40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے قوم مجھ کو کیا ہوا ہے بلاتا ہوں تم کو نجات کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھ کو آگ کی طرف8

8 یعنی میرا اور تمہارا معاملہ بھی عجیب ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم کو ایمان کے راستہ پر لگا کر خدا کے عذاب سے نجات دلاؤں۔ اور تمہاری کوشش یہ ہے کہ اپنے ساتھ مجھے بھی دوزخ کی آگ میں دھکیل دو ۔ ایک طرف سے ایسی دشمنی اور دوسری جانب سے یہ خیر خواہی۔
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم بلاتے ہو مجھ کو کہ منکر ہوجاؤں اللہ سے اور شریک ٹھہراؤں اس کا اس کو جس کی مجھ کو خبر نہیں9 اور میں بلاتا ہوں تم کو اس زبردست گناہ بخشنے والے کی طرف10

9 یعنی تمہاری کوشش کا حاصل تو یہ ہے کہ میں (معاذ اللہ) خدائے واحد کا انکار کر دوں۔ اس کے پیغمبروں کو اور ان کی باتوں کو نہ مانوں اور نادان جاہلوں کی طرح ان چیزوں کو خدا ماننے لگوں جن کی الوہیت کسی دلیل اور علمی اصول سے ثابت نہیں۔ نہ مجھے خبر ہے کہ کیونکر ان چیزوں کو خدا بنا لیا گیا۔ بلکہ میں جانتا ہوں کہ اس کے خلاف پر دلائل قطعیہ قائم ہیں۔ 10 یعنی میرا منشاء یہ ہے کہ کسی طرح تمہارا سر اس خدائے واحد کی چوکھٹ پر جھکا دوں جو نہایت زبردست بھی ہے اور بہت زیادہ خطاؤں کا معاف کرنے والا بھی (مجرم کو پکڑے تو کوئی چھڑا نہ سکے اور معاف کرے تو کوئی روک نہ سکے وہ ہی اس کا مستحق ہے کہ آدمی اس کے آگے ڈر کر اور امید باندھ کر سر عبودیت جھکائے۔ یاد رکھو میں اسی خدا کی پناہ میں آچکا ہوں جس کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں۔ )
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

آپ ہی ظاہر ہے کہ جس کی طرف تم مجھ کو بلاتے ہو اس کا بلاوا کہیں نہیں دنیا میں اور نہ آخرت میں1 اور یہ کہ ہم کو پھرجانا ہے اللہ کے پاس اور یہ کہ زیادتی والے وہی ہیں دوزخ کے لوگ2

1 یعنی ماسوا خدا کے کوئی چیز ایسی نہیں جو دنیا یا آخرت میں ادنیٰ ترین نفع و ضرر کی مالک ہو۔ پھر اس کی بندگی اور غلامی کا بلاوا دینا جہل و حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ (وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ ۝ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَاۗءً وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ ۝) 46 ۔ الاحقاف :5) آخر ایسی عاجز اور بےبس چیزوں کی طرف آدمی کیا سمجھ کر دعوت دے اور تماشا یہ ہے کہ ان میں بہت چیزیں وہ ہیں جو خود بھی اپنی طرف دعوت نہیں دیتیں۔ بلکہ دعوت دینے کی قدرت بھی نہیں رکھتیں۔ 2 یعنی انجام کار ہر پھر کر اسی خدائے واحد کی طرف جانا ہے۔ وہاں پہنچ کر سب کو اپنی زیادتیوں کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا۔ بتلاؤ ! اس سے بڑھ کر زیادتی کیا ہوگی کہ عاجز مخلوق کو خالق کا درجہ دے دیا جائے۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

سو آگے یاد کرو گے جو میں کہتا ہوں تم کو3 اور میں سونپتا ہوں اپنا کام اللہ کو بیشک اللہ کی نگاہ میں ہیں سب بندے4

