12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

پھر جاؤ اپنے باپ کے پاس اور کہو اے باپ تیرے بیٹے نے تو چوری کی اور ہم نے وہی کہا تھا جو ہم کو خبر تھی اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا2

2 یعنی مجھے چھوڑ دو اور تم سب جا کر باپ سے عرض کرو کہ ایسا واقعہ پیش آیا، جس کی کوئی توقع نہ تھی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تم کو قول دیا تھا کہ اپنی دانست پر۔ یہ کیا خبر تھی کہ بنیامین چوری کر کے پکڑا جائے گا۔ یا ہم نے چور کو پکڑ رکھنا بتایا اپنے دین کے موافق۔ یہ نہ معلوم تھا کہ " بھائی چور ہے۔ "
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور پوچھ لے اس بستی سے جس میں ہم تھے، اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں3

3 یعنی آپ معتبر آدمی بھیج کر اس بستی والوں سے تحقیق کرلیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔ نیز دوسرے قافلہ والوں سے دریافت فرما لیں جو ہمارے ساتھ رہے اور واپس آئے ہیں۔ آپ کو ثابت ہوجائے گا کہ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

بولا کوئی نہیں، بنالی ہے تمہارے جی نے ایک بات اب صبر ہی بہتر ہے شاید اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو وہی ہے خبردار حکمتوں والاف 4

4 پہلی بار کی بےاعتباری سے اس مرتبہ بھی حضرت یعقوب نے بیٹوں کا اعتبار نہ کیا۔ لیکن نبی کا کلام جھوٹ نہیں۔ بیٹوں کی بنائی بات تھی۔ حضرت یوسف بھی بیٹے تھے۔ " کذا فی الموضح " گویا " لَکُمْ " کا خطاب جنس ابناء کی طرف ہوا۔ واللہ اعلم۔ بعض مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ تم یہاں سے حفاظت کے کیسے وعدے کر کے اصرار کے ساتھ لے گئے وہاں پہنچ کر اتنا بھی نہ کہا کہ اس کے اسباب میں سے پیالہ برآمد ہونے سے چوری کیسے ثابت ہوگئی، شاید کسی نے چھپا دیا ہو۔ مدافعت تو کیا کرتے یہ کہہ کر کہ پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی اس کے جرم کو پختہ کردیا۔ تمہارے دل میں کھوٹ نہ ہو تو یہ طرز عمل اختیار نہ کرتے۔ اب باتیں بنانے کے لیے آئے ہو۔ بہرحال میں تو اس پر بھی صبر ہی کروں گا کوئی حرف شکایت زبان پر نہ لاؤں گا۔ خدا کی قدرت و رحمت سے کیا بعید ہے کہ یوسف، بنیامین، اور وہ بھائی جو بنیامین کی وجہ سے رہ گیا ہے سب کو میرے پاس جمع کر دے۔ وہ سب کے احوال سے خبردار ہے اور ہر ایک کے ساتھ اپنی حکمت کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ہر قسم کے یاس انگیز احوال اور مرور دھور کے بعد بھی انبیاء کے قلوب مایوس نہیں ہوسکتے۔ وہ ہمیشہ خدا کی رحمت واسعہ پر اعتماد کرتے اور الطاف و منن کے امیدوار رہتے ہیں۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور الٹا پھرا ان کے پاس سے، اور بولا اے افسوس یوسف پر5 اور سفید ہوگئیں آنکھیں اس کی غم سے6 سو وہ آپ کو گھونٹ رہا تھا7

5 نیا زخم کھا کر پرانا زخم ہرا ہوگیا۔ بےاختیار پکار اٹھے " یٰا اَسَفٰی عَلٰی یُوْسُف " (ہائے افسوس یوسف) 6 یعنی بےرونق یا بےنور ہوگئیں۔ علی اختلاف القولین۔ 7 حدیث میں ہے " نَحْنُ مَعَاشِرَ الْاَنْبِیَآءِ اَشَدُّ بَلائً ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمَثْلُ " یعنی انبیاء کی جماعت حق تعالیٰ کی طرف سے سخت ترین امتحانوں میں مبتلاء کی جاتی ہے۔ پھر امتحان کی اقسام ہیں۔ ہر نبی کو حق تعالیٰ اپنی حکمت اور اس کی استعداد کے موافق جس قسم کے امتحان میں چاہے مبتلا کرتا ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) کے قلب میں یوسف کی فوق العادت محبت ڈال دی پھر ایسے محبوب اور ہونہار بیٹے کو جو خاندان ابراہیمی کا چشم و چراغ تھا، ایسے دردناک طریقے سے جدا کیا گیا۔ غمزدہ اور زخم خوردہ یعقوب کے جگر کو اس روح فرسا صدمہ نے کھالیا تھا۔ وہ کسی مخلوق کے سامنے نہ حرف شکایت زبان پر لاتے تھے نہ کسی سے انتقام لیتے، نہ غصہ نکالتے۔ غم کی بات منہ سے نہ نکلتی۔ ہاں جب اپنے کو بہت گھونٹتے تو دل کا بخار آنکھوں کی راہ سے ٹپک پڑتا۔ بیسیویں برس تک چشم گریاں اور سینہ بریاں کے باوجود ادائے فرائض و حقوق میں کوئی خلل نہ پڑنے دیا۔ ان کا دل جتنا یوسف کے فراق میں روتا تھا، اتنا ہی خدا کے حضور میں زیادہ گڑ گڑاتا تھا۔ درد و غم کی شدت اور اشکباری کی کثرت جس قدر ان کی بصارت کو ضعیف کرتی اسی قدر نور بصیرت کو بڑھا رہی تھی۔ بےتابی و اضطراب کا کیسا ہی طوفان اٹھتا، دل پکڑ کر اور کلیجہ مسوس کر رہ جاتے زبان سے اف نہ نکالتے، بنیامین کی جدائی سے جب پرانے زخم میں نیا چرکا لگا تو اس وقت بےاختیار " یا اسفی علی یوسف " صرف اتنا لفظ زبان سے نکلا۔ بقول حضرت شاہ صاحب " ایسا درد اتنی مدت دبا رکھنا پیغمبر کے سوا کس کا کام ہوسکتا ہے۔ "
Ayahs 12:85–86

