18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 18:41

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا صبح کو ہو رہے اس کا پانی خشک پھر نہ لاسکے تو اس کو ڈھونڈ کر4

4 یعنی ایک گرم بگولا اٹھے یا اور کوئی آفت سماوی نازل ہو جو تیرے تکبر و تجبر کی سزا میں باغ کو تہس نہس کر کے صاف چٹیل میدان بنا دے۔ یا نہر کا پانی خشک ہو کر رہ جائے۔ پھر باوجود کوشش کے جاری نہ ہو۔
Ayah 18:42

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل پھر صبح کو رہ گیا ہاتھ نچاتا5 اس مال پر جو اس میں لگایا تھا اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتریوں پر6 اور کہنے لگا کیا خوب ہوتا اگر میں شریک نہ بناتا اپنے رب کا کسی کو7

5 یعنی کف افسوس ملتا رہ گیا۔ 6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں آخر اس کے باغ پر وہ ہی ہوا جو اس مرد نیک کی زبان سے نکلا تھا۔ رات کو آفت سماوی آگ کی صورت میں آئی۔ سب جل کر ڈھیر ہوگیا۔ مال خرچ کیا تھا پونجی بڑھانے کو وہ اصل بھی کھو بیٹھا۔ 7 مگر۔ اب پچتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اور یہ افسوس و ندامت بھی خدا سے ڈر کر نہیں، محض دنیاوی ضرر پہنچنے کی بنا پر تھی۔
Ayah 18:43

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور نہ ہوئی اس کی جماعت کہ مدد کریں اس کی اللہ کے سوائے اور نہ ہوا وہ کہ خود بدلہ لے سکے8

8 یعنی نہ جتھا کام آیا، نہ اولاد، نہ فرضی معبود جنہیں خدائی کا شریک ٹھہرا رکھا تھا۔ اور نہ خود اپنی ذات میں اتنی طاقت تھی کہ خدا کے عذاب کو روک دیتا یا بدلہ لے سکتا۔
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں سب اختیار ہے اللہ سچے کا اسی کا انعام بہتر ہے اور اچھا ہے اسی کا دیا ہوا بدلہ9

9 یعنی جس عمل کا جو بدلہ کسی کو دے وہ ہی ٹھیک ہے۔ یہاں اور وہاں ہر جگہ اختیار اسی کا چلتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے فیصلہ میں دخل دے سکے۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور بتلادے ان کو مثل دنیا کی زندگی کے جیسے پانی اتارا ہم نے آسمان سے پھر رلا ملا نکلا اس کی وجہ سے زمین کا سبزہ پھر کل کو ہوگیا چورا چورا ہوا میں اڑتا ہوا10 اور اللہ کو ہے ہر چیز پر قدرت1

10 یعنی دنیا کی عارضی بہار اور فانی و سریع الزوال تروتازگی کی مثال ایسی سمجھو کہ خشک اور مردہ زمین پر بارش کا پانی پڑا، وہ یک بیک جی اٹھی، گنجان درخت اور مختلف اجزاء سے رلا ملا سبزہ نکل آیا۔ لہلہاتی کھیتی آنکھوں کو بھلی معلوم ہونے لگی۔ مگر چند روز ہی گزرے کہ زرد ہو کر سوکھنا شروع ہوگئی۔ آخر ایک وقت آیا کہ کاٹ چھانٹ کر برابر کردی گئی۔ پھر ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑائی گئی۔ یہ ہی حال دنیا کے دیدہ زیب وابلہ فریب بناؤ سنگار کا سمجھو۔ چند روز کے لیے خوب ہری بھری نظر آتی ہے، آخر میں چورہ ہو کر ہوا میں اڑ جائے گی۔ اور کٹ چھٹ کر سب میدان صاف ہوجائے گا جیسا کہ آگے (وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً ) 18 ۔ الکہف :47) میں اشارہ کیا ہے۔ 1 یعنی جب چاہے پھر جلا دے (موضح القرآن) یا یہ کہ اگانا اور چورا کر کے اڑا دینا سب اسی کے دست قدرت میں ہے۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے رونق ہیں دنیا کی زندگی میں اور باقی رہنے والی نیکیوں کا بہتر ہے تیرے رب کے یہاں بدلہ اور بہتر ہے توقع2

2 یعنی مرنے کے بعد مال و اولاد وغیرہ کام نہیں آتے صرف وہ نیکیاں کام آتی ہیں جن کا اثر یا ثواب آئندہ باقی رہنے والا ہو۔ حدیث میں " سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہ وَلَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ " ان کلمات کو باقیات صالحات فرمایا۔ یہ محض مثال کے طور پر ہے۔ ورنہ تمامی اعمال حسنہ اس میں داخل ہیں۔ موضح القرآن میں ہے۔ " رہنے والی نیکیاں یہ کہ علم سیکھا جائے جو جاری رہے یا کوئی نیک رسم چلا جائے یا مسجد، کنواں، سرائے، کھیت وقف کر جائے یا اولاد کو تربیت کر کے صالح چھوڑ جائے، اسی قسم کے کام ہیں جن پر خدا کے ہاں بہترین بدلہ مل سکتا ہے اور انسان عمدہ توقعات قائم کرسکتا ہے۔ دنیا کی فانی و زائل خوشحالی پر لمبی چوڑی امیدیں باندھنا عقلمندی نہیں۔ "
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم چلائیں پہاڑ اور تو دیکھے زمین کو کھلی ہوئی3 اور گھیر بلائیں ہم ان کو پھر نہ چھوڑیں ان میں سے ایک کو4

