Ayah 17:4111 یعنی قرآن کریم مختلف عنوانوں اور رنگ برنگ کے دلائل و شواہد سے ان مشرکین کو فہمائش کرتا ہے۔ لیکن بجائے نصیحت حاصل کرنے کے یہ بدبخت اور زیادہ بدکتے اور وحشت کھا کر بھاگتے ہیں۔
Ayah 17:4212 یعنی اصنام وغیرہ جنہیں خدائی کا شریک اور الوہیت کا حصہ دار بتلایا جاتا ہے۔
1 یعنی پرایا محکوم رہنا کیوں پسند کرتے، سب مل کر خدا تعالیٰ کے تخت سلطنت کو الٹ ڈالتے۔ اگر کہا جائے کہ صاحب عرش کے مقابلہ میں ان کی کچھ چلتی نہیں تو ایک عاجز مخلوق کی عبادت کرنا پرلے درجہ کی حماقت ہے یا اگر وہ معبود خود رب العرش کو خوش رکھنا اور اس کا قرب حاصل کرنا اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں تو ان کے پوجنے والوں کے لیے اور بھی زیادہ ضروری ہوا کہ خدائے اکبر کو خوش رکھنے کی فکر کریں۔ لیکن خدائے بزرگ تمام انبیاء کی زبانی اور فطرت انسانی کی معرفت شرک سے اپنی کامل بیزاری کا اظہار فرما چکا۔ پھر تعجب ہے کہ یہ احمق کس راستہ پر اندھا دھند چلے جا رہے ہیں۔
Ayahs 17:43–442 یعنی ہر ایک مخلوق زبان سے یا حال سے اس کی پاکی اور خوبیاں بیان کرتی ہے لیکن تم اسے سمجھتے نہیں۔ خواہ فکر و تامل نہ کرنے کی وجہ سے یا اس قوت کے فقدان کی وجہ سے جس کے ذریعہ بعض مخلوقات کی تسبیح قالی سنی اور سمجھی جاسکتی ہے۔ اور اگر کوئی شخص باوجود سمجھنے کے قبول نہ کرے یا اس کے مقتضیٰ پر عمل نہ کرے۔ تو یہ سمجھنا نہ سمجھنے ہی کے حکم میں ہے۔
3 یعنی تمام مخلوقات جس کی پاکی بیان کریں تم اس کے لیے شرکاء، اولاد اور بیٹیاں تجویز کرو۔ یہ ایسی گستاخی تھی کہ تم کو فوراً ہلاک کردیا جاتا لیکن وہ اپنے حلم سے شتاب نہیں پکڑتا اور توبہ کرلو تو بخش دیتا ہے۔
Ayah 17:454 جو شخص آخرت کو نہ مانے اور اپنے بھلے برے انجام کی کچھ فکر نہ رکھے وہ نصیحت کی طرف کیوں دھیان کرنے لگا۔ جب اسے نجات ہی کی فکر نہیں تو نجات دلانے والے پیغمبر کے احوال و اقوال میں غور کرنے اور بارگاہ رسالت تک پہنچنے کی کیا ضرورت ہوگی۔ بس یہ ہی عدم ایمان بالآخرت اور انجام کی طرف سے بےفکری وہ معنوی پردہ ہے جو اس شخص کے اور نبی (من حیث ہو نبی) کے درمیان لٹکا دیا جاتا ہے۔
Ayah 17:465 پہلے پیغمبر کی صداقت تک نہ پہنچ سکنے کا ذکر کیا تھا۔ یہاں فہم قرآن تک رسائی حاصل نہ کرسکنے کا بیان ہے یعنی اس قرآن میں ایسی قوی تاثیر ہے، اور کافروں پر اثر نہیں ہوتا، یہ سبب ہے کہ اوٹ میں ہیں۔ آفتاب سے سارا جہان روشن ہے لیکن اگر کوئی شخص تہ خانہ میں تمام دروازے اور تابدان بند کر کے بیٹھ جائے بلکہ آنکھیں بھی بند کرلے تو اس کے اعتبار سے آفتاب کی روشنی کہیں بھی نہیں۔
6 یعنی جب بہ نیت انتفاع واستفادہ سننا نہیں چاہتے تو گویا سنتے ہی نہیں (تنبیہ) خدا تعالیٰ نے جو حجاب اور پردے وغیرہ ڈالے یہ وہ ہی ہیں جن کا وجود انہوں نے خود اپنے لیے بڑی خوشی اور فخر سے ثابت کیا تھا۔ (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :5) آخرت پر ایمان نہ رکھنا اور انجام سے بےفکر رہنا، خدائے واحد کے ذکر سے چڑنا، پیغمبروں کے ساتھ تمسخر کرنا، وہ چیزیں ہیں جو حجاب، کنان اور وقر کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ اور چونکہ خالق ہر چیز کا خدا تعالیٰ ہے اس لیے ان کے خلق کی نسبت بھی اس کی طرف کی جاتی ہے۔
7 یعنی خدائے واحد کے ذکر سے چڑتے، بدکتے اور پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں، ہاں ان کے معبودوں کا تذکرہ آئے تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ (وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ ) 39 ۔ الزمر :45)
Ayah 17:478 یعنی سننے سے استفادہ مقصود نہیں ہوتا محض استخفاف و استہزاء مقصود ہوتا ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