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

کہنے لگے قسم اللہ کی تو نہ چھوڑے گا یوسف کی یاد کو جب تک کہ گھل جائے یا ہوجائے مردہ

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

بولا میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب اور غم اللہ کے سامنے اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے8

8 موضح القرآن میں ہے۔ یعنی کیا تم مجھ کو صبر سکھاؤ گے ؟ بےصبر وہ ہے جو مخلوق کے آگے خالق کے بھیجے ہوئے درد کی شکایت کرے۔ میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ (یوسف زندہ ہے ضرور ملے گا اور اس کا خواب پورا ہو کر رہے گا) یہ مجھ پر آزمائش ہے دیکھوں کس حد پر پہنچ کر بس ہو۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے بیٹو جاؤ اور تلاش کرو یوسف کی اور اس کے بھائی کی اور ناامید مت ہو اللہ کے فیض سے بیشک ناامید نہیں ہوتے اللہ کے فیض سے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں1

1 یعنی حق تعالیٰ کی مہربانی اور فیض سے ناامید ہونا کافروں کا شیوہ ہے۔ جنہیں اس کی رحمت واسعہ اور قدرت کاملہ کی صحیح معرفت نہیں ہوتی۔ ایک مسلمان کا کام یہ ہے کہ اگر پہاڑ کی چٹانوں اور سمندر کی موجوں کے برابر مایوس کن حالات پیش آئیں تب بھی خدا کی رحمت کا امیدوار رہے اور امکانی کوشش میں پست ہمتی نہ دکھلائے۔ جاؤ کوشش کر کے یوسف کا کھوج لگاؤ اور اس کے بھائی بنیامین کے چھڑانے کا کوئی ذریعہ تلاش کرو۔ کچھ بعید نہیں کہ حق تعالیٰ ہم سب کو پھر جمع کر دے۔ تیسرے بھائی کا ذکر شاید اس لیے نہیں کیا کہ وہ باختیار خود محض بنیامین کی وجہ سے رکا ہے۔ بنیامین چھوٹ جائے تو وہ کیوں پڑا رہے گا۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب داخل ہوئے اس کے پاس بولے اے عزیز پڑی ہم پر اور ہمارے گھر پر سختی اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص سو پوری دے ہم کو بھرتی اور خیرات کر ہم پر اللہ بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو2

2 باپ کے فرمانے پر مصر کو پھر روانہ ہوئے۔ کیونکہ یوسف کا پتہ معلوم نہ تھا۔ یہ خیال کیا ہوگا کہ جس کا پتہ معلوم ہے (بنیامین) پہلے اس کی فکر کریں اور قحط کی وجہ سے غلہ کی ضرورت سے، عزیز کو ادھر بھی توجہ دلائیں۔ اگر دینے لینے کے معاملہ میں کچھ نرم پایا تو بنیامین کے متعلق گفت و شنید کریں گے۔ چناچہ پہلی بات انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے یہ ہی کہی کہ اے عزیز مصر ! آجکل قحط و ناداری کی وجہ سے ہم پر اور ہمارے گھر پر بڑی سختی گزر رہی ہے۔ سب اسباب گھر کا بک گیا۔ کچھ نکمی اور حقیر سے پونجی رہ گئی ہے وہ غلہ خریدنے کے لیے ساتھ لائے ہیں آپ کے مکارم اخلاق اور گزشتہ مہربانیوں سے امید ہے کہ ہماری ناقص چیزوں کا خیال نہ فرمائیں گے اور تھوڑی قیمت میں غلہ کی مقدار گزشتہ کی طرح پوری دلوا دیں گے۔ یہ رعایت حقیقت میں ایک طرح کی خیرات ہوگی جو آپ ہم پر کریں گے یا اس کے علاوہ ہم کو بطور خیرات ہی کچھ دے دیجئے خدا آپ کا بھلا کرے گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) یہ حال سن کر رو پڑے، شفقت و رحم دلی کا چشمہ دل میں جوش مار کر آنکھوں سے ابل پڑا۔ اس وقت حق تعالیٰ کے حکم سے اپنے تئیں ظاہر کیا کہ میں کون ہوں اور تم نے میرے ساتھ جو معاملہ کیا تھا، اس کے بعد میں کس مرتبہ پر پہنچا ہوں، اگلی آیت میں اسی اظہار کی تمہید ہے (تنبیہ) بعض نے تصدق کے معنی مطلق احسان کرنے کے لیے ہیں۔ جیسے " قصر صلوٰۃ " کی حدیث میں " صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِہَا عَلَیْکُمْ ۔ "
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

