21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور ٹھٹھے ہوچکے ہیں رسولوں سے تجھ سے پہلے پھر الٹ پڑی ٹھٹھا کرنے والوں پر ان میں سے وہ چیز جس کا ٹھٹھا کرتے تھے7

7 یعنی جس چیز سے ٹھٹھا کرتے تھے اس کی سزا نے گھیر لیا اور ان کی ہنسی ان پر ہی الٹ دی گئی۔
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

تو کہہ کون نگہبانی کرتا ہے تمہاری رات میں اور دن میں رحمان سے8 کوئی نہیں وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں9

8 یعنی رحمان کے غصہ اور عذاب سے تمہاری حفاظت کرنے والا دوسرا کون ہے، محض اس کی رحمت واسعہ ہے جو فوراً عذاب نازل نہیں کرتا لیکن ایسے رحمت والے حلیم و بردبار کے غصہ سے ڈرنا بھی بہت چاہیے نعوذباللہ من غضب الحلیم۔ 9 یعنی رحمان کی حفاظت کا ان کو احساس و اعتراف نہیں۔ عیش و تنعم اور پر امن زندگی نے پروردگار حقیقی کی یاد سے غافل کر رکھا ہے۔ اسی لیے جب اس کی طرف سے کوئی نصیحت کی جاتی ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں کہ یہ کہاں کی باتیں شروع کردیں۔
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

یا ان کے واسطے کوئی معبود ہیں کہ ان کو بچاتے ہیں ہمارے سوا وہ اپنی بھی مدد نہیں کرسکتے اور نہ ان کی ہماری طرف سے رفاقت ہو1

1 یعنی کیا اپنے فرضی معبودوں کی نسبت خیال ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرتے ہیں ؟ اور موقع آنے پر خدا تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے ؟ سو وہ مسکین ان کی مدد اور حفاظت تو درکنار خود اپنے وجود کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے، اگر ان کو کوئی توڑنے پھوڑنے لگے یا کچھ چیز ان کے پاس سے چھین کرلے جائے تو اتنی قدرت نہیں کہ مدافعانہ تحفظ کے لیے خود ہاتھ پاؤں ہلا سکیں یا اپنے بچاؤ کی خاطر ہماری امداد ورفاقت حاصل کرلیں۔
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

کوئی نہیں پر ہم نے عیش دیا ان کو اور ان کے باپ داؤد کو یہاں تک کہ بڑھ گئی ان پر زندگی2 پھر کیا نہیں دیکھتے کہ ہم چلے آتے ہیں زمین کو گھٹاتے اس کے کناروں سے اب کیا وہ جیتنے والے ہیں3

2 یعنی رحمان کی کلاءت و حفاظت اور بتوں کا عجزو بیچارگی ایسی چیز نہیں جس کو یہ لوگ سمجھ نہ سکیں۔ بات یہ ہے کہ پشت ہاپشت سے یہ لوگ بےفکری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی جھٹکا عذاب الٰہی کا نہیں لگا۔ اس پر مغرور ہوگئے اور غفلت کے نشہ میں چور ہو کر حق تعالیٰ کا پیغام اور پیغمبروں کی نصیحت قبول کرنے سے منہ موڑ لیا۔ 3 یعنی عرب کے ملک میں اسلام پھیلنے لگا ہے اور کفر گھٹنے لگا۔ آہستہ آہستہ وہاں کی زمین کافروں پر تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی حکومتیں اور سرداریاں ٹوٹتی جا رہی ہیں۔ کیا ایسے کھلے ہوئے آثار و قرائن دیکھ کر بھی انھیں اپنا انجام نظر نہیں آتا۔ اور کیا ان مشاہدات کے باوجود وہ اسی کے امیدوار ہیں کہ پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں پر ہم غالب ہوں گے۔ اگر چشم عبرت ہے تو چاہیے کہ عقل سے کام لیں اور قرائن و احوال سے مستقبل کا اندازہ کریں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کے گردو پیش کی بستیاں انبیاء کی تکذیب و عداوت کی سزا میں تباہ کی جا چکی ہیں اور ہمیشہ آخرکار خدا کے وفاداروں کا مشن کامیاب رہا ہے۔ پھر سید المرسلین اور مومنین کاملین کے مقابلہ میں غالب آنے کی ان کو کیا توقع ہوسکتی ہے۔ ( وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ) 46 ۔ الاحقاف :27) (تنبیہ) اس مضمون کی آیت سورة رعد کے آخر میں گزر چکی وہاں کے فوائد ملاحظہ کیے جائیں۔
Ayah 21:45