9 یعنی قرآن اور آپ ﷺ کی باتیں سن کر گئے۔ پھر آپس میں مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کی نسبت کیا کہنا چاہیے۔ آخر کہنے لگے کہ یہ شخص جادو کا مارا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یعنی جادو کے اثر سے مجنون ہوگیا، دماغ ٹھکانے نہیں رہا (العیاذ باللہ العظیم) بعض نے " مسحور " کو یہاں " ساحر " کے معنی میں لیا ہے گویا اس کی باتوں میں جادو کا اثر ہے۔ (تنبیہ) لفظ " مسحور " سے جو مطلب وہ لیتے تھے اس کی نفی سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی پر کسی قسم کے سحر کا کسی درجہ میں عارضی طور پر بھی اثر نہ ہو سکے یہ آیت مکی ہے۔ مدینہ میں آپ پر یہود کے جادو کرانے کا واقعہ صحاح میں مذکور ہے۔ جس کا اثر چند روز تک صرف اتنا رہا کہ بعض دنیاوی کاموں میں کبھی کبھی ذہول ہوجاتا تھا۔
Ayah 17:4810 یعنی کبھی شاعر کہتے، کبھی جادو گر، کبھی کاہن، کبھی مسحور یا مجنون، غرض بہکی بہکی باتیں کرتے رہتے ہیں کسی ایک بات پر جماؤ نہیں جس وقت جو منہ میں آیا بک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ باوجود جدوجہد کے طعن وتشنیع کا کوئی ایسا راستہ انھیں نہیں مل سکتا جس پر چل کر وہ اپنے مقصد اغواء واضلال میں کامیاب ہو سکیں۔
Ayah 17:4911 یعنی آپ پر مسحور و مجنون یا شاعر و کاہن وغیرہ کی مثالیں چسپاں کرنا تو تعجب انگیز تھا ہی، اس سے زیادہ قابل تعجب وہ دلیل ہے جو (معاذ اللہ) مسحور و مجنون ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ موت کے بعد ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ آدمی کا بدن گل سڑ کر سفید ہڈیاں رہ جاتی ہیں تھوڑے دنوں بعد وہ بھی ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل جاتی ہیں۔ کیا کوئی ذی ہوش یہ تجویز کرسکتا ہے کہ یہ ہڈیوں کا چورہ اور خاک کے ریزے دوبارہ جی اٹھیں گے ؟ اور انسانی حیات ان منتشر ذرات میں عود کر آئے گی ؟ اگر پیغمبر ایسی ناممکن بات کی خبر دیتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ (العیاذ باللہ) ان کی دماغی صحت بحال نہیں ہے۔
Ayahs 17:50–5112 یعنی یہ ریزے اور چورا تو بہرحال انسانی لاش کا ہے جس میں پیشتر زندگی رہ چکی ہے۔ اور خود مٹی کے ذرات میں بھی آثار حیات کا پیدا ہوجانا چنداں مستبعد نہیں۔ میں اس سے بڑھ کر تم کو اجازت دیتا ہوں کہ ہڈیوں کا چورا نہیں، اگر ممکن ہو تو پتھر یا لوہا بن جاؤ۔ جو آثار حیات کے قبول کرنے سے بالکل محروم نظر آتے ہیں، بلکہ کوئی ایسی سخت چیز بن کر تجربہ کرلو جس کا زندہ ہونا لوہے اور پتھر سے بھی زیادہ مشکل معلوم ہو حتیٰ کہ مجسم موت بن کر دیکھ لو کہ پھر بھی اس قادر مطلق کو تمہارا زندہ کردینا کس قدر آسان ہے۔
1 جس نے پہلی بار تم کو مٹی یا نطفہ سے پیدا کیا اور جماد لایعقل پر روح انسانی فائض کردی۔ کیا اب اس میں قدرت نہیں رہی کہ خاک کے ذرات اور مردہ لاش کے اجزاء کو جمع کر کے دوبارہ زندگی عنایت کر دے۔
2 یعنی استہزاء و تمسخر سے سر ہلا کر کہتے ہیں کہ ہاں صاحب ! بوسیدہ ہڈیوں کے ریزوں میں کب جان پڑے گی۔ اور کب مردے قبروں سے حساب کے لیے اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 17:523 یعنی قیامت کا ٹھیک وقت حق تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا ہاں اس کے مستقبل قریب میں آنے کی تم امید ظاہر کرسکتے ہو۔ گویا دنیا کی بقیہ عمر اس سے کم ہے جتنی گزر چکی ہے۔
4 یعنی جس وقت خدا کی طرف سے آواز دی جائے گی ایک ڈانٹ میں سب مردے زمین سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے کسی کو سرتابی کی مجال نہ ہوگی۔ ہر ایک انسان اس وقت مطیع و منقاد ہو کر خدا کی حمد و ثنا کرتا ہوا حاضر ہوگا۔ گو کافر کو اس وقت کی اضطراری حمدو ثنا سے کچھ فائدہ نہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ مومنین کی زبان پر یہ الفاظ ہوں گے۔ " الحمد للہ الذی اذہب عنا الحزن "
Ayah 17:535 یعنی اب شتابی کرتے ہو، اس وقت اندازہ کرو گے کہ دنیا میں کچھ زیادہ دیر نہیں رہے تھے۔ پچاس سو برس ان ہزاروں برسوں کے سامنے کیا معلوم ہوں (موضح القرآن) بعض نے کہا کہ شدت ہول و خوف سے دنیا کی زندگی تھوڑی معلوم ہوگی۔ یا نفخہ اول اور نفخہ ثانی کے درمیان چونکہ عذاب نہ رہے گا، اس درمیانی مدت کو قلیل خیال کر کے کہیں گے۔ (مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا) 36 ۔ یس :52)