کہا کچھ تم کو خبر ہے کہ کیا کیا تم نے یوسف سے اور اس کے بھائی سے3 جب تم کو سمجھ نہ تھی4

3 یعنی دونوں میں جدائی ڈالی اور دونوں سے بیر رکھا۔ 4 اللہ اکبر۔ صبر اور مروت و اخلاق کی حد ہوگئی کہ تمام عمر بھائیوں کی شکایت کا ایک حرف زبان پر نہ لائے۔ اتنا سوال بھی اس لیے کیا کہ وہ لوگ اپنے ذہنوں میں بیسیوں برس پہلے کے حالات کو ایک مرتبہ مستحضر کرلیں تاکہ ماضی و حال کے موازنہ سے خدا تعالیٰ کے احسانات کی حقیقت روشن ہو، جو یوسف پر ان مصائب و حوادث کے بعد ہوئے جن کی طرف آگے (قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا) 12 ۔ یوسف :90) میں اشارہ ہے۔ پھر سوال کا پیرایہ ایسا نرم اختیار کیا۔ جس میں ان کے جرم سے زیادہ معذرت کا پہلو نمایاں ہے یعنی جو حرکت اس وقت تم سے صادر ہوئی ناسمجھی اور بیوقوفی سے ہوگئی۔ تمہیں کیا معلوم تھا کہ یوسف کا خواب پورا ہو کر اور ہلال ایک روز بدر بن کر رہے گا۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

بولے کیا سچ تو ہی ہے یوسف5 کہا میں یوسف ہوں اور یہ ہے میرا بھائی6 اللہ نے احسان کیا ہم پر7 البتہ جو کوئی ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ضائع نہیں کرتا حق نیکی والوں کا8

5 ممکن ہے اس سوال سے گھبرائے ہوں کہ اتنی مدت کے بعد یہ کون گھر کا بھیدی نکل آیا۔ پھر عزیز مصر کو یوسف کے قصہ سے کیا مطلب۔ غیر معمولی مہربانیاں اور بنیامین کے ساتھ خصوصی برتاؤ پہلے سے دیکھ ہی رہے تھے۔ اس سوال نے دفعتاً ان کا ذہن ادھر منتقل کردیا ہو کہ کہیں یوسف جسے ہم نے مصری قافلہ کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا یہ ہی تو نہیں ہے۔ جب ادھر توجہ ہوئی تو بغور دیکھا ہوگا اور ممکن ہے یوسف نے خود بھی اپنے کو اس دفعہ زیادہ واضح طور پر پیش کیا ہو، یا تصریحاً کہہ دیا ہو کہ میں یوسف ہوں۔ غرض وہ سخت متعجب و حیرت زدہ ہو کر بول اٹھے۔ " اِنَّکَ لَاَ نْتَ یُوْسُفٌ" (سچ بتاؤ کیا تم ہی یوسف ہو ؟ ) 6 جدائی کو ملاپ سے، ذلت کو عزت سے، تکلیف کو راحت سے، تنگی کو عیش سے بدل دیا۔ جو غلام بنا کر چند دراہم میں فروخت کیا گیا تھا، آج خدا نے اسے ملک مصر کی حکومت بخشی۔ 8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جس پر تکلیف پڑے اور وہ شرع سے باہر نہ ہو اور گھبرائے نہیں تو آخر بلاء سے زیادہ عطاء ہو۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

بولے قسم اللہ کی، البتہ پسند کرلیا تجھ کو اللہ نے ہم سے اور ہم تھے چوکنے والے9

9 یعنی تجھ کو ہر حیثیت سے ہم پر فضیلت دی اور تو اسی لائق تھا، ہماری غلطی اور بھول تھی کہ تیری قدر نہ پہچانی، آخر تیرا خواب سچا اور ہمارا حسد بیکار ثابت ہوا۔
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

کہا کچھ الزام نہیں تم پر آج بخشے اللہ تم کو10 اور وہ ہے سب مہربانوں سے مہربان11

10 یوسف (علیہ السلام) بھائیوں سے اتنا بھی سننا نہیں چاہتے تھے فرمایا، یہ تذکرہ مت کرو آج میں تمہیں کوئی الزام نہیں دیتا۔ تمہاری سب غلطیاں معاف کرچکا ہوں۔ جو لفظ میں نے کہے محض حق تعالیٰ کا احسان اور صبر وتقویٰ کا نتیجہ ظاہر کرنے کی نیت سے کہے آج کے بعد تمہاری تقصیر کا ذکر بھی نہ ہوگا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ تم نے جو خطائیں خدا تعالیٰ کی کی ہیں، وہ بھی معاف کر دے۔ 11 میری مہربانی بھی اس کی مہربانی کا ایک پر تو ہے۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