3 یعنی جب قیامت آئے گی پہاڑ جیسی سخت مخلوق بھی اپنی جگہ سے چلائی جائے گی۔ بلکہ اس کی بھاری بھاری چٹانیں دھنی ہوئی اون کی طرح فضا میں اڑتی پھریں گی۔ غرض زمین کے سارے ابھار مٹا کر سطح ہموار اور کھلی ہوئی رہ جائے گی۔ 4 یعنی کوئی شخص خدائی عدالت سے غیر حاضر نہ ہو سکے گا۔
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سامنے آئیں تیرے رب کے صف باندھ کر آپہنچے تم ہمارے پاس جیسا ہم نے بنایا تھا تم کو پہلی بار نہیں تم تو کہتے تھے کہ نہ مقرر کریں گے ہم تمہارے لیے کوئی وعدہ5

5 منکرین بعث کو تقریع و توبیخ کے طور پر یہ کہا جائے گا کہ تم تو قیامت وغیرہ کو محض ڈھکوسلہ سمجھتے تھے۔ آج سب جتھا اور اثاثہ چھوڑ کر ننگ دھڑنگ کہاں آپہنچے۔ اور " جیسا بنایا تھا پہلی بار " میں یہ بھی داخل ہے کہ بدن میں کچھ زخم و نقصان وغیرہ نہ رہے گا۔ حدیث میں ہے کہ محشر میں کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اسی امت محمدیہ کی ہیں۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور رکھا جائے گا حساب کا کاغذ پھر تو دیکھے گناہ گاروں کو ڈرتے ہیں اس سے جو اس میں لکھا ہے6 اور کہتے ہیں ہائے خرابی کیسا ہے یہ کاغذ نہیں چھوٹی اس سے چھوٹی بات اور نہ بڑی بات جو اس میں نہیں آگئی اور پائیں گے جو کچھ کیا ہے سامنے7 اور تیرا رب ظلم نہ کرے گا کسی پر8

6 یعنی اعمالنامہ ہر ایک کے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس میں اپنے گناہوں کی فہرست پڑھ کر مجرم خوف کھائیں گے کہ دیکھئے آج کیسی سزا ملتی ہے۔ 7 یعنی ذرہ ذرہ عمل آنکھوں کے سامنے ہوگا اور ہر ایک چھوٹی بڑی بدی یا نیکی اعمالنامہ میں مندرج پائیں گے۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گرپڑے مگر ابلیس تھا جن کی قسم سے سو نکل بھاگا اپنے رب کے حکم سے سو کیا اب تم ٹھہراتے ہو اس کو اور اس کی اولاد کو رفیق میرے سوا اور وہ تمہارے دشمن ہیں برا ہاتھ لگا بےانصافوں کے بدلہ9

8 حق تعالیٰ کی بارگاہ میں ظلم کا بایں معنی تو امکان ہی نہیں کہ وہ غیر کی ملک میں تصرف کرے، کیونکہ تمام مخلوق اسی کی ملک ہے۔ لیکن ظاہر میں جو ظلم نظر آئے اور بےموقع کام سمجھا جائے، وہ بھی نہیں کرتا، نہ کسی کو بےقصور پکڑتا ہے نہ کسی کی ادنیٰ نیکی کو ضائع ہونے دیتا ہے۔ بلکہ اپنی حکمت بالغہ سے نیکی و بدی کے ہر ایک درخت پر وہ ہی پھل لگاتا ہے جو اس کی طبیعت نوعیہ کا اقتضاء ہو گندم از گندم بروید جَو از جو از مکافات عمل غافل مشو کفر و ایمان اور طاعت و معصیت میں خالق الکل نے اسی طرح کے علیحدہ علیحدہ خواص و تاثیرات رکھ دی ہیں جیسے زہر اور تریاق میں۔ آخرت میں خیر و شر کے یہ تمام خواص و آثار اعلانیہ ظاہر ہوجائیں گے۔ 9 راجح یہ ہی ہے کہ ابلیس نوع جن سے تھا، عبادت میں ترقی کر کے گروہ ملائکہ میں شامل ہوگیا۔ اسی لیے فرشتوں کو جو حکم سجود ہوا اس کو بھی ہوا۔ اس وقت اس کی اصل طبیعت رنگ لائی۔ تکبر کر کے خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری سے بھاگ نکلا، آدم کے سامنے سر جھکانے میں کسر شان سمجھی۔ تعجب ہے کہ آج آدم کی اولاد اپنے رب کی جگہ اسی دشمن ازلی اور اس کی اولاد و اتباع کو اپنا رفیق و خیر خواہ اور مددگار بنانا چاہتی ہے اس سے بڑھ کر بےانصافی اور ظلم کیا ہوگا۔ یہ قصہ پہلے کئی جگہ مفصل گزر چکا ہے۔ یہاں اس پر متنبہ کرنے کے لیے لائے ہیں کہ دنیائے فانی کی ٹیپ ٹاپ پر مغرور ہو کر آخرت سے غافل ہوجانا شیطان کی تحریک و تسویل سے ہے۔ چاہتا ہے کہ ہم اپنے اصلی و آبائی وطن (جنت) میں واپس نہ جائیں۔ اس کا مطمح نظر یہ ہے کہ دوست بن کر ہم سے پرانی دشمنی نکالے۔ آدمی کو لازم ہے کہ ایسے چالاک دشمن سے ہوشیار رہے۔ جو لوگ دنیاوی متاع پر مغرور ہو کر ضعفاء کو حقیر سمجھتے اور اپنے کو بہت لمبا کھینچتے ہیں، وہ تکبر و تفاخر میں شیطان لعین کی راہ پر چل رہے ہیں۔ (تنبیہ) ابن کثیر نے بعض روایات نقل کر کے جن میں ابلیس کی اصل نوع ملائکہ میں سے بتلائی گئی ہے، لکھا ہے کہ ان روایات کا غالب حصہ اسرائیلیات میں سے ہے جنہیں بہت نظر و فکر کے بعد احتیاط کے ساتھ قبول کرنا چاہیے اور ان میں بعض چیزیں یقینا جھوٹ ہیں کیونکہ قرآن ان کی صاف تکذیب کرتا ہے۔ آگے ابن کثیر نے بہت وزن دار الفاظ میں اسرائیلیات کے متعلق جو کچھ کلام کیا ہے، دیکھنے اور یاد رکھنے کے قابل ہے۔ یہاں بخوف تطویل ہم درج نہیں کرسکتے۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

