Ayah 15:411 یعنی بیشک بندگی اور اخلاص کی راہ سیدھی میرے تک پہنچتی ہے اور یہ ہی میرا صاف اور سیدھا راستہ ہے جس میں کوئی ہیر پھیر نہیں کہ جو بندے عبودیت و اخلاص کی راہ اختیار کریں گے وہ ہی شیطان لعین کے تسلط سے مامون رہیں گے۔ بعض مفسرین نے " ہٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ" کو تہدید پر حمل کیا۔ یعنی اوملعون ! لوگوں کو صراط مستقیم سے گمراہ کر کے کہاں بھاگے گا وہ کون سا راستہ ہے جو ہماری طرف نہ جاتا ہو۔ پھر ہماری سزا سے بچ کر کدھر جاسکتا ہے اس وقت کلام ایسا ہوگا جیسے کہتے ہیں " اِفْعَلْ مَاشِئْتَ فَطَرِیْقُکَ عَلَیَّ " اور قرآن میں دوسری جگہ فرمایا (اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ) 89 ۔ الفجر :14) واللہ اعلم۔
Ayah 15:422 یعنی بیشک چنے ہوئے بندوں پر جن کا ذکر اوپر ہوا تیرا کچھ زور نہ چلے گا یا یہ مطلب ہو کہ کسی بندے پر بھی تیری زبردستی نہیں چل سکتی۔ ہاں جو خود ہی بہک کر اپنی جہالت و حماقت سے تیرے پیچھے ہو لیا وہ اپنے اختیار سے خراب و برباد ہوا۔ جیسے پہلے خود شیطان کا مقولہ گزر چکا ( وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ) 14 ۔ ابراہیم :22)
Ayah 15:433 یعنی تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لیے دوزخ کا جیل خانہ تیار ہے تم سب اسی گھاٹ اتارے جاؤ گے۔
Ayah 15:444 بعض سلف نے " سَبَعَۃُ اَبْوَابٍ " سے دوزخ کے سات طبقے اوپر نیچے مراد لیے ہیں، چناچہ ان کے نام ابن عباس نے یہ بتلائے ہیں جہنم 1 ف، سعیر 2 ف، لظیٰ 3 ف، حطمہ 4 ف، سقر 5 ف، جحیم 6 ف، ہاویہ 7 ف۔ اور لفظ " جہنم " ایک خاص طبقہ اور مجموعہ طبقات دونوں پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک سات دروازے مراد ہیں، جن سے الگ الگ دوزخی داخل ہوں گے۔ واللہ اعلم۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جیسے بہشت کے آٹھ دروازے ہیں نیک عمل والوں پر بانٹے ہوئے، ویسے " دوزخ کے ساتھ دروازے ہیں بدعمل والوں پر بانٹے ہوئے۔ شاید بہشت کا ایک دروازہ اس لیے ہے کہ بعضے موحدین نرے فضل سے جنت میں جائیں گے بغیر عمل کے۔ باقی عمل میں دروازے برابر ہیں۔ "
Ayah 15:455 جو لوگ کفر و شرک اور معاصی وذنوب سے پرہیز کرتے ہیں، وہ حسب مراتب جنت کے باغوں میں رہیں گے جہاں بڑے قرینہ سے چشمے اور نہریں بہتی ہوں گی شیطان کے متبعین کے بعد یہ عباد مخلصین کا انجام بیان فرمایا۔
Ayah 15:466 یعنی فی الحال تمام آفتاب و عیوب سے صحیح وسالم اور آئندہ ہمیشہ کے لیے ہر قسم کی فکر، پریشانی، گھبراہٹ اور خوف و ہراس سے بےکھٹکے۔
Ayah 15:477 یعنی جنت میں پہنچ کر اہل جنت میں باہم کوئی گذشتہ کدورت باقی نہ رہے گی۔ بالکل پاک و صاف کر کے داخل کیے جائیں گے، نہ وہاں ایک کو دوسرے پر حسد ہوگا، بلکہ بھائی بھائی ہو کر انتہائی محبت و الفت سے رہیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو دیکھ کر مسرورو محفوظ ہوگا۔ اس کا کچھ بیان سورة اعراف آٹھویں پارہ کے اخیر ربع میں گزر چکا۔
