Ayah 3:1194 یعنی یہ کیسی بےموقع بات ہے کہ تم ان کی دوستی کا دم بھرتے ہو، اور وہ تمہارے دوست نہیں بلکہ جڑ کاٹنے والے دشمن ہیں اور طرفہ یہ ہے کہ تم تمام آسمانی کتابوں کو مانتے ہو خواہ وہ کسی قوم کی ہوں اور کسی زمانہ میں کسی پیغمبر پر نازل ہوئی ہوں (جنکے خدا نے نام بتلا دیئے ان پر علی التعیین اور جنکے نام نہیں بتلائے ان پر بالاجمال ایمان رکھتے ہو) اس کے برخلاف یہ لوگ تمہاری کتاب اور پیغمبر کو نہیں مانتے، بلکہ خود اپنی کتابوں پر بھی انکا ایمان صحیح نہیں۔ اس لحاظ سے چاہیے تھا کہ وہ تم سے قدرے محبت کرتے اور تم ان سے سخت نفور و بیزار رہتے مگر یہاں معاملہ برعکس ہو رہا ہے۔
5 منافقین تو کہتے ہی تھے، عام یہود و نصاریٰ بھی بحث و گفتگو میں " آمناّ " (ہم مسلمان ہیں) کہہ کر یہ مطلب لے لیتے تھے کہ ہم اپنی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کو تسلیم کرتے ہیں۔
6 یعنی اسلام کا عروج اور مسلمانوں کی باہمی الفت و محبت دیکھ کر یہ لوگ جلے مرتے ہیں۔ اور چونکہ اسکے خلاف کچھ بس نہیں چلتا، اس لئے فرط غیظ و غضب سے دانت پیستے اور اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔
7 یعنی خدا تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو اور زیادہ ترقیات و فتوحات عنایت فرمائے گا۔ تم غیظ کھا کھا کر مرتے رہو۔ اگر ایڑیاں رگڑ کر مرجاؤ گے تب بھی تمہاری آرزوئیں پوری نہ ہوں گی، خدا اسلام کو غالب اور سربلند کر کے رہے گا۔
8 اسی لئے مسلمانوں کو ان شریروں کے باطنی حالات اور قلبی جذبات پر مطلع کردیا اور سزا بھی ان کو ایسی دیگا جو اندرونی شرارتوں اور خفیہ عداوتوں کے مناسب ہو۔
Ayah 3:1209 اگر تمہاری ذراسی بھلائی دیکھتے ہیں مثلا مسلمانوں کا اتحاد و یکجہتی یا دشمنوں پر غلبہ تو حسد کی آگ میں بھننے لگتے ہیں۔ اور جہاں تم پر کوئی مصیبت نظر آئی خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے۔ بھلا ایسی کمینہ قوم سے ہمدردری اور خیر خواہی کی کیا توقع ہوسکتی ہے، جو دوستی کا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا جائے۔
1 ممکن تھا کسی کو یہ خیال گزرے کہ جب ہم ان سے دوستانہ تعلقات نہ رکھیں گے تو وہ زیادہ غیظ و غضب میں آکر ہمارے خلاف تدبیریں کریں گے اور بیش از بیش نقصان پہنچانا چاہیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ تم صبر و استقلال اور تقویٰ و طہارت پر ٹھیک ٹھیک قائم رہو گے تو ان کا کوئی داؤ فریب تم پر کارگر نہ ہوگا۔ جو کاروائیاں وہ کرتے ہیں سب خدا کے علم میں ہیں، اور اس کو ہر وقت قدرت حاصل ہے کہ ان کا تار پود بکھیر کر رکھ دے تم اپنا معاملہ خدا سے صاف رکھو، پھر تمہارے راستہ سے سب کانٹے صاف کردیئے جائیں گے۔ آگے غزوہ احد کا واقعہ یاد دلاتے ہیں کہ اس میں بعض مسلمان منافقین کی مغویانہ حرکات سے کچھ اثر پذیر ہوگئے تھے اور قریب تھا کہ مسلمانوں کے دو قبیلے صبر وتقویٰ کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں جس سے منافقین کو خوش ہونے کا موقع ہاتھ آئے، مگر خدا نے دستگیری فرمائی اور ان قبیلوں کو سخت مہلک ٹھوکر سے بچا لیا۔
Ayahs 3:121–1232 اس آیت میں جنگ احد کا واقعہ یاد دلایا ہے۔ صورت یہ ہوئی تھی کہ رمضان المبارک 2 ھجری میں بدر کے مقام پر قریشی فوج اور مسلمان مجاہدین میں مڈ بھیڑ ہوگئی۔ جس میں کفار مکہ کے ستّر نامور اشخاص مارے گئے اور اسی قدر گرفتار ہوئے۔ اس تباہ کن اور ذلت آمیز شکست سے قریش کا شعلہ انتقام بھڑک اٹھا، جو سردار مارے گئے تھے انکے اقارب نے تمام عرب کو غیرت دلائی اور اہل مکہ سے اپیل کی کہ تجارتی قافلہ جو مال شام سے لایا ہے (کہ وہ ہی باعث جنگ بدر کا ہوا تھا) سب اسی مہم کی نذر کردیں تاکہ ہم محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے اپنے مقتولین کا بدلہ لے سکیں سب نے منظور کیا اور 3 ھجری میں قریش کے ساتھ بہت سے دوسرے قبائل بھی مدینہ پر چڑھائی کرنے کی غرض سے نکل پڑے حتیٰ کہ عورتیں بھی ساتھ آئیں تاکہ موقع پیش آنے پر مردوں کو غیرت دلا کر پسپائی سے روک سکیں۔ جس وقت یہ تین ہزار کا لشکر اسلحہ وغیرہ سے پوری طرح آراستہ ہو کر مدینہ سے تین چار میل ادھر جبل احد کے قریب خیمہ زن ہوا۔ تو نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا۔ آپ ﷺ کی رائے مبارک یہ تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ بہت آسانی اور کامیابی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، اس کی تائید آپ کے ایک خواب سے ہوئی تھی، یہ پہلا موقع تھا کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی سے بھی رائے لی گئی جو حضور ﷺ کی رائے سے موافق تھی۔ مگر بعض پر جوش مسلمان جنہیں بدر کی شرکت نصیب نہ ہوئی تھی اور شوق شہادت بیچین کر رہا تھا، مصِر ہوئے کہ ہم کو باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہیے، تاکہ دشمن ہماری بزدلی اور کمزوری کا گمان نہ کرے، کثرت رائے اسی طرف ہوگئی۔ اسی حیص و بیص میں آپ ﷺ مکان کے اندر تشریف لے گئے اور زرہ پہن کر باہر آئے اس وقت بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ہم نے آپ ﷺ کی رائے کے خلاف مدینہ سے باہر لڑائی کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ ﷺ کا منشا نہ ہو تو یہیں تشریف رکھئے۔ فرمایا ایک پیغمبر کو سزاوار نہیں کہ جب وہ زرہ پہن لے اور ہتھیار لگا لے پھر بدون قتال کئے بدن سے اتارے۔ جب آپ ﷺ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تقریبا ایک ہزار آدمی آپ کے ساتھ تھے مگر عبد اللہ بن ابی تقریبا تین سو آدمیوں کو (جن میں بعض مسلمان بھی تھے) ساتھ لے کر راستہ سے یہ کہتا ہوا واپس ہوگیا کہ جب میرا مشورہ نہ مانا اور دوسروں کی رائے پر عمل کیا تو ہم کو لڑنے کی ضرورت نہیں، کیوں خواہ مخواہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالیں۔ بعض بزرگوں نے سمجھایا بھی مگر کچھ اثر نہیں ہوا، آخر آپ کل سات سو سپاہیوں کی جمعیت لیکر میدان جنگ میں پہنچ گئے۔ آپ ﷺ نے بنفس نفیس فوجی قاعدہ سے صفیں ترتیب دیں۔ ہر ایک دستہ کو اسکے مناسب ٹھکانہ پر بٹھلایا۔ اور فرمایا جب تک میں حکم نہ دوں کوئی قتال نہ کرے۔ اسی اثناء میں عبد اللہ بن ابی کی علیٰحدگی سے دو قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دلوں میں کچھ کمزوری پیدا ہوئی۔ مسلمانوں کی قلیل جمعیت پر نظر کر کے دل چھوڑنے لگے اور خیال آیا کہ میدان سے سرک جائیں مگر حق تعالیٰ نے ان کی مدد اور دستگیری فرمائی، دلوں کو مضبوط کردیا اور سمجھا دیا کہ مسلمانوں کا بھروسہ تنہا خدائے واحد کی اعانت و نصرت پر ہونا چاہیے تعداد اور سامان وغیرہ کوئی چیز نہیں جب وہ مظفر و منصور کرنا چاہے تو سب سامان رکھے رہ جاتے ہیں اور غیبی تائید سے فتح مبین حاصل ہوجاتی ہے جیسے معرکہ بدر میں ہوا۔ پس مسلمانوں کو صرف اللہ سے ڈرنا چاہیے تاکہ اس کی طرف سے مزید انعام و احسان ہو اور مزید شکر گذاری کا موقع ملے۔ (غزوہ بدر کی پوری تفصیل سورة الانفال میں آئے گی۔ وہاں کے فوائد ملاحظہ کئے جائیں)