دکھلا نہیں لیا تھا میں نے ان کو بنانا آسمانوں اور زمین کا اور نہ بنانا خود ان کا اور میں وہ نہیں کہ بناؤں بہکانے والوں کو اپنا مددگار1

1 یعنی زمین و آسمان پیدا کرتے وقت ہم نے ان شیاطین کو بلایا نہ تھا کہ ذرا آکر دیکھ جائیں، ٹھیک بنا ہے یا کچھ اونچ نیچ رہ گئی۔ غرض نہ ان سے تکوین و ایجاد عالم میں کچھ مشورہ لیا گیا نہ مدد طلب کی گئی بلکہ زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت تو سرے سے یہ موجود ہی نہ تھے۔ خود ان کو پیدا کرتے وقت بھی نہیں پوچھا گیا کہ تمہیں کیسا بنایا جائے۔ یا تمہارے دوسرے ہم جنسوں کو کس طرح پیدا کروں ذرا آکر میری مدد کرو۔ اور بفرض محال مدد بھی لیتا اور قوت بازو بھی بناتا تو کیا ان بدبخت اشقیاء کو ؟ جنہیں جانتا ہوں کہ لوگوں کو میری راہ سے بہکانے والے ہیں۔ پھر خدا جانے آدمیوں نے ان کو خدائی کا درجہ کیسے دے دیا اور اپنے رب کو چھوڑ کر انھیں کیوں رفیق و مددگار بنانے لگے۔ " سُبْحَانَہ، وَتَعَالٰی عَمَّا یَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔ "
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن فرمائے گا پکارو میرے شریکوں کو2 جن کو تم مانتے تھے پھر پکاریں گے سو وہ جواب نہ دیں گے ان کو اور کردیں گے ہم ان کے اور ان کے بیچ مرنے کی جگہ3

2 یعنی جن کو میرا شریک بنا رکھا تھا، بلاؤ ! تاکہ اس مصیبت کے وقت تمہاری مدد کریں۔ 3 اس وقت رفاقت اور دوستی کی ساری قلعی کھل جائے گی۔ ایک دوسرے کے نزدیک بھی نہ جاسکیں گے۔ کام آنا تو درکنار دونوں کے بیچ میں عظیم و وسیع خندق آگ کی حائل ہوگی (اعاذنا اللہ منہا)
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور دیکھیں گے گناہ گار آگ کو پھر سمجھ لیں گے کہ ان کو پڑنا ہے اس میں اور نہ بدل سکیں گے اس سے راستہ4

4 یعنی شروع شروع میں شاید کچھ معافی کی امید ہوگی لیکن جہنم کو دیکھتے ہی یقین ہوجائے گا کہ اب اس میں گرنا ہے اور فرار کا کوئی راستہ نہیں۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور بیشک پھیر پھیر کر سمجھائی ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو ہر ایک مثل اور ہے انسان سب چیز سے زیادہ جھگڑالو5

5 یعنی قرآن کریم کس طرح مختلف عنوانات اور قسم قسم کے دلائل وامثلہ سے سچی باتیں سمجھاتا ہے مگر انسان کچھ ایسا جھگڑالو واقع ہوا ہے کہ صاف اور سیدھی باتوں میں بھی کٹ حجتی کیے بغیر نہیں رہتا۔ جب دلائل کا جواب بن نہیں پڑتا تو مہمل اور دور ازکار فرمائشیں شروع کردیتا ہے کہ فلاں چیز دکھاؤ تو مانوں گا۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کو جو روکا اس بات سے کہ یقین لے آئیں جب پہنچی ان کو ہدایت اور گناہ بخشوائیں اپنے رب سے سو اسی انتظار نے کہ پہنچے ان پر رسم پہلوں کی یا آکھڑا ہو ان پر عذاب سامنے کا6

