Ayah 3:1562 یعنی تم ان کافر منافقوں کی طرح ایسے لغو خیالات کو زنہار دل میں جگہ نہ دینا کہ گھر میں بیٹھے رہتے تو نہ موت آتی، نہ مارے جاتے۔
3 چونکہ منافقین ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے تھے، اس لئے مسلمانوں کو اپنا بھائی کہا، یا اس لئے کہ نسبی طور پر وہ اور انصار مدینہ برادری کے بھائی بند تھے۔ اور چونکہ یہ بات خیر خواہی و ہمدردی کے پیرایہ میں کہتے تھے اس لئے لفظ اخوان سے تعبیر کیا گیا۔
4 یعنی خواہ مخواہ باہر نکل کر مرے۔ ہمارے پاس اپنے گھر پڑے رہتے تو کیوں مرتے یا کیوں مارے جا تے۔ یہ کہنا اس غرض سے تھا کہ سننے والے مسلمانوں کے دل میں حسرت و افسوس پیدا ہو کہ واقعی بےسوچے سمجھے نکل کھڑے ہونے اور لڑائی کی آگ میں کود پڑنے کا یہ نتیجہ ہوا۔ گھر رہتے تو یہ مصیبت کیوں دیکھنی پڑتی، مگر مسلمان ایسے کچے نہ تھے جو ان چکموں میں آجاتے، ان باتوں سے الٹا منافقین کا بھرم کھل گیا بعض مفسرین نے ( لِيَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِيْ قُلُوْبِھِمْ ) 3 ۔ آل عمران :156) میں " لام عاقبت " لے کر یوں معنی کئے ہیں کہ منافقین کے زبان و دل پر یہ باتیں اس لئے جاری کی گئیں کہ خدا ان کو ہمیشہ اسی حسرت و افسوس کی آگ میں جلتا چھوڑ دے اور دوسری حسرت ان کو یہ رہے کہ مسلمان ہماری طرح نہ ہوئے اور ہماری باتوں پر کسی نے کان نہ دھرا، اس طرح لیجعل کا تعلق لا تکونوا الخ سے بھی ہوسکتا ہے۔
5 یعنی مارنا جلانا اللہ کا کام ہے۔ بہتیرے آدمی عمر بھر سفر کرتے اور لڑائیوں میں جاتے ہیں، مگر موت گھر میں بستر پر آتی ہے اور کتنے ہی آدمی گھر کے کونے میں پڑے رہنے کے خوگر ہیں، لیکن اخیر میں خدا کوئی سبب کھڑا کردیتا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور وہیں مریں یا مارے جائیں۔ بندہ کی روک تھام سے یہ چیز ٹلنے اور بدلنے والی نہیں۔ حضرت خالد بن الولید ؓ نے و فات کے وقت فرمایا کہ میرے بدن پر ایک بالشت جگہ تلوار یا نیزہ کے زخم سے خالی نہیں، مگر آج میں ایک اونٹ کی طرح (گھر میں) مر رہا ہوں فَلَا نَامَتْ اَعْیُنُ الْجُبَنَاءِ (خدا کرے یہ دیکھ کر نامردوں کی آنکھیں کھلیں)
6 کہ منافقین و کفار کس راستہ پر جا رہے ہیں اور مسلمان کہاں تک انکے تشبہ اور پیروی سے علیٰحدہ رہتے ہیں۔ ہر ایک کو اس کی حالت کے منا سب بدلہ دیگا۔
Ayah 3:15776 یعنی اسی کی راہ میں۔
Ayah 3:1588 یعنی فرض کرو تم سفر یا جہاد میں نہ نکلے اور فی الحال موت سے بچ گئے مگر ضروری ہے کہ کبھی نہ کبھی مروگے یا مارے جاؤ گے پھر بہرحال خدا کے سامنے سب کو جمع ہونا ہے۔ اس وقت پتہ چل جائے گا کہ جو خوش قسمت اللہ کی راہ میں نیک کام کرتے ہوئے مرے یا مارے گئے تھے ان کو خدا تعالیٰ کی بخشش و مہربانی سے کیسا وافر حصہ ملا، جس کے سامنے تمہاری دنیا کی کمائی اور جمع کی ہوئی دولت و ثروت سب ہیچ ہے۔ الحاصل اگر منافقین ہی کا قول تسلیم کرلیا جائے کہ گھر سے نہ نکلتے تو نہ مارے جاتے، تب بھی سراسر خسارہ تھا، کیونکہ اس صورت میں اس موت سے محروم رہ جاتے جس پر ایسی ایسی لا کھوں زندگیاں قربان کی جاسکتی ہیں، بلکہ جو حقیت میں موت نہیں حیات ابدی ہے فنا فی اللہ کی تہ میں بقاء کا راز مضمر ہے جو جینا ہے تو مرنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔
Ayah 3:1599 مسلمانوں کو ان کی کوتاہیوں پر متنبہ فرمانے اور معافی کا اعلان سنانے کے بعد نصیحت کی تھی کہ آئندہ اس مار آستین جماعت کی باتوں سے فریب مت کھانا۔ اس آیت میں ان کے عفو تقصیر کی تکمیل کی گئی ہے چونکہ جنگ احد میں سخت خوفناک غلطی اور زبردست کوتاہی مسلمانوں سے ہوئی تھی، شاید آپ ﷺ کا دل خفا ہوا ہوگا اور چاہا ہوگا کہ آئندہ ان سے مشو رہ لے کر کام نہ کیا جائے، اس لئے حق تعالیٰ نے نہایت عجیب و غریب پیرایہ میں ان کی سفارش کی اول اپنی طرف سے معافی کا اعلان کردیا، کیونکہ خدا کو معلوم تھا کہ آپ ﷺ کا غصہ اور رنج خالص اپنے پروردگار کے لئے ہوتا ہے، پھر فرمایا (فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ ) 3 ۔ آل عمران :159) یعنی اللہ کی کتنی بڑی رحمت آپ پر اور ان پر ہے کہ آپ ﷺ کو اس قدر خوش اخلاق اور نرم خو بنادیا۔ کوئی اور ہوتا تو خدا جانے ایسے سخت معاملہ میں کیا رویہ اختیار کرتا، یہ سب کچھ اللہ ہی کی مہربانی ہے کہ تجھ جیسا شفیق، نرم دل پیغمبر ان کو مل گیا۔ فرض کیجئے اگر خدا نہ کردہ آپ ﷺ کا دل سخت ہوتا اور مزاج میں شدت ہوتی تو یہ قوم آپ کے گرد کہاں جمع رہ سکتی تھی، ان سے کوئی غلطی ہوتی اور آپ سخت پکڑتے تو شرم و دہشت کے مارے پاس بھی نہ آسکتے اس طرح یہ لوگ بڑی خیر وسعادت سے محروم رہ جاتے اور جمعیت اسلامی کا شیرازہ بکھر جاتا، لیکن حق تعالیٰ نے آپ کو نرم دل اور نرم خو بنایا۔ آپ اصلاح کے ساتھ ان کی کوتاہیوں سے اغماض کرتے رہتے ہیں۔ سو یہ کوتاہی بھی جہاں تک آپ کے حقوق کا تعلق ہے معاف کر دیجئے اور گو خدا اپنا حق معاف کرچکا ہے، تاہم ان کی مزید دلجوئی اور تطییب خاطر کے لئے ہم سے بھی ان کے لئے معافی طلب کریں تاکہ یہ شکستہ دل آپ کی خو شنودی اور انبساط محسوس کر کے بالکل مطمئن و منشرح ہوجائیں اور صرف معاف کردینا ہی نہیں آیندہ بدستور ان سے معاملات میں مشورہ لیا کریں، مشاورت کے بعد جب ایک بات طے ہوجائے اور پختہ ارادہ کرلیا جائے، پھر خدا پر توکل کر کے اس کو بلا پس و پیش کر گزرے۔ خدا تعالیٰ متوکلین کو پسند کرتا اور ان کے کام بنا دیتا ہے (تنبیہ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ سے سوال کیا گیا۔ " عزم " کیا ہے ؟ فرمایا مشاورۃ اہل الرائے ثم اتباعہم (ابن کثیر) اور مجمع الزوائد میں حضرت علی کی حدیث ہے یارسول اللہ جو بات ہم کتاب و سنت میں نہ پائیں اس میں کیا طریقہ استعمال کریں ؟ فرمایا فقہاء عابدین (سمجھدار خدا پرستوں) سے مشورہ کرو ولاتمضوا فیہ رائیَ خَاصَّۃٍ (اور کسی اکیلے کی رائے مت جاری کرو) ۔
