Ayah 21:811 حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے دعاء کی تھی (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ) 38 ۔ ص :35) اللہ تعالیٰ نے ہوا اور جن ان کے لیے مسخر کردیے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ایک تخت تیار کرایا تھا جس پر مع اعیان دولت بیٹھ جاتے اور ضروری سامان بھی بار کرلیا جاتا، پھر ہوا آتی، زور سے اس کو زمین سے اٹھاتی، پھر اوپر جا کر نرم ہوا ان کی ضرورت کے مناسب چلتی جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ (رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ ) 38 ۔ ص :36) یمن سے شام کو اور شام سے یمن کو مہینہ کی راہ دوپہر میں پہنچا دیتی۔ تعجب ہے کہ آج عجیب و غریب ہوائی جہازوں کے زمانہ میں بہت سے زائغین اس قسم کے واقعات کا انکار کرتے ہیں۔ کیا یورپ جو کام اسٹیم اور الیکٹرک سے کرسکتا ہے خدا تعالیٰ ایک پیغمبر کی خاطر اپنی قدرت سے نہیں کرسکتا۔
2 کہ کس کو کس قسم کا امتیاز دینا مناسب ہے، اور ہوا وغیرہ عناصر سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے۔
Ayah 21:823 شیاطین سے مراد سرکش جن ہیں، ان سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) دریا میں غوطہ لگواتے تاکہ موتی اور جواہر اس کی تہ میں سے نکالیں اور عمارات میں بھاری کام کرواتے اور حوض کے برابر تانبے کے لگن اور بڑی عظیم الشان دیگیں جو اپنی جگہ سے ہل نہ سکیں بنوا کر اٹھواتے تھے اور سخت سخت کام ان سے لیتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس قسم کے حیرت انگیز کام اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مادی قوتوں سے کرائے ہیں اس وقت مخفی اور روحی قوتوں سے کرائے جاتے تھے۔
4 یعنی ہم نے اپنے اقتدار کامل سے ان شیاطین کو سلیمان کی قید میں اس طرح تھام رکھا تھا کہ جو چاہتے ان سے بیگار لیتے تھے۔ اور وہ کوئی ضرر سلیمان (علیہ السلام) کو نہیں پہنچا سکتے تھے۔ ورنہ آدمی کی کیا بساط ہے کہ ایسی مخلوق کو اپنے قبضہ میں لے کر اور زنجیروں میں جکڑ کر رکھ چھوڑے (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ ) 38 ۔ ص :38)
Ayahs 21:83–845 حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حق تعالیٰ نے دنیا میں سب طرح آسودہ رکھا تھا، کھیت، مواشی، لونڈی، غلام، اولاد صالح اور عورت مرضی کے موافق عطا کی تھی۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) بڑے شکر گزار بندے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمائش میں ڈالا، کھیت جل گئے، مویشی مرگئے، اور اولاد اکٹھی دب مری، دوست آشنا الگ ہوگئے، بدن میں آبلے پڑ کر کیڑے پڑگئے ایک بیوی رفیق رہی، آخر وہ بیچاری بھی اکتانے لگتی۔ مگر حضرت ایوب (علیہ السلام) جیسے نعمت میں شاکر تھے ویسے ہی بلا میں صابر رہے۔ جب تکلیف و اذیت اور دشمنوں کی شماتت حد سے گزر گئی۔ بلکہ دوست بھی کہنے لگے کہ یقینا ایوب (علیہ السلام) نے کوئی ایسا سخت گناہ کیا ہے جس کی سزا ایسی ہی سخت ہوسکتی تھی تب دعا کی ( اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :83) رب کو پکارنا تھا کہ دریائے رحمت امنڈ پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے مری ہوئی اولاد سے دگنی اولاد دی، زمین سے چشمہ نکالا۔ اسی سے پانی پی کر اور نہا کر تندرست ہوئے۔ بدن کا سارا روگ جاتا رہا۔ اور جیسا کہ حدیث میں ہے سونے کی ٹڈیاں برسائیں، غرض سب طرح درست کردیا۔