3 یعنی آگے چل کر جب اپنی زیادتیوں کا مزہ چکھو گے، اس وقت میری نصیحت کو یاد کرو گے کہ ہاں ایک مرد خدا جو ہم کو سمجھایا کرتا تھا وہ ٹھیک کہتا تھا۔ لیکن اس وقت یاد کر کے پشیمان ہونے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ 4 یعنی میں خدا کی حجت تمام کرچکا اور نصیحت کی بات سمجھا چکا۔ تم نہیں مانتے تو میرا تم سے کچھ مطلب نہیں۔ اب میں اپنے کو بالکلیہ خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے۔ تم اگر مجھے ستانا چاہو گے تو وہ ہی خدا میرا حامی و ناصر ہے۔ سب بندے اس کی نگاہ میں ہیں۔ وہ میرا اور تمہارا دونوں کا معاملہ دیکھ رہا ہے۔ کسی کی کوئی حرکت اس پر پوشیدہ نہیں ایک مومن قانت کا کام یہ ہے کہ اپنی امکانی سعی کر چکنے کے بعد نتیجہ کو خدا کے سپرد کرے۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر بچا لیا موسیٰ کو اللہ نے برے داؤ سے جو کرتے تھے اور الٹ پڑا فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب5

5 یعنی حق و باطل کی اس کشمکش کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (اور ان کے ہمراہیوں کو جن میں یہ مومن آل فرعون بھی تھا) فرعونیوں کے منصوبوں سے محفوظ رکھا کوئی داؤ ان کا چلنے نہ دیا۔ بلکہ ان کے داؤ پیچ خود ان ہی پہ الٹ پڑے۔ جس نے حق پرستوں کا تعاقب کیا مارا گیا اور قوم کی قوم کا بیڑا بحرقلزم میں غرق ہوا۔
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

وہ آگ ہے کہ دکھلادیتے ہیں ان کو صبح اور شام6 اور جس دن قائم ہوگی قیامت حکم ہوگا داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں

6 یعنی دوزخ کا ٹھکانا جس میں وہ قیامت کے دن داخل کیے جائیں گے۔ ہر صبح و شام ان کو دکھلا دیا جاتا ہے تاکہ نمونہ کے طور پر اس آنے والے عذاب کا کچھ مزہ چکھتے رہیں۔ یہ عالم برزخ کا حال ہوا اور احادیث سے ثابت ہے کہ اسی طرح ہر کافر کے سامنے دوزخ کا اور ہر مومن کے سامنے جنت کا ٹھکانا روزانہ صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔ (تنبیہ) آیتہ ہذا سے صرف فرعونیوں کا عالم برزخ میں معذب ہونا ثابت ہوا تھا۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو معلوم کرایا گیا کہ جملہ کفار بلکہ عصاۃِ مومنین بھی برزخ میں معذب ہوتے ہیں (اعاذنا اللہ منہ) کما وردفی الاحادیث الصحیحہ۔ اور بعض آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح جنتیوں میں سے شہداء کی روحیں " طیور خضر " کے " حواصل " میں داخل ہو کر جنت کی سیر کرتی ہیں، اسی طرح دوزخیوں میں سے فرعونیوں کی ارواح کو " طیور سود " کے " حواصل " میں داخل کر کے ہر صبح شام دوزخ کی طرف بھیجا جاتا ہے (البتہ ارواح کا مع ان کے اجساد کے جنت یا دوزخ میں اقامت پذیر ہونا یہ آخرت میں ہوگا) اگر یہ صحیح ہے تو فرعونیوں کے متعلق (اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِـيًّا) 40 ۔ غافر :46) اور عام دوزخیوں کے متعلق حدیث " عرض علیہ مقعدہ بالغداۃ والعشیی " کے الفاظ کا تفاوت شاید اسی بناء پر ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب آپس میں جھگڑیں گے آگ کے اندر پھر کہیں گے کمزور غرور کرنے والوں کو ہم تھے تمہارے تابع پھر کچھ تم ہم پر سے اٹھالو گے حصہ آگ کا7