Ayah 3:1601 پہلے آپ کو فرمایا تھا " بھروسہ کر اللہ پر " یہاں بتلایا کہ بھروسہ کے لائق ایسی ہی ذات ہوسکتی ہے جو سب سے زبردست اور غالب ہو سب مسلمانوں کو اس کی امداد پر توکل کرنا چاہئے۔ گویا مسلمانوں کی تقصیر خود معاف کرنے اور اپنے پیغمبر سے معاف کرا دینے کے بعد ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ کسی کے کہنے سننے میں نہ آئیں خالص خدا پر بھروسہ رکھیں، اس کی مدد ہوگی تو کوئی طاقت تم پر غالب نہیں آسکتی، جیسے " بدر " میں دیکھ چکے، اور کسی مصلحت سے وہ مدد نہ کرے تو پھر کوئی مدد نہیں کرسکتا جیسا کہ احد میں تجربہ ہوگیا۔
Ayah 3:1612 اس سے غرض یا تو مسلمانوں کی پوری طرح خاطر جمع کرنا ہے، تاکہ یہ وسوسہ نہ لائیں کہ شاید حضرت نے ہم کو بظاہر معاف کردیا اور دل میں خفا ہیں پھر کبھی خفگی نکالیں گے ؟ یہ کام نبیوں کا نہیں کہ دل میں کچھ اور ظاہر میں کچھ، یا مسلمانوں کو سمجھانا ہے کہ حضرت کی عظمت اور عصمت و امانت کو پوری طرح مستحضر رکھیں، آپ ﷺ کی نسبت کبھی کوئی لغو اور بیہودہ خیال نہ لائیں۔ مثلاً یہ گمان نہ کریں کہ غنیمت کا کچھ مال چھپا رکھیں گے ؟ (العیاذ باللہ) شاید یہ اس واسطے فرمایا کہ وہ تیرانداز غنیمت کے لئے مورچہ چھوڑ کر دوڑے تھے، کیا حضرت ﷺ ان کو حصہ نہ دیتے ؟ یا بعضی چیزیں چھپا رکھتے ؟ اور بعض روایات میں ہے کہ بدر کی لڑائی میں ایک چیز (چادر یا تلوار) غنیمت میں سے گم ہوگئی تھی، کسی نے کہا شاید حضرت نے اپنے واسطے رکھی ہوگی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، بہرحال مسلمانوں کو سمجھانا ہے کہ اگر حضور ﷺ اپنی نرم خوئی اور خوش خلقی سے تمہاری غلطیوں کو معاف کرتے ہیں تو تم کو حضور ﷺ کی عظمت شان اور عصمت و نزاہت کا بہت زیادہ پاس رکھنا چاہئے، کہ کسی قسم کا کمزور اور رکیک خیال مومنین کے پاس نہ آنے پائے۔ دوسری طرف چونکہ آپ کی شفقت و نرم دلی یاد دلا کر جنگ احد کے متعلق مسلمانوں کی کوتاہی کو معاف کرایا جا رہا تھا اسی ذیل میں ایک دوسری کوتاہی بھی یاد دلادی جو بدر سے متعلق تھی کہ آپ اپنی نرم خوئی سے اس پر بھی کچھ دھیان نہ کریں۔
(تنبیہ) " غلول " کے اصل معنی غنیمت میں خیانت کرنے کے ہیں لیکن کبھی مطلق خیانت کے معنی میں آتا ہے بلکہ بعض اوقات محض ایک چیز کے چھپا لینے پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جیسے ابن مسعود نے فرمایا غلوا مَصَاحِفَکُمْ ۔
Ayah 3:1623 یعنی پیغمبر جو ہر حال میں خدا کی مرضی کا تابع بلکہ دوسروں کو بھی اس کی مرضی کا تابع بنانا چاہتا ہے کیا ان لوگوں کے ایسے کام کرسکتا ہے جو خدا کے غضب کے نیچے اور دوزخ کے مستحق ہیں ؟ ممکن نہیں۔
Ayah 3:1634 یعنی نبی اور سب خلقت برابر نہیں، طمع وغیرہ کے پست اور ذلیل کام نبیوں سے نہیں ہوسکتے حق تعالیٰ سب کو جانتا ہے کہ کون کس درجہ کا ہے اور سب کے کام دیکھتا ہے کیا وہ ایسی پست طبیعت والوں کو منصب نبوت پر سرفراز فرمائیگا ؟ العیاذ باللہ :
Ayah 3:1645 یعنی انہی کی جنس اور قوم میں کا ایک آدمی رسول بنا کر بھیجا جس کے پاس بیٹھنا، بات چیت کرنا، زبان سمجھنا اور ہر قسم کے انوار و برکات کا استفادہ کرنا آسان ہے، اس کے احوال، اخلاق، سوانح زندگی، امانت و دیانت خدا ترسی اور پاکبازی سے وہ خوب طرح واقف ہیں اپنی ہی قوم اور کنبے کے آدمی سے جب معجزات ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں تو یقین لانے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے، فرض کرو کوئی جن یا فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا تو معجزات دیکھ کر یہ خیال کرلینا ممکن تھا کہ چونکہ جنس بشر سے جداگانہ مخلوق ہے شاید یہ خوارق اس کی خاص صورت نوعیہ اور طبیعت ملکیہ و جِنّیّہ کا نتیجہ ہوں، ہمارا اس سے عاجز رہ جانا دلیل نبوت نہیں بن سکتا، بہرحال مومنین کو خدا کا احسان ماننا چاہیے کہ اس نے ایسا رسول بھیجا جس سے بےتکلف فیض حاصل کرسکتے ہیں اور وہ باوجود معزز ترین اور بلند ترین منصب پر فائز ہونے کے ان ہی کے مجمع میں نہایت نرم خوئی اور ملاطفت کے ساتھ گھلا ملا رہتا ہے ﷺ
6 اس مضمون کی آیت سورة بقرہ میں دو جگہ گزر چکی ہے خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی چار شانیں بیان کی گئیں (1) تلاوت آیات (اللہ کی آیات پڑھ کر سنانا) جن کے ظاہری معنی وہ لوگ اہل زبان ہونے کی وجہ سے سمجھ لیتے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے (2) " تزکیہ نفوس " (نفسانی آلائشوں اور تمام مراتب شرک و معصیت سے ان کو پاک کرنا اور دلوں کو مانجھ کر صیقل بنانا) یہ چیز آیات اللہ کے عام مضامین پر عمل کرنے، حضور ﷺ کی صحبت اور قلبی توجہ و تصرف سے باذن اللہ حاصل ہوتی تھی (3) " تعلیم کتاب " (کتاب اللہ کی مراد بتلانا) اس کی ضرورت خاص خاص مواقع میں پیش آتی تھی۔ مثلاً ایک لفظ کے کچھ معنی عام تبادر اور محاورہ کے لحاظ سے سمجھ کر صحابہ کو کوئی اشکال پیش آیا، اس وقت آپ کتاب اللہ کی اصلی مراد جو قرائن مقام سے متعین ہوتی تھی بیان فرما کر شبہات کا ازالہ فرما دیتے تھے، جیسے (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ) 6 ۔ الانعام :82) اور دوسرے مقامات میں ہوا (4) " تعلیم حکمت " (حکمت کی گہری باتیں سکھلانا) اور قرآن کریم کے غامض اسرار و لطائف اور شریعت کی دقیق و عمیق علل پر مطلع کرنا، خواہ تصریحا ًیا اشارۃً ۔ آپ ﷺ نے خدا کی توفیق و اعانت سے علم و عمل کے ان اعلیٰ مراتب پر اس درماندہ قوم کو فائز کیا جو صدیوں سے انتہائی جہل و حیرت اور صریح گمراہی میں غرق تھی۔ آپ کی چند روزہ تعلیم و صحبت سے وہ ساری دنیا کے لئے ہادی و معلم بن گئی، لہذا انہیں چاہیے کہ اس نعمت عظمیٰ کی قدر پہچانیں اور کبھی بھولے سے ایسی حرکت نہ کریں جس سے آپ کا دل متالم ہو۔