Ayah 17:546 مشرکین کی جہالت اور طعن و تمسخر کو سن کر ممکن تھا کوئی مسلمان نصیحت و فہمائش کرتے وقت تنگ دلی برتنے لگے اور سختی پر اتر آئے اس لیے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ مذاکرہ میں کوئی سخت دل آزار اور اشتعال انگیز پہلو اختیار نہ کریں۔ کیونکہ اس سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے۔ شیطان دوسرے کو ابھار کر لڑائی کرا دیتا ہے۔ پھر مخاطب کے دل میں ایسی ضد و عداوت قائم ہوجاتی ہے کہ سمجھتا ہو تب بھی نہ سمجھے۔
7 یعنی رحم کرے ایمان کی توفیق دے کر، یا عذاب دے حالت کفر پر مار کر۔
Ayah 17:558 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " مذاکرہ میں حق والا جھنجھلانے لگتا ہے کہ دوسرا صریح حق کو نہیں مانتا، سو فرما دیا کہ تم ان کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے جس کو چاہے راہ سجھائے۔ "
Ayah 17:569 یعنی ہم اپنے علم محیط کے موافق ہر ایک کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ جس کو مناسب جانا آدمیوں میں سے پیغمبر بنایا۔ پھر جس پیغمبر کو چاہا دوسرے پیغمبروں پر کلی یا جزئی فضیلت عنایت کی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بعضے نبی تھے کہ (امت کی حد سے زیادہ شرارتوں پر آخرکار) جھنجھلا گئے۔ آپ کا حوصلہ ان سے زیادہ رکھا ہے۔ (اور سب پر فضیلت دی ہے، لہذا آپ کی خوش اخلاقی اپنے مرتبہ عالی کے موافق ہونی چاہیے) اور خصوصیت سے داؤد کا ذکر کیا۔ کیونکہ دونوں چیزیں رکھتے تھے، جہاد بھی اور زبور بھی، سمجھانے کو (وفی الحدیث کان لَا یَفِرَّ اِذَا لَاقٰی) وہ دونوں باتیں یہاں بھی ہیں " قرآن اور جہاد۔ بعض نے کہا کہ یہاں " زبور " کا ذکر کر کے حضور کی فضیلت کلیہ اور امت محمدیہ کے فضل و شرف کی طرف اشارہ فرما دیا، کیونکہ حضور کے خاتم الانبیاء اور اس امت کے اشرف الامم ہونے پر زبور شریف کے مضامین مشتمل تھے۔ (وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء :105) یعنی محمدًا وامۃ المرحومہ۔
Ayah 17:5710 یعنی خدا تو وہ ہے کہ جس کو چاہے عذاب دے جس پر چاہے مہربانی فرمائے، جس کو جس قدر چاہے دوسروں پر فضیلت عطا کرے، اس کی قدرت کاملہ اور علم محیط ہے۔ اب ذرا مشرکین ان ہستیوں کو پکاریں جن کو انہوں نے خدا سمجھ رکھا یا بنا رکھا ہے۔ کیا ان میں ایک بھی ایسا مستقل اختیار رکھتا ہے کہ ذرا سی تکلیف کو تم سے دور کرسکے یا ہلکی کر دے یا تم سے اٹھا کر کسی دوسرے پر ڈال دے۔ پھر ایسی ضعیف و عاجز مخلوق کو معبود ٹھہرا لینا کیسے روا ہوگا۔
11 بخاری میں روایت ہے کہ کچھ لوگ جاہلیت میں جنات کی عبادت کرتے تھے۔ وہ جن مسلمان ہوگئے اور یہ پوجنے والے اپنی جماعت پر قائم رہے۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں کہ جن، ملائکہ، مسیح و عزیر وغیرہ کے پوجنے والے سب اس میں شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن ہستیوں کو تم معبود و مستعان سمجھ کر پکارتے ہو، وہ خود اپنے رب کا بیش از بیش قرب تلاش کرتے ہیں۔ ان کی دوا دوش صرف اس لیے ہے کہ خدا کی نزدیکی حاصل کرنے میں کون آگے نکلتا ہے، ان میں جو زیادہ مقرب ہیں وہ ہی زیادہ قرب الٰہی کے طالب رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کسی سب سے زیادہ مقرب بندہ کی دعاء وغیرہ کو حصول قرب کا وسیلہ بنائیں۔ پس جب تمہارے تجویز کیے ہوئے معبودوں کا خدا کے سامنے یہ حال ہے تو اپنے تئیں خود فیصلہ کرلو کہ خدا تعالیٰ کو خوش رکھنا کہاں تک ضروری ہے۔ غیر اللہ کی پرستش سے نہ خدا خوش ہوتا ہے نہ وہ جنہیں تم خوش رکھنا چاہتے ہو
(تنبیہ) " توسل " اور " تعبد " میں فرق ظاہر ہے۔ پھر توسل بھی اسی حد تک مشروع ہے جہاں تک شریعت نے اجازت دی۔
