Ayah 10:414 یعنی اگر دلائل وبراہین سننے کے بعد بھی یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو کہہ دیجئے کہ ہم اپنا فرض ادا کرچکے، تم سمجھانے پر نہیں مانتے تو اب میرا تمہارا راستہ الگ الگ ہے۔ تم اپنے عمل کے ذمہ دار ہو میں اپنے عمل کا۔ ہر ایک کو اس کے عمل کا ثمرہ مل کر رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ (معاذ اللہ) " اگر اللہ کا حکم غلط پہنچاؤں تو میں گنہگار ہوں، اور میں سچ لاؤں تم نہ مانو تو گناہ تم پر ہے۔ بہرحال ماننے میں کسی طرح تمہارا نقصان نہیں۔ "
Ayahs 10:42–435 بعض لوگ بظاہر قرآن شریف اور آپ کا کلام مبارک سنتے ہیں اور آپ کے معجزات و کمالات دیکھتے ہیں مگر دیکھنا سننا وہ نافع ہے جو دل کے کانوں اور دل کی آنکھوں سے ہو۔ یہ آپ کے اختیار میں نہیں کہ آپ دل کے بہروں کو اپنی بات سنا دیں۔ بحالیکہ وہ سخت بہرہ پن کی وجہ سے قطعاً کسی کلام کو نہ سمجھ سکتے ہوں یا دل کے اندھوں کو راہ حق دکھلا دیں جبکہ انہیں کچھ بھی نہ سوجھتا ہو۔ " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی کان رکھتے ہیں یا نگاہ کرتے ہیں اس توقع پر کہ آپ ہمارے دل پر تصرف کردیں جیسا بعضوں پر ہوگیا، سو یہ بات اللہ کے ہاتھ ہے۔ " بعض مفسرین نے لایَعْقِلُوْنَ سے مطلق عقل کی اور لایبصرون سے بصیرت کی نفی مراد لی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے اندھے، بہرے جو علاوہ نہ سننے اور نہ دیکھنے کے ہر قسم کی سمجھ بوجھ سے محروم ہیں۔ ان کو آپ کس طرح سنا اور دکھا کر منوا سکتے ہیں۔
Ayah 10:446 یعنی جن کے دل میں اثر نہیں ہوتا، یہ ان ہی کی تقصیر ہے۔ خود اپنی بےاعتدالیوں اور غلط کاریوں سے انہوں نے قوائے ادراکیہ کو تباہ کرلیا ہے۔ ورنہ اصل فطرت سے ہر آدمی کو خدا نے سمجھنے اور قبول کرنے کی استعداد بخشی ہے۔
Ayah 10:457 یعنی محشر کے ہولناک اہوال و حوادث کو دیکھ کر عمر بھر کا عیش و آرام اس قدر حقیر و قلیل نظر آئے گا گویا دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ ٹھہرے ہی نہ تھے اور افسوس کریں گے کہ ساری عمر کیسی فضول اور بیکار گزری، جیسے آدمی گھنٹہ دو گھنٹہ یوں ہی گپ شپ میں بیکار گزار دیتا ہے۔ نیز وہاں کی زہرہ گداز مصائب کو دیکھ کر خیال کریں گے کہ گویا دنیا میں کچھ مدت قیام ہی نہ ہوا جو یہ وقت آلیا۔ گھڑی دو گھڑی ٹھہرے اور یہاں آپھنسے۔ کاش وہاں کی مدت قیام کچھ طویل ہوتی تو یہ دن اس قدر جلد نہ دیکھنا پڑتا۔ بعض مفسرین نے کہا کہ برزخ (قبر) میں ٹھہرنے کی مدت کو ایک گھڑی کے برابر سمجھیں گے۔ واللہ اعلم۔
8 مگر کچھ مدد نہ کرسکیں گے نفسی نفسی پڑی ہوگی۔ بھائی بھائی کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آئے گا۔ (فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ ) 23 ۔ المؤمنون :101) (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ 34ۙ وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ 35ۙ وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ 36ۭ ) 80 ۔ عبس :34 تا 36)
9 باقی جنہوں نے لقاء اللہ کی تصدیق کی اور سیدھی راہ پر چلے وہ سراسر فائدہ میں ہیں۔
Ayah 10:461 یعنی ہم نے کفار کو عذاب دینے اور اسلام کو غالب و منصور کرنے کے جو وعدے کیے ہیں، خواہ ان میں سے بعض وعدے کسی حد تک آپ کی موجودگی میں پورے کر کے دکھلا دیے جائیں، جیسے " بدر " وغیرہ میں دکھلا دیا۔ یا آپ کی وفات ہوجائے۔ اس لیے آپ کے سامنے ان میں سے بعض کا ظہور نہ ہو۔ بہرصورت یہ یقینی ہے کہ وہ سب پورے ہو کر رہیں گے۔ اگر کسی مصلحت سے دنیا میں ان کفار کو سزا نہ دی گئی تو آخرت میں ملے گی۔ ہم سے بچ کر کہاں بھاگ سکتے ہیں۔ سب کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے اور ان کے تمام اعمال ہمارے سامنے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " غلبہ اسلام کچھ حضرت ﷺ کے روبرو ہوا، اور باقی آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء " کے ہاتھوں سے۔ گویا نَتَوَفَّیَنَّکَ میں اس طرف اشارہ ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 10:472 پہلے اس امت اور اس کے رسول اکرم ﷺ کا ذکر تھا۔ اب عام اقوام و امم کا ضابطہ بتلاتے ہیں کہ ہر جماعت اور فرقہ کے پاس خدا کے احکام پہنچانے والے بھیجے گئے ہیں جن کو " رسول " کہیے۔ تاکہ خدا کی حجت تمام ہو، اتمام حجت سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیا جاتا۔ لوگ عمل پہلے سے کرتے ہیں۔ مگر دنیا میں ان کو سزا رسول پہنچنے اور حجت تمام کرنے کے بعد دی جاتی ہے۔ خدا کے یہاں یہ ظلم اور اندھیر نہیں کہ بدون پیشتر سے آگاہ کرنے اور ملزم ثابت ہونے کے مجرموں کو فیصلہ سنا دیا جائے۔ قیامت میں بھی باقاعدہ پیشی ہوگی، فرد جرم لگائیں گے، گواہ پیش ہوں گے، ہر قوم کے ساتھ ان کے پیغمبر موجود ہوں گے۔ ان کے بیانات وغیرہ کے بعد نہایت انصاف سے فیصلہ ہوگا۔ (وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) 39 ۔ الزمر :69) مجاہد وغیرہ نے آیت کو قیامت کے احوال پر حمل کیا ہے۔
Ayah 10:483 یعنی عذاب آنے کی جو دھمکیاں دیتے ہو، محض جھوٹ اور بےاصل ہیں۔ اگر واقعی تم سچے ہو تو لے کیوں نہیں آتے۔ آخر یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔
Ayah 10:494 یعنی عذاب وغیرہ بھیجنا خدا کا کام ہے، میرے قبضہ اور اختیار میں نہیں۔ میں خود اپنے نفع نقصان کا صرف اسی قدر مالک ہوں جتنا اللہ چاہے۔ پھر دوسروں پر کوئی بھلائی برائی وارد کرنے کا مستقل اختیار مجھے کہاں سے ہوتا۔ ہر قوم کی ایک مدت اور میعاد خدا کے علم میں مقرر ہے۔ جب میعاد پوری ہو کر اس کا وقت پہنچ جائے گا، ایک سیکنڈ کا تخلف نہ ہو سکے گا۔ غرض عذاب کے لیے جلدی مچانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ خدا کے علم میں جو وقت طے شدہ ہے اس سے ایک منٹ آگے پیچھے نہیں سرک سکتے۔ زمخشری کے نزدیک ( لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :34) اس سے کنایہ ہے کہ عذاب کا اپنے وقت معین پر آنا اٹل ہے۔ کنایہ میں حقیقت تقدم و تأخر کا نفیاً یا اثباتاً اعتبار نہیں فتنبہ لہ '۔
Ayah 10:505 یعنی رات کو سوتے ہوئے یا دن میں جب تم دنیا کے دھندوں میں مشغول ہو، اگر اچانک خدا کا عذاب آجائے تو مجرم جلدی کر کے کیا بچاؤ کرسکیں گے ؟ جب بچاؤ نہیں کرسکتے پھر وقت پوچھنے سے کیا فائدہ ؟ مترجم (رح) نے (نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ ) 10 ۔ یونس :50) کا یہ ترجمہ حضرت شاہ صاحب کے مذاق کے موافق کیا ہے عموماً مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ عذاب الٰہی کے آنے میں کون سی ایسی خوشی اور مزے کی بات ہے، جس کی وجہ سے مجرمین جلدی طلب کر رہے ہیں۔ یا یہ کہ تعجب کا مقام ہے کہ مجرمین کیسی سخت خوفناک چیز کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ حالانکہ ایک مجرم کے لائق تو یہ تھا کہ وہ آنے والی سزا کے تصور سے کانپ اٹھتا اور ڈر کے مارے ہلاک ہوجاتا۔ (البحر المحیط)
Ayah 10:516 یعنی عذاب کے لیے جلدی کرنا اس بناء پر ہے کہ انھیں اس کے آنے کا یقین نہیں۔ اس وقت یقین ہوتا تو فائدہ ہوسکتا تھا کہ بچنے کی کوشش کرتے۔ عذاب آچکنے کے بعد یقین آیا تو کیا فائدہ ہوگا۔ اس وقت خدا کی طرف سے کہہ دیا جائے گا کہ اچھا اب قائل ہوتے ہو، اور پہلے سے جھٹلاتے رہے۔ کیونکہ تقاضا کرنا بھی جھٹلانے اور مذاق اڑانے کی نیت سے تھا۔ اس وقت اقرار کرنے سے کچھ نفع نہیں۔ (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84 فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ۭ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ 85 ) 40 ۔ غافر :85-84)
