماجدہ مریم صدیقہ جو تمہارے زعم میں خدا کی ماں ہوئیں۔ وہ دونوں بھی تمام من فی الارض کے ساتھ مل کر خدا کی مشیت و ارادہ کے سامنے عاجز ٹھہرے تو خود سوچ لو کہ ان کی یا ان کی والدہ یا کسی اور مخلوق کی نسبت خدائی کا دعویٰ کرنا کس قدر گستاخی اور شوخ چشمی ہوگی۔ آیت کی اس تقریر میں ہم نے " ہلاک " کو " موت " کے معنی میں لیا ہے۔ مگر جمیعاً کے لفظ کی تھوڑی سی وضاحت کردی جو مدلول لفظ جمیعاً کا ہم نے بیان کیا وہ ائمہ عربیہ کی تصریحات کے عین موافق ہے۔ اس کے سوا یہ بھی ممکن ہے کہ آیت میں " ہلاک " کے معنی موت کے نہ لیے جائیں جیسا کہ راغب نے لکھا ہے کبھی " ہلاک " کے معنی ہوتے ہیں " کسی چیز کا مطلقاً فنا اور نیست و نابود ہوجانا۔ (كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ) 28 ۔ القصص :88) یعنی خدا کی ذات کے سوا ہر چیز نابود ہونے والی ہے۔ اس معنی پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر خدائے قدیر حضرت مسیح اور ان کی والدہ اور تمام من فی الارض کو قطعاً نیست و نابود اور بالکلیہ فنا کر ڈالنے کا ارادہ کرلے تو کون ہے جو اس کے ارادہ کو روک دے گا " اوست سلطان ہر چہ خواہدآں کند عالمے رادردمے ویراں کند "۔ حضرت شاہ صاحب تحریر فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی جگہ نبیوں کے حق میں ایسی بات فرماتے ہیں تاکہ ان کی امت بندگی کی حد سے زیادہ نہ چڑھا دے والاَّ نبی اس لائق کا ہے کہ ان کے مرتبہ عالی اور وجاہت عند اللہ کا خیال کرتے ہوئے ایسا خطاب کیا جاتا۔ 2 جو چاہے اور جس طرح چاہے۔ مثلاً حضرت " مسیح " کو بدون باپ کے حضرت " حوا " کو بدون ماں کے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو بدون ماں اور باپ کے پیدا کردیا۔ 3 کسی کا زور اس کے سامنے نہیں چل سکتا۔ سب اخیار وابرار بھی وہاں مجبور ہیں۔
Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہود اور نصاریٰ ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے4 تو کہہ پھر کیوں عذاب کرتا ہے تم کو تمہارے گناہوں پر5 کوئی نہیں بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو اس کی مخلوق میں6 بخشے جس کو چاہے اور عذاب کرے جس کو چاہے7 اور اللہ ہی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ دونوں کے بیچ میں ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے8

4 شاید اپنے کو " بیٹے " یعنی اولاد اس لئے کہتے ہوں کہ ان کی " بائبل " میں خدا نے اسرائیل (یعقوب علیہ السلام) کو اپنا پہلوٹا بیٹا اور اپنے کو اس کا باپ کہا ہے۔ ادھر نصاریٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو " ابن اللہ " مانتے ہیں تو اسرائیل کی اولاد اور حضرت مسیح کی امت ہونے کی وجہ سے غالباً ابناء اللہ کا لفظ اپنی نسبت استعمال کیا ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ " بیٹا " کہنے سے مراد یہ ہو کہ ہم خدا کے خواص اور محبوب ہونے کی وجہ سے گویا اولاد ہی جیسے ہیں۔ اس صورت میں " ابــناء " کا حاصل وہ ہی ہوجائے گا جو لفظ " احبــاء " کا ہے۔ 5 چونکہ کسی مخلوق کا حقیقۃً " ابن اللہ " ہونا بالکل محال اور بد یہی البطلان ہے اور خدا کا محبوب بن جانا ممکن تھا۔ (يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ) 5 ۔ المائدہ :54) اس لئے اس جملہ میں اول " محبوبیت " (پیارے ہونے) کے دعوے کا رد کیا گیا یعنی جو قوم اعلانیہ بغاوتوں اور شدید ترین گناہوں کی بدولت یہاں بھی کئی طرح کی رسوائیوں اور عذاب میں گرفتار ہوچکی اور آخرت میں بھی حبس دوام کی سزا کا عقلاً و نقلاً استحقاق رکھتی ہے۔ کیا ایسی باغی و عاصی قوم کی نسبت ایک لمحہ کے لئے بھی کوئی ذی شعور یہ خیال کرسکتا ہے کہ وہ خدا کی محبوب اور پیاری ہوگی ؟ خدا سے کسی کا نسبی رشتہ نہیں۔ اسکا پیار اور اس کی محبت صرف اطاعت اور حسن عمل سے حاصل ہوسکتی ہے۔ ایسے کٹر مجرموں کو جو سخت سزا کے مستحق اور مورد بن چکے ہوں، شرمانا چاہیے کہ وہ (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ) 5 ۔ المائدہ :18) کا دعویٰ کریں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کو باوجودیکہ انکا صلبی بیٹا تھا خدا نے فرما دیا اِنَّہ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ) 11 ۔ ہود :46) 6 " بَشَر " اصل لغت میں کھال کی اوپر والی سطح کو کہتے ہیں۔ تھوڑی سی مناسبت سے آدمی کو " بشر " کہنے لگے۔ شاید اس لفظ کے یہاں اختیار کرنے میں یہ نکتہ ہو کہ تم کو خدا کا بیٹا اور پیارا تو درکنار، شریف اور ممتاز انسان بھی نہیں کہا جاسکتا۔ صرف بشرہ اور شکل و صورت کے لحاظ سے خدا کے پیدا کئے ہوئے ایک معمولی آدمی کہلائے جاسکتے ہو جن کی پیدائش بھی اسی معتاد طریقہ سے ہوئی ہے جس طرح عام انسانوں کی ہوتی ہے۔ پھر بھلا " ابنیت " کا وہم کدھر سے راہ پاسکتا ہے۔ 7 کیونکہ وہ ہی جانتا ہے کہ کون بخشنے کے لائق ہے اور کسے سزا دی جائے۔ 8 تو جسے وہ اپنی رحمت اور حکمت سے معاف کرنا چاہے یا عدل و انصاف سے سزا دینا چاہے اس میں کون مزاحم ہوسکتا ہے نہ کسی مجرم کے لئے یہ گنجائش ہے کہ اس کے قلمرو آسمان و زمین سے باہر نکل جائے اور نہ یہ کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں کہیں اور بھاگ جائے۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے کتاب والو ! آیا ہے تمہارے پاس رسول ہمارا کھولتا ہے تم پر9 رسولوں کے انقطاع کے بعد کبھی تم کہنے لگو کہ ہمارے پاس نہ آیا کوئی خوشی یا ڈر سنانے والا سو آچکا تمہارے پاس خوشی اور ڈر سنانے والاف 10 اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے11

9 یعنی ہمارے احکام و شرائع نہایت توضیح کے ساتھ کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ اس رکوع کے شروع سے " بنی اسرائیل " (یہود و نصاریٰ ) کے مختلف قسم کی شرارتوں اور حماقتوں کو بیان فرما کر یہ بتلایا تھا کہ اب ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا جو تمہاری غلط کاریوں کو واضح کرتا ہے اور تم کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد اس پر متنبہ فرمایا کہ اب نور ہدایت کی طرف جانا دو چیزوں پر موقوف ہے۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کرو اور مخلوق و خالق کے تعلق کے متعلق غلط عقیدے مت جماؤ۔ (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ) 5 ۔ المائدہ :17) سے یہاں تک اسی جزو کا بیان تھا۔ دوسری چیز یہ ہے کہ نبی الانبیاء ﷺ پر ایمان لاؤ جو تمام انبیائے سابقین کے کمالات کے جامع اور شرائع الہٰیہ کے سب سے بڑے اور آخری شارح ہیں۔ اس جزو کا بیان اس آیت (قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ ) 5 ۔ المائدہ :19) میں کیا گیا ہے۔ 10 حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد تقریباً چھ سو برس سے انبیاء کی آمد کا سلسلہ منقطع ہوچکا تھا۔ ساری دنیا الا ما شاء اللہ جہل، غفلت اور اوہام و اہواء کی تاریکیوں میں پڑی تھی۔ ہدایت کے چراغ گل ہوچکے تھے۔ ظلم وعدوان اور فساد و الحاد کی گھٹا تمام آفاق پر چھا رہی تھی۔ اس وقت سارے جہان کی اصلاح کے لئے خدا نے سب سے بڑا " ہادی " اور " نذیر " و " بشیر " بھیجا، جو جاہلوں کو فلاح دارین کے راستے بتلائے۔ غافلوں کو اپنے انذار و تخویف سے بیدار کرے اور پست ہمتوں کو بشارتیں سنا کر ابھارے۔ اس طرح ساری مخلوق پر خدا کی حجت تمام ہوگئی۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ 11 یعنی تم اگر اس پیغمبر کی بات نہ مانو گے تو خدا کو قدرت ہے کہ کوئی دوسری قوم کھڑی کر دے جو اس کے پیغام کو پوری طرح قبول کرے گی اور پیغمبر کا ساتھ دے گی خدا کا کام کچھ تم پر موقوف نہیں۔
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو اے قوم یاد کرو احسان اللہ کا اپنے اوپر12 جب پیدا کئے تم میں نبی13 اور کردیا تم کو بادشاہ14 اور دیا تم کو جو نہیں دیا تھا کسی کو جہان میں1

