Ayah 10:819 ساحرین نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں زمین پر پھینک دیں اور تخیل و نظر بندی سے دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہونے لگا گویا تمام میدان زندہ سانپوں سے بھرا ہوا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ " جادو " یہ ہے وہ جادو نہ تھا جسے فرعون اور اس کے خوشامدیوں نے جادو کہا تھا۔
1 یعنی بس تم اپنی قوت صرف کرچکے، اب سنبھل جانا کہ خدا اپنی قدرت و رحمت سے یہ سب بنا بنایا کھیل بگاڑتا ہے جو میرے مقابلہ میں پھر کبھی نہیں سنور سکے گا۔ کیونکہ خدا کی عادت و حکمت کے خلاف ہے کہ مصلح و مفسد کے مقابلہ کے وقت جبکہ اس سے مقصود خالص اتمام حجت ہو مفسدوں اور شریروں کی بات سنوار دے اور کلمہ حق کو پست و مغلوب کر دے۔
Ayahs 10:82–832 " بنی اسرائیل " فرعونیوں کے ہاتھوں سخت مصیبت اور ذلت اٹھا رہے تھے اور پرانی پیشین گوئیوں کے مطابق منتظر تھے کہ فرعون کے مظالم کا خاتمہ کرنے اور اس کی سلطنت کا تختہ الٹنے والا " اسرائیلی " پیغمبر مبعوث ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) ٹھیک اسی شان سے تشریف لائے جس کا انھیں انتظار تھا۔ اس لیے تمام " بنی اسرائیل " قدرتی طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کو نعمت عظمی سمجھتے تھے، وہ دل سے حضرت موسیٰ کو سچا جانتے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ مگر اکثر آدمی فرعونی سرداروں سے خوفزدہ تھے، اسی لیے ابتداء میں شرعی طور پر ایمان نہیں لائے وقت کے منتظر رہے کہ جس وقت حق کا غلبہ ہوگا مسلمان ہوجائیں گے۔ بنی اسرائیل کے تھوڑے سے نوجوانوں نے ہمت کر کے باوجود فرعونیوں سے خائف ہونے کے اپنے اسلام کا اظہار و اعلان کردیا۔ چند گنے چنے قبطی بھی جو فرعون کی قوم سے تھے۔ مشرف بایمان ہوئے۔ اخیر میں جب موسیٰ (علیہ السلام) کا اثر اور حق کا غلغلہ بڑھتا گیا، تب پوری قوم بنی اسرائیل کی جو تقریباً چھ لاکھ بالغ مردوں پر مشتمل تھی مسلمان ہوگئی۔ یہاں ابتداء کا قصہ بیان ہوا ہے۔
3 ان کے سرداروں سے مراد یا تو فرعون کے حکاّم و عماّل ہیں، یا بنی اسرائیل کے وہ سردار مراد ہیں جو خوف یا طمع وغیرہ کی وجہ سے اپنے ہم قوموں کو فرعون کی مخالفت سے ڈراتے دھمکاتے تھے اور بچلا دینے کا مطلب یہ ہے کہ فرعون ایمان لانے کی خبر سن کر سخت ایذائیں پہنچائے جن سے گھبرا کر ممکن ہے بعض ضعیف القلب راہ حق سے بچل جائیں۔
4 یعنی ان کا خوف کھانا بھی کچھ بیجا نہ تھا، کیونکہ اس وقت ملک میں فرعون کی مادی طاقت بہت بڑھ چڑھ کر تھی اور اس کا ظلم وعدوان اور کفر طغیان حد سے متجاوز ہوچکا تھا۔ کمزوروں کو ستانے کے لیے اس نے بالکل ہاتھ چھوڑ رکھا تھا۔
Ayah 10:845 یعنی گھبرانے اور خوف کھانے کی ضرورت نہیں۔ ایک فرمان بردار مومن کا کام اپنے مالک کی طاقت پر بھروسہ کرنا ہے جسے خدا کی لامحدود قدرت و رحمت پر یقین ہوگا، وہ یقینا ہر معاملہ میں خدا پر اعتماد کرے گا اور اس اعتماد کا اظہار جب ہی ہوسکتا ہے کہ بندہ اپنے کو بالکلیہ خدا کے سپرد کر دے، اسی کے حکم پر چلے اور تمام جدوجہد میں صرف اسی پر نظر رکھے۔
