18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 18:81

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

پھر ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں9

9 یعنی لڑکے کے مارے جانے سے اس کے والدین کا ایمان محفوظ ہوگیا اور جو صدمہ ان کو پہنچا، حق تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی تلافی ایسی اولاد سے کر دے جو اخلاق پاکیزگی میں مقتول لڑکے سے بہتر ہو، ماں باپ اس پر شفقت کریں۔ وہ ماں باپ کے ساتھ محبت و تعظیم اور حسن سلوک سے پیش آئے۔ کہتے ہیں اس کے بعد خدا تعالیٰ نے نیک لڑکی دی جو ایک نبی سے منسوب ہوئی اور ایک نبی اس سے پیدا ہوئے جس سے ایک امت چلی۔
Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے مال گڑا تھا ان کا اور ان کا باپ تھا نیک پھر چاہا تیرے رب نے کہ وہ پہنچ جائیں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا مال گڑا ہوا1 مہربانی سے تیرے رب کی اور میں نے یہ نہیں کیا اپنے حکم سے2 یہ ہے پھیر ان چیزوں کا جن پر تو صبر نہ کرسکا

1 یعنی اگر دیوار گر پڑتی تو یتیم بچوں کا جو مال وہاں گڑا ہوا تھا ظاہر ہوجاتا اور بدنیت لوگ اٹھا لیتے۔ بچوں کا باپ مرد صالح تھا اس کی نیکی کی رعایت سے حق تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ بچوں کے مال کی حفاظت کی جائے میں نے اس کے حکم سے دیوار سیدھی کردی کہ بچے جوان ہو کر باپ کا خزانہ پاسکیں۔ کہتے ہیں اس خزانہ میں دوسرے اموال کے علاوہ ایک سونے کی تختی تھی جس پر " محمد رسول اللہ " ﷺ لکھا ہوا تھا۔ 2 یعنی جو کام خدا کے حکم سے کرنا ضروری ہوا اس پر مزدوری لینا مقربین کا کام نہیں (تنبیہ) اس قصہ کے شروع میں حضرت خضر (علیہ السلام) کی نبوت و ولایت کے متعلق جو کچھ ہم لکھ چکے ہیں اس کو بیک نظر پھر مطالعہ کرلیا جائے۔ آگے ذوالقرنین کا قصہ آتا ہے۔ یہ بھی ان تین چیزوں میں سے تھا جن کی نسبت یہود کے مشورہ سے قریش نے سوالات کیے تھے۔ " روح " کے متعلق جواب سورة " بنی اسرائیل " میں گزر چکا۔ اصحاب کہف کا قصہ اسی سورة " کہف " میں آچکا۔ تیسری چیز آگے مذکور ہے۔
Ayahs 18:83–84

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور تجھ سے پوچھتے ہیں ذوالقرنین کو کہہ اب پڑھتا ہوں تمہارے آگے اس کا کچھ احوال

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو جمایا تھا ملک میں اور دیا تھا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان3