7 یعنی دنیا میں ہم سے اپنی اطاعت اور اتباع کراتے رہے جس کی بدولت آج ہم پکڑے گئے۔ اب یہاں ہمارے کچھ تو کام آؤ۔ آخر بڑوں کو چھوڑوں کی تھوڑی بہت خبر لینی چاہیے۔ دیکھتے نہیں ہم آج کس قدر مصیبت میں ہیں کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ اس مصیبت کا کوئی جزو ہم سے ہلکا کردو۔
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

کہیں گے جو غرور کرتے تھے ہم سبھی پڑے ہوئے ہیں اس میں بیشک اللہ فیصلہ کرچکا بندوں میں8

8 یعنی جو دنیا میں بڑے بنتے تھے جواب دیں گے کہ آج ہم اور تم سب اسی مصیبت میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک کے جرم کے موافق سزا کا فیصلہ سنا دیا ہے جو بالکل قطعی اور اٹل ہے۔ اب موقع نہیں رہا کہ کوئی کسی کے کام آئے۔ ہم اپنی ہی مصیبت کو ہلکا نہیں کرسکتے، پھر تمہارے کیا کام آسکے ہیں۔
Ayah 40:49

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور کہیں گے جو لوگ پڑے ہیں آگ میں دوزخ کے داروغوں کو مانگو اپنے رب سے کہ ہم پر ہلکا کردے ایک دن تھوڑا عذاب9

9 یعنی اپنے سرداروں کی طرف سے مایوس ہو کر ان فرشتوں سے درخواست کریں گے جو دوزخ کے انتظام پر مسلط ہیں کہ تم ہی اپنے رب سے کہہ کر کوئی دن تعطیل کر کرا دو جس میں ہم پر سے عذاب کچھ ہلکا ہوجایا کرے۔
Ayah 40:50

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ بولے کیا نہ آتے تھے تمہارے پاس تمہارے رسول کھلی نشانیاں لے کر کہیں گے کیوں نہیں بولے پھر پکارو اور کچھ نہیں کافروں کا پکارنا مگر بھٹکنا1

1 یعنی اس وقت ان کی بات نہ مانی اور انجام کی فکر نہ کی جو کچھ کام چلتا۔ اب موقع ہاتھ سے نکل چکا۔ کوئی سعی سفارش یا خوشامد درآمد کام نہیں دے سکتی۔ پڑے چیختے چلاتے رہو۔ نہ ہم ایسے معاملات میں سفارش کرسکتے ہیں، نہ تمہاری چیخ و پکار سے کوئی فائدہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " دوزخ کے فرشتے کہیں گے سفارش کرنا ہمارا کام نہیں۔ ہم تو عذاب دینے پر مقرر ہیں۔ سفارش کا کام رسولوں کا، رسولوں سے تم برخلاف ہی تھے۔ " (تنبیہ) آیہ ہذا سے معلوم ہوا کہ آخرت میں کافروں کی دعا کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ باقی دنیا میں کافر کے مانگنے پر اللہ تعالیٰ کوئی چیز دے دیں وہ دوسری بات ہے جیسے ابلیس کو قیامت تک کی مہلت دے دی۔
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگانی میں2 اور جب کھڑے ہوں گے گواہ3

