5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور تجھ پر اتاری ہم نے کتاب سچی تصدیق کرنے والی سابقہ کتابوں کی اور ان کے مضامین پر نگہبان2 سو تو حکم کر ان میں موافق اس کے جو کہ اتارا اللہ نے3 اور ان کی خوشی پر مت چل چھوڑ کر سیدھا راستہ جو تیرے پاس آیا4 ہر ایک کو تم میں سے دیا ہم نے ایک دستور اور راہ5 اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک دین پر کردیتا لیکن تم کو آزمانا چاہتا ہے اپنے دیے ہوئے حکموں میں6 سو تم دوڑ کرلو خوبیاں7 اللہ کے پاس تم سب کو پہنچنا ہے پھر جتاوے گا جس بات میں تم کو اختلاف تھا8

2 " مہیمن " کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں۔ امین، غالب، حاکم، محافظ ونگہبان اور ہر معنی کے اعتبار سے قرآن کریم کا کتب سابقہ کے لئے " مہیمن " ہونا صحیح ہے۔ خدا کی جو امانت تورات و انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں ودیعت کی گئی تھی وہ مع شے زائد قرآن میں محفوظ ہے۔ جس میں کوئی خیانت نہیں ہوئی اور جو بعض فروعی چیزیں ان کتابوں میں اس زمانہ یا ان مخصوص مخاطبین کے حسب حال تھیں ان کو قرآن نے منسوخ کردیا اور جو حقائق ناتمام تھیں ان کی پوری تکمیل فرما دی ہے اور جو حصہ اس وقت کے اعتبار سے غیر مبہم تھا اسے بالکل نظر انداز کردیا ہے۔ 3 یہود میں باہم کچھ نزاع ہوگیا تھا۔ ایک فریق جس میں ان کے بڑے بڑے مشہور علماء اور مقتدا شامل تھے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فصل نزاع کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عموماً قوم یہود ہمارے اختیار اور اقتدار میں ہے اگر آپ فیصلہ ہمارے موافق کردیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے اور ہمارے اسلام لانے سے جمہور یہود اسلام قبول کرلیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے اس رشوتی اسلام کو منظور نہ کیا اور ان کی خواہشات کی پیروی سے صاف انکار فرما دیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر) 4 گذشتہ فائدہ میں ان آیات کا جو شان نزول ہم لکھ چکے ہیں اس سے صاف عیاں ہے کہ آیت کا نزول بعد اس کے ہوا کہ آپ ان کی خوشی اور خواہش پر چلنے سے انکار فرما چکے تھے۔ تو یہ آیات آپ کی استقامت کی تصویب اور آئندہ بھی ایسی ہی شان عصمت پر ثابت قدم رہنے کی تاکید کے لئے نازل ہوئیں۔ جو لوگ اس قسم کی آیات کو نبی (علیہ السلام) کی شان عصمت کے خلاف تصور کرتے ہیں وہ نہایت ہی قاصر الفہم ہیں۔ اول تو کسی چیز سے منع کرنا اس کی دلیل نہیں کہ جس کو منع کیا جا رہا ہے وہ اس ممنوع چیز کا ارتکاب کرنا چاہتا تھا۔ دوسرے انبیاء (علیہ السلام) کی " معصومیت " کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی معصیت ان سے صادر نہیں ہوسکتی۔ یعنی کسی کام کو یہ سمجھتے ہوئے کہ خدا کو ناپسند ہے ہرگز اختیار نہیں کرسکتے۔ اور اگر اتفاقاً کسی وقت بھول چوک یا رائے واجتہاد کی غلطی سے راجح و افضل کی جگہ مرجوح و مفضول کو اختیار کرلیں یا غیر مرضی کو مرضی سمجھ کر عمل کر گزریں جس کو اصطلاح میں " زَلـۃ " کہتے ہیں۔ تو اس طرح کے واقعات مسئلہ عصمت کے منافی نہیں۔ جیسا کہ حضرت آدم اور بعض دیگر انبیاء (علیہ السلام) کے واقعات شاہد ہیں۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد (وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ ) 5 ۔ المائدہ :48) اور (وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ ) 5 ۔ المائدہ :49) اور اسی طرح کی دوسری آیات کا مطلب سمجھنے میں کوئی خلجان نہیں رہتا۔ کیونکہ ان میں صرف اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ آپ ان ملعونوں کی تلمیع اور سخن سازی سے قطعًا متاثر نہ ہوں اور کوئی ایسی رائے قائم نہ فرما لیں جس میں بلا قصد ان کی خواہشات کے اتباع کی صورت پیدا ہوجائے۔ مثلاً اسی قصہ میں جو ان آیات کی شان نزول ہے یہود نے کیسی عیارانہ اور پر فریب صورت حضور ﷺ کے سامنے پیش کی تھی کہ اگر آپ ان کے حسب منشاء فیصلہ کردیں تو سب یہود مسلمان ہوجائیں گے۔ وہ جانتے تھے کہ اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز آپ کے نزدیک محبوب اور عزیز نہیں۔ ایسے موقع پر امکان تھا کہ بڑے سے بڑا مستقیم انسان بھی رائے قائم کرلے کہ ان کی ایک چھوٹی سی خواہش کے قبول کرلینے میں جب کہ اتنی عظیم الشان دینی منفعت کی توقع ہو، کیا مضائقہ ہے۔ اس طرح کے خطرناک اور مزلۃ الاقدام موقع پر قرآن کریم پیغمبر ﷺ کو متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو بھول کر بھی کوئی ایسی رائے قائم نہ کرلیجئے جو آپ کی شان رفیع کے مناسب نہ ہو۔ حضور کا کمال تقویٰ اور انتہائی فہم و تدبر تو نزول آیت سے پہلے ہی ان ملاعین کے مکر و فریب کو رد کرچکا تھا۔ لیکن فرض کیجئے اگر ایسا نہ ہوچکا ہوتا تب بھی آیت کا مضمون جیسا کہ ہم تقریر کرچکے ہیں حضور کی شان عصمت کے اصل مخالف نہیں۔ 5 یعنی خدا نے ہر امت کا آئین اور طریق کار اس کے احوال و استعداد کے مناسب جداگانہ رکھا اور باوجودیکہ تمام انبیاء اور ملل سماویہ اصول دین اور مقاصد کلیہ میں جن پر نجات ابدی کا مدار ہے، باہم متحد اور ایک دوسرے کے مصدق رہے ہیں۔ پھر بھی جزئیات اور فروع کے لحاظ سے ہر امت کو ان کے ماحول اور مخصوص استعداد کے موافق خاص خاص احکام و ہدایات دی گئیں۔ اس آیت میں اسی فروعی اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں جو سب انبیاء (علیہم السلام) کو آپس میں علاتی بھائی فرمایا ہے جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں۔ اس کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ اصول سب کے ایک ہیں اور فروع میں اختلاف ہے۔ اور چونکہ بچہ کی تولید میں باپ فاعل و مفیض اور ماں قابل اور محل افاضہ بنتی ہے، اس سے نہایت لطیف اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ شرائع سماویہ کا اختلاف مخاطبین کی قابلیت و استعداد پر مبنی ہے، ورنہ مبداء فیاض میں کوئی اختلاف و تعدد نہیں۔ سب شرائع و ادیان سماویہ کا سر چشمہ ایک ہی ذات اور اس کا علم ازلی ہے۔ 6 یعنی کون تم میں سے خدا کی مالکیت مطلقہ، علم محیط اور حکمت بالغہ پر یقین کر کے ہر نئے حکم کو حق و صواب سمجھ کر بطوع ورغبت قبول کرتا ہے اور ایک وفادار غلام کی طرح جدید حکم کے سامنے گردن جھکا دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔ 7 یعنی شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر خواہ مخواہ کی قیل و قال اور کج بحثیوں میں پڑ کر وقت نہ گنواؤ۔ وصول الی اللہ کا ارادہ کرنے والوں کو عملی زندگی میں اپنی دوڑ دھوپ رکھنی چاہیے اور جو عقائد، اخلاق اور اعمال کی خوبیاں شریعت سماویہ پیش کر رہی ہے ان کے لینے میں چستی دکھلانی چاہئے۔ 8 تو انجام کا خیال کر کے حسنات و خیرات کی تحصیل میں مستعدی دکھلاؤ۔ اختلافات کی سب حقیقت وہاں جا کر کھل جائے گی۔
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور یہ فرمایا کہ حکم کر ان میں موافق اس کے جو کہ اتارا اللہ نے اور مت چل ان کی خوشی پر اور بچتا رہ ان سے کہ تجھ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے اتارا تجھ پر9 پھر اگر نہ مانیں تو جان لے کہ اللہ نے یہی چاہا کہ پہنچاوے ان کو کچھ سزا ان کے گناہوں کی10 اور لوگوں میں بہت ہیں نافرمان11

