Ayah 3:397 دعاء قبول ہوئی، بشارت ملی کہ لڑکا ہوگا، جس کا نام یحییٰ رکھا گیا۔
8 ایک حکم سے یہاں حضرت مسیح (علیہ السلام) مراد ہیں جو خدا کے حکم سے بدون باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت یحییٰ لوگوں کو پہلے سے خبر دیتے تھے کہ مسیح پیدا ہونے والے ہیں۔
9 یعنی لذات و شہوات سے بہت زیادہ رکنے والا ہوگا، اللہ کی عبادت میں اس قدر مشغول رہے گا کہ عورت کی طرف التفات کرنے کی نوبت نہ آئے گی، یہ حضرت یحییٰ کا مخصوص حال تھا، جس سے امت محمدیہ ﷺ کے لئے کوئی ضابطہ نہیں بن سکتا۔ ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کا اعلیٰ امتیاز یہ ہے کہ کمال معاشرت کے ساتھ کمال عبادت کو جمع فرمایا۔
10 یعنی صلاح ورشد کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہوگا جسے نبوت کہتے ہیں یا " صالح " کے معنی " شائستہ " کے لئے جائیں یعنی نہایت شائستہ ہوگا۔
Ayah 3:401 یعنی اس کی قدرت و مشیت سلسلہ اسباب کی پابند نہیں۔ گو اس عالم میں اسکی عادت یہ ہے کہ اسباب عادیہ سے مسببات کو پیدا کرے لیکن کبھی کبھی اسباب عادیہ کے خلاف غیر معمولی طریقہ سے کسی چیز کا پیدا کردینا بھی اس کی خاص عادت ہے، اصل یہ ہے کہ مریم صدیقہ کے پاس خارق عادت طریقہ سے رزق کا پہنچنا اور بہت سے غیر معمولی واقعات کا ظہور پذیر ہونا، یہ دیکھ کر مریم کے حجرہ میں بیساختہ حضرت زکریا کا دعا مانگنا پھر انکو اور ان کی بانجھ عورت کو بڑھاپے میں غیر معتاد طور پر اولاد ملنا، ان سب نشانات کو قدرت کی طرف سے اس عظیم الشان آیت الہٰیہ کی تمہید سمجھنا چاہیے جو مریم کے وجود سے بدون قربان زوج مستقبل قریب میں ظاہر ہونے والی تھی گویا حضرت یحییٰ کی غیر معتاد ولادت پر کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَایَشَآء فرمانا تمہید تھی کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَایَشَآءُ کی جو آگے حضرت مسیح کی غیر معتاد ولادت کے سلسلہ میں آیا چاہتا ہے۔
Ayah 3:412 جس سے معلوم ہوجائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے تاکہ قرب ولادت کے آثار دیکھ کر مسرّت تازہ حاصل ہو، اور شکر نعمت میں بیش از بیش مشغول رہوں۔
3 یعنی جب تجھ کو یہ حالت پیش آئے کہ تین دن رات لوگوں سے بجُز اشارہ کے کوئی کلام نہ کرسکے اور تیری زبان خالص ذکر الہٰی کے لئے وقف ہوجائے تو سمجھ لینا کہ اب استقرار حمل ہوگیا۔ سبحان اللہ نشانی بھی ایسی مقرر کی کہ نشانی کی نشانی ہو اور اطلاع پانے سے جو غرض تھی (شکر نعمت) وہ علیٰ وجہ الکمال حاصل ہوجائے گویا خدا کے ذکر و شکر کے سوا چاہیں بھی تو زبان سے دوسری بات نہ کرسکیں۔
4 یعنی اس وقت خدا کو بہت کثرت سے یاد کرنا اور صبح و شام تسبیح و تہلیل میں لگے رہنا معلوم ہوتا ہے کہ آدمیوں سے کلام نہ کر سکنا گو اضطراری تھا تاکہ ان دنوں میں محض ذکر و شکر کے لئے فارغ کردیئے جائیں لیکن خود ذکر میں مشغول رہنا اضطراری نہ تھا، اسی لئے اس کا امر فرمایا گیا۔
Ayah 3:425 حضرت زکریا و یحییٰ (علیہما السلام) کا قصہ جو ضمنی مناسبات سے درمیان میں آگیا تھا اور جس میں اصطفاء آل عمران کی تاکید اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قصہ کی تمہید تھی، یہاں ختم کر کے پھر مریم و مسیح کے واقعات کی طرف کلام منتقل کیا گیا ہے۔ چناچہ مسیح سے پہلے ان کی والدہ کا فضل و شرف ذکر فرماتے ہیں یعنی فرشتوں نے مریم سے کہا کہ اللہ نے تجھے پہلے دن سے چھانٹ لیا کہ باوجود لڑکی ہونے کے اپنی نیاز میں قبول کیا، طرح طرح کے احوال رفیعہ اور کرامات سنّیہ عنایت فرمائیں۔ ستھرے اخلاق، پاک طبیعت اور ظاہری و باطنی نزاہت عطا فرما کر اپنی مسجد کی خدمت کے لائق بنایا۔ اور جہان کی عورتوں پر تجھ کو بعض وجوہ سے فضیلت بخشی۔ مثلا ایسی استعداد رکھی کہ بدون مس بشر تنہا اس کے وجود سے حضرت مسیح جیسے اولوالعزم پیغمبر پیدا ہوں۔ یہ امتیاز دنیا میں کسی عورت کو حاصل نہیں ہوا۔
Ayah 3:436 یعنی خدا نے جب ایسی عزت اور بلند مرتبہ تجھ کو عطا فرمایا تو چاہیے کہ ہمیشہ اخلاص و تذلل کے ساتھ اپنے پروردگار کے آگے جھکی رہے اور وظائف عبودیت کے انجام دینے میں بیش از بیش سرگرمی دکھلائے تاکہ حق تعالیٰ نے تجھے جس امر عظیم کے بروئے کار لانے کا ذریعہ تجویز کیا ہے وہ ظہور پذیر ہو۔
7 جیسے راکعین خدا کے آگے رکوع کرتے ہیں، تو بھی اسی طرح رکوع کرتی رہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کر اور چونکہ کم از کم رکوع میں امام کے ساتھ شریک ہونے والا اس رکعت کو پانے والا سمجھا جاتا ہے، شاید اس لئے نماز کو بعنوان رکوع تعبیر کیا گیا ہے۔ کما یفہم من کلام ابن تیمیہ فی فتاواہ۔ واللہ اعلم۔ اس تقدیر پر اگر " ا قنتی " میں " قنوت " سے قیام مراد لیں تو قیام، رکوع، سجود تینوں ہئیات صلوٰۃ کا ذکر آیت میں ہوجائے گا۔ (تنبیہ) ممکن ہے اس وقت عورتوں کو عام طور پر جماعت میں شریک ہونا جائز یا خاص فتنہ سے مامون ہونے کی صورت میں اجازت ہو یا مریم کی خصوصیت ہو یا مریم اپنے حجرہ میں رہ کر تنہا یا دوسری عورتوں کے ہمراہ امام کی اقتداء کرتی ہوں۔ سب احتمالات ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 3:448 یعنی ظاہری حیثیت سے آپ کچھ پڑھے لکھے نہیں، پہلے سے اہل کتاب کی کوئی معتدبہ صحبت نہیں رہی جن سے واقعات ماضیہ کی ایسی تحقیقی معلومات ہو سکیں۔ اور صحبت رہتی بھی تو کیا تھا، وہ لوگ خود ہی اوہام و خرافات کی اندھیریوں میں پڑے بھٹک رہے تھے کسی نے عداوت میں اور کسی نے حد سے زیادہ محبت میں آکر صحیح واقعات کو مسنح کر رکھا تھا، پھر اندھے کی آنکھ سے روشنی حاصل ہونے کی کیا توقع ہوسکتی تھی۔ اندریں حالات " مدنی " اور " مکی " دونوں قسم کی سورتوں میں ان واقعات کو ایسی صحت اور بسط و تفصیل سے سنانا جو بڑے بڑے مدعیان علم کتاب کی آنکھوں میں چکا چوند کردیں اور کسی کو مجال انکار باقی نہ رہے اسکی کھلی دلیل ہے کہ بذریعہ وحی آپ کو یہ علم دیا گیا تھا کیونکہ آپ نے نہ بچشم خود ان حالات کا معائنہ کیا، اور نہ علم حاصل کرنے کا کوئی خارجی ذریعہ آپ کے پاس موجود تھا۔
