Ayah 17:8114 یہ عظیم الشان پیشگوئی مکہ میں کی گئی جہاں بظاہر کوئی سامان غلبہ حق کا نہ تھا۔ یعنی کہہ دو قرآن کریم مومنین کو بشارتیں سناتا ہوا اور باطل کو کچلتا ہوا آپہنچا۔ بس سمجھ لو کہ اب دین حق غالب ہوا اور کفر بھاگا۔ نہ صرف مکہ سے بلکہ سارے عرب سے۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اس وقت کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ ایک چھڑی سے سب پر ضرب لگاتے اور فرماتے تھے۔ (جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) 17 ۔ الاسراء :81) ۔ (جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ ) 34 ۔ سبأ :49) ہر ایک اوندھے منہ گر جاتا تھا۔ اس طرح قرآن کی ایک پیشگوئی پوری ہوئی اور دوسری کا اعلان کیا گیا کہ جو کفر کعبہ سے نکل بھاگا ہے آئندہ کبھی واپس نہ آئے گا۔ والحمد للہ علیٰ ذلک۔
Ayah 17:8215 یعنی جس طرح حق کے آنے سے باطل بھاگ جاتا ہے، قرآن کی آیات سے جو بتدریج اترتی رہتی ہیں روحانی بیماریاں دور ہوتی ہیں، دلوں سے عقائد باطلہ، اخلاق ذمیمہ اور شکوک و شبہات کے روگ مٹ کر صحت باطنی حاصل ہوتی ہے۔ بلکہ بسا اوقات اس کی مبارک تاثیر سے بدنی صحت بھی حاصل کی جاتی ہے جیسا کہ " روح المعانی " اور " زادالمعاد " وغیرہ میں اس کا فلسفہ اور تجربہ بیان کیا گیا ہے۔ بہرحال جو لوگ ایمان لائیں یعنی اس نسخہ شفا کو استعمال کریں گے، تمام قلبی و روحانی امراض سے نجات پا کر خدا تعالیٰ کی رحمت خصوصی اور ظاہری و باطنی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔ ہاں جو مریض اپنی جان کا دشمن طبیب اور علاج سے دشمنی ہی کی ٹھان لے تو ظاہر ہے کہ جس قدر علاج و دوا سے نفرت کر کے دور بھاگے گا اسی قدر نقصان اٹھائے گا۔ کیونکہ مرض امتداد زمانہ سے مہلک ہوتا جائے گا جو آخر جان لے کر چھوڑے گا۔ تو یہ آفت قرآن کی طرف سے نہیں، خود مریض ظالم کی طرف سے آئی کما قال تعالیٰ ۔ (وَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْھُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَمَاتُوْا وَھُمْ كٰفِرُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :125)
Ayah 17:831 یعنی انسان کا عجیب حال ہے خدا تعالیٰ اپنے فضل سے نعمتیں دیتا ہے تو احسان نہیں مانتا۔ جتنا عیش و آرام ملے اسی قدر منعم حقیقی کی طرف سے اس کی غفلت و اعراض بڑھتا ہے اور فرائض بندگی سے پہلو بچا کر کھسکنا چاہتا ہے۔ پھر جب سخت اور برا وقت آیا تو ایک دم آس توڑ کر اور ناامید ہو کر بیٹھ رہتا ہے۔ گویا دونوں حالتوں میں خدا سے بےتعلق رہا۔ کبھی غفلت کی بناء پر، کبھی مایوسی کی (نعوذ باللہ من کلا الحالین) ۔ یہ مضمون غالباً اس لیے بیان فرمایا کہ قرآن جو سب سے بڑی نعمت الٰہی ہے، بہت لوگ اس کی قدر نہیں پہچانتے بلکہ اس کے ماننے سے اعراض و پہلو تہی کرتے ہیں۔ پھر جب اس کفران نعمت اور اعراض و انکار کا برا نتیجہ سامنے آئے گا اس وقت قطعاً مایوسی ہوگی کسی طرف امید کی جھلک نظر نہ پڑے گی۔
Ayah 17:842 یعنی ہر ایک کافر و مومن اور معرض و مقبل اپنے اپنے طریقے، نیت، طبیعت اور مذہب پر چلتا اور اسی میں مگن رہتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ خدا کے علم محیط سے کسی شخص کا کوئی عمل باہر نہیں ہوسکتا وہ ہر ایک کے طریق عمل اور حرکات و سکنات کو برابر دیکھ رہا ہے اور بخوبی جانتا ہے کہ کون کتنا سیدھا چلتا ہے اور کس میں کس قدر کجروی اور کجراہی ہے ہر ایک کے ساتھ اسی کے موافق برتاؤ کرے گا۔
Ayah 17:853 یعنی روح انسانی کیا چیز ہے ؟ اس کی ماہیت و حقیقت کیا ہے ؟ یہ سوال صحیحین کی روایت کے موافق یہود مدینہ نے آنحضرت ﷺ کے آزمانے کو کیا تھا۔ اور سیر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں قریش نے یہود کے مشورہ سے یہ سوال کیا۔ اسی لیے آیت کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے، ممکن ہے نزول مکرر ہوا ہو واللہ اعلم۔ یہاں اس سوال کے درج کرنے سے غالباً یہ مقصود ہوگا کہ جن چیزوں کے سمجھنے کی ان لوگوں کو ضرورت ہے ادھر سے تو اعراض کرتے ہیں اور غیر ضروری مسائل میں از راہ تعنت وعناد جھگڑتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس کی تھی کہ وحی قرآنی کی روح سے باطنی زندگی حاصل کرتے اور اس نسخہ شفا سے فائدہ اٹھاتے (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا) 42 ۔ الشوری :52) (يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ) 16 ۔ النحل :2) مگر انھیں دور از کار اور معاندانہ بحثوں سے فرصت کہاں۔ " روح " کیا ہے ؟ جوہر ہے یا عرض ؟ مادی ہے یا مجرد ؟ بسیط ہے یا مرکب ؟ اس قسم کے غامض اور بےضرورت مسائل کے سمجھنے پر نہ نجات موقوف ہے نہ یہ بحثیں انبیاء کے فرائض تبلیغ سے تعلق رکھتی ہیں۔ بڑے بڑے حکماء اور فلاسفہ آج تک خود " مادہ " کی حقیقت پر مطلع نہ ہو سکے " روح " جو بہرحال " مادہ " سے کہیں زیادہ لطیف و خفی ہے اس کی اصل ماہیت وکنہ تک پہنچے کی پھر کیا امید کی جاسکتی ہے۔ مشرکین مکہ کی جہالات اور یہود مدینہ کی اسرائیلیات کا مطالعہ کرنے والوں کو معلوم ہے کہ جو قوم موٹی موٹی باتوں اور نہایت واضح حقائق کو نہیں سمجھ سکتی، وہ روح کی حقائق پر دسترس پانے کی کیا خاک استعداد و اہلیت رکھتی ہوگی ؟