9 یعنی آپس کے اختلافات میں خواہ دنیا کیسی ہی دست و گریباں رہے آپ کو یہ ہی حکم ہے کہ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ کے موافق حکم دیتے رہیں۔ اور کسی کے کہنے سننے کی کوئی پروا نہ کریں۔ 10 پوری سزا تو قیامت میں ملے گی۔ لیکن کچھ تھوڑی سی سزا دے کر یہاں بھی مجرم کو یا دوسرے دیکھنے والوں کو ایک گو نہ تنبیہ کردی جاتی ہے۔ 11 یعنی آپ ان لوگوں کے اعراض و انحراف سے زیادہ ملول نہ ہوں دنیا میں فرمانبردار بندے ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :103)
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

اب کیا حکم چاہتے ہیں کفر کے وقت کا اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا یقین کرنے والوں کے واسطے1

1 یعنی جو لوگ خدا کی شہنشاہیت، رحمت کاملہ اور علم محیط پر یقین کامل رکھتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا میں کسی کا حکم خدا کے حکم کے سامنے لائق التفات نہیں ہوسکتا۔ پھر کیا یہ لوگ احکام الٰہیہ کی روشنی آجانے کے بعد ظنون وا ہواء اور کفرو جاہلیت کے اندھیرے ہی کی طرف جانا پسند کرتے ہیں۔
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو مت بناؤ یہود اور نصاریٰ کو دوست2 وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے3 اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں ہے4 اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو5

2 " اولیاء " ولی کی جمع ہے " ولی " دوست کو بھی کہتے ہیں، قریب کو بھی، ناصر اور مددگار کو بھی۔ غرض یہ ہے کہ " یہود و نصاریٰ " بلکہ تمام کفار سے جیسا کہ سورة " نسآء " میں تصریح کی گئی ہے مسلمان دوستانہ تعلقات قائم نہ کریں۔ اس موقع پر یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ موالات، مروت و حسن سلوک، مصالحت، روا داری اور عدل و انصاف یہ سب چیزیں الگ الگ ہیں۔ اہل اسلام اگر مصلحت سمجھیں تو ہر کافر سے صلح اور عہد و پیمان مشروع طریقہ پر کرسکتے ہیں۔ (وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ) 8 ۔ الانفال :61) عدل وانصاف کا حکم جیسا کہ گذشتہ آیات سے معلوم ہوچکا، مسلم و کافر ہر فرد بشر کے حق میں ہے۔ " مروت " اور " حسن سلوک " یا " روا داری " کا برتاؤ ان کفار کے ساتھ ہوسکتا ہے جو جماعت اسلام کے مقابلہ میں دشمنی اور عناد کا مظاہرہ نہ کریں۔ جیسا کہ سورة " ممتحنہ " میں تصریح ہے۔ باقی " موالات " یعنی دوستانہ اعتماد اور برادرانہ مناصرت و معاونت، تو کسی مسلمان کا حق نہیں کہ یہ تعلق کسی غیر مسلم سے قائم کرے۔ البتہ صوری موالات جو ( اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ) 3 ۔ آل عمران :28) کے تحت میں داخل ہو، اور عام تعاون جس کا اسلام اور مسلمانوں کی پوزیشن پر کوئی برا اثر نہ پڑے اس کی اجازت ہے۔ بعض خلفائے راشدین سے اس بارے میں جو غیر معمولی تشدید و تضییق منقول ہے اس کو محض سد ذرائع اور مزید ا حتیاط پر مبنی سمجھنا چاہئے۔ 3 یعنی مذہبی فرقہ بندی اور اندرونی بغض و عداوت کے باوجود باہم ایک دوسرے سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ یہودی یہودی کا، نصرانی نصرانی کا دوست بن سکتا ہے اور جماعت اسلام کے مقابلہ میں سب کفار ایک دوسرے کے دوست اور معاون بن جاتے ہیں۔ اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وّاَحِدَۃٌ 4 یعنی ان ہی کے زمرہ میں شامل ہے۔ یہ آیتیں رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے باب میں نازل ہوئی تھیں۔ یہود سے اس کا بہت دوستانہ تھا۔ اس کا گمان یہ تھا کہ اگر مسلمانوں پر کوئی افتاد پڑی اور پیغمبر (علیہ السلام) کی جماعت مغلوب ہوگئی تو یہود سے ہماری یہ دوستی کام آئے گی۔ اسی واقعہ کی طرف اگلی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ توفی الحقیقت یہود کے ساتھ منافقین کی موالات کا اصلی منشاء یہ تھا کہ یہود جماعت اسلام ہے اس کے کفر میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ منافقین میں کچھ لوگ اور بھی تھے جنہوں نے جنگ احد میں لڑائی کا پانسا بدلا ہوا دیکھ کر کہنا شروع کیا تھا کہ ہم تو اب فلاں یہودی یا فلاں نصرانی سے دوستانہ گانٹھیں گے اور ضرورت پیش آنے پر ان ہی کا مذہب اختیار کرلیں گے۔ اس قماش کے لوگوں کی نسبت بھی (وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ) 5 ۔ المائدہ :51) کا ظاہری مدلول اعلانیہ صادق ہے۔ رہے وہ مسلمان جو اس قسم کی نیت اور منشاء سے خالی ہو کر یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کریں، چونکہ ان کی نسبت بھی قوی خطرہ رہتا ہے کہ وہ کفار کی حد سے زیادہ ہم نشینی اور اختلاط سے متاثر ہو کر رفتہ رفتہ ان ہی کا مذہب اختیار کرلیں۔ یا کم از کم اور رسوم شعائر کفر اور رسوم شرکیہ سے کارہ اور نفور نہ رہیں۔ اس اعتبار سے فانہ منھم کا اطلاق ان کے حق میں بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ حدیث المرامع من احب نے اس مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے۔ 5 یعنی جو لوگ کہ دشمنان اسلام سے موالات کر کے خود اپنی جان پر اور مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں اور جماعت اسلام کے مغلوب و مقہور ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، ایسی بدبخت، معاند اور دغا باز قوم کی نسبت یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ بھی راہ ہدایت پر آئے گی۔
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

اب تو دیکھے گا ان کو جن کے دل میں بیماری ہے دوڑ کر ملتے ہیں ان میں کہتے ہیں کہ ہم کو ڈر ہے کہ نہ آجائے ہم پر گردش زمانہ کی6 سو قریب ہے کہ اللہ جلد ظاہر فرما دے فتح یا کوئی حکم اپنے پاس سے تو لگیں اپنے جی کی چھپی بات پر پچھتانے7

6 یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں شک اور نفاق کی بیماری ہے جن کو خدا کے وعدوں پر اعتماد اور مسلمانوں کی حقانیت پر یقین نہیں، اسی لئے دوڑ دوڑ کر کافروں کی آغوش میں پناہ لینا چاہتے ہیں۔ تاکہ ان کے موہوم غلبہ کے وقت ثمرات فتح سے متمتع ہو سکیں۔ اور ان کے زعم میں جو گردشیں اور آفات جماعت اسلام پر آنے والی تھیں ان سے محفوظ رہیں۔ (نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ) 5 ۔ المائدہ :52) کے یہ ہی معنی ان کے دلوں میں مکنون تھے۔ لیکن یہ ہی الفاظ (نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ) 5 ۔ المائدہ :52) جب پیغمبر ﷺ اور مخلص مسلمانوں کے سامنے یہود سے دوستانہ رکھنے کی معذرت میں کہتے تھے تو گردش زمانہ کا یہ مطلب ظاہر کرتے کہ یہود ہمارے ساہو کار ہیں ہم ان سے قرض و دام لے لیتے ہیں۔ اگر کوئی مصیبت قحط وغیرہ کی پڑی تو وہ ہمارے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے آڑے وقت میں کام آجائیں گے ان ہی خیالات کا جواب آگے دیا گیا ہے۔ 7 یعنی وہ وقت نزدیک ہے کہ حق تعالیٰ اپنے نبی (علیہ السلام) کو فیصلہ کن فتوحات اور غلبہ عطا فرمائے اور مکہ معظمہ میں بھی جو تمام عرب کا مسلمہ مرکز تھا حضور ﷺ کا فاتحانہ داخل کرے یا اس کے ماسوا اپنی قدرت اور حکم سے کچھ اور امور بروئے کار لائے جنہیں دیکھ کر ان منافقین کی ساری باطل توقعات کا خاتمہ ہو اور انہیں منکشف ہوجائے کہ دشمنان اسلام کی موالات کا نتیجہ دنیاوی ذلت و رسوائی اور اخروی عذاب الیم کے سوا کچھ نہیں۔ جب فضیحت و خسران کے یہ نتائج سامنے آجائیں گے اس وقت بجز پچھتانے اور کف افسوس ملنے کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ الاٰن قد ندمت و ما ینفع الندم چناچہ ایسا ہی ہوا اسلام کے عام غلبہ اور فتح مکہ وغیرہ کو دیکھ کر تمام اعدائے اسلام کے حوصلے پست ہو لئے بہت سے یہود مارے گئے، بہت سے جلا وطن ہوئے۔ منافقین کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔ مسلمانوں کے سامنے صریح طور پر جھوٹے ثابت ہوئے۔ موالات یہود میں جو کوششیں کی تھیں وہ اکارت گئیں اور خسران دنیاوی اور ہلاکت ابدی کا طوق گلے میں پڑا۔ اگلی آیت میں اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 5:53–54