6 یعنی ایوب (علیہ السلام) پر یہ مہربانی ہوئی اور تمام بندگی کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت اور یادگار قائم ہوگئی کہ جب کسی بندے پر دنیا میں برا وقت آئے تو ایوب (علیہ السلام) کی طرح صبرو استقلال دکھلانا اور صرف اپنے پروردگار سے فریاد کرنا چاہیے۔ حق تعالیٰ اس پر نظر عنایت فرمائے گا۔ اور محض ایسے ابتلاء کو دیکھ کر کسی شخص کی نسبت یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اللہ کے یہاں مبغوض ہے۔
Ayah 21:857 یعنی ان سب نیک بندوں کو یاد کرو۔ اسماعیل اور ادریس (علیہما السلام) کا ذکر پہلے سورة " مریم " میں گزر چکا۔ ذوالکفل کی نسبت اختلاف ہے کہ نبی تھے جیسا کہ انبیاء کے ذیل میں تذکرہ فرمانے سے ظاہر ہوتا ہے یا محض ایک مرد صالح تھے۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص کے ضامن ہو کر کئی برس قید رہے اور لِلّٰہ یہ محنت اٹھائی۔ (تنبیہ) مسند امام احمد اور جامع ترمذی میں ایک شخص کا قصہ آتا ہے جو پہلے سخت بدکار اور فاسق و فاجر تھا، بعدہ، تائب ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کی بشارت اسی دنیا میں لوگوں کو سنا دی، اس کا نام حدیث میں " کفل " آیا ہے۔ بظاہر یہ وہ " ذوالکفل " نہیں جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا۔ واللہ اعلم۔ ہمارے زمانے کے بعض مصنفین کا خیال ہے کہ " ذوالکفل " وہ ہی ہیں جن کو " حزقیل " کہا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 21:86–878 " مچھلی والا " فرمایا حضرت یونس (علیہ السلام) کو۔ ان کا مختصر قصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شہر نینویٰ کی طرف (جو موصل کے مضافات میں سے ہے) مبعوث فرمایا تھا۔ یونس (علیہ السلام) نے ان کو بت پرستی سے روکا اور حق کی طرف بلایا۔ وہ ماننے والے کہاں تھے، روز بروز ان کا عناد و تمرد ترقی کرتا رہا۔ آخر بددعا کی اور قوم کی حرکات سے خفا ہو کر غصہ میں بھرے ہوئے شہر سے نکل گئے حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا اور وعدہ کر گئے کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آئے گا ان کے نکل جانے کے بعد قوم کو یقین ہوا کہ نبی کی بددعا خالی نہیں جائے گی کچھ آثار بھی عذاب کے دیکھے ہوں گے۔ گھبرا کر سب لوگ بچوں اور جانوروں سمیت باہر جنگل میں چلے گئے اور ماؤں کو بچوں سے جدا کردیا۔ میدان میں پہنچ کر سب نے رونا چلانا شروع کیا، بچے اور مائیں، آدمی اور جانور سب شور مچا رہے تھے، کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی، تمام بستی والوں نے سچے دل سے توبہ کی، بت توڑ ڈالے۔ خدا تعالیٰ کی اطاعت کا عہد باندھا اور حضرت یونس (علیہ السلام) کو تلاش کرنے لگے کہ ملیں تو ان کے ارشاد پر کاربند ہوں۔ حق تعالیٰ نے آنے والا عذاب ان پر سے اٹھا لیا۔ (فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيْمَانُهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۭ لَمَّآ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰھُمْ اِلٰى حِيْنٍ ) 10 ۔ یونس :98) ادھر یونس (علیہ السلام) بستی سے نکل کر ایک جماعت کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے وہ کشتی غرق ہونے لگی۔ کشتی والوں نے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ارادہ کیا کہ ایک آدمی کو نیچے پھینک دیا جائے (یا اپنے مفروضات کے موافق یہ سمجھے کہ کشتی میں کوئی غلام مولا سے بھاگا ہوا ہے) بہرحال اس آدمی کی تعیین کے لیے قرعہ ڈالا۔ وہ یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ دو تین مرتبہ قرعہ اندازی کی ہر دفعہ یونس (علیہ السلام) کے نام پر نکلتا رہا۔ یہ دیکھ کر یونس (علیہ السلام) دریا میں کود پڑے۔ فوراً ایک مچھلی آکر نگل گئی۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا کہ یونس (علیہ السلام) کو اپنے پیٹ میں رکھ، اس کا ایک بال بیکا نہ ہو۔ یہ تیری روزی نہیں بلکہ تیرا پیٹ ہم نے اس کا قید خانہ بنایا ہے۔ اس کو اپنے اندر حفاظت سے رکھنا۔ اس وقت یونس (علیہ السلام) نے اللہ کو پکارا۔ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :87) اپنی خطا کا اعتراف کیا کہ بیشک میں نے جلدی کی کہ تیرے حکم کا انتظار کیے بدون بستی والوں کو چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا۔ گو یونس (علیہ السلام) کی یہ غلطی اجتہادی تھی جو امت کے حق میں معاف ہے، مگر انبیاء کی تربیت و تہذیب دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوتی ہے۔ جس معاملہ میں وحی آنے کی امید ہو، بدون انتظار کیے قوم کو چھوڑ کر چلا جانا ایک نبی کی شان کے لائق نہ تھا۔ اسی مناسب بات پر داروگیرشروع ہوگئی۔ آخر توبہ کے بعد نجات ملی مچھلی نے کنارہ پر آکر اگل دیا۔ اور اس بستی کی طرف صحیح سالم واپس کیے گئے۔
9 یعنی یہ خیال کرلیا کہ ہم اس حرکت پر کوئی داروگیر نہ کریں گے، یا اسی طرح نکل کر بھاگا جیسے کوئی یوں سمجھ کر جائے کہ اب ہم اس کو پکڑ کر واپس نہیں لاسکیں گے۔ گویا بستی سے نکل کر ہماری قدرت سے ہی نکل گیا۔ یہ مطلب نہیں کہ معاذ اللہ یونس (علیہ السلام) فی الواقع ایسا سمجھتے تھے۔ ایسا خیال تو ایک ادنیٰ مومن بھی نہیں کرسکتا بلکہ غرض یہ ہے کہ صورت حال ایسی تھی جس سے یوں منتزع ہوسکتا تھا۔ حق تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ کاملین کی ادنیٰ ترین لغزش کو بہت سخت پیرایہ میں ادا کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے کئی جگہ لکھ چکے ہیں اور اس سے کاملین کی تنقیص نہیں ہوتی۔ بلکہ جلالت شان ظاہر ہوتی ہے کہ اتنے بڑے ہو کر ایسی چھوٹی سی فروگذاشت بھی کیوں کرتے ہیں۔
10 یعنی دریا کی گہرائی، مچھلی کے پیٹ اور شب تاریک کے اندھیروں میں۔
11 یعنی میری خطا کو معاف فرمائیے بیشک مجھ سے غلطی ہوئی۔
Ayah 21:881 یعنی یونس (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص نہیں، جو ایماندار لوگ ہم کو اسی طرح پکاریں گے ہم ان کو بلاؤں سے نجات دیں گے۔ احادیث میں اس دعا کی بہت فضیلت آئی ہے۔ اور امت نے شدائد و نوائب میں ہمیشہ اس کو مجرب پایا ہے۔
Ayah 21:892 یعنی اولاد دے جو میرے بعد قوم کی خدمت کرسکے اور میری تعلیم کو پھیلائے جیسا کہ سورة " مریم " کے فوائد میں لکھا جا چکا ہے۔