3 اس بادشاہ کو " ذوالقرنین " اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق و مغرب) پر پھر گیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ لقب اسکندر رومی کا ہے اور بعض کے نزدیک کوئی مقبول خدا پرست اور دیندار بادشاہ اس سے پہلے گزرا ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں متعدد وجوہ دلائل سے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ مجموعہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذوالقرنین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معاصر تھا اور ان کی دعا کی برکت سے حق تعالیٰ نے خارق عادت سامان و وسائل عطا فرمائے تھے۔ جن کے ذریعہ سے اس کو مشرق و مغرب کے سفر اور محیر العقول فتوحات پر قدرت حاصل ہوئی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) اس کے وزیر تھے، شاید اسی لیے قرآن نے حضرت خضر (علیہ السلام) کے قصہ کے ساتھ اس کا قصہ بیان فرمایا۔ قدیم شعرائے عرب نے اپنے اشعار میں " ذوالقرنین " کا نام بڑی عظمت سے لیا ہے اور اس کے عرب ہونے پر فخر کرتے رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذوالقرنین عہد تاریخی سے پہلے کا کوئی جلیل القدر عرب بادشاہ ہے۔ شاید اسکندر کو بھی اسی کی ایک گونہ مشابہت سے ذوالقرنین کہنے لگے ہوں۔ حال میں یورپ کے ماہرین آثار قدیمہ نے قدیم سامی عربوں کی متعدد عظیم الشان سلطنتوں کا سراغ لگایا ہے جن کا تاریخی اوراق میں کوئی مفصل تذکرہ موجود نہیں، بلکہ بعض ممتاز و مشہور سلاطین کا نام تک کتب تاریخ میں نہیں ملتا۔ مثلاً بادشاہ ' حمورابی " جو اغلبًا حضرت ابراہیم کے عہد میں ہوا ہے اور جس کو کہا گیا ہے کہ دنیا کا سب سے پہلا مقنّن تھا۔ اس کے قوانین منارہ بابل پر کندہ ملے ہیں۔ جن کا ترجمہ انگریزی میں شائع ہوگیا ہے۔ پرانے کتبات سے اس کی عجیب و غریب عظمت ثابت ہوتی ہے۔ بہرحال " ذوالقرنین ' ان ہی میں کا کوئی بادشاہ ہوگا۔
Ayah 18:85

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

پھر پیچھے پڑا ایک سامان کے4

4 یعنی سرانجام کرنے لگا ایک سفر کا۔
Ayah 18:86

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچا سورج ڈوبنے کی جگہ پایا کہ وہ ڈوبتا ہے ایک دلدل کی ندی میں5 اور پایا اس کے پاس لوگوں کو ہم نے کہا اے ذوالقرنین یا تو تو لوگوں کو تکلیف دے اور یا رکھ ان میں خوبی6

5 یعنی یوں نظر آیا جیسے سمندر میں سفر کرنے والوں کو معلوم ہوتا ہے کہ سورج پانی میں سے نکل رہا ہے اور پانی ہی میں ڈوبتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ذوالقرنین " کو شوق ہوا کہ دیکھے دنیا کی آبادی کہاں تک بسی ہے۔ سو مغرب کی طرف اس جگہ پہنچا کہ دلدل تھی، نہ گزر آدمی کا نہ کشتی کا۔ اللہ کے ملک کی حد نہ پاسکا۔ " 6 یعنی " ذوالقرنین " کو ان لوگوں پر ہم نے دونوں بات کی قدرت دی جیسا کہ ہر بادشاہ ہر حاکم کو نیک و بد کی قدرت ملتی ہے۔ چاہے خلق کو ستا کر بدنام ہو، چاہے عدل و انصاف اور نیکی اختیار کر کے اپنا ذکر خیر جاری رکھے یا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ کافر تھے ہم نے ذوالقرنین کو اختیار دیا کہ چاہے ان کو قتل کر دے یا پہلے اسلام کی طرف دعوت دے۔ ذوالقرنین نے دوسری شق اختیار کی۔
Ayahs 18:87–88

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

بولا جو کوئی ہوگا بےانصاف سو ہم اس کو سزا دیں گے پھر لوٹ جائے گا اپنے رب کے پاس وہ عذاب دے گا اس کا برا عذاب

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو کوئی یقین لایا اور کیا اس نے بھلا کام سو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی7

7 یعنی آخرت میں بھلائی ملے گی اور دنیا میں ہم اس پر سختی نہ کریں گے۔ بلکہ اپنے کام کے لیے جب کوئی بات اس سے کہیں گے سہولت اور نرمی کی کہیں گے۔ فی الحقیقت جو بادشاہ عادل ہو اس کی یہ ہی راہ ہوتی ہے۔ بروں کو سزا دے اور بھلوں سے نرمی کرے۔ ذوالقرنین نے یہ ہی چال اختیار کی۔
Ayah 18:89