Ayah 3:1657 پہلے سے احد کا قصہ چلا آتا تھا، درمیان میں جو کوتاہی ہوئی تھی اس کے عفو کا ذکر ہوا اور اسی کی مناسبت سے نبی کریم ﷺ کے اخلاق و حقوق یاد دلائے گئے۔ اب پھر احد کے قصہ کی طرف عود کیا جاتا ہے یعنی جنگ احد میں جو تکلیف اور نقصان اٹھانا پڑا کیا اس پر تم تعجب سے کہتے ہو کہ مصیبت کہاں آگئی، ہم تو مسلمان مجاہد تھے جو خدا کے راستہ میں اس کے دشمنوں سے لڑنے کے لئے نکلے تھے۔ خدا تعالیٰ پیغمبر کی زبانی نصرت و امداد کا و عدہ فرما چکا، پھر یہ مصیبت ہم پر کیونکر اور کدھر سے نازل ہوئی۔ ایسا کہتے وقت سوچنا چاہئیے کہ جس قدر تکلیف تم کو پہنچی اس سے دوچند تکلیف ان کو تم سے پہنچ چکی ہے احد میں تمہارے تقریباً ستر آدمی شہید ہوئے بدر میں ان کے ستر مارے جا چکے اور ستر تمہارے ہاتھ قید ہوئے جن پر تم کو پورا قابو حاصل تھا، چاہتے تو قتل کر ڈالتے۔ پھر احد میں بھی ابتداء ان کے بیس سے زائد قتل ہوچکے ہیں۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے تم کو ہزیمت ہوئی تو " بدر " میں ان کو تباہ کن ہزیمت مل چکی اور احد میں بھی جب تم جم کر لڑے وہ منہزم ہوئے۔ پھر آخر میں میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ ایسی صورت میں انصافاً تم کو اپنی تکلیف کا شکوہ کرنے اور زیادہ بددل ہونے کا موقع نہیں۔
8 اگر غور کرو تو تم خود ہی اس مصیبت کا سبب بنے ہو۔ تم نے جوش میں آکر پیغمبر کی اور بہت سے تجربہ کاروں کی رائے قبول نہ کی، اپنی پسند اور اختیار سے مدینہ کے باہر محاذ جنگ قائم کیا، پھر باوجود نہی شدید کے تیر اندازوں نے اہم مورچہ چھوڑ کر مرکز خالی کردیا اور ایک سال پہلے جب اساراء بدر کے متعلق تم کو اختیار دیا گیا تھا کہ یا انہیں قتل کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو ، اس شرط پر کہ آیندہ اتنے ہی آدمی تم سے لیے جائیں گے تو تم نے فدیہ کی صورت اختیار کی اور شرط کو قبول کرلیا۔ اب وہی شرط پوری کرائی گئی تو تعجب و انکار کا کیا موقع ہے یہ چیز تو خود اپنی طرف سے تم قبول کرچکے تھے (اساراء بدر کا پورا قصہ سورة انفال میں آئیگا) ۔
Ayahs 3:166–1671 جس کو جب چاہے غالب اور جب چاہے مغلوب کر دے۔ مغلوب کرنا اس لئے نہیں کہ وہ اس وقت غالب کرنے پر قادر نہ تھا، بلکہ اس لئے ہے کہ تمہارے کسب و اختیار سے صورت حال ایسی پیدا ہوگئی کہ کلی غلبہ عطا کرنے میں مصلحت نہ تھی بہرحال جو کچھ ہوا اس کے حکم و مشیت سے ہوا جس کا سبب تم تھے اور حکمت یہ تھی کہ ایک طرف ہر مومن مخلص کے ایمان و اخلاص کا اور دوسری جانب ہر منافق کے نفاق کا درجہ ظاہر ہوجائے، کھرے کھوٹے اور کچے پکے میں کسی کو کچھ التباس نہ رہے۔
2 جنگ شروع ہونے سے پہلے جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر واپس جانے لگا، اس وقت کہا گیا تھا کہ عین موقع پر کہاں بھاگتے ہو، آؤ اگر دعوائے اسلام میں سچے ہو تو اللہ کی راہ میں لڑو۔ ورنہ کم از کم دشمن کو دفع کرنے میں حصہ لو یعنی مجمع میں شریک رہو تاکہ کثرت تعداد کا اثر دشمن پر پڑے، یا یہ کہ خدا کی راہ میں دین کی خاطر نہیں لڑتے تو حمیت و طنی و قومی یا اپنے اموال و اولاد کی حفاظت کے لئے دشمن کی مدافعت کرو۔ کیونکہ دشمن اگر کامیاب ہوا تو انتقام لینے میں مومنین و منافقین کی تمیز نہ کریگا۔ عام مسلمانوں کی طرح تم بھی نقصان اٹھاؤ گے، غرض ان پر ہر طرح ان کے مذاج کے موافق اتمام حجت کیا گیا۔ تاکہ جو کچھ دلوں میں ہے اعلانیہ ظاہر ہوجائے۔
7 یعنی لڑائی ہوتی نظر نہیں آتی، خواہ مخواہ کا ڈھونگ ہے اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ واقعی لڑائی ہونیوالی ہے تو ضرور تمہارے ساتھ چلتے، جب لڑائی دیکھیں گے شامل ہو جائینگے یا یہ مطلب تھا کہ کوئی ڈھنگ کا مقابلہ ہوتا تو ساتھ رہتے۔ بھلا یہ کوئی مقابلہ ہے کہ ایک طرف تین ہزار کا لشکر اور دوسری طرف صرف ایک ہزار بےسرو سامان آدمی۔ یہ لڑائی کیا ہے محض اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے یا لَوْنَعْلَمُ قِتَالًا سے یہ ظاہر کرتے تھے کہ صاحب ! ہم فنون جنگ اور لڑائی کے قاعدوں سے واقف ہوتے تو آپ کے ساتھ رہتے گویا دل میں طعنہ دیا کہ ہمارے مشورہ پر چلے نہیں اوروں کی رائے پر عمل کیا۔ تو ہم کو لڑائی کے قاعدوں سے ناواقف سمجھے اور آپ واقف بنے، پھر ہمیں ساتھ کیوں لیتے ہو ؟ بہرحال جھوٹے حیلے حوالے کر کے چلے گئے۔
4 منافقین دل سے کافر اور زبان سے ایمان کا اظہار کرتے تھے اور اسی زبانی اسلام کی بناء پر مسلمانوں میں ملے جلے رہتے تھے۔ اس روز عین موقع پر پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو چھوڑ کر چلے جانے اور جھوٹے حیلے تراشنے سے اچھی طرح نفاق کی قلعی کھل گئی۔ اب ظاہر میں بھی بہ نسبت ایمان کے کفر سے زیادہ قریب ہوگئے اور اپنے فعل سے مسلمانوں کو نقصان اور کافروں کو تقویت پہنچائی۔
5 یعنی زبان سے (قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّااتَّبَعْنٰكُمْ ) 3 ۔ آل عمران :167) کہتے ہیں اور جو دل میں ہے صاف نہیں کہتے۔ دل میں یہ تھا کہ اچھا ہے مسلمان مغلوب و ذلیل ہوں اور ہم خوشی سے بغلیں بجائیں۔