12 موضح القرآن میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کا وطن چھوڑ نکلے اللہ کی راہ میں اور ملک شام میں آکر ٹھہرے اور مدت تک ان کے اولاد نہ ہوئی تب اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ تیری اولاد بہت پھیلاؤں گا اور زمین شام ان کو دوں گا اور نبوت، دین، کتاب اور سلطنت ان میں رکھوں گا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت وہ وعدہ پورا کیا۔ بنی اسرائیل کو فرعون کی بیگار سے خلاص کیا اور اس کو غرق کیا اور ان کو فرمایا کہ جہاد کرو عمالقہ سے، ملک شام فتح کرلو۔ پھر ہمیشہ وہ ملک شام تمہارا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بارہ شخص بارہ قبائل بنی اسرائیل پر سردار کئے تھے ان کو بھیجا کہ اس ملک کی خبر لاویں وہ خبر لائے تو ملک شام کی بہت خوبیاں بیان کیں اور وہاں جو عمالقہ مسلط تھے ان کا زور و قوت بیان کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ تم قوم کے سامنے ملک کی خوبی بیان کرو اور دشمن کی قوت کا ذکر مت کرو۔ ان میں سے دو شخص اس حکم پر رہے اور دس نے خلاف کیا۔ قوم نے سنا تو نامردی کرنے لگی اور چاہا کہ پھر الٹے مصر چلے جائیں۔ اس تقصیر کی وجہ سے چالیس برس فتح میں دیر لگی۔ اس قدر مدت جنگلوں میں بھٹکتے پھرتے رہے۔ جب اس قرن کے لوگ مرچکے مگر وہ دو شخص کہ وہ ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد خلیفہ ہوئے ان کے ہاتھ سے فتح ہوئی۔ 13 یعنی تمہارے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک کتنے نبی تم میں پیدا کئے۔ مثلاً حضرت اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف اور خود موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) پھر ان کے بعد بھی یہ ہی سلسلہ مدت دراز تک ان میں قائم رکھا۔ 14 یعنی فرعونیوں کی ذلیل ترین غلامی سے آزادی دلا کر ان کے اموال و املاک پر قبضہ کیا اور اس سے پہلے تم ہی میں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مصر کے خزائن اور سلطنت پر کیسا تسلط عطا فرمایا۔ پھر مستقبل میں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) وغیرہ نبی اور بادشاہ پیدا کئے گویا دین اور دنیا دونوں کی اعلیٰ نعمتوں سے تم کو سرفراز کیا۔ کیونکہ دینی مناصب میں سب سے بڑا منصب نبوت اور دنیاوی اقبال کی آخری حد آزادی اور بادشاہت ہے یہ دونوں چیزیں مرحمت کی گئیں۔ 1 یعنی اس وقت جب موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خطاب فرما رہے تھے بنی اسرائیل پر تمام دنیا کے لوگوں سے زیادہ خدا کی نوازشیں ہوئیں اور اگر " اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِیْنَ " کا عموم پر حمل کیا جائے تو یہ اس لئے صحیح نہیں کہ امت محمدیہ کی نسبت خود قرآن میں تصریح ہے۔ (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ ) 3 ۔ آل عمران :110) اور (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ ) 2 ۔ البقرۃ :143) ۔
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے قوم داخل ہو زمین پاک میں جو مقرر کردی ہے اللہ نے تمہارے واسطے2 اور نہ لوٹو اپنی پیٹھ کی طرف پھر جا پڑو گے نقصان میں3

2 یعنی خدا نے پیشتر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ تیری اولاد کو یہ ملک دونگا وہ و عدہ ضرور پورا ہونا ہے۔ خوش قسمت ہونگے وہ لوگ جن کے ہاتھوں پر پورا ہو۔ 3 یعنی جہاد فی سبیل اللہ میں بزدلی اور پست ہمتی دیکھ کر غلامی کی زندگی کی طرف مت بھاگو۔
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ وہاں ایک قوم ہے زبردست4 اور ہم ہرگز وہاں نہ جاویں گے یہاں تک کہ وہ نکل جاویں اس میں سے پھر اگر وہ نکل جاویں گے اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہوں گے5

4 یعنی بہت قوی ہیکل تنومند اور پر رعب۔ 5 یعنی مقابلہ کی ہمت ہم میں نہیں ہاں بدون ہاتھ پاؤں ہلائے پکی پکائی کھا لیں گے آپ معجزہ کے زور سے انہیں نکال دیں۔
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

کہا دو مردوں نے اللہ سے ڈرنے والوں میں سے کہ خدا کی نوازش تھی ان دو پر6 گھس جاؤ ان پر حملہ کر کے دروازہ میں پھر جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے7 اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر یقین رکھتے ہو8

6 دو شخص حضرت یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا تھے جو خدا سے ڈرتے تھے اسی لئے عمالقہ وغیرہ کا کچھ ڈر ان کو نہ رہا۔ ہر کہ تر سید از حق وتقویٰ گزید ترسد ازوے جن وانس و ہر کہ دید 7 یعنی ہمت کر کے شہر کے پھاٹک تک تو چلو پھر خدا تم کو غالب کرے گا خدا اسی کی مدد کرتا ہے جو خود بھی اپنی مدد کرے۔ 8 معلوم ہوا کہ اسباب مشروعہ کو ترک کرنا توکل نہیں۔ " توکل " یہ ہے کہ کسی نیک مقصد کے لئے انتہائی کوشش اور جہاد کرے پھر اس کے مثمر و منتج ہونے کے لئے خدا پر بھروسہ رکھے اپنی کوشش پر نازاں اور مغرور نہ ہو۔ باقی اسباب مشروعہ کو چھوڑ کر خالی امیدیں باندھتے رہنا توکل نہیں تعطل ہے۔
Ayah 5:24

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ ہم ہرگز نہ جاویں گے ساری عمر جب تک وہ رہیں گے اس میں سو تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں9

9 یہ اس قوم کا مقولہ ہے جو نحن ابناء اللہ و احباوہ " کا دعویٰ رکھتی تھی مگر یہ گستاخانہ کلمات ان کے مستمر تمردو طغیان سے کچھ بھی مستبعد نہیں۔
Ayah 5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

بولا اے رب میرے میرے اختیار میں نہیں مگر میری جان اور میرا بھائی10 سو جدائی کر دے تو ہم میں اور اس نافرمان قوم میں

10 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سخت دلگیر ہو کر یہ دعا فرمائی۔ چونکہ تمام قوم کی عدول حکمی اور بزدلانہ عصیان کو مشاہدہ فرما رہے تھے۔ اس لئے دعا میں بھی اپنے اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے سوا کہ وہ بھی نبی معصوم تھے اور کسی کا ذکر نہیں کیا۔ یوشع اور کالب بھی دونوں کے ساتھ تبعاً آگئے۔
Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

فرمایا تحقیق وہ زمین حرام کی گئی ہے ان پر چالیس برس سر مارتے پھریں گے ملک میں سو تو افسوس نہ کر نافرمان لوگوں پر1