9 جب حضرت مریم نذر میں قبول کرلی گئیں تو مسجد کے مجاورین میں جھگڑا ہوا کہ انہیں کس کی پرورش میں رکھا جائے، آخر قرعہ اندازی کی نوبت آئی۔ سب نے اپنے اپنے قلم جن سے تورات لکھتے تھے چلتے پانی میں چھوڑ دیئے کہ جس کا قلم پانی کے بہاؤ پر نہ بہے بلکہ الٹا پھرجائے اسی کو حقدار سمجھیں۔ اس میں بھی قرعہ حضرت زکریا کے نام نکلا اور حق حقدار کو پہنچ گیا۔
Ayah 3:4510 حضرت مسیح (علیہ السلام) کو یہاں اور قرآن و حدیث میں کئی جگہ " کلمۃ اللہ " فرمایا ہے (ۭاِنَّمَا الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ ۚ اَلْقٰىهَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ ) 4 ۔ النسآء :171) یوں تو اللہ کے کلمات بیشمار ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا (قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا) 18 ۔ الکہف :109) لیکن بالتخصیص حضرت مسیح کو " کلمۃ اللہ " (اللہ کا حکم) کہنا اس حیثیت سے ہے کہ ان کی پیدائش باپ کے توسط کے بدون عام سلسلہ اسباب کے خلاف محض خدا کے حکم سے ہوئی۔ اور جو فعل عام اسباب عادیہ کے سلسلہ سے خارج ہو، عموما اسکی نسبت براہ راست حق تعالیٰ کی طرف کردی جاتی ہے جیسے فرمایا (وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى) 8 ۔ الانفال :17) تنبیہ " مسیح " اصل عبرانی میں " ماشیح " یا " مشیحا " تھا۔ جس کے معنی مبارک کے ہیں۔ معرّب ہو کر " مسیح " بن گیا۔ باقی دجال کو جو " مسیح " کہا جاتا ہے وہ بالاجماع عربی لفظ ہے جسکی وجہ تسمیہ اپنے موقع پر کئی طرح بیان کی گئی ہے۔ " مسیح " کا دوسرا نام یا لقب " عیسیٰ " ہے یہ اصل عبرانی میں " ایشوع " تھا۔ معرّب ہو کر " عیسیٰ " بنا۔ جسکے معنی سید کے ہیں۔ یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ قرآن کریم نے یہاں " ابن مریم " کو حضرت مسیح کے لئے بطور جزء عَلَم کے استعمال کیا ہے۔ کیونکہ خود مریم کو بشارت سناتے وقت یہ کہنا کہ تجھے " کلمۃ اللہ " کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ جس کا نام " مسیح عیسیٰ ابن مریم " ہوگا۔ عیسیٰ کا پتہ بتلانے کے لئے نہ تھا بلکہ اس پر متنبہ کرنا تھا کہ باپ نہ ہونے کی وجہ سے اسکی نسبت صرف ماں ہی کی طرف ہوا کرے گی۔ حتیٰ کہ لوگوں کو خدا کی یہ آیت عجیبہ ہمیشہ یاد دلانے اور مریم کی بزرگی ظاہر کرنے کے لئے گویا نام کا جز بنادی گئی۔ ممکن تھا کہ حضرت مریم کو بمقتضائے بشریت یہ بشارت سن کر تشویش ہو کہ دنیا کس طرح باور کرے گی کہ تنہا عورت سے لڑکا پیدا ہوجائے۔ ناچار مجھ پر تہمت رکھیں گے اور بچہ کو ہمیشہ برے لقب سے مشہور کر کے ایذا پہنچائینگے۔ میں کس طرح براءت کرونگی۔ اس لئے آگے وَجِیْہَافِی الدُّنْیَا وَ الْاَخِرٰۃِ کہہ کر اطمینان کردیا کہ خدا اس کو نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی بڑی عزت و وجاہت عطا کرے گا اور دشمنوں کے سارے الزام جھوٹے ثابت کر دے گا۔ " وجیہ " کا لفظ یہاں ایسا سمجھو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا ۭ وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا) 33 ۔ الاحزاب :69) گویا جو لوگ " وجیہ " کہلاتے ہیں انکو حق تعالیٰ خصوصی طور پر جھوٹے طعن وتشنیع یا الزامات سے بری کرتا ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے نسب پر جو خبیث باطن طعن کرینگے یا خدا کو یا کسی انسان کو جھوٹ موٹ انکا باپ بتلائینگے یا خلاف واقعہ انکو مصلوب و مقتول یا بحالت زندگی مردہ کہیں گے یا الوہیت و ابنیت وغیرہ کے باطل عقائد کی مشرکانہ تعلیم ان کی طرف منسوب کریں گے، اس طرح کے تمام الزامات سے حق تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اعلانیہ بری ظاہر کر کے ان کی وجاہت و نزاہت کا علیٰ رؤس الاشہاد اظہار فرمائے گا۔ جو وجاہت ان کو ولادت و بعثت کے بعد دنیا میں حاصل ہوئی اسکی پوری تکمیل نزول کے بعد ہوگی جیسا کہ اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے۔ پھر آخرت میں خصوصیت کے ساتھ ان سے (ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ ) 5 ۔ المائدہ :116) کا سوال کر کے اور انعامات خصوصی یاد دلا کر تمام اولین و آخرین کے روبرو وجاہت و کرامت کا اظہار ہوگا۔ جیسا کہ سورة " مائدہ " میں مذکور ہے اور نہ صرف یہ کہ دنیا و آخرت میں باوجاہت ہونگے بلکہ خدا تعالیٰ کے اخص خواص مقربین میں ان کا شمار ہوگا۔
Ayah 3:4611 یعنی نہایت شائستہ اور اعلیٰ درجہ کے نیک ہونگے اور اول ماں کی گود میں پھر بڑے ہو کر عجیب و غریب باتیں کرینگے۔ ان الفاظ سے فی الحقیقت مریم کی پوری تسکین کردی گئی۔ گزشتہ بشارات سے ممکن تھا یہ خیال کرتیں کہ وجاہت تو جب کبھی حاصل ہوگی مگر یہاں تو ولادت کے بعد ہی طعن وتشنیع کا ہدف بننا پڑے گا۔ اسوقت براءت کی کیا صورت ہوگی۔ اس کا جواب دیدیا کہ گھبراؤ نہیں، تم کو زبان ہلانے کی ضرورت نہ پڑے گی، بلکہ تم کہہ دینا کہ میں نے آج روزہ رکھ چھوڑا ہے کلام نہیں کرسکتی۔ بچہ خود جواب دہی کرے گا جیسا کہ سورة " مریم " میں پوری تفصیل آئے گی۔ بعض محرفین نے کہا ہے کہ ( وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :46) سے صرف مریم کی تسلی کرنی تھی کہ لڑکا گونگا نہ ہوگا۔ تمام لڑکوں کی طرح بچپن اور کہولت میں کلام کرلے گا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ محشر میں بھی لوگ حضرت عیسیٰ کو یوں خطاب کرینگے یا عیسیٰ اَنْتَ رَسُول اللّٰہِ وَکَلِمَتُہ، اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ وَ کَلَّمْتَ النَّاسَ فِی الْمَہْدِ صَبِیًّا " اور خود حق تعالیٰ بھی قیامت کے دن فرمائینگے (يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ عَلَيْكَ وَعَلٰي وَالِدَتِكَ ۘ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ۣ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا) 5 ۔ المائدہ :110) کیا وہاں بھی اس خاص نشان کا بیان فرمانا اسی لئے ہے کہ مریم کو اطمینان ہوجائے کہ لڑکا گونگا نہیں عام لڑکوں کی طرح بولنے والا ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من الغوایۃ والضلالۃ۔
Ayah 3:471 معلوم ہوا کہ وہ بشارت سے یہ ہی سمجھیں کہ لڑکا بحالت موجودہ ہونیوالا ہے۔ ورنہ تعجب کا کیا موقع تھا۔