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

تو کہہ میں جو تم کو ڈراتا ہوں سو حکم کے موافق اور سنتے نہیں بہرے پکارنے کو جب کوئی ان کو ڈر کی بات سنائے4

4 یعنی ہمارا کام وحی الٰہی کے موافق نصیحت سنا دینا اور انجام سے آگاہ کردینا ہے۔ دل کے بہرے اگر اس پکار کو نہ سنیں تو ہمارا قصور نہیں۔ وہ خود اپنے بہرے پن کا خمیازہ بھگتیں گے۔
Ayah 21:46

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور کہیں پہنچ جائے ان تک ایک بھاپ تیرے رب کے عذاب کی تو ضرور کہنے لگیں ہائے کم بختی ہماری بیشک ہم تھے گنہ گار5

5 یعنی یہ لوگ جو بہرے بنے ہوئے ہیں، صرف اس وقت تک ہے کہ ذرا زور سے کھٹکھٹائے نہ جائیں۔ اگر عذاب الٰہی کی ذرا سی بھنک کان میں پڑگئی یا خدا کے قہر و انتقام کی ادنیٰ بھاپ بھی ان کو چھو گئی تو آنکھ کان سب کھل جائیں گے اس وقت بدحواس ہو کر چلائیں گے کہ بیشک ہم بڑے بھاری مجرم تھے جو ایسی کم بختی آئی۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور رکھیں گے ہم ترازوئیں انصاف کی قیامت کے دن پھر ظلم نہ ہوگا کسی جی پر ایک ذرہ اور اگر ہوگا برابر رائی کے دانہ کے تو ہم لے آئیں گے اس کو6 اور ہم کافی ہیں حساب کرنے کو7

6 یعنی رائی کے دانہ کے برابر کسی کا عمل ہوگا وہ بھی میزان میں تلے گا، ادھر ادھر ضائع نہ ہوگا نہ کسی پر ظلم و زیادتی کی جائے گی۔ رتی رتی کا حساب برابر کردیا جائے گا (تنبیہ) " موازین " میزان کی جمع ہے شاید بہت سی ترازوئیں ہوں یا ایک ہی ہو مگر مختلف اعمال و عمال کے اعتبار سے کئی قرار دے دی گئیں واللہ اعلم۔ وزن اعمال اور میزان کے متعلق سورة " اعراف " میں کلام کیا جا چکا ہے اسے دیکھ لیا جائے۔ 7 یعنی ہمارا حساب آخری اور فیصلہ کن ہوگا جس کے بعد کوئی دوسرا حساب نہیں۔ نہ ہم کو ساری مخلوق کا حساب لینے میں کسی مددگار کی ضرورت ہے۔ آگے بتلایا کہ انذار و تخویف کا سلسلہ پہلے سے چلا آتا ہے۔ آج جن باتوں سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ڈراتے ہیں انبیائے سابقین بھی ان سے ڈراتے چلے آئے ہیں۔
Ayah 21:48

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے دی تھی موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو قضیئے چکانے والی کتاب اور روشنی اور نصیحت ڈرنے والوں کو8

8 یعنی تورات شریف جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت اور حلال و حرام کے قضیے چکانے والی اور جہل و غفلت کی اندھیریوں میں روشنی پہنچانے والی اور خدا سے ڈرنے والوں کو نصیحت سنانے والی کتاب تھی۔
Ayah 21:49

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور وہ قیامت کا خطرہ رکھتے ہیں9

9 قیامت کا خطرہ بھی اسی لیے رکھتے ہیں کہ ان کے دل میں خدا کا ڈر ہے۔ ہر وقت دل میں کھٹکا لگا رہتا ہے کہ دیکھئے وہاں کیا صورت پیش آئے گی۔ کہیں العیاذ باللہ حق تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کے مورد نہ بن جائیں۔ ظاہر ہے ایسے ہی لوگ نصیحت سے منتفع ہوتے ہیں۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ ایک نصیحت ہے برکت کی جو ہم نے اتاری سو کیا تم اس کو نہیں مانتے1