لے جاؤ یہ کرتہ میرا اور ڈالو اس کو منہ پر میرے باپ کے کہ چلا آئے آنکھوں سے دیکھتا ہوا، اور لے آؤ میرے پاس گھر اپنا سارا12

12 یعنی میں بحالت موجودہ شام کا سفر نہیں کرسکتا۔ تم جاؤ والدین اور اپنے سب متعلقین کو یہاں لے آؤ۔ چونکہ والد بزرگوار کی نسبت وحی سے یا بھائیوں کی زبانی معلوم ہوا ہوگا کہ بینائی نہیں رہی یا نگاہ میں فرق آگیا ہے، اس لیے اپنا قمیص دے کر فرمایا کہ یہ ان کی آنکھوں کو لگا دینا بینائی بحال ہوجائے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے۔ آنکھیں گئی تھیں ایک شخص کے فراق میں، اسی کے بدن کی چیز ملنے سے چنگی ہوئیں۔ یہ کرامت تھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی۔ " اور کرامت نہ کہیں تب بھی آجکل واقعات و مشاہدات کی بنا پر یہ بات مان لی گئی ہے کہ کسی سخت صدمہ یا غیر معمولی خوشی کے اثر سے بعض نابینا دفعتاً بینا ہوگئے ہیں۔
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب جدا جدا ہوا قافلہ کہا ان کے باپ نے میں پاتا ہوں بو یوسف کی13 اگر نہ کہو مجھ کو بوڑھا بہک گیا14

13 خدا کی قدرت یوسف مصر میں موجود ہیں کبھی نہ کہا کہ یوسف کی خوشبو آتی ہے۔ کیونکہ خدا کو امتحان پورا کرنا تھا۔ اب بلانے کی ٹھری تو ادھر قافلہ یوسف کا قمیص لے کر مصر سے نکلا ادھر پیراہن یوسفی کی خوشبو یعقوب کے مشام جان کو معطر کرنے لگی۔ ایک یہ کیا ' پورا واقعہ ہی عجائب قدرت کا ایک مرقع ہے یعقوب جیسے مشہور و معروف پیغمبر شام میں رہیں اور یوسف جیسی جلیل القدر شخصیت مصر میں بادشاہت کرے۔ یوسف کے بھائی کئی مرتبہ مصر آئیں، خود یوسف کے مہمان بنیں اس کے باوجود خداوند قدوس کی حکمت غامضہ اور مشیت قاہرہ کا ہاتھ باپ کو بیٹے سے بیسیوں برس تک علیٰحدہ رکھے اور خون کے آنسو رلا کر امتحان کی تکمیل کرائے، " جَلَّتْ قُدْرَتُہ، وَعَزَّ سُلْطَانَہ،" 14 یعنی یہ بات کہتے ہوئے جھجکتا ہوں۔ کیونکہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی کہہ دو گے، بڈھا سٹھیا گیا ہے۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

لوگ بولے قسم اللہ کی توُ تو اپنی اسی قدیم غلطی میں ہے1

1 یعنی یوسف کی محبت اس کے زندہ ہونے اور دوبارہ ملنے کا یقین تیرے دل میں جاگزیں ہے۔ وہ ہی پرانے خیالات ہیں جو یوسف کی خوشبو بن کر دماغ میں آتے ہیں۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب پہنچا خوشخبری والا ڈالا اس نے وہ کرتہ اس کے منہ پر پھر لوٹ کر ہوگیا دیکھنے والاف 2 بولا میں نے نہ کہا تھا تم کو کہ میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے3

2 یعنی بینائی واپس آگئی، دوبارہ حسب سابق نظر آنے لگا۔ 3 یعنی میں نے کہا تھا یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ آخر سچ ہوا۔ یا بیٹوں کو کہا تھا کہ یوسف کو تلاش کرو۔ اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ ہم سب کو پھر اکٹھا کر دے۔ دیکھ لو وہ ہی صورت ہوئی۔
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بولے اے باپ بخشوا ہمارے گناہوں کو بیشک ہم تھے چوکنے والے4

4 یعنی توجہ اور دعا کر کے خدا سے ہمارے گناہ معاف کرائیے ہم سے بڑی بھاری خطائیں ہوئی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ پہلے آپ معاف کردیں۔ پھر صاف دل ہو کر بارگاہ رب العزت سے معافی دلوائیں کیونکہ جو خود نہ بخشے وہ خدا سے کہاں بخشوائے گا۔
Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