Ayah 15:488 یعنی عزت و کرامت کے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کریں گے، ملاقات وغیرہ کے وقت ایسی نشست نہ ہوگی جس میں کوئی آگے کوئی پیچھے ہو۔
9 حدیث میں ہے کہ جنتیوں سے کہا جائے گا، اے اہل جنت ! اب تمہارے لیے یہ ہے کہ ہمیشہ تندرست رہو، کبھی بیماری نہ ستائے، ہمیشہ زندہ رہو کبھی موت نہ آئے۔ ہمیشہ آرام سے مقیم رہو، کبھی سفر کی تکلیف نہ اٹھانی نہ پڑے۔
Ayahs 15:49–5010 " مجرمین " اور " متقین " کا الگ الگ انجام بیان فرما کر یہاں تنبیہ کی ہے کہ ہر ایک صورت میں حق تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت و شان کا ظہور ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ اصل سے اپنی تمام مخلوق پر بخشش اور مہربانی کرنا چاہتا ہے اور حقیقت میں اصل مہربانی اسی کی ہے، تمام دنیا کی مہربانیاں اس کی مہربانی کا پرتو ہیں لیکن جو شخص خود شرارت و بدکاری سے مہربانی کے دروازے اپنے اوپر بند کرلے تو پھر اس کی سزا بھی ایسی سخت ہے جس کے روکنے کی کوئی تدبیر نہیں۔ سعدی نے خوب فرمایا
بتہدید گر برکشد تیغ حکم بمانند کرو بیاں صم و بکم
وگر در دہدیک صلائے کرم عزازیل گوید نصیبے برم
آگے ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس میں فرشتوں کے اترنے کا ذکر ہے۔ وہ ہی فرشتے ایک جگہ خوشخبری سناتے اور دوسری جگہ پتھر برساتے تھے، تاکہ معلوم ہو کہ خدا کی دونوں صفتیں (رحمت و غضب) پوری ہیں۔ بندوں کو چاہیے نہ دلیر ہوں، نہ آس توڑیں۔
Ayah 15:5111 " مہمان " اس لیے کہا کہ ابراہیم ابتداء انھیں مہمان ہی سمجھے، بعد میں کھلا کہ فرشتے ہیں۔
Ayah 15:5212 دوسری جگہ آیا ہے " وَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیْفَۃً " یعنی خوف کو دل میں چھپایا تو کہا جائے گا کہ ابتداء میں چھپانے کی کوشش کی۔ آخر ضبط نہ کرسکے، زبان سے ظاہر کردیا۔ یا یہ مطلب ہو کہ باوجود چھپانے کے خوف کے آثار چہرہ وغیرہ پر اس قدر عیاں تھے گویا کہہ رہے تھے کہ ہم کو تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔ یہ ڈر کس بات کا تھا ؟ اس کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی وہاں ملاحظہ کی جائے۔ اور اس واقعہ کے دوسرے اجزاء پر بھی جو کلام کیا گیا ہے ضرورت ہے کہ ایک مرتبہ مراجعت کرلی جائے۔
Ayah 15:5313 یعنی ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ خوش ہونے کا موقع ہے۔ اس بڑھاپے میں ہم تم کو اولاد کی خوشخبری سناتے ہیں۔ اولاد بھی کیسی ؟ لڑکا نہایت ہوشیار، بڑا عالم، جسے پیغمبرانہ علوم دے کر منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا۔ (وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :112)