توکار زمین را نکو ساختی کہ باآسماں نیز پرداختی
4 موضح القرآن میں ہے کہ " حضرت کے آزمانے کو یہود نے پوچھا، سو اللہ نے (کھول کر) نہ بتایا کیونکہ ان کو سمجھنے کا حوصلہ نہ تھا۔ آگے پیغمبروں نے بھی مخلوق سے ایسی باتیں نہیں کیں۔ اتنا جاننا کافی ہے کہ اللہ کے حکم سے ایک چیز بدن میں آپڑی، وہ جی اٹھا، جب نکل گئی مرگیا "
(تنبیہ) حق تعالیٰ کا کلام اپنے اندر عجیب و غریب اعجاز رکھتا ہے۔ روح کے متعلق یہاں پر جو کچھ فرمایا اس کا سطحی مضمون عوام اور قاصر الفہم یا کجرو معاندین کے لیے کافی ہے۔ لیکن اسی سطح کے نیچے، ان ہی مختصر الفاظ کی تہ میں روح کے متعلق وہ بصیرت افروز حقائق مستور ہیں جو بڑے سے بڑے عالی دماغ نکتہ بیں فلسفی اور ایک عارف کامل کی راہ طلب و تحقیق میں چراغ ہدایت کا کام دیتے ہیں روح کے متعلق عہد قدیم سے جو سلسلہ تحقیقات کا جاری ہے وہ آج تک ختم نہیں ہوا، اور نہ شاید ہو سکے۔ روح کی اصلی کنہ و حقیقت تک پہنچنے کا دعویٰ تو بہت ہی مشکل ہے۔ کیونکہ ابھی تک کتنی ہی محسوسات ہیں جن کی کنہ و حقیقت معلوم کرنے سے ہم عاجز رہے ہیں تاہم میرے نزدیک آیت قرآنیہ سے روح کے متعلق ان چند نظریات پر صاف روشنی پڑتی ہے۔ (1) انسان میں اس مادی جسم کے علاوہ کوئی اور چیز موجود ہے جسے " روح " کہتے ہیں، وہ " عالم امر " کی چیز ہے اور خدا کے حکم و ارادہ سے فائض ہوتی ہے۔ ( قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ ) 17 ۔ الاسراء :85) ۔ (ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ) 3 ۔ آل عمران :59) (ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ) 23 ۔ المؤمنون :14) (اِنَّمَا قَوْلُــنَا لِشَيْءٍ اِذَآ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ) 16 ۔ النحل :40) روح کی صفات علم و شعور وغیرہ بتدریج کمال کو پہنچتی ہیں اور ارواح میں حصول کمال کے اعتبار سے بیحد تفاوت و فرق مراتب ہے۔ حتی کہ خدا تعالیٰ کی تربیت سے ایک روح ایسے بلند اور اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں دوسری ارواح کی قطعا رسائی نہ ہو سکے، جیسے روح محمدی پہنچی۔ یشِیر الیہ اضافۃ الامر الی الرب والرب الی یاء المتکلم المراد بہ ہہنا محمد وقولہ، تعالیٰ فیما بعد (قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ ) 17 ۔ الاسراء :88) (3) مگر اس کے یہ کمالات ذاتی نہیں۔ وہاب حقیقی کے عطا کیے ہوئے ہیں اور محدود ہیں۔ یدل علیہ قولہ ' تعالیٰ (وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :85) فان العلم قداتاہ من مفیض آخر و ہو قلیل فی جنب علم اللہ تعالیٰ کما قال تعالیٰ (قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ ) 18 ۔ الکہف :109) (وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ ) 31 ۔ لقمان :27) ویدل علیٰ تحدید القدرۃ قولہ ' تعالیٰ فیما بعد ردا لقولہم (حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا) 17 ۔ الاسراء :90) (قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) 17 ۔ الاسراء :93) روح انسانی خواہ علم وقدرت وغیرہ صفات میں کتنی ہی ترقی کر جائے حتی کہ اپنے تمام ہم جنسوں سے سبقت لے جائے، پھر بھی اس کی صفات محدود رہتی ہیں، صفات باری کی طرح لامحدود نہیں ہوجاتیں اور یہ ہی بڑی دلیل اس کی ہے کہ آریوں کے عقیدہ کے موافق روح خدا سے علیحدہ کوئی قدیم وغیر مخلوق ہستی نہیں ہوسکتی ورنہ تحدید کہاں سے آئی۔ (4) کتنی ہی بڑی کامل روح ہو، حق تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ جس وقت چاہے اس سے کمالات سلب کرلے۔ گو اس کے فضل و رحمت سے کبھی ایسا کرنے کی نوبت نہ آئے۔ یدل علیہ قولہ تعالیٰ (وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا 86ۙ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا 87) 17 ۔ الاسراء :87-86) یہ چند اصول جو ہم نے بیان کیے اہل فہم کو نسق آیات میں ادنیٰ تأمل کرنے سے معلوم ہوسکتے ہیں۔ صرف ایک " عالم امر " کا لفظ ہے جس کی مناسب تشریح ضروری ہے اور جس کے سمجھنے سے امید ہے روح کی معرفت حاصل کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ لفظ " امر " قرآن کریم میں بیسیوں جگہ آیا اور اس کے معنی کی تعیین میں علماء نے کافی کلام کیا ہے لیکن میری غرض اس وقت سورة " اعراف " کی آیت (ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ) 7 ۔ الاعراف :54) کی طرف توجہ دلانا ہے جہاں " امر " کو " خلق " کے مقابل رکھا ہے جس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خدا کے یہاں دونوں بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں ایک " خلق " دوسرا " امر " دونوں میں کیا فرق ہے ؟ اس کو ہم سیاق آیات سے بسہولت سمجھ سکتے ہیں۔ پہلے فرمایا۔ (اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ) 7 ۔ الاعراف :54) یہ تو " خلق " ہوا۔ درمیان میں " استواء علی العرش " کا ذکر کر کے جو شان حکمرانی کو ظاہر کرتا ہے فرمایا۔ (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ) 7 ۔ الاعراف :54) یعنی ان مخلوقات کو ایک معین و محکم نظام پر چلاتے رہنا جسے تدبیر و تصریف کہہ سکتے ہیں۔ یہ " امر " ہوا۔ (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 65 ۔ الطلاق :12) گویا دنیا کی مثال ایک بڑے کارخانہ کی سمجھو جس میں مختلف قسم کی مشینیں لگی ہوں۔ کوئی کپڑا بن رہی ہے کوئی آٹا پیس رہی ہے کوئی کتاب چھاپتی ہے کوئی شہر میں روشنی پہنچا رہی ہے۔ کسی سے پنکھے چل رہے ہیں وغیر ذالک۔ ہر ایک مشین میں بہت سے کل پرزے ہیں جو مشین کی غرض وغایت کا لحاظ کر کے ایک معین اندازے سے ڈھالے جاتے اور لگائے جاتے ہیں۔ پھر سب پرزے جوڑ کر مشین کو فٹ کیا جاتا ہے۔ جب تمام مشینیں فٹ ہو کر کھڑی ہوجاتی ہیں، تب الیکٹرک (بجلی) کے خزانہ سے ہر مشین کی طرف جدا جدا راستہ سے کرنٹ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ آن واحد میں ساکن و خاموش مشینیں اپنی اپنی ساخت کے موافق گھومنے اور کام کرنے لگ جاتی ہیں۔ بجلی ہر مشین اور ہر پرزہ کو اس کی مخصوص ساخت اور غرض کے مطابق گھماتی ہے۔ حتی کہ جو قلیل و کثیر کہربائیہ روشنی کے لیمپوں اور قمقموں میں پہنچتی ہے، وہاں پہنچ کر ان ہی قمقموں کی ہیئات اور رنگ اختیار کرلیتی ہے۔ اس مثال میں یہ بات واضح ہوگئی کہ مشین کا ڈھانچہ تیار کرنا، اس کے کل پرزوں کا ٹھیک اندازہ پر رکھنا، پھر فٹ کرنا، ایک سلسلہ کے کام ہیں۔ جس کی تکمیل کے بعد مشین کو چالو کرنے کے لیے ایک دوسری چیز (بجلی یا اسٹیم) اس کے خزانے سے لانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سمجھ لو حق تعالیٰ نے اول آسمان و زمین کی تمام مشینیں بنائیں جس کو " خلق " کہتے ہیں، ہر چھوٹا بڑا پرزہ ٹھیک اندازہ کے موافق تیار کیا جسے " تقدیر " کہا گیا۔ " قدرہ تقدیرًا " سب کل پرزوں کو جوڑ کر مشین کو فٹ کیا جسے " تصویر " کہتے ہیں۔ " خلقناکم ثم صورنا کم " (اعراف، رکوع 2) یہ سب افعال خلق کی مد میں تھے۔ اب ضرورت تھی کہ جس مشین کو جس کام میں لگانا ہے لگا دیا جائے۔ آخر مشین کو چالو کرنے کے لیے " امر الٰہی " کی بجلی چھوڑ دی گئی۔ شاید اس کا تعلق اسم " باری " سے ہے۔ (الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ) 59 ۔ الحشر :24) وفی الحدیث " فَلَقَ الْحَبَّۃَ وَبَرَاَ النَّسَمَۃَ " وفی سورة الحدید " مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاہَا " ای النفوس کماہو مروی عن ابن عباس و قتادۃ والحسن۔ غرض ادھر سے حکم ہوا " چل " فوراً چلنے لگی۔ اسی " امر الٰہی " کو فرمایا (اِنَّمَآ اَمْرُهٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَـيْـــــًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ) 36 ۔ یس :82) دوسری جگہ نہایت وضاحت کے ساتھ امر " کن " کو خلق جسد پر مرتب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ (خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ) 3 ۔ آل عمران :59) بلکہ تتبع سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں " کُنْ فَیَکُوْنُ " کا مضمون جتنے مواضع میں آیا عموماً خلق و ابداع کے ذکر کے بعد آیا ہے۔ جس سے خیال گزرتا ہے کہ کلمہ " کُن " کا خطاب " خلق " کے بعد تدبیر و تصریف وغیرہ کے لیے ہوتا ہوگا۔ واللہ اعلم۔ بہرحال میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں " امر " کے معنی " حکم " کے ہیں اور وہ حکم یہ ہی ہے جسے لفظ " کن " سے تعبیر کیا گیا۔ اور " کن " جنس کلام سے ہے جو حق تعالیٰ کی صفت قدیمہ ہے۔ جس طرح ہم اس کی تمامی صفات (مثلاً حیات، سمع، بصر وغیرہ) کو بلا کیف تسلیم کرتے ہیں، کلام اللہ وکلمۃ اللہ کے متعلق بھی یہ ہی مسلک رکھنا چاہیے۔ خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ " روح " کے ساتھ اکثر جگہ قرآن میں امر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مثلاً " قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّی۔ (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا) 42 ۔ الشوری :52) ۔ (يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِه) 40 ۔ غافر :15) ۔ (يُنَزِّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ بالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖٓ) 16 ۔ النحل :2) ۔ " اور پہلے گزر چکا کہ " امر " عبارت ہے کلمہ " کن " سے یعنی وہ کلام انشائی جس سے مخلوقات کی تدبیر و تصریف اس طریقہ پر کی جائے جس پر غرض ایجاد وتکوین مرتب ہو۔ لہذا ثابت ہوا کہ " روح " کا مبدأ حق تعالیٰ کی صفت کلام ہے جو صفت علم کے ماتحت ہے۔ شاید اسی لیے (وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ ) 15 ۔ الحجر :29) میں اسے اپنی طرف منسوب کیا " کلام " اور " امر " کی نسبت متکلم اور آمر سے " صادر " و " مصدور " کی ہوتی ہے۔ " مخلوق " و " خالق " کی نہیں ہوتی۔ اسی لیے (ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ) 7 ۔ الاعراف :54) میں " امر " کو " خلق " کے مقابل رکھا۔ ہاں یہ امر " کن " باری تعالیٰ شانہ سے صادر ہو کر ممکن ہے جو ہر مجرد کے لباس میں یا ایک " ملک اکبر " اور " روح اعظم " کی صورت میں ظہور پکڑے۔ جس کا ذکر بعض آثار میں ہوا ہے اور جسے ہم " کہربائیہ روحیہ " کا خزانہ کہہ سکتے ہیں۔ گویا یہیں سے روح حیات کی لہریں دنیا کی ذوی الارواح پر تقسیم کی جاتی ہیں اور اَلْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَۃٌ الخ کے بیشمار تاروں کا یہیں کنکشن ہوتا ہے۔ اب جو کرنٹ چھوٹی بڑی بیشمار مشینوں کی طرف چھوڑا جاتا ہے وہ مشین سے اس کی بناوٹ اور استعداد کے موافق کام لیتا اور اس کی ساخت کے مناسب حرکت دیتا ہے بلکہ جن لیمپوں اور قمقموں میں یہ بجلی پہنچتی ہے ان ہی کے مناسب رنگ و ہیئت اختیار کرلیتی ہے۔ رہی یہ بات کہ " کن " کا حکم جو قسم کلام سے ہے، جو ہر مجرد یا جسم نورانی لطیف کی شکل کیونکر اختیار کرسکتا ہے۔ اسے یوں سمجھ لو کہ تمام عقلاء اس پر متفق ہیں کہ ہم خواب میں جو اشکال و صور دیکھتے ہیں، بعض اوقات وہ محض ہمارے خیالات ہوتے ہیں جو دریا، پہاڑ، شیر، بھیڑیے وغیرہ کی شکلوں میں نظر آتے ہیں۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ خیالات جو اعراض ہیں اور دماغ کے ساتھ قائم ہیں وہ جواہر و اجسام کیونکر بن گئے اور کس طرح ان میں اجسام کے لوازم و خواص پیدا ہوگئے۔ یہاں تک کہ بعض دفعہ خواب دیکھنے والے سے بیدار ہونے کے بعد بھی ان کے آثار جدا نہیں ہوتے۔ فی الحقیقت خدا تعالیٰ نے ہر انسان کو خواب کے ذریعہ سے بڑی بھاری ہدایت کی ہے کہ جب ایک آدمی کی قوت مصورہ میں اس نے اس قدر طاقت رکھی ہے کہ وہ اپنی بساط کے موافق غیر مجسم خیالات کو جسمی سانچہ میں ڈھال لے اور ان میں وہ ہی خواص و آثار باذن اللہ پیدا کرے جو عالم بیداری میں اجسام سے وابستہ تھے۔ پھر تماشہ یہ ہے کہ وہ خیالات خواب دیکھنے والے کے دماغ سے ایک منٹ کو علیحدہ بھی نہیں ہوئے۔ ان کا ذہنی وجود بدستور قائم ہے تو کیا اس حقیر سے نمونہ کو دیکھ کر ہم اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ ممکن ہے قادر مطلق اور مصور برحق جل و علا کا امر بیکیف (کن) باوجود صفت قائمہ بذاتہ تعالیٰ ہونے کے کسی ایک یا متعدد صورتوں میں جلوہ گر ہوجائے۔ ان صورتوں کو ہم ارواح یا فرشتے یا کسی اور نام سے پکاریں۔ وہ ارواح و ملائکہ وغیرہ سب حادث ہوں اور " امر الٰہی " بحالہ قدیم رہے۔ امکان و حدوث کے آثار و احکام ارواح وغیرہ تک محدود رہیں اور " امرِ الٰہی " ان سے پاک و برتر ہو۔ جیسے جو صورت خیالیہ بحالت خواب آگ کی صورت میں نظر آتی ہے اس صورت ناریہ میں احراق، سوزش، گرمی وغیرہ سب آثار ہم محسوس کرتے ہیں حالانکہ اسی آگ کا تصور سالہا سال بھی دماغوں میں رہے تو ہمیں ایک سیکنڈ کے لیے یہ آثار محسوس نہیں ہوتے۔ پس کوئی شبہ نہیں کہ روح انسانی (خواہ جوہر مجرد ہو یا جسم لطیف نورانی) " امرربی " کا مظہر ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ مظہر کے سب احکام و آثار ظاہر پر جاری ہوں کما ہوالظاہر۔ واضح رہے کہ جو کچھ ہم نے لکھا اور جو کچھ مثالیں پیش کیں ان سے مقصود محض تسہیل و تقریب الی الفہم ہے۔ ورنہ ایسی کوئی مثال دستیاب نہیں ہوسکتی جو ان حقائق غیبیہ پر پوری طرح منطبق ہو۔
اے بروں ازوہم وقال وقیل من
خاک بر فرق من و تمثیل من
رہا یہ مسئلہ کہ روح جوہر مجرد ہے جیسا کہ اکثر حکمائے قدیم اور صوفیہ کا مذہب ہے یا جسم نورانی لطیف جیسا کہ جمہور اہل حدیث وغیرہ کی رائے ہے۔ اس میں میرے نزدیک قول فیصل وہی ہے جو بقیۃ السلف بحرالعلوم علامہ سید انور شاہ صاحب اطال اللہ بقاء نے فرمایا کہ بالفاظ عارف جامی یہاں تین چیزیں ہیں (1) وہ جواہر جن میں مادہ اور کمیت دونوں ہوں جیسے ہمارے ابدان مادیہ (2) جواہر جن میں مادہ نہیں صرف کمیت ہے جنہیں صوفیہ اجسام مثالیہ کہتے ہیں (3) وہ جواہر جو مادہ اور کمیت دونوں سے خالی ہوں جن کو صوفیہ " ارواح " یا حکماء جواہر مجردہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ جمہور اہل شرع جس کو " روح " کہتے ہیں وہ صوفیہ کے نزدیک " بدن مثالی " سے موسوم ہے جو بدن مادی میں حلول کرتا ہے۔ اور بدن مادی کی طرح آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ اعضاء رکھتا ہے۔ یہ روح بدن مادی سے کبھی جدا ہوجاتی ہے اور اس جدائی کی حالت میں بھی ایک طرح کا مجہول الکیفیت علاقہ بدن کے ساتھ قائم رکھ سکتی ہے جس سے بدن پر حالت موت طاری ہونے نہیں پاتی۔ گویا حضرت علی کرم اللہ وجہہ ' کے قول کے موافق جو بغوی نے (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا) 39 ۔ الزمر :42) کی تفسیر میں نقل کیا، اس وقت روح خود علیحدہ رہتی ہے مگر اس کی شعاع جسد میں پہنچ کر بقائے حیات کا سبب بنتی ہے۔ جیسے آفتاب لاکھوں میل سے بذریعہ شعاعوں کے زمین کو گرم رکھتا ہے۔ یا جیسے آج ہی میں نے ایک اخبار میں ایک تار پڑھا کہ " حال ہی میں فرانس کے محکمہ پرواز نے ہوابازوں کے بغیر طیارے چلا کر خفیہ تجربے کیے ہیں اور تعجب انگیز نتائج رونما ہوئے ہیں۔ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ حال میں ایک خاص بم پھینکنے والا طیارہ بھیجا گیا تھا۔ جس میں کوئی شخص سوار نہ تھا۔ لیکن لاسلکی کے ذریعہ سے وہ منزل مقصود پر پہنچایا گیا۔ اس طیارہ میں بم بھر کر وہاں گرائے گئے اور پھر وہ مرکز میں واپس لایا گیا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لاسلکی کے ذریعہ سے ہوائی جہاز نے خود بخود جو کام کیا وہ ایسا مکمل ہے جیسا کسی ہواباز کی مدد سے عمل میں آتا۔ " آج کل یورپ میں جو سوسائٹیاں روح کی تحقیقات کر رہی ہیں انہوں نے بعض ایسے مشاہدات بیان کیے ہیں کہ ایک روح جسم سے علیحدہ تھی، اور روح کی ٹانگ پر حملہ کرنے کا اثر جسم مادی کی ٹانگ پر ظاہر ہوا۔ بہرحال اہل شرع جو روح ثابت کرتے ہیں صوفیہ کو اس کا انکار نہیں بلکہ وہ اس کے اوپر ایک اور روح مجرد مانتے ہیں جس میں کوئی استحالہ نہیں بلکہ اگر اس روح مجرد کی بھی کوئی اور روح ہو اور آخر میں کثرت کا سارا سلسلہ سمٹ کر " امر ربی " کی وحدت پر منتہی ہوجائے تو انکار کی ضرورت نہیں۔ شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ نے " منطق الطیر " میں کیا خوب فرمایا
ہم زجملہ بیش وہم پیش ازہمہ
جملہ ازخود دیدہ و خویش ازہمہ
جاں نہاں در جسم و او در جاں نہاں
اے نہاں اندر نہاں اے جان جاں
مذکورہ بالا تقریر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر چیز میں جو " کن " کی مخاطب ہوئی، روح حیات پائی جائے۔ بیشک میں یہ ہی سمجھتا ہوں کہ ہر مخلوق کی ہر ایک نوع کو اس کی استعداد کے موافق قوی یا ضعیف زندگی ملی ہے یعنی جس کام کے لیے وہ چیز پیدا کی گئی، ڈھانچہ تیار کر کے اس کو حکم دینا " کن " (اس کام میں لگ جا) بس یہ ہی اس کی روح حیات ہے جب تک اور جس حد تک یہ اپنی غرض ایجاد کو پورا کرے گی اسی حد تک زندہ سمجھی جائے گی۔ اور جس قدر اس سے بعید ہو کر معطل ہوتی جائے گی اسی قدر موت سے نزدیک یا مردہ کہلائے گی۔ ہذا ماعندی وعندالناس ماعند ہم واللّٰہ سجانہ، وتعالیٰ ہو الملہم للصواب۔
5 یعنی قرآن کا جو علم تم کو دیا ہے خدا چاہے تو ذرا سی دیر میں چھین لے پھر کوئی واپس نہ لاسکے۔ لیکن اس کی مہربانی آپ پر بہت بڑی ہے اسی لیے یہ نعمت عظمیٰ عنایت فرمائی، اور چھیننے کی کوئی وجہ نہیں۔ صرف قدرت عظیمہ کا اظہار مقصود ہے اور یہ کہ کیسی ہی کامل روح ہو اس کے سبب کمالات موہوب و مستعار ہیں ذاتی نہیں۔
6 اعجاز قرآن کے متعلق پہلے متعدد مواضع میں کلام کیا جا چکا ہے
Ayahs 17:86–877 یعنی ان کی خیر خواہی کے لیے عجیب و غریب مضامین بار بار مختلف پیرایوں میں قسم قسم کے عنوانوں سے بیان کیے جاتے ہیں۔ لیکن اکثر احمقوں کو اس کی قدر نہیں بجائے احسان ماننے کے ناشکری پر تلے ہوئے ہیں۔
Ayah 17:888 یعنی مکہ کی سرزمین سے۔ قرآن کے اعجاز سے عاجز ہو کر ایسی دور ازکار فرمائشیں کرنے لگتے ہیں۔ غرض استفادہ و انتفاع مقصود نہ تھا محض تعنت وعناد سے کام تھا۔
Ayahs 17:89–921 یہ اس کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ (ۭاِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ ) 34 ۔ سبأء :9)
2 یعنی معاذ اللہ خدا خود ہمارے سامنے آکر کہہ دے اور فرشتے کھلم کھلا شہادت دیں کہ تم سچے ہو۔
Ayah 17:933 یعنی سونے کا نہ ہو تو کم ازکم سونے کا ملمع ہو۔
4 یعنی جیسے آپ معراج کا ذکر کرتے ہیں ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیے پھر وہاں سے ایک کتاب لکھی ہوئی لے کر آئیے جسے ہم خود پڑھ سکیں اور سمجھ سکیں۔
5 جیسے پہلے پیغمبر آئے اور وہ آدمی تھی۔ کسی پیغمبر کو خدائی کے اختیارات حاصل نہیں نہ اس کی یہ شان ہے کہ اپنے رب سے ایسی بےضرورت فرمائشیں کرے۔ ان کا کام یہ ہے کہ جو ادھر سے ملے پہنچادیں اور اپنے ہر ایک کام کو خدائے واحد کے سپرد کردیں۔ سو میں اپنا فرض رسالت ادا کر رہا ہوں۔ فرمائشی نشان دکھلانے یا نہ دکھلانے اس کی حکمت بالغہ پر محمول ہیں اور پہلے اسی سورت میں فرمائشی نشانات دکھلانے کی بعض حکمتیں گزر چکی ہیں۔
Ayah 17:946 یعنی نور ہدایت پہنچنے کے بعد آنکھیں نہ کھلیں یہ ہی کہتے رہے کہ آدمی ہو کر رسول کیسے ہوسکتا ہے۔ اگر خدا کو پیغمبر بھیجنا تھا تو آسمان سے کوئی فرشتہ اتارتا۔
Ayah 17:957 یعنی اگر یہ زمین آدمیوں کے بجائے فرشتوں کی بستی ہوتی تو بیشک موزوں ہوتا کہ ہم فرشتہ کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔ آدمیوں کی طرف اگر فرشتہ اس کی اصلی صورت میں بھیجا جائے تو آنکھیں اور دل تحمل بھی نہ کرسکیں، فائدہ اٹھانا تو الگ رہا۔ اور آدمی کی صورت میں آئے تو اشتباہ میں پڑے رہیں اس کی تقریر سورة انعام کے پہلے رکوع میں گزر چکی۔
Ayah 17:968 وہ جو کہتے تھے (اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :92) یعنی خدا سامنے آکر تصدیق کر دے تب مانیں۔ تو فرمایا کہ خدا اب بھی اپنے فعل سے میری تصدیق کر رہا ہے۔ آخر وہ مجھ کو دیکھتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کر رہا ہوں اور میرے ظاہری و باطنی احوال سے پورا خبردار ہے۔ اس پر بھی میرے ہاتھ اور زبان پر برابر وہ علمی و عملی نشانات ظاہر فرماتا رہتا ہے۔ جو خارق عادت اور اس کے عام قانون قدرت سے کہیں بلندو برتر ہیں۔ میرے مقاصد کو یوماً فیوماً کامیاب اور وسیع الاثر بناتا ہے اور تکذیب کرنے والوں کو قدم قدم پر متنبہ کرتا ہے کہ اس رفتار سے تم فلاح نہیں پاسکتے کیا یہ خدا کی طرف سے کھلی ہوئی فعلی شہادت نہیں کہ میں اپنے دعوے میں سچا ہوں ؟ کیا ایک مفتری کے ساتھ ایسا معاملہ خدا کا ہوسکتا تھا ؟
