12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے رفیقو قید خانہ کے ایک جو ہے تم دونوں میں سو پلائے گا اپنے خاوند کو شراب اور دوسرا جو ہے سولی دیا جائے گا، پھر کھائیں گے جانور اس کے سر میں سے فیصل ہوا وہ کام جس کی تحقیق تم چاہتے تھے2

2 فرض تبلیغ ادا کرنے کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے ان کے خوابوں کی تعبیر بیان فرمائی، کہ جس نے خواب میں شراب پلاتے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ بیداری میں بادشاہ کو شراب پلائے گا۔ اور جس نے سر پر سے جانوروں کو روٹیاں کھاتے دیکھا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سولی دیا جائے گا۔ پھر جانور اس کے سر سے نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ قضا و قدر کا فیصلہ یہ ہی ہے جو کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتا۔ جو بات تم پوچھتے تھے وہ میں نے بتلا دی۔ یہ بالکل طے شدہ امر ہے۔ جس میں تخلف نہیں ہوسکتا چناچہ ایسا ہی ہوا۔ ساقی زہر خورانی کی تہمت سے بری ہوگیا، اور خباز (نانبائی) کو جرم ثابت ہونے کی وجہ سے سزائے موت دی گئی۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور کہہ دیا یوسف نے اس کو جس کو گمان کیا تھا کہ بچے گا ان دونوں میں میرا ذکر کرنا اپنے خاوند کے پاس3 سو بھلا دیا اس کو شیطان نے ذکر کرنا اپنے خاوند سے پھر رہا قید میں کئی برس4

3 یہاں ظن یقین کے معنی میں سے ہے جیسے (الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ ) 2 ۔ البقرۃ :46) میں یعنی یوسف (علیہ السلام) کو دونوں میں سے جس شخص کی بابت یقین تھا کہ بری ہوجائے گا جب وہ قید خانہ سے نکلا تو فرمایا اپنے بادشاہ کی خدمت میں میرا بھی ذکر کرنا کہ ایک ایسا شخص بےقصور قید خانہ میں برسوں سے پڑا ہے۔ مبالغہ کی ضرورت نہیں۔ میری جو حالت تو نے مشاہدہ کی ہے بلاکم وکاست کہہ دینا۔ 4 یعنی شیطان نے چھوٹنے والے قیدی کے دل میں مختلف خیالات و وساوس ڈال کر ایسا غافل کیا کہ اسے بادشاہ کے سامنے اپنے محسن بزرگ (یوسف علیہ السلام) کا تذکرہ کرنا یا دہی نہ رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یوسف کو کئی سال اور قید میں رہنا پڑا۔ مدت دراز کے بعد جب بادشاہ نے ایک خواب دیکھا اور اس کی تعبیر کسی کی سمجھ میں نہ آئی تب اس شخص کو یوسف (علیہ السلام) یاد آئے جیسا کہ آگے آتا ہے (وَقَالَ الَّذِيْ نَجَا مِنْهُمَا وَادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ ) 12 ۔ یوسف :45) بھلانے کی نسبت شیطان کی طرف اس لیے کی گئی کہ وہ القائے وساوس وغیرہ کا ذریعہ ہے جو سبب بنتا ہے نسیان کا۔ حضرت موسیٰ کے رفیق سفر نے کہا تھا (وَمَآ اَنْسٰنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ ) 18 ۔ الکہف :63) لیکن ہر ایک شر میں حق تعالیٰ کوئی خیر کا پہلو رکھ دیتا ہے۔ یہاں بھی گو اس نسیان کا نتیجہ تطویل قید کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تاہم حضرت شاہ صاحب کی نکتہ آفرینی کے موافق اس میں یہ تنبیہ ہوگئی کہ ایک پیغمبر کا دل ظاہری اسباب پر نہیں ٹھہرنا چاہیے۔ بلکہ ابن جریر اور بغوی وغیرہ نے بعض سلف سے نقل کیا ہے کہ وہ (فَاَنْسٰىهُ الشَّيْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ ) 12 ۔ یوسف :42) کی ضمیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف راجع کرتے ہیں۔ گویا " اُذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّکَ " کہنا ایک طرح کی غفلت تھی جو یوسف (علیہ السلام) کو عارض ہوئی۔ انہوں نے قیدی کو کہا کہ اپنے رب سے میرا ذکر کرنا حالانکہ چاہیے تھا کہ سب ظاہری سہارے چھوڑ کر وہ خود اپنے رب سے فریاد کرتے۔ بیشک کشف شدائد کے وقت مخلوق سے ظاہری استعانت اور اسباب کی مباشرت مطلقا حرام نہیں ہے۔ لیکن ابرار کی حسنات مقربین کی سیأت بن جاتی ہیں۔ جو بات عامۃ الناس بےکھٹکے کرسکتے ہیں انبیاء (علیہم السلام) کے منصب عالی کے اعتبار سے وہ ہی بات ایک قسم کی تقصیر بن جاتی ہے۔ امتحان و ابتلاء کے موقع پر انبیاء کی شان رفیع اسی کو مقتضی ہے کہ رخصت پر نظر نہ کریں، انتہائی عزیمت کی راہ چلیں۔ چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا " اذکرنی عندربک " کہنا عزیمت کے خلاف تھا، اس لیے عتاب آمیز تنبیہ ہوئی کہ کئی سال تک مزید قید اٹھانی پڑی اور اسی لیے " انساء " کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ زیادہ تفصیل روح المعانی میں ہے۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور کہا بادشاہ نے میں خواب میں دیکھتا ہوں سات گائیں موٹی ان کو کھاتی ہیں سات گائیں دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سو کھی5 اے دربار والو تعبیر کہو مجھ سے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر دینے والے6

5 وہ سوکھی بالیں ہری بالوں پر لپٹتی ہیں اور انھیں خشک کردیتی ہیں۔ یہ خواب بادشاہ مصر " ریان بن الولید " نے دیکھا۔ جو آخرکار حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا اور ظاہری عروج کا سبب بنا۔ یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں جابجا اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ خدا جب کوئی بات چاہتا ہے غیر متوقع طریقہ سے اس کے ایسے اسباب فراہم کردیتا ہے جن کی طرف آدمی کا خیال نہیں جاتا۔ 6 یعنی اگر اس فن میں کچھ مہارت رکھتے ہو تو میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ۔
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

بولے یہ خیالی خواب ہیں اور ہم کو ایسے خوابوں کی تعبیر معلوم نہیں7

7 معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس فن سے جاہل تھے۔ اپنے جہل کا صاف لفظوں میں اقرار کرنے سے شرمائے تو یوں بات بنادی کہ یہ کوئی خواب نہیں، محض پریشان خیالات ہیں، بسا اوقات انسان کو نیند میں ایسی صورتیں مخیل ہوجاتی ہیں جو لائق اعتناء نہیں، نہ ہم ایسے خوابوں کی تعبیر کا علم رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ علم تعبیر رؤیا کے اصول کے ماتحت نہیں ہوتے۔
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور بولا وہ جو بچا تھا ان دونوں میں سے اور یاد آگیا اس کو مدت کے بعد میں بتاؤں تم کو اس کی تعبیر سو تم مجھ کو بھیجو8