1 یعنی جدائی کی دعا حسی اور ظاہری طور پر تو قبول نہ ہوئی۔ ہاں معناً جدائی ہوگئی کہ وہ سب تو عذاب الہٰی میں گرفتار ہو کر حیران و سرگرداں پھرتے تھے اور حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) پیغمبرانہ اطمینان اور پورے قلبی سکون کے ساتھ اپنے منصب ارشاد و اصلاح پر قائم رہے جیسے کسی بستی میں عام وبا پھیل پڑے اور ہزاروں بیماروں کے مجمع میں دو چار تندرست اور قوی القلب ہوں جو ان کے معالجہ، چارہ سازی اور تفقد احوال میں مشغول رہیں۔ اگر " فافرق بیننا " کا ترجمہ جدائی کر دے کی جگہ " فیصلہ کر دے " ہوتا تو یہ مطلب زیادہ واضح ہوجاتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ سب قصہ اہل کتاب کو سنایا اس پر کہ تم پیغمبر آخرالزمان کی رفاقت نہ کرو گے جیسے تمہارے اجداد نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رفاقت چھوڑ دی تھی اور جہاد سے جان چرا بیٹھے تھے تو یہ نعمت اوروں کو نصیب ہوگی چناچہ نصیب ہوئی۔ ایک لمحہ کے لئے اس سارے رکوع کو سامنے رکھ کر امت محمدیہ کے احوال پر غور کیجئے ان پر خدا کے وہ انعامات ہوئے جو نہ پہلے کسی امت پر ہوئے نہ آئندہ ہونگے۔ ان کے لئے خاتم الانبیاء سیدالرسل ﷺ کو ابدی شریعت دیکر بھیجا۔ ان میں وہ علماء اور ائمہ پیدا کئے جو باوجود غیر نبی ہونے کے انبیاء کے وظائف کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔ ایسے ایسے خلفاء نبی ﷺ کے بعد امت کے قائد بنے جنہوں نے سارے جہان کو اخلاق اور اصول سیاست وغیرہ کی ہدایت کی۔ اس امت کو بھی جہاد کا حکم ہوا۔ عمالقہ کے مقابلہ میں نہیں روئے زمین کے تمام جبارین کے مقابلہ میں۔ محض سرزمین " شام " فتح کرنے کے لئے نہیں بلکہ شرق وغرب میں کلمۃ اللہ بلند کرنے اور فتنہ کی جڑ کاٹنے کے لئے بنی اسرائیل سے خدا نے ارض مقدسہ کا وعدہ کیا تھا لیکن اس امت سے یہ فرمایا (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا) 24 ۔ النور :55) اگر بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) نے جہاد میں پیٹھ پھیرنے سے منع کیا تھا تو اس امت کو بھی خدا نے اس طرح خطاب کیا (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ ) 8 ۔ الانفال :15) انجام یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے رفقا تو عمالقہ سے ڈر کر یہاں تک کہہ گزرے کہ (فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ :24) ۔ تم اور تمہارا پروردگار جا کر لڑ لو ہم یہاں بیٹھے ہیں لیکن اصحاب محمد ﷺ نے یہ کہا کہ خدا کی قسم اگر آپ سمندر کی موجوں میں گھس جانے کا حکم دیں گے تو ہم اسی میں کود پڑیں گے اور ایک شخص بھی ہم میں سے علیحدہ نہیں رہے گا۔ امید ہے کہ خدا آپ کو ہماری طرف سے وہ چیز دکھلائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ ہم اپنے پیغمبر کے ساتھ ہو کر اس کے دائیں اور بائیں آگے اور پیچھے ہر طرف جہاد کریں گے۔ خدا کے فضل سے ہم وہ نہیں ہیں جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا (فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ :24) اسی کا نتیجہ ہے کہ جتنی مدت بنی اسرائیل فتوحات سے محروم ہو کر " وادی تیہ " میں بھٹکتے رہے اس سے کم مدت میں محمد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے مشرق و مغرب میں ہدایت و ارشاد کا جھنڈا گاڑ دیا۔ رضی اللّٰہ عنھم و رضواعنہ ذٰلک لمن خشی ربہ۔
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور سنا ان کو حال واقعی آدم کے دو بیٹوں کا2 جب نیاز کی دونوں نے کچھ نیاز اور مقبول ہوئی ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی3 کہا میں تجھ کو مار ڈالوں گا4 وہ بولا اللہ قبول کرتا ہے تو پرہیزگاروں سے5

2 یعنی آدم کے دو صلبی بیٹوں قابیل و ہابیل کا قصہ ان کو سناؤ۔ کیونکہ اس قصہ میں ایک بھائی کے دوسرے بھائی کی مقبولیت اور تقویٰ پر حسد کرنے اور اسی غیظ میں اس کو ناحق قتل کر ڈالنے کا ذکر ہے اور ناحق خون کرنے کی عواقب بیان کئے ہیں۔ پچھلے رکوع میں یہ بتلایا تھا کہ بنی اسرائیل کو جب یہ حکم دیا گیا کہ ظالموں اور جابروں سے قتال کرو تو خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ اب ہابیل و قابیل کا قصہ سنانا اس کی تمہید ہے کہ متقی اور مقبول بندوں کا قتل جو شدید ترین جرائم میں سے ہے اور جس سے ان لوگوں کو بےانتہا تہدید و تشدید کے ساتھ منع کیا گیا تھا اس کے لئے یہ ملعون ہمیشہ کیسے مستعد اور تیار نظر آتے ہیں۔ پہلے بھی کتنے نبیوں کو قتل کیا اور آج بھی خدا کے سب سے بڑے پیغمبر کے خلاف ازراہ بغض و حسد کیسے کیسے منصوبے گانٹھتے رہتے ہیں۔ گویا ظالموں اور شریروں کے مقابلہ سے جان چرانا اور بےگناہ معصوم بندوں کے خلاف قتل و آسر کی سازشیں کرنا، یہ اس قوم کا شیوہ رہا ہے اور اس پر نحن ابنآء اللہ واحبآوہ کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں اس تقریر کے موافق قابیل و ہابیل کا قصہ پھر اس پر مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ الآیۃ کی تفریع، یہ سب تمہید ہوگی اس مضمون کی جو اس قصہ اور تفریع کے ختم پر فرمایا (ۭوَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُنَا بالْبَيِّنٰتِ ۡ ثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِي الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ :32) 3 یعنی آدم (علیہ السلام) دستور کے موافق جو لڑکی ہابیل کے نکاح میں دینا چاہتے تھے قابیل اسکا طلب گار ہوا۔ آخر حضرت آدم (علیہ السلام) کے اشارہ سے دونوں نے خدا کے لئے کچھ نیاز کی کہ جس کی نیاز مقبول ہوجائے لڑکی اسی کو دے دی جائے۔ آدم (علیہ السلام) کو غالباً یہ یقین تھا کہ ہابیل ہی کی نیاز مقبول ہوگی چناچہ ایسا ہی ہوا۔ آتش آسمانی ظاہر ہوئی اور ہابیل کی نیاز کو کھا گئی۔ یہ ہی علامت اس وقت قبول عند اللہ کی تھی۔ 4 قابیل یہ دیکھ کر آتش حسد میں جلنے لگا اور بجائے اس کے کہ مقبولیت کے وسائل اختیار کرتا غیظ و غضب میں اپنے حقیقی بھائی کو قتل کی دھمکیاں دینے لگا۔ 5 یعنی ہابیل نے کہا کہ میرا اس میں کیا قصور ہے خدا کے یہاں کسی کی زبردستی نہیں چلتی تقویٰ چلتا ہے۔ گویا میری نیاز جو قبول کرلی گئی اس کا سبب تقویٰ ہے تو بھی اگر تقویٰ اختیار کرلے تو خدا کو تجھ سے کوئی ضد نہیں۔
Ayah 5:28

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر تو ہاتھ چلاوے گا مجھ پر مارنے میں نہ ہاتھ چلاؤں گا تجھ پر مارنے کو6 میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو پروردگار ہے سب جہان کا7

6 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ناحق کسی کو مارنے لگے اس کو رخصت ہے کہ ظالم کو مارے اور اگر صبر کرے تو شہادت کا درجہ ہے اور یہ حکم اپنے مسلمان بھائی کے مقابلہ میں ہے ورنہ جہاں انتقام و مدافعت میں شرعی مصلحت و ضرورت ہو وہاں ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہنا جائز نہیں۔ مثلاً کافروں یا باغیوں سے قتال کرنا۔ ( وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ ) 42 ۔ الشوری :39) ۔ 7 یعنی میں تجھ سے ڈر کر نہیں بلکہ خدا سے ڈر کر یہ چاہتا ہوں کہ جہاں تک شرعاً گنجائش ہے بھائی کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین نہ کروں ایوب سختیانی فرماتے تھے کہ امت محمدیہ میں سے پہلا شخص جس نے اس آیت پر عمل کر کے دکھلایا حضرت عثمان بن عفان ؓ ہے (ابن کثیر) جنہوں نے اپنا گلا کٹوا دیا لیکن اپنی رضا سے کسی مسلمان کی انگلی نہ کٹنے دی۔
Ayah 5:29

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ تو حاصل کرے میرا گناہ اور اپنا گناہ8 پھر ہوجاوے تو دوزخ والوں میں اور یہی ہے سزا ظالموں کی9

8 یعنی میرے قتل کا گناہ بھی اپنے دوسرے گناہوں کے ساتھ حاصل کرلے۔ ابن جریر نے مفسرین کا اجماع نقل کیا ہے کہ " باثمی " کے معنی یہی ہیں۔ باقی جنہوں نے یہ لکھا ہے کہ قیامت میں مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈالے جائیں گے وہ مضمون بھی ایک حیثیت سے صحیح ہے مگر محققین کے نزدیک وہ اس آیت کی تفسیر نہیں۔ اب ہابیل کے کلام کا حاصل یہ ہوا کہ اگر تو نے یہ ہی ٹھان لی ہے کہ میرے قتل کا وبال اپنے سر رکھے تو میں نے بھی ارادہ کرلیا ہے کہ کوئی مدافعت اپنی جانب سے نہ کروں حتی کہ ترک عزیمت کا حرف بھی مجھ پر نہ آنے پائے۔ 9 یعنی تیرے عمر بھر کے گناہ تجھ پر ثابت رہیں اور میرے خون کا گناہ چڑھے اور مظلومیت کی وجہ سے میرے گناہ اتریں (موضح القرآن) ۔
Ayah 5:30