Ayah 17:979 یعنی خدا کی توفیق و دستگیری ہی سے آدمی راہ حق پر چل کر منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ جس کی بدبختی اور تعنت کی وجہ سے خدا دستگیری نہ فرمائے اسے کون ہے جو ٹھیک راستہ پر لگا سکے۔
10 یہ قیامت کے بعض مواطن میں ہوگا کہ کافر منہ کے بل اندھے گونگے کر کے چلائے جائیں گے۔ حدیث میں ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! منہ کے بل کس طرح چلیں گے فرمایا جس نے آدمی کو پاؤں سے چلایا وہ قادر ہے کہ سر سے چلا دے۔ باقی فرشتوں کا جہنمیوں کو منہ کے بل گھسیٹنا، وہ دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ) 54 ۔ القمر :48)
11 یعنی عذاب معین اندازہ سے کم نہیں ہونے دیں گے۔ اگر بدن جل کر تکلیف میں کمی ہونے لگے گی تو پھر نئے چمڑے چڑھا دئیے جائیں گے۔ (كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ) 4 ۔ النسآء :56)
Ayah 17:981 یعنی دنیا میں دلیل سے تو نہ مانا تھا، اب آنکھ سے بار بار دیکھ لو کہ کس طرح جل جل کر ازسر نو تیار کیے جا رہے ہو۔
Ayah 17:992 یعنی جس نے اتنے بڑے اجسام پیدا کیے، اسے تم جیسی چھوٹی سی چیز کا پیدا کردینا کیا مشکل ہے۔ (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 40 ۔ غافر :57) بیشک وہ تم کو اور تمہارے جیسے سب آدمیوں کو بےتکلف پیدا کرسکتا ہے۔
3 یعنی شاید یہ کہو کہ آخر اتنے آدمی مرچکے ہیں وہ اب تک کیوں نہیں اٹھائے گئے۔ تو فرما دیا کہ سب کے واسطے قبروں سے اٹھنے اور دوبارہ زندہ ہونے کا ایک وقت مقرر ہے وہ ضرور آکر رہے گا۔ تاخیر دیکھ کر انکار کرنا حماقت ہے۔ (وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ ) 11 ۔ ہود :104)
4 یعنی ایسے واضح مضامین و دلائل سن کر بھی ناانصافوں کے کفر و ضلال اور ناشکری میں ترقی ہی ہوتی ہے، ذرا نہیں پسیجتے۔
Ayah 17:1005 گذشتہ رکوع میں فرمایا تھا (اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا 87 قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا 88) 17 ۔ الاسراء :88-87) (خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپ پر بہت بڑا فضل کیا ہے کہ قرآن جیسی بےمثال دولت عطا فرمائی) درمیان میں مخالفین کے تعنت وعناد، دور ازکار مطالبات، اعراض و تکذیب اور ان کے نتائج کا ذکر کر کے یہاں پھر اسی پہلے مضمون کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی ایک بندہ کو ایسی عظیم الشان رحمت اور عدیم النظیر دولت سے سرفراز فرمانا، اسی جواد حقیقی اور وہاب مطلق کی شان ہوسکتی ہے جس کے پاس رحمت کے غیر متناہی خزانے ہوں۔ اور کسی مستحق کو زیادہ سے زیادہ دینے میں نہ اس کو اپنے تہی دست رہ جانے کا خوف ہو، نہ اس کا اندیشہ کہ دوسرا ہم سے لے کر کہیں مدمقابل نہ بن جائے یا آگے چل کر ہمیں دبا نہ لے۔ خداوند قدوس تھڑدلے انسان کی طرح (العیاذ باللہ) تنگ دل واقع نہیں ہوا، جسے اگر فرض کرو خزائن رحمت کا مالک مختار بنادیا جائے تب بھی اپنی طبیعت سے بخل و تنگ دلی نہ چھوڑے اور کسی مستحق کو دینے سے اس لیے گھبرائے کہ کہیں سارا خرچ نہ ہوجائے اور میں خالی ہاتھ نہ رہ جاؤں یا جس پر آج خرچ کرتا ہوں کل میری ہمسری نہ کرنے لگے۔ بہرحال اگر رحمت الٰہیہ کے خزانے تمہارے قبضہ میں ہوتے تو تم کسے دینے والے تھے اور کہاں گوارا کرسکتے تھے کہ مکہ و طائف کے بڑے متکبر دولت مندوں کو چھوڑ کر وحی و نبوت کی یہ بیش بہا دولت " بنی ہاشم " کے ایک دریتیم کو مل جائے۔ یہ حق تعالیٰ کا فیض ہے کہ جس میں جیسی استعداد و قابلیت دیکھی اس کے مناسب کمالات و انعامات کے خزانے انڈیل دیے۔ تمہارے تعنت و تعصب سے خدا کا فضل رکنے والا نہیں۔ محمد ﷺ کے طفیل میں جو خزائن آپ کے اتباع کو ملنے والے ہیں مل کر رہیں گے اور پیغمبر ﷺ اور ان کے پیرو دریا دلی سے اس دولت کو بنی نوع انسان پر خرچ کریں گے تمہاری طرح تنگ دلی نہیں دکھائیں گے۔
Ayah 17:1016 یعنی جیسے آپ ﷺ کو فضل و رحمت سے قرآن عظیم دیا اور بہت کچھ مہربانیاں آپ ﷺ پر فرمائیں، ہم پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو صداقت کے نو کھلے ہوئے نشانات (معجزات) ان کے مناسب حال عنایت فرما چکے ہیں جب کہ وہ " بنی اسرائیل " کے پاس فرعون کے مظالم سے نجات دلانے کے لیے تشریف لائے تھے۔ اگر چاہو تو " بنی اسرائیل " کے باخبر اور منصف مزاج علماء سے پوچھ دیکھو کہ یہ واقعہ کہاں تک صحیح ہے۔