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر لگا ایک سامان کے پیچھے8

8 یعنی مغربی سفر سے فارغ ہو کر مشرقی سفر کا سامان درست کرنے لگا۔ قرآن و حدیث میں یہ تصریح نہیں کہ ذوالقرنین کے یہ سب سفر فتوحات اور ملک گیری کے لیے تھے ممکن ہے محض سیرو سیاحت کے طور پر ہوں، اثنائے سفر میں ان اقوام پر بھی گزر ہوا ہو جو اس کے زیر حکومت آچکی تھی اور بعض اقوام نے ایک طاقتور بادشاہ سمجھ کر ظالموں کے مقابلہ میں فریاد کی ہو جس کا ذوالقرنین نے اپنی غیر معمولی قوت سے سدباب کردیا۔ جیسا کہ آگے " یاجوج ماجوج " کے قصہ میں آتا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 18:90

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچا سورج نکلنے کی جگہ پایا اس کو کہ نکلتا ہے ایک قوم پر کہ نہیں بنادیا ہم نے ان کے لیے آفتاب سے ورے کوئی حجاب9

9 یعنی انتہائے مشرق میں ایک ایسی قوم دیکھی جن کو آفتاب کی شعاعیں بےروک ٹوک پہنچتی تھیں یہ لوگ وحشی جانگلو ہوں گے گھر بنانے اور چھت ڈالنے کا ان میں دستور نہ ہوگا جیسے اب بھی بہت سی خانہ بدوش وحشی اقوام میں رواج نہیں ہے۔
Ayah 18:91

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یونہی ہے اور ہمارے قابو میں آچکی ہے اس کے پاس کی خبر10

10 یعنی ذوالقرنین کے سفر مشرق و مغرب کی جو کیفیت بیان کی گئی واقعہ میں اسی طرح ہے جو وسائل اس کے پاس تھے اور جو حالات وہاں پیش آئے ان سب پر ہمارا علم محیط ہے۔ تاریخ والے شاید اس جگہ کچھ اور کہتے ہوں گے اور فی الحقیقت اتنا ہے جو فرما دیا بعض مفسرین نے " کذلک " کا مطلب یہ لیا ہے کہ ذوالقرنین نے مغربی قوم کے متعلق جو روش اختیار کی تھی ویسی ہی اس مشرقی قوم کے ساتھ اختیار کی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 18:92

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر لگا ایک سامان کے پیچھے11

11 یہ تیسرا سفر مشرق و مغرب کے سوا کسی تیسری جہت میں تھا مفسرین عموماً اس کو شمالی سفر کہتے ہیں قرآن و حدیث میں یہ تصریح نہیں۔
Ayah 18:93

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچا دو پہاڑوں کے بیچ پائے ان سے ورے ایسے لوگ جو لگتے نہیں کہ سمجھیں ایک بات1

1 یعنی ذوالقرنین اور اس کے ساتھیوں کی بولی وہ لوگ نہیں سمجھتے تھے۔ آگے جو گفتگو نقل کی گئی ہے غالباً کسی ترجمان کے ذریعہ سے ہوئی ہوگی۔ اور ترجمان کسی درمیانی قوم کا ہوگا جو دونوں کی زبان قدرے سمجھتا ہو (تنبیہ) اس قوم اور " یاجوج ماجوج " کے ملک میں یہ دو پہاڑ حائل تھے جن پر چڑھائی ممکن نہ تھی البتہ دونوں پہاڑوں کے بیچ میں ایک درہ کھلا ہوا تھا اسی سے " یاجوج ماجوج " آتے اور ان لوگوں کو لوٹ مار کر چلے جاتے تھے۔
Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

بولے اے ذوالقرنین یہ یاجوج و ماجوج دھوم اٹھاتے ہیں ملک میں سو تو کہے تو ہم مقرر کردیں تیرے واسطے کچھ محصول اس شرط پر کہ بنا دے تو ہم میں ان میں ایک آڑ2