6 یعنی ان کے ضد وعناد کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ قرآن ایسی عظیم الشان ہدایت پہنچ جانے کے بعد ایمان نہ لانے اور توبہ نہ کرنے کا کوئی معقول عذر انکے پاس باقی نہیں۔ آخر قبول حق میں اب کیا دیر ہے اور کا ہے کا انتظار ہے۔ بجز اس کے کہ پہلی قوموں کی طرح خدا تعالیٰ ان کو بلکل ہی تباہ کر ڈالے۔ یا اگر تباہ نہ کیے جائیں تو کم ازکم مختلف صورتوں میں عذاب الٰہی آنکھوں کے سامنے آکھڑا ہو۔ ہکذا یفہم من تفسیر ابن کثیر وغیرہ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی کچھ اور انتظار نہیں رہا مگر یہ ہی کہ پہلوں کی طرح ہلاک ہو ویں یا قیامت کا عذاب آنکھوں سے دیکھیں۔ "
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم جو رسول بھیجتے ہیں سو خوشخبری اور ڈر سنانے کو7 اور جھگڑا کرتے ہیں کافر جھوٹا جھگڑا کہ ٹلادیں اس سے سچی بات کو8 اور ٹھہرا لیا انہوں نے میرے کلام کو اور جو ڈر سنائے گئے ٹھٹھا9

7 ان کو یہ اختیار نہیں کہ جب تم مانگو یا جب وہ چاہیں عذاب لا کھڑا کریں۔ 8 یعنی جھوٹے جھگڑے اٹھا کر اور کٹ حجتی کر کے چاہتے ہیں کہ حق کی آواز پست کردیں اور جھوٹ کے زور سے سچائی کا قدم ڈگمگا دیں۔ ایسا کبھی نہ ہوگا۔ 9 یعنی کلام اللہ سے ٹھٹھا کرتے ہیں اور جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے اس کی ہنسی اڑاتے ہیں۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون جس کو سمجھایا اس کے رب کے کلام سے پھر منہ پھیرلیا اس کی طرف سے اور بھول گیا جو کچھ آگے بھیج چکے ہیں اس کے ہاتھ1 ہم نے ڈال دیے ہیں ان کے دلوں پر پردے کہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ہے بوجھ اور اگر تو ان کو بلائے راہ پر تو ہرگز نہ آئیں راہ پر اس وقت کبھی2

1 یعنی کبھی بھول کر بھی خیال نہ آیا کہ تکذیب حق اور استہزاء و تمسخر کا جو ذخیرہ آگے بھیج رہا ہے اس کی سزا کیا ہے۔ 2 یعنی ان کے جدال بالباطل اور استہزاء بالحق کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے اور کانوں میں ڈاٹ ٹھونک دی۔ اب نہ حق کو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں بالکل مسخ ہوگئے۔ پھر حق کی طرف متوجہ ہوں تو کیسے ہوں اور انجام کا خیال کریں تو کیسے کریں۔ ایسے بدبختوں کے راہ پر آنے کی کبھی توقع نہیں۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور تیرا رب بڑا بخشنے والا ہے رحمت والا اگر ان کو پکڑے ان کے کئے پر تو جلد ڈالے ان پر عذاب3 پر ان کے لیے ایک وعدہ ہے کہیں نہ پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ4

3 یعنی کرتوت تو ان کے ایسے کہ عذاب پہنچنے میں ایک گھنٹہ کی تاخیر نہ ہو، مگر حق تعالیٰ کا حلم و کرم فوراً تباہ کر ڈالنے سے مانع ہے، اپنی رحمت عامہ سے خاص حد تک درگزر فرماتا ہے اور سخت سے سخت مجرم کو موقع دیتا ہے کہ چاہے تو اب بھی توبہ کرلے پچھلی خطائیں بخشوالے۔ اور ایمان لا کر رحمت عظیمہ کا مستحق بن جائے۔ 4 یعنی یہ تاخیر عذاب ایک وقت معین تک ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی مجرم سزا کا وعدہ آنے سے پیشتر کہیں ادھر ادھر کھسک جائے۔ جب وقت آئے گا سب بندھے چلے آئیں گے، مجال نہیں کوئی روپوش ہو سکے۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ سب بستیاں ہیں جن کو ہم نے غارت کیا جب وہ ظالم ہوگئے اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ5

5 یعنی عاد وثمود کی بستیاں جن کے واقعات مشہور و معروف ہیں دیکھ لو جب ظلم کیے کس طرح اپنے وقت معین پر تباہ و برباد کردی گئیں۔ اسی طرح تم کو ڈرتے رہنا چاہیے کہ وقت آنے پر عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہ ملے گی۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان کو میں نہ ہٹوں گا جب تک نہ پہنچ جاؤں جہاں ملتے ہیں دو دریا یا چلا جاؤں قرنوں6