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

پھر اس کو راضی کیا اس کے نفس نے خون پر اپنے بھائی کے10 پھر اس کو مار ڈالا سو ہوگیا نقصان اٹھانے والوں میں11

10 شاید ابتدا میں کچھ جھجک ہوگی شدہ شدہ نفس امارہ نے خیال پختہ کردیا اور یہ ہی کیفیت عموماً معاصی کی ابتدا میں ہوتی ہے۔ 11 دنیاوی خسران تو یہ کہ ایسا نیک بھائی جو قوت بازو بنتا ہاتھ سے کھویا اور خود پاگل ہو کر مرا۔ حدیث میں ہے کہ " ظلم " اور " قطع رحم " دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا آخرت سے پہلے یہاں بھی ملتی ہے اور اخروی خسران یہ کہ ظلم، قطع رحم، قتل عمد اور بدامنی کا دروازہ دنیا میں کھول دینے سے ان سب گناہوں کی سزا کا مستوجب ہوا اور آئندہ بھی جتنے اس نوعیت کے گناہ دنیا میں کئے جائیں گے سب میں بانی ہونے کی وجہ سے اس کی شرکت رہی جیسا کہ حدیث میں مصرح ہے۔
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا جو کریدتا تھا زمین کو تاکہ اس کو دکھلاوے کس طرح چھپاتا ہے لاش اپنے بھائی کی بولا اے افسوس مجھ سے اتنا نہ ہوسکا کہ ہوں برابر اس کوے کی کہ میں چھپاؤں لاش اپنے بھائی کی12 پھر لگا پچھتانے13

12 چونکہ اس سے پہلے کوئی انسان مرا نہ تھا اس لئے قتل کے بعد اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ لاش کو کیا کرے۔ آخر ایک کوے کو دیکھا کہ زمین کرید رہا ہے یا دوسرے مردہ کوے کو مٹی ہٹا کر زمین میں چھپا رہا ہے اسے دیکھ کر کچھ عقل آئی کہ میں بھی اپنے بھائی کی لاش کو دفن کر دوں اور افسوس بھی ہوا کہ میں عقل و فہم اور بھائی کی ہمدردی میں اس جانور سے بھی گیا گزرا ہوا شاید اسی لئے حق تعالیٰ نے ایک ادنیٰ جانور کے ذریعہ سے اسے تنبیہ فرمائی کہ وہ اپنی وحشت اور حماقت پر کچھ شرمائے جانوروں میں کوے کی یہ خصوصیت ہے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کھلا چھوڑ دینے پر بہت شور مچاتا ہے۔ 13 پچھتانا وہ نافع ہے جس کے ساتھ گناہ سے معذرت و انکسار اور فکر وتدارک بھی ہو۔ اس موقع پر اس کا پچھتانا حق تعالیٰ کے عصیان پر نہیں بلکہ اپنی بدحالی پر تھا جو قتل کے بعد اسے لاحق ہوئی۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی سبب سے لکھا ہم نے14 بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی قتل کرے ایک جان کو بلا عوض جان کے یا بغیر فساد کرنے کے ملک میں1 تو گویا قتل کر ڈالا اس نے سب لوگوں کو اور جس نے زندہ رکھا ایک جان کو تو گویا زندہ کردیا سب لوگوں کو2 اور لا چکے ہیں ان کے پاس رسول ہمارے کھلے ہوئے حکم3 پھر بہت لوگ ان میں سے اس پر بھی ملک میں دست درازی کرتے ہیں4

14 یعنی ناحق قتل میں جو دنیاوی اور اخروی خسران ہے اور جو بد نتائج اس پر مرتب ہوتے ہیں حتیٰ کہ خود قاتل بھی اس حرکت کے بعد بسا اوقات پچھتاتا اور کف افسوس ملتا ہے۔ اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ ہدایت کی۔ الخ۔ 1 ملک میں فساد کرنے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ مثلاً اہل حق کو دین حق سے روکے یا پیغمبروں کی اہانت کرے یا " العیاذ باللہ " مرتد ہو کر اپنے وجود سے دوسروں کو مرتد ہونے کی ترغیب دے وقس علیٰ ذٰلک۔۔ 2 یعنی اول روئے زمین پر بڑا گناہ یہ ہی ہوا کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اس کے بعد رسم پڑگئی اسی سبب سے تورات میں اس طرح فرمایا کہ " ایک کو مارا جیسے سب کو مارا " یعنی ایک کے ناحق خون کرنے سے دوسرے بھی اس جرم پر دلیر ہوتے ہیں تو اس حیثیت سے جو شخص ایک کو قتل کر کے بدامنی کی جڑ قائم کرتا ہے گویا وہ سب انسانوں کو قتل اور عام بدامنی کا دروازہ کھول رہا ہے اور جو کسی ایک کو زندہ کرتا یعنی کسی کو ظالم قاتل کے ہاتھ سے بچاتا ہے گویا وہ اپنے عمل سے سارے انسانوں کو بچانے اور مامون کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ 3 مترجم (رح) نے " بینات " سے کھلے ہوئے حکم مراد لئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بینات سے وہ کھلے کھلے نشان مراد لئے جائیں جن سے کسی پیغمبر کے من عند اللہ ہونے کی تصدیق ہوتی ہو۔ 4 یعنی " بنی اسرائیل " کے بہت سے لوگ ایسے کھلے نشان دیکھ کر اور ایسے کھلے احکام سن کر بھی اپنے ظلم و طغیان اور دست درازیوں سے باز نہ آئے انبیائے معصومین کو قتل اور آپس میں ناحق خون کرنا ان کا ہمیشہ سے و تیرہ رہا ہے اور آج بھی خاتم الانبیاء ﷺ کے (معاذاللہ) قتل یا ایذاء رسانی اور مسلمانوں کی تذلیل کے لئے ہر قسم کی ناپاک سازشیں کرتے رہتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ جب حکم تورات کے موافق کیف ما اتفق کسی ایک آدمی کا ناحق مار ڈالنا اتنا بڑا جرم ہے کہ گویا اس کا قاتل تمام دنیا کے انسانوں کا قاتل ہے تو دنیا کے سب سے زیادہ کامل و اکمل انسان اور سب سے زیادہ مقبول و مقدس جماعت کے قتل و ایذاء رسانی کے درپے ہونا اور ان سے لڑائی اور مقابلہ کے لئے کمر باندھنا خدا کے نزدیک کتنا بھاری جرم ہوگا۔ خدا کے سفراء سے لڑائی تو درحقیقت خدا ہی سے لڑائی کرنا ہے۔ شاید اسی لئے اگلی آیت میں ان لوگوں کی دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جو خدا اور پیغمبر سے لڑائی کرتے ہیں یا دنیا میں طرح طرح کے فساد پھیلا کر " مسرفون فی الارض " کے مصداق بنتے ہیں۔
Ayah 5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

یہی سزا ہے ان کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرنے کو5 کہ ان کو قتل کیا جائے یا سولی چڑھائے جاویں یا کاٹے جاویں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے6 یا دور کردیے جاویں اس جگہ سے7 یہ ان کی رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے8

5 یعنی بد امنی کرنے کو اکثر مفسرین نے اس جگہ رہزنی اور ڈکیتی مراد لی ہے مگر الفاظ کو عموم پر رکھا جائے تو مضمون زیادہ وسیع ہوجاتا ہے آیت کا جو شان نزول احادیث صحیحہ میں بیان ہوا وہ بھی اسی کو مقتضی ہے کہ الفاظ کو ان کے عموم پر رکھا جائے " اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنا " یا " زمین میں فساد اور بدامنی پھیلانا یہ دو لفظ ایسے ہیں جن میں کفار کے حملے ارتداد کا فتنہ، رہزنی، ڈکیتی، ناحق قتل و نہب، مجرمانہ سازشیں اور مغویانہ پروپیگنڈا سب داخل ہوسکتے ہیں اور ان میں سے ہر جرم ایسا ہے جس کا ارتکاب کرنے والا ان چار سزاؤں میں سے جو آگے مذکور ہیں کسی نہ کسی سزا کا ضرور مستحق ٹھہرتا ہے۔ 6 یعنی داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں۔ 7 کہیں اور لیجا کر انہیں قید کردیں کما ہو مذہب الامام ابی حنیفہ رحمۃ اللہ 8 ڈاکوؤں کے احوال چار ہوسکتے تھے۔ (1) قتل کیا ہو مگر مال لینے کی نوبت نہ آئی (2) قتل بھی کیا اور مال بھی لیا (3) مال چھین لیا مگر قتل نہیں کیا (4) نہ مال چھین سکے نہ قتل کرسکے قصد اور تیاری کرنے کے بعد ہی گرفتار ہوگئے۔ چاروں حالتوں میں بالترتیب یہ ہی چار سزائیں ہیں جو بیان ہوئیں۔
Ayah 5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر جنہوں نے توبہ کی تمہارے قابو پانے سے پہلے تو جان لو کہ اللہ بحشنے والا مہربان ہے9