2 یعنی دنیا میں ان کا بول بالا کرتا ہے۔ جس مقصد کے لیے وہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ کی مدد سے اس میں کامیابی ہوتی ہے۔ حق پرستوں کی قربانیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ درمیان میں کتنے ہی اتار چڑھاؤ ہوں اور کیسے ہی امتحانات پیش آئیں مگر آخرکار مشن کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ علمی حیثیت سے حجت وبرہان میں تو وہ ہمیشہ ہی منصور رہتے یہیں۔ لیکن مادی فتح اور ظاہری عزت و رفعت بھی آخرکار ان ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ سچائی کے دشمن کبھی معزز نہیں رہ سکتے۔ ان کا علو اور عروج محض ہنڈیا کا جھاگ اور سوڈے کا ابال ہوتا ہے۔ انجام کار مومنین قانتین کے مقابلہ میں ان کو پست اور ذلیل ہونا پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے اپنے اولیاء کا انتظام لیے بدون نہیں چھوڑتا۔ لیکن واضح رہے کہ آیت میں جن مومنین کے لیے وعدہ کیا گیا ہے شرط یہ ہے کہ حقیقی مومن اور رسولوں کے متبع ہوں۔ کما قال تعالیٰ (وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :139) مومنین کی خصلتیں قرآن میں جابجا مذکور ہیں چاہیے کہ مسلمان اس کسوٹی پر اپنے کو کس کر دیکھ لیں۔3 یعنی میدان حشر میں جبکہ اولین و آخرین جمع ہوں گے حق تعالیٰ اپنے فضل سے علیٰ الاشہاد ان کی سربلندی اور عزت و رفعت کو ظاہر فرمائے گا۔ دنیا میں تو کچھ شبہ بھی نہ رہ سکتا ہے اور التباس ہوجاتا ہے وہاں ذرا بھی ابہام و التباس باقی نہ رہے گا۔
Ayah 40:52

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن کام نہ آئیں منکروں کو ان کے بہانے اور ان کو پھٹکار ہے اور ان کے واسطے برا گھر4

4 یعنی ان کی کوئی مدد اور دستگیری نہ ہوگی۔ یہ مقبولین کے بالمقابل مطرودین کا انجام بیان فرما دیا۔
Ayahs 40:53–54

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم نے دی موسیٰ کو راہ کی سوجھ اور وارث کیا بنی اسرائیل کو کتاب کا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

سجھانے اور سمجھانے والی عقل مندوں کو5

5 یعنی دنیا ہی میں دیکھ لو کہ فرعون اور اس کی قوم کو باوجود اس قدر طاقت و جبروت کے حق کی دشمنی نے کس طرح ہلاک و برباد کر کے چھوڑا۔ اور موسیٰ علیہ السلا کی برکت و راہنمائی سے بنی اسرائیل کی مظلوم اور کمزور قوم کو کس طرح ابھارا اور اس عظیم الشان کتاب (تورات) کا وارث بنایا۔ جو دنیا کے عقلمندوں کے لیے شمع ہدایت کا کام دیتی تھی۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

سو تو ٹھہرا رہ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے اور بخشوا اپنا گناہ اور پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں شام کو اور صبح کو6

6 یعنی آپ بھی تسلی رکھیے، جو وعدہ آپ کے ساتھ ہے ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ خداوند قدوس دارین میں آپ کو اور آپ کے طفیل میں آپ کے متبعین کو سربلند رکھے گا۔ ضرورت اس کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کے شدائد و مصائب پر صبر کریں۔ اور جس سے جس درجہ کی تقصیر کا امکان ہو اس کی معافی خدا سے چاہتے رہیں اور ہمیشہ رات دن صبح و شام اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کا قولاً و فعلا ورد رکھیں۔ ظاہر و باطن میں اس کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ پھر اللہ کی مدد یقینی ہے۔ یہ حضور ﷺ کو مخاطب بنا کر ساری امت کو سنایا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " حضرت رسول اللہ ﷺ دن میں سو سو بار استغفار کرتے۔ ہر بندے کی تقصیر اس کے درجہ کے موافق ہے اسی لیے ہر کسی کو استغفار کرنا ضروری ہے۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں بغیر کسی سند کے جو پہنچی ہو ان کو اور کوئی بات نہیں ان کے دلوں میں غرور ہے کہ کبھی نہ پہنچیں گے اس تک7 سو تو پناہ مانگ اللہ کی بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے8