8 اب خواب کے سلسلہ میں ساقی کو جو قید سے چھوٹ کر آیا تھا مدت کے بعد حضرت یوسف یاد آئے اس نے بادشاہ اور اہل دربار سے کہا کہ اگر مجھے ذرا جانے کی اجازت دو تو میں اس خواب کی تعبیر لاسکتا ہوں۔ قید خانہ میں ایک مقدس بزرگ فرشتہ صورت موجود ہے جو فن تعبیر کا ماہر ہے (ممکن ہے اس نے اپنے خواب کا قصہ بھی ذکر کیا ہو) میں تعبیر لینے کے لیے اس کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں چناچہ اجازت دی گئی۔ اس نے یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ عرض کیا جو آگے آتا ہے۔
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

جا کر کہا اے یوسف اے سچے9 حکم دے ہم کو اس خواب میں سات گائیں موٹی ان کو کھائیں سات دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سوکھی تاکہ لے جاؤں میں لوگوں کے پاس شاید ان کو معلوم ہو1

9 " اَیُّہَا الصِّدِّیْقُ " کہنے سے یہ غرض تھی کہ آپ مجسم سچ ہیں۔ جو بات کبھی آپ کی زبان سے نکلی سچ ہو کر رہی امید ہے جو تعبیر اس خواب کی بیان کردیں گے ہو بہو پوری ہو کر رہے گی۔ یہ لفظ بتلا رہا ہے کہ انبیاء علیہم اسلام کے صدق و دیانت کا نقش کس طرح عام و خاص کے قلوب پر بیٹھ جاتا ہے۔ 1 یعنی خواب کی تعبیر اور اس کے ذریعہ سے آپ کی قدرو منزلت معلوم ہو۔
Ayahs 12:47–49

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

کہا تم کھیتی کرو گے سات برس جم کر سو جو کاٹو اس کو چھوڑ دو اس کی بال میں مگر تھورا سا جو تم کھاؤ

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر آئیں گے اس کے بعد سات برس سختی کے کھا جائیں گے جو رکھا تم نے ان کے واسطے مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے بیج کے واسطے

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر آئے گا اس کے پیچھے ایک برس اس میں مینہ برسے گا لوگوں پر اور اس میں رس نچوڑیں گے2

2 یوسف (علیہ السلام) نے تعبیر بتلانے میں دیر نہ کی نہ کوئی شرط لگائی، نہ اس شخص کو شرمندہ کیا کہ تجھ کو اتنی مدت کے بعد اب میرا خیال آیا۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کے اخلاق و مروت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر وہ صرف خواب کی تعبیر مانگتا تھا۔ آپ نے تین چیزیں عطا فرمائیں۔ تعبیر، تدبیر، تبشیر، آپ کے کلام کا حاصل یہ تھا کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں، جن میں متواتر خوشحالی رہے گی، کھیتوں میں خوب پیداوار ہوگی، حیوانات و نباتات خوب بڑھیں گے، اس کے بعد سات سال قحط ہوگا جس میں سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ تخم ریزی کے لیے کچھ تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ سات سال دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو موٹی گائیوں اور ہری بالوں کو ختم کردیں گی۔ تعبیر بتلانے کے دوران میں حضرت یوسف نے ازراہ شفقت و ہمدردی خلائق ایک تدبیر بھی تلقین فرما دی کہ اول سات سال میں جو پیداوار ہو اسے بڑی حفاظت سے رکھو اور کفایت شعاری سے اٹھاؤ۔ کھانے کے لیے جس قدر غلہ کی ضرورت ہو اسے الگ کرلو اور تھوڑا تھوڑا احتیاط سے کھاؤ۔ باقی غلہ بالوں میں رہنے دو تاکہ اس طرح کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہ سکے۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے۔ ایسا نہ کرو گے تو قحط کا مقابلہ کرنا دشوار ہوگا۔ یہ تعبیر و تدبیر بتلانے کے بعد انھیں بشارت سنائی جو غالبا آپ کو وحی سے معلوم ہوئی ہوگی یعنی سات سال قحط رہنے کے بعد جو سال آئے گا اس میں حق تعالیٰ کی طرف سے فریاد رسی ہوگی اور خوب مینہ برسے گا۔ کھیتی باڑی، پھل میوے نہایت افراط سے پیدا ہوں گے، جانوروں کے تھن دودھ سے بھر جائیں گے۔ انگور وغیرہ نچوڑنے کے قابل چیزوں سے لوگ شراب کشید کریں گے۔ یہ آخری بات سائل کے حسب حال فرمائی۔ کیونکہ وہ یہ ہی کام کرتا تھا۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور کہا بادشاہ نے لے آؤ اس کو میرے پاس، پھر جب پہنچا اس کے پاس بھیجا ہوا آدمی کہا لوٹ جا اپنے خاوند کے پاس اور پوچھ اس سے کیا حقیقت ہے ان عورتوں کی جنہوں نے کاٹے تھے ہاتھ اپنے3 میرا رب تو ان کا فریب سب جانتا ہے4