Ayah 17:5812 یعنی باوجود غایت قرب کے ان کی امیدیں محض حق تعالیٰ کی مہربانی سے وابستہ ہیں اور اسی کے عذاب سے ہمیشہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر قسم کا نفع پہنچانا، یا ضرر کو روکنا ایک خدا کے قبضہ میں ہے۔
13 اس آیت کا مطلب کئی طرح لیا جاسکتا ہے (الف) دنیا کی ہر ایک بستی کو عظیم الشان گناہوں کی پاداش میں قیامت سے پہلے پہلے عذاب مستاصل بھیج کر بالکلیہ تباہ و خراب کردیا جائے گا، یا اگر گناہ انتہائی درجہ کے نہ ہوں گے تو درجہ دوئم کے جرائم کی سزا میں عام ہلاکت سے کم کوئی سخت آفت اس بستی پر نازل کی جائے گی۔ باقی ایسی بستی کہاں ہے جو ازل سے ابد تک نہ گناہ کرے نہ کسی آفت میں پھنسے (ب) قیامت سے پیشتر ضروری ہے کہ ہر ایک بستی طبعی موت پر جو تعذیب کے رنگ سے خالی ہو، لفظ " ہلاک " کا اطلاق قرآن و حدیث سے ثابت ہے (حَتّىٰٓ اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا) 40 ۔ غافر :34) وفی الحدیث کُلَّمَاھَلَکَ نَبِیٌّ جَآ ءَ نَبِیٌّ اٰخَرُ (ج) کفار کی ہر ایک بستی یا قیامت سے پہلے اپنے سنگین جرائم کی پاداش میں نابود و تباہ کردی جائے گی یا کسی نہ کسی وقت (یعنی قیامت سے پہلے یا بعد) سخت عذاب کا مزہ چکھے گی۔ بہرحال کوئی معنی لیے جائیں، مقصود اس آیت سے تحذیر ہے۔ گویا پہلے جو فرمایا تھا " اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا " یہاں اس کے وقوع کی خبر دی گئی۔
4 1 یعنی یہ فیصلہ بالکل حتمی اور اٹل ہے جو علم الٰہی میں طے ہوچکا اور لوح محفوظ میں لکھا گیا۔ کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ہر شہر کے لوگ ایک بزرگ کو پوجتے ہیں کہ ہم اس کی رعیت ہیں اور اس کی پناہ میں ہیں، سو وقت آنے پر کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ "، " لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلَّامَن رَّحِمَ "
Ayah 17:591 حدیث میں ہے کہ اہل مکہ نے حضور سے چند نشانیاں طلب کیں مثلاً یہ کہ " کوہ صفا کو سونا بنا دیجئے یا پہاڑوں کو ہمارے گردو پیش سے ہٹا کر زراعت کے قابل زمین ہموار کر دیجئے۔ وغیر ذالک۔ ایسا کرو تو ہم آپ کو مان لیں گے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی ایسے فرمائشی نشان دکھلانا خدا تعالیٰ کو کچھ دشوار نہ تھا۔ لیکن پہلے لوگوں کو ان کی فرمائش کے مطابق نشان دکھلائے گئے تب بھی نہ مانے۔ بلکہ سرکشی میں اور ترقی کر گئے۔ آخر سنت اللہ کے موافق اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالکل نیست و نابود کردیئے گئے۔ اب اگر تمہاری سب فرمائشیں پوری کردی جائیں۔ اور خدا کے علم میں ہے بلکہ تمہارے احوال سے بھی ظاہر ہے کہ تم پھر بھی ماننے والے نہیں، تو سنت اللہ کے موافق اس کا نتیجہ وہ ہی استیصال و ہلاک کلی ہونا چاہیے جو اس امت کے حق میں خلاف مصلحت و رحمت ہے۔ خدا تعالیٰ کا ارادہ اس آخری امت کی نسبت یہ نہیں کہ گذشتہ اقوام و امم کی طرح عذاب مستاصل بھیج کر بالکلیہ تباہ کی جائے۔ پہلی امتوں کو فرمائشی نشان دکھلانا اس بناء پر جائز رکھا گیا کہ ان کی بالکلیہ تباہی خدا کے نزدیک اس قدر لائق التفات نہ تھی اور آخر میں آنے والی امت کو کچھ نمونے دکھلانے تھے کہ فرمائشی نشان مانگنے والوں کا حشر ایسا ہوتا ہے۔ چناچہ اس آیت میں ان ہی تاریخی نظائر کی طرف اجمالی اشارہ فرما دیا کہ اگر فرمائشی نشان دیکھنے کے بعد تکذیب کی (اور یقینا کرو گے) تو جو حشر پہلوں کا ہوا وہ ہی تمہارا ہوگا لیکن حکمت الٰہیہ مقتضی نہیں کہ تم کو اس طرح تباہ کیا جائے۔ لہذا فرمائشی نشانات کا بھیجنا موقوف کیا گیا۔
2 قوم " ثمود " نے حضرت صالح سے درخواست کی تھی کہ پہاڑ کی فلاں چٹان میں سے اونٹنی نکال دیجئے۔ خدا نے نکال دی۔ مگر بجائے اس کے کہ ایسا فرمائشی معجزہ دیکھ کر آنکھیں کھلتیں اور قلبی بصیرت حاصل ہوتی الٹے ظلم و عداوت پر کمر بستہ ہوگئے۔ چناچہ اونٹنی کو مار ڈالا اور حضرت صالح کے قتل کے منصوبے باندھنے لگے۔ آخر جو انجام ہوا وہ سب کو معلوم ہے کہنے کی ضرورت نہیں۔ یہ " اَنْ کَذَّبَ بِہَا الْاوَّلُوْنَ " کا ایک نمونہ پیش کردیا۔