(تنبیہ) ۔ دو فرقوں سے مراد وہی بنو سلمہ و بنو حارثہ ہیں۔ گو اس آیت میں ان پر چشمک کی گئی، لیکن ان میں کے بعض بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت کا نازل نہ ہونا ہم کو پسند نہ تھا کیونکہ " وَاللّٰہُ وَلِیُّھُمَا " کی بشارت عتاب سے بڑھ کر ہے۔
Ayah 3:1243 یعنی جو آسمان سے خاص اسی کام کے لئے اتارے گئے ہوں۔ اکثر علماء کے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے جب کفار کی جمعیت اور تیاری دیکھ کر مسلمانوں کو تشویش ہوئی تو آپ ﷺ نے تسلّی کے لئے ایسا فرمایا۔ چناچہ فرشتوں کی کمک آسمان سے پہنچی۔ سورة الانفال میں اس کا مفصل بیان آئے گا۔ وہیں نزول ملائکہ کی حکمت اور عدد ملائکہ کے ظاہری تعارض پر کلام کیا جائے گا۔
Ayah 3:1254 یعنی تین ہزار بیشک کافی ہیں تاہم اگر تم نے صبر و استقلال کا ثبوت دیا اور تقویٰ اختیار کر کے نافرمانی سے بچتے رہے، اور کفار کی فوج ایکدم تم پر ٹوٹ پڑی تو تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیج دیئے جائیں گے جن کی خاص علامتیں ہونگی اور انکے گھوڑوں پر بھی خاص نشان ہوں گے۔ چونکہ بدر میں کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اولا اس کے مناسب ایک ہزار فرشتوں کا وعدہ فرمایا جیسا کہ سورة انفال میں آئے گا۔ پھر مسلمانوں کی گھبراہٹ دور فرمانے کے لئے تعداد تگنی کردی گئی کیونکہ کفار کی تعداد مسلمانوں سے تگنی تھی۔ اس کے بعد شعبی کی روایت کے موافق جب مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ کرز بن جابر بڑی کمک لے کر مشرکین کی مدد کے لئے آرہا ہے تو ایک جدید اضطراب پیدا ہوگیا، اس وقت مزید تسکین وتقویت کے لئے وعدہ فرمایا کہ اگر تم صبر وتقویٰ سے کام لو گے تو ہم پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج دیں گے۔ اگر مشرکین کی کمک بالکل ناگہانی طور پر آپہنچے تب بھی فکر مت کرو۔ خدا تعالیٰ بروقت تمہاری مدد کرے گا۔ شاید پانچ ہزار کا عدد اس لئے رکھا ہو کہ لشکر کے پانچ حصے ہوتے تھے۔ ہر ایک حصہ کو ایک ایک ہزار کی کمک پہنچا دی جائے گی۔ چونکہ کرز بن جابر کی مدد مشرکین کو نہ پہنچی۔ اس لئے بعض کہتے ہیں کہ پانچ ہزار کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ کیونکہ وہ (وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا) 3 ۔ آل عمران :125) پر معلق تھا۔ اور بعض کا قول ہے کہ پانچ ہزار فرشتے نازل ہوئے۔ واللہ اعلم۔ اس کا مزید بیان " انفال " میں دیکھو۔
Ayah 3:1265 یعنی یہ سب غیبی سامان غیر معمولی طور پر ظاہری اسباب کی صورت میں محض اس لئے مہیا کئے گئے کہ تمہارے دلوں سے اضطراب و ہراس دور ہو کر سکون و اطمینان نصیب ہو۔ ورنہ خدا کی مدد کچھ ان چیزوں پر محدود و مقصور نہیں، نہ اسباب کی پابند ہے وہ چاہے تو محض اپنی زبردست قدرت سے بدون فرشتوں کے تمہارا کام بنا دے۔ یا بدون تمہارے توسط کے کفار کو خائب و خاسر کر دے۔ یا ایک فرشتہ سے وہ کام لے لے جو پانچ ہزار سے لیا جاتا ہے۔ فرشتے بھی جو امداد پہنچاتے ہیں وہ اسی خداوند قدیر کی قدرت و مشیت سے پہنچا سکتے ہیں، مستقل طاقت و اختیار کسی میں نہیں۔ آگے یہ اسکی حکمت ہے کہ کس موقع پر کس قسم کے اسباب و وسائط سے کام لینا مناسب ہے، تکوینیات کے رازوں کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔
حدیث از مطرب ومے گو و راز دہر کمتر جو
کہ کس نکشود ونکشاید بحکمت ایں معمارا
Ayah 3:1271 یعنی فرشتے بھیجنے سے مقصود تمہاری مدد کرنا تھا کہ تمہارے دل مضبوط ہوں اور خدا کی طرف سے بشارت و طمانینت پا کر پوری دلجمعی اور پامردی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرو۔ جس سے یہ غرض تھی کہ کافروں کا زور ٹوٹے۔ ان کا بازو کٹ جائے۔ پُرانے نامور مشرک کچھ مارے جائیں، کچھ ذلیل و خوار ہوں، اور بقیۃ السیف بہزار رسوائی و ناکامی واپس ہوجائیں چناچہ ایسا ہی واقعہ ہوا۔ ستَر سردار جن میں اس امت کا فرعون ابو جہل بھی تھا، مارے گئے، ستر قید ہوئے۔ اور نہایت ذلیل و نامراد ہو کر مکہ واپس جانا پڑا۔
Ayah 3:1282 احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے جن میں حضور ﷺ کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ ؓ بھی تھے، مشرکین نے نہایت وحشیانہ طور پر شہداء کا مثلہ کیا (ناک کان وغیرہ کاٹے) پیٹ چاک کئے حتیٰ کہ حضرت حمزہ ؓ کا جگر نکال کر ہندہ نے چبایا۔ مفصل واقعہ آگے آئے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو بھی اس لڑائی میں چشم زخم پہنچا۔ سامنے کے چار دانتوں میں سے نیچے کا دایاں دانت شہید ہوا، خود کی کڑیاں ٹوٹ کر رخسار مبارک میں گھس گئیں، پیشانی زخمی ہوئی اور بدن مبارک لہو لہان تھا اسی حالت میں آپ ﷺ کا پاؤں لڑکھڑایا اور زمین پر گر کر بیہوش ہوگئے۔ کفار نے مشہور کردیا۔ اِنَّ مُحَمَّدَا قَدْ قُتِلَ (محمد ﷺ مارے گئے) اس سے مجمع بدحواس ہوگیا، تھوڑی دیر کے بعد آپ ﷺ کو ہوش آیا۔ اس وقت زبان مبارک سے نکلا کہ " وہ قوم کیونکر فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا چہرہ زخمی کیا جو انکو خدا کی طرف بلاتا تھا "۔ مشرکین کے وحشیانہ شدائد و مظالم کو دیکھ کر آپ سے نہ رہا گیا اور ان میں سے چند نامور اشخاص کے حق میں آپ ﷺ نے بد دعاء کا ارادہ کیا یا شروع کردی جس میں ظاہر ہے آپ ﷺ ہر طرح حق بجانب تھے مگر حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ آپ اپنے منصب جلیل کے موافق اس سے بھی بلند مقام پر کھڑے ہوں، وہ ظلم کرتے جائیں آپ ﷺ خاموش رہیں۔ جتنی بات کا آپ کو حکم ہے (مثلا دعوت و تبلیغ اور جہاد وغیرہ) اسے انجام دیتے رہیں۔ باقی انکا انجام خدا کے حوالے کریں۔ اس کی جو حکمت ہوگی کرے گا آپکی بد دعا سے وہ ہلاک کردیئے جائیں کیا اسکی جگہ یہ بہتر نہیں کہ ان ہی دشمنوں کو اسلام کا محافظ اور آپ ﷺ کا جاں نثار عاشق بنادیا جائے ؟ چناچہ جن لوگوں کے حق میں آپ ﷺ بددعا کرتے تھے، چند روز کے بعد سب کو خدا تعالیٰ نے آپ ﷺ کے قدموں پر لا ڈالا، اور اسلام کا جانباز سپاہی بنادیا۔ غرض لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِشَیْءٌ میں آنحضرت ﷺ کو متنبہ فرمایا کہ بندہ کو اختیار نہیں نہ اس کا علم محیط ہے اللہ تعالیٰ جو چاہے سو کرے۔ اگرچہ کافر تمہارے دشمن ہیں اور ظلم پر ہیں۔ لیکن چاہے وہ ان کو ہدایت دے چاہے عذاب کرے تم اپنی طرف سے بد دعا نہ کرو۔ بعض روایات سے ان آیات کی شان نزول کچھ اور معلوم ہوتی ہے۔ یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں فتح الباری میں کئی جگہ اس پر شافی کلام کیا ہے فلیر اجع۔
Ayah 3:1293 یعنی تمام زمین آسمان میں خدائے واحد کا اختیار چلتا ہے سب اسی کی مملوک و مخلوق ہے۔ وہ جس کو مناسب جانے ایمان کی توفیق دیکر بخش دے اور جسے چاہے کفر کی سزا میں پکڑ لے۔ شاید اخیر میں " وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ" فرما کر اشارہ کردیا کہ ان لوگوں کو جن کے حق میں آپ ﷺ بد دعا کرنا چاہتے تھے، ایمان دے کر مغفرت و رحمت کا موردبنایا جائے گا۔
Ayah 3:1304 جنگ احد کے تذکرہ میں سود کی ممانعت کا ذکر بظاہر بےتعلق معلوم ہوتا ہے۔ مگر شاید یہ مناسبت ہو کہ اوپر (اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا) 3 ۔ آل عمران :122) میں " جہاد " کے موقع پر نامردی دکھلانے کا ذکر ہوا تھا۔ اور سود کھانے سے نامردی پیدا ہوتی ہے۔ دو سبب سے۔ ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق طاعت کم ہوتی ہے اور بڑی طاعت جہاد ہے، دوسرے یہ کہ سود لینا انتہائی بخل پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ سود خوار چاہتا ہے کہ اپنا مال جتنا دیا تھا لے لے اور بیچ میں کسی کا کام نکلا، یہ بھی مفت نہ چھوڑے۔ اس کا علیٰحدہ معاوضہ وصول کرے۔ تو جس کو مال میں اتنا بخل ہو کہ خدا کے لئے کسی کی ذرہ بھر ہمدردی نہ کرسکے وہ خدا کی راہ میں جان کب دے سکے گا۔ ابو حیان نے لکھا ہے کہ اس وقت یہود وغیرہ سے مسلمانوں کے سودی معاملات اکثر ہوتے رہتے تھے۔ اسی لئے ان سے تعلقات قطع کرنا مشکل تھا چونکہ پہلے لاتَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً کا حکم ہوچکا ہے، اور احد کے قصہ میں بھی منافقین یہود کی حرکات کو بہت دخل تھا اس لئے متنبہ فرمایا کہ سودی لین دین ترک کرو ورنہ اس کی وجہ سے خواہی نہ خواہی ان ملعونوں کے ساتھ تعلقات قائم رہیں گے جو آیندہ نقصان اٹھانے کا موجب ہوں گے۔
5 اس کا مطلب یہ نہیں کہ تھوڑا سود لے لیا کرو۔ دونے پر دونا مت لو۔ بات یہ ہے کہ جاہلیت میں سود اسی طرح لیا جاتا تھا جیسے ہمارے یہاں کے بنیئے لیتے ہیں۔ سَو روپے دیے اور سود در سود بڑھاتے چلے گئے یہاں تک کہ سو روپے میں ہزاروں روپیہ کی جائیدادوں کے مالک بن بیٹھے۔ اسی صورت کو یہاں اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً سے تعبیر فرمایا۔ یعنی اول تو سود مطلقا حرام و قبیح اور یہ صورت تو بہت ہی زیادہ شنیع و قبیح ہے جیسے کوئی کہے میاں مسجد میں گالیاں مت بکو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسجد سے باہر بکنے کی اجازت ہے بلکہ مزید تقبیح وتشنیع کے موقع پر ایسے الفاظ بولتے ہیں۔
6 یعنی سود کھانے میں بھلا نہیں، بلکہ تمہارا بھلا اس میں ہے کہ خدا سے ڈر کر سود کھانا چھوڑ دو ۔
Ayahs 3:131–1328 رسول ﷺ کا حکم ماننا بھی فی الحقیقت خدا ہی کا حکم ماننا ہے کیونکہ اس نے حکم دیا ہے کہ ہم پیغمبر کا حکم مانیں اور ان کی پوری اطاعت کریں۔ جن احمقوں کو اطاعت اور عبادت میں فرق نظر نہ آیا وہ اطاعت رسول ﷺ کو شرک کہنے لگے۔ چونکہ جنگ احد میں رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی تھی (جیسا کہ آگے آتا ہے) اس لئے آیندہ کے لئے ہوشیار کیا جاتا ہے۔ کہ خدا کی رحمت اور فلاح و کامیابی کی امید اسی وقت ہوسکتی ہے جب اللہ و رسول کے کہنے پر چلو۔
Ayah 3:1339 یعنی ان اعمال و اخلاق کی طرف جھپٹو جو حسب وعدہ خداوندی اسکی بخشش اور جنت کا مستحق بناتے ہیں۔
10 چونکہ آدمی کے دماغ میں آسمان و زمین کی وسعت سے زیادہ اور کوئی وسعت نہیں آسکتی تھی اس لئے سمجھانے کے لئے جنت کے عرض کو اسی سے تشبیہ دی گئی۔ گویا بتلا دیا کہ جنت کا عرض زیادہ سے زیادہ سمجھو پھر جب عرض اتنا ہے تو طول کا حال خدا جانے کیا کچھ ہوگا۔
Ayah 3:13411 یعنی نہ عیش و خوشی میں خدا کو بھولتے ہیں نہ تنگی و تکلیف کے وقت خرچ کرنے سے جان چراتے ہیں۔ ہر موقع پر اور ہر حال میں حسب مقدرت خرچ کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ سود خوروں کی طرح بخیل اور پیسہ کے پجاری نہیں۔ گویا جانی جہاد کے ساتھ مالی جہاد بھی کرتے ہیں۔
12 غصہ کو پی جانا ہی بڑا کمال ہے اس پر مزید یہ کہ لوگوں کی زیادتی یا غلطیوں کو بالکل معاف کردیتے ہیں، اور نہ صرف معاف کرتے ہیں، بلکہ احسان اور نیکی سے پیش آتے ہیں۔ غالبا پہلے جن لوگوں کی نسبت بددعا کرنے سے روکا تھا، یہاں ان کے متعلق غصہ دبانے اور عفو و در گزر سے کام لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز جن بعض صحابہ نے جنگ احد میں عدول حکمی کی تھی، یا فرار اختیار کیا تھا، ان کی تقصیر معاف کرنے اور شان عفو و احسان اختیار کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
Ayah 3:13513 یعنی کھلم کھلا کوئی بےحیائی کا کام کر گزریں جس کا اثر دوسروں تک متعدی ہو یا کسی اور بری حرکت کے مرتکب ہوجائیں جس کا ضرر ان ہی کی ذات تک محدود رہے۔