(تنبیہ) وہ نو معجزات یہ ہیں یدبیضا، عصا، سنین، نقص ثمرات، طوفان، جراد، قمل، ضفادِع، دم۔ سورة " اعراف " آیت (فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :133) کے فوائد میں ہم اس کی تفصیل کرچکے ہیں ملاحظہ کرلی جائے۔ مسند احمد اور ترمذی وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ یہود نے آپ ﷺ سے " تسع آیات " کے متعلق سوال کیا آپ نے فرمایا وہ یہ احکام ہیں : شرک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، ناحق خون مت کرو، جادو نہ کرو، سود مت کھاؤ، بےگناہ کو مت پکڑواؤ کہ حاکم اسے قتل کر دے، عفیف عورتوں پر تہمت نہ لگاؤ، جہاد میں سے مت بھاگو۔ نو حکم تو یہ ہوئے جن کے سب لوگ مخاطب ہوسکتے ہیں۔ دسواں حکم (اے یہود) تمہارے لیے مخصوص تھا کہ سبت (شنبہ) کے دن حد سے نہ گزرو۔ یہود نے سن کر آپ ﷺ کی تصدیق کی۔ حافظ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں نکارت ہے جو غالباً اس کے راوی عبد اللہ بن سلمہ کی طرف سے آئی ہے۔ قرآن کا نظم و سیاق ہرگز اس کو نہیں چاہتا کہ (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :101) سے مراد یہ نو احکام لیے جائیں۔ آگے فرعون اور موسیٰ کا مکالمہ جو " فقال لہ " سے نقل فرمایا، مقتضی ہے کہ " آیات " سے وہ نشانات مراد ہوں جو بطور دلائل و حجج کے فرعونیوں کو دکھلائے گئے تھے، چناچہ لفظ بصآئر بھی انہی پر زیادہ چسپاں ہوتا ہے اور پہلے سے اہل مکہ کے تعنت اور آیات طلب کرنے کا جو ذکر آرہا ہے اس کے مناسب بھی یہ ہی ہے کہ یہاں فرعونیوں کا تعنت آیات کونیہ کے متعلق دکھلایا جائے۔ بہرحال ابن کثیر کا خیال یہ ہے کہ یہود نے سوال شاید " تسع آیات " کی نسبت نہیں بلکہ ان دس آیات کی نسبت کیا ہوگا جو تورات کے شروع میں بطور و صایا لکھے جاتے تھے۔ چناچہ حدیث میں دس ہی چیزیں مذکور ہیں۔ راوی حدیث کو التباس و اشتباہ ہوگیا، اس نے " کلمات عشر " کی جگہ " تسع آیات " کو ذکر کردیا۔ اور ممکن ہے سوال " آیات تسعہ " سے کیا گیا ہو۔ لیکن آپ ﷺ نے جواب علی اسلوب الحکیم دیا۔ گویا تنبیہ کردی کہ نو معجزات کا معلوم کرنا تمہارے حق میں چنداں مفید اور اہم نہیں بلکہ ان دس احکام کا یاد رکھنا زیادہ اہم ہے۔ واللہ اعلم۔
7 یعنی کسی نے تجھ پر جادو کردیا ہے جس سے معاذ اللہ عقل خراب ہوگئی۔ اسی لیے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے دوسری جگہ ہے (اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ) 26 ۔ الشعرآء :27) گویا مسحور سے مراد مجنون ہے اور بعض نے مسحور کو بمعنی ساحر لیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 17:1028 یعنی گو زبان سے انکار کرتا ہے مگر تیرا دل خوب جانتا ہے کہ یہ عظیم الشان نشان تیری آنکھیں کھولنے کے لیے اسی خدائے قادر و توانا نے دکھلائے ہیں جو آسمان و زمین کا سچا مالک ہے۔ اب جو شخص جان بوجھ کر محض ظلم وتکبر کی راہ سے حق کا انکار کرے اس کی نسبت بجز اس کے کیا خیال کیا جاسکتا ہے کہ تباہی کی گھڑی اس کے سر پر آپہنچی۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ " ایمان " جاننے کا نام نہیں، ماننے کا نام ہے۔ (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا) 27 ۔ النمل :14)
Ayah 17:1039 جب فرعون نے دیکھا کہ موسیٰ کا اثر بڑھتا جاتا ہے۔ سمجھا کہ بنی اسرائیل کہیں زور نہ پکڑ جائیں اس لیے ان کو اور زیادہ ستانا شروع کیا کہ یہ مصر میں امن چین سے رہنے نہ پائیں۔ آخر ہم نے اسی کو نہ رہنے دیا اور بحرقلزم میں سب ظالموں کا بیڑہ غرق کردیا۔
Ayah 17:10410 یعنی خدا نے ظالم کی جڑ کاٹ دی اور تم کو غلامی سے نجات دی۔ اب مصر و شام میں جہاں چاہو آزادی سے رہو۔ جب قیامت آئے گی پھر ایک مرتبہ تم سب کو اور تمہارے تباہ شدہ دشمنوں کو اکٹھا کر کے شقی وسعید اور ہالک و ناجی کا دائمی فیصلہ کردیا جائے گا۔
Ayah 17:1051 موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات وغیرہ کا ذکر فرما کر روئے سخن پھر قرآن کریم کی طرف پھیر دیا گیا۔ یعنی معجزات موسوی بجائے خود تھے، لیکن محمد ﷺ کو جو معجزات باہرہ عطا ہوئے ان میں سب سے بڑا علمی معجزہ یہ قرآن کریم ہے جو ہم نے عین حکمت کے موافق، اپنے علم عظیم اور اعلیٰ درجہ کی سچائی پر مشتمل کر کے اتارا ہے اور ٹھیک اسی سچائی کے ساتھ وہ آپ تک پہنچ گیا، درمیان میں ادنیٰ ترین تغیر و تبدل بھی نہیں ہوا۔ (فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَاَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) 11 ۔ ہود :14)
2 یعنی ماننے والوں کو خوشخبری اور نہ ماننے والوں کو عذاب الٰہی کی دھمکی سنا دیجئے۔
Ayah 17:1063 انزال قرآن سے مقصود اصلی مطلب سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہے جسے تدبر و تذکر کہتے ہیں۔ لیکن اس کے نفس الفاظ و حروف بھی نور وبرکت سے خالی نہیں۔ (كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ) 38 ۔ ص :29) اسی لیے سورتیں اور آیتیں جدا جدا رکھیں تاکہ وظیفہ کے طور پر تلاوت کرنا بھی سہل ہو اور سننے والوں کے لیے حفظ و فہم میں بھی آسانی رہے۔ اور آہستہ آہستہ اس لیے اتارا کہ جیسے حالات پیش آئیں ان کے مناسب ہدایات حاصل کرتے رہیں۔ تاکہ وہ جماعت جسے آگے چل کر تمام دنیا کا معلم بننا تھا ہر آیت و حکم کے موقع محل کو بخوبی ذہن نشین کر کے یاد رکھ سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے کسی آیت کے بےموقع استعمال کرنے کی گنجائش نہ چھوڑے۔