1 یعنی ایک نصیحت کی کتاب یہ قرآن تمہارے سامنے موجود ہے جس کا جلیل القدر عظیم النفع اور کثیر الخیر ہونا، تورات سے بھی زیادہ روشن ہے۔ کیا ایسی واضح اور روشن کتاب کے تم منکر ہوتے ہو جہاں انکار کی گنجائش ہی نہیں۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور آگے دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی نیک راہ2 اور ہم رکھتے ہیں اس کی خبر3

2 یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت موسیٰ و ہارون علیہما الصلوٰۃ والسلام سے پیشتر ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی اعلیٰ قابلیت و شان کے مناسب رشد و ہدایت دی تھی، بلکہ جوانی سے پہلے ہی بچپن میں اسے نیک راہ پر ڈال دیا تھا جو ایسے اولوالعزم انبیاء کے شایان شان ہو۔ 3 یعنی اس کی استعداد و اہلیت اور کمالات علمیہ کی پوری خبر ہم ہی رکھتے ہیں۔ اسی لیے جو رشدو و ہدیٰ اس کے حسب حال تھی ہم نے عطا کردی۔
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب کہا اس نے اپنے باپ کو اور اپنی قوم کو یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم مجاور بنے بیٹھے ہو4

4 یعنی ذرا ان کی اصلیت اور حقیقت تو بیان کرو۔ آخر پتھر کی خود تراشیدہ مورتیاں خدا کسی طرح بن گئیں۔
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

بولے ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو انہی کی پوجا کرتے5

5 یعنی عقل و فطرت اور نقل معتدبہ کی کوئی شہادت ہماری تائید میں نہیں ہے نہ سہی لیکن بڑی بھاری دلیل بت پرستی کے حق و صواب ہونے کی یہ ہے کہ اوپر سے ہمارے باپ دادا ان ہی کی پوجا کرتے چلے آئے ہیں۔ پھر ہم اپنے بڑوں کا طریقہ کیسے چھوڑ دیں۔
Ayah 21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

بولا مقرر رہے تم اور تمہارے باپ دادے صریح گمراہی میں6

6 یعنی اس دلیل سے تمہاری حقانیت اور عقلمندی ثابت نہ ہوئی۔ ہاں یہ ثابت ہوا کہ تمہارے باپ دادا بھی تمہاری طرح گمراہ اور بیوقوف تھے جن کی کو رانہ تقلید میں تم تباہ ہو رہے ہو۔
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

بولے تو ہمارے پاس لایا ہے سچی بات یا تو کھلاڑیاں کرتا ہے7

7 تمام قوم کے عقیدہ کے خلاف ابراہیم (علیہ السلام) کی ایسی سخت گفتگو سن کر ان میں اضطراب پیدا ہوگیا کہنے لگے کیا سچ مچ تیرا خیال اور عقیدہ یہ ہی ہے یا محض ہنسی اور دل لگی کرتا ہے۔
Ayah 21:56

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

بولا نہیں رب تمہارا وہی ہے رب آسمان اور زمین کا جس نے ان کو بنایا اور میں اسی بات کا قائل ہوں8

8 یعنی میرا عقیدہ ہی یہ ہے اور پورے یقین و بصیرت سے اس کی شہادت دیتا ہوں کہ میرا تمہارا سب کا رب وہ ہی ایک خدا ہے جس نے آسمان زمین پیدا کیے اور ان کی دیکھ بھال رکھی۔ کوئی دوسری چیز اس کی خدائی میں شریک نہیں ہوسکتی۔
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور قسم اللہ کی میں علاج کروں گا تمہارے بتوں کا جب تم جا چکو گے پیٹھ پھیر کر9

9 یہ بات ذرا آہستہ کہی کہ بعض نے سنی، بہتوں نے نہ سنی، جنہوں نے سنی اس کی کچھ پروا نہ کی، کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ تنہا ایک نوجوان ساری قوم کے معبودوں کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پھر کر ڈالا ان کو ٹکڑے ٹکڑے مگر ایک بڑا ان کا کہ شاید اس کی طرف رجوع کریں10