Ayah 15:5414 چونکہ غیر متوقع اور غیر معمولی طور پر خوشخبری سنی، تو پیرانہ سالی کو دیکھتے ہوئے کچھ عجیب سی معلوم ہوئی۔ انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ جب آدمی کوئی مسرت انگیز خبر خلاف توقع غیر معمولی طریقہ سے اچانک سنے تو باوجود یقین آجانے کے اسے خوب کھود کرید کر دریافت کرتا اور لہجہ تعجب کا اختیار کرلیتا ہے، تاخبر دینے والا پوری تاکید و تصریح سے خوشخبری کو دہرائے جس میں نہ کسی قسم کی غلط فہمی کا احتمال رہے نہ تاویل و التباس کا۔ گویا اظہار تعجب سے بشارت کو خوب واضح اور پختہ کرانا اور تکرار سماع سے لذت حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی طرز میں حضرت ابراہیم نے اظہار تعجب فرمایا۔ ابن کثیر کے الفاظ یہ ہیں۔ " قال متعجباً من کبرہ وکبر زوجتہ ومتحققًا للوعد فاجابوہ مؤکدین لمابشروہ بہ تحقیقًا وبشارۃ بعد بشارۃٍ " چونکہ سطح کلام سے ناامیدی کا تو ہم ہوسکتا ہے۔ جو اکابر خصوصاً اولوالعزم پیغمبروں کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے ملائکہ نے ( فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ ) 15 ۔ الجر :55) کہہ کر تنبیہ کی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " معلوم ہوا کہ کاملین بھی (کسی درجہ میں) ظاہری اسباب پر خیال رکھتے ہیں۔ "
Ayahs 15:55–561 یعنی رحمت الٰہیہ سے ناامید تو عام مسلمان بھی نہیں ہوسکتے۔ چہ جائیکہ انبیاء (علیہم السلام) کو معاذ اللہ یہ نوبت آئے محض اسباب عادیہ اور اپنی حالت موجودہ کے اعتبار سے ایک چیز عجیب معلوم ہوئی، اس پر میں نے اظہار تعجب کیا ہے کہ خدا کی قدرت اب بڑھاپے میں مجھے اولاد ملے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " عذاب سے نڈر ہونا اور فضل سے ناامید ہونا دونوں کفر کی باتیں ہیں یعنی آگے کی خبر اللہ کو ہے۔ ایک بات پر دعویٰ کرنا یقین کر کے یوں نہیں ہوسکتا یہ ہی کفر کی بات ہے باقی محض دل کے خیال و تصور پر پکڑ نہیں جب منہ سے دعویٰ کرے تب گناہ ہوتا ہے۔ "
Ayah 15:572 یعنی کیا محض یہ بشارت سنانے کے لیے ہی بھیجے گئے ہو۔ یا کوئی اور مہم ہے جس پر مامور ہو کر آئے ہو۔ غالباً قرائن سے ابراہیم (علیہ السلام) سمجھے کہ اصل مقصد تشریف آوری کا کچھ اور ہے۔ ممکن ہے جو خوف انھیں دیکھ کر پیدا ہوا تھا اسی سے خیال گزرا ہو کہ خالص بشارت لانے والوں کو دیکھ کر خوف کیسا ضرور کوئی دوسری خوفناک چیز بھی ان کے ساتھ ہوگی۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 15:58–603 یعنی وہ باقی کفار کے ساتھ عذاب میں مبتلا رہے گی۔ (تنبیہ) ظاہر ہے کہ (قَدَّرْنَآ ۙاِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :60) مقولہ ملائکہ کا ہے جو عذاب لے کر آئے تھے چونکہ اس وقت وہ قضاوقدر کا فیصلہ نافذ کرنے کے لیے سرکاری ڈیوٹی پر آئے تھے اس لیے تقدیر (ٹھہرانے) کی نسبت نیابۃً اپنی طرف کردی۔ اور ممکن ہے (قَدَّرْنَآ ۙاِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :60) حق تعالیٰ کا کلام ہو۔ تب کوئی اشکال نہیں۔