6 اوپر ذکر ہوا تھا کہ مغرور کافر مفلس مسلمانوں کو حقیر سمجھ کر آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ ان کو پاس نہ بٹھائیں تو ہم بیٹھیں۔ اسی پر دو شخصوں کی کہاوت سنائی، پھر دنیا کی مثال اور ابلیس کا کبرو غرور سے خراب ہونا بیان کیا۔ اب موسیٰ اور خضر کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ اللہ والے اگر سب سے افضل اور بہتر بھی ہوں تو اپنے آپ کو بہتر نہیں کہتے۔ اور کبھی بھول چوک سے کہہ گزریں تو حق تعالیٰ کی طرف سے تادیب و تنبیہ کی جاتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو نہایت موثر اور بیش بہا نصیحتیں فرما رہے تھے ایک شخص نے پوچھا۔ اے موسیٰ ! کیا روئے زمین پر آپ اپنے سے بڑا عالم کسی کو پاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہ جواب واقع میں صحیح تھا کیونکہ موسیٰ اولوالعزم پیغمبروں میں سے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے زمانہ میں اسرار شرعیہ کا علم ان سے زیادہ کس کو ہوسکتا تھا۔ لیکن حق تعالیٰ کو ان کے الفاظ پسند نہ آئے، گو مراد صحیح تھی۔ تاہم عنوان جواب کے عموم سے ظاہر ہوتا تھا کہ روئے زمین پر من کل الوجوہ اپنے کو اعلم الناس خیال کرتے ہیں۔ خدا کی مرضی یہ تھی کہ جواب کو اس کے علم محیط پر محمول کرتے۔ مثلاً یہ کہتے کہ اللہ کے مقرب و مقبول بندے بہت سے ہیں، سب کی خبر اسی کو ہے۔ تب وحی آئی کہ جس جگہ دو دریا ملے ہیں اس کے پاس ہمارا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے (دو دریا سے کون سے دریا مراد ہیں ؟ بعض نے کہا کہ بحر فارس اور بحر روم لیکن یہ دونوں ملتے نہیں۔ شاید ملاپ سے مراد قرب ہوگا یعنی جہاں دونوں کا فاصلہ کم سے کم رہ جائے۔ بعض افریقہ کے دو دریا مراد لیتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک " مجمع البحرین " وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر دجلہ اور فرات خلیج فارس میں گرتے ہیں۔ (واللہ اعلم) بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے درخواست کی کہ مجھے اس کا پورا پتہ نشان بتایا جائے تاکہ میں وہاں جا کر کچھ علمی استفادہ کروں۔ حکم ہوا کہ اس کی تلاش میں نکلو تو ایک مچھلی تل کر ساتھ رکھ لو، جہاں مچھلی گم ہو وہیں سمجھنا کہ وہ بندہ موجود ہے گویا " مجمع البحرین " سے جو ایک وسیع قطعہ مراد ہوسکتا تھا اس کی پوری تعیین کے لیے یہ علامت مقرر فرمائی دی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی ہدایت کے موافق اپنے خادم خاص حضرت یوشع کو ہمراہ لے کر سفر شروع کردیا۔ اور یوشع کو کہہ دیا کہ مچھلی کا خیال رکھنا۔ میں برابر سفر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ منزل مقصود پر پہنچ جاؤں۔ اگر فرض کرو برس اور قرن بھی گزر جائیں گے بدون مقصد حاصل کیے سفر سے نہ ہٹونگا۔ (تنبیہ) جوان سے مراد حضرت یوشع ہیں جو ابتداءً موسیٰ (علیہ السلام) کے خادم خاص تھے، پھر ان کے روبرو پیغمبر اور ان کے بعد خلیفہ ہوئے۔
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب پہنچے دونوں دریا کے ملاپ تک بھول گئے اپنی مچھلی پھر اس نے اپنی راہ کرلی دریا میں سرنگ بنا کر7

7 وہاں پہنچ کر ایک بڑے پتھر کے قریب جس کے نیچے آب حیات کا چشمہ جاری تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سو رہے۔ یوشع (علیہ السلام) نے دیکھا کہ بھنی ہوئی مچھلی باذن اللہ زندہ ہو کر زنبیل سے نکل پڑی اور عجیب طریقہ سے دریا میں سرنگ بناتی چلی گئی۔ وہاں پانی میں خدا کی قدرت سے ایک طاق سے کھلا رہ گیا۔ یوشع کو دیکھ کر تعجب آیا۔ چاہا کہ موسیٰ بیدار ہوں تو ان سے کہوں۔ وہ بیدار ہوئے تو دونوں آگے چل کھڑے ہوئے۔ یوشع نہ معلوم کن خیالات میں پڑ کر کہنا بھول گئے۔ روایات میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کو مچھلی کی خبر گیری کے لیے کہا تھا تو ان کی زبان سے نکلا کہ یہ کوئی بڑا کام نہیں۔ لہذا متنبہ کیا گیا کہ چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی آدمی کو محض اپنے نفس پر بھروسہ نہیں چاہیے۔
Ayah 18:62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب آگے چلے کہا موسیٰ نے اپنے جوان کو لا ہمارے پاس ہمارا کھانا ہم نے پائی اپنے اس سفر میں تکلیف8

8 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلے نہیں تھکے۔ جب مطلب چھوٹ رہا تھا اس وقت چلنے سے تکان محسوس کیا۔
Ayah 18:63

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

بولا وہ دیکھا تو نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ مجھ کو بھلا دیا شیطان ہی نے کہ اس کا ذکر کروں9 اور اس نے کرلیا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح

9 یعنی مطلب کی بات بھول جانا اور عین موقع یادداشت پر ذہول ہونا، شیطان کی وسوسہ اندازی سے ہوا۔
Ayah 18:64

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

کہا یہی ہے جو ہم چاہتے تھے پھر الٹے پھرے اپنے پیر پہچانتے1

1 غالباً راستہ بنا ہوا نہ ہوگا۔ اس لیے اپنے نقش قدم دیکھتے ہوئے الٹے پاؤں پھرے۔
Ayah 18:65

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

پھر پایا ایک بندہ ہمارے بندوں میں کہ جس کو دی تھی ہم نے رحمت اپنے پاس سے اور سکھلایا تھا اپنے پاس سے ایک علم2