Ayah 10:527 جو کفر و شرک اور تکذیب کرتے رہے تھے، اب ہمیشہ اس کا مزا چکھتے رہو۔ یہ قیامت میں کہا جائے گا۔
Ayah 10:538 یعنی غفلت کے نشہ میں چور ہو کر تعجب سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور دائمی عذاب کا مزہ چکھیں گے ؟ کیا واقعی ریزہ ریزہ ہو کر اور خاک میں مل کر پھر ازسر نو ہم کو موجود کیا جائے گا ؟ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ تعجب کی کیا بات ہے، یہ چیز تو یقینا ہونے والی ہے۔ تمہارا مٹی میں مل جانا اور پارہ پارہ ہوجانا خدا کو اس سے عاجز نہیں کرسکتا کہ پہلے کی طرح تمہیں دوبارہ پیدا کر دے اور شرارتوں کا مزہ چکھائے۔ ممکن نہیں کہ اس کے قبضہ سے نکل بھاگو اور فرار ہو کر (معاذ اللہ) اسے عاجز کرسکو۔ (تنبیہ) اس آیت کے مشابہ دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ ایک سورة " سبا " میں (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ ) 34 ۔ سبأء :3) دوسری " تغابن " میں (زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ) ۔ 64 ۔ التغابن :7) یہ دونوں قیامت اور معاد کے متعلق ہیں ان ہی کی مناسبت سے حافظ ابن کثیر نے آیت حاضرہ کو معاد کے متعلق رکھا ہے۔
Ayah 10:549 یعنی اگر روئے زمین کے خزانے فرض کروا سکے قبضہ میں ہوں تو کوشش کرے کہ یہ سب دے کر خدا کے عذاب سے اپنے آپ کو بچا لے۔
1 دل میں اپنی حرکتوں پر پشیمان ہوں گے اور چاہیں گے لوگوں پر پشیمانی کا اظہار نہ ہو مگر تابکے۔ کچھ دیر آثار ندامت ظاہر نہ ہونے دیں گے۔ آخر بےاختیار ظاہر ہو کر رہیں گے۔ اس وقت کہیں گے۔ ( يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ ) 39 ۔ الزمر :56) اور (يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا) 21 ۔ الانبیآء :97)
Ayah 10:552 یعنی سارے جہان میں حکومت صرف اللہ کی ہے۔ انصاف ہو کر رہے گا۔ کوئی مجرم نہ کہیں بھاگ سکتا ہے، نہ رشوت دے کر چھوٹ سکتا ہے۔
3 یعنی سوء استعداد، بدفہمی اور غفلت سے اکثر لوگ ان حقائق کو نہیں سمجھتے۔ اسی لیے جو زبان پر آئے بک دیتے ہیں اور جو جی میں آئے کرتے ہیں۔
Ayah 10:564 جلانا اور مارنا جب اسی کا فعل ہے تو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayah 10:575 یہ سب صفات قرآن کریم کی ہیں۔ قرآن اول سے آخر تک نصیحت ہے جو لوگوں کو مہلک اور مضر باتوں سے روکتا ہے۔ دلوں کی بیماریوں کے لیے نسخہ شفا ہے۔ وصول الی اللہ اور رضائے خداوندی کا راستہ بتاتا ہے، اور اپنے ماننے والوں کو دنیا و آخرت میں رحمت الٰہیہ کا مستحق ٹھہراتا ہے۔ بعض محققین کے نزدیک اس آیت میں نفس انسانی کے مراتب کمال کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جو شخص قرآن کریم سے تمسک کرے ان تمام مراتب پر فائز ہوسکتا ہے۔ (1) اپنے ظاہر کو نالائق افعال سے پاک کرنا۔ لفظ " موعظت " میں اسکی طرف اشارہ ہے (2) باطن کو عقائد فاسدہ اور ملکات رویہ سے خالی کرنا جو " شِفَآءٌ لِّمَا فِیْ الصُّدُوْرِ " سے مفہوم ہوتا ہے۔ (3) نفس کو عقائد حقہ اور اخلاق فاضلہ سے آراستہ کرنا، جس کے لیے لفظ " ہدی " زیادہ مناسب ہے، (4) ظاہر وباطن کی درستی کے بعد انوار رحمت الٰہیہ کا نفس پر فائض ہونا، جو لفظ " رحمت " کا مدلول ہے۔ امام فخر الدین رازی (رح) نے جو تقریر کی ہے اس میں ان چار لفظوں سے شریعت، طریقت، حقیقت اور نبوت و خلافت کی طرف علی الترتیب اشارہ کیا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں اور نہ اس قسم کے مضامین خالص تفسیر کی مد میں آسکتے ہیں۔