2 ذوالقرنین کے غیر معمولی اسباب و وسائل اور قوت و حشمت کو دیکھ کر انھیں یہ خیال ہوا کہ ہماری تکالیف و مصائب کا سدباب اس سے ہو سکے گا۔ اس لیے گذارش کی کہ " یاجوج ماجوج " نے ہمارے ملک میں اودھم مچا رکھی ہے۔ یہاں آکر قتل و غارت اور لوٹ مار کرتے رہتے ہیں۔ آپ اگر ہمارے اور ان کے درمیان کوئی مضبوط روک تھام کردیں جس سے ہماری حفاظت ہوجائے تو جو کچھ اس پر خرچ آئے ہم ادا کرنے کو تیار ہیں۔ چاہے آپ ٹیکس لگا کر ہم سے وصول کرلیں۔ (تنبیہ) " یاجوج ماجوج " کون ہیں ؟ کس ملک میں رہتے ہیں ؟ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی سد (آہنی دیوار) کہاں ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے متعلق مفسرین و مؤرخین کے اقوال مختلف رہے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یاجوج ماجوج کی قوم عام انسانوں اور جنات کے درمیان ایک برزخی مخلوق ہے اور جیسا کہ کعب بن احبار نے فرمایا اور نووی نے فتاویٰ میں جمہور علماء سے نقل کیا ہے۔ ان کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے آدم (علیہ السلام) پر منتہی ہوتا ہے مگر ماں کی طرف سے حواء تک نہیں پہنچتا گویا وہ عام آدمیوں کے محض باپ شریک بھائی ہوئے کیا عجیب ہے کہ دجال اکبر جسے تمیم داری نے کسی جزیرہ میں مقید دیکھا تھا، اسی قوم میں کا ہو۔ جب حضرت مسیح (علیہ السلام) جو محض ایک آدم زاد خاتون (مریم صدیقہ) کے بطن سے بتوسط نفخہ ملکیہ پیدا ہوئے، نزول من السماء کے بعد دجال کو ہلاک کردیں گے، اس وقت یہ قوم یاجوج ماجوج دنیا پر خروج کرے گی اور آخرکار حضرت مسیح کی دعاء سے غیر معمولی موت مرے گی۔ اس وقت یہ قوم کہاں ہے اور ذوالقرنین کی دیوار آہنی کس جگہ واقعہ ہے ؟ سو جو شخص ان سب اوصاف کو پیش نظر رکھے گا جن کا ثبوت اس قوم اور دیوار آہنی کے متعلق قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں ملتا ہے، اس کو کہنا پڑے گا کہ جن قوموں، ملکوں اور دیواروں کا لوگوں نے رائے سے پتہ دیا ہے، یہ مجموعہ اوصاف ایک میں بھی پایا نہیں جاتا۔ لہذا وہ خیالات صحیح معلوم نہیں ہوتے۔ اور احادیث صحیحہ کا انکار یا نصوص کی تاویلات بعیدہ دین کے خلاف ہے۔ رہا مخالفین کا یہ شبہ کہ ہم نے تمام زمین کو چھان ڈالا مگر کہیں اس کا پتہ نہیں ملا۔ اور اسی شبہ کے جواب کے لیے ہمارے مؤلفین نے پتہ بتلانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا صحیح جواب وہی ہے جو علامہ آلوسی بغدادی نے دیا ہے کہ ہم کو اس کا موقع معلوم نہیں اور ممکن ہے کہ ہمارے اور اس کے درمیان بڑے بڑے سمندر حائل ہوں اور یہ دعویٰ کرنا کہ ہم تمام خشکی و تری پر محیط ہوچکے ہیں، واجب التسلیم نہیں۔ عقلاً جائز ہے کہ جس طرح اب سے پانچ سو برس پہلے تک ہم کو چوتھے براعظم (امریکہ) کے وجود کا پتہ نہ چلا، اب بھی کوئی پانچواں براعظم ایسا موجود ہو جہاں تک ہم رسائی حاصل نہ کرسکے ہوں اور تھوڑے دنوں بعد ہم وہاں تک یا وہ لوگ ہم تک پہنچ سکیں۔ سمندر کی دیوار اعظم جو آسٹریلیا کے شمالی مشرقی ساحل پر واقع ہے آجکل برطانوی سائنس دان ڈاکٹر سی ایم ینگ کے زیر ہدایات اس کی تحقیقات جاری ہے۔ یہ دیوار ہزار میل سے زیادہ لمبی اور بعض بعض مقامات پر بارہ بارہ میل تک چوڑی اور ہزار فٹ اونچی ہے۔ جس پر بیشمار مخلوق بستی ہے۔ جو مہم اس کام کے لیے روانہ ہوئی تھی حال میں اس نے اپنی یک سالہ تحقیق ختم کی ہے جس سے سمندر کے عجیب و غریب اسرار منکشف ہوتے ہیں اور انسان کو حیرت واستعجاب کی ایک نئی دنیا معلوم ہو رہی ہے۔ پھر کیسے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ہم کو خشکی و تری کی تمام مخلوق کے مکمل انکشافات حاصل ہوچکے ہیں۔ بہرحال مخبر صادق نے جس کا صدق دلائل قطعیہ سے ثابت ہے، جب اس دیوار کی مع اس کے اوصاف کے خبر دی تو ہم پر واجب ہے کہ تصدیق کریں اور ان واقعات کے منتظر رہیں جو مشککین و منکرین کے علی الرغم پیش آکر رہیں گے سَتُبْدِیْ لَکَ الْاَیَّامُ مَاکُنْتَ جَاہِلاً وَیَاْتِیْکَ بالْاَخْبَارِ مَالَمْ تُزَوَّدِ
Ayah 18:95