2 وہ بندہ حضرت خضر (علیہ السلام) تھے۔ جن کو حق تعالیٰ نے رحمت خصوصی سے نوازا اور اسرار کونیہ کے علم سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ اس میں اختلاف ہے کہ حضرت خضر کو رسول مانا جائے یا نبی یا محض ولی کے درجہ میں رکھا جائے۔ ایسے مباحث کا فیصلہ یہاں نہیں ہوسکتا۔ تاہم احقر کا رجحان اسی طرف ہے کہ ان کو نبی تسلیم کیا جائے اور جیسا کہ بعض محققین کا خیال ہے کہ جو انبیاء جدید شریعت لے کر نہیں آتے ان کو بھی اتنا تصرف و اختیار عطاء ہوتا ہے کہ مصالح خصوصیہ کی بناء پر شریعت مستقلہ کے کسی عام کی تخصیص یا مطلق کی تقیید یا عام ضابطہ سے بعض جزئیات کا استثناء کرسکیں۔ اسی طرح جزئی تصرفات حضرت خضر کو بھی حاصل تھے، واللہ اعلم۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) خضر سے ملے۔ علیک سلیک کے بعد خضر نے پوچھا۔ موسیٰ نے آنے کا سبب بتلایا۔ خضر نے کہا اے موسیٰ ! بلاشبہ اللہ نے تمہاری تربیت فرمائی۔ پر بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ایک علم (جزئیات کونیہ کا) مجھ کو ملا ہے جو (اتنی مقدار میں) تم کو نہیں ملا۔ اور ایک علم (اسرار تشریع کا) تم کو دیا گیا ہے جو (اتنی بہتات سے) مجھ کو نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد ایک چڑیا دکھا کر جو دریا میں سے پانی پی رہی تھی، کہا کہ میرا، تمہارا بلکہ کل مخلوقات کا سارا علم اللہ کے علم میں سے اتنا ہے جتنا دریا کے پانی میں سے وہ قطرہ جو چڑیا کے منہ کو لگ گیا ہے (یہ بھی محض تفہیم کے لیے تھا ورنہ متناہی کو غیر متناہی سے قطرہ اور دریا کی نسبت بھی نہیں)
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

کہا اس کو موسیٰ نے کہے تو تیرے ساتھ رہوں اس بات پر کہ مجھ کو سکھلادے کچھ جو تجھ کو سکھلائی ہے بھلی راہ3

3 یعنی اجازت ہو تو چند روز آپ کے ہمراہ رہ کر اس مخصوص علم کا کچھ حصہ حاصل کروں۔
Ayahs 18:67–68

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

بولا تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور کیونکر ٹھہرے گا دیکھ کر ایسی چیز کو کہ تیرے قابو میں نہیں اس کا سمجھنا4

4 حضرت خضر نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مزاج وغیرہ کا اندازہ کر کے سمجھ لیا کہ میرے ساتھ ان کا نباہ نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ وہ مامور تھے کہ واقعات کونیہ کو جزئی علم پا کر اسی کے موافق عمل کریں اور موسیٰ (علیہ السلام) جن علوم کے حامل تھے ان کا تعلق تشریعی قوانین و کلیات سے تھا بنا بریں جن جزئیات میں عوارض و خصوصیات خاصہ کی وجہ سے بظاہر عام ضابطہ پر عمل نہ ہوگا حضرت موسیٰ اپنی معلومات کی بناء پر ضرور روک ٹوک کریں گے اور خاموشی کا مسلک دیر تک قائم نہ رکھ سکیں گے۔ آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ جدا ہونا پڑے گا۔
Ayah 18:69

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

کہا تو پائے گا اگر اللہ نے چاہا مجھ کو ٹھہرنے والا اور نہ ٹالوں گا تیرا کوئی حکم5

5 یہ وعدہ کرتے وقت غالباً موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا تصور بھی نہ ہوسکتا تھا کہ ایسے مقرب و مقبول بندہ سے کوئی ایسی حرکت دیکھنے میں آئے گی جو اعلانیہ ان کی شریعت بلکہ عام شرائع و اخلاق کے خلاف ہو۔ غنیمت ہوا کہ انہوں نے " انشاء اللہ " کہہ لیا تھا۔ ورنہ ایک قطعی وعدہ کی خلاف ورزی کرنا اولوا العزم پیغمبر کی شان کے لائق نہ ہوتا۔
Ayah 18:70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

بولا پھر اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھیو مجھ سے کوئی چیز جب تک میں شروع نہ کروں تیرے آگے اس کا ذکر6

6 یعنی کوئی بات اگر بظاہر ناحق نظر آئے تو مجھ سے فوراً باز پرس نہ کرنا، جب تک میں خود اپنی طرف سے کہنا شروع نہ کروں۔
Ayah 18:71

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب چڑھے کشتی میں اس کو پھاڑ ڈالا موسیٰ بولا کیا تو نے اس کو پھاڑ ڈالا کہ ڈبادے اس کے لوگوں کو البتہ تو نے کی ایک چیز بھاری7

7 جب اس کشتی پر چڑھنے لگے ناؤ والوں نے خضر کو پہچان کر مفت سوار کرلیا۔ اس احسان کے بدلہ یہ نقصان دیکھ کر موسیٰ کو اور زیادہ تعجب ہوا۔ لیکن کشتی پوری طرح کنارہ کے قریب پہنچ کر توڑی۔ لوگ ڈوبنے سے بچ گئے اور توڑنا یہ تھا کہ ایک تختہ نکال ڈالا۔ گویا عیب دار کردی۔
Ayahs 18:72–73