کہا دم لو بخشواؤں گا تم کو اپنے رب سے وہی ہے بخشنے والا مہربان5

5 یعنی قبول کی گھڑی آنے دو ، اس وقت اپنے مہربان خدا کے آگے تمہارے لئے ہاتھ اٹھاؤں گا ' کہتے ہیں جمعہ کی شب یا تہجد کے وقت کا انتظار تھا۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب داخل ہوئے یوسف کے پاس جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو، اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے6

6 شہر سے باہر استقبال کو نکلے۔ ماں باپ کو اپنے قریب جگہ دی (اس میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض کا قول ہے کہ حضرت یوسف کی والدہ پیشتر وفات پاچکی تھیں۔ جیسا کہ سابق فوائد میں گزر چکا یہاں خالہ کا ذکر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ والدہ حیات تھیں۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ مصر تشریف لائی تھیں) سب کو فرمایا شہر میں چلو، قحط وغیرہ کا اب کچھ اندیشہ مت کرو۔ انشاء اللہ بالکل دل جمعی اور راحت و اطمینان سے رہو گے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ الفاظ شہر میں پہنچ کر کہے۔ گویا ( وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :99) کے معنی ہوئے مصر میں قیام کرو بےکھٹکے۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر اور سب گرے اس کے آگے سجدہ میں7 اور کہا اے باپ یہ بیان ہے میرے اس پہلے خواب کا اس کو میرے رب نے سچ کردیا8 اور اس نے انعام کیا مجھ پر جب مجھ کو نکالا قید خانہ سے اور تم کو لے آیا گاؤں سے بعد اس کے کہ جھگڑا ڈال چکا تھا شیطان مجھ میں اور میرے بھائیوں میں میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے بیشک وہی ہے خبردار حکمت والاف 9

7 یوسف نے اپنی طرف سے والدین کی تعظیم کی، تخت پر بٹھلایا لیکن خدا کو یوسف کی جو تعظیم کرانی تھی اسے یوسف کب روک سکتے تھے۔ اس وقت کے دستور کے موافق ماں باپ اور سب بھائی یوسف (علیہ السلام) کے آگے سجدہ میں گرپڑے۔ یہ سجدہ تعظیمی تھا، جو بقول حافظ عماد الدین ابن کثیر آدم کے زمانہ سے مسیح (علیہ السلام) کے عہد تک جائز رہا۔ البتہ شریعت محمدیہ نے ممنوع و حرام قرار دیا۔ جیسا کہ احادیث کثیرہ اس پر شاہد ہیں بلکہ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) نے وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ الخ سے حرمت کا اشارہ نکالا ہے۔ بعض مفسرین نے اس جگہ سجدہ کے معنی متبادر مراد نہیں لیے۔ محض جھک جانے کے معنی لیے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سجدہ یوسف کو نہ تھا بلکہ یوسف کی عزت و عظمت دیکھ کر سب نے خدا کے سامنے سجدہ شکر ادا کیا۔ اس تقدیر پر وَخَرُّوْالَہ، میں لام سببیہ ہوگا۔ یعنی یوسف کے عروج و اقتدار کے سبب سے خدا کے آگے سجدہ میں گرپڑے (تنبیہ) تعظیم اور عبادت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ غیر اللہ کی تعظیم کلیۃً ممنوع نہیں، البتہ غیر اللہ کی عبادت شرک جلی ہے۔ جس کی اجازت ایک لمحہ کے لیے کبھی نہیں ہوئی، نہ ہوسکتی ہے " سجود عبادت " یعنی غیر اللہ کو کسی درجہ میں نفع و ضرر کا مستقل مالک سمجھ کر سجدہ کرنا شرک جلی ہے جس کی اجازت کبھی کسی ملت سماوی میں نہیں ہوئی۔ ہاں " سجود تعظیم " یعنی عقیدہ مذکورہ بالا سے خالی ہو کر محض تعظیم و تکریم کے طور پر سربسجود ہونا شرائع سابقہ میں جائز تھا۔ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم نے اس کی بھی جڑ کاٹ دی۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ " میں اقسام شرک پر جو دقیق بحث کی ہے اسے دیکھنا چاہیے۔ 8 یعنی میرا اس میں کچھ دخل نہیں۔ خواب کی تعبیر پوری ہوئی تھی وہ خدا نے پوری کر دکھائی۔ 9 خدا تعالیٰ کے احسانات ذکر فرمائے اور اس کی تدبیر لطیف کی طرف توجہ دلائی کہ کس طرح مجھ کو قید سے نکال کر ملک کا حاکم مختار بنادیا اور اس جھگڑے کے بعد جو شیطان نے ہم بھائیوں میں ڈال دیا تھا جب کہ کوئی امید دوبارہ ملنے کی نہ رہی، کیسے اسباب ہمارے ملاپ کے فراہم کردیے اس موقع پر اپنی مصائب و تکالیف کا کچھ ذکر نہ کیا، نہ کوئی حرف شکایت زبان پر لائے، بلکہ بھائیوں کے واقعہ کی طرف بھی ایسے عنوان سے اشارہ کیا کہ کسی فریق کی زیادتی یا تقصیر ظاہر نہ ہونے پائے۔ مبادا بھائی سن کر محجوب ہوں۔ اللہ اکبر، یہ اخلاق پیغمبروں کے سوا کس میں ہوتے ہیں۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے رب تو نے دی مجھ کو کچھ حکومت اور سکھایا مجھ کو کچھ پھیرنا باتوں کا10 اے پیدا کرنے والے آسمان اور زمین کے تو ہی میرا کار ساز ہے دنیا میں اور آخرت میں موت دے مجھ کو اسلام پر1 اور ملا مجھ کو نیک بختوں میں2