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور کہتے ہیں مسلمان کیا یہ وہی لوگ ہیں جو قسمیں کھاتے تھے اللہ کی تاکید سے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں برباد گئے ان کے عمل پھر رہ گئے نقصان میں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو جو کوئی تم میں پھرے گا اپنے دین سے تو اللہ عنقریب لاوے گا ایسی قوم کو کہ اللہ ان کو چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتے ہیں نرم دل ہیں مسلمانوں پر زبردست ہیں کافروں پر لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور ڈرتے نہیں کسی کے الزام سے1 یہ فضل ہے اللہ کا دے گا جس کو چاہے اور اللہ کشایش والا ہے خبردار2

1 اس آیت میں اسلام کی ابدی بقا اور حفاظت کے متعلق عظیم الشان پیشین گوئی کی گئی ہے پچھلی آیات میں کفار کے موالات سے منع کیا گیا تھا۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص یا قوم موالات کفار کی بدولت صریحاً اسلام سے پھر جائے۔ جیسا کہ (وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ) 5 ۔ المائدہ :51) میں تنبیہ کی گئی ہے۔ قرآن کریم نے نہایت قوت اور صفائی سے آگاہ کردیا کہ ایسے لوگ اسلام سے پھر کر کچھ اپنا ہی نقصان کریں گے، اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے حق تعالیٰ مرتدین کے بدلے میں یا ان کے مقابلہ پر ایسی قوم لے آئے گا جن کو خدا کا عشق ہو اور خدا ان سے محبت کرے وہ مسلمانوں پر شفیق و مہربان اور دشمنان اسلام کے مقابلہ میں غالب اور زبردست ہوں گے یہ پیشین گوئی بحول اللہ وقوتہ ہر قرن میں پوری ہوتی رہی ارتداد کا فتنہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد صدیق اکبر کے عہد میں پھیلا۔ کئی طرح کے مرتدین اسلام کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے۔ مگر صدیق اکبر کی ایمانی جرات اور اعلیٰ تدبر اور مخلص مسلمانوں کی سر فروشانہ اور عاشقانہ خدمات اسلام نے اس آگ کو بجھایا اور سارے عرب کو متحد کر کے از سر نو اخلاص و ایمان کے راستہ پر گامزن کردیا۔ آج بھی ہم مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ جب کبھی چند جاہل اور طامع افراد اسلام کے حلقہ سے نکلنے لگتے ہیں تو ان سے زیادہ اور ان سے بہتر تعلیم یافتہ اور محقق غیر مسلموں کو اسلام فطری کشش سے اپنی طرف جذب کرلیتا ہے اور مرتدین کی سرکوبی کے لئے خدا ایسے وفادار اور جاں نثار مسلمانوں کو کھڑا کردیتا ہے جنہیں خدا کے راستہ میں کسی کی ملامت اور طعن وتشنیع کی پروا نہیں ہوتی۔ 2 انسان کی بڑی سعادت اور اس پر خدا کا بڑا فضل یہ ہے کہ وہ فتنہ کے وقت خود جادہ حق پر ثابت قدم رہ کر دوسروں کو ہلاکت سے بچانے کی فکر کرے۔ خدا جن بندوں کو چاہے اس سعادت کبریٰ اور فضل عظیم سے حصہ وافر عطا فرماتا ہے۔ اس کا فضل غیر محدود ہے۔ اور وہی خوب جانتا ہے کہ کونسا بندہ اس کا اہل اور مستحق ہے۔
Ayah 5:55

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارا رفیق تو وہی اللہ ہے اور اس کا رسول ﷺ اور جو ایمان والے ہیں جو کہ قائم ہیں نماز پر اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ عاجزی کرنے والے ہیں3

3 پچھلی آیتوں میں یہود نصاریٰ کی موالات اور رفاقت کن سے ہونے چاہئیں یہ بتایا۔ اب اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ ان کا رفیق اصلی خدا اور پیغمبر (علیہ السلام) اور مخلص مسلمانوں کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 5:56

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو کوئی دوست رکھے اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو اور ایمان والوں کو تو اللہ کی جماعت وہی سب پر غالب ہے4

4 کفار کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت عدد کو دیکھتے ہوئے ممکن تھا کہ کوئی ضعیف القلب اور ظاہر بین مسلمان اس تردد میں پڑجاتا کہ تمام دنیا سے موالات منقطع کرنے اور چند مسلمانوں کی رفاقت پر اکتفا کرلینے کے بعد غالب ہونا تو درکنار، کفار کے حملوں سے اپنی زندگی اور بقاء کی حفاظت بھی دشوار ہے۔ ایسے لوگوں کی تسلی کے لئے فرما دیا کہ مسلمانوں کی قلت اور ظاہری بےسرو سامانی پر نظر مت کرو۔ جس طرف خدا اور اس کا رسول اور سچے وفادار مسلمان ہونگے، وہ ہی پلہ بھاری رہے گا۔ یہ آیتیں خصوصیت سے حضرت عبادہ ابن صامت ؓ کی منقبت میں نازل ہوئی ہیں۔ یہود بنی قینقاع سے ان کے بہت زیادہ دوستانہ تعلقات تھے۔ مگر خدا اور رسول کی موالات اور مومنین کی رفاقت کے سامنے انہوں نے اپنے سب تعلقات منقطع کردیے۔
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو مت بناؤ ان لوگوں کو جو ٹھراتے ہیں تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل وہ لوگ جو کتاب دیے گئے تم سے پہلے اور نہ کافروں کو5 اپنا دوست اور ڈرو اللہ سے اگر ہو تم ایمان والے6

5 کفار سے مراد یہاں مشرکین ہیں جیسا کہ عطف سے ظاہر ہے۔ 1 گذشتہ آیات میں مسلمانوں کو موالات کفار سے منع فرمایا تھا اس آیت میں ایک خاص موثر عنوان سے اسی ممانعت کی تاکید کی گئی اور موالات سے نفرت دلائی گئی ہے ایک مسلمان کی نظر میں کوئی چیز اپنے مذہب سے زیادہ معظم و محترم نہیں ہوسکتی لہذا اسے بتایا گیا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین تمہارے مذہب پر طعن و استہزاء کرتے ہیں اور شعائر اللہ (اذان وغیرہ) کا مذاق اڑاتے ہیں اور جو ان میں خاموش ہیں وہ بھی ان افعال شنیعہ کو دیکھ کر اظہار نفرت نہیں کرتے بلکہ خوش ہوتے ہیں کفار کی ان احمقانہ اور کمینہ حرکات پر مطلع ہو کر کوئی فرد مسلم جس کے دل میں خشیتہ الہٰی اور غیرت ایمانی کا ذرا سا شائبہ ہو کیا ایسی قوم سے موالات اور دوستانہ راہ و رسم پیدا کرنے یا قائم رکھنے کو ایک منٹ کے لئے گوارا کرے گا اگر ان کے کفر وعناد اور عداوت اسلام سے بھی قطع نظر کرلی جائے تو دین قیم کے ساتھ ان کا یہ تمسخر و استہزاء ہی علاوہ دوسرے اسباب کے ایک مستقل سبب ترک موالات کا ہے۔
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم پکارتے ہو نماز کے لیے تو وہ ٹھراتے ہیں اس کو ہنسی اور کھیل یہ اس واسطے کہ وہ لوگ بےعقل ہیں7

7 یعنی جب اذان کہتے ہو تو اس سے جلتے ہیں اور ٹھٹھا کرتے ہیں جو ان کی کمال حماقت اور بےعقلی کی دلیل ہے۔ کلمات اذان میں خداوند قدوس کی عظمت و کبریاء کا اظہار، توحید کا اعلان، نبی کریم ﷺ جو تمام انبیاء سابقین اور کتب سماویہ کے مصدق ہیں، ان کی رسالت کا اقرار۔ نماز جو تمام اوضاع عبودیت کو جامع اور غایت درجہ کی بندگی پر دال ہے، اس کی طرف دعوت، فلاح دارین اور اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے کے لئے بلاوا، ان چیزوں کے سوا اور کیا ہوتا ہے پھر اس میں کونسی چیز ہے جو ہنسی اڑانے کے قابل ہو ایسی نیکی اور حق و صداقت کی آواز پر مسخرا پن کرنا صرف اسی شخص کا کام ہوسکتا ہے جس کا دماغ عقل سے یکسر خالی ہو اور جسے نیک و بد کی قطعاً تمیز باقی نہ رہے۔ بعض روایات میں ہے کہ مدینہ میں ایک نصرانی جب اذان میں اشھد ان محمدًا رسول اللّٰہ سنتا تو کہتا " قد حرق الکاذب " (جھوٹا جل گیا یا جل جائے) اس کی نیت تو ان الفاظ سے جو کچھ ہو، مگر یہ بات بالکل اس کے حسب حال تھی۔ کیونکہ وہ خبیث جھوٹا تھا اور اسلام کا عروج و شیوع دیکھ کر آتش حسد میں جلا جاتا تھا۔ اتفاقاً ایک شب میں کوئی چھوکری آگ لے کر اس کے گھر میں آئی۔ وہ اور اس کے اہل و عیال سو رہے تھے ذرا سی چنگاری نادانستہ اس کے ہاتھ سے گرگئی جس سے سارا گھر مع سونے والوں کے جل گیا اور اس طرح خدا نے دکھلا دیا کہ جھوٹے لوگ دوزخ کی آگ سے پہلے ہی دنیا کی آگ میں کس طرح جل جاتے ہیں۔ اذان کے ساتھ استہزاء کرنے کا ایک اور واقعہ صحیح روایات میں منقول ہے وہ یہ کہ فتح مکہ کے بعد آپ حنین سے واپس ہو رہے تھے۔ راستہ میں حضرت بلال نے اذان کہی، چند نو عمر لڑکے جن میں ابو محذورہ بھی تھے، اذان کی ہنسی اور نقل کرنے لگے، آپ نے سب کو پکڑ بلوایا۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ابو محذورہ کے دل میں خدا نے اسلام ڈال دیا اور حضور ﷺ نے ان کو مکہ کا موذن مقرر فرما دیا۔ اس طرح خدا کی قدرت نقل سے اصل بن گئی۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