7 یعنی جو لوگ اللہ کی دلائل توحید اور کتب سماویہ اور اس کے پیغمبروں کے معجزات و ہدایات میں خواہ مخواہ جھگڑتے اور بےسند باتیں نکال کر حق کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں ان کے ہاتھ میں کچھ حجت و دلیل نہیں۔ نہ فی الواقع ان کھلی ہوئی چیزوں میں شک و شبہ کا موقع ہے۔ صرف شیخی اور غرور مانع ہے کہ حق کے سامنے گردن جھکائیں اور پیغمبر کا اتباع کریں۔ وہ اپنے کو بہت اونچا کھینچتے ہیں۔ چاہتے یہ ہیں کہ پیغمبر سے اوپر ہو کر رہیں۔ یا کم ازکم اس کے سامنے جھکنا نہ پڑے لیکن یاد رکھیں کہ وہ اس مقصد کو کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ پیغمبر کے سامنے سر اطاعت جھکانا پڑے گا۔ ورنہ سخت ذلیل و رسوا ہوں گے۔ 8 یعنی اللہ کی پناہ مانگ کہ وہ ان مجادلین کے خیالات سے بچائے اور ان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آگے بعض مسائل کی تحقیق ہے جن میں وہ لوگ جھگڑتے تھے۔ مثلاً بعث بعد الموت (موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا) کہ اس کو وہ محال سمجھتے تھے یا توحید باری جس کا انکار کرتے تھے۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

البتہ پیدا کرنا آسمانوں کا اور زمین کا بڑا ہے لوگوں کے بنانے سے لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے9

9 یعنی بظاہر مادی حیثیت سے آسمان و زمین کی عظمت و جسامت کے سامنے انسان کی کیا حقیقت ہے لیکن مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا وہ ہی خداوند قدوس ہے۔ پھر جس نے اتنی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا اسے آدمیوں کا پہلی بار یا دوسری بار پیدا کردینا کیا مشکل ہوگا۔ تعجب ہے کہ ایسی موٹی بات کو بہت لوگ نہیں سمجھتے۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور برابر نہیں اندھا اور آنکھوں والا اور نہ ایمان دار اور جو بھلے کام کرتے ہیں اور نہ بدکار تم بہت کم سوچ کرتے ہو1

1 یعنی ایک اندھا جسے حق کا سیدھا راستہ نہیں سوجھتا، اور ایک آنکھوں والا جو نہایت بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم کو دیکھتا اور سمجھتا ہے، کیا دنوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ یا ایک نیکوکار مومن اور کافر بدکار کا انجام یکساں ہوسکتا ہے ؟ اگر ایسا نہیں تو ضرور ایک دن چاہیے جب ان کا باہمی فرق کھلے۔ اور دونوں کے علم کے ثمرات اپنی اکمل ترین صورت میں ظاہر ہوں۔ مگر افسوس کہ تم اتنا بھی نہیں سوچتے۔
Ayahs 40:59–60

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

تحقیق قیامت آنی ہے اس میں دھوکا نہیں لیکن بہت لوگ نہیں مانتے

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور کہتا ہے تمہارا رب مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو2 بیشک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری بندگی سے اب داخل ہوں گے دوزخ میں ذلیل ہو کر3

2 یعنی میری ہی بندگی کرو کہ اس کی جزاء دوں گا مجھ ہی سے مانگو کہ تمہارا مانگنا خالی نہ جائے گا۔ 3 بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا۔ نہ مانگنا غرور ہے۔ اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ بندوں کی پکار کو پہنچتا ہے۔ یہ بات تو بیشک برحق ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بندے کی ہر دعا قبول کیا کرے۔ یعنی جو مانگے وہ ہی چیز دے دے۔ نہیں اس کی اجابت کے بہت سے رنگ ہیں جو احادیث میں بیان کردیے گئے ہیں۔ کوئی چیز دینا اس کی مشیت پر موقوف اور حکمت کے تابع ہے۔ کمال قال فی موضع آخر (فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْهِ اِنْ شَاۗءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :41) بہرحال بندہ کا کام ہے مانگنا اور یہ مانگنا خود ایک عبادت بلکہ مغز عبادت ہے۔
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ اس میں چین پکڑو اور دن بنایا دیکھنے کا4 اللہ تو فضل والا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے5