3 وارث طلب کر رہے تھے (يَّرِثُنِيْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ ) 19 ۔ مریم :6) اسی کے مناسب نام سے اللہ کو یاد کیا۔
Ayah 21:904 یعنی بانجھ عورت کو ولادت کے قابل کردیا۔
5 بعض متصوفین کہا کرتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کو پکارے توقع سے یا ڈر سے وہ اصلی محب نہیں۔ یہاں سے ان کی غلطی ظاہر ہوئی۔ انبیاء سے بڑھ کر خدا کا محب کون ہوسکتا ہے۔
Ayah 21:916 یعنی حلال و حرام دونوں طریقوں سے محفوظ تھی۔
7 یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو جو " روح اللہ " کے لقب سے ملقب ہیں اس کے پیٹ میں پرورش کیا۔
8 ان کا " نشانی " ہونا سورة آل عمران اور سورة مریم میں بیان ہوچکا ہے۔
Ayah 21:929 یعنی خدا بھی ایک اور تمہارا اصل دین بھی ایک ہے۔ تمام انبیاء اصول میں متحد ہوتے ہیں جو ایک کی تعلیم ہے وہ ہی دوسروں کی ہے۔ رہا فروع کا اختلاف وہ زمان و مکان کے اختلاف کی وجہ سے عین مصلحت و حکمت ہے۔ اختلاف مذموم وہ ہے جو اصول میں ہو، پس لازم ہے کہ سب مل کر خدا کی بندگی کریں اور جن اصول میں تمام انبیاء متفق رہے ہیں ان کو متحدہ طاقت سے پکڑیں۔
Ayah 21:9310 ہم نے تو اصول کے اعتبار سے ایک دین دیا تھا۔ لوگوں نے خود اختلاف ڈال کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرلیے اور آپس میں پھوٹ ڈال دی۔
Ayah 21:9411 یعنی ہمارے پاس آکر تمام اختلافات کا فیصلہ ہوجائے گا جب ہر ایک کو اس کے کیے کی جزاء ملے گی۔ آگے اس جزاء کی تفصیل ہے۔
12 یعنی کسی کی محنت اکارت نہ جائے گی۔ نیکی کا میٹھا پھل مومن کو مل کر رہے گا۔ کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی ضائع نہ ہوگی ہر چھوٹا بڑا عمل ہم اس کے اعمال نامہ میں ثبت کردیتے ہیں جو قیامت کے دن کھول دیئے جائیں گے۔
Ayah 21:9513 پہلے نجات پانے والے مومنین کا ذکر تھا اس کے بالمقابل اس آیت میں ہلاک ہونے والے کافروں کا مذکور ہے یعنی جن کے لیے ہلاک اور غارت ہونا مقدر ہوچکا وہ کبھی اپنے کفر و عصیان کو چھوڑ کر اور توبہ کر کے خدا کی طرف رجوع ہونے والے نہیں۔ نہ وہ کبھی دنیا میں اس غرض سے واپس کیے جاسکتے ہیں کہ دوبارہ یہاں آکر گذشتہ زندگی کی تقصیرات کی تلافی کرلیں۔ پھر ان کو نجات و فلاح کی توقع کدھر سے ہوسکتی ہے۔ ان کے لیے تو صرف ایک ہی وقت ہے جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کریں گے اور اپنی زیادتیوں کے معترف ہو کر پشیماں ہوں گے۔ مگر اس وقت پشیمانی کچھ کام نہ آئے گی وہ وقت قیامت کا ہے جس کے مبادی قریبہ میں سے ہے خروج " یاجوج و ماجوج " آگے اس کو بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 21:9614 یعنی قیامت کے قریب نزول عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سدّ ذوالقرنین توڑ کر " یاجوج ماجوج " کا لشکر ٹوٹ پڑے گا۔ یہ لوگ اپنی کثرت و ازدحام کی وجہ سے تمام بلندی و پستی پر چھا جائیں گے۔ جدھر دیکھو ان ہی کا ہجوم نظر آئے گا۔ ان کا بےپناہ سیلاب ایسی شدت اور تیز رفتار سے آئے گا کہ کوئی انسانی طاقت روک نہ سکے گی۔ یہ معلوم ہوگا کہ ہر ایک ٹیلہ اور پہاڑ سے ان کی فوجیں پھسلتی اور لڑھکتی چلی آرہی ہیں۔ سورة " کہف " کے آخر میں اس قوم کے متعلق ہم جو کچھ لکھ چکے ہیں اس کا ایک مرتبہ مطالعہ کرلیا جائے۔