2 یعنی اسی طرح بدون مس بشر کے ہوجائے گا۔ خلاف عادت ہونے کی وجہ سے تعجب نہ کر حق تعالیٰ جو چاہے اور جس طرح چاہے پیدا کر دے اسکی قدرت کی حد بندی نہیں ہوسکتی۔ ایک کام کا ارادہ کیا اور ہوگیا۔ نہ وہ مادہ کا محتاج نہ اسباب کا پابند۔
Ayah 3:483 یعنی لکھنا سکھائے گا، یا عام کتب ہدایت کا عموما اور تورات و انجیل کا خصوصا علم عطا فرمائے گا اور بڑی گہری حکمت کی باتیں تلقین کرے گا۔ اور بندہ کے خیال میں ممکن ہے کتاب و حکمت سے مراد قرآن و سنت ہو، کیونکہ حضرت مسیح نزول کے بعد قرآن و سنت رسول اللہ ﷺ کے موافق حکم کرینگے اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ ان چیزوں کا علم دیا جائے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 3:494 یعنی پیغمبر ہو کر اپنی قوم بنی اسرائیل سے یہ فرمائینگے۔
5 محض شکل و صورت بنانے کو " خلق " سے تعبیر کرنا صرف ظاہری حیثیت سے ہے۔ جیسے حدیث صحیح میں معمولی تصویر بنانے کو " خلق " سے تعبیر فرمایا " احیوا ماخلقتم " یا خدا کو " احسن الخالقین " فرما کر بتلا دیا کہ محض ظاہری صورت کے لحاظ سے غیر اللہ پر بھی یہ لفظ بولا جاسکتا ہے۔ اگرچہ حقیقت تخلیق کے لحاظ سے حق تعالیٰ کے سوا کوئی خالق نہیں کہلا سکتا۔ شاید اسی لئے یہاں یوں نہ فرمایا "ــ اَنِّی اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ طَیْرًا " (میں مٹی سے پرندہ بنا دیتا ہوں) یوں کہا کہ میں مٹی سے پرندہ کی شکل بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں پھر وہ پرندہ اللہ کے حکم سے بن جاتا ہے بہرحال یہ معجزہ آپ نے دکھلایا اور کہتے ہیں بچپن میں ہی بطور " ارہاص " آپ سے یہ خرق عادت ظاہر ہوا تاکہ تہمت لگانے والوں کو ایک چھوٹا سا نمونہ قدرت خداوندی کا دکھلا دیں کہ جب میرے نفخہ (پھونکنے) پر خدا تعالیٰ مٹی کی بےجان صورت کو جاندار بنا دیتا ہے اسی طرح اگر اس نے بدون مس بشر محض روح القدس کے نفخہ سے ایک برگزیدہ عورت کے پانی پر روح عیسوی فائض کردی تو کیا تعجب ہے بلکہ حضرت مسیح چونکہ نفخہ جبرئیلیہ سے پیدا ہوئے ہیں اس مسیحائی نفخہ کو اسی نوعیت ولادت کا ایک اثر سمجھنا چاہیئے۔ سورة " مائدہ " کے آخر میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ان معجزات و خوارق پر دوسرے رنگ میں کلام کیا جائے گا وہاں ملاحظہ کیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ حضرت مسیح پر کمالات ملکیہ و روحیہ کا غلبہ تھا۔ اسی کے مناسب آثار ظاہر ہوتے تھے۔ لیکن اگر بشر کو ملک پر فضیلت حاصل ہے اور اگر ابو البشر کو مسجود ملائکہ بنایا گیا ہے تو کوئی شبہ نہیں کہ جس میں تمام کمالات بشریہ (جو عبارت ہے مجموعہ کمالات روحانیہ و جسمانیہ سے) اعلیٰ درجہ پر ہوں گے اس کو حضرت مسیح سے افضل ماننا پڑے گا اور وہ ذات قدسی صفات محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے۔
6 اس زمانہ میں اطباء و حکماء کا زور تھا۔ حضرت مسیح کو ایسے معجزات مرحمت ہوئے جو لوگوں پر ان کے سب سے زیادہ مایہ ناز فن میں حضرت مسیح کا نمایاں تفوق ثابت کریں بلاشبہ مردہ کو زندہ کرنا حق تعالیٰ کی صفت ہے، جیسا کہ باذن اللہ کی قید سے صاف ظاہر ہے مگر مسیح اس کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے تو سعاً اپنی طرف نسبت کر رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ حق تعالیٰ قرآن کریم میں یا نبی کریم ﷺ احادیث میں اعلان کرچکے ہیں کہ ازل سے ابد تک کسی مردہ کو دنیا میں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ نرا دعویٰ ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ اگر اس نے قرآن میں فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضٰی عَلَیْھَا الْمَوْتَ فرما کر یہ بتلایا کہ مرنے والے کی روح خدا تعالیٰ روک لیتا ہے اور سونے والے کی اس طرح نہیں روکتا۔ تو یہ کب کہا ہے کہ اس روک لینے کے بعد دوبارہ اسے چھوڑ دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ یاد رکھو ! معجزہ وہی ہے جو حق تعالیٰ کی عام عادت کے خلات مدعی نبوت کی تصدیق کے لئے ظاہر کیا جائے۔ پس ایسی نصوص کو لے کر جو کسی چیز کی نسبت خدا کی عام عادت بیان کرتی ہوں یہ استدلال کرنا کہ ان سے معجزات کی نفی ہوتی ہے سرے سے معجزہ کے وجود کا انکار اور اپنی حماقت و غباوت کا اظہار ہے معجزہ اگر عام قانون عادت کے موافق آیا کرے تو اسے معجزہ کیوں کہیں گے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا بن باپ پیدا ہونا یا ابراء اکمہ وابرص اور احیاء موتی وغیرہ معجزات دکھلانا، اہل اسلام میں تمام سلف و خلف کے نزدیک مسلم رہا ہے۔ صحابہ وتابعین میں ایک قول بھی اس کے انکار میں دکھلایا نہیں جاسکتا آج جو ملحدیہ دعویٰ کرے کہ ان خوارق کا ماننا محکمات قرآنی کے خلاف ہے۔ گویا وہ ایسی چیزوں کو " محکمات " بتلاتا ہے، جن کا صحیح مطلب سمجھنے سے تمام امت عاجز رہی ؟ یا سب کے سب محکمات کو چھوڑ کر اور " متشابہات " کے پیچھے پڑ کر " فِی قُلُوبِھِمْ زَیْغٌ" کے مصداق بن گئے ؟ آجکل کے ملحدین کے سوا " متشابہات " کو " محکمات " کی طرف لوٹانے کی کسی کو توفیق نہ ہوئی۔ العیاذباللہ۔ حق یہ ہے کہ وہ آیات جن کے ظاہری معنیٰ کو ساری امت مانتی چلی آئی ہے۔ " محکمات " ہیں۔ اور ان کو توڑ مروڑ کر محض استعارات و تمثیلات پر حمل کرنا اور معجزات کی نفی پر عموم عادت سے دلیل لانا یہ ہی " زائغین " کا کام ہے۔ جن سے حذر کرنے کی حضور ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے۔
7 آئندہ کے لئے یعنی بعض مغیبات ماضیہ ومستقبلہ پر تم کو مطلع کردیتا ہوں۔ عملی معجزات کے بعد یہ ایک علمی معجزہ ذکر کردیا۔
Ayah 3:508 یعنی تورات کی تصدیق کرتا ہوں کہ خدا کی کتاب ہے اور اس کے عام اصول و احکام کو بحالہ قائم رکھتے ہوئے زمانہ کے مناسب حق تعالیٰ کے حکم سے چند جزئی و فرعی تغیرات کروں گا۔ مثلاً بعض احکام میں پہلے جو سختی تھی وہ اب اٹھا دی جائے گی۔ اس کا نام خواہ نسخ رکھ لو یا تکمیل اختیار ہے۔
9 یعنی میری صداقت کے نشان جب دیکھ چکے تو اب خدا سے ڈر کر میری باتیں ماننی چاہئیں۔