تو کہہ اے کتاب والو کیا ضد ہے تم کو ہم سے مگر یہی کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو نازل ہوا ہم پر اور جو نازل ہوچکا پہلے اور یہی کہ تم میں اکثر نافرمان ہیں8

8 کسی کام پر طعن کرنا یا ہنسی اڑانا دو وجہ سے ہوسکتا ہے یا تو وہ کام ہی قابل استہزاء ہو یا کام کرنے والے کی حالت تمسخر کے لائق ہو پچھلی آیت میں بتلا دیا گیا کہ اذان کوئی ایسی چیز نہیں جس پر بجز پرلے درجہ کے احمق اور خفیف العقل کے کوئی شخص طعن یا استہزاء کرسکے۔ اس آیت میں اذان دینے والوں کے مقدس حالات پر بعنوان سوال متنبہ کیا گیا ہے یعنی استہزاء کرنے والے جو خیر سے اہل کتاب اور عالم شرائع ہونے کا بھی دعویٰ رکھتے ہیں وہ ذرا سوچ کر انصاف سے بتائیں کہ مسلمانوں سے ان کو اتنی ضد کیوں ہے اور کیا ایسی برائی وہ ہماری طرف دیکھتے ہیں جو ان کے زعم میں لائق استہزاء ہو بجز اس کے کہ ہم اس خدائے وحدہ لاشریک لہ، پر اور اس کی اتاری ہوئی تمام کتابوں اور اس کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں۔ اور اس کے بالمقابل استہزاء کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ نہ خدا کی سچی اور صحیح توحید پر قائم ہیں اور نہ تمام انبیاء و رسل کی تصدیق و تکریم کرتے ہیں۔ اب تم ہی انصاف سے کہو کہ انتہا درجہ کے نافرمان کو خدا کے فرمانبردار بندوں پر آوازہ کسنے اور طعن وتشنیع کرنے کا کہاں تک حق حاصل ہے۔
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

تو کہہ میں تم کو بتلاؤں ان میں کس کی بری جزا ہے اللہ کے ہاں وہی جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس پر غضب نازل کیا اور ان میں سے بعضوں کو بندر کردیا اور بعض کو سور اور جنہوں نے بندگی کی شیطان کی وہی لوگ بدتر ہیں درجہ میں اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے1

1 یعنی اگر " ایمان باللہ " پر مستقیم ہونا اور ہر اس چیز کی جو خدا کی طرف سے کسی زمانہ میں نازل ہو سچے دل سے تصدیق کرنا ہی تمہارے زعم میں مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑی برائی ہے اور اسی وجہ سے تم ان کو مورد طعن و ملام بناتے ہو تو آؤ کہ میں تم کو ایک ایسی قوم کا پتہ بتلاؤں جو اپنی شرارت اور گندگی کی وجہ سے بدترین خلائق ہے۔ جن پر خدا کی لعنت اور غضب کا اثر آج بھی نمایاں طور پر آشکارا ہے۔ جس کے بہت سے افراد اپنی مکاری اور بےحیائی اور حرص دنیا کی سزا میں بندر اور سور بنائے جا چکے ہیں اور جس نے خدا کی بندگی سے نکل کر شیطان کی غلامی اختیار کرلی۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو یہ بدترین خلائق اور گم کردہ راہ قوم ہی اصلی معنی میں تمہارے طعن و استہزاء کی مستحق ہوسکتی ہے اور وہ خود تم ہی ہو۔
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور حالت یہ ہے کہ کافر ہی آئے تھے اور کافر ہی چلے گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ چھپائے ہوئے تھے2

2 یہاں ان ہی استہزاء کرنے والوں کے بعض مخصوص افراد کا بیان ہے جو غائبانہ تو مذہب اسلام پر طعن وتشنیع کرتے اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن جب نبی کریم ﷺ یا مخلص مسلمانوں سے ملتے تو ازراہ نفاق اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے حالانکہ شروع سے آخر تک ایک منٹ کے لئے بھی انہیں اسلام سے تعلق نہیں ہوا نہ پیغمبر ﷺ کے ربانی وعظ و تذکیر کا کوئی اثر انہوں نے قبول کیا۔ کیا محض لفظ ایمان و اسلام زبان سے بول کر وہ خدا کو معاذ اللہ دھوکا دے سکتے ہیں۔ اگر اس " عالم الغیب والشہادہ " کی نسبت جو ہر قسم کے ضمائر و سرائر پر مطلع ہے۔ ان کا گمان یہ ہو کہ محض لفظی ایمان سے اسے خوش کرلیں گے تو اس سے بڑھ کر کونسی حرکت قابل استہزاء و تمسخر ہوسکتی ہے۔ گویا اس آیت سے یہود نصاریٰ کے ان مضحکہ انگیز افعال و حرکات کا بیان شروع ہوا جن پر متنبہ کئے جانے کے بعد مسلمانوں کا استہزاء کرنے کے بجائے انہیں خود اپنا استہزاء کرنا چاہئے۔ اگلی آیات میں بھی اسی مضمون کی تتمیم و تکمیل ہے۔
Ayah 5:62

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تو دیکھے گا بہتوں کو ان میں سے کہ دوڑتے ہیں گناہ پر اور ظلم اور حرام کھانے پر بہت برے کام ہیں جو کر رہے ہیں3

3 غالباً " اثم " سے لازمی اور " عدوان " سے متعدی گناہ مراد ہیں۔ یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ بہت شوق اور رغبت سے ہر قسم کے گناہوں کی طرف جھپٹتے ہیں۔ خواہ ان کا اثر اپنی ذات تک محدود ہو یا دوسروں تک پہنچے۔ جن کی اخلاقی حالت ایسی زبوں ہو اور حرام خوری ان کا شیوہ ٹھہر گیا ہو ان کی برائی میں کسے شبہ ہوسکتا ہے یہ تو ان کے عوام کا حال تھا آگے خواص کا بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

کیوں نہیں منع کرتے ان کے درویش اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے بہت ہی برے عمل ہیں جو کر رہے ہیں4

4 جب خدا کسی قوم کو تباہ کرتا ہے تو اس کی عوام گناہوں اور نافرمانیوں میں غرق ہوجاتے ہیں اور اس کے خواص یعنی درویش اور علماء گونگے شیطان بن جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل کا حال یہ ہی ہوا کہ لوگ عموماً دنیاوی لذات و شہوات میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کے قوانین و احکام کو بھلا بیٹھے۔ اور جو مشائخ اور علماء کہلاتے تھے انہوں نے " امر بالمعروف ونہی عن المنکر " کا فریضہ ترک کردیا۔ کیونکہ دنیا کی حرص اور اتباع شہوات میں وہ اپنے عوام سے بھی آگے تھے۔ مخلوق کا خوف یا دنیا کا لالچ حق کی آواز بلند کرنے سے مانع ہوتا تھا۔ اسی سکونت اور مداہنت سے پہلی قومیں تباہ ہوئیں۔ اسی لئے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلٰوۃ والتسلیم کو قرآن و حدیث کی بیشمار نصوص میں بہت ہی سخت تاکید و تہدید کی گئی ہے کہ کسی وقت اور کسی شخص کے مقابلہ میں اس " فرض امر بالمعروف " کے ادا کرنے سے تغافل نہ برتیں۔
Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا5 انہی کے ہاتھ بند ہوجاویں6 اور لعنت ہے ان کو اس کہنے پر بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں7 خرچ کرتا ہے جس طرح چاہے8 اور ان میں بہتوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور انکار9 اور ہم نے ڈال رکھی ہے ان میں دشمنی اور بیر قیامت کے دن تک1 جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لیے اللہ اس کو بجھا دیتا ہے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرتے ہوئے اور اللہ پسند نہیں کرتا فساد کرنے والوں کو2