Ayah 3:1361 یعنی خدا کی عظمت و جلال، اسکے عذاب وثواب، اسکے حقوق و احکام، اسکی عدالت کی پیشی اور وعد و عید کو دل سے یاد کر کے زبان سے بھی اسکی یاد شروع کردی۔ خوفزدہ اور مضطرب ہو کر اسے پکارا، اسکے سامنے سر بسجود ہوئے (جیسا کہ " صلوٰۃ التوبہ " کی حدیث میں آیا ہے) پھر جو شرعی طریقہ گناہوں کے معاف کرانے کا ہے اس کے موافق معافی اور بخشش طلب کی۔ مثلا اہل حقوق کے حقوق ادا کئے یا ان سے معاف کرائے اور خدا کے سامنے توبہ و استغفار کیا (کیونکہ اصل بخشنے والا تو وہی ہے) جو گناہ بمقتضائے بشریت ہوگیا تھا اس پر اڑے نہیں۔ بلکہ یہ جان کر کہ حق تعالیٰ بندوں کی سچی توبہ قبول کرتا ہے، ندامت و اقلاع کے ساتھ توبہ کرتے ہوئے اس کے حضور میں حاضر ہوگئے۔ یہ لوگ بھی دوسرے درجہ کے متقین میں ہیں جن کے لئے جنت تیار کی گئی ہے۔ حق تعالیٰ ان تائبین کے گناہ معاف کر کے اپنی جنت میں جگہ دے گا اور جو توبہ یا اور عمل نیک کئے ہوں گے ان کا بہترین معاوضہ ملے گا۔
Ayah 3:1372 یعنی تم سے پہلے بہت قومیں اور ملتیں گزر چکیں۔ بڑے بڑے واقعات پیش آچکے، خدا تعالیٰ کی عادت بھی بار بار معلوم کرا دی گئی کہ ان میں سے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی عداوت اور حق کی تکذیب پر کمر باندھی اور خدا اور رسول کی تصدیق و اطاعت سے منہ پھیر کر حرام خوری اور ظلم و عصیان پر اصرار کرتے رہے، انکا کیسا برا انجام ہوا۔ یقین نہ ہو تو زمین میں چل پھر کر ان کی تباہی کے آثار دیکھ لو جو آج بھی تمہارے ملک کے قریب موجود ہیں۔ ان واقعات میں غور کرنے سے معرکہ " احد " کے دونوں حریفوں کو سبق لینا چاہیئے۔ یعنی مشرکین جو پیغمبر خدا کی عداوت میں حق کو کچلنے کے لئے نکلے اپنی تھوڑی سے عارضی کامیابی پر مغرور نہ ہوں کہ انکا آخری انجام بجز ہلاکت و بربادی کے کچھ نہیں۔ اور مسلمان کفار کی سختیوں اور وحشیانہ دراز دستیوں یا اپنی ہنگامی پسپائی سے ملول و مایوس نہ ہوں کہ آخر حق غالب و منصور ہو کر رہے گا۔ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے جو ٹل نہیں سکتی۔
Ayah 3:1383 یعنی عام لوگوں کے کان کھولنے کے لئے قرآن میں یہ مضامین بیان کئے جا رہے ہیں جن کو سن کر خدا سے ڈرنے والے ہدایت و نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ باقی جس کے دل میں خدا کا خوف نہ ہو ناصحانہ تنبیہات سے کیا منتفع ہوسکتا ہے۔
Ayah 3:1394 یہ آیات جنگ احد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ جب مسلمان مجاہدین زخموں سے چور چور ہو رہے تھے، انکے بڑے بڑے بہادروں کی لاشیں آنکھوں کے سامنے مثلہ کی ہوئی پڑی تھیں۔ پیغمبر (علیہ السلام) کو بھی اشقیاء نے مجروح کردیا تھا اور بظاہر کامل ہزیمت کے سامان نظر آرہے تھے۔ اس ہجوم شدائد و یاس میں خداوند قدوس کی آواز سنائی دی۔ (وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :139) دیکھنا ! سختیوں سے گھبرا کر دشمنان خدا کے مقابلہ میں نامردی اور سستی پاس نہ آنے پائے، پیش آمدہ حوادث و مصائب پر غمگین ہو کر بیٹھ رہنا مومن کا شیوہ نہیں۔ یاد رکھو آج بھی تم ہی معزز و سر بلند ہو کہ حق کی حمایت میں تکلیفیں اٹھا رہے ہو اور جانیں دے رہے ہو اور یقینا آخری فتح بھی تمہاری ہے انجام کار تم ہی غالب ہو کر رہو گے۔ بشرطیکہ ایمان و ایقان کے راستہ پر مستقیم رہو۔ اور حق تعالیٰ کے وعدوں پر کامل وثوق رکھتے ہوئے اطاعت رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے قدم پیچھے نہ ہٹاؤ اس خدائی آواز نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا اور پژمردہ جسموں میں حیات تازہ پھونک دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کفار جو بظاہر غالب آچکے تھے، زخم خوردہ مجاہدین کے جوابی حملہ کی تاب نہ لاسکے۔ اور سر پر پاؤں رکھ کر میدان سے بھاگے۔
Ayah 3:1405 مسلمانوں کو جنگ میں جو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا، اس سے سخت شکستہ خاطر تھے۔ مزید برآں منافقین اور دشمنوں کے طعنے سن کر اور زیادہ اذیت پہنچتی تھی۔ کیونکہ منافقین کہتے تھے کہ محمد ﷺ سچے پیغمبر ہوتے تو یہ نقصانات کیوں پہنچتے یا تھوڑی دیر کے لئے بھی عارضی ہزیمت کیوں پیش آتی۔ حق تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی کہ اگر اس لڑائی میں تم کو زخم پہنچا یا تکلیف اٹھانی پڑی تو اس طرح کے حوادث فریق مقابل کو پیش آچکے ہیں۔ احد میں تمہارے پچھتر آدمی شہید اور بہت سے زخمی ہوئے، تو ایک سال پہلے بدر میں انکے ستّر جہنم رسید اور بہت سے زخمی ہوچکے ہیں اور خود اس لڑائی میں بھی ابتداً انکے بہت آدمی مقتول و مجروح ہوئے جیسا کہ (وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ ) 3 ۔ آل عمران :152) کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ پھر بدر میں انکے ستّر آدمی ذلت کے ساتھ قید ہوئے۔ تمہارے ایک فرد نے بھی یہ ذلت قبول نہ کی۔ بہرحال اپنے نقصان کا ان کے نقصان سے مقابلہ کرو تو غم و افسوس کا کوئی موقع نہیں۔ نہ انکے لئے کبر و غرور سے سر اٹھانے کی جگہ ہے۔ باقی ہماری عادت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ سختی نرمی، دکھ سکھ ' تکلیف و راحت کے دنوں کو لوگوں میں ادل بدل کرتے رہتے ہیں جس میں بہت سی حکمتیں مضمر ہیں۔ پھر جب وہ دکھ اٹھا کر باطل کی حمایت میں ہمت نہیں ہارے، تو تم حق کی حمایت میں کیونکر ہمت ہار سکتے ہو۔
6 یعنی سچے ایمان والوں کو منافقوں سے الگ کر دے۔ دونوں کا رنگ صاف صاف اور جدا جدا نظر آنے لگے۔
7 " ظالمین " سے مراد اگر مشرکین ہیں جو " اُحد " میں فریق مقابل تھے تو یہ مطلب ہوگا کہ ان کی عارضی کامیابی کا سبب یہ نہیں کہ خدا ان سے محبت کرتا ہے۔ بلکہ دوسرے اسباب ہیں۔ اور منافقین مراد ہوں جو عین موقع پر مسلمانوں سے الگ ہوگئے تھے، تو یہ بتلا دیا کہ خدا کے نزدیک مبغوض تھے، اس لئے ایمان و شہادت کے مقام سے انہیں دور پھینک دیا گیا۔
Ayah 3:1418 یعنی فتح اور شکست بدلتی چیز ہے اور مسلمانوں کو شہادت کا مقام بلند عطا فرمانا تھا۔ مومن و منافق کا پرکھنا، مسلمانوں کو سدھانا، یا ذنوب سے پاک کرنا اور کافروں کو آہستہ آہستہ مٹا دینا منظور تھا، کہ جب وہ اپنے عارضی غلبہ اور وقتی کامیابی پر مسرور و مغرور ہو کر کفر و طغیان میں بیش از بیش غلو کریں گے۔ خدا کے قہر و غضب کے اور زیادہ مستحق ہوں گے۔ اس واسطے یہ عارضی ہزیمت مسلمانوں کو ہوئی۔ نہیں تو اللہ کافروں سے راضی نہیں ہے۔