10 جب وہ لوگ شہر سے باہر ایک میلہ میں گئے تب ابراہیم (علیہ السلام) نے بت خانہ میں جا کر بتوں کو توڑ ڈالا۔ صرف ایک بت کو باقی رہنے دیا جو باعتبار جثہ کے یا تعظیم و تکریم کے ان کے نزدیک سب سے بڑا تھا، اور جس کلہاڑی سے توڑا تھا وہ اس بڑے کے گلے میں لٹکا دی، تاکہ وہ لوگ جب واپس آکر یہ صورت حال دیکھیں تو قدرتی طور پر ان کا خیال اس بڑے بت کی طرف ہو یا الزاماً اس کی طرف رجوع کرایا جاسکے۔
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

کہنے لگے کس نے کیا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ وہ تو کوئی بےانصاف ہے11

11 یعنی یہ گستاخی اور بےادبی کی حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ کس نے کی یقینا جس نے یہ کام کیا بڑا ظالم اور شریر ہے (استغفر اللہ) یہ شاید ان لوگوں نے کہا ہوگا جن کے کان تک (وَتَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ ) 21 ۔ الانبیآء :57) کی آواز نہ پہنچی تھی۔
Ayah 21:60

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

وہ بولے ہم نے سنا ہے ایک جو ان بتوں کو کچھ کہا کرتا ہے، اس کو کہتے ہیں ابراہیم12

12 یہ کہنے والے وہ لوگ ہوں گے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جملے سن چکے تھے۔ یعنی وہ ہی ایک شخص ہے جو ہمارے معبودوں کا ذکر برائی سے کیا کرتا ہے، یقینا یہ کام اسی نے کیا ہوگا۔
Ayah 21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

وہ بولے اس کو لے آؤ لوگوں کے سامنے شاید وہ دیکھیں13

13 یعنی اس کو بلا کر برملا مجمع عام میں بیان لیا جائے۔ تاکہ معاملہ کو سب لوگ دیکھ کر خود اس کی باتیں سن کر گواہ رہیں کہ جو سزا اس کو قوم کی طرف سے دی جائے گی بیشک وہ اس کا مستحق تھا۔ یہ تو ان کی غرض تھی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصود بھی یہ ہی ہوگا کہ مجمع عام میں ان کو موقع ملے کہ مشرکین کو عاجز و مبہوت کریں اور علیٰ رؤس الاشہاد غلبہ حق کا اظہار ہو۔
Ayahs 21:62–63

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

بولے کیا تو نے کیا ہے یہ ہمارے معبودوں کے ساتھ اے ابراہیم

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

بولا نہیں پر یہ کیا ہے ان کے اس بڑے نے سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں1

1 یعنی مجھ سے دریافت کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ یہ فرض کرلیا جائے کہ اس بڑے گروگھنٹال نے جو صحیح سالم کھڑا ہے اور توڑنے کا آلہ بھی اس کے پاس موجود ہے، یہ کام کیا ہوگا۔ لیجئے بحث و تحقیق کے وقت بطور الزام و تبکیت میں یہ دعویٰ کیے لیتا ہوں کہ بڑے بت نے سب چھوٹوں کو توڑ ڈالا۔ اب آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ کیا دنیا میں ایسا ہوتا نہیں کہ بڑے سانپ چھوٹے سانپوں کو، بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے۔ اور بڑے بادشاہ چھوٹی سلطنتوں کو تباہ کر ڈالتے ہیں، اس لیے بہترین صورت میرے تمہارے درمیان فیصلہ کی یہ ہے کہ تم خود اپنے ان معبودوں ہی سے دریافت کرلو کہ یہ ماجرا کس طرح ہوا، اگر یہ کچھ بول سکتے ہیں تو کیا ایسے اہم معاملہ میں بول کر میرے جھوٹ سچ کا فیصلہ نہ کردیں گے ؟ (تنبیہ) ہماری تقریر سے ظاہر ہوگیا کہ (بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا) 21 ۔ الانبیآء :63) کہنا خلاف واقعہ خبر دینے کے طور پر نہ تھا جسے حقیقتہً جھوٹ کہا جائے بلکہ ان کی تحمیق و تجہیل کے لیے ایک فرضی احتمال کو بصورت دعویٰ لے کر بطور تعریض و الزام کلام کیا گیا تھا جیسا کہ عموماً بحث و مناظرہ میں ہوتا ہے اس کو جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ ہاں بظاہر صورت جھوٹ کی معلوم ہوتی ہے اسی لیے بعض احادیث میں اس پر لفظ کذب کا اطلاق صورۃً کیا گیا ہے۔ مفسرین نے اس کی توجیہ میں اور بھی کئی محمل بیان کیے ہیں۔ مگر ہمارے نزدیک یہ ہی تقریر زیادہ صاف بےتکلف اوراقرب الی الروایات ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