9 یعنی مذکور بالا سزائیں جو حدود اور حق اللہ کے طور پر تھیں وہ گرفتاری سے قبل توبہ کرلینے سے معاف ہوجاتی ہیں۔ حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے۔ مثلاً اگر کسی کا مال لیا تھا تو ضمان دینا ہوگا، قتل کیا تھا تو قصاص لیا جائے گا۔ ہاں ان چیزوں کے معاف کرنے کا حق صاحب مال اور ولی مقتول کو حاصل ہے (تنبیہ) اس حد کے سوا باقی حدود مثلاً حد زنا، حد شرب خمر، حد سرقہ، حد قذف توبہ سے مطلقاً ساقط نہیں ہوتیں۔
Ayah 5:35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اس تک وسیلہ10 اور جہاد کرو اس کی راہ میں تاکہ تمہارا بھلا ہو11

10 " وسیلہ " کی تفسیر ابن عباس ؓ ، مجاہد، ابو وائل، حسن وغیر ہم اکابر سلف نے قربت سے کی ہے تو وسیلہ ڈھونڈھنے کے معنی یہ ہونگے کہ اس کا قرب وصول تلاش کرو۔ قتادہ نے کہا " ای تقربو الیہ بطاعتہ والعمل بما یرضیہ " خدا کی نزدیکی حاصل کرو اس کی فرمانبرداری اور پسندیدہ عمل کے ذریعہ سے ایک شاعر کہتا ہے۔ اذا عفل الواشون عدنا لو صلنا وعاد التصافی بیننا والوسائل اس میں یہ ہی معنی قرب و اتصال کے مراد ہے اور جو حدیث میں آیا ہے کہ " وسیلہ " جنت میں ایک نہایت ہی اعلیٰ منزل ہے جو دنیا میں سے کسی ایک بندہ کو ملے گی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اذان کے بعد میرے لئے خدا سے وہ ہی مقام طلب کیا کرو تو اس مقام کا نام بھی " وسیلہ " اسی لئے رکھا گیا کہ جنت کی تمام منزلوں میں وہ سب سے زیادہ عرش رحمان کے قریب ہے اور حق تعالیٰ کے مقامات قرب میں سب سے بلند واقع ہوا ہے۔ بہرحال پہلے فرمایا کہ ڈرتے رہو اللہ سے لیکن یہ ڈر ایسا نہیں جیسے آدمی سانپ بچھو یا شیر بھیڑیے ڈر کر دور بھاگتا ہے بلکہ اس بات سے ڈرنا کہ کہیں اس کی خوشنودی اور رحمت سے دور نہ جا پڑو۔ اسی لئے اتقوا اللّٰہ کے بعد وابتغوا الیہ الوسیلۃ فرمایا۔ یعنی اس کی ناخوشی اور بعد و ہجر سے ڈر کر قرب و وصول حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور ظاہر ہے کہ کسی چیز سے قریب ہم اسی وقت ہوسکتے ہیں جبکہ درمیانی راستہ قطع کرلیں جس پر چل کر اس کے پاس پہنچ سکتے ہوں۔ اسی کو فرمایا " وجاھدوا فی سبیلہ " جہاد کرو اس کی راہ میں یعنی اسی پر چلنے کی پوری پوری کوشش کرو " لعلکم تفلحون " تاکہ تم اس کی نزدیکی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکو۔ 11 پچھلے رکوع کے آخر میں ان لوگوں کی دنیاوی و اخروی سزا بیان فرمائی تھی جو خدا اور رسول سے جنگ کرتے اور ملک میں بدامنی اور فساد پھیلاتے ہیں۔ اس رکوع میں مسلمانوں کو ان سزاؤں سے ڈرا کر بتلایا گیا کہ جب شقی اور بدبخت لوگ خدا اور رسول سے جنگ کریں تو تم خدا اور رسول کی طرف ہو کر جہاد کرو۔ وہ اگر زمین پر فساد پھیلاتے ہیں تو تم اپنی کوشش اور حسن عمل سے امن و سکون قائم کرنے کی فکر کرو۔
Ayah 5:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس ہو جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتا کہ بدلہ میں دیں اپنے قیامت کے عذاب سے تو ان سے قبول نہ ہوگا اور ان کے واسطے عذاب دردناک ہے1

1 پچھلی آیت میں بتلایا تھا کہ انسان خدا سے ڈرنے اس کا قرب حاصل کرنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے ہی سے فلاح و کامیابی کی امید کرسکتا ہے۔ اس آیت میں متنبہ فرما دیا کہ جن لوگوں نے خدا سے روگردانی کی وہ آخرت میں اگر روئے زمین کے سارے خزانے بلکہ اس سے بھی زائد خرچ کر ڈالینگے اور فدیہ دیکر عذاب الہٰی سے چھوٹنا چاہیں گے تو یہ ممکن نہ ہوگا۔ غرض وہاں کی کامیابی " تقویٰ " " ابتغائے وسیلہ " اور " جہاد فی سبیل اللہ " سے حاصل ہوتی ہے رشوت اور فدیہ سے نہیں ہوسکتی۔
Ayah 5:37

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

چاہیں گے کہ نکل جاویں آگ سے اور وہ اس سے نکلنے والے نہیں اور ان کے لیے عذاب دائمی ہے2

2 احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کہ بہت سے گنہگار مومنین ایک مدت تک دوزخ میں رہ کر پھر نکالے جائیں گے اور حق تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے جنت میں داخل کرے گا یہ آیت ان احادیث کے مخالف نہیں کیونکہ یہاں شروع آیت سے صرف کفارہ کا بیان کیا گیا ہے مومنین کے متعلق اس آیت میں کوئی حرف نہیں۔
Ayah 5:38

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کاٹ ڈالو ان کے ہاتھ3 سزا میں ان کی کمائی کی تنبیہ ہے اللہ کی طرف سے4 اور اللہ غالب ہے حکمت والاف 5

3 یعنی پہلی مرتبہ چوری کرے تو داہنا ہاتھ گٹے پر سے کاٹ دو ۔ باقی تفاصیل کتب فقہ میں ملیں گی۔ پچھلے رکوع میں ڈکیتی وغیرہ سزا ذکر کی گئی تھی درمیان میں بعض مناسبات کی وجہ سے جن کو ہم بیان کرچکے ہیں مومنین کو چند ضروری نصائح کی گئیں اب پھر سے پچھلے مضمون کی تکمیل کی جاتی ہے۔ یعنی وہاں ڈکیتی کی سزا مذکور ہوئی تھی اس آیت میں چوری کی سزا بتلا دی۔ 4 یعنی جو سزا چور کو دی جارہی ہے وہ مال مسروق کا بدلہ نہیں بلکہ اس کے معل " سرقہ " کی سزا ہے تاکہ اسے اور دوسرے چوروں کو تنبیہ ہوجائے بلاشبہ جہاں کہیں یہ حدود جاری ہوتی ہیں، دو چار ہی کی سزا یابی کے بعد چوری کا دروازہ قطعاً بند ہوجاتا ہے آجکل مدعیان " تہذیب " اس قسم کی حدود کو وحشیانہ سزا سے موسوم کرتے ہیں لیکن چوری کرنا اگر ان صاحبوں کے نزدیک کوئی مہذب فعل نہیں ہے تو یقینا آپ کی مہذب سزا اس غیر مہذب دستبرد کے استیصال میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اگر تھوڑی سی وحشت کا تحمل کرنے سے بہت سے چور مہذب بنائے جاسکتے ہوں تو حاملین تہذیب کو خوش ہونا چاہیے کہ ان کے " تہذیبی مشن " میں اس وحشت سے مدد مل رہی ہے۔ بعض نام نہاد مفسر بھی اس کوشش میں ہیں کہ " قطع ید " (ہاتھ کاٹنے) کی سزا کو چوری کی انتہائی سزا قرار دیکر اس سے ہلکی سزا دہی کا اختیار شریعت حقہ سے حاصل کرلیں مگر مشکل یہ ہے کہ نہ تو چوری کی اس سے ہلکی سزا قرآن کریم میں کہیں موجود ہے اور نہ عہد نبوت یا عہد صحابہ میں اس کی کوئی نظیر پائی گئی۔ کیا کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اتنے طویل عرصہ میں جتنے چور پکڑے گئے ان میں ایک بھی ابتدائی چور نہ تھا جس پر کم از کم بیان جواز ہی کے طور پر " قطع ید " سے ہلکی کوئی ابتدائی سزا جاری کی جاتی۔ کسی ملحد نے پرانے زمانہ میں اس " حد سرقہ " پر یہ بھی شبہ کیا تھا کہ جب شریعت نے ایک ہاتھ کی دیت پانچ سو دینا رکھی ہے تو اتنا قیمتی ہاتھ جس کے کٹنے پر پانچ سو دینار واجب ہوں دس پانچ روپیہ کی چوری میں کس طرح کاٹا جاسکتا ہے۔ ایک عالم نے اس جواب میں کیا جواب فرمایا " انھا لما کانت امینۃ کانت ثمینۃ فلما خانت ھانت " یعنی جو ہاتھ امین تھا وہ قیمتی تھا۔ جب (چوری کر کے) خائن ہوا تو ذلیل ہوا۔ 5 چونکہ غالب ہے اس لئے اسے حق ہے کہ جو چاہے قانون نافذ کر دے کوئی چون و چرا نہیں کرسکتا۔ لیکن چونکہ حکمت والا بھی ہے اس لئے یہ احتمال نہیں کہ محض اپنے اختیار کامل سے لے کر کوئی قانون بےموقع نافذ کرے۔ نیز وہ اپنے ناتواں بندوں کے اموال کی حفاظت کا کوئی انتظام نہ کرسکے، یہ اس کی عزت اور غلبہ کے منافی ہے اور چوروں ڈاکوؤں کو یونہی آزاد چھوڑ دے یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔
Ayah 5:39