Ayahs 15:61–624 یا تو یہ مطلب تھا کہ تم مجھے غیر معمولی سے آدمی معلوم ہوتے ہو جنہیں دیکھ کر خواہ مخواہ دل کھٹکتا ہے۔ یہ شاید ویسا ہی کھٹکا ہوگا جو ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں پیدا ہوا تھا یا یہ غرض ہو کہ تم اس شہر میں اجنبی ہو، تم کو یہاں کے لوگوں کی خوئے بدمعلوم نہیں، دیکھئے وہ تمہارے ساتھ کیسا سلوک کریں، یا یہ اس وقت فرمایا جب لوگوں نے فرشتوں کو حسین لڑکے سمجھ کر لوط کے مکان پر چڑھائی کی۔ لوط (علیہ السلام) انھیں مہمان سمجھتے ہوئے امکانی مدافعت کرتے رہے۔ حتٰی کہ آخر میں نہایت حسرت سے فرمایا (لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ ) 11 ۔ ہود :80) اس وقت تنگ ہو کر اور گھبرا کر ان مہمانوں سے کہنے لگے کہ تم عجیب طرح کے آدمی معلوم ہوتے ہو۔ میں تمہاری آبرو بچانے کے لیے خون پسینہ ایک کر رہا ہوں لیکن تم میری امداد کے لیے ذرا ہاتھ بھی نہیں ہلاتے۔
Ayah 15:635 یعنی گھبراؤ مت۔ ہم آدمی نہیں ہیں، ہم تو آسمان سے وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ تم سے جھگڑا کرتے تھے۔ یعنی مہلک عذاب جس کی تم دھمکی دیتے اور یہ انکار کرتے تھے۔
Ayah 15:646 یعنی اب آپ بالکل مطمئن ہوجائیے۔ یہ بالکل پکی اور اٹل بات ہے جس میں قطعاً جھوٹ کا احتمال نہیں۔
Ayah 15:657 یعنی جب تھوڑی رات رہے اپنی گھر والوں کو بستی سے لے کر نکل جائیے اور آپ سب کے پیچھے رہیے تاکہ پورا اطمینان رہے کہ کوئی رہ تو نہیں گیا یا راستہ سے واپس تو نہیں ہوا۔ اس صورت میں آپ کا قلب مطمئن رہے گا اور دل جمعی سے خدا کے ذکر و شکر میں مشغول رہتے ہوئے رفقاء کی دیکھ بھال رکھیں گے۔ دوسری طرف آپ کے بقیہ پیچھے ہونے کی وجہ سے آگے چلنے والوں کو آپ کا رعب مانع ہوگا کہ پیچھے مڑ کر دیکھیں۔ اس طرح (وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ) 15 ۔ الحجر :65) کا پورا امتثال ہوسکے گا اور وہ لوگ خطرہ کے مقام سے بعید رہیں گے اور آپ کو اپنا ظاہری پشتیباں سمجھیں گے۔
8 یعنی ملک شام میں یا اور کہیں امن کی جگہ جو خدا نے ان کے لیے مقرر کی ہوگی۔
Ayah 15:669 یعنی لوط (علیہ السلام) کو ملائکہ کے توسط سے ہم نے اپنا قطعی فیصلہ سنا دیا کہ عذاب کچھ دور نہیں۔ ابھی صبح کے وقت اس قوم کا بالکلیہ استیصال کردیا جائے گا۔ شاید یہ مطلب ہو کہ صبح ہوتے ہی عذاب شروع ہوجائے گا اور اشراق تک سب معاملہ ختم کردیا جائے گا، کیونکہ وہ دوسری جگہ " مُصْبِحِیْنَ " کے بجائے " مُشْرِقِیْنَ " کا لفظ آیا ہے۔
Ayah 15:6710 یعنی جب سنا کہ لوط کے یہاں بڑے حسین و جمیل لڑکے مہمان ہیں تو اپنی عادت بد کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے اور دوڑتے ہوئے ان کے مکان پر آئے اور لوط سے مطالبہ کیا کہ انھیں ہمارے حوالہ کردو (تنبیہ) (وَجَاۗءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ يَسْـتَبْشِرُوْنَ ) 15 ۔ الحجر :67) میں " واؤ " مطلق جمع کے لیے ہے، یہاں ترتیب واقعات بیان میں ملحوظ نہیں سورة ہود اور اعراف میں یہ قصہ گزر چکا ہے اسے دیکھ لیا جائے اور وہاں کے فوائد ملاحظہ کیے جائیں۔