پھر سوچے اپنے جی میں پھر بولے لوگوں تم ہی بےانصاف ہو2

2 یعنی سمجھے کہ بیکار پتھر پوجنے سے کیا حاصل یا یہ مطلب ہو کہ تم نے خود اپنے اوپر ظلم کیا کہ باوجود ابراہیم (علیہ السلام) کی دھمکی سننے کے یوں ہی لاپروائی سے بت خانہ کھلا چھوڑ کر چلے گئے اپنے معبودوں کی حفاظت کا کوئی سامان کر کے نہ گئے کذا قال ابن کثیر۔
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر اوندھے ہوگئے سر جھکا کر3 تو تو جانتا ہے جیسا یہ بولتے ہیں4

3 یعنی شرمندگی سے آنکھ نہیں ملا سکے تھے۔ 4 یعنی جان بوجھ کر ہم سے ایسی ناممکن بات کا مطالبہ کیوں کرتا ہے کہیں پتھر بھی بولے ہیں ؟
Ayahs 21:66–67

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

بولا کیا پھر تم پوجتے ہو اللہ سے ورے ایسے کو جو تمہارا کچھ بھلا کرے نہ برا

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

بیزار ہوں میں تم سے اور جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے کیا تم کو سمجھ نہیں5

5 یعنی پھر تم کو ڈوب مرجانا چاہیے کہ جو مورتی ایک لفظ نہ بول سکے، کسی آڑے وقت کام نہ آسکے، ذرہ برابر نفع و نقصان اس کے اختیار میں نہ ہو، اسے خدائی کا درجہ دے رکھا ہے، کیا اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھ سکتے۔
Ayah 21:68

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

بولے اس کو جلاؤ اور مدد کرو اپنے معبودوں کی اگر کچھ کرتے ہو6

6 یعنی بحث و مناظرہ میں تو اس سے جیت نہیں سکتے۔ اب صرف ایک ہی صورت ہے کہ (جو معبود ہماری بلکہ خود اپنی مدد نہیں کرسکتے) ہم ان کی مدد کریں اور ان کے دشمن کو سخت ترین سزا دیں۔ اگر ایسا نہ کرسکے تو ہم نے کچھ کام نہ کیا۔ چناچہ اس مشورہ کے موافق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلانے کی سزا تجویز ہوئی۔ گویا جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے بت توڑ کر ان کے دل جلائے تھے، یہ ان کو آگ میں جلا ڈالیں۔ آخر ظالموں نے جمع ہو کر نہایت اہتمام اور بےرحمی کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سخت بھڑکتی ہوئی آگ کی نذر کردیا۔
Ayah 21:69

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈک ہوجا اور آرام ابراہیم پر7

7 یعنی تکویناً آگ کو حکم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی ہوجا۔ لیکن اس قدر ٹھنڈی نہیں کہ برودت سے تکلیف پہنچنے لگے۔ ایسی معتدل ٹھنڈی ہو جو جسم وجان کو خوشگوار معلوم ہونے لگے (تنبیہ) آگ کا ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈا ہوجانا ان کا معجزہ تھا۔ معجزہ کی حقیقت یہ ہی ہے کہ حق تعالیٰ اپنی عام عادت کے خلاف سبب عادی کو مسبب سے یا مسبب کو سبب سے جدا کر دے، یہاں احراق کا سبب (آگ) موجود تھی، مگر مسبب اس پر مرتب نہ ہوا، معجزہ وغیرہ کے متعلق مفصل کلام ہم نے ایک مستقل تحریر میں کیا ہے جو رسالہ " الحمود " کے کئی نمبروں میں چھپ چکی۔ فلیراجع۔
Ayah 21:70

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور چاہنے لگے اس کا برا پھر انہی کو ہم نے ڈالا نقصان میں8