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

بولا جو مقدور دیا مجھ کو میرے رب نے وہ بہتر ہے سو مدد کرو میری محنت میں بنادوں تمہارے ان کے بیچ ایک دیوار موٹی

3 یعنی مال میرے پاس بہت ہے مگر ہاتھ پاؤں سے ہمارے ساتھ تم بھی محنت کرو۔
Ayah 18:96

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

لادو مجھ کو تختے لوہے کے یہاں تک کہ جب برابر کردیا دونوں پھانکوں تک پہاڑ کی کہا دھونکو یہاں تک کہ جب کردیا اس کو آگ کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا4

4 اول لوہے کے بڑے بڑے تختوں کے اوپر نیچے تہیں جمائیں۔ جب ان کی بلندی دونوں پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ گئی، لوگوں کو حکم دیا کہ خوب آگ دھونکو۔ جب لوہا آگ کی طرح سرخ ہو کر تپنے لگا اس وقت پگھلا ہوا تانبا اوپر سے ڈالا جو لوہے کی درزوں میں بالکل پیوست ہو کر جم گیا اور سب مل کر پہاڑ سا بن گیا۔ یہ سب کام اس زمانہ میں بظاہر خارق عادت طریقہ سے انجام پائے ہوں گے جسے ذوالقرنین کی کرامت سمجھنا چاہیے۔ یا ممکن ہے اس وقت اس قسم کے آلات و اسباب پائے جاتے ہوں جن کا ہمیں اب علم نہیں۔
Ayah 18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر نہ چڑھ سکیں اس پر اور نہ کرسکیں اس میں سوراخ5

5 یعنی حق تعالیٰ نے یاجوج ماجوج کو فی الحال یہ قدرت نہیں دی کی دیوار پھاند کر یا توڑ کر ادھر نکل آئیں۔
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی پھر جب آئے وعدہ میرے رب کا گرا دے اس کو ڈھا کر اور ہے وعدہ میرے رب کا سچا6

6 یعنی محض خدا کی مہربانی سے یہ روک قائم ہوگئی اور میعاد معین تک قائم رہے گی۔ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے نزول اور قتل دجال کے بعد قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وعدہ ہے اس وقت یہ روک ہٹا دی جائے گی۔ دیوار توڑ کر اتنی کثیر تعداد میں نکل پڑیں گے جس کا شمار اللّٰہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ دنیا ان کے مقابلے میں عاجز ہوگی۔ حضرت مسیح کو حکم ہوگا کہ میرے خاص بندوں کو لے کر " طور " پر چلے جائیں۔ آنحضرت مسیح (علیہ السلام) بارگاہ احدیت کی طرف دست دعا دراز کریں گے۔ اس کے بعد یاجوج ماجوج پر ایک غیبی وبا مسلط ہوگی۔ سب ایک دم مرجائیں گے۔ مزید تفصیل کتب حدیث باب " امارات الساعۃ " میں دیکھنی چاہیے۔
Ayahs 18:99–100