5 نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت اہل کتاب کے قلوب ان کی شرارت، کفر و طغیان، بدکاری، حرام خوری وغیرہ کی ممارست سے اس قدر مسخ ہوگئے تھے کہ بارگاہ ربوبیت میں گستاخی کرنے سے بھی ان کو کچھ باک نہ ہوتا تھا خداوند قدوس کا رتبہ ان کے یہاں ایک معمولی انسان کی حیثیت سے زیادہ نہ رہا تھا حق تعالیٰ کی جناب میں بےتکلف ایسے ہی واہی تباہی کلمات بک دیتے تھے۔ جنہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ کبھی کہتے (اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ ) 3 ۔ آل عمران :181) کبھی یہ الفاظ منہ سے نکالتے (يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ) 5 ۔ المائدہ :64) (خدا کا ہاتھ بند ہوگیا) اس سے مراد یا تو وہ ہی ہوگی جو اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ سے تھی کہ خدا معاذ اللہ تنگ دست ہوگیا اس کے خزانہ میں کچھ رہا نہیں اور یا " غل ید " کنایہ بخل و امساک سے ہو۔ یعنی تنگ دست تو نہیں مگر آجکل بخل کرنے لگا ہے (العیاذباللہ) بہرحال کوئی معنی لو، اس کلمہء کفر کا منشا یہ تھا کہ جب تمردو طغیان کی پاداش میں حق تعالیٰ نے ان ملاعین پر ذلت و نکبت، ضیق عیش، بدحالی اور تنگ میدانی مسلط فرما دی تو بجائے اس کے کہ اپنی سیاہ کاریوں اور شرارتوں پر متنبہ اور نادم ہوتے، الٹے حق تعالیٰ کی جناب میں گستاخیاں کرنے لگے۔ شاید یہ خیال ہوا ہوگا کہ ہم تو پیغمبروں کی اولاد بلکہ خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے تھے۔ پھر یہ کیا معاملہ ہونے لگا کہ آج بنی اسماعیل تو دنیا میں پھیلتے جا رہے ہیں۔ زمینی فتوحات اور آسمانی برکات تو ان پر کشادہ کردی گئی ہیں اور ہم بنی اسرائیل کہ خدا صرف ہمارا اور ہم اس کے تھے۔ اس طرح ذلیل و مغلوب اور تنگ ہو کر دربدر بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ہم تو وہ ہی اسرائیل کی اولاد اور (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ) 5 ۔ المائدہ :18) آج بھی ہیں جو پہلے تھے مگر معلوم ہوتا ہے کہ جس خدا کی ہم اولاد اور محبوب تھے (معاذاللہ) اس کے خزانہ میں کمی آگئی یا آجکل بخل وامساک نے اس کا ہاتھ بند کردیا ہے۔ احمق اتنا نہ سمجھے کہ حق تعالیٰ کے خزائن تو لا محدود اور اس کے کمالات غیر متبدل اور غیر متناہی ہیں۔ اگر معاذاللہ اس کے خزانہ میں کچھ نہ رہتا یا مخلوق کی تربیت و اعانت سے وہ ہاتھ کھینچ لیتا تو دنیا کا نظام کس طرح قائم رہ سکتا تھا اور جو روز افزوں عروج و فروغ پیغمبر ﷺ اور ان کے رفقاء کا تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو یہ کس کے خزانہ اور دست کرم کا رہین منت ہوتا۔ لہذا تم کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا ہاتھ بند نہیں ہوا۔ البتہ گستاخیوں اور شرارتوں کی نحوست سے خدا کی جو لعنت اور پھٹکار تم پر پڑی ہے اس نے تمہارے حق میں خدا کی زمین باوجود وسعت کے تنگ کردی ہے اور آئندہ اور زیادہ تنگ ہونے والی ہے اپنی تنگ حالی کو خدا کی تنگدستی سے منسوب کرنا تمہاری انتہائی سفاہت ہے۔ 6 یہ دعا کے رنگ میں پیشین گوئی یا ان کی حالت واقع کی خبر دی گئی ہے چناچہ واقعہ میں بخل وجبن نے ان کے ہاتھ بالکل بند کردیے تھے۔ 7 حق تعالیٰ کے لئے جہاں ہاتھ، پاؤں، آنکھ وغیرہ نعوت ذکر کئی گئی ہیں ان سے بھول کر بھی یہ وہم نہ ہونا چاہیے کہ وہ معاذ اللہ مخلوق کی طرح جسم اور اعضائے جسمانی رکھتا ہے بس جس طرح خدا کی ذات اور وجود، حیات، علم، وغیرہ تمامی صفات کی کوئی نظیر اور مثال اور کیفیت اس کے سوا بیان نہیں ہوسکتی۔ اے برتر از خیال و قیاس و گمان و وہم وزہر چہ گفتہ اندو شنیدیم و خواندہ ایم دفتر تمام گشت و بپایاں رسید عمر ما ہمچناں در اول تو ماندہ ایم اسی طرح ان نعوت وصفات کو خیال کرو خلاصہ یہ کہ جیسے خدا کی ذات بےچون و بیچگوں ہے اس کے سمع، بصر، ید وغیرہ نعوت وصفات کے معانی بھی اس کی ذات اور شان اقدس کے لائق اور ہمارے کیف و کم اور تعبیر وبیان کے احاطہ سے بالکل وراء الوراء ہیں (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ) 42 ۔ الشوری :11) حضرت شاہ عبدالقادر نے ان آیات پر جو فائدہ لکھا ہے اس میں دو ہاتھوں سے مراد " مہر " کا اور " قہر " کا ہاتھ لیا ہے۔ یعنی آجکل خدا کے مہر کا ہاتھ " امت محمدیہ " پر اور قہر کا بنی اسرائیل پر کھلا ہوا ہے جیسا کہ اگلی آیتوں میں اشارہ فرمایا۔ 8 یعنی اس کو وہ ہی خوب جانتا ہے کہ کس وقت، کس پر، کس قدر خرچ کیا جائے۔ کبھی ایک وفادار کو امتحان یا اصلاح حال کی غرض سے تنگی اور عسرت میں مبتلا کردیتا ہے اور کبھی اس کی وفاداری کے صلہ میں نعمائے آخرت سے پہلے دنیاوی برکات کے دروازے بھی کھول دیتا ہے۔ اس کے بالمقابل ایک مجرم متمرد پر کبھی آخرت کی سزا سے پہلے تنگ حالی، ضیق عیش اور مصائب آفات دنیاوی کی سزا بھیجتا ہے اور کسی وقت دنیاوی ساز و سامان کو فراخ کر کے مزید مہلت دیتا ہے کہ خدا کے احسانات سے متاثر ہو کر اپنے فسق و فجور پر کچھ شرمائے اور یا اپنی شقاوت کا پیمانہ پوری طرح لبریز کر کے انتہائی سزا کا مستحق ہو۔ ان مختلف احوال و اغراض اور متنوع حکمتوں کی موجودگی میں کسی شخص کے مقبول و مردود ہونے کا فیصلہ خدا کی اطلاع یا قرائن و احوال خارجیہ کی بناء پر کیا جاسکتا ہے جس طرح ایک چور کا ہاتھ کاٹا جائے، یا ڈاکٹر کسی مریض کا ہاتھ کاٹے، دونوں کی نسبت ہم احوال خارجہ اور قرائن سے سمجھ لیتے ہیں کہ ایک بطور سزا اور دوسرا ازراہ شفقت و علاج کاٹا گیا ہے۔ 9 ان کی گستاخی کا جواب دیا جا چکا ہے، لیکن قرآن کے ایسے حکیمانہ جوابات سے ان معاندین اور سفہاء کو تسکین نہیں ہوگی بلکہ کلام الہٰی سن کر شرارت اور انکار میں اور زیادہ ترقی کریں گے۔ اگر غذائے صالح ایک بیمار کے معدہ میں پہنچ کر اس کے مرض کو زیادہ کردیتی ہے تو اس میں غذا کا قصور نہیں مریض کے مزاج کی خرابی ہے۔ 1 اگرچہ قریب میں خاص یہود کا مقولہ نقل کیا تھا۔ لیکن " اَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ " سے مراد غالباً وہ اور ان کے بھائی بند سب ہیں۔ یعنی یہود نصاریٰ سب اہل کتاب کا حال بیان فرمایا ہے جیسا کہ پہلے اسی سورة میں گزر چکا اور اگلی آیت میں بھی سب اہل کتاب کو خطاب فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جوں جوں ان کی شرارت اور انکار کو ترقی ہوئی اسی قدر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور منصوبے گانٹھیں گے اور لڑائی کی آگ سلگانے کے لئے تیار ہونگے۔ لیکن ان کے آپس میں پھوٹ پڑچکی ہے جو مٹ نہیں سکتی۔ اس سبب سے اسلامی برادری کے خلاف ان کی جنگی تیاریاں کامیاب نہیں ہوئیں۔ 2 اس سے معلوم ہوا کہ اہل اسلام میں جب تک باہمی محبت اور اخوت مستحکم رہے گی اور رشد و صلاح کے طریق پر گامزن ہو کر فتنہ اور فساد سے مجتنب رہنے کا اہتمام رہے گا جیسا کہ صحابہ ؓ میں تھا اس وقت تک اہل کتاب کی سب کوششیں ان کے مقابلہ میں بیکار ثابت ہونگی۔
Ayah 5:65

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم دور کردیتے ان سے ان کی برائیاں اور ان کو داخل کرتے نعمت کے باغوں میں3