3 بادشاہ کچھ تو پہلے ہی ساقی کے تذکرے سے حضرت یوسف کا معتقد ہوگیا تھا۔ اب جو ایسی موزوں و دل نشین تعبیر اور رعایا کی ہمدردی کی تدبیر سنی تو ان کے علم و فضل، عقل و دانش اور حسن اخلاق کا سکہ اس کے دل پر بیٹھ گیا۔ فورا حکم دیا کہ ایسے شخص کو میرے پاس لاؤ، تاکہ اس کی زیارت سے بہرہ اندوز ہوں اور اس کے مرتبہ اور قابلیت کے موافق عزت کروں۔ قاصد پیام شاہی لے کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر یوسف کی نظر میں اپنی دینی و اخلاقی پوزیشن کی برتری اور صفائی اعلیٰ سے اعلیٰ دنیاوی عزت و وجاہت سے زیادہ مہم تھی۔ آپ جانتے تھے کہ پیغمبر خدا کی نسبت لوگوں کی ادنیٰ بدگمانی بھی ہدایت و ارشاد کے کام میں بڑی بھاری رکاوٹ ہے۔ اگر آج میں بادشاہی فرمان کے موافق چپ چپاتے قید خانہ سے نکل گیا اور جس جھوٹی تہمت کے سلسلہ میں سالہا سال قید وبند کی مصائب اٹھائیں اس کا قطعی طور پر استیصال نہ ہوا تو بہت ممکن ہے کہ بہت سے ناواقف لوگ میری عصمت کے متعلق تردد اور شبہ میں پڑے رہ جائیں اور حاسدین کچھ زمانہ کے بعد ان ہی بےاصل اثرات سے فائدہ اٹھا کر کوئی اور منصوبہ میرے خلاف کھڑا کردیں۔ ان مصالح پر نظر کرتے ہوئے آپ نے حکم شاہی کے امتثال میں جلدی نہ کی بلکہ نہایت صبرو استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے قاصد کو کہا کہ تو اپنے مالک (بادشاہ) سے واپس جا کر دریافت کر کہ تجھ کو ان عورتوں کے قصہ کی کچھ حقیقت معلوم ہے جنہوں نے دعوت کے موقع پر اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ حضرت یوسف کو ان عورتوں کے ناموں کی تفصیل کہاں معلوم ہوگی۔ یہ خیال کیا ہوگا کہ ایسا واقعہ ضرور عام شہرت حاصل کرچکا ہے۔ اس لیے واقعہ کے ایک ممتاز جزء (ہاتھ کاٹنے) کو ظاہر کر کے بادشاہ کو توجہ دلائی کہ اس مشہور و معروف قصہ کی تفتیش و تحقیق کرے۔ غالبا اب وہ عورتیں بتلا دیں گی کہ تقصیر کس کی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے صحیحین کی حدیث میں حضرت یوسف کے کمال صبر وتحمل کی اس طرح داد دی ہے۔ " لَوْلَبِثْتُ فِی السِّجْنِ مَالَبِثَ یُوسُف ُ لَاَ جَبْتُ الدَّاعِیَ " (اگر میں اتنی مدت قید میں رہتا جتنا یوسف رہا تو بلانے والے کی اجابت کرتا یعنی فورا ساتھ ہو لیتا) محققین کہتے ہیں کہ اس میں حضرت یوسف کے صبر وتحمل کی تعریف اور لطیف رنگ میں اپنی عبودیت کاملہ کا اظہار ہے۔ ہم نے اس مضمون کی تفصیل شرح صحیح مسلم میں کی ہے۔ یہاں اختصار کی وجہ سے زیادہ نہیں لکھ سکتے۔4 حضرت یوسف نے " سب کا فریب " فرمایا، اس واسطے کہ ایک کا فریب تھا اور سب اس کی مددگار تھیں اور اصل فریب والی کا نام شاید حق پرورش کی وجہ سے نہیں لیا۔ حیاء کی وجہ سے گول مول فرمایا۔ کیونکہ جانتے تھے کہ اصل حقیقت آخر کھل کر رہے گی۔ کذا فی الموضح۔
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

کہا بادشاہ نے عورتوں کو کیا حقیقت ہے تمہاری جب تم نے پھسلانا چاہا یوسف کو اس کے نفس کی حفاظت سے5 بولیں حاشا للہ ہم کو معلوم نہیں اس پر کچھ برائی بولی عورت عزیز کی اب کھل گئی سچی بات میں نے پھسلانا چاہا تھا اس کو اس کے جی سے اور وہ سچا ہے6

5 بادشاہ نے دریافت کرنے کا ایسا عنوان اختیار کیا گویا وہ پہلے سے خبر رکھتا ہے تاکہ یہ دیکھ کر انھیں جھوٹ بولنے کی ہمت نہ ہو۔ نیز یوسف (علیہ السلام) کی استقامت و صبر کا اثر پڑا ہوگا کہ بدون اظہار برأت کے جیل سے نکلنا گوارا نہیں کرتے اور " اِنَّ رَبِّی بِکَیْدِ ہِنَّ عَلِیْمٌ" کہہ کر ان کے " کید " کا اظہار فرما رہے ہیں۔ ادھر ساقی وغیرہ نے واقعات سنائے ہوں گے ان سے بھی یوسف کی نزاہت اور عورتوں کے مکائد کی تائید ملی ہوگی۔ 6 سب عورتوں کی متفقہ شہادت کے بعد خود زلیخا نے بھی صاف اقرار کرلیا کہ قصور میرا ہے۔ یوسف بالکل سچے ہیں۔ بیشک میں نے ان کو اپنی جانب مائل کرنا چاہا تھا۔ لیکن وہ ایسے کا ہے کو تھے کہ میرے داؤ میں آجاتے۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یوسف نے کہا یہ اس واسطے کہ عزیز معلوم کر لیوے کہ میں نے اس کی چوری نہیں کی چھپ کر، اور یہ کہ اللہ نہیں چلاتا فریب دغا بازوں کا7

7 یعنی اتنی تحقیق و تفتیش اس لیے کرائی کہ پیغمبرانہ عصمت و دیانت بالکل آشکارا ہوجائے اور لوگ معلوم کرلیں کہ خائنوں اور دغابازوں کا فریب اللہ چلنے نہیں دیتا۔ چناچہ عورتوں کا فریب نہ چلا۔ آخر حق حق ہو کر رہا۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں پاک نہیں کہتا اپنے جی کو بیشک جی تو سکھلاتا ہے برائی مگر جو رحم کردیا میرے رب نے بیشک میرا رب بخشنے والا ہے مہربان1

1 چونکہ حضرت یوسف نے اپنی براءت پر بہت زیادہ زور دیا۔ ممکن تھا کوئی سطحی آدمی اس سے فخر اور غرور و اعجاب کا شبہ کرنے لگتا اس لیے اپنی نزاہت کی حقیقت کھول دی کہ میں کوئی شیخی نہیں مارتا نہ پاک صاف رہنے میں اپنے نفس پر بھروسہ کرسکتا ہوں۔ محض خدا کی رحمت و اعانت ہے جو کسی نفس کو برائی سے روکتی ہے۔ یہ ہی رحمت خصوصی عصمت انبیاء (علیہم السلام) کی کفیل وضامن ہے ورنہ نفس انسانی کا کام عموماً برائی کی ترغیب دینا تھا۔ خدا تعالیٰ کی خصوصی توفیق و دستگیری نہ ہوتی تو میرا نفس بھی دوسرے نفوس بشریہ کی طرح ہوتا۔ " اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرُ رَّحِیْمٌ" سے اشارہ کردیا، کہ نفس امارہ جب توبہ کر کے " لوامہ " بن جائے تو خدا اس کی پچھلی تقصیرات معاف فرما دیتا ہے۔ بلکہ رفتہ رفتہ مہربانی سے " نفس مطمئنہ " کے درجہ تک پہنچا دیتا ہے (تنبیہ) حافظ ابن تیمیہ اور ابن کثیر وغیرہ نے (ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ 52۝ وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 53؀) 12 ۔ یوسف :53-52) تک زلیخا کا مقولہ قرار دیا ہے یعنی زلیخا نے " اَنَا رَاوَدتُّہُ عَنْ نَفْسِہٖ " کا اقرار کر کے کہا کہ اس قرار و اعتراف سے عزیز کو یہ معلوم کرانا ہے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے کوئی بڑی خیانت نہیں کی۔ بیشک یوسف کو پھسلانا چاہا تھا مگر میری مراودت ان پر کارگر نہیں ہوئی۔ اگر میں نے مزید خیانت کی ہوتی تو ضرور اس کا پردہ فاش ہو کر رہتا۔ کیونکہ خدا خائنوں کے مکر و فریب کو چلنے نہیں دیتا۔ ہاں میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتی، جتنی غلطی مجھ سے ہوئی اس کا اقرار کر رہی ہوں۔ دوسرے آدمیوں کی طرح نفس کی شرارتوں سے میں بھی پاک نہیں۔ ان سے تو یوسف جیسا پاکباز انسان ہی محفوظ رہ سکتا ہے۔ جس پر خدا کی خاص مہربانی اور رحمت ہے۔ ابو حیان نے بھی اس کو زلیخا کا مقولہ قرار دیا ہے۔ لیکن لِیَعْلَمَ " اور " لَمْ اُخُنْہُ " کی ضمیریں بجائے عزیز کے یوسف کی طرف راجع کی ہیں۔ یعنی اپنی خطا کا صاف اقرار اس لیے کرتی ہوں کہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں کوئی غلط بات نہیں کہی نہ اپنے جرم کو ان کی طرف منسوب کیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور کہا بادشاہ نے لے آؤ اس کو میرے پاس میں خالص کر رکھوں اس کو اپنے کام میں2 پھر جب بات چیت کی اس سے، کہا واقعی تو نے آج سے ہمارے پاس جگہ پائی معتبر ہو کر3