Ayah 3:1686 یعنی خود نامرد بن کر بیٹھ رہے اور اپنی برادری کے بھائیوں (انصار مدینہ) کو کہتے ہیں کہ ہماری بات مان کر گھر میں بیٹھے رہتے تو مارے نہ جاتے۔
7 یعنی اگر گھر میں بیٹھ رہنے سے جان بچ سکتی ہے تو دیکھیں موت کو گھر میں کس طرح نہ آنے دینگے۔ اگر یہاں رہ کر بھی موت پیچھا نہیں چھوڑتی تو پھر بہادروں کی طرح میدان میں عزت کی موت کیوں نہ مریں۔
Ayahs 3:169–1711 یعنی گھر میں بیٹھے رہنے سے موت تو رک نہیں سکتی، ہاں آدمی اس موت سے محروم رہتا ہے جس کو موت کے بجائے حیات جاودانی کہنا چاہئے۔ شہیدوں کو مرنے کے بعد ایک خاص طرح کی زندگی ملتی ہے جو اور مردوں کو نہیں ملتی، ان کو حق تعالیٰ کا ممتاز قرب حاصل ہوتا ہے۔ بڑے عالی درجات و مقامات پر فائز ہوتے ہیں۔ جنت کا رزق آزادی سے پہنچتا ہے جس طرح ہم اعلیٰ درجہ کے ہوائی جہازوں میں بیٹھ کر ذرا سی دیر میں جہاں چاہیں اڑے چلے جاتے ہیں، شہداء کی ارواح " حواصل طیور خضر " میں داخل ہو کر جنت کی سیر کرتی رہتی ہیں۔ ان " طیور خضر " کی کیفیت و کلانی کو اللہ ہی جانے، وہاں کی چیزیں ہمارے احاطہ خیال میں کہاں آسکتی ہیں۔ اس وقت شہداء بیحد مسرور ومبتہج ہوتے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل سے دولت شہادت عنایت فرمائی، اپنی عظیم نعمتوں سے نوازا اور اپنے فضل سے ہر آن مزید انعامات کا سلسلہ قائم کردیا، جو وعدے شہیدوں کے لئے پیغمبر ﷺ کی زبانی کئے گئے تھے انہیں آنکھوں سے مشاہدہ کر کے بےانتہا خوش ہوتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ خیال و گمان سے بڑھ کر بدلہ دیتا ہے پھر نہ صرف یہ کہ اپنی حالت پر شاداں وفرحاں ہوتے ہیں بلکہ اپنے ان مسلمان بھائیوں کا تصور کر کے بھی انہیں ایک خاص خوشی حاصل ہوتی ہے جن کو اپنے پیچھے جہاد فی سبیل اللہ اور دوسرے امور خیر میں مشغول چھوڑ آئے ہیں کہ وہ بھی اگر ہماری طرح اللہ کی راہ میں مارے گئے یا کم از کم ایمان پر مرے تو اپنی اپنی حیثیت کے موافق ایسی ہی پر لطف اور بےخوف زندگی کے مزے لوٹیں گے۔ نہ ان کو اپنے آگے کا ڈر ہوگا نہ پیچھے کا غم، مامون و مطمئن سیدھے خدا کی رحمت میں داخل ہوجائیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ شہدائے احد یا شہدائے بیر معونہ نے خدا کے ہاں پہنچ کر تمنا کی تھی کاش ہمارے اس عیش وتنعم کی خبر کوئی ہمارے بھائیوں کو پہنچادے تاکہ وہ بھی اس زندگی کی طرف جھپٹیں اور جہاد سے جان نہ چرائیں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ میں پہنچاتا ہوں۔ اس پر یہ آیات نازل کیں اور ان کو مطلع کردیا گیا کہ ہم نے تمہاری تمنا کے موافق خبر پہنچا دی اس پر وہ اور زیادہ خوش ہوئے۔
Ayahs 3:172–1732 ابو سفیان جب احد سے مکہ کو واپس گیا تو راستہ میں خیال آیا کہ ہم نے بڑی غلطی کی، ہزیمت یافتہ اور زخم خوردہ مسلمانوں کو یونہی چھوڑ کر چلے آئے، مشورے ہونے لگے کہ پھر مدینہ واپس چل کر ان کا قصہ تمام کردیں، آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو اعلان فرما دیا کہ جو لوگ کل ہمارے ساتھ لڑائی میں حاضر تھے آج دشمن کا تعاقب کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ مسلمان مجاہدین باوجودیکہ تازہ زخم کھائے ہوئے تھے، اللہ اور رسول کی پکار پر نکل پڑے۔ آپ ﷺ ان مجاہدین کی جمعیت لے کر مقام حمراء الاسد تک (جو مدینہ سے آٹھ میل ہے) پہنچے۔ ابو سفیان کے دل میں یہ سن کر کہ مسلمان اس کے تعاقب میں چلے آرہے ہیں، سخت رعب و دہشت طاری ہوگئی، دوبارہ حملہ کا ارادہ فسخ کر کے مکہ کی طرف بھاگا۔ عبدالقیس کا ایک تجارتی قافلہ مدینہ آرہا تھا۔ ابو سفیان نے ان لوگوں کو کچھ دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں شائع کریں جن کو سن کر مسلمان ہماری طرف سے مرعوب و خوفزدہ ہوجائیں۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ مکہ والوں نے بڑا بھاری لشکر اور سامان مسلمانوں کے استیصال کی غرض سے تیار کیا ہے۔ یہ سن کر مسلمانوں کے دلوں میں خوف کی جگہ جوش ایمان بڑھ گیا اور کفار کی جمیعت کا حال سن کر کہنے لگے۔ (حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ) 3 ۔ آل عمران :173) ساری دنیا کے مقابلہ میں اکیلا خدا ہم کو کافی ہے۔ اسی پر یہ آیات نازل ہوئیں، بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد تمام ہونے پر ابو سفیان نے اعلان کیا تھا کہ اگلے سال بدر پر پھر لڑائی ہے، حضرت ﷺ نے قبول کرلیا۔ جب اگلا سال آیا حضرت محمد ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ جہاد کیلئے چلو۔ اگر کوئی نہ جائیگا تب بھی اللہ کا رسول تنہا جائیگا۔ ادھر سے ابو سفیان فوج لیکر مکہ سے نکلا تھوڑی دور چل کر کمر ہمت ٹوٹ گئی، رعب چھا گیا، قحط سالی کا عذر کر کے چاہا مکہ واپس جائے، مگر صورت ایسی ہو کہ الزام مسلمانوں پر رہے، ایک شخص مدینہ جاتا تھا، اس کو کچھ دینا کیا کہ وہاں پہنچ کر اس طرف کی ایسی خبریں مشہور کرنا جن کو سن کر مسلمان خوف کھائیں اور جنگ کو نہ نکلیں وہ مدینہ پہنچ کر کہنے لگا کہ مکہ والوں نے بڑی بھاری جمعیت اکٹھی کی ہے تم کو لڑنا بہتر نہیں مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے استقلال دیا۔ انہوں نے یہ ہی کہا کہ ہم کو اللہ کافی ہے۔ آخر مسلمان حسب وعدہ بدر پہنچے، وہاں بڑا بازار لگتا تھا، تین روز رہ کر تجارت کر کے خوب نفع کما کر مدینہ واپس آئے اس غزوہ کو بدر صغریٰ کہتے ہیں۔ اس وقت جن لوگوں نے رفاقت کی اور تیار ہوئے ان کو بشارت ہے کہ احد میں رحم کھا کر اور نقصان اٹھا کر پھر ایسی جرات کی۔ مسلمانوں کی اس جرات و مستعدی کی خبر سن کر مشرکین راستہ سے لوٹ گئے چناچہ مکہ والوں نے اس مہم کا نام " جیش السویق " رکھ دیا۔ یعنی وہ لشکر جو محض ستو پینے گیا تھا پی کر واپس آگیا