Ayah 21:971 یعنی جزاء و سزا کا وعدہ جب نزدیک آلگے گا اس وقت منکروں کی آنکھیں مارے شدت ہول کے پھٹی رہ جائیں گی اور اپنی غفلت پر دست حسرت ملیں گے کہ افسوس آج کے دن ہم کیسے بیخبر رہے جو ایسی کم بختی آئی۔ کاش ہم دنیا میں اس آفت سے بچنے کی فکر کرتے۔
2 یعنی بیخبر ی بھی کیسے کہیں، آخر انبیاء (علیہم السلام) نے کھول کھول کر آگاہ کردیا تھا۔ لیکن ہم نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ ان کا کہا نہ مانا اور برابر شرارتوں اور گناہوں پر اصرار کرتے رہے۔
Ayah 21:983 یہ خطاب مشرکین مکہ کو ہے جو بت پوجتے تھے، یعنی تم اور تمہارے یہ معبود سب دوزخ کا ایندھن بنیں گے (وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ) 2 ۔ البقرۃ :24) اس کے معنی یہ نہیں کہ اصنام (بت) معذب ہوں گے۔ بلکہ غرص یہ ہے کہ بت پرستوں پر حجت زیادہ لازم ہو۔ جیسا کہ آگے فرمایا (لَوْ كَانَ هٰٓؤُلَاۗءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا) 21 ۔ الانبیآء :99) اور ان کی حسرت بڑھے اور حماقت زیادہ واضح ہو کہ جن سے خیر کی توقع رکھتے تھے وہ آج خود اپنے کو نہ بچا سکے پھر ہماری حفاظت کیا کرسکتے ہیں۔ (تنبیہ) " وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ " سے مراد یہاں صرف اصنام ہیں۔ کیونکہ خطاب ان ہی کے پرستاروں سے ہے۔ لیکن اگر " ما " کو عام رکھا جائے تو " بشرط عدم المانع " کی قید معتبر ہوگی یعنی جن فرضی معبودوں میں کوئی مانع دخول نار سے نہ ہو وہ اپنے عابدین کے ساتھ دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے۔ مثلاً شیاطین و اصنام۔ باقی حضرت مسیح و عزیر اور ملائکۃ اللہ جن کو بہت لوگوں نے معبود ٹھہرا لیا۔ ان حضرات کی مقبولیت و وجاہت مانع ہے کہ (معاذ اللہ) اس عموم میں شامل رکھے جائیں۔ اسی لیے آگے تصریحاً فرما دیا (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :101)
Ayah 21:994 یعنی سب عابد و معبود ہمیشہ دوزخ میں پڑے رہیں گے۔
Ayah 21:1005 یعنی شدت ہول اور عذاب کی سخت تکلیف اور اپنے چلانے کے شور سے کچھ سنائی نہ دے گا۔ ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ہر دوزخی کو ایک لوہے کے صندوق میں بند کر کے اوپر میخیں ٹھونک دی جائیں گی۔ اور جہنم کی تہ میں چھوڑ دیئے جائیں گے۔ شاید کچھ نہ سن سکنا اس وقت کا حال ہو۔
Ayah 21:1016 یعنی ایک بار پل صراط پر سے گزر کر پھر ہمیشہ دور رہیں گے اور اس پر سے گزرتے ہوئے کبھی دوزخ کی تکلیف والم سے قطعاً دوری ہوگی۔
Ayah 21:1027 جنتیوں کو دوزخ سے اس قدر بعد ہوگا کہ اس کی آہٹ تک محسوس نہ کریں گے اور نہایت عیش و آرام کے ساتھ ہمیشہ جنت کے مزے لوٹیں گے۔
Ayah 21:1038 یعنی اس دن جب خلقت کو سخت گھبراہٹ ہوگی اللہ تعالیٰ ان کو رنج و غم سے محفوظ رکھے گا۔
9 یعنی قبروں سے اٹھنے یا جنت میں داخل ہونے کے وقت فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے کہ جس دائمی مسرت و راحت کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا آج اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔
Ayah 21:10410 یعنی جب قیامت آئے گی تو آسمانوں کی صفیں لپیٹ دی جائیں گی جس طرح دستاویز کا لکھا ہوا کاغذ لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے (وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ) 39 ۔ الزمر :68) بعض روایات میں جو نبی کریم ﷺ کے ایک کاتب کا نام " سجل " بتلایا گیا ہے، اس کو حفاظ حدیث کی ایک جماعت نے ضعیف بلکہ موضوع قرار دیا ہے کہ کماصرح ابن کثیر فلا یعتبر بتخریج ابی داؤد والنسائی فی سننہما۔ "
11 یعنی جیسی سہولت سے دنیا کو پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردی جائے گی۔ یہ حتمی وعدہ ہے جو یقینا پورا ہو کر رہے گا۔
Ayah 21:1051 کامل وفادار بندوں سے حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کو دنیا و آخرت کی کامیابی اور اس زمین اور جنت کی زمین کا وارث بنائے گا چناچہ فرمایا۔ ( اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :128) اور ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ) 40 ۔ غافر :56) اور (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ ) 24 ۔ النور :55) یہ ایسا حتمی اور قطعی وعدہ ہے جس کی خبر اس نے اپنی کتب شرعیہ اور کتب قدریہ میں دی۔ " لوح محفوظ ' اور " ام الکتاب " میں یہ وعدہ درج کیا اور انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی بار بار اعلان کرایا۔ داؤد (علیہ السلام) کی کتاب " زبور " 37۔ 29 میں ہے کہ "' صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ " چناچہ اس امت میں کے کامل وفادار اور صادق بندے مدت دراز تک زمین کے وارث رہے، شرق و غرب میں انہوں نے آسمانی بادشاہت قائم کی، عدل و انصاف کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ دین حق کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجا دیا۔ اور نبی کریم ﷺ کی یہ پیشین گوئی ان کے ہاتھوں پر پوری ہوئی۔ " اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ فَرَأَ یْتُ مَشَارِقَہَا وَمَغَارِبَہَا وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَیَبْلُغُ مُلْکُہَا مَازَوٰی لِیْ مِنْہَا " اور اسی قسم کی دوسری پیشین گوئی امام مہدی (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے زمانہ میں پوری ہو کر رہے گی۔
Ayah 21:1062 یعنی اس قسم کی بشارات سن کر خدائے واحد کی بندگی کرنے والے اپنے مطلب کو پہنچتے ہیں، یا اس قرآن کریم میں جو ایسی عظیم بشارات و ہدایت پر مشتمل ہے بندگی کرنے والوں کے لیے کافی منفعت اور کامیابی ہے۔
Ayah 21:1073 یعنی آپ تو سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اگر کوئی بدبخت اس رحمت عامہ سے خود ہی منتفع نہ ہو تو یہ اس کا قصور ہے۔ آفتاب عالمتاب سے روشنی اور گرمی کا فیض ہر طرف پہنچتا ہے لیکن کوئی شخص اگر اپنے اوپر تمام دروازے اور سوراخ بند کرلے تو یہ اس کی دیوانگی ہوگی۔ آفتاب کے عموم فیض میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا اور یہاں تو رحمۃً للعالمین کا حلقہ فیض اس قدر وسیع ہے کہ جو محروم القسمت مستفید ہونا نہ چاہے اس کو بھی کسی نہ کسی درجہ میں بےاختیار رحمت کا حصہ پہنچ جاتا ہے۔ چناچہ دنیا میں علوم نبوت اور تہذیب و انسانیت کے اصول کی عام اشاعت سے ہر مسلم و کافر اپنے اپنے مذاق کے موافق فائدہ اٹھاتا ہے۔ نیز حق تعالیٰ نے وعدہ فرما لیا ہے کہ پہلی امتوں کے برخلاف اس امت کے کافروں کو اپنے اپنے مذاق کے موافق فائدہ اٹھانا ہے نیز حق تعالیٰ نے وعدہ فرمالیا ہے کہ پہلی امتوں کے برخلاف اس امت کے کافروں کو عام ومستاصل عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ حضور ﷺ کے عام اخلاق کے علاوہ جن کافروں پر آپ ﷺ جہاد کرتے تھے وہ بھی مجموعہ عالم کے لیے سراسر رحمت تھا کیونکہ اس کے ذریعہ سے اس رحمت کبریٰ کی حفاظت ہوتی تھی جس کے آپ ﷺ حامل بن کر آئے تھا اور بہت سے اندھے جو آنکھیں بنوانے سے بھاگتے تھے اس سلسلہ میں ان کی آنکھوں میں بھی خواہ مخواہ ایمان کی روشنی پہنچ جاتی تھی، ایک حدیث میں ہے " وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَاُ قَتِّلَنَّہُمْ وَلَاُ صَلِّبَنَّہُمْ وَلَاُ ہْدِیَنَّہُمْ وَہُمْ کَارِہُوْنَ اِنِّیْ رَحْمَۃٌ بَعَثَنِیَ اللّٰہُ وَلَا یَتَوَفَّانِیْ حَتّٰی یَظْھُرَ اللّٰہُ دِیْنَہ،" (ابن کثیر) ان الفاظ سے آپ کے " رحمۃً للعالمین " ہونے کا مطلب زیادہ وسعت کے ساتھ سمجھ میں آسکتا ہے۔
Ayah 21:1084 یہ رسالت کے ساتھ توحید کا بیان ہوا۔ یعنی جو رحمت عظیمہ لے کر آپ ﷺ تشریف لائے ہیں اس کا لب لباب توحید کامل ہے اور یہ ایسا صاف و واضح مضمون ہے جس کے قبول کرنے میں آدمی کو کچھ پس وپیش نہ ہونا چاہیے۔ پس کیا تم حکم ماننے اور حق کے سامنے گردن ڈال دینے کے لیے تیار ہو ؟ اگر ہو تو فبہا و نعمت، ورنہ میں تبلیغ کر کے بری الذمہ ہوچکا۔ تم اپنا انجام سوچ لو۔
Ayah 21:1095 یعنی اس قدر اتمام حجت کے بعد بھی نہ مانو، تو میں تم کو خبر کرچکا کہ اب میں تم سے بیزار اور تم مجھ سے علیحدہ، تمہارا عمل تمہارے ساتھ اور میرا عمل میرے ساتھ۔ ہر ایک کا جو نتیجہ ہوگا سامنے آجائے گا حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " دونوں طرف برابر یعنی ابھی تم دونوں بات کرسکتے ہو (قبول کرو یا رد کرو) ایک طرف کا زور نہیں آیا۔ "
6 یعنی تمہارے نہ ماننے پر جو عذاب کا وعدہ ہے وقوع تو اس کا ضرور بالضرور ہو کر رہے گا۔ لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ جلد ہوگا یا بدیر۔
Ayah 21:1107 وہ ہی ہر ایک کھلی چھپی بات کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کس بات کی کیا جزاء ملنی چاہیے اور کب ملنی چاہیے۔
Ayah 21:1118 یعنی تاخیر عذاب میں ممکن ہے تم کو جانچنا ہو کہ اس مدت میں کچھ سمجھ لو اور شرارتوں سے باز آجاؤ۔ یا محض ڈھیل دینا ہو کہ ایک مدت تک دنیا میں پھنس کر شقاوت کا پیمانہ پوری طرح لبریز کرلو۔
Ayah 21:1129 یعنی جیسے ہر معاملہ کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا آپ کی شان ہے، اسی کے موافق میرے اور میری قوم کے درمیان جلدی فیصلہ فرما دیجئے۔
10 یعنی اسی سے ہم فیصلہ چاہتے ہیں اور کافروں کی خرافات کے مقابلہ میں اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ اسی طرح کی دعاء انبیاء (علیہم السلام) کیا کرتے تھے ( رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :89) کیونکہ انھیں اپنی حقانیت و صداقت اور حق تعالیٰ کے عدل و انصاف پر پورا وثوق و اعتماد ہوتا تھا۔ تم سورة الانبیاء واللہ الحمد والمنۃ۔