Ayah 3:5110 یعنی سب باتوں کی ایک بات ساری جڑوں کی اصل جڑ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو میرا اور اپنا دونوں کا یکساں رب سمجھو (باپ بیٹے کے رشتے قائم نہ کرو) اور اسی کی بندگی کرو۔ سیدھا راستہ رضائے الہٰی تک پہنچنے کا یہ ہی توحید، تقویٰ اور اطاعت رسول ہے۔
Ayah 3:521 یعنی یہ میرا دین قبول نہ کرینگے بلکہ دشمنی اور ایذاء رسانی کے درپے رہینگے۔
2 یعنی میرا ساتھ دے اور دین الہٰی کو رواج دینے میں میری مدد کرے۔
3 اللہ کی مدد کرنا یہ ہی ہے کہ اس کے دین و آئین اور پیغمبروں کی مدد کی جائے جس طرح انصار مدینہ نے اپنے پیغمبر ﷺ اور دین حق کی مدد کر کے دکھلائی۔
4 " حواری " کون لوگ تھے اور یہ لقب ان کا کس وجہ سے ہوا۔ اس میں علماء کے بہت اقوال ہیں مشہور یہ ہے کہ پہلے دو شخص جو حضرت عیسیٰ کے تابع ہوئے دھوبی تھے اور کپڑے صاف کرنے کی وجہ سے حواری کہلاتے تھے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کو کہا کہ کپڑے کیا دھوتے ہو آؤ میں تم کو دل دھونے سکھا دوں۔ وہ ساتھ ہو لئے۔ پھر ایسے سب ساتھیوں کا یہ ہی لقب پڑگیا۔
Ayah 3:535 پیغمبر کے سامنے اقرار کرنے کے بعد پروردگار کے سامنے یہ اقرار کیا کہ ہم انجیل پر ایمان لا کر تیرے رسول کا اتباع کرتے ہیں۔ آپ اپنے فضل و توفیق سے ہمارا نام ماننے والوں کی فہرست میں ثبت فرما دیں۔ گو یا ایمان کی رجسٹری ہوجائے کہ پھر لوٹنے کا احتمال نہ رہے۔
Ayah 3:546 " مکر " کہتے ہیں لطیف وخفیہ تدبیر کو۔ اگر وہ اچھے مقصد کے لئے ہو، اچھا ہے۔ اور برائی کے لئے تو برا ہے اسی لئے وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیءُ " میں مکر کے ساتھ سیئی کی قید لگائی۔ اور یہاں خدا کو " خیرالماکرین " کہا۔ مطلب یہ ہے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور خفیہ تدبیریں شروع کردیں۔ حتیٰ کہ بادشاہ کے کان بھر دیے کہ یہ شخص (معاذ اللہ) ملحد ہے۔ تورات کو بدلنا چاہتا ہے سب کو بددین بنا کر چھوڑے گا۔ اس نے مسیح (علیہ السلام) کی گرفتاری کا حکم دے دیا ادھر یہ ہو رہا تھا اور ادھر حق تعالیٰ کی لطیف و خفیہ تدبیر ان کے توڑ میں اپنا کام کر رہی تھی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ بیشک خدا کی تدبیر سب سے بہتر اور مضبوط ہے۔ جسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔
Ayahs 3:55–577 بادشاہ نے لوگوں کو مامور کیا کہ مسیح (علیہ السلام) کو پکڑیں۔ صلیب (سُولی) پر چڑھائیں اور ایسی عبرتناک سزائیں دیں جسے دیکھ کر دوسرے لوگ اس کا اتباع کرنے سے رک جائیں۔ فبعث فی طلبہ من یاخذہ ویصلبہ وینکل بہ (ابن کثیر) خداوند قدوس نے اس کے جواب میں مسیح (علیہ السلام) کو مطمئن فرما دیا کہ میں ان اشقیاء کے ارادوں اور منصوبوں کو خاک میں ملا دوں گا۔ یہ چاہتے ہیں کہ تجھے پکڑ کر قتل کردیں اور پیدائش و بعثت سے جو مقصد ہے پورا نہ ہونے دیں اور اس طرح خدا کی نعمت عظیم کی بےقدری کریں۔ لیکن میں ان سے اپنی یہ نعمت لے لوں گا۔ تیری عمر مقدر اور جو مقصد عظیم اس سے متعلق ہے پورا کر کے رہوں گا۔ اور تجھ کو پورے کا پورا صحیح وسالم لے جاؤں گا کہ ذرا بھی تیرا بال بیگا نہ کرسکیں۔ بجائے اسکے کہ وہ لے جائیں، خدا تجھ کو اپنی پناہ میں لے جائے گا۔ وہ صلیب پر چڑھانا چاہتے ہیں خدا تجھ کو آسمان پر چڑھائے گا۔ ان کا ارادہ ہے کہ رسوا کن اور عبرتناک سزائیں دیکر لوگوں کو تیرے اتباع سے روک دیں لیکن خدا انکے ناپاک ہاتھ تیرے تک نہ پہنچنے دے گا بلکہ اس گندے اور نجس مجمع کے درمیان سے تجھ کو بالکل پاک و صاف اٹھا لے گا اور اس کے بجائے کہ تیری بےعزتی ہو اور لوگ ڈر کر تیرے اتباع سے رک جائیں، تیرا اتباع کرنیوالوں اور نام لینے والوں کو قرب قیامت تک منکروں پر غالب و قاہر رکھے گا۔ جب تک تیرا انکار کرنے والے یہود اور اقرار کرنیوالے مسلمان یا نصاریٰ دنیا میں رہینگے ہمیشہ اقرار کرنیوالے منکرین پر فائق و غالب رہینگے۔ بعدہ، ایک وقت آئے گا جب تجھ کو اور تیرے موافق و مخالف سب لوگوں کو میرے حکم کی طرف لوٹنا ہے۔ اسوقت میں تمہارے سب جھگڑوں کا دو ٹوک فیصلہ کر دونگا اور سب اختلافات ختم کردیئے جائینگے۔ یہ فیصلہ کب ہوگا ؟ اس کی جو تفصیل (فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُھُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۡ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :56) سے بیان کی گئی ہے وہ بتلاتی ہے کہ آخرت سے پیشتر دنیا ہی میں اس کا نمونہ کردیا جائے گا۔ یعنی اس وقت تمام کافر عذاب شدید کے نیچے ہونگے۔ کوئی طاقت ان کی مدد اور فریاد کو نہ پہنچ سکے گی۔ اس کے بالمقابل جو ایمان والے رہینگے انکو دنیا و آخرت میں پورا پورا اجر دیا جائے گا اور بےانصاف ظالموں کی جڑ کاٹ دیجائے گی۔ امت مرحومہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ جب یہود نے اپنی ناپاک تدبیریں پختہ کرلیں تو حق تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ نبی کریم ﷺ کی متواتر احادیث کے موافق قیامت کے قریب جب دنیا کفرو ضلالت اور دجل وشیطنت سے بھر جائے گی، خدا تعالیٰ خاتم الانبیاء بنی اسرائیل (حضرت مسیح علیہ السلام) کو خاتم الانبیاء علی الاطلاق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک نہایت وفادار جنرل کی حیثیت میں نازل کر کے دنیا کو دکھلا دے گا کہ انبیائے سابقین کو بارگاہ خاتم النبیین کے ساتھ کس قسم کا تعلق ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) دجال کو قتل کرینگے اور اسکے بعد یہود کو چن چن کر مارینگے۔ کوئی یہودی جان نہ بچا سکے گا۔ شجر و حجر تک پکارینگے کہ ہمارے پیچھے یہ یہودی کھڑا ہے قتل کرو ! حضرت مسیح صلیب کو توڑینگے۔ نصاریٰ کے باطل عقائد و خیالات کی اصلاح کر کے تمام دنیا کو ایمان کے راستہ پر ڈال دینگے۔ اسوقت تمام جھگڑوں کا فیصلہ ہو کر اور مذہبی اختلافات مٹ مٹا کر ایک خدا کا سچا دین (اسلام) رہ جائے گا۔ اسی وقت کی نسبت فرمایا (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ) 4 ۔ النسآء :159) جسکی پوری تقریر اور رفع مسیح کی کیفیت سورة " نساء " میں آئے گی۔ بہرحال میرے نزدیک ثم الی مرجعکم الخ صرف آخرت سے متعلق نہیں بلکہ دنیا و آخرت دونوں سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ آگے تفصیل کے موقع پر فی الدنیا والا خرۃ کا لفظ صاف شہادت دے رہا ہے۔ اور یہ اس کا قرینہ ہے کہ الی یوم القیامۃ کے معنیٰ قرب قیامت کے ہیں۔ چناچہ احادیث صحیحہ میں مصرح ہے کہ قیامت سے پہلے ایک مبارک وقت ضرور آنے والا ہے جب سب اختلافات مٹ مٹا کر ایک دین باقی رہ جائے گا۔ وللّٰہ الحمد اولًا و آخراً ۔ چند امور اس آیت کے متعلق یاد رکھنے چاہئیں۔ لفظ " توفی " کے متعلق کلیات ابو البقاء میں ہے۔ " التوفی الاماتۃ و قبض الروح علیہ استعمال العامۃ او الاستیفاء واخذ الحق وعلیہ استعمال البلغاء " اھ (" توفی " کا لفظ عوام کے یہاں موت دینے اور جان لینے کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن بلغاء کے نزدیک اس کے معنی ہیں پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا) گویا ان کے نزدیک موت پر بھی " توفی " کا اطلاق اسی حیثیت سے ہوا کہ موت میں کوئی عضو خاص نہیں بلکہ خدا کی طرف سے پوری جان وصول کرلی جاتی ہے۔ اب اگر فرض کرو خدا تعالیٰ نے کسی کی جان بدن سمیت لے لی تو اسے بطریق اولیٰ " توفی " کہا جائے گا۔ جن اہل لغت نے " توفی " کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قبض روح مع البدن کو " توفی " نہیں کہتے۔ نہ کوئی ایسا ضابطہ بتایا ہے کہ جب " توفی " کا فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو تو بجز موت کے کوئی معنی نہ ہو سکیں۔ ہاں چونکہ عموما قبض روح کا وقوع بدن سے جدا کر کے ہوتا ہے۔ اس لئے کثرت و عادت کے لحاظ سے اکثر موت کا لفظ اسکے ساتھ لکھ دیتے ہیں ورنہ لفظ کا لغوی مدلول قبض روح مع البدن کو شامل ہے۔ دیکھئے۔ (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا) 39 ۔ الزمر :42) میں " توفی نفس " (قبض روح) کی دو صورتیں بتلائیں، موت اور نیند، اس تقسیم سے نیز " توفی " کو " انفس " پر وارد کر کے اور " حین موتہا " کی قید لگا کر بتلا دیا کہ " توفی " اور " موت " دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قبض روح کے مختلف مدارج ہیں۔ ایک درجہ وہ ہے جو موت کی صورت میں پایا جائے۔ دوسرا وہ جو نیند کی صورت میں ہو۔ قرآن کریم نے بتلا دیا کہ وہ دونوں پر " توفی " کا لفظ اطلاق کرتا ہے۔ کچھ موت کی تخصیص نہیں۔ (يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ) 6 ۔ الانعام :60) اب جس طرح اس نے دو آیتوں میں نوم پر توفی کا اطلاق جائز رکھا حالانکہ نوم میں قبض روح بھی پورا نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر " آل عمران " اور " مائدہ " کی دو آیتوں میں " توفی " کا لفظ قبض روح مع البدن پر اطلاق کردیا گیا تو کونسا استحالہ لازم آتا ہے۔ بالخصوص جب یہ دیکھا جائے کہ موت اور نوم میں لفظ " توفی " کا استعمال قرآن کریم ہی نے شروع کیا ہے۔ جاہلیت والے تو عموما اس حقیقت سے ہی ناآشنا تھے کہ موت یا نوم میں خدا تعالیٰ کوئی چیز آدمی سے وصول کرلیتا ہے اسی لئے لفظ " توفی " کا استعمال موت اور نوم پر ان کے یہاں شائع نہ تھا قرآن کریم نے موت وغیرہ کی حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے اول اس لفظ کا استعمال شروع کیا۔ تو اسی کو حق ہے کہ موت و نوم کی طرح اخذ روح مع البدن کے نادر مواقع میں بھی اسے استعمال کرلے۔ بہرحال آیت حاضرہ میں جمہور کے نزدیک " توفی " سے موت مراد نہیں۔ اور ابن عباس سے بھی صحیح ترین روایت یہ ہی ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کما فی روح المعانی وغیرہ زندہ اٹھائے جانے یا دوبارہ نازل ہونے کا انکار سلف میں کسی سے منقول نہیں۔ بلکہ " تلخیص العبیر " میں حافظ ابن حجر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے احادیث نزول کو متواتر کہا ہے اور " اکمال اکمال المعلم " میں امام مالک سے اس کی تصریح نقل کی ہے۔ پھر جو معجزات حضرت مسیح (علیہ السلام) نے دکھلائے ان میں علاوہ دوسری حکمتوں کے ایک خاص مناسبت آپ کے رفع الی السماء کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ آپ نے شروع ہی سے متنبہ کردیا کہ جب ایک مٹی کا پتلا میرے پھونک مارنے سے باذن اللہ پرندہ بن کر اوپر اڑا چلا جاتا ہے کیا وہ بشر جس پر خدا نے روح اللہ کا لفظ اطلاق کیا اور " روح القدس " کے نفخہ سے پیدا ہوا، یہ ممکن نہیں کہ خدا کے حکم سے اڑ کر آسمان تک چلا جائے۔ جس کے ہاتھ لگانے یا دو لفظ کہنے پر حق تعالیٰ کے حکم سے اندھے اور کوڑھی اچھے اور مردے زندہ ہوجائیں، اگر وہ اس موطن کون و فساد سے الگ ہو کر ہزاروں برس فرشتوں کی طرح آسمان پر زندہ اور تندرست رہے، تو کیا استبعاد ہے۔ قال قتادہ فطار مع الملائکۃ فھو معھم حول العرش وصارا نسیا ملکیا سماویا ارضیا (بغوی) اس موضوع پر مستقل رسالے اور کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ مگر میں اہل علم کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے مخدوم علامہ فقید النظیر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری اطال اللہ بقاہ، نے رسالہ " عقیدۃ الاسلام " میں جو علمی لعل و جواہر و دیعت کئے ہیں ان سے متمتع ہونے کی ہمت کریں میری نظر میں ایسی جامع کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی گئی۔
Ayahs 3:58–591 نصاریٰ اس بات پر حضرت سے بہت جھگڑے کہ عیسیٰ بندہ نہیں اللہ کا بیٹا ہے۔ آخر کہنے لگے کہ وہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتاؤ کس کا بیٹا ہے ؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ آدم کے تو نہ باپ تھا نہ ماں۔ عیسیٰ کے باپ نہ ہو تو کیا عجب ہے (موضح القرآن) اس حساب سے تو آدم کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زیادہ زور دینا چاہیئے۔ حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں۔
Ayah 3:602 یعنی مسیح (علیہ السلام) کے متعلق جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا وہ ہی حق ہے جس میں شک و شبہ کی قطعا گنجائش نہیں۔ جو بات تھی بلا کم وکاست سمجھا دی گئی۔