8 یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہتے تھے، لیکن خود ناکامی، ذلت اور خسارہ میں پڑگئے حق کی صداقت برملا ظاہر ہوئی اور اللہ کا کلمہ بلند ہوا۔ قال فی البحر المحیط " قد اکثر الناس فی حکایتہ ماجریٰ لابراہیم علیہ السلام۔ والذی صح ہو ماذکرہ اللہ تعالیٰ من انہ (علیہ السلام) القی فی النار فجعلہا اللہ علیہ برداً وسلم اً "
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور بچا نکالا ہم نے اس کو اور لوط (علیہ السلام) کو اس زمین کی طرف جس میں برکت رکھی ہے ہم نے جہاں کے واسطے9

9 یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مع حضرت لوط (علیہ السلام) کے صحیح سالم ملک شام میں لے گئے جہاں بہت سی ظاہری و باطنی برکات ودیعت کی گئی ہیں۔
Ayah 21:72

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور بخشا ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب دیا انعام میں10 اور سب کو نیک بخت کیا11

10 یعنی بڑھاپے میں بیٹا مانگا تھا، ہم نے پوتا بھی دے دیا۔ یعنی یعقوب علیہ السلام۔ 11 یعنی ابراہیم، لوط، اسحاق، یعقوب علیھم السلام اعلیٰ درجہ کے نیک بندوں میں ہیں۔ کیونکہ سب نبی ہوئے اور انبیاء سے بڑھ کر نیکی کس میں ہوسکتی ہے۔
Ayah 21:73

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ان کو کیا ہم نے پیشوا راہ بتلاتے تھے ہمارے حکم سے12 اور کہلا بھیجا ہم نے ان کو کرنا نیکیوں کا اور قائم رکھنی نماز اور دینی زکوٰۃ1 اور وہ تھے ہماری بندگی میں لگے ہوئے2

12 یعنی ایسے کامل تھے کہ دوسروں کی تکمیل بھی کرتے تھے۔ 1 یعنی ان کی طرف وحی بھیجی جس میں ان امور کی تاکید تھی۔ یہ ان کا کمال علمی ہوا۔ 2 یعنی شب و روز ہماری بندگی میں لگے رہتے تھے کسی دوسری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ یہ ہی انبیاء کی شان ہوتی ہے کہ ان کا ہر کام خدا کی بندگی کا پہلو لیے ہوتا ہے۔ یہ عملی کمال ہوا۔
Ayah 21:74

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط کو دیا ہم نے حکم اور سمجھ3 اور بچا نکالا اس کو اس بستی سے جو کرتے تھے گندے کام وہ تھے لوگ بڑے نافرمان4

3 یعنی حکمت و حکومت اور علم و فہم جو انبیاء کی شان کے لائق ہو۔ 4 بستی سے مراد " سدوم " اور اس کے ملحقات ہیں۔ وہاں کے لوگ خلاف فطرت افعال کے مرتکب اور بہت سے گندے کاموں میں مبتلا تھے۔ ان کا قصہ پہلے کئی جگہ گزر چکا۔
Ayah 21:75

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور اس کو لے لیا ہم نے اپنی رحمت میں وہ ہے نیک بختوں میں5

5 یعنی جب لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب بھیجا تو لوط (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو ہم نے اپنی مہربانی اور رحمت کی چادر میں ڈھانپ لیا۔ تاکہ نیکوں کا اور بدوں کا انجام الگ الگ ظاہر ہوجائے۔
Ayah 21:76

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح کو جب اس نے پکارا اس سے پہلے6 پھر قبول کرلی ہم نے اس کی دعا سو بچا دیا اس کو اور اس کے گھر والوں کو بڑی گھبراہٹ سے

6 یعنی ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط سے پہلے۔
Ayah 21:77

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور مدد کی اس کی ان لوگوں پر جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں وہ تھے برے لوگ پھر ڈبا دیا ہم نے ان سب کو7

7 نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو برس تک قوم کو سمجھاتے رہے اتنی طویل مدت میں سخت زہرہ گداز سختیاں اٹھائیں۔ آخر دعا کی (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اور (وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) 71 ۔ نوح :26) حق تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی۔ کافروں کو طوفان سے غرق کردیا اور نوح (علیہ السلام) کو مع ہمراہیوں کے طوفان کی گھبراہٹ اور کفار کی ایذا دہی سے بچا لیا۔ ان کا مفصل قصہ پہلے گزر چکا۔
Ayahs 21:78–79