(تنبیہ) یہ جو فرمایا (لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا) 3 ۔ آل عمران :172) محض ان کی مدح سرائی اور تنویہ شان کیلئے ہے اور نہ وہ سب کے سب ایسے ہی تھے۔
Ayah 3:1743 یعنی اللہ کا فضل دیکھو نہ کچھ لڑائی کرنی پڑی نہ کانٹا چبھا، مفت میں ثواب کمایا، تجارت میں نفع حاصل کر کے اور دشمنوں پر دھاک بٹھلا کر خدا تعالیٰ کی خوشنودی لئے ہوئے صیحح سلامت گھر واپس آگئے۔ (تنبیہ) بدر صغریٰ کی طرح غزوہ حمراء الاسد میں بھی ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ سامان کی خریدو فروخت ہوئی تھی اور مسلمانوں نے بھاری نفع کمایا تھا غا لباً فضل سے یہ ہی مالی نفع مراد ہے۔
Ayah 3:1754 یعنی جو ادھر سے آکر مرعوب کن خبریں پھیلاتا ہے وہ شیطان ہے یا شیطان کے اغواء سے ایسا کر رہا ہے جس کی غرض یہ ہے کہ اپنے چیلے چانٹوں اور بھائی بندوں کا رعب تم پر بٹھلا کر خوفزدہ کردے، سو تم اگر ایمان رکھتے ہو (اور ضرور رکھتے ہو جس کا ثبوت عملا ً دے چکے) تو ان شیطانوں سے اصلا مت ڈرو صرف مجھ سے ڈرتے رہو کہ ہر کہ ترسید از حق وتقویٰ گزید ترسدازوے جن وانس و ہر کہ دید
Ayah 3:1761 یعنی شیطان کی دھمکیوں سے مومن نہیں ڈرتے ہاں منافق اس کی باتیں سن کر کفر کی طرف دوڑتے ہیں آپ ان ملعون منافقوں کی حرکات سے کچھ غمگین اور فکرمند نہ ہوں یہ اللہ کے دین اور اس کے پیغمبر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ان کا حد سے زیادہ نفاق و شقاق پتہ دے رہا ہے کہ حق تعالیٰ انہیں انجام کار حقیقی کامیابی اور فوائد سے محروم رکھے گا اور بہت سخت سزا دیگا۔ جو لوگ ایسے معاند اور شریر کجرو ہوں اللہ کی عادت ان کے ساتھ یہ ہی ہے۔ ایسوں کے غم میں اپنے کو زیادہ گھلانے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 3:1772 یعنی جنہوں نے ایمانی فطرت کو بدل کر کفر اختیار کیا، خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین، یا منافقین، یا کوئی اور وہ سب مل کر بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ہاں اپنے پاؤں پر خود اپنے ہاتھ سے کلہاڑی مار رہے ہیں جس کا نتیجہ دردناک عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑیگا۔
Ayah 3:1783 یعنی ممکن ہے کافروں کو اپنی لمبی عمریں خو شحالی اور دولت و ثروت وغیرہ کی فراوانی دیکھ کر خیال گزرے کہ ایسے مغضوب و مطرود ہوتے تو ہم کو اتنی فراخی اور مہلت کیوں دی جاتی اور ایسی بھلی حالت میں کیوں رکھے جاتے ؟ سو واضح رہے کہ یہ مہلت دینا ان کے حق میں کچھ بھلی بات نہیں مہلت دینے کا نتیجہ تو یہ ہی ہوگا کہ جن کو گناہ سمیت کفر پر مرنا ہے وہ اپنے اختیار اور آزادی سے خوب جی بھر کر ارمان نکال لیں اور گناہوں کا ذخیرہ فراہم کرلیں۔ وہ سمجھتے رہیں کہ ہم بڑی عزت سے ہیں حالانکہ ذلیل و خوار کرنیوالا عذاب ان کے لئے تیار ہے اب سوچ لیں کہ مہلت دینا ان جیسوں کے حق میں بھلا ہو یا برا۔ نعوذ باللّٰہِ من شرور انفسنا۔
Ayah 3:1794 یعنی جس طرح خو شحالی اور مہلت دینا کفار کے حق میں مقبولیت کی دلیل نہیں، اسی طرح اگر مخلص مسلمانوں کو مصائب اور ناخوشگوار حوادث پیش آئیں (جیسے جنگ احد میں آئے) یہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک مغضوب ہیں، بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس گول مول حالت پر چھوڑنا نہیں چاہتا جس پر اب تک رہے ہیں۔ یعنی بہت سے کافر ازراہ نفاق کلمہ پڑھ کر دھوکہ دینے کے لئے ان میں ملے جلے رہتے تھے جن کے ظاہر حال پر منافق کا لفظ کہنا مشکل تھا۔ لہذا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے واقعات و حالات بروئے کار لائے جو کھرے کو کھوٹے سے اور پاک کو ناپاک سے کھلے طور پر جدا کردیں۔ بیشک خدا کو آسان تھا کہ تمام مسلمانوں کو بدون امتحان میں ڈالے منافقوں کے ناموں اور کاموں سے مطلع کردیتا لیکن اس کی حکمت و مصلحت مقتضی نہیں کہ سب لوگوں کو اس قسم کے غیوب سے آگاہ کردیا کرے۔ ہاں وہ اپنے رسولوں کا انتخاب کر کے جس قدر غیوب کی یقینی اطلاع دینا چاہے دے دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ عام لوگوں کو بلاواسطہ کسی غیب کی یقینی اطلاع نہیں دیجاتی انبیاء (علیہم السلام) کو دیجاتی ہے۔ مگر جس قدر خدا چاہے۔
5 یعنی خدا کا جو خاص معاملہ پیغمبروں سے ہے اور پاک و ناپاک کو جدا کرنے کی نسبت جو عام عادت حق تعالیٰ کی رہی ہے، اس میں زیادہ کاوش کی ضرورت نہیں، تمہارا کام یہ ہے کہ اللہ و رسول کی باتوں پر یقین رکھو اور تقو یٰ و پرہیز گاری پر قائم رہو، یہ کرلیا تو سب کچھ کما لیا۔
Ayah 3:1806 ابتدائے سورت کا بڑا حصہ اہل کتاب (یہود نصاریٰ ) سے متعلق تھا۔ درمیان میں خاص مناسبات و وجوہ کی بنا پر غزوہ احد کی تفصیلات آگئیں۔ انہیں بقدر کفایت تمام کر کے یہاں سے پھر اہل کتاب کی شنائع بیان کی جاتی ہیں، چونکہ ان میں سے یہود کا معاملہ بہت مضرت رساں اور تکلیف دہ تھا، منافقین بھی اکثر ان ہی میں کے تھے، اور اوپر کی آیت میں آگاہ کیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ اب خبیث کو طیب سے جدا کر کے رہیگا۔ سو یہ جدائی جس طرح جانی و بدنی جہاد کے وقت ظاہر ہوتی تھی اسی طرح مالی جہاد کے وقت بھی کھرا کھوٹا اور کچا پکا صاف طور پر الگ ہوجاتا تھا اس لئے بتلا دیا کہ یہود منافقین جیسے جہاد کے موقع سے بھاگتے ہیں، مال خرچ کرنے سے بھی جی چراتے ہیں لیکن جس طرح جہاد سے بچ کر دنیا میں چند روز کی مہلت حاصل کرلینا ان کے حق میں کچھ بہتر نہیں، ایسے ہی بخل کر کے بہت مال اکٹھا کرلینا بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اگر دنیا میں فرض کرو کوئی مصیبت پیش نہ بھی آئی تو قیامت کے دن یقینا یہ جمع کیا ہوا مال عذاب کی صورت میں ان کے گلے کا ہار بن کر رہیگا۔ اس میں مسلمانوں کو بھی کھٹکھٹا دیا کہ زکوٰۃ دینے اور ضروری مصارف میں خرچ کرنے سے کبھی جی نہ چرائیں، ورنہ جو شخص بخل و حرص وغیرہ رذیل خصلتوں میں یہود منافقین کی روش اختیار کریگا، اسے بھی اپنے درجہ کے موافق اسی طرح کی سزا کا منتظر رہنا چاہیئے۔ چناچہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، کہ مانعین زکوٰۃ کا مال سخت زہریلے اژد ہے کی صورت میں متمثل کر کے ان کے گلے میں ڈالا جائیگا۔ نعوذ باللہ منہ۔