Ayah 3:613 اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ نصاریٰ نجران اس قدر سمجھانے پر بھی اگر قائل نہ ہوں تو انکے ساتھ " مباہلہ " کرو جسکی زیادہ موثر اور مکمل صورت یہ تجویز کی گئی کہ دونوں فریق اپنی جان سے اور اولاد سے حاضر ہوں اور خوب گڑ گڑا کر دعا کریں کہ جو کوئی ہم میں جھوٹا ہے اس پر خدا کی لعنت اور عذاب پڑے۔ یہ " مباہلہ " کی صورت پہلے ہی قدم پر اس بات کا اظہار کر دے گی کہ کون فریق کس حد تک خود اپنے دل میں اپنی صداقت و حقانیت پر وثوق و یقین رکھتا ہے۔ چناچہ دعوت " مباہلہ " سُن کر وفد نجران نے مہلت لی کہ ہم آپس میں مشورہ کرکے جواب دینگے۔ آخر مجلس مشاورت میں ان کے ہوشمند تجربہ کار ذمہ داروں نے کہا کہ اے گروہ نصاریٰ ! تم یقینا دلوں میں سمجھ چکے ہو کہ محمد ﷺ نبی مرسل ہیں اور حضرت مسیح کے متعلق انہوں نے صاف صاف فیصلہ کُن باتیں کہی ہیں تم کو معلوم ہے کہ اللہ نے بنی اسماعیل میں نبی بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ کچھ بعید نہیں یہ وہی نبی ہوں، پس ایک نبی سے مباہلہ و ملاعنہ کرنے کا نتیجہ کسی قوم کے حق میں یہ ہی نکل سکتا ہے کہ انکا کوئی چھوٹا بڑا ہلاکت یا عذاب الہٰی سے نہ بچے۔ اور پیغمبر کی لعنت کا اثر نسلوں تک پہنچ کر رہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان سے صلح کر کے اپنی بستیوں کی طرف روانہ ہوجائیں۔ کیونکہ سارے عرب سے لڑائی مول لینے کی طاقت ہم میں نہیں "۔ یہ ہی تجویز پاس کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ آپ ﷺ حضرت حسن، حسین، فاطمہ، علی ؓ کو ساتھ لئے باہر تشریف لا رہے تھے۔ یہ نورانی صورتیں دیکھ کر ان کے لاٹ پادری نے کہا کہ میں ایسے پاک چہرے دیکھ رہا ہوں جن کی دعا پہاڑوں کو ان کی جگہ سے سرکا سکتی ہے، ان سے مباہلہ کر کے ہلاک نہ ہو، ورنہ ایک نصرانی زمین پر باقی نہ رہے گا۔ آخر انہوں نے مقابلہ چھوڑ کر سالانہ جزیہ دینا قبول کیا اور صلح کر کے واپس چلے گئے۔ حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر مباہلہ کرتے تو وادی آگ بن کر ان پر برستی اور خدا تعالیٰ نجران کا بالکل استیصال کردیتا۔ ایک سال کے اندر اندر تمام نصاریٰ ہلاک ہوجاتے۔ (تنبیہ) قرآن نے یہ نہیں بتلایا کہ مباہلہ کی صورت میں نبی کریم ﷺ کے بعد بھی اختیار کی جاسکتی ہے اور یہ کہ مباہلہ کا اثر کیا ہمیشہ وہ ہی ظاہر ہونا چاہیے جو آپ کے مباہلہ میں ظاہر ہونے والا تھا۔ بعض سلف کے طریق عمل اور بعض فقہائے حنفیہ کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مباہلہ کی مشروعیت اب بھی باقی ہے مگر ان چیزوں میں جنکا ثبوت بالکل قطعی ہو، یہ ضروری نہیں کہ مباہلہ میں بچوں، عورتوں کو بھی شریک کیا جائے۔ نہ مباہلین پر اس قسم کا عذاب آنا ضروری ہے جو پیغمبر ﷺ کے مباہلہ پر آتا۔ بلکہ ایک طرح کا اتمام حجت کر کے بحث وجدال سے الگ ہوجانا ہے۔ اور میرے خیال میں مباہلہ ہر ایک کاذب کے ساتھ نہیں صرف کاذب معاند کے ساتھ ہونا چاہیئے۔ ابن کثیر کہتے ہیں ثم قال تعالیٰ اٰمراً رسولہ ﷺ ان یباھل من عاند الحق فی امر عیسیٰ بعد ظہور البیان واللہ اعلم۔
Ayah 3:624 دعوت مباہلہ کے ساتھ بتلا دیا کہ مباہلہ اس پر کیا جاتا تھا کہ جو کچھ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق قرآن میں بیان ہوا وہ ہی سچا بیان ہے اور خدا کی بارگاہ ہر قسم کے شرک اور باپ بیٹے وغیرہ کے تعلقات سے پاک ہے۔
5 اپنی زبردست قدرت و حکمت سے جھوٹے اور سچے کے ساتھ وہ ہی معاملہ کرے گا جو اس کے حسب حال ہو۔
Ayah 3:636 اگر نہ دلائل سے مانیں نہ مباہلہ پر آمادہ ہوں تو سمجھ لو کہ احقاق حق مقصود نہیں نہ دل میں اپنے عقائد کی صداقت پر وثوق ہے۔ محض فتنہ و فساد پھیلانا ہی پیش نظر ہے تو خوب سمجھ لیں کہ سب مفسدین اللہ کی نظر میں ہیں۔
Ayah 3:647 پہلے نقل کہا جا چکا ہے کہ حضور ﷺ نے جب وفد نجران کو کہا اسلموا (مسلم بن جاؤ) تو کہنے لگے اَسْلَمْنَا (ہم مسلم ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی طرح انکو بھی مسلم ہونے کا دعویٰ تھا۔ اسی طرح جب یہود و نصاریٰ کے سامنے توحید پیش کی جاتی تو کہتے کہ ہم بھی خدا کو ایک کہتے ہیں بلکہ ہر مذہب والا کسی نہ کسی رنگ میں اوپر جاکر اقرار کرتا ہے کہ بڑا خدا ایک ہی ہے۔ یہاں اسی طرف توجہ دلائی گئی کہ بنیادی عقیدہ (خدا کا ایک ہونا اور اپنے کو مسلم ماننا) جس پر ہم دونوں متفق ہیں، ایسی چیز ہے جو ہم سب کو ایک کرسکتا ہے بشرطیکہ آگے چل کر اپنے تصرف اور تحریف سے اس کی حقیقت بدل نہ ڈالیں۔ ضرورت اسکی ہے کہ جس طرح زبان سے مسلم و موحد کہتے ہو، حقیقۃً و عملاً بھی اپنے کو تنہا خدائے وحدہ لاشریک لہ، کے سپرد کردو۔ نہ اس کے سوا کسی کی بندگی کرو، نہ اسکی صفات خاصہ میں کسی کو شریک ٹھہراؤ، نہ کسی اور عالم، فقیر، پیر، پیغمبر کے ساتھ وہ معاملہ کرو جو صرف رب قدیر کے ساتھ کیا جانا چاہیئے۔ مثلاً کسی کو اس کا بیٹا پوتا بنانا، یا نصوص شریعت سے قطع نظر کر کے محض کسی کے حلال و حرام کردینے پر اشیاء کی حلت و حرمت کا مدار رکھنا جیسا کہ (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) 9 ۔ التوبہ :31) کی تفسیر سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ سب امور دعوائے اسلام و توحید کے منافی ہیں۔
8 یعنی تم دعوائے اسلام و توحید کر کے پھرگئے ہم بحمدللہ اس پر قائم ہیں کہ اپنے کو محض خدائے واحد کے سپرد کردیا ہے اور اسی کے تابع فرمان ہیں۔