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے پیچھے اور اصلاح کی تو اللہ قبول کرتا ہے اس کی توبہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے6

6 یعنی توبہ اگر ٹھیک ٹھیک ہو جس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ چوری کا مال مالک کو واپس کرے اور اگر تلف ہوگیا ہو تو ضمان دے اور ضمان نہ دے سکے تو معاف کرائے۔ اور اپنے فعل پر نادم ہوا اور آئندہ کے لئے اس سے مجتنب رہنے کا عزم رکھے۔ تو اس طرح کی توبہ سے امید ہے کہ حق تعالیٰ اخروی عقوبت جس کے مقابلہ میں دنیاوی سزا کی کچھ حقیقت نہیں اس پر سے اٹھا لے۔
Ayah 5:40

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے واسطے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی عذاب کرے جس کو چاہے اور بخشے جس کو چاہے اور اللہ سب چیز پر قادر ہے7

7 جب حقیقی سلطنت و حکومت اسی کی ہے تو بلاشبہ اسی کو یہ اختیار ہوگا کہ جسے مناسب جانے معاف کر دے اور جسے اپنی حکمت و عدل کے موافق سزا دینا ہے سزا دے اور نہ صرف یہ کہ اسے معاف کرنے اور سزا دینے کے کلی اختیارات حاصل ہیں بلکہ ان اختیارات کے استعمال سے کوئی روکنے والا بھی نہیں کیونکہ ہر چیز پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے رسول غم نہ کر ان کا جو دوڑ کر گرتے ہیں کفر میں8 وہ لوگ جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے منہ سے اور ان کے دل مسلمان نہیں اور وہ جو یہودی ہیں9 جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے وہ جاسوس ہیں دوسری جماعت کے جو تجھ تک نہیں آئے10 بدل ڈالتے ہیں بات کو اس کا ٹھکانا چھوڑ کر1 کہتے ہیں اگر تم کو یہ حکم ملے تو قبول کرلینا اور اگر یہ حکم نہ ملے تو بچتے رہنا2 اور جس کو اللہ نے گمراہ کرنا چاہا سو تو اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتا اللہ کے ہاں3 یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہ چاہا کہ دل پاک کرے ان کے4 ان کو دنیا میں ذلت ہے اور ان کو آخرت میں بڑا عذاب ہے