3 یعنی ہدایت نشانیاں دیکھنے پر موقوف نہیں۔ غیر معمولی نشانات بھیجنے سے تو مقصود یہ ہے کہ قدرت قاہرہ کو دیکھ کر لوگ خدا سے ڈریں اور ڈر کر اس کی طرف جھکیں۔ اگر یہ مقصود حاصل نہ ہو اور فی الحال اس قوم کو تباہ کرنا بھی مصلحت نہیں تو محض فرمائشیں پورا کرنے سے کیا حاصل ہے۔ باقی عام تخویف و انذار کے لیے جن آیات و نشانات کا بھیجنا مصلحت ہے وہ برابر بھیجے جاتے ہیں۔
Ayah 17:604 شاید آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ فرمائشی نشان نہ دکھلانے پر کفار کو ہنسنے اور طعن کرنے کا موقع ملے گا کہ اگر سچے پیغمبر ہوتے تو ہماری طلب کے موافق نشان دکھلاتے۔ اس لیے آپ کو مطمئن کیا کہ سب لوگوں کو تیرے رب کے علم وقدرت نے گھیر رکھا ہے نہ کوئی اس کے علم سے باہر ہے نہ قدرت کے نیچے سے نکل کر جاسکتا ہے سب اس کے قبضہ میں ہیں آپ ان کے طعن وتشنیع کی طرف قطعاً التفات نہ کریں۔ وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اپنا کام کیے جائیے اور ان کے فیصلوں کو بالکلیہ ہم پر چھوڑ دیجئے۔ ہم جانتے ہیں کہ فرمائشی نشان دیکھ کر بھی یہ لوگ آپ کی بات ماننے والے نہیں تھے اور اس کے بعد ہماری سزا سے چھوٹ کر نکل بھاگنا بھی ممکن نہ تھا اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ لوگوں میں سے کون فی الحال تباہ کر ڈالنے کے لائق ہیں اور کن لوگوں کا باقی رکھنا مصلحت ہے۔ لہذا آپ اس جھنجھٹ میں نہ پڑیں، یہ سب ہمارے محاصرہ میں ہیں آخر مسلمان ہو کر رہیں گے۔
5 " دکھاوے " سے مراد شب معراج کا نظارہ ہے جس کے بیان سے لوگ جانچے گئے۔ سچوں نے سن کر مانا اور کچوں نے جھوٹ جانا۔
6 یعنی " زقوم " کا درخت جسے قرآن میں فرمایا کہ دوزخ والے کھائیں گے۔ ایمان والے یقین لائے اور منکروں نے کہا کہ دوزخ کی آگ میں سبز درخت کیونکر ہوگا ؟ یہ بھی جانچنا تھا۔ ان دو مثالوں سے اندازہ کرلو کہ تصدیق خوارق کے باب میں ان کی طبائع کا کیا حال ہے۔
7 یعنی جن کے دل خدا کے خوف سے خالی ہوں، ڈرانے سے ڈریں نہیں، بلکہ اور زیادہ شرارت میں ترقی کریں ان سے فرمائشی نشان دیکھنے پر قبول حق کی امید رکھنا بےموقع ہے۔
Ayah 17:618 یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔ یہاں اس پر متنبہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا بےچون و چرا ماننا فرشتوں کا اور اس میں شبہات نکالنا شیطان کا کام ہے۔ یہ کافر بھی اس کی چال چل رہے ہیں۔ جو بات بات میں کج بحثیاں کرتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ ان کا انجام بھی وہی ہونے والا ہے جو ان کے امام ابلیس لعین کا ہوگا۔
Ayah 17:629 یعنی تھوڑے سے چھوڑ کر باقی سب کو اپنا مسخر کرلوں جیسے گھوڑے کو لگام دے کر قابو کرلیا جاتا ہے، پھر جو میرے سامنے اتنا کمزور ہے اسے مجھ پر فضیلت دینا کس طرح جائز ہوگا ؟
Ayah 17:6310 یعنی جا ! جتنا زور لگا سکتا ہے لگا لے، یہاں بھی تیرے اور تیرے ساتھیوں کے واسطے جیل خانہ تیار ہے۔
Ayah 17:6411 یعنی وہ آواز جو خدا کے عصیان کی طرف بلاتی ہو، مراد اس سے وسوسہ ڈالنا ہے اور مزامیر (باجا گاجا) تھی اس میں داخل ہوسکتا ہے۔
12 یعنی ساری طاقت صرف کر ڈال ! اور پوری قوت سے لشکر کشی کر ! خدا کی معصیت میں لڑنے والے سب شیطان کے سوار اور پیا دے ہیں۔ جن ہوں یا انس۔
13 یعنی دل میں ارمان نہ رکھ، ان کو ہر طرح ابھار، کہ مال و اولاد میں تیرا حصہ لگائیں، یعنی یہ چیزیں ناجائز طریقہ سے حاصل کریں اور ناجائز کاموں میں صرف کریں۔
14 یعنی شیطان جو سبز باغ دکھاتا ہے اس سے فریب کھانا احمق کا کام ہے اس کے سب وعدے دغا بازی اور فریب سے ہیں، چناچہ وہ خود اقرار کرے گا۔ (وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ) 14 ۔ ابراہیم :22)
Ayah 17:6515 یعنی جو خدا پر اعتماد و توکل کریں وہ ان کا کام بناتا ہے اور شیطان کے جال سے نکالتا ہے۔
Ayah 17:661 یہ خدا کی کارسازی کا ایک نمونہ پیش کیا ہے، جس میں ایک مشرک کو بھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس کے سوا کوئی کار ساز نہیں۔