7 یعنی آخر تم مرجاؤ گے اور سب مال اسی کا ہو رہیگا۔ جس کا حقیقت میں پہلے سے تھا۔ انسان اپنے اختیار سے دے تو ثواب پائے۔
8 یعنی بخل یا سخاوت جو کچھ کرو گے اور جیسی نیت کرو گے خدا تعالیٰ سب کی خبر رکھتا ہے اسی کے موافق بدلہ دیگا۔
Ayah 3:1811 یعنی محض اتنا ہی نہیں کہ یہود انتہائی بخل کی وجہ سے پیسہ خرچ کرنا نہیں جانتے، بلکہ جب خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم سنتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں اور حق تعالیٰ کی جناب میں گستاخانہ کلمات بکنے سے بھی نہیں شرماتے۔ چناچہ جب آیت (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا) 2 ۔ البقرۃ :245) نازل ہوئی، کہنے لگے اللہ ہم سے قرض مانگتا ہے تو اللہ فقیر محتاج ہے اور ہم غنی مالدار ہیں، حالانکہ ایک غبی اور کوڑھ مغز بھی سمجھ سکتا ہے کہ انفاق فی وجوہ الخیر کو قرض سے تعبیر فرمانے میں انتہائی رحمت و شفقت کا اظہار تھا۔ ظاہر ہے کہ خدا اپنا دیا ہوا مال ہم سے ہماری مصالح میں ہمارے ہی دنیاوی و اخروی فائدہ کے لئے خرچ کراتا ہے، اس کو ہمارے خرچ سے کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا اور بفرض محال پہنچے بھی تو مال اور ہر چیز اسی کی مملوک ہے۔ پھر حقیقی معنی میں اس کو قرض کیسے کہہ سکتے ہیں۔ یہ اس کا کمال کرم و احسان ہے کہ اس خرچ کا بہترین معاوضہ دینا بھی اپنے ذمہ لازم کرلیا اور اس کو لفظ قرض سے ادا کر کے اس لزوم کو بھی حد موکدہ مسجل کردیا۔ مگر یہود اپنی کور چشمی اور خبث باطن سے احسان ماننے کے بجائے ان لفظوں کی ہنسی اڑانے لگے اور اللہ تعالیٰ کی جانب رفیع میں مسخراپن کرنے سے باز نہ رہے، اس کو فرمایا کہ اللہ نے تمہاری یہ باتیں سن لیں۔ اس پر جو کاروائی ہوگی اس کے منتظر رہو۔
2 یعنی عام ضابطہ کے موافق یہ ملعون اور ناپاک اقوال تمہارے دفتر سیئات میں درج کرائے دیتے ہیں۔ جہاں تمہاری قوم کے دوسرے ملعون اور ناپاک افعال درج ہیں۔ مثلا معصوم نبیوں کا ناحق خون بہانا کیونکہ جس طرح یہ نالائق جملہ ایک نمونہ ہے تمہاری خدا شناسی کا، وہ نالائق کام نمونہ ہے تمہاری تعظیم انبیاء کا، جب یہ پوری مسل پیش ہوگی اس وقت کہا جائیگا کہ لو اپنی شرارتوں کا مزہ چکھو۔ اور جس طرح تم نے طعن و تمسخر سے اولیاء اللہ کے دل جلائے تھے، اب عذاب الٰہی کی بھٹی میں جلتے رہو۔
Ayah 3:1823 یعنی جو کمایا تھا سامنے آیا۔ خدا کے یہاں ذرہ برابر ظلم نہیں۔ (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ) 4 ۔ النسآء :40) اگر بفرض محال ظلم کرنا خدا کی صفت ہوتی تو اس کی دوسری صفات کی طرح وہ بھی کامل ہی ہوتی اس لئے اگر معاذ اللہ خدا کو ظالم فرض کیا جائے تو پھر " ظالم " کیا " ظلام " ہی کہنا پڑیگا۔ اس کا ایک رتی ظلم بھی پہاڑوں سے کم نہیں ہوسکتا گویا " ظلام " کا صیغہ لا کر متنبہ کردیا کہ اس کی بارگاہ میں ادنیٰ سے ادنیٰ ظلم تجویز کرنا، انتہائی ظالم قرار دینے کا مرادف ہے (وَتَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا) 17 ۔ الاسراء :43) ۔
Ayah 3:1834 بعضے رسولوں سے یہ معجزہ ظاہر ہوا تھا کہ قربانی یا کوئی چیز اللہ نام کی نیاز کی تو آسمان سے آگ آکر اس کو کھا گئی، یہ علامت تھی اس کے قبول ہونے کی، چناچہ موجودہ " بائبل " میں بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق ایسا واقعہ مذکور ہے۔ اب یہود بہانہ پکڑتے تھے کہ ہم کو یہ حکم ہے کہ جس سے یہ معجزہ نہ دیکھیں اس پر یقین نہ لائیں اور یہ محض جھوٹے بہانے تھے اس قسم کا کوئی حکم ان کی کتابوں میں موجود نہ تھا، نہ آج موجود ہے اور نہ ہر ایک نبی کی نسبت یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ اس کو یہ معجزہ ملا تھا۔ ہر پیغمبر کو حق تعالیٰ نے اوقات و احوال کے مناسب معجزات دئیے ہیں۔ لازم نہیں کہ ہر نبی ایک ہی معجزہ دکھلائے تو سچا ثابت ہو۔
5 یعنی اگر واقعی اپنے دعوے میں سچے ہو اور اسی خاص معجزہ کے دکھلانے پر تمہارا ایمان لانا موقوف ہے تو پہلے ایسے نبیوں کو تم نے کیوں قتل کیا جو اپنی صداقت کی کھلی نشانیوں کے ساتھ خاص یہ معجزہ بھی لیکر آئے تھے تمہارے اسلاف کا یہ فعل جس پر تم بھی آج تک راضی ہو، کیا اس کی دلیل نہیں کہ یہ سب تمہاری حیلہ سازی اور ہٹ دھرمی ہے کہ کوئی پیغمبر جب تک خاص یہ ہی معجزہ نہ دکھلائیگا ہم نہ مانیں گے۔
Ayah 3:1846 آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ان ملعونوں کی کج بحثی اور ہٹ دھرمی سے ملول و دلگیر نہ ہوں اور نہ دوسرے مکذبین کی پروا کریں۔ آپ سے پہلے کتنے رسول جھٹلائے جاچکے ہیں جو صاف نشانیاں (معجزات) چھو ٹے صحیفے اور بڑی روشن کتابیں لے کر آئے تھے۔ انبیائے صادقین کی تکذیب معاندین کی قدیم عادت رہی ہے۔ آپ کو کچھ انوکھی بات پیش نہیں آئی۔