Ayah 3:1421 یعنی جنت کے جن اعلیٰ مقامات اور بلند درجات پر خدا تم کو پہنچانا چاہتا ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ بس یونہی آرام سے وہاں جا پہنچیں گے اور خدا تمہارا امتحان لیکر یہ نہ دیکھے گا کہ تم میں کتنے خدا کی راہ میں لڑنے والے اور کتنے لڑائی کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہیں ایسا خیال نہ کرنا۔ مقامات عالیہ پر وہی لوگ فائز کئے جاتے ہیں جو خدا کے راستہ میں ہر طرح کی سختیاں جھیلنے اور قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔۔ ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
Ayah 3:1436 جو صحابہ بدر کی شرکت سے محروم رہ گئے تھے شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ خدا پھر کوئی موقع لائے جو ہم بھی خدا کی راہ میں مارے جائیں اور شہادت کے مراتب حاصل کریں۔ انہی حضرات نے احد میں یہ مشورہ دیا تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑنا چاہیے ان کو فرمایا کہ جس چیز کی پہلے تمنا رکھتے تھے وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آچکی اب آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنا کیسا ؟ حدیث میں ہے کہ لقاء عَدو کی تمنا مت کرو اور جب ایسا موقع پیش آجائے تو ثابت قدم رہو۔
Ayah 3:1443 واقعہ یہ ہے کہ احد میں نبی کریم ﷺ نے بنفس نفیس نقشہ جنگ قائم کیا۔ تمام صفوف درست کرنے کے بعد پہاڑ کا ایک درّہ باقی رہ گیا جہاں سے اندیشہ تھا کہ دشمن لشکر اسلام کے عقب پر حملہ آور ہوجائے۔ اس پر آپ ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کو جن کے سردار حضرت عبد اللہ بن جبیر ؓ تھے، مامور فرما کر تاکید کردی کہ ہم خواہ کسی حالت میں ہوں تم یہاں سے مت ٹلنا۔ مسلمان غالب ہوں یا مغلوب، حتٰی کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ان کا گوشت نوچ کر کھا رہے ہیں تب بھی اپنی جگہ مت چھوڑنا۔ وانا لن نزال غالبین ماثبتم مکانکم (بغوی) ہم برابر اسوقت تک غالب رہیں گے جب تک تم اپنی جگہ قائم رہو گے۔ الغرض فوج کو پوری ہدایت دینے کے بعد جنگ شروع کی گئی۔ مَیدان کارزار گرم تھا، غازیان اسلام بڑھ بڑھ کر جوہر شجاعت دکھا رہے تھے۔ ابو دجانہ، علی مرتضیٰ اور دوسرے مجاہدین کی بسالت و بےجگری کے سامنے مشرکین قریش کی کمریں ٹوٹ چکی تھیں۔ ان کو راہ فرار کے سوا اب کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا کہ حق تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ کفار کو شکست فاش ہوئی وہ بدحواس ہو کر بھاگے ان کی عورتیں جو غیرت دلانے کو آئی تھیں، پائنچے چڑھا کر ادھر ادھر بھاگتی نظر آئیں۔ مجاہدین نے مال غنیمت پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔ یہ منظر جب تیر اندازوں نے دیکھا تو سمجھے کہ اب فتح کامل ہوچکی دشمن بھاگ رہا ہے۔ یہاں بیکار ٹھہرنا کیا ضروری ہے چل کر دشمن کا تعاقب کریں اور غنیمت میں حصہ لیں۔ عبد اللہ بن جبیر نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ان کو یاد دلایا وہ سمجھے کہ آپ ﷺ کے ارشاد کا اصلی منشا ہم پورا کرچکے ہیں۔ یہاں ٹھہرنے کی حاجت نہیں۔ یہ خیال کر کے سب غنیمت پر جا پڑے۔ صرف عبد اللہ بن جبیر اور ان کے گیارہ ساتھی درّہ کی حفاظت پر باقی رہ گئے۔ مشرکین کے سواروں کا رسالہ خالد بن ولید کے زیر کمان تھا (جو اس وقت تک " حضرت " اور " ؓ " نہیں بنے تھے) انہوں نے پلٹ کر درّہ کی طرف سے حملہ کردیا۔ دس بارہ تیر انداز ڈھائی سو سواروں کی یلغار کو کہاں روک سکتے تھے، تاہم عبد اللہ بن جبیر اور انکے رفقاء نے مدافعت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا اور اسی میں جان دیدی۔ مسلمان مجاہدین اپنے عقب سے مطمئن تھے کہ ناگہاں مشرکین کا رسالہ ان کے سروں پر جا پہنچا اور سامنے سے مشرکین کی فوج جو بھاگی جا رہی تھی، پیچھے پلٹ پڑی، مسلمان دونوں طرف سے گھر گئے اور بہت زور کا رن پڑا، کتنے ہی مسلمان شہید اور زخمی ہوئے۔ اسی افراتفری میں ابن قمیہ نے ایک بھاری پتھر نبی کریم ﷺ پر پھینکا جس سے دندان مبارک شہید اور چہرہ انور زخمی ہوا۔ ابن قمیہ نے چاہا کہ آپ ﷺ کو قتل کرے، مگر مصعب بن عمیر نے (جن کے ہاتھ میں اسلام کا جھنڈا تھا) مدافعت کی۔ نبی کریم ﷺ زخم کی شدت سے زمین پر گرے۔ کسی شیطان نے آواز لگا دی کہ آپ ﷺ قتل کردیئے گئے، یہ سنتے ہی مسلمانوں کے ہوش خطا ہوگئے، اور پاؤں اکھڑ گئے۔ بعض مسلمان ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ بعض ضعفاء کو خیال ہوا کہ مشرکین کے سردار ابو سفیان سے امن حاصل کرلیں۔ بعض منافقین کہنے لگے کہ جب محمد قتل کردیئے گئے تو اسلام چھوڑ کر اپنے قدیم مذہب میں واپس چلے جانا چاہیئے۔ اس وقت انس بن مالک کے چچا انس ابن النضر نے کہا کہ اگر محمد مقتول ہوگئے تو رب محمد ﷺ تو مقتول نہیں ہوا، حضور ﷺ کے بعد تمہارا زندہ رہنا کس کام کا ہے ؟ جس چیز پر آپ ﷺ قتل ہوئے تم بھی اسی پر کٹ مرو، اور جس چیز پر آپ ﷺ نے جان دے دی ہے اسی پر تم بھی جان دے دو ۔ یہ کہہ کر آگے بڑھے، حملہ کیا، لڑے اور مارے گئے ؓ اسی اثناء میں حضور ﷺ نے آواز دی اِلَیَّ عِبَادَاللّٰہِ اَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (اللہ کے بندوں ادھر آؤ ! میں خدا کا پیغمبر ہوں) کعب بن مالک آپ ﷺ کو پہچان کر چلائے " یامعشر المسلمین " مسلمانو ! بشارت حاصل کرو ! رسول اللہ یہاں موجود ہیں " آواز کا سننا تھا کہ مسلمان ادھر ہی سمٹنا شروع ہوگئے۔ تیس صحابہ نے آپ ﷺ کے قریب ہو کر مدافعت کی اور مشرکین کی فوج کو منتشر کردیا۔ اس موقع پر سعد بن ابی وقاص، طلحہ، ابو طلحہ اور قتادہ بن النعمان وغیرہ نے بڑی جانبازیاں دکھلائیں۔ آخر مشرکین میدان چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور ہوئے اور یہ آیات نازل ہوئیں۔ ( وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْل) 3 ۔ آل عمران :144) یعنی محمد ﷺ بھی آخر خدا تو نہیں۔ ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے کتنے رسول گزر چکے، جن کے بعد ان کے متبعین نے دین کو سنبھالا اور جان و مال فدا کر کے قائم رکھا۔ آپ ﷺ کا اس دنیا سے گزرنا بھی کچھ اچنبھا نہیں۔ اس وقت نہ سہی، اگر کسی وقت آپ ﷺ کی وفات ہوگئی، یا شہید کردیئے گئے، تو کیا تم دین کی خدمت و حفاظت کے راستہ سے الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جہاد فی سبیل اللہ ترک کردو گے (جیسے اس وقت محض خبر قتل سن کر بہت سے لوگ حوصلہ چھوڑ کر بیٹھنے لگے تھے) یا منافقین کے مشورہ کے موافق العیاذ باللہ سرے سے دین کو خیر باد کہہ دوگے۔ تم سے ایسی امید ہرگز نہیں۔ اور کسی نے ایسا کیا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ خُدا کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ تمہاری مدد کا محتاج نہیں بلکہ تم شکر کرو اگر اس نے اپنے دین کی خدمت میں لگا لیا