ع کہ ہیں عاضی زور کمزور سارے
2 یعنی روزی۔ روزی کو اکثر قرآن میں " فضل " فرمایا ہے۔ " فضل " کے معنی زیادہ کے ہیں۔ سو مسلمان کی بندگی ہے آخرت کے واسطے اور دنیا لبھاؤ میں ملتی ہے۔
Ayah 17:673 یعنی مصیبت سے نکلتے ہی محسن حقیقی کو بھول جاتا ہے چند منٹ پہلے دریا کی موجوں میں خدا یاد آرہا تھا کنارہ پر قدم رکھا اور بےفکر ہو کر سب فراموش کر بیٹھا۔ اس سے بڑھ کر ناشکر گذاری کیا ہوگی۔
Ayah 17:684 یعنی سمندر کے کنارے خشکی پر دھنسا دے۔ مثلاً زلزلہ آجائے اور زمین شق ہو کر قارون کی طرح اس میں دھنس جاؤ۔ خلاصہ یہ کہ ہلاک کرنا کچھ دریا کی موجوں پر موقوف نہیں۔
Ayah 17:695 یعنی کوئی ضرورت کھڑی کر دے جس کے لیے ناچار دریائی سفر کرنا پڑے۔
6 خدا سے کون باز پرس کرسکتا ہے یا کسی کی مجال ہے کہ پیچھا کر کے اس سے مجرمین کا خون بہا وصول کرے ؟
Ayah 17:707 یعنی آدمی کو حسن صورت، نطق، تدبیر اور عقل و حواس عنایت فرمائے جن سے دنیاوی و اخروی مضار و منافع کو سمجھتا اور اچھے برے میں تفریق کرتا ہے۔ ہر طرف ترقی کی راہیں اس کے لیے کھلی ہیں دوسری مخلوقات کو قابو میں لا کر اپنے کام میں لگاتا ہے۔ خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر یا دوسری طرح طرح کی گاڑیوں میں سفر کرتا اور سمندروں کو کشتیوں اور جہازوں کے ذریعہ بےتکلف طے کرتا چلا جاتا ہے۔ قسم قسم کے عمدہ کھانے، کپڑے، مکانات اور دنیاوی آسائش و رہائش کے سامانوں سے منتفع ہوتا ہے۔ ان ہی آدمیوں کے سب سے پہلے باپ آدم (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ نے مسجود ملائکہ اور ان کے آخری پیغمبر (علیہ السلام) کو کل مخلوقات کا سردار بنایا۔ غرض نوع انسانی کو حق تعالیٰ نے کئی حیثیت سے عزت اور بڑائی دے کر اپنی بہت بڑی مخلوق پر فضیلت دی۔ اوپر کے رکوع میں آدم کی نسبت شیطان کا (هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ) 17 ۔ الاسراء :62) کہنا اور ملائکہ کا آدم کو سجدہ کرنا، پھر بنی آدم کو کشتی کے ذریعہ دریائی سفر طے کرانا مذکور تھا۔ اس آیت کا مضمون مضامین مذکورہ بالا سے صاف طور پر مربوط ہے (تنبیہ) مفسرین نے اس آیت کے تحت میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ ملائکہ اور بشر میں کون افضل ہے کون مفضول۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ آیت سے اس مسئلہ کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ حنفیہ کی رائے یہ نقل کی ہے کہ " رسل بشر "، " رسل ملائکہ " سے افضل ہیں اور رسل ملائکہ (باستثنائے رسل بشر کے) باقی تمام فرشتوں اور آدمیوں سے افضل ہیں۔ اور عام فرشتوں کو عام آدمیوں پر فضیلت حاصل ہے واللہ اعلم۔
Ayah 17:718 یہاں یہ بتلانا ہے کہ دنیا میں فطری حیثیت سے انسان کو جو عزت و فضیلت بخشی تھی اس نے کہاں تک قائم رکھی اور کتنے ہیں جنہوں نے انسانی عز و شرف کو خاک میں ملا دیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر فرقہ اس چیز کی معیت میں حاضر ہوگا جس کی پیروی اور اتباع کرتا تھا۔ مثلاً مومنین کے نبی، کتاب، دینی پیشوا، یا کفار کے مذہبی سردار، بڑے شیطان اور جھوٹے معبود، جنہیں فرمایا ہے (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ) 28 ۔ القصص :41) اور حدیث میں ہے " لتتبع کل امۃٍ ماکانت تعبد " اس وقت تمام آدمیوں کے اعمالنامے ان کے پاس پہنچا دیے جائیں گے۔ کسی کا اعمالنامہ سامنے سے داہنے ہاتھ میں اور کسی کا پیچھے سے بائیں ہاتھ میں پہنچ جائے گا۔ گویا یہ ایک حسی علامت ان کے مقبول یا مردود ہونے کی سمجھی جائے گی۔ " اصحاب یمین " (داہنے ہاتھ میں اعمالنامہ پکڑنے والے) وہ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں حق کو قبول کر کے اپنی فطری شرافت اور انسانی کرامت کو باقی رکھا۔ جس طرح دنیا میں انہوں نے دیکھ بھال کر اور سوچ سمجھ کر کام کیے، آخرت میں ان کی وہ احتیاط کام آئی۔ اس دن وہ خوشی سے پھولے نہ سمائیں گے، بڑے سرور و انبساط سے اپنا اعمالنامہ پڑھیں گے اور دوسروں کو کہیں گے (هَاۗؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْ ) 69 ۔ الحاقہ :19) کہ آؤ میری کتاب پڑھ لو۔ باقی دوسرے لوگ یعنی " اصحاب شمال " ان کا کچھ حال اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے (بعض نے لفظ " امام " سے خود اعمالنامہ مراد لیا ہے کیونکہ وہاں لوگ اس کے پیچھے چلیں گے)