Ayah 3:1857 یعنی موت کا مزہ سب کو چکھنا ہے، اس کے بعد قیامت کے دن ہر جھوٹے سچے اور مصدق و مکذب کو اپنے اپنے کئے کا پورا بدلہ مل رہیگا " پورے کا یہ مطلب کہ کچھ تھوڑا سا ممکن ہے قیامت سے پہلے ہی مل جائے مثلا دنیا میں یا قبر میں "۔
8 یعنی دنیا کی عارضی بہار اور ظاہری ٹیپ ٹاپ بہت دھوکہ میں ڈالنے والی چیز ہے جس پر مفتون ہو کر اکثر بیوقوف آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ انسان کی اصلی کامیابی یہ ہے کہ یہاں رہ کر انجام کو سو چے اور وہ کام کرے جو عذاب الٰہی سے بچانے والا اور جنت تک پہنچا نے والا ہو۔
(تنبیہ) آیت میں ان بعض متصوفین کا بھی رد ہوگیا جو دعوے کیا کرتے ہیں کہ ہمیں نہ جنت کی طلب، نہ دوزخ کا ڈر، معلوم ہوا کہ دوزخ سے دور رہنا اور جنت میں داخل ہوجانا ہی اصل کامیابی ہے۔ کوئی اعلیٰ ترین کامیابی جنت سے باہر رہ کر نصیب نہیں ہوسکتی۔ وفی الحدیث وَحَوْلَھَا نُدْنِدن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے ہم کو بھی یہ کامیابی عنایت فرمائے۔
Ayah 3:1861 یہ خطاب مسلمانوں کو ہے کہ آیندہ بھی جان و مال میں تمہاری آزمائش ہوگی اور ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑینگی قتل کیا جانا زخمی ہونا، قیدو بند کی تکلیف اٹھانا، بیمار پڑنا، اموال کا تلف ہونا اقارب کا چھوٹنا، اس طرح کی سختیاں پیش آئینگی، نیز اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے بہت جگر خراش اور دل آزار باتیں سننا پڑینگی۔ ان سب کا علاج صبر وتقویٰ ہے۔ اگر صبر و استقلال اور پرہیزگاری سے ان سختیوں کا مقابلہ کرو گے تو یہ بڑی ہمت اور اولوالعزمی کا کام ہوگا۔ جس کی تاکید حق تعالیٰ نے فرمائی ہے۔
(تنبیہ) بخاری کی ایک حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت بدر سے پہلے نازل ہوئی، قتال کا حکم اس کے بعد ہوا، تاہم صبر وتقویٰ کا حکم مشروعیت قتال کے باوجود بھی فی الجملہ باقی ہے جس پر اخیر تک عمل ہوتا رہا ہے۔ ہاں صبر و عفو اور تغلیظ و تشدید کے مواقع کا پہچاننا ضروری ہے۔ جو نصوص شرعیہ سے معلوم ہوسکتے ہیں۔ اس آیت کو یہاں رکھنے سے شاید یہ غرض ہے کہ تم ان کفار و منافقین کی گستاخیوں اور شرارتوں پر حد سے زیادہ طیش مت کھاؤ۔ ابھی بہت کچھ سننا پڑے گا۔ تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی۔ صبر و استقلال سے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہو۔ نیز دنیا کی زندگانی میں پڑ کر جو محض دھوکہ کی ٹٹی ہے، اس بات سے غافل نہ ہونا کہ خدا تعالیٰ جان اور مال دونوں میں تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔
Ayah 3:1872 یعنی علمائے اہل کتاب سے عہد لیا گیا تھا کہ جو احکام و بشارات کتاب اللہ میں ہیں انہیں صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کرینگے اور کوئی بات نہیں چھپائیں گے نہ ہیر پھیر کر کے ان کے معنی بدلیں گے، مگر انہوں نے ذرہ برابر پروا نہ کی اور دنیا کے تھوڑے سے نفع کی خاطر سب عہد و پیمان توڑ کر احکام شریعت بدل ڈالے آیات اللہ میں لفظی و معنوی تحریفات کیں جس چیز کا ظاہر کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا یعنی پیغمبر آخرالزماں کی بشارت، اسی کو سب سے زیادہ چھپایا، جس قدر مال خرچ کرنے میں بخل کرتے اس سے بڑھ کر علم خرچ کرنے میں کنجوسی دکھائی۔ اور اس کنجوسی کا منشاء بھی مال و جاں اور متاع دنیا کی محبت کے سوا کچھ نہ تھا، یہاں ضمنا مسلمان اہل علم کو متنبہ فرما دیا کہ تم دنیا کی محبت میں پھنس کر ایسا نہ کرنا۔
Ayah 3:1883 یہود مسئلے غلط بتاتے، رشوتیں کھاتے اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صفات و بشارات جان بوجھ کر چھپاتے تھے پھر خوش ہوتے کہ ہماری چالاکیوں کو کوئی پکڑ نہیں سکتا اور امید رکھتے کہ لوگ ہماری تعریف کریں کہ بڑے عالم اور دیندار حق پرست ہیں۔ دوسری طرف منافقین کا حال بھی ان کے مشابہ تھا۔ جب جہاد کا موقع آتا گھر میں چھپ کر بیٹھ رہتے اور اپنی اس حرکت پر خوش ہوتے کہ دیکھو کیسے جان بچائی۔ جب حضور ﷺ جہاد سے واپس تشریف لاتے تو غیر حاضری کے جھوٹے عذرپیش کر کے چاہتے کہ آپ سے اپنی تعریف کرائیں، ان سب کو بتلا دیا گیا کہ یہ باتیں دنیا و آخرت میں خدا کے عذاب سے نہیں چھڑا سکتیں۔ اول تو ایسے لوگ دنیا ہی میں فضیحت ہوتے ہیں اور کسی وجہ سے یہاں بچ گئے تو وہاں کسی تدبیر سے نہیں چھوٹ سکتے
(تنبیہ) آیت میں گو تذکرہ یہود یا منافقین کا ہے لیکن مسلمانوں کو بھی سنانا ہے کہ برا کام کر کے خوش نہ ہوں، بھلا کر کے اترائیں نہیں اور جو اچھا کام کیا نہیں اس پر تعریف کے امیدوار نہ رہیں۔ بلکہ کرنے کے بعد بھی مدح سرائی کی ہوس نہ رکھیں۔
Ayah 3:1894 جب آسمان و زمین میں اسی کی سلطنت ہے تو مجرم بھاگ کر پناہ کہاں لے سکتا ہے اور جو ہر چیز پر قادر ہے اس کے نفوذ و اختیار سے کون باہر ہوسکتا ہے۔
Ayah 3:1905 یعنی عقلمند آدمی جب آسمان و زمین کی پیدائش اور ان کے عجیب و غریب احوال و روابط اور دن رات کے مضبوط و محکم نظام میں غور کرتا ہے تو اس کو یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ سارا مرتب و منظم سلسلہ ضرور کسی ایک مختار کل اور قادر مطلق فرمانروا کے ہاتھ میں ہے جس نے اپنی عظیم قدرت و اختیار سے ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی حد بندی کر رکھی ہے۔ کسی چیز کی مجال نہیں کہ اپنے محدود وجود اور دائرہ عمل سے باہر قدم نکال سکے۔ اگر اس عظیم الشان مشین کا ایک پرزہ یا اس کارخانہ کا ایک مزدور بھی مالک علی الاطلاق کی قدرت و اختیار سے باہر ہوتا تو مجموعہ عالم کا یہ مکمل و محکم نظام ہرگز قائم نہ رہ سکتا۔
