40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 40:81

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور دکھلاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں پھر کون کونسی نشانیوں کو اپنے رب کی نہ مانو گے4

4 یعنی اس قدر کھلے نشان دیکھنے پر بھی آدمی کہاں تک انکار ہی کرتا چلا جائے گا (اور ابھی کیا معلوم اللہ اور کتنے نشان دکھلائے گا)
Ayah 40:82

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا پھرے نہیں وہ ملک میں کہ دیکھ لیتے کیسا انجام ہوا ان سے پہلوں کا وہ تھے ان سے زیادہ اور زور میں سخت اور نشانیوں میں جو چھوڑ گئے ہیں زمین پر، پھر کام نہ آیا ان کے جو وہ کماتے تھے5

5 یعنی پہلے بہت قومیں گزر چکیں جو جتھے میں اور زور و قوت میں ان سے بہت زیادہ تھیں انہوں نے ان سے کہیں بڑھ کر زمین پر اپنی یادگاریں اور نشانیاں چھوڑیں، لیکن جب خدا کا عذاب آیا تو وہ زور و طاقت اور سازو سامان کچھ بھی کام نہ آسکا۔ یوں ہی تباہ و برباد ہو کر رہ گئے۔
Ayah 40:83

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

پھر جب پہنچے ان کے پاس رسول ان کے کھلی نشانیاں لے کر اترانے لگے اس پر جو ان کے پاس تھی خبر اور الٹ پڑی ان پر وہ چیز جس پر ٹھٹھا کرتے تھے6

6 یعنی وجوہ معاش اور مادی ترقیات کا جو علم ان کے پاس تھا اور جن غلط عقیدوں پر دل جمائے ہوئے تھے اسی پر اتراتے رہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کے علوم و ہدایت کو حقیر سمجھ کر مذاق اڑاتے رہے۔ آخر ایک وقت آیا جب ان کو اپنی ہنسی مذاق کی حقیقت کھلی، اور ان کا استہزاء و تمسخر خود ان ہی پر الٹ پڑا۔
Ayah 40:84

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہماری آفت کو، بولے ہم یقین لائے اللہ اکیلے پر اور ہم نے چھوڑ دیں وہ چیزیں جن کو شریک بتلاتے تھے7

7 یعنی جس وقت آفت آنکھوں کے سامنے آگئی اور عذاب الٰہی کا معائنہ ہونے لگا تب ہوش آیا اور ایمان و توبہ کی سوجھی۔ اب پتہ چلا کہ اکیلے خدائے بزرگ ہی سے کام چلتا ہے۔ جن ہستیوں کو خدائی کا درجہ دے رکھا تھا سب عاجز اور بیکار ہیں۔ ہماری سخت حماقت اور گستاخی تھی کہ ان چیزوں کو تخت خدائی پر بٹھا دیا۔
Ayah 40:85

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

پھر نہ ہوا کہ کام آئے ان کو یقین لانا ان کا جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب8 رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آئی ہے اس کے بندوں میں اور خراب ہوئے اس جگہ منکر9

8 یعنی اب پچھتانے اور تقصیر کا اعتراف کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ایمان و توبہ کا وقت گزر چکا۔ عذاب دیکھ لینے پر تو ہر کسی کو بےاختیار یقین آجاتا ہے۔ مگر یہ یقین موجب نجات نہیں۔ نہ اس یقین کی بدولت آیا ہوا عذاب ٹل سکتا ہے۔ قال تعالیٰ " ولیست التوبۃ للذین یعملون السیأات حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الان ولا الذین یموتون وہم کفار " (نسا، رکوع 3) وقال فی قصۃ فرعون " آلئن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین۔ " وفی الحدیث " ان اللہ تعالیٰ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر۔ "9 یعنی ہمیشہ سے یوں ہی ہوتا رہا ہے کہ لوگ اول انکار و استہزاء سے پیش آتے ہیں پھر جب عذاب میں پکڑے جاتے ہیں اس وقت شور مچاتے اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اللہ کی عادت یہ ہے کہ اس بےوقت کی توبہ کو قبول نہیں فرماتا۔ آخر منکرین اپنے جرائم کی پاداش میں خراب و برباد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اللہم احفظنا من الخسران۔ واحفظنا من غضبک وسخطک فی الدنیا والاخرۃ (تم سورة المومنون وللہ الحمد والمنۃ)