9 یعنی کھجور کی گٹھلی کے درمیان جو ایک باریک دھاگا سا ہوتا ہے، اتنا ظلم بھی وہاں نہ ہوگا۔ ہر ایک کی محنت کا پورا بلکہ پورے سے زیادہ پھل ملے گا۔
Ayah 17:7210 یعنی یہاں ہدایت کی راہ سے اندھا رہا، ویسا ہی آخرت میں بہشت کی راہ سے اندھا ہے اور بہت دور پڑا ہے۔ (موضح القرآن) یہ " اصحاب یمین " کے بالمقابل " اصحاب شمال " کا ذکر ہوا۔ بعض نے " وَاَضَلُّ سَبِیْلًا " کا مطلب یہ لیا ہے کہ دنیا میں تو تلافیٔ مافات کا امکان تھا، آخرت میں اس سے بھی دور جا پڑا۔ کیونکہ اب تدارک و تلافی کا امکان ہی نہیں رہا۔
Ayah 17:731 یعنی بعض اندھے ایسے شریر ہیں کہ خود تو راہ پر کیا آتے بڑے بڑے سوانکھوں کو بچلانا چاہتے ہیں۔ چناچہ کفار مکہ کی اس بےحیائی اور جسارت کو دیکھئے کہ آپ پر ڈورے ڈالتے ہیں کہ خدا نے جو احکام دیے اور وحی بھیجی اس کا ایک حصہ ان کی خاطر سے آپ (معاذ اللہ) چھوڑ دیں یا بدل ڈالیں۔ کبھی حکومت، دولت اور حسین عورتوں کا لالچ دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہم آپ کے تابع ہوجائیں گے، قرآن میں سے صرف وہ حصہ نکال دیجئے جو شرک و بت پرستی کے رد میں ہے۔ اگر آپ (العیاذ باللہ) بفرض محال ایسا کر گزرتے تو بیشک وہ آپ کو گاڑھا دوست بنالیتے۔ لیکن آپ کا جواب یہ تھا کہ خدا کی قسم اگر تم چاند اتار کر میری ایک مٹھی میں اور سورج اتار کر دوسری مٹھی میں رکھ تو تب بھی محمد ﷺ اس چیز کو چھوڑنے والا نہیں جس کے لیے خدا نے اسے کھڑا کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنا کام پورا کرے یا اس راستہ سے گزر جائے
دست از طلب ندارم تاکامِ من برآید
پا تن رسد بجاناں یا جاں زتن برآید
Ayah 17:742 " تَرْکَنُ " رکون سے ہے جو ادنیٰ جھکاؤ، اور خفیف میلان قلب کو کہتے ہیں اس کے ساتھ " شَیْئًا قَلِیْلًا " بڑھایا گیا تو ادنیٰ سے ادنیٰ ترین مراد ہوگا۔ پھر " لَقَدْ کدتَّ " فرما کر اس کے وقوع کو اور بھی گھٹا دیا۔ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ آپ معصوم پیغمبر ہیں جن کی عصمت کی سنبھال حق تعالیٰ اپنے فضل خصوصی سے کرتا ہے تو ان چالاک شریروں کی فریب بازیوں سے بہت ہی تھوڑا سا ادھر جھکنے کے قریب ہوجاتے مگر انبیاء کی عصمت کا تکفل ان کا پروردگار کرچکا ہے۔ اس لیے اتنا خفیف جھکاؤ بھی نہ پایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ میں تقویٰ کی فطری قوت کس قدر مضبوط اور ناقابل تزلزل تھی۔
Ayah 17:753 اس سے بھی حضور ﷺ کے فضل و شرف کا نہایت لطیف پیرایہ میں اظہار مقصود ہے۔ مقربین کے لیے جیسے انعامات بہت بڑے ہیں " نزدیکاں را بیش بود حیرانی " کے قاعدہ سے ان کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی یا کوتاہی پر عتاب بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے جیسے ازواج مطہرات کو فرمایا (يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ) 33 ۔ الاحزاب :30) تو بتلا دیا کہ آپ کا مرتبہ معمولی نہیں۔ اگر بفرض محال ادنیٰ سے ادنیٰ غلطی ہو تو دنیا میں اور برزخ و آخرت میں دوگنا مزہ چکھنا پڑے۔ مومن کو چاہیے کہ ان آیات کو تلاوت کرتے وقت دو زانو بیٹھ کر انتہائی خوف و خشیت کے ساتھ حق تعالیٰ کی شان جلال و جبروت میں غور کرے اور وہ ہی کہے جو حضور ﷺ نے فرمایا " اَللّٰہُمَّ لَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ " خداوندا ! چشم زدن کے لیے بھی مجھ کو میرے نفس کے حوالہ نہ کیجئے یعنی ہمیشہ اپنی حفاظت و کفالت میں رکھیے۔