Ayah 10:856 موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت پر انہوں نے اخلاص کا اظہار کیا کہ بیشک ہمارا بھروسہ خالص خدا پر ہے۔ اسی سے دعا کرتے ہیں کہ ہم کو ان ظالموں کا تختہ مشق نہ بنائے اس طرح کہ یہ ہم پر اپنے زور و طاقت سے ظلم ڈھاتے رہیں اور ہم ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ ایسی صورت میں ہمارا دین بھی خطرہ میں ہے۔ اور ان ظالموں یا دوسرے دیکھنے والوں کو یہ ڈینگ مارنے کا موقع ملے گا کہ اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو تم پر ایسا تسلط و تفوق کیوں حاصل ہوتا اور تم اس قدر پست و ذلیل کیوں ہوتے۔ یہ خیال ان گمراہوں کو اور زیادہ گمراہ کر دے گا۔ گویا ایک حیثیت سے ہمارا وجود ان کے لیے فتنہ بن جائے گا۔
Ayah 10:867 یعنی ان کی غلامی اور محکومی سے ہم کو نجات دے اور دولت آزادی سے مالا مال فرما۔
Ayah 10:878 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جب فرعون کی ہلاکت کا وقت قریب آیا تو حکم ہوا کہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو ان میں شامل نہ رکھو اپنا محلہ جدا بساؤ کہ آگے ان پر آفتیں آنے والی ہیں۔ اس وقت تمہاری قوم ظاہری طور پر بھی آفتوں سے الگ تھلگ رہے۔ مفسرین نے ( تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا) 10 ۔ یونس :87) سے مراد یہ لی ہے کہ اپنے مکانوں میں ٹھہرے رہو اور ان میں سے بعض کو عبادت کے لیے مخصوص کرلو۔
9 فرعون نے مسجدیں اور عبادت گاہیں خراب کردی تھیں کوئی باہر نکل کر خدا کی عبادت نہ کرسکتا تھا۔ بحالت مجبوری حکم ہوا کہ مکان میں کوئی جگہ نماز کے لیے رکھو جو قبلہ رو ہو۔ نماز ترک مت کرو کہ اسی کی برکت سے خدا کی مدد آتی ہے۔ (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) 2 ۔ البقرۃ :45) ہجرت سے پہلے مکہ میں ایسا ہی حال مسلمانوں کا تھا۔
10 دنیا میں فتح و نصرت کی اور آخرت میں نجات و رضائے الٰہی کی۔
Ayah 10:8811 یعنی ہر قسم کا سامان رونق و آسائش کا دیا۔ مثلاً حسن صورت، سواری، عمدہ پوشاک، اثاث البیت وغیرہ اور مال و دولت کے خزانے، سونے چاندی وغیرہ کی کانیں عطا فرمائیں۔
12 اگر لِیُضِلُّوْا میں لام تعلیل لیا جائے تو مطلب یہ ہے کہ تکوینی طور پر یہ سامان ان نابکاروں کو اس لیے دیا گیا کہ مغرور ہو کر خود گمراہ ہوں اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں خرچ کریں۔ بڑی آزادی سے دل کھول کر زور لگا لیں، آخر میں دیکھ لیں گے کہ وہ کچھ بھی کام نہ آیا۔ جب خالق خیر و شر کا اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا کوئی فعل خالی از حکمت نہیں ہوسکتا۔ لامحالہ " خلق شر " میں بھی مجموعہ عالم کے اعتبار سے کوئی حکمت ضرور ہوگی۔ وہ ہی حکمت شریروں کو اس قدر سامان دیے جانے میں سمجھ لیجئے۔ (كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ) 17 ۔ الاسراء :20) ( اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا) 3 ۔ آل عمران :178) بعض مفسرین نے " لِیُضِلُّوْا " میں " لام عاقبتہ " لیا ہے جیسے فالْتَقَطَہ، اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا میں " لام عاقبتہ " ہے۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ یہ سامان دیا تو اس لیے تھا کہ امور خیر میں خرچ کریں اور نعمتوں کو لے کر منعم حقیقی کو پہچانیں۔ اس کے شکر گزار بندے بنیں مگر اس کے برخلاف انہوں نے اپنی بدبختی سے خدا کی نعمتوں کو لوگوں کے بہکانے اور گمراہ کرنے میں ایسا بےدریغ خرچ کیا گویا وہ اسی کام کے لیے ان کو دی گئی تھیں، اس تفسیر پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔
1 جب موسیٰ (علیہ السلام) مدت دراز تک ہر طرح ہدایت کرچکے اور عظیم الشان معجزات دکھلا چکے مگر معاندین کا جحود وعناد بڑھتا ہی رہا۔ حتیٰ کہ تجربہ اور طول صحبت یا وحی الٰہی سے پوری طرح ثابت ہوگیا کہ یہ لوگ کبھی ایمان لانے والے نہیں، تب ان کی ہلاکت کی دعاء فرمائی، تاکہ ان کی گندگی سے دنیا جلد پاک ہو اور دوسروں کے لیے ان کی بدانجامی درس عبرت بنے۔ آپ نے بددعاء کی کہ خداوندا ! ان کے اموال کو تباہ اور ملیامیٹ کر دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے جن میں کبھی ایمان و یقین نفوذ نہ کرے۔ بس اسی وقت یقین حاصل ہو جب اپنی آنکھوں سے عذاب الیم کا مشاہدہ کرلیں یہ دعاء ان کے حق میں ایسی سمجھو جیسے ابلیس کو " لعنۃ اللہ " یا کفار کو " خَذَلَہُمُ اللّٰہُ " کہا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کی ملعونیت و خذلان کا قطعی فیصلہ پیشتر سے کیا جا چکا ہے۔ حضرت شاہ صاحب نے آیت کی تقریر دوسری طرز سے کی ہے فرماتے ہیں " سچے ایمان کی ان سے امید نہ تھی مگر جب کچھ آفت پڑتی تو جھوٹی زبان سے کہتے کہ اب ہم مانیں گے اس میں عذاب تھم جاتا کام فیصل نہ ہوتا۔ دعاء اس واسطے مانگی کہ یہ جھوٹا ایمان نہ لائیں دل ان کے سخت رہیں تاکہ عذاب پڑچکے اور کام فیصل ہو۔ "
Ayah 10:892 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ دعا کرتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے جاتے تھے۔ اس لحاظ سے " دعوتکما " فرمایا۔
3 یعنی اپنا کام استقلال اور ثابت قدمی سے انجام دیتے رہو۔ اگر قبول دعاء کے آثار دیر سے ظاہر ہوں تو نادان لوگوں کی طرح شتابی مت کرو، وقت مقدر پر یہ ہی ہو کر رہے گا۔ گھبرانے سے کچھ حاصل نہیں۔
Ayahs 10:90–914 موسیٰ (علیہ السلام) کئی لاکھ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے، فرعون کو خبر ہوئی تو ایک لشکر جرار لے کر تعاقب کیا۔ تاکہ اس کے پنجہ ظلم سے چھوٹنے نہ پائیں۔ بنی اسرائیل جب بحرقلزم کے کنارے پہنچے تو سخت پریشان ہوئے، آگے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر دباتا چلا آرہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلی دی اور حق تعالیٰ کے حکم سے لاٹھی دریا پر ماری۔ سمندر کا پانی ادھر ادھر کھڑا ہوگیا اور درمیان میں خدا نے بارہ راستے خشک بنا دیئے۔ یہ پار ہوئے، ادھر فرعون لشکر سمیت سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ خشک راستے دیکھ کر سب نے اسی میں گھوڑے ڈال دیے جب ایک ایک کر کے تمام فوج دریا کے وسط میں پہنچی، پانی کو حکم ہوا کہ مل جائے فوراً پانی کے طبقات مل گئے، سب لشکر اور سامان موجوں کی نذر ہوگیا۔ فرعون نے دیکھا کہ اب ڈوبتا ہوں اس وقت گھبرا کر ایمان و اسلام کا لفظ زبان پر لایا کہ شاید بنی اسرائیل کا خدا " ایمان " کا لفظ سن کر دریا کی موجوں سے باہر نکال دے۔ اس پر خدا کی طرف سے ارشاد ہوا (اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ ) 10 ۔ یونس :91) یعنی ساری عمر مخالف ہو کر گمراہی پھیلاتا اور شرارتیں کرتا رہا۔ اب عذاب دیکھ کر یقین لایا اس وقت کا یقین کیا معتبر ہے۔ (فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ۭ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ ) 40 ۔ غافر :85) (تنبیہ) قبض روح اور معائنہ عذاب کے وقت ایمان لانا " ایمان غرغرہ " یا " ایمان باس " یا " ایمان یاس " کہلاتا ہے۔ جو " اہل السنت والجماعت " کے نزدیک نافع نہیں شیخ عبدالوہاب شعرانی نے " کتاب الیواقیت والجواہر " میں " فتوحات مکیہ " سے عبارت نقل کی ہے۔ جس میں ایمان فرعون کی بابت یہ ہی تصریح ہے اور دیباچہ میں لکھا ہے کہ " فتوحات کے " نسخوں میں ملحدین وزنادقہ نے بہت سی عبارتیں مدسوس کردی ہیں میرے پاس جو نہایت مستند و معتبر نسخہ " فتوحات " کا ہے اس میں ان عبارتوں کا پتہ نہیں واللہ اعلم۔ (فائدہ) اخیر وقت میں فرعون سے لفظ " امنت " کہلا کر حضرت موسیٰ کی دعاء (لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ) 26 ۔ الشعراء :201) کی مقبولیت کا خدا نے مشاہدہ کرا دیا۔
Ayah 10:925 " موضح القرآن " میں ہے کہ جیسا بےوقت ایمان لایا، بےفائدہ، ویسا ہی اللہ نے مرے پیچھے اس کا بدن دریا میں سے نکال کر ٹیلے پر ڈال دیا کہ " بنی اسرائیل " دیکھ کر شکر کریں اور پیچھے آنے والے اس کے حال سے عبرت پکڑیں۔ ورنہ اس کو بدن کے بچنے سے کیا فائدہ۔ جیسا بےفائدہ ایمان تھا ویسی ہی بےفائدہ نجات مل گئی۔ جدید تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ فرعون کی لاش آج تک محفوظ چلی آتی ہے لیکن الفاظ قرآنی کی صحت اس کے ثبوت پر موقوف نہیں (اتفاق) بنی اسرائیل کے نجات پانے اور فرعون کے غرق ہونے کا واقعہ " عاشوراء " کے دن ہوا۔ اور اتفاق سے آج بھی جب بندہ یہ سطریں لکھ رہا ہے " یوم عاشوراء 1348 ہجری ہے۔ خدا ہم کو دنیا و آخرت میں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے اور دشمنان دین کا بیڑا غرق کرے۔ آمین۔
Ayah 10:936 یعنی فرعونیوں کو ہلاک کر کے اول ملک مصر دیا۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد عمالقہ کو نکال کر ملک شام دیا گیا۔ دونوں ملک سرسبزو شاداب ہیں جہاں ستھری اور لذیذ چیزوں کی افراط ہے۔ غرض یہ ہے کہ بنی اسرائیل حلال و طیب نعمتوں سے مالا مال کردیئے گئے۔
7 یعنی مادی انعام و اکرام کے ساتھ دینی و روحانی نعمت سے سرفراز فرمایا کہ تورات شریف کا علم دیا۔ جس میں دین کے اصول و فروع بیان ہوئے تھے۔ اور اگلے پچھلوں کے متعلق خبریں تھیں ان واضح حقائق سے خبردار ہونے کے بعد لائق نہ تھا کہ ایسی صاف چیزوں میں اختلاف کر کے آپ میں پھوٹ ڈالیں اور فرقہ بندی کی نحوست میں گرفتار ہوں۔ مگر باوجود علم صحیح اور خبر صادق پہنچ جانے کے طرح طرح کے اختلافات پیدا کیے اور پھوٹ ڈال کر رہے۔ بعض احکام میں اپنے پیغمبر (موسیٰ علیہ السلام) سے بھی کٹ حجتی کی جیسا کہ ذبح بقر کے واقعہ میں گزرا۔ بعد میں آنے والے پیغمبروں خصوصاً خاتم النبیین ﷺ کی بعض نے تصدیق اور اکثروں نے تکذیب کی، حالانکہ ان کے متعلق بہت سی پیشین گوئیوں پر مطلع ہوچکے تھے۔ بلکہ بعثت محمدی سے پہلے نبی آخرالزمان ﷺ کی آمد کے منتظر تھے اور مشرکین سے کہتے تھے کہ ہم پیغمبر آخرالزماں کے ساتھ ہو کر تمہاری خبر لیں گے۔ نہ صرف اسی مسئلہ میں اختلاف ہوا بلکہ خود اپنے مذہب میں تحریف کر کے اصول و فروع بدل ڈالے اور رفتہ رفتہ بیسیوں فرقے پیدا ہوگئے۔ مسیح (علیہ السلام) سے تین سو برس بعد قسطنطین اعظم جو ایک فلسفی مزاج بادشاہ تھا، ازراہ نفاق دین نصرانیت میں داخل ہوا تو پادریوں نے اس کی خاطر جدید قوانین وضع کیے اور نئی شریعت بنائی۔ اس نے ان کے لیے بڑے بڑے گرجا اور معاہد و مشاہد تعمیر کرائے اور اس نئے دین مسیحی کی جو اصل مسیحیت کو بگاڑ کر تیار کیا گیا تھا خوب اشاعت ہوئی بجز چند تارک الدنیا راہبوں کے جو بستیوں سے الگ جنگلوں اور پہاڑوں میں جا رہے تھے۔ کوئی شخص اصلی دین مسیحی پر قائم نہ رہا تھا۔ صلیب کی پرستش، مشرق کی طرف نماز پڑھنا، کلیساؤں میں مسیح و مریم وغیرہ کی تصاویر پوجنا، خنزیر وغیرہ کو حلال کرنا اور اسی طرح کی تحریفات نے حقیقی مسیحیت کو بالکل مسخ کر ڈالا۔ اور یہ ہی مسخ شدہ مسیحیت ساری دنیا میں پھیل گئی۔ یہ زمانہ تھا جب ملک شام، بیت المقدس، جزیرہ اور بلاد روم پر " نصاریٰ " کا تسلط تھا، تاآنکہ فاروق اعظم کے عہد میں صحابہ ؓ نے ان ممالک کو نصاریٰ کے قبضہ سے نکالا۔ وللہ الحمد والمنہ
Ayahs 10:94–971 بظاہر یہ خطاب پیغمبر ﷺ کو ہے لیکن حقیقت میں آپ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے جو ایک امی کی زبان سے ایسے عظیم الشان حقائق و واقعات سن کر حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور جہل و تعصب کی وجہ سے ان کی واقعیت میں شک و تردد کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ آپ خود اپنی لائی ہوئی چیزوں میں کیسے شک و شبہ کرسکتے تھے اور جس کی طرف تمام دنیا کو دعوت دیتے اور پہاڑ سے زیادہ مضبوط یقین سننے والوں کے قلوب میں پیدا کردیتے تھے، اس کو خود اپنی زبان سے کیسے جھٹلاتے۔ چند آیات کے بعد صاف فرما دیا (قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ ښ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ ) 10 ۔ یونس :104) یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ شک کرنے والے دوسرے لوگ تھے جن کے مقابلہ میں آپ اپنے غیر متزلزل اور اٹل عقیدہ کا اعلان کر رہے ہیں۔ بہرحال ان آیات میں پیغمبر کی زبان سے قرآن کے ہر ایک مخاطب کو متنبہ کیا کہ کفر و تکذیب کی بیماری شک سے شروع ہوتی ہے۔ اگر تم کو قرآن کے بیان کردہ واقعات میں شک و شبہ پیدا ہو تو اس کا فوراً علاج کرو۔ یعنی جو لوگ کتب سابقہ کا علم رکھتے ہیں، ان سے تحقیق کرلو۔ آخر ان میں کچھ آدمی سچے اور انصاف پسند بھی ہیں۔ وہ بتائیں گے کہ نبی اُمّی نے جو کچھ بیان فرمایا کہاں تک درست ہے۔ بلاشبہ جو کچھ آپ لائے وہ سچ کے سوا کچھ نہیں، وہ پروردگار کا اتارا ہوا ہے جس میں شک و تردد کی قطعاً گنجائش نہیں۔ اگر بیہودہ شکوک کا علاج نہ کیا جائے تو چند روز میں شک ترقی کر کے امتراء (جدل) اور " امتراء " ترقی کر کے تکذیب کی حد تک جا پہنچے گا جس کا نتیجہ خسران و خرابی کے سوا کچھ نہیں۔ تکذیب کے بعد ایک اور درجہ ہے۔ جہاں پہنچ کر دل پر مہر لگ جاتی ہے تکذیب کرتے کرتے قبول حق کی استعداد بھی برباد ہوجاتی ہے۔ ایسا شخص اگر دنیا جہان کے سارے نشان دیکھ لے تب بھی ایمان نہ لائے۔ اسے عذاب الیم دیکھ کر ہی یقین آئے گا۔ جبکہ اس یقین سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ (فائدہ) کَلِمَۃُ رَبِّکَ (رب کی بات) سے مراد غالباً وہ ہے جو دوسری جگہ فرمایا۔ (لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) 11 ۔ ہود :119) یعنی دوزخ کو جن و انس سے بھروں گا۔ جن لوگوں پر بدبختی، سوء استعداد اور شامت اعمال سے یہ بات علم الٰہی میں ثابت ہوچکی۔ یہاں ان کا ذکر ہے۔
Ayah 10:982 یعنی جتنی بستیاں تکذیب انبیاء اور شرارتوں کی وجہ سے مستوجب عذاب ٹھہریں، ان میں سے کسی کو ایسی طرح ایمان لانے کی نوبت نہ آئی جو عذاب الٰہی سے نجات دیتا۔ صرف یونس (علیہ السلام) کی قوم کی ایک مثال ہے جس نے ایمان لا کر اپنے کو آسمانی عذاب سے بال بال بچا لیا جو بالکل ان کے سروں پر منڈلا رہا تھا۔ خدا نے ایمان کی بدولت دنیاوی زندگی میں ان پر سے آنے والی بلا ٹال دی اور جس وقت تک انھیں دنیا میں رہنا تھا یہاں کے فوائد و برکات سے منتفع کیا۔ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سرزمین موصل میں اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے وہاں کے لوگ بت پرست تھے۔ یونس (علیہ السلام) لگاتار سات سال تک پندو نصیحت کرتے رہے انہوں نے ایک نہ سنی یوماً فیوماً انکار و تکذیب بڑھاتا رہا۔ آخر حضرت یونس نے تنگ آکر انکو آگاہ کیا کہ (باز نہ آئے تو) تین دن کے اندر عذاب آنے والا ہے۔ جب تیسری شب آئی یونس (علیہ السلام) آدھی رات گزرنے پر بستی سے نکل کھڑے ہوئے صبح ہوتے ہی آثار عذاب کے نظر آنے لگے آسمان پر نہایت ہولناک اور سیاہ بادل چھا گیا جس سے دھواں نکلتا تھا۔ وہ ان کے مکانوں سے قریب ہوتا جاتا تھا حتیٰ کہ ان کی چھتیں بالکل تاریک ہوگئیں۔ یہ آثار دیکھ کر جب انھیں ہلاکت کا یقین ہوگیا تو یونس کی تلاش ہوئی وہ نہ ملے تو سب لوگ عورتوں بچوں سمیت بلکہ مواشی اور جانوروں کو بھی ساتھ لے کر جنگل میں نکل آئے اور سچے دل سے خدا کی طرف رجوع ہوئے۔ خوف سے چیخیں مارتے تھے اور بڑے اخلاص و تضرع سے خدا کو پکار رہے تھے۔ چاروں طرف آہ و بکاء کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور کہتے جاتے تھے کہ " أمنا بما جاءَ بہ یونس " جو کچھ یونس (علیہ السلام) لائے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے ان کے تضرع و بکاء پر رحم فرمایا اور آثار عذاب جو پیدا ہوچکے تھے اٹھا لیے گئے۔ یہاں پہنچ کر علمائے سلف کے دو قول ہیں۔ اکثر علماء کہتے ہیں کہ ابھی اصلی عذاب کا معائنہ ان کو نہ ہوا تھا۔ صرف علامات و آثار نظر آئے تھے۔ ایسے وقت کا ایمان شرعاً معتبر اور نافع ہے۔ " ایمان بأس " جو معتبر و مقبول نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ عین عذاب کو دیکھ کر اور اس میں پھنس کر ایمان لائے جیسے فرعون نے سمندر کی موجوں میں پھنس کر اقرار کیا تھا۔ بعض علماء کے نزدیک قوم یونس کا ایمان بھی فرعون کی طرح " ایمان بأس " تھا جو عام ضابطہ کے موافق نافع نہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن حق تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے خلاف قاعدہ بطور استثناء اس قوم کا یہ ایمان معتبر رکھا۔ فرعون کے ایمان کی طرح رد نہیں فرمایا۔ پھر اختلاف ہوا ہے کہ آیا ان کے ایمان کا معتبر ہونا صرف دنیاوی زندگی تک محدود تھا کہ دنیا میں آنے والا عذاب ٹل گیا۔ یا آخرت میں بھی موجب نجات ہوگا۔ " ابن کثیر " نے دوسرے احتمال کو ترجیح دی ہے یعنی دنیا اور آخرت دونوں جگہ مفید و معتبر ہوگا۔ واللہ اعلم۔ حضرت شاہ صاحب نے نہایت لطیف و دقیق طرز میں آیت کی تفسیر کی ہے۔ یعنی دنیا میں عذاب دیکھ کر یقین لانا کسی کو کام نہیں آیا، مگر قوم یونس کو، اس واسطے کہ ان پر حکم عذاب کا نہ پہنچا تھا۔ حضرت یونس کی شتابی سے محض صورت عذاب کی نمودار ہوئی تھی (تاکہ ان کی نظر میں حضرت یونس کی بات جھوٹی نہ ہو) وہ ایمان لائے پھر بچ گئے اور صورت عذاب ہٹا لی گئی۔ اسی طرح مشرکین مکہ کہ فتح مکہ میں فوج اسلام ان پر پہنچی قتل و غارت کے لیے۔ لیکن ان کا ایمان قبول ہوگیا اور امان ملی۔ ' حضرت یونس کے قصہ کا بقیہ " سورة الصَّآفَّات " وغیرہ میں آئے گا۔
Ayah 10:993 یعنی آپ کو یہ قدرت نہیں کہ زبردستی کسی کے دل میں ایمان اتار دیں۔ خدا چاہتا تو بیشک سب آدمیوں کے دلوں میں ایمان ڈال سکتا تھا۔ مگر جیسا کہ پہلے متعدد مواضع میں تقریر کی جا چکی ہے، ایسا کرنا اس کی تکوینی حکمت و مصلحت کے خلاف تھا، اس لیے نہیں کیا۔
Ayah 10:1004 خدا کی مشیت و توفیق اور حکم تکوینی کے بدون کوئی ایمان نہیں لاسکتا۔ اور یہ حکم و توفیق ان ہی کے حق میں ہوتی ہے جو خدا کے نشانات میں غور کریں اور عقل و فہم سے کام لیں۔ جو لوگ سوچنے سمجھنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے انھیں خدا تعالیٰ کفر و شرک کی گندگی میں پڑا رہنے دیتا ہے۔
Ayah 10:1015 یعنی سوچنے اور غرور کرنے والوں کے لیے آسمان و زمین میں خدا کی قدرت و حکمت اور توحید و تفرید کے کیا کچھ نشان موجود ہیں۔ بلکہ ذرہ ذرہ اور پتہ پتہ اس کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن جو کسی بات کو ماننا اور تسلیم کرنا نہیں چاہتے ان کے لیے یہ سب نشانات و دلائل بیکار ہیں اور ڈرانے والے پیغمبروں کی تنبیہ و تخویف بھی غیر موثر ہے۔
Ayah 10:1021 ایسی ضدی اور معاند قوم کے لیے جو کسی دلیل اور نشان کو نہ مانے، اور کچھ باقی نہیں بجز اس کے کہ گذشتہ مکذبین پر جو آفات و حوادث نازل ہوئے ہیں، ان کا یہ بھی انتظار کریں۔ سو بہتر ہے تم اور ہم دونوں مل کر اس وقت کا انتظار کرتے ہیں تاکہ صادق و کاذب کا آخری فیصلہ سامنے آجائے۔
Ayah 10:1032 یعنی جیسے پہلی قوموں کے ساتھ ہماری عادت رہی ہے کہ مکذبین کو ہلاک کر کے پیغمبروں اور مؤمنین کو بچایا۔ اسی طرح موجودہ اور آئندہ مومنین کی نسبت ہمارا وعدہ ہے کہ ان کو نجات دیں گے آخرت میں عذاب الیم سے اور دنیا میں کفار کے مظالم اور سختیوں سے ہاں شرط یہ ہے کہ مؤمنین مؤمنین ہوں۔ یعنی وہ صفات و خصال رکھتے ہوں جو قرآن و حدیث میں مؤمنین کی بیان ہوئیں ہیں۔