Ayah 3:1916 یعنی کسی حال خدا سے غافل نہیں ہوتے۔ اس کی یاد ہمہ وقت ان کے دل میں اور زبان پر جاری رہتی ہے جیسے حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی نسبت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کان یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ نماز بھی خدا کی بہت بڑی یاد ہے، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو کھڑا ہو کر نہ پڑھ سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر پڑھ لے بعض روایات میں ہے کہ جس رات میں یہ آیات نازل ہوئیں نبی کریم ﷺ کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر حالت میں اللہ کو یاد کر کے روتے رہے۔
1 یعنی ذکر و فکر کے بعد کہتے ہیں کہ خداوندا ! یہ عظیم الشان کارخانہ آپ نے بیکار پیدا نہیں کیا، جس کا کوئی مقصد نہ ہو یقیناً ان عجیب و غریب حکیمانہ انتظامات کا سلسلہ کسی عظیم و جلیل نتیجہ پر منتہی ہونا چاہئے۔ گویا یہاں سے ان کا ذہن تصور آخرت کی طرف منتقل ہوگیا جو فی الحقیقت دنیا کی موجودہ زندگی کا آخری نتیجہ ہے اسی لئے آگے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رہنے کی دعاء کی، اور درمیان میں خدا تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہ بیان کر کے اشارہ کردیا کہ جو احمق قدرت کے ایسے صاف وصریح نشان دیکھتے ہوئے تجھ کو نہ پہچانیں یا تیری شان کو گھٹائیں یا کار خانہ عالم کو محض عبث و لعب سمجھیں، تیری بارگاہ ان سب کی ہزلیات و خرافات سے پاک ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین اور دیگر مصنوعات الٰہیہ میں غور و فکر کرنا وہی محمود ہوسکتا ہے جس کا نتیجہ خدا کی یاد اور آخرت کی طرف توجہ ہو باقی جو مادہ پرست ان مصنوعات کے تاروں میں الجھ کر رہ جائیں اور صانع کی صحیح معرفت تک نہ پہنچ سکیں، خواہ دنیا انہیں بڑا محقق اور سائنسداں کہا کرے، مگر قرآن کی زبان میں وہ اولو الالباب نہیں ہوسکتے، بلکہ پرلے درجہ کے جاہل و احمق ہیں۔
Ayah 3:1922 جو شخص جتنی دیر دوزخ میں رہے گا اسی قدر رسوائی سمجھو۔ اس قاعدہ سے دائمی رسوائی صرف کفار کے لئے ہے جن آیات میں عامہ مومنین سے خزی (رسوائی) کی نفی کی گئی ہے و ہاں یہ ہی معنی سمجھنے چاہیئں۔
3 یعنی جس کو خدا دوزخ میں ڈالنا چاہے، کوئی حمایت کر کے بچا نہیں سکتا، ہاں جن کو ابتداء میں یا آخر میں چھوڑنا اور معاف کردینا ہی منظور ہوگا (جیسے عصاۃ مومنین) ان کے لئے شفعاء کو اجازت دی جائیگی کہ سفارش کر کے بخشوائیں۔ وہ اس کے مخالف نہیں، بلکہ آیات و احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
Ayah 3:1934 یعنی نبی کریم ﷺ جنہوں نے بڑی اونچی آواز سے دنیا کو پکارا۔ یا قرآن کریم جس کی آواز گھر گھر میں پہنچ گئی۔
5 پہلے ایمان عقلی کا ذکر تھا، یہ ایمان سمعی ہوا جس میں ایمان بالرسول اور ایمان بالقرآن بھی درج ہوگیا۔
6 یعنی ہمارے بڑے گناہ بخش دے، اور چھوٹی موٹی برائیوں پر پردہ ڈال دے اور جب اٹھانا ہو نیک بندوں کے زمرہ میں شامل کر کے دنیا سے اٹھالے۔
Ayah 3:1947 یعنی پیغمبروں کی زبانی، ان کی تصدیق کرنے پر جو وعدے آپ نے کئے ہیں (مثلا دنیا میں آخرکار اعداء اللہ پر غالب و منصور کرنا اور آخرت میں جنت و رضوان سے سرفراز فرمانا) ان سے ہم کو اس طرح بہرہ اندوز کیجئے کہ قیامت کے دن ہماری کسی قسم کی ادنیٰ سے ادنیٰ رسوائی بھی نہ ہو۔
8 یعنی آپ کے ہاں تو وعدہ خلافی کا احتمال نہیں، ہم میں احتمال ہے کہ مبادا ایسی غلطی نہ کر بیٹھیں جو آپ کے وعدوں سے مستفید نہ ہوسکیں۔ اس لئے درخواست ہے کہ ہم کو ان اعمال پر مستقیم رہنے کی توفیق دیجئے جن کی آپ کے وعدوں سے متمتع ہونے کے لئے ضرورت ہے۔
Ayah 3:1959 یعنی مرد ہو یا عورت ہمارے ہاں کسی کی محنت ضائع نہیں جاتی۔ جو کام کریگا اس کا پھل پائیگا، یہاں عمل شرط ہے۔ نیک عمل کر کے ایک عورت بھی اپنی استعداد کے موافق آخرت کے وہ درجات حاصل کرسکتی ہے جو مرد حاصل کرسکتے ہیں۔ جب تم مرد و عورت ایک نوع انسانی کے افراد ہو، ایک آدم سے پیدا ہوئے ہو، ایک رشتہ اسلامی میں منسلک ہو، ایک اجتماعی زندگی اور امور معاشرت میں شریک رہتے ہو تو اعمال اور ان کے ثمرات میں بھی اپنے کو ایک ہی سمجھو۔ روایت میں ہے کہ ام سلمہ ؓ نے عرض کیا تھا ! یا رسول اللہ ! قرآن میں کہیں ہم عورتوں کی ہجرت وغیرہ اعمال حسنہ کا بالتحضیص ذکر نہیں آتا اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا۔
10 یعنی جب کسی عمل کرنیوالے کا چھوٹا موٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوتا، پھر ان مردان خدا کا تو پوچھنا ہی کیا ہے جنہوں نے کفر و عصیان چھوڑنے کے ساتھ دار الکفر بھی چھوڑ دیا۔ وطن، خویش و اقارب، اہل و عیال اور مال و منال سب کو خیر باد کہہ کر دارالاسلام کی طرف نکل کھڑے ہوئے کفار نے ان پر وہ ظلم و ستم توڑے کہ گھروں میں ٹھہرنا محال ہوگیا۔ وطن چھوڑنے اور گھر بار ترک کرنے پر بھی دشمنوں نے چین نہ لینے دیا۔ طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے رہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ وہ میرا نام لیتے تھے اور میرا کلمہ پڑھتے تھے (يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ ) 60 ۔ الممتحنہ :1) (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ ) 85 ۔ البروج :8) آخر وہ میرے راستہ میں لڑے اور لڑ کر جان دے دی۔ یہ بندے ہیں جن کی تمام تقصیرات معاف کردی گئیں اور جنت انکا انتظار کر رہی ہے۔
11 یعنی اچھا بدلہ تو خدا ہی کے پاس ہے اور کہیں سے نہیں مل سکتا۔ یا یہ مطلب ہو کہ اس بدلہ سے بھی اچھا بدلہ خدا کے پاس ہے۔ یعنی اس کا دیدار مبارک۔ رزقنا اللّٰہ وسائر المومنین۔