8 پچھلی آیات میں ڈکیتی اور چوری وغیرہ کی حدود بیان کی گئی تھیں۔ اب بعض ان اقوام کا حال سناتے ہیں جنہوں نے " حدود اللہ " میں تحریف کر کے اپنے کو عذاب عظیم کا مستحق ٹھرایا۔ ان کا مفصل واقعہ بغوی نے یہ لکھا ہے کہ خیبر کے ایک یہودی مرد اور عورت نے جو کنوارے نہ تھے زنا کیا۔ باوجودیکہ تورات میں اس جرم کی سزا " رجم " (سگنسار کرنا) تھی، مگر ان دونوں کی بڑائی مانع تھی کہ یہ سزا جاری کی جائے آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ یہ شخص جو " یثرب " میں ہے (یعنی محمد ﷺ ان کی کتاب میں " زانی " کے لئے " رجم " کا حکم نہیں، کوڑے مارنے کا ہے تو " بنی قریظہ " کے یہود میں سے کچھ آدمی ان کے پاس بھیجو کیونکہ وہ ان کے ہمسایہ ہیں اور ان سے صلح کا معاہدہ بھی کرچکے ہیں وہ ان کا خیال معلوم کرلیں گے چناچہ ایک جماعت اس کام کے لئے روانہ کی گئی کہ نبی کریم ﷺ کا عندیہ معلوم کرلے کہ " زانی محض " کی کیا سزا تجویز کرتے ہیں۔ اگر وہ کوڑے مارنے کا حکم دیں تو ان پر رکھ کر قبول کرلو۔ اور " رجم " کا حکم دیں تو مت مانو۔ ان کے دریافت کرنے پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم میرے فیصلہ پر رضامند ہو گے ؟ انہوں نے اقرار کرلیا۔ خدا کی طرف سے جبرائیل " رجم " کا حکم لے آئے مگر وہ لوگ اپنے اقرار سے پھرگئے آخر حضور ﷺ نے فرمایا کہ فدک کا رہنے والا ابن صور یا تم میں کیسا شخص ہے سب نے کہا کہ آج روئے زمین پر " شرائع موسویہ " کا اس سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔ آپ نے اس کو بلوایا اور نہایت ہی شدید حلف دے کر پوچھا کہ " تورات " میں اس گناہ کی سزا کیا ہے ؟ باوجودیکہ دوسرے یہود اس حکم کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے جس کا پردہ حضرت عبد اللہ بن سلام کے ذریعہ سے فاش ہوچکا تھا۔ تاہم ابن صوریہ نے جو ان کا مسلم معتمد تھا کسی نہ کسی وجہ سے اس کا اقرار کرلیا کہ بیشک تورات میں اس جرم کی سزا رجم ہی ہے۔ بعدہ اس نے سب حقیقت ظاہر کی کہ کس طرح یہود نے رجم کو اڑا کر زنا کی سزا یہ رکھ دی کہ زانی کو کوڑے لگائے جائیں اور کالا منہ کر کے اور گدھے پر الٹا سوار کرا کر گشت کرایا جائے۔ الحاصل حضور پر نور ﷺ نے ان دونوں مرد و عورت پر رجم کی سزا جاری کی اور فرمایا کہ اے اللہ آج میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو دنیا میں زندہ کیا اس کے بعد کہ وہ اسے مردہ کرچکے تھے۔ یہ واقعہ ہے۔ 9 یعنی منافقین اور یہود بنی قریظہ۔ 10 " سمّاعون " کے معنی ہیں بہت زیادہ سننے والے اور کان دھرنے والے، پھر " بہت زیادہ سننا " کبھی تو جاسوسی پر اطلاق کیا جاتا ہے اور کبھی اس کے معنی ہوتے ہیں " بہت زیادہ قبول کرنے والا " جیسے " سَمِعَ اللّٰہُ لِّمَنْ حَمِدَہ،" میں سننے کے معنی قبول کرنے کے ہیں۔ مترجم (رح) نے یہاں پہلے معنی مراد لئے ہیں۔ لیکن ابن جریر وغیرہ محققین نے دوسرے معنی پر حمل کیا ہے " سَمَّاعُوْنَ لِلْکَذِبِ " یعنی جھوٹ اور باطل کو بہت زیادہ ماننے اور قبول کرنے والے " سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ " یعنی دوسری جماعت جس نے ان کو بھیجا اور خود تمہارے پاس نہیں آئی ان کی بات بہت زیادہ ماننے والے۔ 1 یعنی خدا کے احکام میں تحریف کرتے ہیں یا کہیں لگا دیتے ہیں۔ 2 یعنی اگر کوڑے لگانے کا حکم ملے تو قبول کرو ورنہ نہیں۔ گویا خدا کی شریعت کو اپنی ہوا کے تابع رکھنا چاہتے تھے۔ 3 ہدایت و ضلالت، خیر و شر کوئی چیز بھی بدون ارادہ خداوندی کے عالم وجود میں نہیں آسکتی۔ یہ ایک ایسا اصول ہے کہ جس کا انکار کرنا اس کے تسلیم کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ فرض کرو کہ ایک شخص چوری کرنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن خدا کا ارادہ یہ ہے کہ چوری نہ کرے اب وہ شخص اگر اپنے ارادہ میں کامیاب رہا تو لازم آتا ہے کہ خدا اس کے مقابلہ معاذاللہ عاجز ہو اور اگر خدا ہی کا اردہ بندہ کے ارادہ پر غالب رہتا ہے تو لازم آتا ہے کہ دنیا میں کہیں چوری وغیرہ کسی شر کا وجود نہ رہے اور اگر خدا تعالیٰ خیر و شر میں سے کسی کا بھی ارادہ نہیں کرتا تو اس سے معاذاللہ اس کا تعطل یا غفلت و سفاہت لازم آتی ہے۔ تعالیٰ اللّٰہ عن کل الشرور و تقدس۔ ان تمام شقوق پر غور کرنے کے بعد ناچار وہ ہی ماننا پڑے گا کہ کوئی چیز بھی اس کے ارادہ تخلیق کے بدون موجود نہیں ہوسکتی۔ یہ مسئلہ نہایت مہم اور طویل الذیل ہے۔ ہمارا قصد ہے کہ اس قسم کے مسائل کے متعلق مستقل مضمون لکھ کر فوائد کے ساتھ ملحق کردیا جائے۔ واللہ الموافق۔ 4 اول منافقین اور یہود کا طرز عمل بیان فرمایا جس میں یہ چند اعمال بالخصوص ذکر کئے گئے۔ ہمیشہ جھوٹ اور باطل کی طرف جھکنا۔ اہل حق کے خلاف جاسوسی کرنا۔ بد باطن اور شریر جماعتوں کو مدد پہنچانا۔ ہدایت کی باتوں کو تحریف کر کے بدل ڈالنا۔ اپنی خواہش اور مرضی کے خلاف کسی حق بات کو قبول نہ کرنا۔ جس قوم میں یہ خصال پائی جائیں اس کی مثال ایسے مریض کی سمجھو جو نہ دوا استعمال کرے نہ مہلک اور مضر چیزوں سے پرہیز قائم رکھ سکے اطباء اور ڈاکٹروں کا مذاق اڑائے فہمایش کرنے والوں کو گالیاں دے نسخہ پھاڑ کر پھینک دے یا اپنی رائے سے اس کے اجزاء بدل ڈالے اور یہ عہد بھی کرلے کہ جو دوا میری خواہش اور مذاق کے خلاف ہوگی کبھی استعمال نہ کروں گا ان حالات کی موجودگی میں کوئی ڈاکٹر یا طبیب خواہ اس کا باپ ہی کیوں نہ ہو، اگر معالجہ سے دست بردار ہو کر یہ ہی ارادہ کرلے کہ ایسے مریض کو اب اس کی بےاعتدالیوں، غلط کاریوں، ضد اور ہٹ کا خمیازہ بھگتنے دو تو کیا یہ طبیب کی بےرحمی یا بےاعتنائی کا ثبوت ہوگا یا خود مریض کی خود کشی سمجھی جائے گی۔ اب اگر مریض اس بیماری سے ہلاک ہوگیا تو طبیب کو مورد الزام نہیں ٹھرا سکتے کہ اس نے علاج نہ کیا اور تندرست کرنا نہ چاہا۔ بلکہ بیمار خود ملزم ہے کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے کو تباہ کیا اور طبیب کو موقع نہ دیا کہ وہ اس کی صحت واپس لانے کی کوشش کرتا۔ ٹھیک اسی طرح یہاں یہود کی شرارت ہوا پرستی، ضد اور ہٹ دھرمی کو بیان فرما کر جو یہ لفظ فرمائے وَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ (جس کو اللہ نے گمراہ کرنا چاہا) اور اولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَمْ يُرِدِ اللّٰهُ اَنْ يُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ (یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے نہ چاہا کہ ان کے دلوں کو پاک کرے) اس کا یہ ہی مطلب ہے کہ خدا نے ان کی سوء استعداد اور بدکاریوں کی وجہ سے اپنی نظر لطف و عنایت ان پر سے اٹھا لی۔ جس کے بعد ان کے راہ پر آنے اور پاکی قبول کرنے کی کوئی توقع نہیں رہی ہے۔ آپ ان کے غم میں اپنے کو نہ گھلائیں لقولہ تعالیٰ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ الخ باقی یہ شبہ کہ خدا تو اس پر بھی قادر تھا کہ ان کی سب شرارتوں اور غلط کاریوں کو جبراً روک دیتا اور مجبور کردیتا کہ وہ کوئی ضد اور ہٹ کر ہی نہ سکیں۔ تو بیشک میں تسلیم کرتا ہوں کہ خدا کی قدرت کے سامنے یہ چیز کچھ مشکل نہ تھی وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا (یونس، رکوع 10) لیکن اس دنیا کا سارا نظام ہی ایسا رکھا گیا ہے کہ بندوں کو خیر و شر کے اکتساب میں مجبور محض نہ بنایا جائے اگر صرف خیر کے اختیار پر سب کو مجبور کردیا جاتا تو تخلیق عالم کی حکمت و مصلحت پوری نہ ہوتی اور حق تعالیٰ کی بہت سی صفات ایسی رہ جاتیں کہ ان کے ظہور کے لئے کوئی محل نہ ملتا۔ مثلاً عفوٌ غَفُورٌ، حَلِیْمٌ ' منتقم، ذوالبطش الشدید، قائم بالقسط، مالک یوم الدین وغیرہ حالانکہ عالم کے پیدا کرنے سے غرض ہی یہ ہے کہ اس کی تمامی صفات کمالیہ کا مظاہرہ ہو، کوئی مذہب یا کوئی انسان جو خدا کو فاعل مختار مانتا ہے انجام کار اس کے سوا کوئی دوسری غرض نہیں بتلا سکا۔ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ( سورة ملک، رکوع 1) اس سے زائد تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں بلکہ اس قدر بھی ہمارے موضوع سے زائد ہی ہے۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

جاسوسی کرنے والے جھوٹ بولنے کے لیے اور بڑے حرام کھانے والے سو اگر آویں وہ تیرے پاس تو فیصلہ کر دے ان میں یا منہ پھیر لے ان سے5 اور اگر تو منہ پھیر لے گا ان سے تو وہ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور اگر تو فیصلہ کرے تو فیصلہ کر ان میں انصاف سے بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو6

5 ابن عباس، مجاہد اور عکرمہ وغیرہ اکابر سلف سے منقول ہے کہ حضور ﷺ کو یہ اختیار ابتداء میں تھا۔ آخر میں جب اسلام کا تسلط اور نفوذ کامل ہوگیا تو ارشاد ہوا (وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ) 5 ۔ المائدہ :49) یعنی ان کے نزاعات کا فیصلہ قانون شریعت کے موافق کردیا کرو۔ مطلب یہ کہ اعراض اور کنارہ کشی کی ضرورت نہیں۔ 6 قرآن کریم نے بار بار اس پر زور دیا ہے کہ کوئی شخص کتنا ہی شریر ظالم اور بدمعاش کیوں نہ ہو مگر اس کے حق میں بھی تمہارا دامن عدالت ناانصافی کے چھینٹوں سے داغدار نہ ہونے پائے۔ یہ ہی وہ خصلت ہے جس کے سہارے زمین و آسمان کا نظام قائم رہ سکتا ہے۔
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور وہ تجھ کو کس طرح منصف بنائیں گے اور ان کے پاس تو تورات ہے جس میں حکم ہے اللہ کا پھر اس کے پیچھے پھرے جاتے ہیں اور وہ ہرگز ماننے والے نہیں ہیں7

7 یعنی تعجب کی بات ہے کہ آپ کو حکم ٹھہراتے ہیں اور جس تورات کو کتاب آسمانی مانتے ہیں اس کے فیصلہ پر بھی راضی نہیں تو حقیقت میں ان کا ایمان کسی پر بھی نہیں۔ نہ قرآن پر نہ تورات پر۔ اگلے رکوع میں تورات و انجیل کی مدح فرما کر متنبہ کیا ہے کہ کیسی عمدہ کتاب اور کیسے علوم ہدایت تھے جن کی ان نالائقوں نے بےقدری کی اور انہیں ایسا ضائع کیا کہ آج اصل چیز کا پتہ لگانا بھی مشکل ہوگیا۔ آخر حق تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے بالکل آخر میں وہ کتاب بھیجی جو ان سب پہلی کتابوں کے مطالب اصلیہ کی محافظ اور مصدق ہے۔ اور جس کی ابدی حفاظت کا انتظام نازل کرنے والے نے خود اپنے ذمہ لیا ہے فللّٰہ الحمد والمنہ۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

ہم نے نازل کی تورات کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے8 اس پر حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے اللہ کے یہود کو اور حکم کرتے تھے درویش اور عالم1 اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے2 سو تم نہ ڈرو لوگوں سے اور مجھ سے ڈرو اور مت خریدو میری آیتوں پر مول تھوڑا3 اور جو کوئی حکم نہ کرے اس کے موافق جو کہ اللہ نے اتارا سو وہی لوگ ہیں کافر4