Ayahs 3:65–661 جیسے دعوائے اسلام و توحید سب میں مشترک تھا اسی طرح حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تعظیم و تکریم میں بھی سب شریک تھے اور یہود و نصاریٰ میں سے ہر ایک فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے دین پر تھے یعنی معاذ اللہ یہودی تھے یا نصرانی، اسکا جواب دیا کہ تورات و انجیل جن کے پیرو یہودی یا نصرانی کہلائے ابراہیم (علیہ السلام) سے سینکڑوں برس بعد اتری۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو نصرانی یا یہودی کیسے کہہ سکتے ہیں بلکہ جس طرح کے تم یہودی یا نصرانی ہو، اس معنی سے تو خود موسیٰ یا عیسیٰ (علیہما السلام) کو بھی یہودی یا نصرانی نہیں کہا جاسکتا۔ اور اگر یہ مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت ہمارے مذہب سے زیادہ قریب تھی تو یہ بھی غلط ہے۔ اس کا علم تم کو کہاں سے ہوا ؟ تمہاری کتابوں میں مذکور نہیں۔ نہ خدا نے خبر دی نہ تم کوئی ثبوت پیش کرسکتے ہو پھر ایسی بات میں جھگڑنا جس کا کچھ علم آدمی کو نہ ہو حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ جن چیزوں کی تمہیں کچھ تھوڑی بہت خبر تھی گو محض ناتمام اور سرسری تھی مثلا مسیح (علیہ السلام) کے واقعات یا نبی آخرالزماں کی بشارات وغیرہ ان میں تم جھگڑ چکے، لیکن جس چیز سے تمہیں بالکل مس نہیں نہ اسکی کبھی ہوا لگی، اسے تو خدا کے سپرد کردو۔ وہ ہی جانتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کیا تھے اور آج دنیا میں کونسی جماعت کا مسلک اس سے قریب تر ہے۔
Ayah 3:672 یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے تئیں حنیف یا مسلم کہا ہے۔ حنیف کے معنی ؟ " جو کوئی ایک راہ حق پکڑے اور سب باطل راہیں چھوڑ دے ــ"۔ اور مسلم کے معنی حکمبردار، اب خود اندازہ کرلو کہ آج کس نے سب سے ٹوٹ کر خدا کی راہ پکڑی اور اپنے کو خالص اسی کے سپرد کردیا ہے۔ وہ ہی ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ اقرب واشبہ ہوگا۔ (تنبیہ) یہاں " مسلماً " میں اسلام سے خاص شریعت محمدیہ مراد لینے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ تسلیم و تفویض اور فرمانبرداری کے معنی ہیں جو تمام انبیاء کا دین رہا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے خصوصیت سے اس نام و لقب کو بہت زیادہ روشن کیا۔ (اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :131) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سوانح حیات کا ایک ایک حرف بتلاتا ہے کہ وہ ہمہ تن اسلام اور تسلیم و رضا کے پیکر مجسم تھے۔ ذبح اسماعیل کے واقعہ میں (فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّهٗ لِلْجَبِيْنِ ) 37 ۔ الصافات :103) کا لفظ ان کی شان اسلام کو بہت وضاحت سے نمایاں کرتا ہے۔ صلی اللہ علیٰ نبینا وبارک وسلم۔
Ayah 3:683 اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ زیادہ مناسبت ابراہیم (علیہ السلام) سے اس وقت کی امت کو تھی یا پچھلی امتوں میں اس نبی کی امت کو ہے تو یہ امت نام میں بھی اور راہ میں بھی ابراہیم (علیہ السلام) سے مناسبت زیادہ رکھتی ہے اور اس امت کا پیغمبر خلقاً و خُلقاً صورۃً و سیرۃً حضرت ابراہیم سے اشبہ ہے اور ان کی دعا کے موافق آیا ہے جیسا کہ سورة " بقرہ " میں گزرا۔ (رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) 2 ۔ البقرۃ :129) اسی لئے حبشہ کا نصرانی بادشاہ (نجاشی) مسلمان مہاجرین کو " حزب ابراہیم (علیہ السلام) " کہتا تھا شاید اسی قسم کی مناسبات کی وجہ سے درود شریف میں کما صلیت علی ابراہیم فرمایا۔ یعنی اس نوعیت اور نمونہ کی صلوٰۃ نازل فرمائے جو ابراہیم (علیہ السلام) و آل ابراہیم پر کی تھی۔ جامع ترمذی میں حدیث ہے۔ اِنَّ لِکُلِّ نَبِیٍّ وُّلَاۃً مِّنَ النَّبِیِیِّنَ وَاِنَّ وَلِیّٖ اَبِی وَخَلِیْلُ رَبِّی اس مضمون کی تفصیل آئندہ کسی سورت میں آئے گی انشاء اللہ۔
4 یعنی اپنی راہ کے حق ہونے پر محض کسی کی موافقت و مشابہت سے دلیل جب پکڑے کہ اپنے اوپر وحی نہ آتی ہو۔ سو اللہ والی ہے مسلمانوں کا کہ (یہ براہ راست) اس کے حکم پر چلتے ہیں (موضح القرآن) ۔
Ayah 3:695 پہلے کہا تھا (ۭوَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :68) یہاں بتلایا کہ جب مومنین کا ولی اللہ ہے تو تمہارا داؤ ان پر کیا چل سکتا ہے۔ بیشک بعض اہل کتاب چاہتے ہیں کہ جس طرح خود گمراہ ہیں مسلمانوں کو بھی راہ حق سے ہٹا دیں لیکن مسلمان تو ان کے جال میں پھنسنے والے نہیں البتہ یہ لوگ اپنی گمراہی کے وبال میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کی مغویانہ کوششوں کا ضرر خود ان ہی کو پہنچے گا جسے وہ فی الحال نہیں سمجھتے۔
Ayah 3:706 یعنی تم تورات وغیرہ کے قائل ہو جس میں پیغمبر عربی ﷺ اور قرآن کریم کے متعلق بشارات موجود ہیں جن کو تمہارے دل سمجھتے ہیں اور اپنی خلوتوں میں ان چیزوں کا اقرار بھی کرتے ہو۔ پھر کھلم کھلا قرآن پر ایمان لانے اور خاتم الانبیاء کی صداقت کا اقرار کرنے سے کیا چیز مانع ہے۔ خوب سمجھ لو قرآن کا انکار کرنا تمام پچھلی کتب سماویہ کا انکار کرنا ہے۔
Ayah 3:711 تورات کے بعض احکام تو اغراض دنیاوی کی خاطر سرے سے موقوف ہی کر ڈالے تھے۔ بعض آیات میں تحریف لفظی کی تھی۔ بعض کے معنی بدل دیئے تھے اور بعض چیزیں چھپا رکھی تھیں ہر کسی کو خبر نہ کرتے تھے جیسے بشارات پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی۔
Ayah 3:722 ان آیتوں میں اہل کتاب کی چالاکیاں اور خیانتیں ذکر کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ اپنے کچھ آدمی صبح کے وقت بظاہر مسلمان بن جائیں اور مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھیں اور شام کو یہ کہہ کر کہ ہم کو اپنے بڑے بڑے علماء سے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہ نبی نہیں جن کی بشارت دی گئی تھی اور تجربہ سے ان کے حالات بھی اہل حق کی طرح کے ثابت نہ ہوئے اسلام سے پھر جایا کریں، نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت سے ضعیف الایمان ہماری یہ حرکت دیکھ کر اسلام سے پھرجائیں گے۔ اور سمجھ لیں گے کہ مذہب اسلام میں ضرور کوئی عیب و نقص دیکھا ہوگا جو یہ لوگ داخل ہونے کے بعد اس سے نکلے۔ نیز عرب کے جاہلوں میں اہل کتاب کے علم و فضل کا چرچا تھا۔ اس بناء پر یہ خیال پیدا ہوجائے گا کہ یہ جدید مذہب اگر سچا ہوتا تو ایسے اہل علم اسے رد نہ کرتے بلکہ سب سے آگے بڑھ کر قبول کرتے۔