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

بولا میں نے نہ کہا تھا تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

کہا مجھ کو نہ پکڑ میری بھول پر اور مت ڈال مجھ پر میرا کام مشکل8

8 یعنی اگر بھول چوک پر بھی گرفت کرو گے تو میرا تمہارے ساتھ رہنا مشکل ہوجائے گا۔ یہ پہلا پوچھنا حضرت موسیٰ سے بھول کر ہوا۔ اور دوسرا اقرار کرنے کو اور تیسرا رخصت ہونے کو۔
Ayah 18:74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ملے ایک لڑکے سے تو اس کو مار ڈالا9 موسیٰ بولا کیا تو نے مار ڈالی ایک جان ستھری10 بغیر عوض کسی جان کے بیشک تو نے کی ایک چیز نامعقول11

9 ایک گاؤں کے قریب چند لڑکے کھیل رہے تھے، ان میں سے ایک کو جو زیادہ خوبصورت اور سیانا تھا پکڑ کر مار ڈالا۔ اور چل کھڑے ہوئے بعض روایات میں اس کا نام جیسور آیا ہے۔ وہ لڑکا بالغ تھا یا نہیں ؟ بعض کا قول ہے کہ بالغ تھا اور لفظ غلام عدم بلوغ پر دلالت نہیں کرتا۔ لیکن جمہور مفسرین اس کو نابالغ ہی بیان کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ 10 یعنی بےگناہ۔ جب تک لڑکا بالغ نہ ہو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ لفظ بظاہر اس کے نابالغ ہونے کی تائید کرتا ہے۔ اگرچہ دوسروں کے لیے تاویل کی گنجائش ہے۔ 11 یعنی اول تو نابالغ قصاص میں بھی قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر مزید یہ کہ یہاں قصاص کا بھی کوئی قصہ نہ تھا۔ پھر اس سے بڑھ کر معقول بات کون سی ہوگی۔
Ayah 18:75

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

بولا میں نے تجھ کو نہ کہا تھا کہ تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ1

1 کیونکہ ایسے حالات و واقعات دیکھنے میں آئیں گے جن پر تم خاموشی کے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے۔ آخر وہی ہوا۔
Ayah 18:76

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

کہا اگر تجھ سے پوچھیں کوئی چیز اس کے بعد تو مجھ کو ساتھ نہ رکھیو تو اتار چکا میری طرف سے الزام2

2 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اندازہ ہوگیا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے تحیر خیز حالات و واقعات کا چپ چاپ مشاہدہ کرتے رہنا بہت ٹیڑھی کھیر ہے۔ اس لیے آخری بات کہہ دی کہ اس مرتبہ اگر سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ایسا کرنے میں آپ معذور ہوں گے اور میری طرف سے کوئی الزام آپ پر عائد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تین مرتبہ موقع دے کر آپ حجت تمام کرچکے۔
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک گاؤں کے لوگوں تک کھانا چاہا وہاں کے لوگوں سے انہوں نے نہ مانا کہ ان کو مہمان رکھیں پھر پائی وہاں ایک دیوار جو گرا چاہتی تھی اس کو سیدھا کردیا3 بولا موسیٰ اگر تو چاہتا تو لے لیتا اس پر مزدوری4

3 یعنی ایک بستی میں پہنچ کر وہاں کے لوگوں سے ملے اور چاہا کہ بستی والے مہمان سمجھ کر کھانا کھلائیں۔ مگر یہ سعادت ان کی قسمت میں نہ تھی، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) و خضر (علیہ السلام) جیسے مقربین کی مہمانی سے انکار کردیا۔ یہ معاملہ دیکھ کر چاہیے تھا کہ ایسے تنگ دل اور بےمروت لوگوں پر غصہ آتا، مگر حضرت خضر (علیہ السلام) نے غصہ کے بجائے ان پر احسان کیا۔ بستی میں ایک بڑی بھاری دیوار جھکی ہوئی تھی قریب تھا کہ زمین پر آرہے، لوگ اس کے نیچے گزرتے ہوئے خوف کھاتے تھے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے ہاتھ لگا کر سیدھی کردی اور منہدم ہونے سے بچا لیا۔ (تنبیہ) حتی اذآ اتیآ اہل قریۃٍ میں اہل کا لفظ شاید اس لیے لائے کہ بستی میں ان کا آنامحض مروروعبور کے طور پر نہ تھا، نہ یہ صورت تھی کہ باشندگان شہر سے علیحدہ کسی سرائے وغیرہ میں جا اترے ہوں، بلکہ قصد کر کے شہر والوں سے ملے۔ اور اِسْتَطْعَمَآ اَہْلَہَا میں دوبارہ لفظ اہل کی تصریح ان کی مزید تقبیح کے لیے ہے یعنی جن سے مہمانی چاہی تھی وہ اہل قریہ تھے کوئی پردیسی مسافر نہ تھے جو یہ عذر کرسکیں کہ ہمارا گھر یہاں نہیں مہمانداری کیسے کریں۔ 4 یعنی بستی والوں نے مسافر کا حق نہ سمجھا کہ مہمانی کریں ان کی دیوار مفت بنا دینے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر کچھ معاوضہ لے کر دیوار سیدھی کرتے تو ہمارے کھانے پینے کا کام چلتا اور ان تنگ دل بخیلوں کو ایک طرح کی تنبیہ ہوجاتی، شاید اپنی بداخلاقی اور بےمروتی پر شرماتے۔
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

کہا اب جدائی ہے میرے اور تیرے بیچ اب جتائے دیتا ہوں تجھ کو پھیر ان باتوں کا جس پر تو صبر نہ کرسکا5