Ayah 10:586 " فرح " (خوش ہونا) محمود بھی ہے اور مذموم بھی۔ کسی نعمت پر اس حیثیت سے خوش ہونا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ملی ہے، محمود ہے۔ جیسے یہاں فرمایا۔ (فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا) 10 ۔ یونس :58) اور حطام دنیا پر خوش ہونا اور اکڑنا خصوصاً یہ خیال کر کے ہم کو اپنی لیاقت سے حاصل ہوئی ہے، سخت مذموم ہے۔ قارون اپنے مال و دولت کی نسبت کہتا تھا " اِنَّمَا اُوْتِیْتُہ، عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ " اس کو فرمایا (لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ 76 وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا) 28 ۔ القصص :77-76)
7 یعنی اصل چیز خدا کا فضل و رحمت ہے، انسان کو اسی کی تلاش کرنی چاہیے مال و دولت، جاہ وحشم، سب اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
Ayah 10:598 یعنی قرآن جو نصیحت، شفاء اور ہدایت و رحمت بن کر آیا ہے وہ ہی استناد اور تمسک کرنے کے لائق ہے۔ احکام الٰہیہ کی معرفت اور حلال و حرام کی تمیز اسی سے ہوسکتی ہے۔ یہ کیا واہیات ہے کہ خدا نے تو تمہارے انتفاع کے لیے ہر قسم کی روزی پیدا کی۔ پھر تم نے محض اپنی آراء وا ہواء سے اس میں سے کسی چیز کو حلال، کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ بھلا تحلیل و تحریم کا تم کو کیا حق ہے ؟ کیا تم یہ کہنے کی جرأت کرسکتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے ایسا حکم دیا، یا یوں ہی خدا پر افتراء کر رہے ہو۔ اگلی آیت میں صاف اشارہ کردیا کہ بجز افتراء علی اللہ کے اور کچھ نہیں۔ (تنبیہ) جن چیزوں کو حلال وحرام کیا تھا، ان کا مفصل تذکرہ " مائدہ " اور " انعام " میں گزر چکا۔
Ayah 10:609 یعنی یہ لوگ روز قیامت کے متعلق کیا خیال کر رہے ہیں کہ کیا معاملہ ان کے ساتھ ہوگا سخت پکڑے جائیں گے، یا سستے چھوٹ جائیں گے۔ عذاب بھگتنا پڑے گا یا نہیں۔ کن خیالات میں پڑے ہیں۔ یاد رکھیں جو دردناک سزا ملنے والی ہے وہ ٹل نہیں سکتی۔
10 یعنی خدا اپنے فضل سے دنیا میں بہت کچھ مہلت دیتا ہے۔ بہت سی تقصیرات سے درگزر کرتا ہے۔ لیکن بہت لوگ نرمی اور اغماض کو دیکھ کر بجائے شکر گذار ہونے کے اور زیادہ دلیر اور بےخوف ہوجاتے ہیں۔ آخر سزا دینی پڑتی ہے
حلمِ حق باتو مواساہاکند چوں نتو ازحد بگزری رسواکند
Ayah 10:611 پہلے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے تھے وہ سراپا نور ہدایت، شفائے قلوب، نعمت عظمیٰ اور رحمت کبریٰ ہیں۔ پھر اشارہ کیا کہ ہدایت و بصیرت کی ایسی صاف روشنی کو چھوڑ کر لوگ اپنے اوہام و خیالات کے اندھیرے میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور خدا پر افتراء کر کے اس کے فضل و انعام کی ناقدری کرتے ہیں۔ اس آیت میں متنبہ کیا کہ لوگ کس حال میں ہیں اور پیغمبر ﷺ کی کیا شان ہے۔ آپ شب و روز مالک حقیقی کی وفاداری، ہمدردی خلائق کی جن شون عظیمہ کے مظہر بنتے ہیں، خصوصاً آپ ﷺ کی جو امتیازی شان قرآن پڑھنے پڑھانے کے وقت ظاہر ہوتی ہے یعنی قرآن کے ذریعے سے جو جہاد آپ کر رہے ہیں وہ سب خدا کے حضور میں ہے اور لوگ جو کچھ اچھا یا برا معاملہ کرتے ہیں وہ سب بھی خدا کی نظر کے سامنے ہیں۔ جس وقت مخلوق کوئی کام شروع کرتی اور اس میں مشغول و منہمک ہوجاتی ہے، خواہ اسے خدا کا تصور نہ آئے۔ لیکن خدا اس کو برابر دیکھ رہا ہے۔ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہ، یَرَاک زمین و آسمان میں کہیں ایک ذرہ برابر یا اس سے چھوٹی بڑی چیز نہیں جو خدا تعالیٰ کے علم محیط سے غائب ہو۔ بلکہ علم الٰہی سے نیچے اتر کر تمام " مَاکَانَ وَمَایَکُوْنُ " کا حال " کتاب مبین " (لوح محفوظ) میں ثبت ہے۔ جسے " عالم تدبیر " میں " صحیفہ علم الٰہی کہنا چاہیے۔ جب حق تعالیٰ پر کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ چیز پوشیدہ نہیں تو ان مکذبین معاندین کے معاملات و احوال کیسے مخفی رہ سکتے ہیں، پھر روز جزاء کی کارروائی کے متعلق یہ کیا خیال کر رہے ہیں۔ وہ خوب سمجھ لیں کہ ان کی ہر چھوٹی بڑی حرکت خدا کے سامنے ہے وہاں کوئی خیانت اور چوری نہیں چل سکے گی۔ ہر عمل کی سزا مل کر رہے گی۔ اور جس طرح دشمنوں کے معاملات اس کے سامنے ہیں، ان کے بالمقابل دوستوں کا ذرہ ذرہ حال بھی اس کے علم میں ہے، اگلی آیات میں ان کو بشارت سنائی گئی۔