8 یعنی وصول الی اللہ کے طالبین کے لئے ہدایت کا اور شبہات و مشکلات کی ظلمت میں پھنس جانے والوں کے لئے روشنی کا کام دیتی ہے۔ 1 یعنی تورات میں ایسا عظیم الشان دستور العمل اور عین ہدایت تھا کہ کثیر التعداد پیغمبر اور اہل اللہ اور علماء برابر اسی کے موافق حکم دیتے اور نزاعات کے فیصلے کرتے رہے۔ 2 یعنی تورات کی حفاظت کا ان کو ذمہ دار بنایا گیا تھا۔ قرآن کریم کی طرح " انا لہ لحافظون " کا وعدہ نہیں ہوا۔ تو جب تک علماء واحبار نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا، " تورات " محفوظ و معمول رہی۔ آخر دنیا پرست علمائے سوء کے ہاتھوں سے تحریف ہو کر ضائع ہوئی۔ 3 یعنی لوگوں کے خوف یا دنیاوی طمع کی وجہ سے آسمانی کتاب میں تبدیل و تحریف مت کرو۔ اس کے احکام و اخبار کو مت چھپاؤ اور خدا کی تعذیب و انتقام سے ڈرتے رہو۔ تورات کی عظمت شان اور مقبولیت جتلانے کے بعد یہ خطاب یا تو ان رؤسا و علمائے یہود کو کیا گیا ہے جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے۔ کیونکہ انہوں نے حکم " رجم " سے انکار کردیا تھا اور نبی کریم ﷺ کے متعلق پیشین گوئیوں کو چھپاتے اور ان کے معنی میں عجیب طرح کے ہیر پھیر کرتے تھے اور یا درمیان میں امت مسلمہ کو نصیحت ہے کہ تم دوسری قوموں کی طرح کسی سے ڈر کر یا حب مال و جاہ میں پھنس کر اپنی آسمانی کتاب کو ضائع مت کرنا۔ چناچہ اس امت نے بحمد اللہ ایک حرف بھی اپنی کتاب کا کم نہیں کیا اور آج تک اس کو مبطلین کی تغییر و تحریف سے محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے اور ہمیشہ رہیں گے۔ 4 " مآ انزل اللّٰہ " کے موافق حکم نہ کرنے سے غالباً یہ مراد ہے کہ منصوص حکم کے وجود ہی سے انکار کر دے اور اس کی جگہ دوسرے احکام اپنی رائے اور خواہش سے تصنیف کرلے۔ جیسا کہ یہود نے حکم " رجم " کے متعلق کیا تھا۔ تو ایسے لوگوں کے کافر ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے اور اگر مراد یہ ہو کہ " مآانزل اللّٰہ " کو عقیدۃ ثابت مان کر پھر فیصلہ عملاً اس کے خلاف کرے تو کافر سے مراد عملی کافر ہوگا۔ یعنی اس کی عملی حالت کافروں جیسی ہے۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور لکھ دیا ہم نے ان پر اس کتاب میں کہ جی کے بدلے جی اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کے بدلہ ان کے برابر5 پھر جس نے معاف کردیا تو وہ گناہ سے پاک ہوگیا6 اور جو کوئی حکم نہ کرے اس کے موافق جو کہ اللہ نے اتارا سو وہی لوگ ہیں ظالم7

5 قصاص کا یہ حکم شریعت موسوی میں تھا۔ اور بہت سے علمائے اصول نے تصریح کی ہے کہ جو پچھلی شرائع قرآن کریم یا ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) نے نقل فرمائیں بشرطیکہ ان کی نسبت کسی جگہ حضور نے کوئی انکار یا ترمیم نہ فرمائی ہو تو وہ اس امت کے حق میں بھی تسلیم کی جائیں گی۔ گویا بدون رد و انکار کے ان کو سنانا تلقی بالقبول کی دلیل ہے۔ 6 یعنی جروح کے قصاص کو معاف کردینا مجروح کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ جیسا کہ بعض احادیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت کو جارح کے حق میں رکھا ہے یعنی اگر مجروح نے جارح کو معافی دے دی تو اس کا گناہ معاف ہوجائے گا والراجع ھو الاول۔ 8 یہود نے حکم قصاص کے خلاف بھی تعامل قائم کرلیا تھا۔ ان میں " بنی نضیر " جو زیادہ معزز اور قوی سمجھے جاتے تھے، " بنو قریظہ " سے پوری دیت وصول کرتے اور جب ان کو دینے کی نوبت آتی تو نصف دیت ادا کرتے۔ " بنی قریظہ نے اپنی کمزوری کی وجہ سے ان سے اس طرح کا معاہدہ کر رکھا تھا اتفاقاً بنی قریظہ کے ہاتھ سے " بنی نظیر " کا آدمی مارا گیا۔ انہوں نے دستور سابق کے موافق ان سے پوری دیت طلب کی بنی قریظہ نے جواب دیا کہ جاؤ وہ زمانہ گیا جب ہم نے تمہاری قوت سے مجبور ہو کر یہ ظلم منظور کرلیا تھا۔ اب محمد ﷺ کی موجودگی میں محال ہے کہ کوئی قوی ضعیف کو کچل سکے یا دبا سکے۔ کیونکہ سب کو یقین تھا کہ آپ ہر ضعیف و قوی کے ساتھ یکساں انصاف کرتے ہیں اوراقویاء کے مظالم کے مقابلہ میں ضعفاء کی دستگیری فرماتے ہیں۔ انجام کار یہ معاملہ حضور ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا اور بنی قریظہ نے جو خیال اس پیکر عدل و انصاف کی نسبت ظاہر کیا تھا بلا کم وکاست صحیح نکلا۔ حکم قصاص کے بعد وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ الخ فرمانے سے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور چونکہ " رجم " کی طرح قصاص کے حکم شرعی ہونے سے صریحاً انکار نہیں کیا تھا بلکہ آپس کی مفاہمت سے خلاف حکم شرعی ایک دستور قائم کرلیا تھا تو قانون عدل کی یہ اعتقادی نہیں صرف عملی مخالفت ہوئی۔ اسی لئے یہاں کافروں کی جگہ ظٰلمون فرمایا۔ یعنی یہ ظلم صریح ہے کہ قوی سے کم اور ضعیف سے زیادہ دیت لی جائے۔
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور پیچھے بھیجا ہم نے انہی کے قدموں پر عیسیٰ مریم کے بیٹے کو8 تصدیق کرنے والا تورات کی جو آگے سے تھی اور اس کو دی ہم نے انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرتی تھی اپنے سے اگلی کتاب تورات کی اور راہ بتلانے والی اور نصیحت تھی ڈرنے والوں کو9

8 یعنی ان کے نقش قدم پر یہ بھی چلتے تھے۔ 9 یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود اپنی زبان سے تورات کی تصدیق فرماتے تھے اور جو کتاب (انجیل) ان کو دی گئی تھی وہ بھی تورات کی تصدیق کرتی تھی اور انجیل کی نوعیت بھی نور و ہدایت ہونے میں تورات کی طرح تھی۔ احکام و شرائع کے اعتبار سے دونوں میں بہت ہی قلیل فرق تھا۔ جیسا کہ (وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ) 3 ۔ آل عمران :50) میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اور یہ فرق تورات کی تصدیق کے منافی نہیں جیسے آج ہم قرآن کو ماننے اور صرف اسی کے احکام کو تسلیم کرنے کے باوجود بحمد اللہ تمام کتب سماویہ کے من عند اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور چاہیے کہ حکم کریں انجیل والے موافق اس کے جو کہ اتارا اللہ نے اس میں اور جو کوئی حکم نہ کرے موافق اس کے جو کہ اتارا اللہ نے سو وہی لوگ ہیں نافرمان1

1 یا تو عیسائی جو نزول انجیل کے وقت موجود تھے ان کو یہ حکم دیا گیا تھا اسی کو یہاں نقل فرما رہے ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت جو عیسائی مخاطب تھے ان سے کہا گیا ہو کہ جو کچھ انجیل میں اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اس کے موافق ٹھیک ٹھیک حکم کریں۔ یعنی ان پیشین گوئیوں کو چھپانے یا لغو اور مہمل تاویلات سے بدلنے کی کوشش نہ کریں جو انجیل میں پیغمبر آخرالزمان اور مقدس " فارقلیط " کی نسبت حضرت مسیح کی زبانی کی گئی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی سخت نافرمانی ہوگی کہ جس ہادی جلیل اور مصلح عظیم کے متعلق حضرت مسیح یہ فرمائیں کہ " جب وہ روح حق آئے گی تو تمہیں سچائی کی ساری راہیں بتائے گی۔ اسی کی تکذیب پر کمر بستہ ہو کر اپنے لئے ابدی خسران قبول کرو۔ کیا مقدس مسیح اور اس کے پروردگار کی فرمانبرداری کے یہ ہی معنی ہیں۔ ؟