2 یعنی میرا مشیر خاص رہے گا۔ 3 کچھ پہلے سے معتقد ہوچکا تھا۔ بالمشافہ باتیں سن کر بالکل ہی گرویدہ ہوگیا اور حکم دے دیا کہ آج سے آپ ہمارے پاس نہایت معزز و معتبر ہو کر رہیں گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اب عزیز کا علاقہ موقوف کیا اپنی صحبت میں رکھا۔ "
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر نگہبان ہوں خوب جاننے والاف 4

4 یعنی دولت کی حفاظت بھی پوری کروں گا اور اس کی آمد و خرچ کے ذرائع اور حساب و کتاب سے خوب واقف ہوں۔ یوسف نے خود درخواست کر کے مالیات کا کام اپنے سر لیا۔ تاکہ اس ذریعہ سے عامہ خلائق کو پورا نفع پہنچا سکیں۔ خصوصاً آنے والے خوفناک قحط میں نہایت خوش انتظامی سے مخلوق کی خبر گیری اور حکومت کی مالی حالت کو مضبوط رکھ سکیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) دنیا کی عقل بھی کامل رکھتے ہیں۔ اور یہ کہ ہمدردی خلائق کے لیے مالیات کے قصوں میں پڑنا شان نبوت یا بزرگی کے خلاف نہیں سمجھتے نیز ایک آدمی اگر نیک نیتی سے یہ سمجھے کہ فلاں منصب کا میں اہل ہوں اور دوسروں سے یہ کام اچھی طرح بن نہ پڑے گا تو مسلمانوں کی خیر طلبی اور نفع رسانی کی غرض سے اس کی خواہش یا درخواست کرسکتا ہے۔ اگر حسب ضرورت اپنے بعض خصال حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کرنا پڑے تو یہ ناجائز مدح سرائی میں داخل نہیں۔ عبدالرحمن بن سمرہ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص از خود امارت طلب کرے تو اس کا بار اسی کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے (غیبی اعانت مددگار نہیں ہوتی) یہ اس وقت ہے جب طلب کرنا محض نفس پروری اور جاہ پسندی وغیرہ اغراض کی بناء پر ہو۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور یوں قدرت دی ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا5 پہنچا دیتے ہیں ہم رحمت اپنی جس کو چاہیں اور ضائع نہیں کرتے ہم بدلہ بھلائی والوں کا

5 جہاں چاہتے اترتے اور جو چاہتے تصرف کرتے۔ گویا ریان بن الولید برائے نام بادشاہ تھا۔ حقیقت میں یوسف بادشاہی کر رہے تھے۔ اور " عزیز " کہہ کر پکارے جاتے تھے۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ بادشاہ آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔ نیز اسی زمانہ میں عزیز مصر کا انتقال ہوا تو اس کی عورت زلیخا نے آپ سے شادی کرلی۔ واللہ اعلم۔ محدثین اس پر اعتماد نہیں کرتے۔
Ayah 12:57

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور ثواب آخرت کا بہتر ہے ان کو جو ایمان لائے اور رہے پرہیزگاری میں6

6 جو بھلائی اور نیکی کا راستہ اختیار کرے خدا اس کو دنیا میں بھی میٹھا پھل دیتا ہے۔ خواہ ثروت و حکومت یا لذت عیش، حیات طیبہ، اور غنائے قلبی۔ حضرت یوسف کو یہ سب چیزیں عنایت فرمائیں۔ رہا آخرت کا اجر، سو وہ ایک ایماندار و پرہیزگار کے لیے دنیا کے اجر سے کہیں بہتر ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ جواب ہوا ان کے سوال کا کہ اولاد ابراہیم اس طرح " شام " سے مصر میں آئی اور بیان ہوا کہ بھائیوں نے حضرت یوسف کو گھر سے دور پھینکا تاکہ ذلیل ہو۔ اللہ نے عزت دی اور ملک پر اختیار دیا۔ ایسا ہی ہوا ہمارے حضرت ﷺ کو۔ "
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور آئے بھائی یوسف کے پھر داخل ہوئے اس کے پاس تو اس نے پہچان لیا ان کو، اور وہ نہیں پہچانتے تھے7

7 موضح القرآن میں ہے " جب حضرت یوسف ملک " مصر " پر مختار ہوئے خواب کے موافق سات برس خوب آبادی کی اور ملک کا اناج بھرتے گئے۔ پھر سات برس کے قحط میں ایک بھاؤ میانہ باندھ کر بکوایا اپنے ملک والوں کو اور پردیسیوں کو سب کو برابر مگر پردیسی کو ایک اونٹ سے زیادہ نہ دیتے تھے۔ اس میں خلق بچی قحط سے اور خزانہ بادشاہ کا بھر گیا۔ ہر طرف خبر تھی کہ مصر میں اناج سستا ہے ان کے بھائی خریدنے کی غرض سے آئے۔ " ان کے تن و توش، ہیأت، وضع قطع میں چنداں تغیر نہ ہوا تھا۔ ادھر حضرت یوسف برابر اپنے باپ بھائیوں کا تفقد کرتے رہے ہوں گے اور وہاں پہنچنے پر ان کا نام و نشان بھی دریافت کرلیا ہوگا جیسا کہ سلاطین و اعیان سے ملاقات کرنے میں عموماً ہوا کرتا ہے۔ چناچہ بعض تفاسیر میں ہے کہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) سے اپنا نام و نسب وغیرہ بیان کیا۔ ہاں یوسف (علیہ السلام) جدائی کے وقت چونکہ بہت چھوٹے تھے اور بھائیوں کو پہلے سے ادھر خیال بھی نہ تھا، بادشاہوں کے یہاں عام آدمیوں کی یہ جرأت ہوسکتی ہے کہ ان کا نام و نسب وغیرہ دریافت کریں۔ اس لیے وہ یوسف کو نہ پہچان سکے۔
Ayah 12:59