Ayah 15:6811 کیونکہ مہمان کی فضیحت میزبان کی رسوائی ہے۔
Ayah 15:6912 یعنی خدا سے ڈر کر یہ بےحیائی کے کام چھوڑ دو اور اجنبی مہمانوں کو دق مت کرو۔ آخر میں تم میں رہتا ہوں، میری آبرو کا تمہیں کچھ پاس کرنا چاہیے میں مہمانوں کی نظر میں کس قدر حقیر ہوں گا جب یہ سمجھیں گے کہ بستی میں ایک آدمی بھی ان کی عزت نہیں کرتا نہ ان کا کہنا مانتا ہے۔
Ayah 15:7013 یعنی ہم بےآبرو نہیں کرتے آپ خود بےآبرو ہوتے ہیں۔ جب ہم منع کرچکے کہ تم کسی اجنبی کو پناہ مت دو نہ اپنا مہمان بناؤ۔ ہم کو اختیار ہے باہر سے آنے والوں کے ساتھ جس طرح چاہیں پیش آئیں۔ پھر آپ کو کیا ضرورت پیش آئی کہ خواہ مخواہ ان نوجوانوں کو اپنے یہاں ٹھہرا کر فضیحت ہوئے۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ اجنبی مسافروں کو اپنے افعال شنیعہ کا تختہ مشق بناتے ہوں گے اور حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے مقدور کے موافق غریب مسافروں کی حمایت اور ان اشقیاء کو نالائق حرکتوں سے باز رکھتے ہوں گے۔
Ayah 15:7114 یعنی بیشک تم نے مجھ کو اجنبی لوگوں کی حمایت سے روکا لیکن میں پوچھتا ہوں آخر اس روکنے کا منشاء کیا ہے ؟ یہ ہی نہ کہ میں تمہاری خلاف فطرت شہوت رانی کے راستہ میں حائل ہوتا ہوں۔ تو خود غور کرو کیا قضائے شہوت کے حلال مواقع تمہارے سامنے موجود نہیں جو ایسی بیہودہ حرام کاری کے مرتکب ہوتے ہو ؟ یہ تمہاری بیویاں (جو میری بیٹیوں کے برابر ہیں) تمہارے گھروں میں موجود ہیں، اگر تم میرے کہنے کے موافق عمل کرو اور قضائے شہوت کے مشروع و معقول طریقہ پر چلو، تو حاجت براری کے لیے وہ کافی ہیں۔ یہ کیا آفت ہے کہ حلال اور ستھری چیز کو چھوڑ کر حرام کی گندگی میں ملوث ہوتے ہو۔
Ayah 15:7215 ظاہر یہ ہے کہ یہ خطاب حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو ہے۔ یعنی تیری جان کی قسم لوط کی قوم غفلت اور مستی کے نشہ میں بالکل اندھی ہو رہی تھی وہ بڑی لاپروائی سے حضرت لوط کی نصیحت بلکہ لجاجت کو ٹھکرا رہے تھے۔ ان کو اپنی قوت کا نشہ تھا، شہوت پرستی نے ان کے دل و دماغ مسخ کردیے تھے۔ وہ بڑے امن و اطمینان کے ساتھ پیغمبر خدا سے جھگڑ رہے تھے۔ نہیں جانتے تھے کہ صبح تک کیا حشر ہونے والا ہے۔ تباہی اور ہلاکت کی گھڑی ان کے سر پر منڈلا رہی تھی، وہ لوط کی باتوں پر ہنستے تھے اور موت انھیں دیکھ کر ہنس رہی تھی (تنبیہ) ابن عباس نے فرمایا خدا تعالیٰ نے دنیا میں کوئی جان محمد ﷺ کی جان سے زیادہ اکرم و اشرف پیدا نہیں کی۔ میں نے خدا کو نہیں سنا کہ اس نے محمد ﷺ کی جان عزیز کے سوا کسی دوسری جان کی قسم کھائی ہو۔ قرآن کریم میں جو قسمیں آئی ہیں ان کے متعلق ہم انشاء اللہ کسی دوسری جگہ ذرا مفصل کلام کریں گے۔
Ayah 15:731 اس کے متعلق ہم قریب ہی (اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۗءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ ) 15 ۔ الحجر :66) کے فائدہ میں کلام کرچکے ہیں۔ ابن جریج کا قول ہے کہ ہر عذاب جس سے کوئی قوم ہلاک کی جائے " صحیحہ " اور " صاعقہ " کہلاتا ہے۔