Ayah 10:622 ابن کثیر نے روایات حدیثیہ کی بناء پر اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " اولیاء اللہ " (خدا کے دوستوں) کو آخرت میں اہوال محشر کا کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ دنیا کے چھوٹ جانے پر غمگین ہوں گے۔ بعض مفسرین نے آیت کو کچھ عام رکھا ہے یعنی ان پر اندیشہ ناک حوادث کا وقوع نہ دنیا میں ہوگا نہ آخرت میں۔ اور نہ کسی مطلوب کے فوت ہونے پر وہ مغموم ہوتے ہیں گویا خوف سے خوف حق یا غم سے غم آخرت کی نفی مراد نہیں بلکہ دنیا میں دنیاوی خوف و غم کی نفی مراد ہے جس کا احتمال مخالفت اعداء وغیرہ سے ہوسکتا ہے، وہ مومنین کاملین کو نہیں ہوتا۔ ہر وقت ان کا اعتماد اللہ پر ہوتا ہے اور تمام واقعات تکوینیہ کے خالی از حکمت نہ ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ اس اعتماد واعتقاد کے استحضار سے انھیں خوف و غم نہیں ستاتا۔ میرے نزدیک " لَاخَوْفُ عَلَیْہِمْ " کا مطلب یہ لیا جائے کہ " اولیاء اللہ " پر کوئی خوفناک چیز (ہلاکت یا معتدبہ نقصان) دنیا و آخرت میں واقع ہونے والی نہیں۔ اگر فرض کیجئے دنیا میں صورتاً کوئی نقصان پیش بھی آئے تو چونکہ نتیجہ وہ ان کے حق میں نفع عظیم کا ذریعہ بنتا ہے اس لیے اس کو معتدبہ نقصان نہیں کہا جاسکتا۔ رہا کسی سبب دنیاوی یا اخروی کی وجہ سے ان کو کسی وقت خوف لاحق ہونا، وہ آیت کی اس تقریر کے منافی نہ ہوگا کیونکہ آیت نے صرف یہ خبر دی ہے کہ ان پر کوئی خوفناک چیز نہ پڑے گی، یہ نہیں کہا کہ انھیں کسی وقت خوف لاحق نہ ہوگا۔ شاید لا یحزنون کے مناسب لایخافون نہ فرمانے اور لاخوف علیہم کی تعبیر اختیار کرنے میں یہ ہی نکتہ ہو۔ باقی لا یحزنون کا تعلق میرے خیال میں مستقبل سے ہے، یعنی موت کے وقت اور موت کے بعد غمگین نہ ہوں گے جیسا کہ فرمایا۔ (تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا) 41 ۔ فصلت :30) اور فرمایا (لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ۭ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) 21 ۔ الانبیاء :103) واللہ تعالیٰ اعلم بمرادہ۔
Ayah 10:633 " یہ اولیاء اللہ " کی تعریف فرمائی یعنی مومن متقی خدا کا ولی ہوتا ہے پہلے کئی مواقع میں معلوم ہوچکا ہے کہ ایمان وتقویٰ کے بہت سے مدارج ہیں۔ پس جس درجہ کا ایمان وتقویٰ کسی میں موجود ہوگا۔ اسی درجہ میں ولایت کا ایک حصہ اس کے لیے ثابت ہوگا۔ پھر جس طرح مثلاً دس بیس روپیہ بھی مال ہے اور پچاس، سو، ہزار دو ہزار، لاکھ دو لاکھ روپیہ بھی لیکن عرف عام میں دس بیس روپے کے مالک کو " مالدار " نہیں کہا جاتا۔ جب تک معتدبہ مقدار مال و دولت موجود نہ ہو۔ اسی طرح سمجھ لیجئے کہ ایمان وتقویٰ کسی مرتبہ میں ہو، وہ ولایت کا شعبہ ہے اور اس حیثیت سے سب مومنین فی الجملہ " ولی " کہلائے جاسکتے ہیں لیکن عرف میں " ولی " اسی کو کہا جاتا ہے جس میں ایک خاص اور ممتاز درجہ ایمان وتقویٰ پایا جاتا ہو۔ احادیث میں کچھ علامات و آثار اس ولایت کے ذکر کیے گئے ہیں۔ مثلاً ان کو دیکھنے سے خدا یاد آنے لگے یا مخلوق خدا سے ان کو بےلوث محبت ہو، عارفین نے اپنے اپنے مذاق کے موافق " ولی " کی تعریفیں کی ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔
Ayah 10:644 " اولیاء اللہ کے لیے دنیا میں کئی طرح کی بشارتیں ہیں مثلاً حق تعالیٰ نے انبیاء کی زبانی جو لاخَوْفُ ، عَلَیْہِمْ وغیرہ کی بشارت دی ہے، یا فرشتے موت کے قریب ان کو کہتے ہیں (وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :30) یا کثرت سے سچے اور مبارک خواب انھیں نظر آتے ہیں یا ان کی نسبت دوسرے بندگان خدا کو دکھائی دیتے ہیں جو حدیث صحیح کے موافق نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ یا ان کے معاملات میں خدا کی طرف سے خاص قسم کی تائید و امداد ہوتی ہے یا خواص میں اور کبھی خواص سے گزر کر عوام میں بھی ان کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اور لوگ ان کی مدح وثناء اور ذکر خیر کرتے ہیں۔ یہ سب چیزیں دنیاوی بشارت کے تحت میں درجہ بدرجہ آسکتی ہیں۔ مگر اکثر روایات میں لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کی تفسیر رویائے صالحہ سے کی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔ رہی بشارت اخروی، وہ خود قرآن میں منصوص ہے۔ بُشْراکم الیوم جنات تجری من تحتھا الانھار اور حدیث میں بھی یہی تفسیر منقول ہے۔
5 یعنی اللہ کی باتیں اور اس کے وعدے سب پختہ اور اٹل ہیں۔ جو بشارتیں دی ہیں ضرور پہنچ کر رہیں گی۔
Ayah 10:656 اوپر سے اعدائے مکذبین کا ذکر چلا آتا تھا۔ ان کے بالمقابل دوستوں کا تذکرہ فرمایا اور ان کو دارین میں محفوظ رہنے کی بشارت سنائی۔ اسی سلسلہ میں حضور ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ احمقوں اور شریروں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں، غلبہ اور زور سب خدا کے لیے ہے وہ اپنے زور تائید سے حق کو غالب و منصور اور مخالفین کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑے گا وہ ان کی سب باتیں سنتا اور سب حالات جانتا ہے۔
Ayah 10:667 یعنی کل زمین و آسمان میں خدائے واحد کی سلطنت ہے، سب جن و انس اور فرشتے اسی کے مملوک و مخلوق ہیں۔ مشرکین کا غیر اللہ کو پکارنا اور انھیں خدائی کا حصہ دار بنانا، محض اٹکل کے تیر اور واہی تباہی خیالات ہیں۔ ان کے ہاتھ میں نہ کوئی حقیقت ہے نہ حجت وبرہان، خالی اوہام وظنون کی اندھیریوں میں پڑے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
Ayah 10:678 دن رات اور اندھیرے اجالے کا پیدا کرنے والا وہی ایک خدا ہے۔ اسی سے خیر و شر اور تمام متقابل اشیاء کی پیدائش کو سمجھ لو۔ اس میں " مجوس " کے شرک کا رد ہوگیا۔ اور ادھر بھی لطیف اشارہ کردیا کہ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد خدا روز روشن کو لاتا ہے اور دن کے اجالے میں وہ چیزیں نظر آتی ہیں جو شب کی ظلمت میں دکھائی نہ دیتی تھیں۔ ایسے ہی مشرکین کے اوہام وظنون کی اندھیریوں کا پردہ چاک کرنے کے لیے اس نے قرآن کریم کا آفتاب چمکایا جو لوگوں کو وصول الی اللہ کا ٹھیک راستہ دکھانے والا ہے۔
Ayah 10:681 اس میں عیسائیوں کے شرک کا رد ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر وہ واقعی طور پر مسیح کو خدا کا (معاذ اللہ) صلبی بیٹا سمجھتے ہیں تو اس سے بڑھ کر کیا گستاخی ہوگی۔ خداوند قدوس بالبداہت بیوی بچوں سے پاک ہے۔ اور اگر بیٹے سے مراد متبنی ہے تو خدا کو اس کی ضرورت کیا پیش آئی کہ ایک مخلوق کو متبنی بنائے۔ کیا معاذ اللہ اسے اولاد کی حسرت اور بیٹا نہ ہونے کا غم تھا ؟ یا فکر تھی کہ اس کے بعد مال و دولت کا وارث اور اس کا نام روشن کرنے والا کون ہوگا ؟ یا یہ کہ بڑھاپے اور حرج مرج میں کس سے سہارا ملے گا ؟ (العیاذ باللہ) وہ تو سب سے بےنیاز ہے اور سب ہر وقت اس کے محتاج ہیں۔ اسے بیٹے پوتے یا متبنی وغیرہ کی احتیاج کہاں ہوسکتی ہے ؟ سب چیزیں اس کی مملوک و مخلوق ہیں۔ پھر مالک و مملوک اور خالق و مخلوق کے درمیان ان نسبتی رشتوں کی کہاں گنجائش ہے۔ یہ بڑی سخت بات ہے کہ خدا کی نسبت محض جہالت سے ایسی جھوٹی اور بےسند باتیں کہی جائیں۔
Ayahs 10:69–702 یعنی خدا پر جھوٹ باندھنے والے خواہ دنیا میں کیسی ہی طاقت رکھتے ہوں اور اپنے سازو سامان پر مغرور ہوں لیکن انھیں حقیقی بھلائی اور کامیابی ہرگز نصیب نہیں ہوسکتی۔ تھوڑے دن دنیا کے مزے اڑالیں، انجام کار ان کا معاملہ خدا کی طرف رجوع ہوگا۔ جہاں سے اپنے جرائم کی پاداش میں نہایت سخت عذاب کا مزہ چکھیں گے۔