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب تیار کردیا ان کو ان کا اسباب کہا لے آئیو میرے پاس ایک بھائی جو تمہارا ہے باپ کی طرف سے تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں پورا دیتا ہوں ناپ اور خوب طرح اتارتا ہوں مہمانوں کو8

8 حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کی خوب مدارات اور مہمانداری کی۔ ایک ایک اونٹ فی کس غلہ دیا۔ یہ خاص مہربانی اور اخلاق دیکھ کر کہتے ہیں انہوں نے درخواست کی کہ ہمارے ایک علاتی بھائی (بنیامین) کو بوڑھے غمزدہ باپ نے تسکین خاطر کے لیے اپنے پاس روک لیا ہے کیونکہ اس کا دوسرا عینی بھائی (یوسف) جو باپ کو بیحد محبوب تھا مدت ہوئی کہیں جنگل میں ہلاک ہوچکا ہے۔ اگر بنیامین کے حصہ کا غلہ بھی ہم کو مرحمت فرمائیں تو بڑی نوازش ہوگی۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس طرح غائب کا حصہ دینا خلاف قاعدہ ہے تم پھر آؤ تو بنیامین کو ساتھ لاؤ تب اس کا حصہ پا سکو گے۔ میرے اخلاق اور مہمان نوازی کو تم خود مشاہدہ کرچکے ہو، کیا اس کے بعد تمہیں اپنے چھوٹے بھائی کے لانے میں کچھ تردد ہوسکتا ہے ؟
Ayah 12:60

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

پھر اس کو نہ لائے میرے پاس تو تمہارے لیے بھرتی نہیں میرے نزدیک اور میرے پاس نہ آئیو9

9 یعنی نہ لائے تو سمجھا جائے گا کہ تم جھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر خلاف قاعدہ ایک اونٹ زیادہ لینا چاہتے تھے اس کی سزا یہ ہوگی کہ آئندہ خود تمہارا حصہ بھی سوخت ہوجائے گا بلکہ میرے پاس یا میرے قلمرو میں آنے کی بھی اجازت نہ ہوگی۔
Ayah 12:61

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

بولے ہم خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہم کو یہ کام کرنا ہے1

1 یعنی گو باپ سے اس کا جدا کرنا سخت مشکل ہے تاہم ہماری یہ کوشش ہوگی کہ باپ کو کسی تدبیر سے راضی کرلیں۔ امید ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر رہیں گے۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور کہہ دیا اپنے خدمت گاروں کو رکھ دو ان کی پونجی ان کے اسباب میں شاید اس کو پہچانیں جب پھر کر پہنچیں اپنے گھر شاید وہ پھر آجائیں2

2 یعنی جو پونجی دے کر غلہ خریدا تھا، حکم دیا کہ وہ بھی خفیہ طور پر ان کے اسباب میں رکھ دو تاکہ گھر پہنچ کر جب اسباب کھولیں اور دیکھیں کہ غلہ کے ساتھ قیمت بھی واپس دے دی گئی تو دوبارہ ادھر آنے کی ترغیب مزید ہو کہ ایسے کریم بادشاہ کہاں ملتے ہیں۔ اور ممکن ہے قیمت نہ موجود ہونے کی بناء پر دوبارہ آنے سے مجبور رہیں اس لیے قیمت واپس کردی۔ بعض نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے قیمت لینا مروت و کرم کے خلاف سمجھا۔
Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب پہنچے اپنے باپ کے پاس بولے اے باپ روک دی گئی ہم سے بھرتی سو بھیج ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو کہ بھرتی لے آئیں، اور ہم اس کے نگہبان ہیں3

3 یعنی یوسف کی طرح اس کے متعلق کچھ تردد نہ کیجئے۔ اب ہم چوکنے ہوگئے ہیں پوری طرح حفاظت کریں گے۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

کہا میں کیا اعتبار کروں تمہارا اس پر مگر وہی جیسا اعتبار کیا تھا اس کے بھائی پر اس سے پہلے، سو اللہ بہتر ہے نگہبان اور وہی ہے سب مہربانوں سے مہربان4

4 یعنی یہ ہی الفاظ " وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ " تم نے یوسف کو ساتھ لے جاتے وقت کہے تھے۔ پھر تمہارے وعدہ پر کیا اعتبار ہو۔ ہاں اس وقت ضرورت شدید ہے۔ جس سے اغماض نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے تمہارے ساتھ بھیجنا ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ سو میں اس کو خدا کی حفاظت میں دیتا ہوں۔ وہ ہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت کرے گا۔ اور مجھ کو یوسف کی جدائی کے بعد دوسری مصیبت سے بچائے گا۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب کھولی اپنی چیز بست پائی اپنی پونجی کہ پھیر دی گئی ان کی طرف، بولے اے باپ ہم کو اور کیا چاہیے، یہ پونجی ہماری پھیر دی ہے ہم کو اب جائیں تو رسد لائیں ہم اپنے گھر کو اور خبرداری کریں گے اپنی بھائی کی اور زیادہ لیویں بھرتی ایک اونٹ کی5 وہ بھرتی آسان ہے6

5 یعنی بنیامین کا حصہ۔6 یعنی ایسی آسان بھرتی کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ جس طرح ہو بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ بعض نے " ذٰلِکَ کَیْلٌ یَّسِیْرٌ" کا اشارہ پہلے جو غلہ لائے تھے اس کی طرف کیا ہے اور " یسیر " کو بمعنی قلیل لیا ہے۔ یعنی جو پہلے لائے ہیں وہ حاجت کے اعتبار سے تھوڑا ہے۔ قحط کے زمانہ میں کہاں تک کام دے گا۔ لہذا ضروری ہے کہ جس طرح بن پڑے ہم دوبارہ جائیں اور سب کا حصہ لے کر آئیں۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

کہا ہرگز ہرگز نہ بھیجوں گا اس کو تمہارے ساتھ یہاں تک کہ دو مجھ کو عہد خدا کا کہ البتہ پہنچا دو گے اس کو میرے پاس، مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب پھر جب دیا اس کو سب نے عہد بولا اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے7