10 اسی سورت کے پہلے رکوع میں " تَاْوِیْلَ الْاَحَادِیْثِ " کی تفسیر گزر چکی ہے۔ 1 یا تو لقاء اللہ کے شوق میں فی الحال موت کی تمنا کی یا یہ مطلب ہے کہ جب کبھی موت آئے اسلام (یعنی کامل تسلیم و رضاء) پر آئے۔ (تنبیہ) حدیث میں آیا ہے کہ کوئی شخص کسی مصیبت اور تکلیف سے گھبرا کر موت کی تمنا نہ کرے۔ اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ جب لقاء اللہ یا اور کسی غرض صالح کی وجہ سے موت کی تمنا کرسکتا ہے جیسے ساحرین فرعون نے دعا کی تھی " رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبَرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ " یا حضرت مریم نے کہا تھا (قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا) 19 ۔ مریم :23) اور معاذ کی حدیث میں ہے " وَاِذَا اَرَدَّتَّ بِقَوْمٍ فِتْنَۃً فَاَقْبِضِیْ اِلَیْکِ غَیرَ مَفْتُوْنٍ " اور مسند احمد میں حدیث ہے یِکْرَہُ الْمَوْتَ وَالْمَوْتُ خَیْرٌ لِّلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتَنِ حضرت علی نے ہجوم فتن کے وقت دعاء کی " اَللّٰہُمَّ خُذْنِیْ اِلَیْکَ فَقَدْ سَمِتَہُمْ وَسَئِمُوْنِیْ " امام بخاری کو جب امیر خراسان کے ساتھ جھگڑا پیش آیا تو یہ دعا کرنی پڑی۔ " اَللّٰہُمَّ تَوَفَّنِیْ اِلَیْکَ " حدیث میں ہے کہ خروج دجال کے وقت ایک شخص کسی قبر پر گزرے گا اور فتن زلازل کو دیکھ کر کہے گا۔ " یَا لَیْتَنِیْ مَکَانَکَ " کاش کہ میں تیری جگہ ہوتا۔ 2 یہ لفظ ایسے ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ مرض الموت میں فرماتے تھے " اَللّٰہُمَّ فِیْ الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی " حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " علم کامل پایا، دولت کامل پائی، اب شوق ہوا اپنے باپ دادا کے مراتب کا "۔ گویا اَلْحِقْنِیْ بالصَّالِحِیْنَ سے یہ غرض ہوئی کہ میرا مرتبہ اسحاق و ابراہیم کے مراتب سے ملا دے۔ حضرت یعقوب کی زندگی تک ملکی انتظامات میں رہے۔ ان کی وفات کے بعد اپنے اختیار سے چھوڑ دیا۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب نے وصیت فرمائی تھی کہ میری لاش " شام " لے جا کر دفن کرنا۔ چناچہ جنازہ وہیں لے گئے۔ حضرت یوسف نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا جب " بنی اسرائیل " مصر سے نکلیں گے۔ اس وقت میری لاش بھی اپنے ہمراہ لے جائیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے، حضرت یوسف کا تابوت بھی ساتھ لے گئے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

یہ خبریں ہیں غیب کی ہم بھیجتے ہیں تیرے پاس اور تو نہیں تھا ان کے پاس جب وہ ٹھہرانے لگے اپنا کام اور فریب کرنے لگے3

3 یعنی برادران یوسف جب ان کو باپ سے جدا کرنے اور کنوئیں میں ڈالنے کے مشورے اور تدبیریں کر رہے تھے آپ ان کے پاس نہیں کھڑے تھے کہ ان کی باتیں سنتے اور حالات کا معائنہ کرتے۔ پھر ایسے صحیح واقعات بجز وحی الٰہی کے آپ کو کس نے بتائے۔ آپ رسمی طور پر پڑھے لکھے نہیں، کسی ظاہری معلم سے استفادہ کی نوبت نہیں آئی پھر یہ حقائق جن کی اس قدر تفصیل بائبل میں بھی نہیں، آپ کو خدا کے سوا کس نے معلوم کرائیں۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور اکثر لوگ نہیں ہیں یقین کرنے والے اگرچہ تو کتنا ہی چاہے4

4 باوجودیکہ آپ کی صداقت پر ایسی واضح دلائل موجود ہیں، پھر بھی اکثر لوگ وہ ہیں جو کسی طرح ایمان لانے والے نہیں۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تو مانگتا نہیں ان سے اس پر کچھ بدلہ یہ تو اور کچھ نہیں مگر نصیحت سارے عالم کو5