منت منہ کہ خدمت سلطاں ہمی کنم منت شناس ازو کہ بخدمت گذاشتت
اور شکر یہی ہے کہ ہم بیش از بیش خدمت دین میں مضبوط و ثابت قدم ہوں۔ اس میں اشارہ نکلتا ہے حضرت کی وفات پر بعضے لوگ دین سے پھرجائیں گے اور جو قائم رہیں گے ان کو بڑا ثواب ہے اسی طرح ہوا کہ بہت لوگ حضرت کے بعد مرتد ہوئے۔ صدیق اکبر نے ان کو پھر مسلمان کیا اور بعض مارے گئے۔
(تنبیہ) " قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ " میں " خلت " " خلو " سے مشتق ہے جس کے معنی " ہو چکنے " گزر نے اور چھوڑ کر چلے جانے کے ہیں۔ اس کے لئے موت لازم نہیں جیسے فرمایا ( ۚوَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ) 3 ۔ آل عمران :119) یعنی جب تمہیں چھوڑ کر علیٰحدہ ہوتے ہیں۔ نیز " الرُسل " میں لام استغراق نہیں، لام جنس ہے، کیونکہ اثبات مدعا میں استغراق کو کوئی دخل نہیں۔ بعینہٖ اسی قسم کا جملہ حضرت مسیح کی نسبت فرمایا (مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ) 5 ۔ المائدہ :75) ۔ کیا لام استغراق لے کر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تمام پیغمبر مسیح سے پہلے گزر چکے کوئی ان کے بعد آنیوالا نہ رہا۔ لامحالہ لام جنس لینا ہوگا۔ وہ ہی یہاں لیا جائے اسکی تائید اس سے ہوتی ہے کہ عبد اللہ بن مسعود کے مصحف اور ابن عباس کی قرات میں " الرسل " نہیں " رسل " نکرہ ہے باقی " خلو " کی تفصیل میں صرف موت یا قتل کا ذکر اس لئے کیا کہ موت طبعی بہرحال آنے والی تھی اور قتل کی خبر اس وقت مشہور کی گئی تھی۔ اور چونکہ صورت موت کا وقوع میں آنا مقدر تھا اسلئے اس کو قتل پر مقدم کیا گیا۔ ابُو بکر صدیق ؓ نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد جب صحابہ کے مجمع میں یہ پوری آیۃ " الشاکرین " تک بلکہ آیت (اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ ) 39 ۔ الزمر :30) بھی پڑھی تو لوگ " قد خلت " اور " افائن مات " اور " انک میت " سے " خلو " اور " موت " کے جواز و عدم استبعاد پر متنبہ ہوگئے، جو صدیق اکبر کی غرض تھی۔ موت کے واقع ہو چکنے پر نہ صدیق اکبر نے اس سے استدلال کیا نہ کسی اور نے سمجھا۔ اگر یہ الفاظ موت واقع ہو چکنے کی خبر دیتے تو چاہیے تھا کہ نزول آیت کے وقت یعنی وفات کے سات برس پہلے ہی سمجھ لیا جاتا کہ آپکی وفات ہوچکی ہے۔ اس تقریر سے بعض محرفین کی سب تحریفات ہباء منثوراَ ہوجاتی ہیں۔ بخوف تطویل ہم زیادہ بسط نہیں کرسکتے۔ اہل علم کے لئے اشارے کردیئے ہیں۔
Ayah 3:1454 جب کوئی شخص بدون حکم الہٰی کے نہیں مرسکتا خواہ کتنے ہی اسباب موت کے جمع ہوں اور ہر ایک کی موت وقت مقرر پر آنی ضرور ہے خواہ بیماری یا قتل سے یا کسی اور سبب سے، تو خدا پر توکل کرنے والوں کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔ اور نہ کسی بڑے یا چھوٹے کی موت کو سن کر مایوس و بددل ہو کر بیٹھ رہنا چاہیئے۔
5 یعنی اگر چاہیں کَمَا قَالَ (عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ) 17 ۔ الاسراء :18)
6 یعنی اس کو آخرت میں یقینا بدلہ ملے گا۔ اس آیت کے پہلے جملہ میں ان لوگوں پر تعریض ہے جنہوں نے مال غنیمت کی طمع میں عدول حکمی کی۔ اور دوسرے میں انکا ذکر ہے جو برابر فرمانبرداری پر ثابت قدم رہے۔
7 یعنی جو لوگ اس دین پر ثابت قدم رہیں گے ان کو دین بھی ملے گا اور دنیا بھی، لیکن جو کوئی اس نعمت کی قدر جانے (کذافی الموضح)
Ayah 3:1468 یعنی تم سے پہلے بہت اللہ والوں نے نبیوں کے ساتھ ہو کر کفار سے جنگ کی ہے۔ جس میں بہت تکلیفیں اور سختیاں اٹھائیں لیکن ان شدائد و مصائب سے نہ ان کے ارادوں میں سستی ہوئی، نہ ہمت ہارے، نہ کمزوری دکھائی، نہ دشمن کے سامنے دبے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ثابت قدم رہنے والوں سے خاص محبت کرتا ہے۔ یہ ان مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی اور غیرت دلائی جنہوں نے احد میں کمزوری دکھلائی تھی۔ حتیٰ کہ بعض نے یہ کہہ دیا تھا کہ کسی کو بیچ میں ڈال کر ابو سفیان سے امن حاصل کرلیا جائے مطلب یہ ہے کہ جب پہلی امتوں کے حق پرستوں نے مصائب و شدائد میں اس قدر صبر و استقلال کا ثبوت دیا اس امت کو (جو خیرالامم ہے) ان سے بڑھ کر صبر و استقامت کا ثبوت دینا چاہیے۔
Ayah 3:1471 یعنی مصائب و شدائد کے ہجوم میں نہ گھبراہٹ کی کوئی بات کہی نہ مقابلہ سے ہٹ جانے اور دشمن کی اطاعت قبول کرنے کا ایک لفظ زبان سے نکالا۔ بولے تو یہ ہی بولے کہ خدا وندا ! تو ہم سب کی تقصیرات اور زیادتیوں کو معاف فرما دے ہمارے دلوں کو مضبوط و مستقل رکھ، تاکہ ہمارا قدم جادہ حق سے نہ لڑکھڑائے اور ہم کو کافروں کے مقابلہ میں مدد پہنچا وہ سمجھے کہ بسا اوقات مصیبت کے آنے میں لوگوں کے گناہوں اور کوتاہیوں کو دخل ہوتا ہے اور ہم میں کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس سے کبھی کوئی تقصیر نہ ہوئی ہوگی۔ بہرحال بجائے اس کے کہ مصیبت سے گھبرا کر مخلوق کی طرف جھکتے اپنے خالق ومالک کی طرف جھکے۔
Ayah 3:1482 یعنی دنیا میں ان کی فتح و ظفر کا سکہ بٹھا دیا، وجاہت و قبول عطا کیا اور آخرت کا جو بہترین ثواب ملا اس کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ دیکھو جو لوگ خدا تعالیٰ سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھیں اور نیک کام کریں ان سے خدا ایسی محبت کرتا ہے اور ایسا پھل دیتا ہے۔