7 یعنی اگر تقدیر الٰہی سے کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے جس میں تم سب گھر جاؤ اور نکلنے کی کوئی سبیل نہ رہے تب تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ہاں اپنے مقدور اور زندگی بھر بنیامین کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرو گے۔ یہ پختہ عہد و پیمان اور قسمیں لے کر زیادہ تاکید و اہتمام کے طور پر فرمایا " وَاللّٰہُ عَلٰی مَانَقُوْلُ وَکِیْلٌ" یعنی جو کچھ عہد و پیمان ہم اس وقت کر رہے ہیں وہ سب خدا کے سپرد ہیں۔ اگر کسی نے خیانت اور بدعہدی کی وہ ہی سزا دے گا، یا یہ کہ قول وقرار تو اپنے مقدور کے موافق پختہ کر رہے ہیں لیکن ان باتوں سے جو مقصد اصلی ہے وہ خدا کی حفاظت و نگہبانی سے ہی پورا ہوسکتا ہے۔ خدا نہ چاہے تو سارے اسباب و تدابیر رکھی رہ جائیں، کچھ نہ ہو۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " ظاہری اسباب بھی پختہ کرلیے اور بھروسہ اللہ پر رکھا۔ یہی حکم ہے ہر کسی کو۔ "
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور کہا اے بیٹو نہ داخل ہونا ایک دروازہ سے اور داخل ہونا کئی دروازوں سے جدا جدا اور میں نہیں بچا سکتا تم کو اللہ کی کسی بات سے حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے اسی پر مجھ کو بھروسہ ہے اور اسی پر بھروسہ چاہیے بھروسہ کرنے والوں کو1

1 برادران یوسف پہلی مرتبہ جو مصر گئے تھے عام مسافروں کی طرح بلا امتیاز شہر میں داخل ہوگئے تھے لیکن یوسف (علیہ السلام) کی خاص توجہات و الطاف کو دیکھ کر یقینا وہاں کے لوگوں کی نظریں ان کی طرف اٹھنے لگی ہوں گی۔ اب دوبارہ جانا خاص شان و اہتمام سے بلکہ کہنا چاہیے کہ ایک طرح کی یوسف کی دعوت پر تھا۔ بنیامین جس کی حفاظت و محبت یعقوب (علیہ السلام) یوسف کے بعد بہت کرتے تھے۔ بھائیوں کے ہمراہ تھے یعقوب (علیہ السلام) کو خیال گزرا کہ ایک باپ کے گیارہ وجیہ خوش رو بیٹوں کا خاص شان سے بہیئات اجتماعی شہر میں داخل ہونا خصوصاً اس برتاؤ کے بعد جو عزیز مصر (یوسف) کی طرف سے لوگ پہلے مشاہدہ کرچکے تھے، ایسی چیز ہے جس کی طرف عام نگاہیں ضرور اٹھیں گی۔ " العین حق " نظر لگ جانا ایک حقیقت ہے (اور آجکل مسمریزم کے عجائبات تو عموماً اسی قوت نگاہ کے کرشمے ہیں) یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو نظر بد اور حسد وغیرہ مکروہات سے بچانے کے لیے یہ ظاہری تدبیر تلقین فرمائی کہ متفرق ہو کر معمولی حیثیت سے شہر کے مختلف دروازوں سے داخل ہوں، تاکہ خواہی نہ خواہی پبلک کی نظریں ان کی طرف نہ اٹھیں ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کردیا کہ میں کوئی تدبیر کر کے قضاء و قدر کے فیصلوں کو نہیں روک سکتا۔ تمام کائنات میں حکم صرف خدا کا چلتا ہے۔ ہمارے سب انتظامات حکم الٰہی کے مقابلہ میں بیکار ہیں۔ ہاں تدبیر کرنا بھی اسی نے سمجھایا ہے اور جائز رکھا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ بچاؤ کی تدبیر کرلے مگر بھروسہ خدا پر رکھے گویا لڑکوں کو سنایا کہ میری طرح تم بھی تہ دل سے خدا کی حفاظت پر بھروسہ رکھو۔ تدابیر پر مغرور نہ بنو۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب داخل ہوئے جہاں سے کہا تھا ان کے باپ نے2 کچھ نہ بچا سکتا تھا ان کو اللہ کی کسی بات سے مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں سو پوری کرچکا، اور وہ تو خبردار تھا جو کچھ ہم نے اس کو سکھایا، لیکن بہت لوگوں کو خبر نہیں3

2 یعنی مختلف دروازوں سے علیٰحدہ علیٰحدہ۔ 3 یعنی جس طرح کہا تھا داخل ہوئے تو اگرچہ نظر یا ٹوک نہ لگی۔ لیکن تقدیر اور طرف سے آئی (بنیامین کو الزام سرقہ کے سلسلہ میں روک لیا گیا) تقدیر دفع نہیں ہوتی۔ سو جن کو علم ہے ان کو تقدیر کا یقین اور اسباب کا بچاؤ دونوں حاصل ہوسکتے ہیں۔ لیکن بےعلم سے ایک ہو تو دوسرا نہ ہو، یا ہمہ تن اسباب پر اتکاء کر کے تقدیر کا انکار کر بیٹھتا ہے یا تقدیر پر یقین رکھنے کے یہ معنی سمجھ لیتا ہے کہ اسباب کو معطل کردیا جائے، البتہ عارف اور باخبر لوگ تقدیر و تدبیر کو جمع کرتے اور ہر ایک کو اس کے درجہ میں رکھتے ہیں۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب داخل ہوئے یوسف کے پاس اپنے پاس رکھا اپنے بھائی کو، کہا تحقیق میں ہوں بھائی تیرا سو غمگین مت ہو ان کاموں سے جو انہوں نے کیے ہیں4

4 حضرت یوسف نے بنیامین کے ساتھ ممتاز معاملہ کیا۔ اور خلوت میں آہستہ سے آگاہ کردیا کہ میں تیرا حقیقی بھائی (یوسف) ہوں۔ جو مظالم ان علاتی بھائیوں نے ہم پر کیے کہ مجھے باپ سے جدا کر کے کنویں میں ڈالا۔ غلام بنا کر بیچا۔ اور ہمارے باپ بھائی وغیرہ کو فراق کے صدمہ میں مبتلا کیا یا اب یہاں آتے ہوئے تمہارے ساتھ کوئی سختی کی، ان باتوں سے غمگین مت ہو۔ وقت آگیا ہے کہ ہمارے سب غم غلط ہوجائیں اور سختیوں کے بعد حق تعالیٰ راحت و عزت نصیب فرمائے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اس بھائی کو جو یوسف نے آرزو سے بلایا اوروں کو حسد ہوا۔ اس سفر میں اس کو بات بات پر جھڑکتے اور طعنے دیتے۔ اب حضرت یوسف نے تسلی کردی۔
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب تیار کردیا ان کے واسطے اسباب ان کا رکھ دیا پینے کا پیالہ اسباب میں اپنے بھائی کے پھر پکارا پکارنے والے نے اے قافلہ والو تم تو البتہ چور ہو5