5 یعنی نہیں مانتے نہ مانیں آپ کا کیا نقصان ہے کچھ تبلیغ کی تنخواہ تو آپ ان سے مانگتے نہ تھے کہ وہ بند کرلیں گے نصیحت اور فہمائش تھی سو ہوگئی اور ہو رہی ہے۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور بہتیرین نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جن پر گزر ہوتا رہتا ہے ان کا اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے6

6 یعنی جس طرح آیات تنزیلیہ سن کر آپ پر ایمان نہیں لاتے۔ ایسے ہی آیات تکوینیہ دیکھ کر خدا کی توحید کا سبق حاصل نہیں کرتے اصل یہ ہے کہ ان کا سننا اور دیکھنا محض سرسری ہے۔ آیات اللہ میں غور وفکر کرتے تو کچھ فائدہ پہنچتا۔ جب دھیان نہیں تو ایمان کہاں سے ہو۔
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور نہیں ایمان لاتے بہت لوگ اللہ پر مگر ساتھ ہی شریک بھی کرتے ہیں7

7 یعنی زبان سے سب کہتے ہیں کہ خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے مگر اس کے باوجود کوئی بتوں کو خدائی کا حصہ دار بنا رہا ہے چناچہ مشرکین عرب " تلبیہ " میں یہ لفظ کہتے تھے " لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ہُوَلَکَ تَمْلِکُہ، وَمَا مَلَکَ " کوئی اس کے لیے بیٹے بیٹیاں تجویز کرتا ہے۔ کوئی اسے روح و مادہ کا محتاج بتاتا ہے کسی نے احبارو رہبان کو خدائی کے اختیارات دے دیے ہیں بہت سے تعزیہ پرستی، قبر پرستی پیر پرستی کے خس و خاشاک سے توحید کے صاف چشمہ کو مکدر کر رہے ہیں۔ ریا اور ہوا پرستی سے تو کتنے موحدین ہیں جو پاک ہوں گے۔ غرض ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے بہت کم ہیں جو عقیدہ یا عمل کے درجہ میں شرک جلی یا خفی کا ارتکاب نہیں کرتے (اعاذنا اللہ من سائر انواع الشرک)
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا نڈر ہوگئے اس سے کہ آڈھانکے ان کو ایک آفت اللہ کے عذاب کی یا آپہنچے قیامت اچانک اور ان کو خبر نہ ہو8

8 یعنی ایسے بےفکر و بےخوف کیوں ہو رہے ہیں۔ کیا انہوں نے عذاب الٰہی یا قیامت کے ہولناک حوادث سے محفوظ رہنے کا کچھ انتطام کرلیا ہے ؟
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دے یہ میری راہ ہے بلاتا ہوں اللہ کی طرف سمجھ بوجھ کر میں اور جو میرے ساتھ ہے، اور اللہ پاک ہے اور میں نہیں شریک بتانے والوں میں9

9 یعنی میرا راستہ یہ ہی خالص توحید کا راستہ ہے میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں کہ سب خیالات و اوہام کو چھوڑ کر ایک خدا کی طرف آئیں، اس کی توحید، اس کی صفات و کمالات اور اس کے احکام وغیرہ کی صحیح معرفت صحیح راستہ سے حاصل کریں۔ میں اور میرے ساتھی اس سیدھے راستہ پر، حجت وبرہان اور بصیرت و وجدان کی روشنی میں چل رہے ہیں۔ خدا نے مجھ کو ایک نور دیا جس سے سب ہمراہیوں کے دماغ روشن ہوگئے۔ یہاں کسی کی اندھی تقلید نہیں۔ خالص توحید کا راہرو ہر قدم پر اپنے باطن میں معرفت و بصیرت کی خاص روشنی اور عبودیت محضہ کی خاص لذت محسوس کر کے بےساختہ پکار اٹھتا ہے۔ (وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :108)
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے وہ سب مرد ہی تھے کہ وحی بھیجتے تھے ہم ان کی بستیوں کے رہنے والے سو کیا ان لوگوں نے نہیں سیر کی ملک کی کہ دیکھ لیتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور آخرت کا گھر تو بہتر ہے پرہیز کرنے والوں کو کیا اب بھی نہیں سمجھتے1

1 یعنی پہلے بھی ہم نے آسمان کے فرشتوں کو نبی بنا کر نہیں بھیجا انبیائے سابقین ان ہی انسانی بستیوں کے رہنے والے مرد تھے۔ پھر دیکھ لو ان کے جھٹلانے والوں کا دنیا میں کیا حشر ہوا۔ حالانکہ دنیا میں کافروں کو بھی بسا اوقات عیش نصیب ہوجاتا ہے اور آخرت کی بہتری تو خالص ان کے لیے ہے جو شرک و کفر سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ تنبیہ ہے کفار مکہ کو کہ اگلوں کے احوال سے عبرت حاصل کریں۔ (تنبیہ) اس آیت سے نکلتا ہے کہ کوئی عورت نبی نہیں بنائی گئی۔ حضرت مریم کو بھی قرآن نے صدیقہ کا مرتبہ دیا ہے۔ نیز آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بوادی (جنگلی گنواروں) میں سے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے رسول اور خیال کرنے لگے ان سے جھوٹ کہا گیا تھا پہنچی ان کو ہماری مدد پھر بچا دیا جن کو ہم نے چاہا اور پھرتا نہیں عذاب ہمارا قوم گناہ گار سے2