4 رات کی ٹھنڈ اور تاریکی میں عموماً لوگ سوتے اور آرام کرتے ہیں۔ جب دن ہوتا ہے تو تازہ دم ہو کر اس کے اجالے میں اپنے کاروبار میں مشغول ہوجاتے ہیں اس وقت دیکھنے بھالنے اور چلنے پھرنے کے لیے مصنوعی روشنیوں کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی۔ 5 یعنی منعم حقیقی کی حق شناسی یہ تھی کہ قول و فعل اور جان و دل سے اس کا شکر ادا کرتے۔ بہت سے لوگ شکر کے بجائے شرک کرتے ہیں۔
Ayah 40:62

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

وہ اللہ ہے رب تمہارا ہر چیز بنانے والا کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا پھر کہاں سے پھرے جاتے ہو6

6 یعنی رات دن کی سب نعمتیں اس کی طرف سے مانتے ہو، تو بندگی بھی صرف اسی کی ہونی چاہیے۔ اس مقام پر پہنچ کر تم کہاں بھٹک جاتے ہو کہ مالک حقیقی تو کوئی ہو اور بندگی کسی کی کی جائے۔
Ayahs 40:63–64

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح پھرے جاتے ہیں جو لوگ کہ اللہ کی باتوں سے منکر ہوتے رہتے ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو عمارت7 اور صورت بنائی تمہاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمہاری اور روزی دی تم کو ستھری چیزوں سے وہ اللہ ہے رب تمہارا سو بڑی برکت ہے اللہ کی جو رب ہے سارے جہان کا8

7 یعنی قبہ کی طرح بنایا۔ 8 سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور سب کی روزی سے اس کی روزی ستھری ہے۔
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ ہے زندہ رہنے والاف 9 کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، سو اس کو پکارو خالص کر کے، اس کی بندگی سب خوبی اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا1

9 جس پر کسی حیثیت سے کبھی فنا اور موت طاری نہیں ہوئی نہ ہوسکتی ہے۔ اور ظاہر ہے جب اس کی حیات ذاتی ہوئی، تو تمام لوازم حیات بھی ذاتی ہوں گے۔1 کمالات اور خوبیاں سب وجود حیات کے تابع ہیں۔ جو حی علی الاطلاق ہے وہ ہی عبادت کا مستحق اور تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہوگا۔ اسی لیے ہوالحی کے بعد " الحمد للہ رب العالمین " فرمایا جیسا کہ پہلی آیت میں نعمتوں کا ذکر کر کے " فتبارک اللہ رب العالمین " فرمایا تھا۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ " لا الہ الا الہ " کے بعد الحمدللہ رب العالمین کہنا چاہیے۔ اس کا ماخذ یہ ہی آیت ہے۔
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

تو کہہ مجھ کو منع کردیا کہ پوجوں ان کو جن کو تم پکارتے ہو سوا اللہ کے جب پہنچ چکیں میرے پاس کھلی نشانیاں میرے رب سے اور مجھ کو حکم ہوا کہ تابع رہوں جہان کے پروردگار کا2

2 یعنی کھلے کھلے نشانات دیکھنے کے بعد کیا حق ہے کہ کوئی آدمی خدائے واحد کے سامنے سر عبودیت نہ جھکائے اور خالص اسی کا تابع فرمان نہ ہو۔
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنایا تم کو خاک سے3 پھر پانی کی بوند سے پھر خون جمے ہوئے سے4 پھر تم کو نکالتا ہے بچہ پھر جب تک کہ پہنچو اپنے پورے زور کو پھر جب تک کہ ہوجاؤ بوڑھے اور کوئی تم میں ایسا ہے کہ مرجاتا ہے پہلے اس سے اور جب تک کہ پہنچو لکھے وعدے کو5 اور تاکہ تم سوچو6