Ayah 3:1493 یعنی جنگ احد میں مسلمانوں کے دل ٹوٹے تو کافروں اور منافقوں نے موقع پایا۔ بعض الزام اور طعنے دینے لگے۔ بعض خیر خواہی کے پردہ میں سمجھانے لگے تاکہ آیندہ لڑائی پر دلیری نہ کریں۔ حق تعالیٰ خبردار کرتا ہے کہ دشمن کا فریب مت کھاؤ اگر خدا نکردہ انکے چکموں میں آؤ گے تو جس ظلمت سے خدا نے نکالا ہے پھر الٹے پاؤں اسی میں جا گرو گے اور رفتہ رفتہ دین حق کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے گا۔ جس کا نتیجہ دنیا و آخرت کے خسارے کے سوا کچھ نہیں۔ پہلے اللہ والوں کی راہ پر چلنے کی ترغیب دی تھی۔ یہاں بد باطن شریروں کا کہا ماننے سے منع کیا تاکہ مسلمان ہوشیار رہیں، اور اپنا نفع نقصان سمجھ سکیں۔
Ayah 3:1504 لہذا اسی کا کہنا ماننا چاہیے اور اسی کی مدد پر بھروسہ رکھنا چاہیے جس کی مدد پر خدا ہو اس کو کیا حاجت ہے کہ دشمنان خدا کی مدد کا منتظر رہے یا ان کے سامنے گردن اطاعت خم کرے۔ حدیث میں ہے کہ احد سے واپسی کے وقت ابوسفیان نے " ہُبل " کی جے پکاری اور کہا " لنا العزیٰ ولا عزیٰ لکم " آپ ﷺ نے فرمایا جواب دو ۔ " اللّٰہ مولانا ولا مولٰی لکم "۔
Ayah 3:1515 یعنی یہ تو تمہارا امتحان تھا۔ اب ہم کافروں کے دلوں میں ایسی ہیبت اور رعب ڈال دیں گے کہ وہ باوجود تمہارے زخمی اور کمزور ہونے اور نقصان اٹھانے کے تم پر پلٹ کر حملہ کرنے کی جرات نہ کرسکیں۔ چناچہ یہ ہی ہوا۔ ابُو سفیان اپنی فوج لے کر بےنیل و مرام میدان سے بھاگا۔ راستہ میں ایک مرتبہ خیال بھی آیا کہ ایک تھکی ماندہ زخم خوردہ فوج کو ہم یوں ہی آزاد چھوڑ کر چلے آئے۔ چلو پھر واپس ہو کر ان کا کام تمام کردیں، مگر ہیبت حق اور رعب اسلام کے اثر سے ہمت نہ ہوئی کہ اس خیال کو عمل میں لاسکے۔ برخلاف اس کے مسلمان مجاہدین نے " حمراء الاسد " تک ان کا تعاقب کیا اور اس کے بعد کبھی موقع نہ دیا کہ احد کے واقعات کا اعادہ ہو سکے۔ (تنبیہ) مشرک خواہ کتنا ہی زور دکھلائے اس کا دل کمزور ہوتا ہے کیونکہ وہ کمزور مخلوق کی عبادت کرتا ہے۔ بس جیسا معبود ویسے عابد (ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ ) 22 ۔ الحج :73) اور ویسے بھی اصلی زور و قوت تو فی الحقیقت خدا کی تائید و امداد سے ہے جس سے کفار مشرکین یقینا محروم ہیں۔ اسی لئے جب تک مسلمان، مسلمان رہے، ہمیشہ کفار ان سے خائف و مرعوب رہے۔ بلکہ ہم آج تک مشاہدہ کرتے ہیں کہ باوجود مسلمانوں کے سخت انتشار و تشتّت اور ضعف و تنزل کے دنیا کی تمام کافر طاقتیں اس سوئے ہوئے زخمی شیر سے ڈرتی رہتی ہیں۔ اور ہمیشہ فکر رکھتی ہیں کہ یہ قوم بیدار ہونے نہ پائے۔ علمی اور مذہبی مناظروں میں بھی اسلام کا یہ ہی رعب مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا رعب ایک مہینہ کی مسافت سے دشمنوں کے دل میں ڈال دیا جاتا ہے بیشک اسی کا اثر ہے جو امت مسلمہ کو ملا۔ فللّٰہ الحمدعلیٰ ذلک ولہ المنۃ۔
Ayah 3:1526 نبی کریم ﷺ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ اگر صبرو استقلال سے کام لو گے، حق تعالیٰ تم کو غالب کرے گا۔ چناچہ خدا نے اپنا وعدہ ابتدائے جنگ میں سچا کر دکھایا، انہوں نے خدا کے حکم سے کفار کو مار مار کر ڈھیر کردیا۔ سات یا نو آدمی جنکے ہاتھ میں مشرکین کا جھنڈا یکے بعد دیگرے دیا گیا تھا، سب وہیں کھیت ہوئے آخر بدحواس ہو کر بھاگے مسلمان فتح و کامرانی کا چہرہ صاف دیکھ رہے تھے اور اموال غنیمت ان کے سامنے پڑے تھے کہ تیر اندازوں کی غلطی سے خالد بن الولید نے فائدہ اٹھایا اور یک بیک لڑائی کا نقشہ بدل دیا جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔
7 یعنی پیغمبر (علیہ السلام) نے جو حکم تیر اندازوں کو دیا تھا اس کا خلاف کیا اور آپس میں جھگڑنے لگے، کوئی کہتا تھا کہ ہم کو یہیں جمے رہنا چاہیے، اکثر نے کہا اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں چل کر غنیمت حاصل کرنی چاہیئے۔ آخر اکثر تیر انداز اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے۔ مشرکین نے اسی راستہ سے دفعۃَ حملہ کردیا۔ دوسری طرف حضور ﷺ کے قتل کی خبر مشہور ہوگئی۔ ان چیزوں نے قلوب میں کمزوری پیدا کردی جس کا نتیجہ فشل و جبن کی صورت میں ظاہر ہوا۔ گویا فشل کا سبب تنازع اور تنازع کا سبب عصیان تھا۔
8 یعنی بعضے لوگ دنیاوی متاع (مال غنیمت) کی خوشی میں پھسل پڑے۔ جس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہ کیا تھا کہ ہم میں کوئی آدمی دنیا کا طالب بھی ہے۔
9 یعنی یا تو وہ تمہارے سامنے سے بھاگ رہے تھے، اب تم ان کے آگے سے بھاگنے لگے۔ تمہاری غلطی اور کوتاہی سے معاملہ الٹا اور اس میں بھی تمہاری آزمائش تھی۔ تاکہ پکے اور کچے صاف ظاہر ہوجائیں۔
10 یعنی جو غلطی ہوئی، خدا تعالیٰ اسے بالکل معاف کرچکا۔ اب کسی کو جائز نہیں کہ ان پر اس حرکت کی وجہ سے طعن وتشنیع کرے۔
11 کہ ان کی کوتاہیوں کو معاف کردیتا ہے اور عتاب میں بھی لطف و شفقت کا پہلو ملحوظ رکھتا ہے۔
Ayah 3:1531 یعنی تم بھاگ کر پہاڑوں اور جنگلوں کو چڑھے جا رہے تھے اور گھبراہٹ میں پیچھے مڑ کر بھی کسی کو نہ دیکھتے تھے۔ اس وقت خدا کا پیغمبر بدستور اپنی جگہ کھڑا ہوا تم کو اس قبیح حرکت سے روکتا تھا اور اپنی طرف بلا رہا تھا۔ مگر تم تشویش و اضطراب میں آواز کہاں سننے والے تھے۔ آخر جب کعب بن مالک چلائے تب لوگوں نے سنا اور واپس آکر اپنے نبی ﷺ کے گرد جمع ہوگئے۔
2 یعنی تم نے رسول کا دل تنگ کیا اس کے بدلے تم پر تنگی آئی۔ غم کا بدلہ غم ملا۔ تاکہ آگے کو یاد رکھو کہ ہر حالت میں رسول کے حکم پر چلنا چاہیے خواہ کوئی نفع کی چیز مثلا غنیمت وغیرہ ہاتھ سے جائے، یا کچھ بلا سامنے آئے۔ (تنبیہ) اکثر مفسرین نے (فَاَثَابَكُمْ غَمًّـۢا بِغَمٍّ ) 3 ۔ آل عمران :153) کے معنی یوں کئے ہیں کہ خدا نے تم کو غم پر غم دیا۔ یعنی ایک غم تو ابتدائی فتح و کامیابی کے فوت ہونے کا تھا۔ دوسرا اپنے آدمیوں کے مارے جانے اور زخمی ہونے اور نبی کریم ﷺ کی خبر شہادت مشہور ہونے سے پہنچا، بعض نے یہ مطلب لیا ہے کہ فتح و کامرانی کے فوت ہونے، غنیمت کے ہاتھ سے نکل جانے اور نقصان جانی و بدنی اٹھانے کا جو غم تھا، اس کے عوض میں ایک ایسا بڑا غم دیدیا گیا۔ جس نے پہلے سب غموں کو بھلا دیا یعنی نبی کریم ﷺ کے مقتول ہونے کی افواہ۔ اسی غم کی شدت میں آگے پیچھے کا کچھ ہوش نہ رہا حتٰی کہ حضور ﷺ کی آواز بھی نہ سنی، جیسا کہ ایک طرف ہمہ تن ملتفت ہونے کے وقت دوسری طرف ذہول و غفلت پیش آجاتی ہے۔
3 یعنی تمہارے احوال اور نیتوں کو جانتا ہے اور اسی کے موافق معاملہ کرتا ہے۔