3 یعنی باوجود ایسے شدید جرائم اور سخت شرارتوں کے اگر اب بھی اہل کتاب اپنے رویہ سے تائب ہو کر نبی کریم ﷺ اور قرآن پر ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو دروازہ توبہ کا بند نہیں ہوا۔ حق تعالیٰ کمال فضل و رحمت سے ان کو اخروی و دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرما دیتا اس کی رحمت بڑے سے بڑے مجرم کو بھی جب وہ شرمسار اور معترف ہو کر آئے مایوس نہیں کرتی۔
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو اور اس کو جو کہ نازل ہوا ان پر ان کے رب کی طرف سے4 تو کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے5 کچھ لوگ ان میں ہیں سیدھی راہ پر6 اور بہت سے ان میں برے کام کر رہے ہیں

4 یعنی قرآن کریم جو تورات و انجیل کے بعد ان کی تنبیہ اور ہدایت کے لئے نازل ہوا اس کو قائم کرتے کیونکہ اس کے تسلیم کے بدون تورات و انجیل کی بھی صحیح معنی میں اقامت نہیں ہوسکتی بلکہ تورات و انجیل اور جملہ کتب سماویہ کی اقامت کا مطلب ہی اب یہ ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم اور پیغمبر آخرالزمان ﷺ جو کتب سابقہ کی پیشین گوئیوں کے مطابق بھیجے گئے ہیں ان کو قبول کیا جائے گویا اقامت تورات و انجیل کا حوالہ دیکر آگاہ فرما دیا کہ اگر قرآن کو انہوں نے قبول نہ کیا تو اس کے معنی یہ ہی ہیں کہ اپنی کتابوں کے قبول کرنے سے بھی منکر ہوگئے۔ 5 یعنی تمام ارضی سماوی برکات سے ان کو متمتع کیا جاتا اور ذلت، بدحالی اور ضیق عیش کی جو سزا ان کے عصیان و تمرد پر دی گئی تھی وہ اٹھا لی جاتی۔ 6 یہ وہ معدود افراد ہیں جنہوں نے فطری سعادت سے توسط و اعتدال کی راہ اختیار کی اور حق کی آواز پر لبیک کہا۔ مثلاً عبد اللہ بن سلام اور ملک حبشہ نجاشی وغیرہ ؓ ۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول پہنچا دے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا پیغام اور اللہ تجھ کو بچالے گا لوگوں سے بیشک اللہ راستہ نہیں دکھلاتا قوم کفار کو7

7 پچھلی آیات میں اہل کتاب کی شرارت، کفر اور سیاہ کاریوں کا ذکر کر کے تورات، انجیل، قرآن اور کل کتب سماویہ کی اقامت کی ترغیب دی گئی تھی آئندہ قُلْ یَآاَھْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیءٍ سے اہل کتاب کے مجمع میں اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ اس " اقامت " کے بدون تمہاری مذہبی زندگی بالکل صفر اور لاشے محض ہے ( يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ) 5 ۔ المائدہ :67) میں اسی دو ٹوک اعلان کے لئے حضور ﷺ کو تیار کیا گیا ہے۔ یعنی آپ پر جو کچھ پروردگار کی طرف سے اتارا جائے خصوصاً اس طرح کے فیصلہ کن اعلانات آپ بےخوف و خطر اور بلا تامل پہنچاتے رہئے۔ اگر بفرض محال کسی ایک چیز کی تبلیغ میں بھی آپ سے کوتاہی ہوئی تو بحیثیت رسول (خدائی پیغمبر) ہونے کے رسالت و پیغام رسانی کا جو منصب جلیل آپ کو تفویض ہوا ہے سمجھا جائے گا کہ آپ نے اس کا حق کچھ بھی ادا نہ کیا۔ بلاشبہ نبی کریم ﷺ کے حق میں فریضہ تبلیغ کی انجام دہی پر بیش از بیش ثابت قدم رکھنے کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی موثر عنوان نہ ہوسکتا تھا۔ آپ ﷺ نے بیس بائیس سال تک جس بےنظیر اولوالعزمی، جانفشانی، مسلسل جدو جہد اور صبر و استقلال سے فرض رسالت و تبلیغ کو ادا کیا، وہ اس کی واضح دلیل تھی کہ آپ کو دنیا میں ہر چیز سے بڑھ کر اپنے فرض منصبی (رسالت وبلاغ) کی اہمیت کا احساس ہے۔ حضور ﷺ کے اس احساس قوی اور تبلیغی جہاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے وظیفہ تبلیغ میں مزید استحکام و متثبت کی تاکید کے موقع پر موثر ترین عنوان یہ ہی ہوسکتا تھا کہ حضور ﷺ کو يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ سے خطاب کر کے صرف اتنا کہہ دیا جائے کہ اگر بفرض محال تبلیغ میں ادنیٰ سی کوتاہی ہوئی تو سمجھو کہ آپ اپنے فرض منصبی کے ادا کرنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی تمام تر کوششوں اور قربانیوں کا مقصد وحید ہی یہ تھا کہ آپ ﷺ خدا کے سامنے فرض رسالت کی انجام دہی میں اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی حاصل فرمائیں۔ لہذا یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں کہ کسی ایک پیغام کے پہنچانے میں بھی ذرا سی کوتاہی کریں۔ عموماً یہ تجربہ ہوا ہے کہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے میں انسان چند وجہ سے مقصر رہتا ہے۔ یا تو اسے اپنے فرض کی اہمیت کا کافی احساس اور شغف نہ ہو یا لوگوں کی عام مخالفت سے نقصان شدید پہنچنے یا کم از کم بعض فوائد کے فوت ہونے کا خوف ہو اور یا مخاطبین کے عام تمردو طغیان کو دیکھتے ہوئے جیسا کہ پچھلی اور اگلی آیات میں اہل کتاب کی نسبت بتلایا گیا ہے، تبلیغ کے مثمر اور منتج ہونے سے مایوسی ہو پہلی وجہ کا جواب يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ سے فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ تک، دوسری کا واللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاس میں، اور تیسری کا اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الکٰفِرِیْنَ میں دے دیا گیا۔ یعنی تم اپنا فرض ادا کئے جاؤ خدا تعالیٰ آپ کی جان اور عزت و آبرو کی حفاظت فرمانے والا ہے وہ تمام روئے زمین کے دشمنوں کو بھی آپ کے مقابلہ پر کامیابی کی راہ نہ دکھلائے گا، باقی ہدایت و ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے ایسی قوم جس نے کفر و انکار ہی پر کمر باندھ لی ہے اگر راہ راست پر نہ آئی تو تم غم نہ کرو اور نہ مایوس ہو کر اپنے فرض کو چھوڑو۔ نبی کریم نے اس ہدایت ربانی اور آئین آسمانی کے موا فق امت کو ہر چھوٹی بڑی چیز کی تبلیغ کی۔ نوع انسانی کے عوام وخواص میں سے جوابات جس طبقہ کے لائق اور جس کی استعداد کے مطابق تھی، آپ نے بلا کم وکاست اور بےخوف و خطر پہنچا کر خدا کی حجت بندوں پر تمام کردی، اور وفات سے دو ڈھائی مہینے پہلے حجتہ الوداع کے موقع پر، جہاں چالیس ہزار سے زائد خادمان اسلام اور عاشقان تبلیغ کا اجتماع تھا، آپ نے علیٰ رؤس الاشہاد اعلان فرمایا کہ " اے خدا تو گواہ رہ میں (تیری امانت) پہنچا چکا "۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہہ دے اے کتاب والو تم کسی راہ پر نہیں جب تک نہ قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو تم پر اترا تمہارے رب کی طرف سے8 اور ان میں بہتوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور کفر سو تو افسوس نہ کر اس قوم کفار پر1

8 یعنی کل کتب سماویہ جن کا خاتم اور مہیمن قرآن کریم ہے۔ پچھلے رکوع میں اس آیت کی تفسیر گزر چکی۔ 1 یعنی اس غم اور افسوس میں پڑ کر تنگ دل نہ ہوں اپنا فرض امن و اطمینان سے ادا فرماتے رہیں۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

بیشک جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور فرقہ صابی اور نصاریٰ جو کوئی ایمان لاوے اللہ پر اور روز قیامت پر اور عمل کرے نیک نہ ان پر ڈر ہے نہ وہ غمگین ہونگے2