5 یعنی حسب و عدہ اب مجھ سے علیحدہ ہوجائیے، آپ کا نباہ میرے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ لیکن جدا ہونے سے پہلے چاہتا ہوں کہ ان واقعات کے پوشیدہ اسرار کھول دوں۔ جن کے چکر میں پڑ کر آپ صبر و ضبط کی شان قائم نہ رکھ سکے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اس مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جان کر پوچھا رخصت ہونے کو۔ سمجھ لیا کہ یہ علم میرے ڈھب کا نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا علم وہ تھا جس کی خلقت پیروی کرے تو ان کا بھلا ہو۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کا علم وہ تھا کہ دوسروں سے اس کی پیروی بن نہ آوے۔ "
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ جو کشتی تھی سو چند محتاجوں کی جو محنت کرتے تھے دریا میں6 سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور ان کے پرے تھا ایک بادشاہ جو لے لیتا تھا ہر کشتی کو چھین کر7

6 یعنی دریا میں محنت مزدوری کر کے پیٹ پالتے تھے۔ 7 یعنی جدھر کشتی جانے والی تھی اس طرف ایک ظالم بادشاہ جو اچھی کشتی دیکھتا چھین لیتا، یا بیگار میں پکڑ لیتا تھا میں نے چاہا کہ عیب دار کر دوں، تاکہ اس ظالم کی دستبرد سے محفوظ رہے اور ٹوٹی ہوئی خراب کشتی سمجھ کر کوئی تعرض نہ کرے۔ بعض آثار میں ہے کہ خطرہ کے مقام سے آگے نکل کر پھر حضرت خضر نے کشتی اپنے ہاتھ سے درست کردی۔
Ayah 18:80

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور جو لڑکا تھا سو اس کے ماں باپ تھے ایمان والے پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ ان کو عاجز کر دے زبر دستی اور کفر کر کر8

8 گو اصل فطرت سے ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے مگر آگے چل کر خارجی اثرات سے بچپن ہی میں بعض کی بنیاد بری پڑجاتی ہے جس کا پورا یقینی علم تو خدا تعالیٰ کو ہوتا ہے تاہم کچھ آثار اہل بصیرت کو بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ اس لڑکے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو آگاہ فرما دیا کہ اس کی بنیاد بری پڑی تھی۔ بڑا ہوتا تو موذی اور بدراہ ہوتا اور ماں باپ کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبتا۔ وہ اس کی محبت میں کافر بن جاتے، اس طرح لڑکے کا مارا جانا والدین کے حق میں رحمت اور ان کی حفاظت کا ذریعہ بن گیا۔ خدا کو منظور تھا کہ اس کے ماں باپ ایمان پر قائم رہیں، حکمت الٰہیہ ہوئی کہ آنے والی رکاوٹ ان کی راہ سے دور کردی جائے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ لڑکے کو قتل کردو۔ انہوں نے خدا کی وحی پا کر امتثال امر کیا۔ اب یہ سوال کرنا کہ لڑکے کو پیدا ہی نہ کرتے یا کرتے تو اس کو اس قدر شریر نہ ہونے دیتے یا جہاں لاکھوں کافر دنیا میں موجود ہیں اس کے والدین کو بھی کافر بن جانے دیتے یا جن بچوں کی بنیاد ایسی پڑے کم ازکم پیغمبروں کو ان سب کی فہرست دے کر قتل کرا دیا کرتے۔ ان باتوں کا اجمالی جواب تو یہ ہے (لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :23) اور تفصیلی جواب کے لیے مسئلہ " خلق خیر وشر " پر مبسوط کلام کرنے کی ضرورت ہے جو ان مختصر فوائد میں سما نہیں سکتا۔ ہاں اتنا یاد رہے کہ دنیا میں ہر شخص سے جو اللہ کو " خالق الکل " اور " علیم " و " خبیر " مانتا ہو۔ تکوینیات کے متعلق اسی قسم کے ہزاروں سوالات کیے جاسکتے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس بجز اعتراف عجزو قصور کے کچھ نہیں۔ یہاں خضر کے ذریعہ سے اسی کا ایک نمونہ دکھلانا تھا کہ خدا تعالیٰ کی حکمتوں اور مصالح تکوینیہ کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ کبھی صورت واقعہ بظاہر دیکھنے میں خراب اور قبیح یا بےموقع معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جسے واقعہ کی اندرونی گہرائیوں کا علم ہو وہ سمجھتا ہے کہ اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے مسکینوں کی کشتی کا تختہ توڑ دیا، حالانکہ انہوں نے احسان کیا تھا کہ بلا اجرت دونوں کو سوار کرلیا۔ ایک کھیلتے ہوئے بچہ کو مار ڈالا جو بظاہر نہایت قبیح حرکت نظر آتی تھی۔ دیوار سیدھی کر کے اس بستی والوں پر احسان کیا جو نہایت بےمروتی سے پیش آئے تھے۔ اگر حضرت خضر (علیہ السلام) آخر میں اپنے ان افعال کی توجیہات بیان نہ کرتے تو ساری دنیا آج تک ورطہ حیرت میں پڑی رہتی، یا خضر (علیہ السلام) کو ہدف طعن وتشنیع بنائے رکھتی۔ (العیاذ باللہ) ان ہی مثالوں سے حق تعالیٰ کے افعال اور ان کی حکمتوں کا اندازہ کرلو۔