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو جب لگے فیصل کرنے کھیتی کا جھگڑا جب روند گئیں اس کو رات میں ایک قوم کی بکریاں، اور سامنے تھا ہمارے ان کا فیصلہ

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

پھر سمجھا دیا ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو اور دونوں کو دیا تھا ہم نے حکم اور سمجھ8 اور تابع کیے ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑ، تسبیح پڑھا کرتے اور اڑتے جانور9 اور یہ سب کچھ ہم نے کیا10

8 حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے صاحبزادے ہیں، اور خود نبی ہیں دونوں کو اللہ تعالیٰ نے حکومت، قوت فیصلہ اور علم و حکمت عنایت فرمائے تھے۔ حضرت سلیمان بچپن ہی میں اس قدر غیر معمولی سمجھ کی باتیں کرتے تھے کہ سننے والے حیران رہ جائیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش ہوا کہ ایک شخص کے کھیت میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں آ گھسیں کھیتی کا نقصان ہوا، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ دیکھ کر کہ بکریوں کی قیمت اس مالیت کے برابر ہے جس کا کھیت والے نے نقصان اٹھایا تھا، یہ فیصلہ کیا کہ بکریاں کھیتی والے کو دے دی جائیں۔ حضرت سلیمان نے فرمایا کہ میرے نزدیک کھیتی والا بکریاں اپنے پاس رکھے اور دودھ پئے اور بکریوں والے کھیت کی آبپاشی اور تردد کریں جب کھیتی جیسی تھی ویسی ہوجائے تو بکریاں لوٹا دیں اور کھیتی لے لیں اس میں دونوں کا نقصان نہ ہوگا۔ حضرت داؤد نے بھی یہ فیصلہ سن کر تحسین فرمائی اور اپنے اجتہاد سے رجوع کیا۔ گویا اصول فقہ کی اصطلاح میں سلیمان (علیہ السلام) کے استحسان کو اپنے قیاس کے مقابلہ میں قبول فرما لیا۔ باپ بیٹے دونوں نے جو فیصلہ شرکائے مقدمہ کے حق میں کیا وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تھا اور دونوں ہی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے فیصلہ کرنے کی قوت اور سمجھ عنایت کی تھی۔ لیکن اصل گر کی بات اس نے سلیمان (علیہ السلام) کو سجھا دی وہ اس نتیجہ پر پہنچے جو اللہ کے نزدیک اصلح و اصوب تھا، اور جسے آخرکار داؤد (علیہ السلام) نے بھی قبول کیا۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) بادشاہ ہو کر بھی مخلوق کے چھوٹے چھوٹے معاملات کی طرف اسی قدر توجہ فرماتے ہیں جیسے بڑے مہم کاموں کی طرف۔ 9 حضرت داؤد (علیہ السلام) بےانتہا خوش آواز تھے اس پر پیغمبرانہ تاثیر، حالت یہ ہوتی تھی کہ جب جوش میں آکر زبور پڑھتے یا خدا کی تسبیح وتحمید کرتے تو پہاڑ اور پرند جانور بھی ان کے ساتھ آواز سے تسبیح پڑھنے لگتے تھے۔ 10 یعنی تعجب نہ کرو کہ پتھر اور جانور کیسے بولتے اور تسبیح پڑھتے ہوں گے یہ سب کچھ ہمارا کیا ہوا تھا، بھلا ہماری لا محدود قوت کے لحاظ سے یہ باتیں کیا مستبعد سمجھی جاسکتی ہیں۔
Ayah 21:80

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور اس کو سکھلایا ہم نے بنایا ایک تمہارا لباس کہ بچاؤ ہو تم کو تمہاری لڑائی میں11 سو کچھ تم شکر کرتے ہو12

11 حق تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا موم کردیا تھا۔ اسے موڑ کر نہایت ہلکی مضبوط، جدید قسم کی زرہیں تیار کرتے تھے جو لڑائی میں کام دیں۔ 12 یعنی تمہارے فائدہ کے لیے ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے ذریعہ سے ایسی عجیب صنعت نکال دی، سوچو کہ تم اس قسم کی نعمتوں کا کچھ شکر ادا کرتے ہو۔