Ayah 3:1544 یعنی اس جنگ میں جن کو شہید ہونا تھا ہوچکے اور جن کو ہٹنا تھا، ہٹ گئے اور جو میدان میں باقی رہے ان میں سے مخلص مسلمانوں پر حق تعالیٰ نے ایک دم غنودگی طاری کردی، لوگ کھڑے کھڑے اونگھنے لگے۔ حضرت طلحہ ؓ کے ہاتھ سے کئی مرتبہ تلوار چھوٹ کر زمین پر گری، یہ ایک حسی اثر اس باطنی سکون و اطمینان کا تھا جو ایسے ہنگامہ رستخیز میں مومنین کے قلوب پر محض خدا کے فضل و رحمت سے وارد ہوا اس کے بعد دشمن کا خوف و ہراس سب کافور ہوگیا۔ یہ کیفیت عین اس وقت پیش آئی جب لشکر مجاہدین میں نظم و ضبط قائم نہ رہا تھا۔ بیسیوں لاشیں خاک و خون میں تڑپ رہی تھیں، سپاہی زخموں سے چور ہو رہے تھے۔ حضور ﷺ کے قتل کی افواہ نے رہے سہے ہوش و حواس کھو دیئے تھے، گویا یہ سونا بیدار ہونے کا پیام تھا۔ غنودگی طاری کر کے ان کی ساری تھکن دور کردی گئی اور متنبہ فرما دیا کہ خوف و ہراس اور تشویش و اضطراب کا وقت جاچکا۔ اب مامون و مطمئن ہو کر اپنا فرض انجام دو ۔ فورا صحابہ نے حضور ﷺ کے گرد جمع ہو کر لڑائی کا محاذ قائم کردیا۔ تھوڑی دیر بعد مطلع صاف تھا۔ دشمن سامنے سے بھاگتا نظر آیا۔ (تنبیہ) ابن مسعود فرماتے ہیں کہ عین لڑائی کے موقع پر نعاس (اونگھ) کا طاری ہونا اللہ کی طرف سے (فتح و ظفر کی علامت ہے) حضرت علی کی فوج کو " صفین " میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔
5 یہ بزدل اور ڈرپوک منافقین ہیں جن کو نہ اسلام کی فکر تھی نہ نبی کریم ﷺ کی، محض اپنی جان بچانے کی فکر میں ڈوبے ہوئے تھے کہ کہیں ابو سفیان کی فوج نے دوبارہ حملہ کردیا تو ہمارا کیا حشر ہوگا۔ اس خوف و فکر میں اونگھ یا نیند کہاں۔
6 یعنی وہ اللہ کے وعدے کہاں گئے، معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا قصہ تمام ہوا۔ اب پیغمبر اور مسلمان اپنے گھر واپس جانے والے نہیں سب یہیں کام آئیں گے۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا۔ (بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ يَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰٓى اَهْلِيْهِمْ اَبَدًا) 48 ۔ الفتح :12)
7 یعنی کچھ بھی ہمارا کام بنا رہے گا یا بالکل بگڑ چکا۔ یا یہ کہ ہم محمد ﷺ کا ساتھ دینے والوں کے ہاتھ میں کچھ بھی فتح و ظفر آئی۔ یا یہ معنی کہ اللہ نے جو چاہا سو کیا، ہمارا یا کسی کا کیا اختیار ؟ یہ تو الفاظ کے ظاہری معنی تھے لیکن جو دل میں نیت تھی وہ آگے آتی ہے۔
8 یعنی منافقین کا یہ قول (ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ) 3 ۔ آل عمران :154) " کلمۃ حق اریدبھا الباطل " ہے۔ بیشک یہ صحیح ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں، سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے بنائے یا بگاڑے، غالب کرے یا مغلوب، آفت بھیجے یا راحت، کامیاب کرے یا ناکام۔ ایک ہی واقعہ کو ایک قوم کے حق میں رحمت اور دوسری کے لئے قمت بنا دے، سب اس کے قبضہ میں ہے۔ مگر تم اس قول سے اپنے دل میں جو معنی لے رہے ہو خدا تمہارے دل کے چور سے واقف ہے، جسے آگے بیان کیا جائے گا۔
9 اصل چور دل کا یہ تھا (ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ) 3 ۔ آل عمران :154) کر دل میں یہ مطلب لیتے تھے اور پکے مسلمانوں سے علیٰحدہ ہو کر آپس میں بھی کہتے ہونگے کہ میاں شروع میں ہماری رائے نہ مانی۔ چند جوشیلے ناتجربہ کاروں کے کہنے پر مدینہ سے باہر لڑنے چلے گئے، آخر منہ کی کھائی۔ اگر کچھ کام ہمارے اختیار میں ہوتا اور ہمارے مشورہ پر عمل کیا جاتا تو اس قدر نقصان کیوں اٹھانا پڑتا ہماری برادری کے اتنے آدمی مارے گئے، کیوں مارے جاتے اکثر منافقین نسبا انصار مدینہ کی برادری میں شامل تھے، اس لئے ما قتلنا ٰھہُنا میں ان کے مارے جانے کو اپنا مارا جانا کہا) یا یہ مطلب ہے کہ اگر محمد ﷺ کے کہنے کے موافق فتح و ظفر اور غلبہ مسلمانوں کے لئے ہوتا تو یہ قتل و جرح کی مصیبت ہم پر کیوں ٹوٹتی (تنبیہ) بظاہر یہ باتیں منافقین نے مدینہ میں کہیں۔ کیونکہ عبد اللہ بن ابی جنگ شروع ہونے سے پیشتر اپنی جمعیت کو ساتھ لیکر واپس ہوگیا تھا۔ اس صورت میں " ھٰھنا " کا اشارہ قرب کی وجہ سے احد کی طرف ہوگا۔ لیکن بعض روایات سے ایک منافق معتب بن قشیر کا میدان جنگ میں یہ کلمات کہنا ثابت ہوتا ہے۔ تو شاید بعض منافقین عبد اللہ بن ابی کے ہمراہ کسی مصلحت سے واپس نہ ہوئے ہوں گے۔ واللہ اعلم۔
10 یعنی اس طعن وتشنیع یا حسرت و افسوس سے کچھ حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی جو اجل، موت کی جگہ سبب اور وقت لکھ دیا ہے کبھی ٹل نہیں سکتا۔ اگر تم گھروں میں گھسے بیٹھے رہتے اور فرض کرو تمہاری ہی رائے سنی جاتی تب بھی جن کی قسمت میں احد کے قریب جس جس پڑاؤ پر مارا جانا لکھا جا چکا تھا وہ کسی نہ کسی سبب سے ضرور ادھر نکلتے اور وہیں مارے جاتے، یہ خدا کا انعام ہے کہ جہاں ماراجانا مقدر تھا مارے گئے، مگر اللہ کے راستہ میں خوشی کے ساتھ بہادروں کی موت شہید ہوئے۔ پھر اس پر پچھتانے اور افسوس کرنے کا کیا موقع ہے ؟ مردان خدا کو اپنے پر قیاس مت کرو۔
11 یعنی اللہ تعالیٰ تو دلوں کے پوشیدہ بھید جانتا ہے، اس سے کسی کی کوئی حالت پوشیدہ نہیں۔ مقصود یہ تھا کہ تم سب کو ایک آزمائش میں ڈالا جائے۔ تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے وہ باہر نکل پڑے، امتحان کی بھٹی میں کھرا کھوٹا الگ ہوجائے مخلصین کامیابی کا صلہ پائیں اور ان کے قلوب آئندہ کے لئے وساوس اور کمزوریوں سے پاک و صاف ہوں۔ منافقین کا اندرونی نفاق کھل جائے اور لوگ صاف طور پر ان کے خبث باطن کو سمجھنے لگیں۔
Ayah 3:1551 مخلصین سے بھی بعض اوقات کوئی چھوٹا بڑا گناہ سرزد ہوجاتا ہے اور جس طرح ایک طاعت سے دوسری طاعت کی توفیق بڑھتی ہے ایک گناہ کی نحوست سے شیطان کو موقع ملتا ہے کہ دوسری غلطیوں اور لغزشوں کی طرف آمادہ کرے۔ جنگ احد میں بھی جو مخلص مسلمان ہٹ گئے تھے، کسی پچھلے گناہ کی شامت سے شیطان نے بہکا کر ان کا قدم ڈگمگا دیا چناچہ ایک گناہ تو یہ ہی تھا کہ تیر اندازوں کی بڑی تعداد نے نبی کریم ﷺ کے حکم کی پابندی نہ کی مگر خدا کا فضل دیکھو کہ اس کی سزا میں کوئی تباہ کن شکست نہیں دی بلکہ ان حضرات پر اب کوئی گناہ بھی نہیں رہا حق تعالیٰ کلیۃً ان کی تقصیر معاف کرچکا ہے۔ کسی کو طعن و ملامت کا حق نہیں۔