3 یعنی تمہارے باپ آدم کو، یا تم کو، اس طرح کہ نطفہ جس غذا کا خلاصہ ہے وہ خاک سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ 4 یعنی بنی آدم کی اصل ایک پانی کی بوند (قطرہ منی) ہے جو آگے چل کر جما ہوا خون بنادیا گیا۔ 5 یعنی بچہ سے جوان اور جوان سے بوڑھا ہوتا ہے۔ اور بعض آدمی جوانی یا بڑھاپے سے پہلے ہی گزر جاتے ہیں۔ بہرحال سب کو ایک معین میعاد اور لکھے ہوئے وعدے تک پہنچنا ہے۔ موت اور حشر سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔ ہر آنکہ زاد بنا چار بایدش نوشیدزجام دہر مئے کل من علیہا فان 6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی سوچو اتنے احوال (اور دور) تم پر گزرے۔ ممکن ہے ایک حال اور بھی گزرے۔ وہ مر کر جینا ہے۔ " آخر اسے کیوں محال سمجھتے ہو۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے پھر جب حکم کرے کسی کام کو تو یہی کہے اس کو کہ ہوجا وہ ہوجاتا ہے7

7 یعنی اس کی قدرت کاملہ اور شان کن فیکون کے سامنے یہ کیا مشکل ہے کہ موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کر دے۔
Ayahs 40:69–70

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا ان کو جو جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں کہاں سے پھیرے جاتے ہیں

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

وہ لوگ کہ جنہوں نے جھٹلایا اس کتاب کو اور اس کو کہ بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ سو آخر جان لیں گے8

8 کہ اس تکذیب کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
Ayah 40:71

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب طوق پڑیں ان کی گردنوں میں اور زنجیریں بھی9 گھسیٹے جائیں

9 زنجیر کا ایک سرا طوق میں اٹکا ہوا اور دوسرا فرشتوں کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس طرح مجرموں اور قیدیوں کی مانند لائے جائیں گے۔
Ayah 40:72

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

جلتے پانی میں پھر آگ میں ان کو جھونک دیں1

1 یعنی دوزخ میں کبھی جلتے پانی کا اور کبھی آگ کا عذاب دیا جائے گا۔ (اعاذنا اللہ منہما)
Ayahs 40:73–74

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان کو کہیں کہاں گئے جن کو تم شریک بتلایا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

اللہ کے سوا2 بولیں وہ ہم سے چوک گئے3 کوئی نہیں ہم تو پکارتے نہ تھے پہلے کسی چیز کو4 اسی طرح بچلاتا ہے اللہ منکروں کو5

2 یعنی اس وقت ان میں سے کوئی کام نہیں آتا۔ ہو سکے تو ان کو مدد کے لیے بلاؤ۔ 3 یعنی ہم سے گئے گزرے ہوئے۔ شاید اس وقت عابدین اور معبودین الگ الگ کردیے جائیں گے یا ضلوا عناکا مطلب یہ ہو کہ گو موجود ہیں، مگر جب ان سے کوئی فائدہ نہیں تو ہوئے نہ ہوئے برابر ہیں۔ 4 اکثر مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ ہم جن کو دنیا میں پکارتے تھے، اب کھلا کہ وہ واقع میں کچھ چیز نہ تھے۔ گویا یہ بطور حسرت و افسوس کے اپنی غلطی کا اعتراف ہوگا۔ لیکن حضرت شاہ صاحب کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین اول منکر ہوچکے تھے کہ ہم نے شریک ٹھہرائے ہی نہیں۔ اب گھبرا کر منہ سے نکل جائے گا ضلوا عنا جس میں شریک ٹھہرانے کا اعتراف ہوگا۔ پھر کچھ سنبھل کر انکار کردیں گے کہ ہم نے خدا کے سوا کسی کو پکارا ہی نہیں۔ 5 یعنی جس طرح یہاں انکار کرتے کرتے بچل گئے اور گھبرا کر اقرار کرلیا۔ یہ ہی حال ان کافروں کا دنیا میں تھا۔
Ayah 40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ بدلہ اس کا جو تم اتراتے پھرتے تھے زمین میں ناحق اور اس کا جو تم اکڑتے تھے6