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور چھوڑ دیں گے ہم خلق کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے اور پھونک ماریں گے صور میں پھر جمع کر لائیں گے ہم ان سب کو

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور دکھلادیں ہم دوزخ اس دن کافروں کو سامنے7

7 یعنی یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بیشمار تعداد میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے نکلیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ شدت ہول و اضطراب سے ساری مخلوق رَل گڈھ ہوجائے گی۔ جن و انس ایک دوسرے میں گھسنے لگیں گے پھر قیامت کا بگل ہوگا یعنی صور پھونکا جائے گا۔ اس کے بعد سب خدا کے سامنے میدان حشر میں اکٹھے کیے جائیں گے اور دوزخ کافروں کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ شاید کافروں کی تخصیص اس لیے کی کہ اصل میں دوزخ ان ہی کے لیے تیار کیا گیا ہے اور ان کی آنکھوں پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اب وہ پردہ اٹھ گیا۔
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے اور نہ سن سکتے تھے8

8 یعنی خود اپنی عقل کی آنکھ برابر نہ تھی کہ قدرت کے نشان دیکھ کر یقین لاتے اور خدا کو یاد کرتے۔ اور ضد سے کسی کی بات نہ سنی جو دوسرے کے سمجھائے سمجھ لیتے۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

اب کیا سمجھتے ہیں منکر کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی1 ہم نے تیار کیا ہے دوزخ کو کافروں کی مہمانی2

1 یعنی کیا منکرین یہ گمان کرتے ہیں کہ میرے خاص بندوں (مسیح، عزیر، روح القدس، فرشتوں) کی پرستش کر کے اپنی حمایت میں کھڑا کرلیں گے۔ (كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا) 19 ۔ مریم :82) (ہرگز نہیں ! وہ خود تمہاری حرکات سے بیزاری کا اظہار فرمائیں گے اور تمہارے مقابل مدعی بن کر کھڑے ہوں گے) 2 یعنی اس دھوکہ میں مت رہنا ! وہاں تم کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ ہاں ہم تمہاری مہمانی کریں گے۔ دوزخ کی آگ اور قسم قسم کے عذاب سے (اعاذنا اللّٰہ منہا)
Ayahs 18:103–104

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

تو کہہ ہم بتائیں تم کو کن کا کیا ہوا گیا بہت اکارت

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی کوشش بھٹکتی رہی دنیا کی زندگی میں اور وہ سمجھتے رہے کہ خوب بناتے ہیں کام3

3 یعنی قیامت کے دن سب سے زیادہ خسارہ میں وہ لوگ ہوں گے جن کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے لیے تھی آخرت کا کبھی خیال نہ آیا، محض دنیا کی ترقیات اور مادی کامیابیوں کو بڑی معراج سمجھتے رہے (کذایفہم من الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ دنیاوی زندگی میں جو کام انہوں نے اپنے نزدیک اچھے سمجھ کر کئے تھے خواہ واقع میں اچھے تھے یا نہیں وہ سب کفر کی نحوست سے وہاں بیکار ثابت ہوئے اور تمام محنت برباد گئی۔
Ayah 18:105

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

وہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی نشانیوں سے اور اس کے ملنے سے4 سو برباد گیا ان کا کیا ہوا پھر نہ کھڑی کریں گے ہم ان کے واسطے قیامت کے دن تول5

4 یعنی نہ اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیوں کو مانا، نہ خیال کیا کہ کبھی اس کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ 5 کافر کی حسنات مردہ ہیں اس ابدی زندگی میں کسی کام کی نہیں۔ اب محض کفریات وسیأت رہ گئیں۔ سو ایک پلہ کیا تلے تولنا تو موازنہ کیلئے تھا۔ موازنہ متقابل چیزوں میں ہوتا ہے۔ یہاں سیئات کے بالمقابل حسنہ کا وجود ہی نہیں۔ پھر تولنے کا کیا مطلب۔
Ayah 18:106