Ayahs 17:107–1084 یعنی مانو یا نہ مانو، قرآن کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کی تصدیق وہ منصف مزاج اہل علم کر رہے ہیں جنہیں کتب سابقہ کی بشارات سے آگاہی ہے، وہ اس کلام کو سن کر ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں کہ سبحان اللہ کیا عجیب و غریب کلام ہے۔ بیشک خدا کا وعدہ پورا ہونا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی تورات کتاب استثناء میں کیا گیا تھا کہ " (اے بنی اسرائیل) میں تمہارے بھائیوں (بنی اسماعیل) میں سے ایک نبی اٹھاؤں گا جس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا، بلاشبہ وہ یہ ہی کلام ہے جو محمد ﷺ کے دہن مبارک میں ڈالا گیا۔ جب اہل علم کو قرآن کی تصدیق سے چارہ نہیں رہا، تب انکار کرنا جاہل کا کام ہے۔
Ayah 17:1095 یعنی قرآن کو سن کر رقت طاری ہوجاتی ہے سجدہ کرتے ہیں تو اور عاجزی بڑھتی ہے۔ اذقان (ٹھوڑیوں) کے لفظ میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ سجود میں بہت زیادہ مبالغہ کرتے ہیں گویا ٹھوڑیاں بھی زمین سے ملا دیتے ہیں، یا محض سجود علی الوجہ سے کنایہ ہو۔ واللہ اعلم۔
Ayah 17:1106 سجود و خشوع وغیرہ کی مناسبت سے یہاں دعا، (خدا کو پکارنے) کا اور دعاء کی مناسبت سے اگلی آیت میں صلوٰۃ کا ذکر کیا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے ناموں میں سے مشرکین عرب کے یہاں اسم " اَللّٰہ " کا استعمال زیادہ تھا۔ اسم " رحمن " سے چنداں مانوس نہ تھے۔ البتہ یہود کے یہاں اسم " رحمن " بکثرت مستعمل ہوتا تھا۔ عبرانی میں بھی یہ نام اسی طرح تھا جیسے عربی میں۔ دوسری طرف مسیلمہ کذاب نے اپنا لقب " رحمان الیمامہ " رکھ چھوڑا تھا۔ غرض مشرکین حق تعالیٰ پر اسم " رحمن " اطلاق کرنے سے بدکتے اور وحشت کھاتے تھے۔ چناچہ جب حضور ﷺ کی زبان سے " رحمان " سنتے تو کہتے کہ محمد ﷺ ہم کو تو دو خداؤں کا پکارنے سے منع کرتے ہیں اور خود اللہ کے سوا دوسرے خدا (رحمان) کو پکارتے ہیں۔ یہود کو یہ شکایت تھی کہ محمد ﷺ کے یہاں " رحمان " کا ذکر ایسی کثرت سے کیوں نہیں ہوتا جس طرح ہمارے یہاں ہوتا ہے۔ دونوں کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ " اَللّٰہ " اور " رحمن " ایک ہی ذات منبع الکمالات کے دو نام ہیں۔ صفات و اسماء کے تعدد سے ذات کا تعدد لازم نہیں ہوتا۔ جو یہ چیز توحید کے منافی سمجھی جائے۔ رہی یہ بات کہ کسی ایک نام کا ذکر کثرت سے کیوں نہیں ہوتا تو سمجھ لو کہ اللہ کے جس قدر اسمائے حسنیٰ ہیں ان میں سے کوئی نام لے کر پکارو مقصود ایک ہی ہے۔ عنوانات و تعبیرات کے تنوع سے معنون نہیں بدلتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہر سخن وقتے وہر نکتہ مکانے وارد
عِبَارَا تُنَاشَتَّی وَحُسْنُکَ وَاحِدٌ وَکُلٌّ اِلٰی ذَاکَ الْجَمَالِ یُشِیْرُ ۔
7 یعنی جہری نماز میں (اور اسی طرح دعاء وغیرہ میں) بہت زیادہ چلاّنا بھی نہیں اور بالکل دبی آواز بھی نہیں بیچ کی چال پسند ہے (موضح القرآن) احادیث میں ہے کہ مکہ میں جب قرأت زور سے کی جاتی تو مشرکین سن کر قرآن اور اس کے بھیجنے والے اور لانے والے کی شان میں بدزبانی کرتے تھے۔ اس لیے آپ نے بہت آہستہ پڑھنا شروع کردیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی نہ اس قدر زور سے پڑھو کہ مشرکین اپنی مجالس میں سنیں (تبلیغ کا وقت مستثنیٰ ہے کیونکہ وہاں تو سنانا ہی مقصود ہے) اور نہ اتنا آہستہ کہ خود تمہارے ساتھی بھی سن کر مستفید نہ ہو سکیں۔ افراط وتفریط چھوڑ کر میانہ روی اختیار کرو۔ اس سے قلب متاثر ہوتا ہے اور تشویش نہیں ہوتی۔
Ayah 17:1118 نماز کے بعد توحید خالص کا ذکر فرما کر سورت کو ختم کیا۔ یعنی ساری خوبیاں اور تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو اپنی ہر صفت و کمال میں یگانہ ہے اور ہر قسم کے عیب و قصور اور نقص و فتور سے بکلی منزہ ہے۔ یا مساوی سے جیسے ایک شریک کو دوسرے شریک سے مدد پہنچتی ہے۔ یا بڑے سے۔ جس طرح کمزور آدمی ذلت و مصیبت کے وقت بڑے آدمیوں سے مدد لیتے ہیں۔ اس آیت میں تینوں کی نفی کردی۔ گویا " لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا " میں پہلے احتمال کی " لَمْ یَکُن لَّہ، شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ " میں دوسرے کی، اور " لَمْ یَکُن لَّہ، وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ " میں تیسرے کی نفی کرنے کے بعد " کَبِّرْہُ تَکْبِیْرًا " میں اس کی عظمت وکبریائی کی طرف متوجہ فرما دیا۔ یعنی انسان کو چاہیے کہ حق تعالیٰ کی بڑائی کا زبان و دل سے اقرار کرے اور ہر طرح کی کمزوریوں سے رفیع و برتر سمجھے۔ اور لطیف یہ ہے کہ " لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا " میں نصاریٰ کا، " لَمْ یَکُن لَّہ، شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ " میں مشرکین کا اور " وَلَمْ یَکُن لَّہ، وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ " میں ان یہود کا رد ہوگیا جن کے یہاں خدا تعالیٰ کشتی میں یعقوب (علیہ السلام) کے مقابلہ کی تاب نہیں لاسکا (العیاذ باللہ) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کوئی مددگار نہیں ذلت کے وقت۔ یعنی اس پر کبھی ذلت ہی نہیں کہ مددگار چاہے۔ بادشاہوں کے ہاں امیر زیر پڑجاتے ہیں اس لیے کہ برے وقت ان کی رفاقت کیے ہوتے ہیں۔ وہاں یہ قصہ ہی نہیں۔ " تم سورة الاسراء بعون اللّٰہ وحسن توفیقہ فللّٰہ الحمد والمنۃ والصلوٰۃ والسلام علیٰ صاحب الاسراء وعلی آلہ وصحبہ۔