5 یعنی جب یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے ان کا غلہ لدوایا اور سامان سفر تیار کیا گیا تو ایک چاندی کا پیالہ اپنے بھائی بنیامین کے اسباب میں بلا اطلاع رکھ دیا۔ جس وقت قافلہ روانہ ہونے لگا، محافظین کو پیالہ کی تلاش ہوئی۔ آخر ان کا شبہ اسی قافلہ پر گیا۔ قافلہ تھوڑی دور نکلا تھا کہ محافظین میں سے کسی نے آواز دی کہ ٹھہرو۔ تم لوگ یقینا چور معلوم ہوتے ہو (تنبیہ) اگر یہ لفظ یوسف کے حکم سے کہے گئے تو یہ مطلب ہوگا کہ کوئی مال چراتا ہے، تم وہ ہو جنہوں نے باپ کی چوری سے بھائی کو بیچ ڈالا۔
Ayah 12:71

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

کہنے لگے منہ کر کے ان کی طرف تمہاری کیا چیز گم ہوگئی6

6 یعنی ہم کو خواہ مخواہ چور کیوں بناتے ہو۔ اگر تمہاری کوئی چیز گم ہوئی ہے وہ بتلاؤ ہم ابھی کہیں گئے نہیں ہمارے اسباب میں تلاش کرلو۔
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

بولے ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے اس کو ملے ایک بوجھ اونٹ کا، اور میں ہوں اس کا ضامن7

7 محافظین نے کہا، بادشاہ کے پانی پینے کا پیالہ یا غلہ ناپنے کا پیمانہ گم ہوگیا ہے۔ اگر بدون حیل و حجت کے کوئی شخص حاضر کر دے گا تو غلہ کا ایک اونٹ انعام پائے گا۔ میں اس کا ذمہ دار ہوں۔
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

بولے قسم اللہ کی تم کو معلوم ہے ہم شرارت کرنے کو نہیں آئے ملک میں اور نہ ہم کبھی چور تھے8

8 یعنی مصر میں ہمارا چال چلن عام طور پر معلوم ہے کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ ہم نے یہاں کبھی کچھ شرارت کی ؟ نہ ہم شرارتوں کے لیے یہاں آئے۔ اور نہ چوروں کے خاندان سے ہیں۔
Ayah 12:74

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے پھر کیا سزا ہے اس کی، اگر تم نکلے جھوٹے9

9 محافظین نے کہا کہ تم فضول حجتیں کر رہے ہو۔ اگر مال مسروقہ تمہارے پاس سے برآمد ہوگیا تو کیا کرو گے۔
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

کہنے لگے اس کی سزا یہ کہ جس کے اسباب میں سے ہاتھ آئے وہی اس کے بدلے میں جائے ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو1

1 یہ شریعت ابراہیمی میں چور کی سزا تھی۔ یعنی جس کے پاس سے چوری نکلے وہ ایک سال تک غلام ہو کر رہے۔ برادران یوسف نے اپنے قانون شرعی کے موافق بےتامل سزا کا ذکر کردیا۔ کیونکہ انھیں پورا یقین تھا کہ ہم چور نہیں۔ نہ چوری کا مال ہمارے پاس سے برآمد ہوسکتا ہے۔ اس طرح اپنے اقرار سے خود پکڑے گئے۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر شروع کیں یوسف نے ان کی خرجیاں دیکھنی اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے آخر کو وہ برتن نکالا اپنے بھائی کی خرجی سے2 یوں داؤ بتادیا ہم نے یوسف کو3 وہ ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ4 ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں5 اور ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والاف 6

2 یعنی اس گفتگو کے بعد محافظین ان کو " عزیز مصر " (یوسف علیہ السلام) کے پاس لے گئے اور سب ماجرا کہہ سنایا۔ انہوں نے تفتیش کا حکم دیا۔ پہلے دوسرے بھائیوں کی خرجیاں (زنبیلیں اور بیگ وغیرہ) دیکھے گئے، پیالہ برآمد نہ ہوا۔ اخیر میں بنیامین کے اسباب کی تلاشی ہوئی، چناچہ پیالہ اس میں سے نکل آیا۔ 3 یا یوں تدبیر کی ہم نے یوسف کے لیے۔ 4 یعنی بھائیوں کی زبان سے آپ ہی نکلا کہ جس کے پاس مال نکلے غلام بنا لو۔ اس پر پکڑے گئے ورنہ حکومت مصر کا قانون یہ نہ تھا۔ اگر ایسی تدبیر نہ کی جاتی کہ وہ خود اپنے اقرار میں بندھ جائیں تو ملکی قانون کے موافق کوئی صورت بنیامین کو روک لینے کی نہ تھی۔ 5 یعنی جسے چاہیں حکمت و تدبیر سکھلائیں۔ یا اپنی تدبیر لطیف سے سربلند کریں۔ دیکھو وہ ہی لوگ جنہوں نے باپ کی چوری سے یوسف کو چند درہم میں بیچ ڈالا تھا۔ آج یوسف کے سامنے چوروں کی حیثیت میں کھڑے ہیں۔ شاید اس طرح ان کی پچھلی غلطیوں کا کفارہ کرنا ہوگا۔ 6 یعنی دنیا میں ایک آدمی سے زیادہ دوسرا، دوسرے سے زیادہ تیسرا جاننے والا ہے مگر سب جاننے والوں کے اوپر ایک جاننے والا اور ہے جسے " عالم الغیب والشہادۃ " کہتے ہیں۔ (تنبیہ) واضح ہو کہ اس تمام واقعہ میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے کوئی لفظ خلاف واقعہ نہیں نکلا۔ نہ کوئی حرکت خلاف شرع ہوئی۔ زیادہ سے زیادہ انہوں نے " توریہ " کیا " توریہ " کا مطلب ہے ایسی بات کہنا یا کرنا جس سے دیکھنے سننے والے کے ذہن میں ایک ظاہری اور قریبی مطلب آئے لیکن متکلم کی مراد دوسری ہو جو ظاہری مطلب سے بعید ہے۔ اگر یہ " توریہ " کسی نیک اور محمود مقصد کے لیے کیا جائے تو اس کے جائز بلکہ محمود ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اور کسی مذموم و قبیح غرض کے لیے ہو تو وہ " توریہ " نہیں دھوکہ اور فریب ہے۔ یہاں حق تعالیٰ کو منظور تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) کے ابتلاء و امتحان کی تکمیل کردی جائے۔ یوسف کے بعد بنیامین بھی ان سے جدا ہوں۔ ادھر مدت کے بچھڑے ہوئے دو عینی بھائی آپس میں مل کر رہیں۔ یوسف کو امتحان کی گھاٹیوں سے نکالنے کے بعد اول علاتی بھائیوں پھر عینی بھائی والد بزرگوار اور سب کنبہ سے بتدریج ملائیں۔ دوسری طرف برادران یوسف سے جو غلطیاں ہوئی تھیں کچھ ٹھوکریں کھا کر وہ بھی عفو و رحم کے دروازہ پر پہنچ جائیں۔ اور نہ معلوم کیا کیا حکمتیں ہوں گی جن کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کو تھوڑا سا " توریہ " کرنے کی ہدایت ہوئی۔ انہوں نے پیالہ اپنے بھائی کے اسباب میں رکھا۔ پھر نہ کسی پر اس کی چوری کا الزام لگایا نہ یہ کہا کہ ہم فلاں کو چوری کی سزا میں پکڑتے ہیں۔ صورتیں ایسی پیدا ہوتی چلی گئیں جن سے آخر میں بنیامین کے لیے اپنے بھائی کے پاس عزت و راحت کے ساتھ رہنے کی سبیل نکل آئی۔ مصلحتہً بعض ایسے الفاظ بیشک استعمال کیے جن کے معنی متبادر مراد نہ تھے یا بعض چیزوں پر سکوت کیا جن کی نسبت اگر کچھ بولتے تو راز فاش ہو کر اصل مقصد فوت ہوجاتا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