Ayahs 10:104–1063 یعنی اگر میرا طریقہ اور مسلک دینی تمہاری سمجھ میں نہیں آیا۔ اس لیے اس کی نسبت شکوک و شبہات میں پھنسے ہوئے ہو، تو میں تمہیں اپنے دین کا اصل اصول (جو توحید خالص ہے) سمجھائے دیتا ہوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ میں تمہارے ان فرضی معبودوں کی عبادت سے سخت نفور اور بیزار ہوں جس کے اختیار کرنے کا امکان بھی کبھی میری طرف سے دل میں نہ لانا۔ میری عبادت خالص اس خداوند قدوس کے لیے ہے جس کے قبضہ میں تمہاری سب کی جانیں ہیں کہ جب تک چاہے انھیں جسموں میں چھوڑے رکھے اور جب چاہے ایک دم میں کھینچ لے گویا موت وحیات کا رشتہ جس کے ہاتھ میں ہے بندگی اسی کی ہوسکتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ جوارح سے اس کی بندگی کی جائے، ضروری ہے کہ دل میں اس کی توحید و تفرید پر پورا یقین و ایمان ہو اور ظاہر و باطن میں اسی دین حنیف پر جو ابراہیم خلیل اللہ کا دین ہے پوری ہمت اور توجہ سے مستقیم رہ کر شرک جلی وخفی کا تسمہ نہ لگا رہنے دیا جائے۔ جس طرح عبادت صرف اسی کی کریں، استعانت کے لیے بھی اسی کو پکاریں، کیونکہ ہر قسم کا نفع نقصان اور بھلائی برائی تنہا اسی کے قبضہ میں ہے۔ مشرکین کی طرح ایسی چیزوں کو مدد کے لیے پکارنا جو کسی نفع نقصان کی مالک نہ ہوں سخت بےموقع بات بلکہ ظلم عظیم (یعنی شرک) کا ایک شعبہ ہے۔ اگر بفرض محال نبی سے ایسی حرکت صادر ہو تو ان کی عظیم الشان شخصیت کو لحاظ کرتے ہوئے ظلم اعظم ہوگا۔
Ayah 10:1074 جب ان چیزوں کو پکارنے سے منع کیا جن کے قبضہ میں تمہارا بھلا برا کچھ نہیں تو مناسب ہوا کہ اس کے بالمقابل مالک علی الاطلاق کا ذکر کیا جائے جو تکلیف و راحت اور بھلائی برائی کے پورے سلسلہ پر کامل اختیار اور قبضہ رکھتا ہے جس کی بھیجی ہوئی تکلیف کو دنیا میں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ اور جس پر فضل و رحمت فرمانا چاہے، کسی کی طاقت نہیں کہ اسے محروم کرسکے۔
Ayah 10:1081 یعنی حق واضح طور پر دلائل وبراہین کے ساتھ پہنچ چکا، جس کے قبول نہ کرنے کا کوئی معقول عذر کسی کے پاس نہیں خدا کی آخری حجت بندوں پر تمام ہوگئی۔ اب ہر ایک اپنا نفع نقصان سوچ لے جو خدا کی بتلائی ہوئی راہ پر چلے گا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا۔ جو اسے چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹکتا پھرے گا خود پریشان اور ذلیل و خوار رہے گا اپنے بھلے برے کو خوب سمجھ کر ہر شخص اپنے مستقبل کا انتظام کرلے اور جو راستہ پسند ہو اختیار کرے پیغمبر کوئی مختار بنا کر نہیں بھیجے گئے جو تمہارے افعال کے ذمہ دار اور جواب دہ ہوں۔ ان کا کام صرف آگاہ کردینے اور راستہ بتلا دینے کا ہے۔ اس پر چلنا، چلنے والے کے اختیار میں ہے۔
Ayah 10:1092 اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ حق کو قبول نہ کریں تو اپنے کو ان کے غم میں نہ گھلائیں۔ آپ خدا کے احکام کی پیروی کرتے رہیے اور تبلیغ وغیرہ کے کام میں لگے رہیے۔ اور جو شدائد اس راستہ میں پہنچیں ان پر صبر کیجئے۔ مخالفین کی ایذاء رسانیوں کا تحمل کرتے رہنا چاہیے۔ یہاں تک کہ خدا آپ کے اور ان کے درمیان بہترین فیصلہ کر دے یعنی حسب وعدہ آپ کو منصورو غالب کرے یا جہاد کا حکم بھیج دے۔ تَمَّ سُورَۃُ یُوْنُسَ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِمَنِّہٖ تَعَالیٰ وَفَضْلِہٖ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ عَلٰی ذٰلِک۔