2 یعنی جو قوم مسلمان کہلاتی ہے یا یہود یا نصاریٰ یا صابی (یا اور کچھ ثمثیلاً چند مشہور مذاہب کا ذکر کیا گیا ہے) کوئی شخص ان ناموں کی بدولت یا نسل، رنگ، پیشہ، وطن وغیرہ احوال و خصائص کے لحاظ سے حقیقی فلاح اور دائمی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ کامیاب اور مامون و مصؤن ہونے کا ایک اور صرف ایک معیار ہے یعنی ایمان و عمل صالح جس قوم کو اپنے مقرب الہٰی یا کامیاب ہونے کا دعویٰ ہو وہ اسی کسوٹی پر اپنے کو کس کر دیکھ لے۔ اگر اس میں کھری اترے تو بےخوف و خطر مفلح اور کامیاب ہے ورنہ ہر وقت اپنے خدا کے غضب و قہر کے نیچے سمجھے۔ پچھلی آیات میں خاص اہل کتاب کو تبلیغ تھی اس آیت میں تمام اقوام و ملل کے سامنے بلا رو رعایت ایسا عجیب و غریب معقول اور منصافانہ قانون پیش کیا گیا ہے جس کے بعد کسی سلیم الفطرت انسان کو اسلام کی صداقت اور ہمہ گیری میں شبہ نہیں رہ سکتا۔ ایک شخص جب تک خدا (یعنی اس کے وجود، وحدانیت، صفات کمالیہ، نشانہائے قدرت، تمام احکام و قوانین، کل نائبین وسفراء) پر اور روز جزاء پر ایمان نہ لائے اور نیکی اختیار نہ کرے، کیا عقل سلیم قبول کرسکتی ہے کہ وہ نعیم دائم، رضائے حق اور سرور ابدی سے ہمکنار ہو سکے گا۔ " ایمان باللہ " کے تحت میں یہ سب چیزیں داخل ہیں۔ فرض کرو ایک شخض روشن دلائل نبوت کی موجودگی میں کسی پیغمبر کی توہین کرتا ہے (اور اس کو دعویٰ نبوت میں جھوٹا کہنا یہی اس کی توہین ہے) تو کیا کسی حکومت کے سفیر کی توہین اور اس کے صاف وصریح اسناد سفارت کی تکذیب اس حکومت کی توہین و تکذیب نہیں ؟ اسی طرح سمجھ لو کہ جو شخص کسی ایک سچے پیغمبر کی تکذیب کرتا ہے اور اس کو قبول نہیں کرتا وہ فی الحقیقت خدا کے ان صاف وصریح نشانات و دلائل کو جھٹلا رہا ہے جو اس نے تصدیق نبوت کے لئے اتارے تھے۔ (فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :33) کیا اللہ کی آیات اور صریح و اعلانیہ نشانات کو جھٹلانے کے بعد بھی " ایمان باللہ " کا دعویٰ رہ سکے گا۔ قرآن کریم نے جن تفصیلات کی طرف " ایمان باللہ و عمل صالح " کے اجمالی عنوان سے یہاں اشارہ فرمایا ہے۔ دوسرے مواضع میں وہ شرح و بسط سے مذکور ہیں۔ میرے نزدیک زیادہ صحیح اور قوی قول یہ ہے کہ صابئین عراق میں ایک فرقہ تھا جن کے مذہبی اصول عموماً حکمائے اشراقیین اور فلاسفہ طبیعیین کے اصول سے ماخوذ تھے۔ یہ لوگ روحانیات کے متعلق نہایت غلو رکھتے بلکہ ان کی پرستش کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ ارواح مجردہ اور مد برات فلکیہ وغیرہ کی استعانت و استمداد سے ہی ہم رب الارباب (یعنی بڑے معبود) تک پہنچ سکتے ہیں۔ اتباع انبیاء کی ضرورت نہیں۔ کواکب کی ارواح مدبرہ اور اسی طرح دوسری روحانیات کو اپنے سے خوش رکھنے کے لئے ہیاکل بناتے تھے اور انہی ارواح کے لئے نماز، روزہ اور قربانی وغیرہ کرتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ حنفاء کے مقابلہ میں صابئین کی جماعت تھی۔ جن کا سب سے بڑا حملہ نبوت اور اس کے لوازم و خواص پر ہوتا تھا۔ حضرت ابراہیم حنیف (علیہ السلام) کی بعثت کے وقت نمرود کی قوم صابی العقیدہ تھی جس کے رد و ابطال میں خدا کے خلیل نے جانبازی دکھلائی۔
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے لیا تھا پختہ قول بنی اسرائیل سے3 اور بھیجے ان کی طرف رسول جب لایا ان کے پاس کوئی رسول وہ حکم جو خوش نہ آیا ان کے جی کو تو بہتوں کو جھٹلایا اور بہتوں کو قتل کر ڈالتے تھے4

3 گذشتہ آیت میں جو معیار قبول عند اللہ کا بیان ہوا تھا یعنی ایمان اور عمل صالح یہاں یہ دکھلانا ہے کہ یہود اس معیار پر کہاں تک پورے اترتے ہیں۔ 4 غلام کی وفاداری کا امتحان اس میں ہے کہ جس بات کو دل نہ چاہے آقا کے حکم سے کر گزرے اور اپنی رائے یا خواہش کو آقا کی مرضی کے تابع بنا دے۔ ورنہ صرف ان چیزوں کا مان لینا جو مرضی اور خواہش کے موافق ہوں یہ کونسا کمال ہے۔
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور خیال کیا کہ کچھ خرابی نہ ہوگی سو اندھے ہوگئے اور بہرے پھر توبہ قبول کی اللہ نے ان کی پھر اندھے اور بہرے ہوئے ان میں سے بہت5 اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں6

5 یعنی پختہ عہد و پیمان توڑ کر خدا سے غداری کی اس کے سفراء میں سے کسی کو قتل کیا یہ تو ان کے " ایمان باللہ اور عمل صالح " کا حال تھا۔ " ایمان بالیوم الآخر " کا اندازہ اس سے کرلو کہ اس قدر شدید مظالم اور باغیانہ جرائم کا ارتکاب کر کے بالکل بےفکر ہو بیٹھے۔ گویا ان حرکات کا کوئی خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا۔ اور ظلم و بغاوت کے خراب نتائج کبھی سامنے نہ آئیں گے۔ یہ خیال کر کے خدائی نشانات اور خدائی کلام کی طرف سے بالکل ہی اندھے اور بہرے ہوگئے اور جو ناکردنی کام تھے وہ کئے حتیٰ کہ بعض انبیاء کو قتل اور بعض کو قید کیا آخر خدا تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط فرمایا پھر ایک مدت دراز کے بعد بعض ملوک فارس نے بخت نصر کی قید ذلت و رسوائی سے چھڑا کر بابل سے بیت المقدس کو واپس کیا۔ اس وقت لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح حال کی طرف متوجہ ہوئے۔ خدا نے توبہ قبول کی لیکن کچھ زمانے کے بعد پھر وہ ہی شرارتیں سوجھیں اور بالکل اندھے بہرے ہو کر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کے قتل کی جرات کی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل پر تیار ہوگئے۔ 6 یعنی وہ اگرچہ خدا کے غضب و قہر کی طرف سے اندھے ہوگئے ہیں لیکن خدا ان کی تمام حرکات کو برابر دیکھتا رہا ہے۔ چناچہ ان حرکات کی سزا اب امت محمدیہ کے ہاتھوں سے دلوا رہا ہے۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا اور مسیح نے کہا ہے کہ اے بنی اسرائیل بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا بیشک جس نے شریک ٹھرایا اللہ کا سو حرام کی اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کوئی نہیں گناہ گاروں کی مدد کرنے والاف 1

1 یہاں سے نصاریٰ کے ایمان باللہ کی کیفیت دکھلائی گئی ہے کہ وہ کہاں تک حقانیت کے اس معیار پر پورے اترے۔ ان کے ایمان باللہ کا حال یہ ہے کہ عقل کے خلاف، فطرت سلیمہ کے خلاف اور خود حضرت مسیح کی تصریحات کے خلاف مسیح ابن مریم کو خدا بنادیا۔ " ایک تین اور تین ایک " کی بھول بھلیاں تو محض برائے نام ہیں حقیقتہً سارا زور و قوت صرف حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کرنے پر صرف کیا جاتا ہے۔ حالانکہ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کے رب ہونے اور دوسرے آدمیوں کی طرح اپنے مربوب ہونے کا اعلانیہ اعتراف فرما رہے ہیں۔ اور جس شرک میں ان کی امت مبتلا ہونے والی تھی اس کی برائی کس زور و شور سے بیان کر رہے ہیں۔ پھر بھی ان اندھوں کی عبرت نہیں ہوتی۔
Ayah 5:73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ ہے تین میں کا ایک2 حالانکہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے اور اگر نہ باز آویں گے اس بات سے کہ کہتے ہیں تو بیشک پہنچے گا ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو عذاب دردناک

2 یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذباللہ) ان میں ہر ایک کا حصہ دار اللہ ہوا پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں۔ عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہی ہے اور اس خلاف عقل اور بداہت عقیدہ کو عجب گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ایک ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں سچ ہے لن یصلح العطار ما افسدہ الدھر۔
Ayah 5:74

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

کیوں نہیں توبہ کرتے اللہ کے آگے اور گناہ بخشواتے اس سے اور اللہ ہے بخشنے والا مہربان3

3 یہ اسی غفور رحیم کی شان ہے کہ ایسے ایسے باغی اور گستاخ مجرم بھی جب شرمندہ ہو کر اور اصلاح کا عزم کر کے حاضر ہوں تو ایک منٹ میں عمر بھر کے جرائم معاف فرما دیتا ہے۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

نہیں ہے مسیح مریم کا بیٹا مگر رسول گزر چکے اس سے پہلے بہت رسول4 اور اس کی ماں ولی ہے5 دونوں کھاتے تھے کھانا دیکھ ہم کیسے بتلاتے ہیں ان کو دلیلیں پھر دیکھ وہ کہاں الٹے جا رہے ہیں6

