Ayah 15:819 یعنی اونٹنی جو پتھر سے نکالی گئی اور اس کے علاوہ دوسرے معجزات۔
Ayah 15:8210 یعنی دنیاوی زندگی پر مغرور ہو کر تکبر و تجبر کی نمائش کے لیے پہاڑوں کو تراش کر بڑے عالی شان مکان بناتے تھے۔ گویا کبھی یہاں سے جانا نہیں یہ بھی سمجھتے ہوں گے کہ ایسی مضبوط و مستحکم عمارتوں میں کوئی آفت کہاں پہنچ سکتی ہے۔
Ayahs 15:83–8411 یعنی مال و دولت، مستحکم عمارات، جسمانی قوت اور دوسرے اسباب و وسائل میں سے کوئی چیز بھی خدا کے عذاب کو دفع نہ کرسکی۔ ان کا قصہ بھی پہلے گزر چکا۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ تبوک جاتے ہوئے " وادی حجر " پر سے گزرے۔ آپ نے سر ڈھانپ لیا۔ سواری کی رفتار تیز کردی اور صحابہ کو فرمایا کہ معذب قوم کی بستیوں پر مت داخل ہونا مگر (خدا کے خوف سے) روتے ہوئے اگر رونا نہ آئے تو رونے والوں کی صورت بنالو۔ خدا نہ کرے وہ چیز تم کو پہنچے جو ان کو پہنچی تھی۔ یہ آپ نے مسلمانوں کو ادب سکھلایا کہ آدمی اس قسم کے مقامات میں پہنچ کر عبرت حاصل کرے اور خدا کے خوف سے لرزاں و ترساں ہو، محض سیرو تماشا نہ سمجھے۔
Ayah 15:8512 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " پہلی امتوں کا حال سنا کر فرمایا کہ یہ جہاں یوں ہی خالی نہیں پڑا۔ سر پر ایک مدبر ہے۔ ہر چیز کا تدارک کرنے والا، مکمل اور آخری تدارک کا نام قیامت ہے " اور کفار سے کنارہ کرنے کو فرمایا جب خدا کا حکم پہنچا چکے، تبلیغ کا فرض ادا کردیا اور کافر ضد پر اڑا رہے، تب حکم ہوا کہ زیادہ جھگڑنے سے فائدہ نہیں اب وعدہ کی راہ دیکھو اور ان کی تکلیف و ایذا پر صبر کرو، حرف شکایت زبان پر نہ لاؤ یہاں تک کہ خدا کا فیصلہ پہنچ جائے۔
Ayah 15:8613 جس کو تیرے صبر اور ان کی ایذاء کی سب خبر ہے، ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس آیت میں گویا معاد کی تقریر فرما دی، یعنی جس نے ایک مرتبہ پیدا کیا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اور جس چیز کے اجزاء منتشر ہوگئے ہوں اس کو ہر جزء کی خبر ہے، جہاں کہیں ہوگا سب کو جمع کردے گا۔ دوسری جگہ فرمایا (اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ ڲ بَلٰى ۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ الْعَلِـيْمُ ) 36 ۔ یس :81)
Ayah 15:8714 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی یہ اتنی بڑی نعمت تجھ کو عطا ہوئی اور کافروں کی ضد سے خفا نہ ہو " (تنبیہ) " سبع مثانی " کے مصداق میں اختلاف ہے۔ صحیح اور راجح یہ ہی ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ کی سات آیتیں ہیں جو ہر نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں اور جن کو بطور وظیفہ کے بار بار پڑھا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ حق تعالیٰ نے تورات، انجیل، زبور، قرآن کسی کتاب میں اس کا مثل نازل نہیں فرمایا۔ احادیث صحیحہ میں تصریح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورة " فاتحہ " کو فرمایا کہ یہ ہی " سبع مثانی " اور قرآن عظیم ہے جو مجھ کو دیا گیا۔ اس چھوٹی سی سورت کو " قرآن عظیم " (بڑا قرآن) فرمانا درجہ کے اعتبار سے ہے۔ اس سورت کو ام القرآن بھی اس لحاظ سے کہتے ہیں کہ گویا یہ ایک خلاصہ اور متن ہے جس کی تفصیل و شرح پورے قرآن کو سمجھنا چاہیے۔ قرآن کے تمام علوم و مطالب کا اجمالی نقشہ تنہا اس سورت میں موجود ہے یوں مثانی کا لفظ بعض حیثیات سے پورے قرآن پر بھی اطلاق کیا گیا ہے (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ) 39 ۔ الزمر :23) اور ممکن ہے دوسری سورتوں کو مختلف وجوہ سے " مثانی " کہہ دیا جائے، مگر اس جگہ " سبع مثانی " اور قرآن عظیم " کا مصداق یہ ہی سورت (فاتحہ) ہے۔
Ayah 15:881 یعنی مشرکین، یہود و نصاریٰ اور دوسرے دشمنان خدا و رسول کو دنیا کی چند روزہ زندگی کا جو سامان دیا ہے اس کی طرف نظر نہ کیجئے کہ ان ملعونوں کو یہ سامان کیوں دے دیا گیا جس سے ان کی شقاوت و شرارت زیادہ بڑھتی ہے یہ دولت مسلمانوں کو ملتی تو اچھے راستہ میں خرچ ہوتی۔ ان کو تھوڑی دیر مزہ اڑا لینے دو ۔ تم کو خدا تعالیٰ نے وہ دولت قرآن دی ہے جس کے آگے سب دولتیں گرد ہیں۔ روایات میں ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ نے قرآن دیا پھر کسی کی اور نعمت دیکھ کر ہوس کرے تو اس نے قرآن کی قدر نہ جانی۔
2 غم نہ کھا کہ مسلمان کیوں نہیں ہوتے۔ آپ فرض تبلیغ ادا کرتے رہیں، معاندین کے پیچھے اپنے کو زیادہ فکرو غم میں مبتلا نہ کیجئے۔ آپ کی شفقت و ہمدردی کے مستحق مومنین ہیں ان کے ساتھ ملاطفت، نرم خوئی اور شفقت و تواضع کا برتاؤ رکھیئے۔
Ayah 15:893 یعنی کوئی مانے یا نہ مانے میں خدا کا پیام صاف صاف پہنچائے دیتا ہوں اور تکذیب و شرارت کے عواقب سے خوب کھول کر آگاہ کر رہا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " تیرا کام دل پھیر دینا نہیں، یہ خدا سے ہوسکتا ہے۔ جو کوئی ایمان نہ لائے تو غم نہ کھا۔ "
Ayahs 15:90–914 اس آیت کے معنی کئی طرح کیے گئے ہیں۔ بعض نے کہا کہ " مُقْتَسِمِیْن " (بانٹنے والوں) سے مراد آپ کے زمانہ کے یہود و نصاریٰ وغیرہ ہیں جنہوں نے قرآن کی تقسیم و تحلیل کر رکھی تھی۔ یعنی جو مضمون قرآنی ان کی تحریفات یا آراء و اہواء کے موافق پڑجائے مان لو، جو خلاف ہو نہ مانو۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تجھے " سبع مثانی " اور " قرآن عظیم " دے کر بھیجا جیسے ان لوگوں پر بھی پہلے کتابیں نازل کی تھیں۔ آپ ﷺ پر کتاب اتارنا یا وحی بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں جس کا انکار کیا جائے بعض نے " مُقْتَسِمِیْنَ " سے یہود و نصاریٰ مراد لے کر لفظ قرآن سے کتب سابق مراد لی ہیں۔ یعنی انہوں نے تحریف کر کے اپنی کتابوں کو پارہ پارہ کر ڈالا بعض نے کہا مشرکین مراد ہیں جو بطور استہزاء و تمسخر قرآن کی تقسیم کرتے تھے۔ جب سورتوں کے نام سنتے تو ہنس کر آپس میں کہتے۔ بقرہ یا مائدہ میں لوں گا۔ عنکبوت تجھ کو دوں گا۔ ان لوگوں نے ایک اور طرح بھی قرآن کے متعلق خیالات تقسیم کر رکھے تھے کوئی اسے شاعری بتاتا، کوئی کہانت، کوئی جادو، کوئی مجنون کی بڑ، کوئی اساطیر الاولین، ان کو آگاہ کیا کہ میں سب کو عذاب سے ڈرانے والا ہوں، جیسا عذاب یقینا نازل ہونے والا ہے ان ٹھٹھا کرنے والوں پر۔ اس وقت " اَنْزَلْنَا " کی تعبیر اس لحاظ سے ہوگی کہ متیقن الوقوع اور قریب الوقوع مستقبل کو گویا ماضی فرض کرلیا گیا۔ ابن کثیر نے " مُقْتَسِمِیْنَ " کے معنی قسم کھانے والوں کے لیے ہیں یعنی وہ گزشتہ قومیں جو انبیاء کی تکذیب و مخالفت کے حلف اٹھا چکی تھیں اور جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتی تھیں اور انہوں نے کتب سماویہ کے ٹکڑے کردیئے تھے۔ جیسا عذاب ہم نے ان پر اتارا، اسی طرح کے عذاب سے یہ " نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ " تم کو ڈراتا ہے " مُقْتَسِمِیْنَ " کے اس معنی کی تائید میں ابن کثیر نے ذیل کی آیات پیش کی ہیں۔ ( تَقَاسَمُوْا باللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ ) 27 ۔ النمل :49) (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ ) 16 ۔ النحل :38) (اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ ) 14 ۔ ابراہیم :44)
(اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ) 7 ۔ الاعراف :49)
Ayahs 15:92–935 یعنی کس کی عبادت کی تھی ؟ پیغمبروں کے ساتھ کس طرح پیش آئے تھے ؟ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کیوں نہ مانا تھا ؟ اس کلمہ کا حق کیوں ادا نہیں کیا تھا ؟ یہ اور اسی قسم کے نہ معلوم کتنے سوالات ہوں گے۔
Ayah 15:946 یعنی کہنے میں کوتاہی نہ کیجئے خوب کھول کر خدائی پیغامات پہنچائیے۔ یہ مشرکین آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔
Ayah 15:957 یعنی دنیا و آخرت میں ہم سب ٹھٹھا کرنے والوں سے نبٹ لیں گے آپ بےخوف و خطر تبلیغ کرتے رہیے آپ کا بال بیکا نہ ہوگا۔
Ayah 15:968 یعنی رسول کے ساتھ استہزاء کرنا اور خدا کے لیے شریک ٹھہرانا، دونوں باتوں کا انجام یہ لوگ دیکھ لیں گے۔
Ayahs 15:97–989 یعنی اگر ان کی ہٹ دھرمی سے دل تنگ ہو تو آپ ان کی طرف سے توجہ ہٹا کر ہمہ تن خدا کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہیے۔ خدا کا ذکر، نماز، سجدہ، عبادت الٰہی وہ چیزیں ہیں جن کی تاثیر سے قلب مطمئن و منشرح رہتا ہے اور فکر و غم دور ہوتے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ کی عادت تھی کہ جب کوئی مہم بات فکر کی پیش آتی آپ ﷺ نماز کی طرف جھپٹتے۔
Ayah 15:9910 یعنی موت۔ یقین کا لفظ دوسری جگہ قرآن نے اسی معنی میں استعمال کیا ہے (وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ 46ۙ حَتّىٰٓ اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ 47ۭ ) 74 ۔ المدثر :46) حدیث میں ایک میت کی نسبت آپ نے فرمایا۔ " اَمَّا ھوَ فَقَدْ جَآءَہُ الْیَقِیْنْ وَاِنِّی لَاَرْجُوْلَہ اَلْخَیْرَ " جمہور سلف نے اس آیت میں " یقین " کو بمعنی موت لیا ہے یعنی مرتے دم تک خدا کی عبادت میں لگے رہیے۔
اندریں رہ میتراش و میخراش تاد مِ آخر دمے فارغ مباش
جن بعض عارفی نے اس جگہ " یقین " کو کیفیت قلبیہ کے معنی میں لیا ہے اس کی توجیہ روح المعانی میں مذکور ہے دیکھ لی جائے۔ تَمَّ سُوْرَۃُ الْحِجْرِ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ وَھوَالْمَسْئُولُ اَنْ یَّتَوَفَّانَا عَلٰی اَکْمَلِ الْاَحْوَالِ وَاَحْسَنِہَا فَاِنَّہ جَوَّادٌ کَرِیْمٌ۔