کہنے لگے اگر اس نے چرایا تو چوری کی تھی اس کے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے7 تب آہستہ سے کہا یوسف نے اپنی جی میں اور ان کو نہ جتایا کہا جی میں کہ تم بدتر ہو درجہ میں اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو8

7 یہ اشارہ یوسف (علیہ السلام) کی طرف تھا۔ اپنی پاکبازی جتانے کے لیے محض ناحق کوشی اور عناد سے بنیامین کے جرم کو پختہ کردیا اور اتنی مدت کے بعد بھی یوسف معصوم پر جھوٹی تہمت لگانے سے نہ شرمائے مفسرین نے اس موقع پر کئی قصے بیان کئے ہیں جن کی طرف برادران یوسف نے چوری کے لفظ میں اشارہ کیا تھا۔ ان کے نقل کی یہاں حاجت نہیں۔ 8 یعنی ایسا سخت لفظ سن کر بھی یوسف بےقابو نہیں ہوئے، کیونکہ مصلحت خداوندی افشائے راز کو مقتضی نہ تھی۔ یوسف نے بات کو دل میں رکھا۔ جواب دے کر ان کے اتہام کی حقیقت نہ کھولی۔ اپنے جی میں کہا ( اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ ) 12 ۔ یوسف :77) یعنی الٹا چور کو توال کو ڈانٹے، مجھے چور بناتے ہو ؟ حالانکہ تم نے ایسی چوری کی کہ بھائی کو باپ سے چرا کر بیچ ڈالا۔ باقی میری چوری کا حال اللہ کو معلوم ہے۔ بعض مفسرین نے ( اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ ) 12 ۔ یوسف :77) کا مطلب یہ لیا ہے کہ یوسف نے ان کو خطاب کر کے کہا کہ تم بڑے ہی بدترین لوگ ہو۔ ابھی تو کہہ رہے تھے (وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :73) ہم چوروں میں کے نہیں۔ جب ایک بھائی کے اسباب میں سے مال برآمد ہوا تو اس کے ساتھ دوسرے غیر حاضر بھائی کو بھی ملوث کرنے لگے گویا چوری کرنا تمہارا خاندانی پیشہ ہے (العیاذ باللہ) خدا خوب جانتا ہے کہ تم اپنے بیان میں کہاں تک سچے ہو۔ وہ ہی تم کو غلط بیانیوں کی سزا دے گا۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

کہنے لگے اے عزیز اس کا ایک باپ ہے بوڑھا بڑی عمر کا سو رکھ لے ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ ہم دیکھتے ہیں تو ہے احسان کرنے والاف 9

9 یعنی بوڑھے باپ کو بڑا صدمہ پہنچے گا، وہ ہم سب سے زیادہ اس کو اور اس کے بھائی یوسف کو چاہتے تھے۔ یوسف کے بعد اب اسی سے اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں۔ آپ اگر اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ آپ ہمیشہ مخلوق پر احسانات کرتے ہیں اور ہم پر خصوصی احسان فرماتے رہے ہیں۔ امید ہے ہم کو اپنے کرم سے مایوس نہ فرمائیں گے۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

بولا اللہ پناہ دے کہ ہم کسی کو پکڑیں گے جس کے پاس پائی ہم نے اپنی چیز10 تو تو ہم ضرور بےانصاف ہوئے11

10 یعنی خدا پناہ میں رکھے، کہ ہم کسی کو بےسبب دوسرے کے بدلے میں پکڑنے لگیں۔ ہم تو صرف اسی شخص کو روکیں گے جس کے پاس سے اپنی چیز ملی ہے۔ (وہ بنیامین ہے جو عینی بھائی ہونے کی حیثیت سے ہمارے پاس رہے گا) یہاں بھی ( اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗٓ) 12 ۔ یوسف :79) کی جگہ " اِلَّا مَنْ سَرقَ " نہیں فرمایا جو مختصر تھا۔ کیونکہ واقعہ کے خلاف ہوتا۔ 11 یعنی مجرم کے بدلہ میں بےقصور کو پکڑیں تو تمہارے خیال اور قانون کے موافق ہم بےانصاف ٹھہریں گے۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب ناامید ہوئے اس سے اکیلے ہو بیٹھے مشورہ کرنے کو، بولا ان میں بڑا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے لیا ہے تم سے عہد اللہ کا اور پہلے جو قصور کرچکے ہو یوسف کے حق میں سو میں تو ہرگز نہ سرکوں گا اس ملک سے جب تک کہ حکم دے مجھ کو باپ میرا یا قضیہ چکا دے اللہ میری طرف اور وہ ہے سب سے بہتر چکانے والاف 1

1 جب حضرت یوسف کا جواب سن کر مایوس ہوگئے تو مجمع سے ہٹ کر آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ اکثروں کی رائے ہوئی کہ وطن واپس جانا چاہیے۔ ان میں جو عمر یا عقل وغیرہ کے اعتبار سے بڑا تھا اس نے کہا کہ باپ کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے، جو عہد ہم سے لیا تھا اس کا کیا جواب دیں گے۔ ایک تقصیر تو پہلے یوسف کے معاملہ میں کرچکے ہیں جس کا اثر آج تک موجود ہے۔ اب بنیامین کو چھوڑ کر سب کا چلا جانا سخت بےحمیتی ہوگی۔ سو واضح رہے کہ بندہ تو کسی حال یہاں سے ٹلنے والا نہیں۔ اِلاّ یہ کہ خود والد بزرگوار مجھ کو یہاں سے چلے جانے کا حکم دیں یا اس درمیان میں قدرت کی طرف سے کوئی فیصلہ ہوجائے۔ مثلاً تقدیر سے میں یہیں مرجاؤں یا کسی تدبیر سے بنیامین کو چھڑا لوں۔ (تنبیہ) یہ کہنے والا غالباً وہ ہی بھائی تھا جس نے یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں بھی نرم مشورہ دیا تھا۔ " لَاتَقْتُلُوْا یُوْسُفَ ۔ "