6 یعنی دیکھ لیا، ناحق کی شیخی اور غرور وتکبر کا انجام یہ ہوتا ہے اب وہ اکڑ فوں کدھر گئی۔
Ayah 40:76

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

داخل ہوجاؤ دروازوں میں دوزخ کے7 سدا رہنے کو اس میں سو کیا برا ٹھکانا ہے غرور والوں کا

7 یعنی ہر قسم کے مجرم اس دروازے سے جو ان کے لیے تجویز شدہ ہے۔
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

سو تو ٹھہرا رہ بیشک وعدہ اللہ کا ٹھیک ہے پھر اگر ہم دکھلا دیں تجھ کو کوئی وعدہ جو ہم ان سے کرتے ہیں یا قبض کرلیں تجھ کو، ہر حالت میں ہماری ہی طرف پھر آئیں گے8

8 یعنی اللہ نے ان کو عذاب دینے کا جو وعدہ فرمایا ہے، وہ یقینا پورا ہو کر رہے گا۔ ممکن ہے کوئی وعدہ آپ کی موجودگی میں پورا ہو (جیسا کہ " بدر " اور " فتح مکہ " وغیرہ میں ہوا) یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد۔ بہرحال یہ ہم سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ سب کا انجام ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس زندگی کے بعد عذاب کی تکمیل اس زندگی میں ہوگی۔ چھٹکارا کسی صورت سے نہیں۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجے ہیں بہت رسول تجھ سے پہلے بعضے ان میں وہ ہیں کہ سنایا ہم نے تجھ کو ان کا احوال اور بعضے ہیں کہ نہیں سنایا9 اور کسی رسول کو مقدور نہ تھا کہ لے آتا کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے10 پھر جب آیا حکم اللہ کا فیصلہ ہوگیا انصاف سے اور ٹوٹے میں پڑے اس جگہ جھوٹے11

9 یعنی بعض کا تفصیلی حال تجھ سے بیان کیا بعض کا نہیں کیا۔ (اور ممکن ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد ان کا بھی مفصل حال بیان کردیا ہو) بہرحال جن کے نام معلوم ہیں ان پر تفصیلاً اور جن کے نام وغیرہ معلوم نہیں ان پر اجمالاً ایمان لانا ضروری ہے۔ (لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ) 2 ۔ البقرۃ :285) 10 یعنی اللہ کے سامنے سب عاجز ہیں۔ رسولوں کو یہ بھی اختیار نہیں کہ جو معجزہ چاہیں دکھلا دیا کریں، صرف وہ ہی نشانات دکھلا سکتے ہیں جس کی اجازت حق تعالیٰ کی طرف سے ہو۔ 11 یعنی جس وقت اللہ کا حکم پہنچتا ہے رسولوں اور ان کی قوموں کے درمیان منصفانہ فیصلہ کردیا جاتا ہے اس وقت رسول سرخرو اور کامیاب ہوتے ہیں۔ اور باطل پرستوں کے حصہ میں ذلت و خسران کے سوا کچھ نہیں آتا۔
Ayahs 40:79–80

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنادیے تمہارے واسطے چوپائے تاکہ سواری کرو بعضوں پر اور بعضوں کو کھاتے ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور ان میں تم کو بہت فائدے ہیں1 اور تاکہ پہنچو ان پر چڑھ کر کسی کام تک جو تمہارے جی میں ہو2 اور ان پر اور، کشتیوں پر لدے پھرتے ہو3

1 مثلاً ان کے چمڑے، بال اور اون وغیرہ سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔2 سواری کرنا بجائے خود ایک مقصد ہے اور سواری کے ذریعہ سے انسان بہت مقاصد دینی و دنیاوی حاصل کرتا ہے۔ 3 یعنی خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر اور دریا میں کشتیوں پر لدے پھرتے ہو۔