4 یعنی اسی مقدس و معصوم جماعت کے یہ بھی ایک فرد ہیں، نہیں خدا بنا لینا تمہاری سفاہت ہے۔ 5 جمہور امت کی تحقیق یہ ہی ہے کہ خواتین میں نبوت نہیں آئی یہ منصب رجال ہی کے لئے مخصوص رہا ہے (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى) 12 ۔ یوسف :109) حضرت مریم بتول بھی ایک ولی بی بی تھیں۔ نبی نہیں۔ 6 غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہے وہ تقریباً دنیا کی ہر چیز کا محتاج ہے۔ زمین، ہوا، پانی، سورج، حیوانات حتٰی کہ میلے اور کھاد سے بھی اسے استغنا نہیں ہوسکتا۔ غلہ کے پیٹ میں پہنچنے اور ہضم ہونے تک خیال کرو بالواسطہ یا بلاواسطہ کتنی چیزوں کی ضرورت ہے۔ پھر کھانے سے جو اثرات و نتائج پیدا ہونگے ان کا سلسلہ کہاں تک جاتا ہے۔ احتیاج و افتقار کے اس طویل الذیل سلسلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم الوہیت مسیح و مریم کے ابطال کو بشکل استدلال یوں بیان کرسکتے ہیں کہ مسیح و مریم اکل و شرب کی ضروریات سے مستغنی نہ تھے جو مشاہدہ اور تواتر سے ثابت ہے اور جو اکل و شرب سے مستغنی نہ ہو وہ دنیا کی کسی چیز سے مستغنی نہیں ہوسکتا پھر تم ہی کہو کہ جو ذات تمام انسانوں کی طرح اپنی بقاء میں عالم اسباب سے مستغنی نہ ہو وہ خدا کیونکر بن سکتی ہے یہ ایسی قوی اور واضح دلیل ہے جسے عالم و جاہل یکساں طور پر سمجھ سکتے ہیں یعنی کھانا پینا الوہیت کے منافی ہے اگرچہ نہ کھانا الوہیت کی دلیل نہیں ورنہ سارے فرشتے خدا بن جائیں معاذاللہ۔
Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

تو کہہ دے کیا تم ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر جو مالک نہیں تمہارے برے کی اور نہ بھلے کی اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والاف 7

7 یعنی جب مسیح کو خدا کہا تو لازم ہے کہ معبود بھی کہو مگر معبود بننا صرف اسی ذات کے ساتھ مختص ہے جو ہر قسم کی نفع و ضرر کا مالک اور پورا با اختیار ہو کیونکہ عبادت انتہائی تذلل کا نام ہے اور انتہائی تذلل اسی کے سامنے اختیار کرسکتے ہیں جو انتہائی عزت اور غلبہ رکھنے والا ہر آن سب کی سننے والا اور سب کے احوال کا پوری طرح جاننے والا ہو اس میں تثلیث کے عقیدہ شرکیہ کے ساتھ تمام مشرکین کا رد ہوگیا۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

تو کہہ اے اہل کتاب مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں ناحق کا8 اور مت چلو خیالات پر ان لوگوں کے جو گمراہ ہوچکے پہلے اور گمراہ کر گئے بہتوں کو اور بہک گئے سیدھی راہ سے1

8 عقیدہ کا مبالغہ یہ ہے کہ ایک مولود بشری کو خدا بنادیا۔ اور عمل میں غلو وہ ہے جسے رہبانیت کہتے ہیں (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ ) 57 ۔ الحدید :27) یہود کی جو قبائح بیان کی جا چکیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پرستی میں غرق ہونے کی وجہ سے دین اور دینداروں کی ان کے یہاں کوئی عظمت و وقعت نہ تھی حتٰی کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اہانت و قتل وغیرہ ان کا خاص شعار تھا۔ برخلاف اس کے نصاریٰ نے تعظیم انبیاء میں اس قدر غلو کیا کہ ان میں سے بعض کو خدا یا خدا کا بیٹا کہنے لگے اور ترک دنیا کر کے رہبانیت اختیار کرلی۔ 1 یعنی اصل انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں اس عقیدہ شرکیہ کا کہیں پتہ نہ تھا۔ بعد میں یونانی بت پرستوں کی تقلید میں پولوس نے ایجاد کیا اسی پر سب چل پڑے اور اسی پر جمے رہے ایسی اندھی تقلید سے نجات کی توقع رکھنا کسی عاقل کو زیبا نہیں۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

ملعون ہوئے کافر بنی اسرائیل میں کے داؤد کی زبان پر اور عیسیٰ بیٹے مریم کی یہ اس لیے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گزر گئے تھے2

2 یوں تو تمام کتب سماویہ میں کافروں پر لعنت کی گئی ہے لیکن بنی اسرائیل کے کافروں پر جب وہ عصیان و تمرد میں حد سے گزر گئے کہ نہ مجرم کسی طرح ارتکاب جرائم سے باز آتا تھا اور نہ غیر مجرم مجرم کو روکتا تھا بلکہ سب شیر و شکر ہو کر بےتکلف ایک دوسرے کے ہم پیالہ و ہم نوالہ بنے ہوئے تھے۔ منکرات و فواحش کا ارتکاب کرنے والوں پر کسی طرح کے انقباض، تکدر اور تر شروئی کا اظہار بھی نہ ہوتا تھا۔ تب خدا نے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ جیسے گناہوں پر ان کی جسارت حد سے گزر چکی تھی۔ یہ لعنت بھی جو ایسے جلیل القدر انبیاء کے توسط سے کی گئی، غیر معمولی طور پر تباہ کن ثابت ہوئی۔ غالباً اسی لعنت کے نتیجہ میں ان میں کے بہت سے افراد ظاہراً اور باطناً بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کردیے گئے اور باطنی مسخ کا دائرہ تو اس قدر وسیع ہوا کہ ان کے بہت سے لوگ آج بھی ان مسلمانوں کو چھوڑ کر جو خدا کی تمام کتب سماویہ اور تمام انبیاء کی تصدیق و تعظیم کرتے ہیں، مشرکین مکہ سے جو خالص بت پرست اور نبوات وغیرہ سے جاہل محض ہیں، مسلمانوں کے خلاف دوستی گانٹھتے ہیں۔ اگر ان اہل کتاب کو خدا پر، نبی پر اور وحی الہٰی پر واقعی اعتقاد ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا کہ اس قوم کی ضد میں جو ان تمام چیزوں کو مکمل طور پر مانتے ہیں بت پرستوں سے ساز باز کرتے۔ یہ بےحسی، بد مذاقی اور خدا پرستوں سے بھاگ کر بت پرستوں سے دوستی کرنا، اسی لعنت اور پھٹکار کا اثر ہے جس نے انہیں خدا کی رحمت عظیمہ سے کوسوں دور پھینک دیا ہے۔ پچھلی آیات میں ان کی گذشتہ کفریات اور جرائم کو بیان کر کے غلو فی الدین اور گمراہوں کی کو رانہ تقلید سے منع فرمایا تھا تاکہ اب بھی اپنی ملعون حرکات سے تائب ہو کر حق و صداقت کے راستہ پر چلنے کی کوشش کریں۔ اس رکوع میں ان کی موجودہ حالت پر متنبہ کرتے ہوئے بتلایا کہ جو لعنت داؤد اور مسیح (علیہما السلام) کی زبانی ہوئی تھی اس کے آثار آج تک موجود ہیں۔ اہل اللہ اور عارفین سے نفرت و عداوت اور جاہل مشرکوں سے محبت، یہ کھلی دلیل اس کی ہے کہ ان کے قلوب خدائی لعنت کے اثر سے بالکل ممسوخ ہوچکے ہیں۔ اگر اب بھی انہوں نے اپنی حالت کو نہ سنبھالا اور حق کی طرف رجوع نہ کیا تو ایسی شدید لعنت کے مورد بنیں گے جو خدا تعالیٰ سید الانبیاء خاتم الرسل ﷺ کی زبان سے ان پر بھیجے گا۔
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

آپس میں منع نہ کرتے برے کام سے جو وہ کر رہے تھے3 کیا ہی برا کام ہے جو کرتے تھے

3 لَا یَتَنَاھَوْنَ کے دو معنی ہوسکتے ہیں (1) " نہیں رکتے تھے " کما فی روح المعانی (2) " نہیں روکتے تھے ایک دوسرے کو " کما ہوالمشہور جب بدی کسی قوم میں پھیلے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہ ہو تو عذاب عام کا اندیشہ ہے۔
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تو دیکھتا ہے ان میں کہ بہت سے لوگ دوستی کرتے ہیں کافروں سے4 کیا ہی برا سامان بھیجا انہوں نے اپنے واسطے وہ یہ کہ اللہ کا غضب ہوا ان پر اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں5

4 کافروں سے مراد مشرکین ہیں اور ان آیات کا مصداق یہود مدینہ تھے۔ جنہوں نے مشرکین مکہ کے ساتھ سازش کر کے مسلمانوں سے لڑائی کی ٹھانی تھی۔ 5 یعنی جو ذخیرہ اعمال کا مرنے سے پہلے آخرت کے لئے بھیج رہے ہیں وہ ایسا ہے جو ان کو غضب الہٰی اور عذاب ابدی کا مستحق بناتا ہے۔