Ayah 15:742 اس کی تفصیل سورة ہود وغیرہ میں گزر چکی۔
Ayah 15:753 " متوسم " اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بعض ظاہری علامات و قرائن دیکھ کر محض فراست سے کسی پوشیدہ بات کا پتہ لگالے۔ حدیث میں ہے " اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہ، یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ " بعض روایات میں " وَبِتَوْفِیْقِ اللّٰہِ " کی زیادت ہے، یعنی مومن کی فراست سے ڈرتے رہو، وہ خدا تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے نور توفیق سے دیکھتا ہے۔ شاید " کشف " اور " فراست " میں بقول امیر عبدالرحمن خاں مرحوم اتنا ہی فرق ہو جتنا ٹیلیفون اور ٹیلیگراف میں ہوتا ہے۔ بہرحال آیت کا مطلب یہ ہے کہ دھیان کرنے اور پتہ لگانے والوں کے لیے " قوم لوط " کے قصہ میں عبرت کے بہت نشان موجود ہیں۔ انسان سمجھ سکتا ہے کہ بدی اور سرکشی کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ خدا کی قدرت عظیمہ کے سامنے ساری طاقتیں ہیچ ہیں۔ " اس کی لاٹھی میں آواز نہیں۔ " اس کی مہلت پر آدمی مغرور نہ ہو، نہ پیغمبروں کے ساتھ ضد اور عداوت باندھے، ورنہ ایسا ہی حشر ہوگا۔ وغیر ذلک۔
Ayah 15:764 مکہ سے شام کو جاتے ہوئے اس الٹی ہوئی بستی کے کھنڈر نظر آتے ہیں۔ (وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ ۔ وَبِالَّيْلِ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) 37 ۔ الصافات :137)
Ayah 15:775 یعنی ان کھنڈرات کو دیکھ کر بالخصوص مومنین کو عبرت ہوتی ہے، کیونکہ وہ ہی سمجھتے ہیں کہ اس قوم کی بدکاری اور سرکشی کی سزا میں یہ بستیاں الٹی گئیں۔ مومنین کے سوا دوسرے لوگ تو ممکن ہے انھیں دیکھ کر محض بخت و اتفاق یا اسباب طبیعہ کا نتیجہ قرار دیں۔
Ayah 15:786 بن کے رہنے والے یعنی قوم شعیب شہر " مدین " میں رہتے تھے جس کے نزدیک درختوں کا بن تھا کچھ وہاں رہتے ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں " اصحاب أیکہ " اور " اصحاب مدین " دو جدا گانہ قومیں ہیں۔ حضرت شعیب دونوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ ان لوگوں کا گناہ شرک و بت پرستی، ڈاکہ زنی اور ناپ تول میں فریب اور دھوکہ کرنا تھا۔ پہلے سورة ہود و اعراف میں ان کا مفصل قصہ گزر چکا ہے ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 15:797 یعنی حجاز و شام کے جس راستہ پر قوم لوط کی بستیاں تھیں، وہیں ذرا نیچے اتر کر قوم شعیب کا مسکن تھا دونوں کے آثار راستہ چلنے والوں کو نظر آتے ہیں۔
Ayah 15:808 " حجر والے " فرمایا " ثمود " کو۔ ان کے ملک کا نام " حجر " تھا جو مدینہ سے شمال کی طرف واقع ہے۔ ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ ایک نبی کا جھٹلانا سب انبیاء کا جھٹلانا ہے۔