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ بدلہ ان کا ہے دوزخ اس پر کہ منکر ہوئے اور ٹھہرایا میری باتوں اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا6

6 جو ٹھٹھا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔
Ayahs 18:107–108

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں بھلے کام ان کے واسطے ہے ٹھنڈی چھاؤں کے باغ مہمانی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

رہا کریں ان میں نہ چاہیں وہاں سے جگہ بدلنی7

7 یعنی ہمیشہ رہنے سے اکتائیں گے نہیں۔ ہر دم تازہ بتازہ نعمتیں ملی گی۔ کبھی خواہش نہ کریں گے کہ ہم کو یہاں سے منتقل کردیا جائے۔
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

تو کہہ اگر دریا سیاہی ہو کر لکھے میرے رب کی باتیں بیشک دریا خرچ ہوچکے ابھی نہ پوری ہوں میرے رب کی باتیں اور اگرچہ دوسرا بھی لائیں ہم ویسا ہی اس کی مدد کو8

8 قریش نے یہود کے اشارہ سے روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کیا تھا۔ سورة ہذا کی ابتداء میں " اصحاب کہف " کا اور آخر میں ذوالقرنین کا قصہ جہاں تک موضع قرآن سے متعلق تھا۔ بیان فرمایا۔ اور روح کے متعلق سورة بنی اسرائیل میں فرما دیا۔ ( وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :85) اب خاتمہ سورت پر بتلاتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کے علم و حکمت کی باتیں بےانتہا ہیں۔ جو باتیں تمہاری طرف و استعداد اور ضرورت کے لائق بتلائی گئیں۔ حق تعالیٰ کی معلومات میں سے اتنی بھی نہیں جتنا سمندر میں سے ایک قطرہ۔ فرض کرو اگر پورے سمندر کا پانی سیاہی بن جائے جس سے خدا کی باتیں لکھنی شروع کی جائیں۔ اس کے بعد دوسرا اور تیسرا ویسا ہی سمندر اس میں شامل کرتے رہو تو سمندر ختم ہوجائیں گے، پر خدا کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔ یہیں سے سمجھ لو کہ قرآن اور دوسری کتب سماویہ کے ذریعہ سے خواہ کتنا ہی وسیع علم بڑی سے بڑی مقدار میں کسی کو دے دیا جائے، علم الٰہی کے سامنے وہ بھی قلیل ہے۔ گویا فی حد ذاتہ اسے کثیر کہہ سکیں۔
Ayah 18:110

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

تو کہہ میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم۔ حکم آتا ہے مجھ کو کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے سو پھر جس کو امید ہو ملنے کی اپنے رب سے سو وہ کرے کچھ کام نیک اور شریک نہ کرے اپنے رب کی بندگی میں کسی کو9

9 یعنی میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں، خدا نہیں، جو خودبخود ذاتی طور پر تمام علوم و کمالات حاصل ہوں، ہاں اللّٰہ تعالیٰ علوم حقہ اور معارف قدسیہ میری طرف وحی کرتا ہے جن میں اصل اصول علم توحید ہے۔ اسی کی طرف میں سب کو دعوت دیتا ہوں۔ جس کسی کو اللّٰہ تعالیٰ سے ملنے کا شوق یا اس کے سامنے حاضر کیے جانے کا خوف ہو اسے چاہیے کہ کچھ بھلے کام شریعت کے موافق کر جائے اور اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی میں ظاہر اً و باطناً کسی کو کسی درجہ میں بھی شریک نہ کرے۔ یعنی شرک جلی کی طرح ریا وغیرہ شرک خفی سے بھی بچتا رہے۔ کیونکہ جس عبادت میں غیر اللّٰہ کی شرکت ہو وہ عابد کے منہ پر ماری جائے گی۔ " اَللّٰہُمَّ اَعِذْنَا مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا " اس آیت میں اشارہ کردیا کہ نبی کا علم بھی متناہی اور عطائی ہے، علم خداوندی کی طرح ذاتی اور غیر متناہی نہیں۔ تم سورة الکہف بفضل اللّٰہ تعالیٰ ومنہ وللہ الحمد ولاً واٰخراً ۔