Ayah 3:733 یعنی جو یہود مسلمانوں کے سامنے جا کر نفاق سے اپنے کو مسلمان ظاہر کریں، انہیں یہ برابر ملحوظ رہے کہ وہ سچ مچ مسلمان نہیں بن گئے۔ بلکہ بدستور یہودی ہیں۔ اور سچے دل سے انہی کی بات مان سکتے ہیں جو ان کے دین پر چلتا ہو اور شریعت موسوی کے اتباع کا دعویٰ رکھتا ہو۔ بعض نے ولا تو منوا الا لمن تبع دینکم کے یہ معنی کئے ہیں کہ ظاہری طور پر جو ایمان لاؤ اور اپنے کو مسلمان بتاؤ، وہ محض ان لوگوں کی وجہ سے جو تمہارے دین پر چلنے والے ہیں۔ یعنی اس تدبیر سے اپنے ہم مذہبوں کی حفاظت مقصود ہونی چاہیے کہ وہ مسلمان نہ بن جائیں یا جو بن چکے ہیں اس تدبیر سے واپس آجائیں۔
4 یعنی ہدایت تو اللہ کے دینے سے ملتی ہے جس کے دل میں خدا نے ہدایت کا نور ڈال دیا تمہاری ان پر فریب چالبازیوں سے وہ گمراہ ہونے والا نہیں۔
5 یعنی یہ مکاریاں اور تدبیریں محض ازراہ حسد اس جلن میں کی جاتی ہیں کہ دوسروں کو اس طرح کی شریعت اور نبوت و رسالت کیوں دی جا رہی ہے جیسی پہلے تم کو دی گئی تھی۔ یا مذہبی و دینی جدوجہد میں دوسرے لوگ تم پر غالب آکر کیوں آگے نکلے جا رہے ہیں اور خدا کے آگے تمہیں ملزم گردان رہے ہیں۔ یہود ہمیشہ اس خیال کی اشاعت کرتے رہے تھے کہ دنیا میں تنہا ہماری ہی قوم علم شرعیات کی اجارہ دار ہے۔ تورات ہم پر اتری۔ موسیٰ جیسے اولوالعزم پیغمبر ہم میں آئے پھر عرب کے امیوں کو اس فضل و کمال سے کیا واسطہ ؟ لیکن تورات سفر استثناء کی عظیم الشان پیشین گوئی غلط نہیں ہوسکتی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے بھائیوں (بنی اسماعیل) میں سے ایک موسیٰ جیسا (صاحب شریعت مستقلہ) نبی اٹھائے گا۔ اپنا کلام (قرآن کریم) اس کے منہ میں ڈالے گا۔ (اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا ڏ شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا) 73 ۔ المزمل :15) چناچہ بنی اسماعیل کو یہ دولت ملی اور وہ علم و فضل حجت وبرہان اور مذہبی جدوجہد کے میدان مقابلہ میں نہ صرف بنی اسرائیل بلکہ دنیا کی تمام اقوام سے گوئے سبقت لے گئے۔ فالحمد للّٰہ علیٰ ذلک۔ (تنبیہ) اس آیت کی تقریر کئی طرح سے کی گئی ہے لیکن ہم نے وہ ہی تقریر اختیار کی جس کی طرف مترجم محقق قدس اللہ روحہ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔
Ayah 3:746 یعنی اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں، اور اسی کو خبر ہے کہ کس کو کیا بڑائی ملنی چاہیئے۔ نبوّت، شریعت، ایمان و اسلام اور ہر قسم کی مادی و روحانی فضائل و کمالات کا تقسیم کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے جس وقت جسے مناسب جانے عطا کرتا ہے۔ (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ) 6 ۔ الانعام :124) ۔
Ayah 3:757 اہل کتاب کی دینی خیانت و نفاق کے سلسلہ میں دنیاوی خیانت کا ذکر آگیا جس سے اس پر روشنی پڑتی ہے کہ جو لوگ چار پیسہ پر نیّت خراب کرلیں اور امانتداری نہ برت سکیں ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے کہ دینی معاملات میں امین ثابت ہوں گے۔ چناچہ ان میں بہت سے وہ ہیں جن کے پاس زیادہ تو کیا، ایک اشرفی بھی امانت رکھی جائے تو تھوڑی دیر بعد مکر جائیں۔ اور جب تک کوئی تقاضہ کے لئے ہر وقت ان کے سر پر کھڑا نہ رہے اور پیچھا کرنے والا نہ ہو، امانت ادا نہ کریں۔ بیشک ان میں سب کا حال ایسا نہیں، بعض ایسے بھی ہیں جن کے پاس اگر سونے کا ڈھیر رکھ دیا جائے تو ایک رتی خیانت نہ کریں۔ لیکن یہ ہی خوش معاملہ اور امین لوگ ہیں۔ جو یہودیت سے بیزار ہو کر اسلام کے حلقہ بگوش بنتے جا رہے ہیں۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ ؓ
8 یعنی پرایا حق کھانے کو یہ مسئلہ بنا لیا کہ عرب کے امی جو ہمارے مذہب پر نہیں، ان کا مال جس طرح ملے روا ہے۔ غیر مذہب والوں کی امانت میں خیانت کی جائے تو کچھ گناہ نہیں خصوصاً وہ عرب جو اپنا آبائی دین چھوڑ کر مسلمان بن گئے ہیں۔ خدا نے ان کا مال ہمارے لئے حلال کردیا ہے۔
9 یعنی جان بوجھ کر خدا کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں۔ امانت میں خیانت کرنے کی خدا نے ہرگز اجازت نہیں دی آج بھی اسلامی فقہ کا مسئلہ یہ ہی ہے کہ مسلم ہو یا کافر، کسی کی امانت میں خیانت جائز نہیں۔
Ayah 3:761 یعنی خیانت و بدعہدی میں گناہ کیوں نہیں، جبکہ خدا تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ جو کوئی خدا کے اور بندوں کے جائز عہد پورے کرے اور خدا سے ڈر کر تقویٰ کی راہ چلے یعنی فاسد خیالات مذموم اعمال اور پست اخلاق سے پرہیز کرے، اسی سے خدا محبت کرتا ہے۔ اس میں امانتداری کی خصلت بھی آگئی۔
Ayah 3:772 یعنی جو لوگ دنیا کی متاع قلیل لے کر خدا کے عہد اور آپس کی قسموں کو توڑ ڈالتے ہیں، نہ باہمی معاملات درست رکھتے ہیں نہ خدا سے جو قول وقرار کیا تھا اس پر قائم رہتے ہیں۔ بلکہ مال و جاہ کی حرص میں احکام شرعیہ کو بدلتے اور کتب سماویہ میں تحریف کرتے رہتے ہیں۔ ان کا انجام آگے مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ یہود میں صفت تھی کہ اللہ نے ان سے اقرار لیا تھا اور قسمیں دی تھیں کہ ہر نبی کے مددگار رہیو۔ پھر غرض دنیا کے واسطے پھرگئے اور جو کوئی جھوٹی قسم کھائے دنیا لینے کے واسطے اس کا یہ ہی حال ہے۔
3 اس قسم کی آیت سورة " بقرہ " کے اکیسویں رکوع میں گزر چکی، وہاں کے فوائد میں الفاظ کی تشریح دیکھ لی جائے۔
Ayah 3:784 یہ اہل کتاب کی تحریف کا حال بیان فرمایا۔ یعنی آسمانی کتاب میں کچھ چیزیں اپنی طرف سے بڑھا گھٹا کر ایسے انداز اور لہجہ میں پڑھتے ہیں کہ ناواقف سننے والا دھوکہ میں آجائے۔ اور یہ سمجھے کہ یہ بھی آسمانی کتاب کی عبارت ہے یہ ہی نہیں بلکہ زبان سے دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ یہ سب اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے۔ حالانکہ نہ وہ مضمون کتاب میں موجود ہے اور نہ خدا کے پاس سے آیا ہے بلکہ خود اس تحریف شدہ کتاب کو بھی بہیاتِ مجموعی خدا کی کتاب نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اس میں طرح طرح کے تصرّفات اور جعلسازیاں کی گئی ہیں۔ آج بائبل کے جو نسخے دنیا میں موجود ہیں ان میں باہم شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض ایسے مضامین درج ہیں جو قطعاً خدا کی طرف سے نہیں ہوسکتے۔ اسکی کچھ تفصیل " روح المعانی " میں موجود ہے۔ اور اثبات تحریف پر ہمارے علماء نے مبسوط بحثیں کی ہیں۔ جزاہم اللّٰہ احسن الجزاء۔