Ayah 10:713 یعنی اہل مکہ کو نوح اور اس کی قوم کا حال سنا۔ تاکہ معلوم ہو کہ مکذبین و مفترین کو حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ان کی اچھل کود اور چمک دمک محض چند روزہ ہے جو انجام کار ہلاکت ابدی پر منتہی ہوتی ہے۔ اہل مکہ کو قوم نوح کا قصہ سن کر عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ اگر وہ خاتم الانبیاء ﷺ کی تکذیب و عداوت اور اپنی شرکیات سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوسکتا ہے جو نوح کی تکذیب کرنے والوں کا ہوا۔ نیز اس واقعہ کے بیان کرنے میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان لوگوں کی دشمنی اور شرارت سے زیادہ دلگیر نہ ہوں۔ ہر نبی کو اس قسم کے حالات کا مقابلہ کرنا پڑا ہے پھر آخر میں حق ہی غالب ہو کر رہا اور حق و صداقت کے دشمن تباہ و برباد کردیئے گئے۔ عام سامعین کو ان واقعات کے ایسے مفصل بیان سے یہ سبق ملتا ہے کہ نبی عربی ﷺ باوجود امی ہونے اور کسی مخلوق کے سامنے ایک منٹ کے لیے بھی زانوئے تلمذ تہ نہ کرنے کے پچھلی قوموں کے اس قدر صحیح اور پختہ احوال بیان فرماتے ہیں جو بظاہر بدون تعلیم اور طویل استفادہ کے ممکن نہیں، ناچار ماننا پڑے گا کہ آپ کا معلم کوئی انسان نہیں بلکہ سب انسانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ یہ تو آپ کی سچائی کی ایک دلیل ہوگی۔
4 یعنی تمہاری خوشی ناخوشی یا موافقت و مخالفت کی مجھے ذرہ برابر پروا نہیں تمام پیغمبروں کی طرح میرا بھروسہ صرف خدائے واحد پر ہے اگر تم میری نصیحت و فہمائش سے برا مانو تو مانا کرو۔ میں اپنے فرائض منصبی کے ادا کرنے میں قصور نہیں کرسکتا۔ تم برا مان کر مجھ سے دشمنی کرو اور نقصان پہنچانا چاہو تو یہ چیز میرے ارادوں پر قطعاً اثر ڈالنے والی نہیں۔ جو کچھ تمہارے امکان میں ہے شوق سے کر گزرو میرے خلاف مشورہ کر کے کوئی تجویز پختہ کرلو۔ اپنے رفقائے کار بلکہ فرضی معبودوں کو بھی جمع کر کے ایک غیر مشکوک اور غیر مشتبہ رائے پر قائم ہوجاؤ۔ پھر متفقہ طاقت سے اسے جاری کر ڈالو، ایک منٹ کی مہلت بھی مجھ کو نہ دو پھر دیکھ لو کہ پیغمبرانہ استقامت و توکل کا پہاڑ تمام دنیا کی طاقتوں اور تدبیروں کو کچل کر کس طرح پاش پاش کر ڈالتا ہے۔
Ayah 10:725 یعنی تمہارے مقابلہ میں نہ جانی و بدنی تکالیف سے گھبراتا ہوں اور نہ مالی نقصان کی کوئی فکر ہے کیونکہ میں نے خدمت تبلیغ و دعوت کا کچھ معاوضہ تم سے کبھی طلب نہیں کیا جو یہ اندیشہ ہو کہ تمہاری ناخوشی سے میری تنخواہ بند ہوجائے گی یا کم ازکم تم کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ میری ساری جدوجہد مال کی حرص اور روپیہ کے لالچ سے تھی۔ میں جس کا کام کر رہا اور حکم بجا لا رہا ہوں اسی کے ذمہ میری اجرت ہے جب میں اس کا فرمانبردار ہوں اور خدمت مفوضہ بےخوف و خطر انجام دیتا ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے فضل و رحمت کے دروازے مجھ پر نہ کھولے رکھے۔
Ayah 10:736 یعنی جس کے پاس چشم عبرت ہو وہ دیکھ لے کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ ان لوگوں کو سینکڑوں برس نوح (علیہ السلام) نے نصیحت کی، نفع و ضرر سے آگاہ کیا جب کوئی بات موثر نہ ہوئی بلکہ الٹا عناد و فرار بڑھتا گیا۔ اس وقت خدا نے سخت طوفان پانی کا بھیجا۔ سب مکذبین غرقاب کردیئے گئے۔ صرف نوح (علیہ السلام) اور چند نفوس جو ان کے ساتھ کشتی پر سوار تھے محفوظ رہے۔ ان ہی سے آگے نسل چلی۔ اور ڈوبنے والوں کی جگہ یہ ہی آباد ہوئے۔ نوح (علیہ السلام) کا کچھ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔
Ayah 10:741 یعنی نوح کے بعد ہود صالح لوط ابراہیم شعیب وغیرہ انبیاء کو اپنی اپنی قوم کی طرف کھلے ہوئے نشانات دے کر بھیجا، لیکن جس جہالت اور کفر کی حالت میں وہ لوگ اپنے اپنے پیغمبر کی بعثت سے پہلے تھے اور جن چیزوں کو پیشتر سے جھٹلاتے چلے آرہے تھے، یہ توفیق نہ ہوئی کہ انبیاء کے تشریف لانے اور سمجھانے کے بعد ان کو مان لیتے۔ بلکہ جن اصول صحیحہ کی تکذیب پہلے قوم نوح کرچکی تھی، ان سبھوں نے بھی ان کے ماننے سے انکار کردیا۔ اور جب پہلی مرتبہ منہ سے " نہ " نکل گئی، ممکن نہ تھا کہ پھر کبھی " ہاں " نکل سکے، اسی بےایمانی اور تکذیب حق پر آخر تک اڑے رہے۔
2 جو لوگ تکذیب و عداوت حق میں حد سے نکل جاتے ہیں ان کے دلوں میں مہر لگنے کی یہ ہی صورت ہوتی ہے کہ اول تکذیب کرتے ہیں، پھر اس پر ضد اور اصرار کرتے محض دشمنی اور عناد کی روش اختیار کرلیتے ہیں۔ یہاں تک کے دل کی کلیں بگڑ جاتی ہیں اور قبول حق کی استعداد باقی نہیں رہتی۔
Ayah 10:753 یعنی جرائم پیشہ لوگ تھے۔ نافرمانی کی خو قبول حق کی اجازت کہاں دیتی۔ تکبر مانع ہوا کہ خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر اس کے سفراء کے سامنے گردن جھکائیں۔ (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا) 27 ۔ النمل :14) یہ ہی تکبر تھا۔ جس نے فرعون سے یہ الفاظ کہلوائے۔ ( اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّلَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِـنِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :18)
Ayah 10:764 یعنی " عصا " اور " یدبیضا " وغیرہ کے معجزات دیکھ کر اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نہایت پر تاثیر باتیں سن کر کہنے لگے کہ یہ سب کھلا ہوا جادو ہے کیونکہ ان کے خیال میں تمام فوق العادت چیزوں کا آخری درجہ " جادو " ہی ہوسکتا تھا۔
Ayah 10:775 یعنی حق کو جادو کہتے ہو، کیا جادو ایسا ہوتا ہے ؟ اور کیا جادو کرنے والے نبوت کا دعویٰ کر کے حق و باطل کی کشمکش سے کامیاب نکل سکتے ہیں۔ سحر اور معجزہ میں تمیز نہ کر سکنا ان کوتاہ فہموں کا کام ہے جو سونے اور پیتل میں تمیز نہ کرسکیں۔ پیغمبر کے روشن چہرے، پاکیزہ اخلاق، نور تقویٰ ، پرشوکت و عظمت احوال میں بدیہی شہادت اس کی موجود ہوتی ہے کہ جادوگری اور شعبدہ بازی سے انھیں کوئی دور کی نسبت بھی نہیں۔ پھر پیغمبر کو " ساحر " کہنا کس درجہ بےحیائی یا دیوانگی ہے۔
Ayah 10:786 یعنی معاذ اللہ تم دنیا کے حریص اور بدنیت ہو، ایک سیاسی تحریک کو مذہبی رنگ میں پیش کرتے ہو۔ تمہاری غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ مذہبی حیثیت سے ایک انقلاب عظیم برپا کر کے اس ملک میں اپنی حکومت اور سرداری جماؤ۔ اور یہاں کے قدیم سرداروں (قبطیوں) کو برطرف کردو۔ سو یاد رہے کہ یہ خواہش پوری ہونے والی نہیں۔ ہم لوگ ہرگز تمہاری بات نہ مانیں گے نہ تمہاری بزرگی کبھی تسلیم کریں گے۔
Ayah 10:797 یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر کا جواب تھا۔ یعنی رہا سحر اور معجزہ کا جھگڑا، اس کا ہم عملاً تصفیہ کیے دیتے ہیں کہ اس ملک کے بڑے بڑے ماہر جادوگر اکٹھے کیے جائیں، پھر آپ ان کے خوارق کے مقابل اپنے معجزات دکھلائیں، دنیا مشاہدہ کرلے گی کہ تم پیغمبر ہو یا (معاذ اللہ) جادوگر ہو۔ اس کے لیے فرعون نے تمام ملک میں گشتی جاری کردی اور آدمی بھیج دیے کہ مشّاق اور ماہر جادوگر جہاں کہیں ہوں فوراً حاضر کیے جائیں۔ اس کا مفصل واقعہ سورة " اعراف " میں گزر چکا، وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 10:808 دوسری جگہ مذکور ہے کہ ساحرین نے موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا تھا کہ اپنا کرتب دکھلانے میں تم پہل کرتے ہو یا ہم کریں اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو تم کو دکھلانا ہے دکھلاؤ کیونکہ باطل کی پوری زور آزمائی اور نمائش کے بعد حق کا آنا اور باطل کو نیچا دکھا کر ملیامیٹ کردینا زیادہ موثر اور غلبہ حق کو زیادہ واضح کرنے والا ہے۔