2 یعنی تاخیر عذاب سے دھوکہ مت کھاؤ۔ پہلی قوموں کو بھی لمبی مہلتیں دی گئیں۔ اور عذاب آنے میں اتنی دیر ہوئی کہ منکرین بالکل بےفکر ہو کر بیش ازبیش شرارتیں کرنے لگے۔ یہ حالات دیکھ کر پیغمبروں کو ان کے ایمان لانے کی کوئی امید نہ رہی، ادھر خدا کی طرف سے ان کو ڈھیل اس قدر دی گئی کہ مدت دراز تک عذاب کے کچھ آثار نظر نہ آتے تھے۔ غرض دونوں طرف کے حالات و آثار پیغمبروں کے لیے یاس انگیز تھے۔ یہ منظر دیکھ کر کفار نے یقینی طور پر خیال کرلیا کہ انبیاء سے جو وعدے ان کی نصرت اور ہماری ہلاکت کے کیے گئے تھے سب جھوٹی باتیں ہیں۔ عذاب وغیرہ کا ڈھکوسلہ صرف ڈرانے کے واسطے تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ ایسی مایوس کن اور اضطراب انگیز حالت میں انبیاء کے قلوب میں بھی یہ خیالات آنے لگے ہوں کہ وعدہ عذاب کو جس رنگ میں ہم نے سمجھا تھا وہ صحیح نہ تھا۔ یا وساوس و خطرات کے درجہ میں بےاختیار یہ وہم گزرنے لگے ہوں کہ ہماری نصرت اور منکرین کی ہلاکت کے جو وعدے کیے گئے تھے کیا وہ پورے نہ کیے جائیں گے ؟ جیسے دوسری جگہ فرمایا ( وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ) 2 ۔ البقرۃ :214) جب مجرمین کی بےخوفی اور انبیاء کی تشویش اس حد تک پہنچ گئی اس وقت ناگہاں آسمانی مدد آئی۔ پھر جس کو خدا نے چاہا (یعنی فرمانبردار مومنین کو) محفوظ و مصون رکھا۔ اور مجرموں کی جڑ کاٹ دی۔ (تنبیہ 1 ؎) اللہ تعالیٰ کی غیر محدود رحمت و مہربانی سے ناامیدی کفر ہے لیکن ظاہری حالات و اسباب کے اعتبار سے ناامیدی کفر نہیں۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ فلاں چیز کی طرف سے جہاں تک اسباب ظاہری کا تعلق ہے مایوسی ہے لیکن حق تعالیٰ کی رحمت کاملہ سے مایوسی نہیں۔ آیت (حتی اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ ) 12 ۔ یوسف :110) میں یہ ہی مایوسی مراد ہے جو ظاہری حالات و آثار کے اعتبار سے ہو ورنہ پیغمبر خدا کی رحمت سے کب مایوس ہوسکتے ہیں۔ (تنبیہ 2 ؎) کفر کا وسوسہ کفر نہیں نہ کسی درجہ میں ایمان یا عصمت کے منافی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں (بےاختیار) پاتے ہیں جن کے زبان پر لانے سے ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ جل کر کوئلہ ہوجائیں۔ آپ نے فرمایا کیا ایسا پاتے ہو ؟ عرض کیا ہاں " فرمایا "، " ذَاکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ " یہ تو کھلا ہوا ایمان ہے۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

البتہ ان کے احوال سے اپنا حال قیاس کرنا ہے عقل والوں کو3 کچھ بنائی ہوئی بات نہیں لیکن موافق ہے اس کلام کے جو اس سے پہلے ہے اور بیان ہر چیز کا اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں4

3 یعنی یہ کوئی افسانہ یا ناول نہیں۔ تاریخی حقائق ہیں۔ جن سے عقل مندوں کو سبق لینا چاہیے۔ 4 یعنی قرآن کریم جس میں یہ قصص بیان ہوئے کوئی جھوٹی بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ تمام پہلی سچائیوں کی تصدیق کرنے والا اور ہر ضروری چیز کو کھول کر بیان کرنے والا ہے۔ چونکہ ایماندار اس سے نفع اٹھاتے ہیں اس لحاظ سے ان کے حق میں خاص طور پر ذریعہ ہدایت و رحمت ہے۔ نَفَعَنَا اللّٰہ بِعُلُوْمِہٖ وَرَزَقَنَا تَلَاوَتَہ ' اٰنَآء اللَّیْلِ وَاٰنَآء النَّہَارِ وَجْعَلْہُ حُجَّۃً لَّنَا لَاعَلَیْنَا آمِیْن۔ تَمَّ سُوْرَۃَ یُوْسُفَ عَلَیْہِ السَّلَام بِعَوْنِ اللّٰہِ تَعَالیٰ ۔