Ayah 17:764 یعنی چاہتے ہیں کہ تجھے تنگ کر کے اور گھبرا کر مکہ سے نکال دیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ ایسا کیا تو وہ خود زیادہ دنوں تک یہاں نہ رہ سکیں گے چناچہ اسی طرح واقع ہوا۔ ان کے ظلم و ستم حضور ﷺ کی ہجرت کا سبب بنے۔ آپ ﷺ کا مکہ سے تشریف لے جانا تھا کہ تقریباً ڈیڑھ سال بعد مکہ کے بڑے بڑے نامور سردار گھروں سے نکل کر میدان " بدر " میں نہایت ذلت کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ اور اس کے پانچ چھ سال بعد مکہ پر اسلام کا قبضہ ہوگیا۔ کفار کی حکومت و شوکت تباہ ہوگئی اور بالآخر بہت قلیل مدت گزرنے پر مکہ بلکہ پورے جزیرۃ العرب میں پیغمبر ﷺ کا ایک مخالف بھی باقی نہ رہا۔
Ayah 17:775 یعنی ہمارا یہ ہی دستور رہا ہے کہ جب کسی بستی میں پیغمبر خدا کو نہ رہنے دیا تو بستی والے خود نہ رہے۔
Ayah 17:786 یعنی ان کی منصوبہ بازیوں کی کچھ فکر نہ کیجئے۔ تعلق مع اللہ وہ چیز ہے جو انسان کو تمام مشکلات و نوائب پر غالب کردیتی ہے۔ (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) 2 ۔ البقرۃ :45)
7 اس میں چار نمازیں آگئیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء جمع بین الصلوٰتین کے مسئلہ سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔ اور اگر جمع کا اشارہ نکالا جائے تو دو نہیں چار نمازوں کے جمع کرنے کی مشروعیت اس سے نکلے گی۔ ہاں بشرط ذوق صحیح یہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ ظہر میں تعجیل اور عشاء میں تاخیر مستحب ہونی چاہیے الاّ لعارض۔
8 یعنی نماز فجر میں شاید " قرآن الفجر " سے تعبیر کرنے میں یہ اشارہ ہو کہ تطویل قرأت فجر میں مطلوب ہے۔
9 حدیث میں ہے کہ فجر و عصر کے وقت دن اور رات کے فرشتوں کی بدلی ہوتی ہے۔ لہذا ان دو وقتوں میں لیل و نہار کے فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے تو ہماری قرأت اور نماز ان کے روبرو ہوئی جو مزید برکت و سکینہ کا موجب ہے، اور اس وقت اوپر جانے والے فرشتے خدا کے ہاں شہادت دیں گے کہ جب گئے تب بھی ہم نے تیرے بندوں کو نماز پڑھتے دیکھا اور جب آئے تب بھی۔ اس کے علاوہ صبح کے وقت یوں بھی آدمی کا دل حاضر اور مجتمع ہوتا ہے۔
Ayah 17:7910 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی " نیند سے جاگ کر (تہجد میں) قرآن پڑھا کر۔ یہ حکم سب سے زیادہ تجھ پر کیا ہے کہ تجھ کو مرتبہ (سب سے) بڑا دینا ہے۔
11 " مقام محمود " شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے۔ جب کوئی پیغمبر نہ بول سکے گا تب آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ سے عرض کر کے خلقت کو تکلیف سے چھڑائیں گے۔ اس وقت ہر شخص کی زبان پر آپ کی حمد (تعریف) ہوگی اور حق تعالیٰ بھی آپ کی تعریف کرے گا۔ گویا شان محمدیت کا پورا پورا ظہور اس وقت ہوگا۔
(تنبیہ) " مقام محمود " کی یہ تفسیر صحیح حدیثوں میں آئی ہے اور بخاری و مسلم اور دیگر کتب حدیث میں شفاعت کبریٰ کا نہایت مفصل بیان موجود ہے۔ شارحین نے حضور ﷺ کے لیے دس قسم کی شفاعتیں ثابت کی ہیں۔ فتح الباری میں ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 17:8012 یعنی جہاں مجھے پہنچانا ہے (مثلاً مدینہ میں) نہایت آبرو اور خوبی و خوش اسلوبی سے پہنچا کہ حق کا بول بالا رہے۔ اور جہاں سے نکالنا یعنی علیحدہ کرنا ہو (مثلاً مکہ سے) تو وہ بھی آبرو اور خوبی و خوش اسلوبی سے ہو کہ دشمن ذلیل و خوار اور دوست شاداں وفرحاں ہوں اور بہرصورت سچائی کی فتح اور جھوٹ کا سر نیچا ہو۔
13 یعنی غلبہ اور تسلط عنایت فرما جس کے ساتھ تیری مدد و نصرت ہو۔ تاکہ حق کا بول بالا رہے اور معاندین ذلیل و پست ہوں۔ دنیا میں کوئی قانون ہو سماوی یا ارضی اس کے نفاذ کے لیے ایک درجہ میں ضروری ہے کہ حکومت کی مدد ہو۔ جو لوگ دلائل وبراہین سننے اور آفتاب کی طرح حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی ضد وعناد پر قائم رہیں ان کے ضرر و فساد کو حکومت کی مدد ہی روک سکتی ہے۔ اسی لیے سورة حدید میں فرمایا (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ) 57 ۔ الحدید :25)