10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو کہہ میرے لیے میرا کام اور تمہارے لیے تمہارا کام تم پر ذمہ نہیں میرے کام کا اور مجھ پر ذمہ نہیں جو تم کرتے ہو4

4 یعنی اگر دلائل وبراہین سننے کے بعد بھی یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو کہہ دیجئے کہ ہم اپنا فرض ادا کرچکے، تم سمجھانے پر نہیں مانتے تو اب میرا تمہارا راستہ الگ الگ ہے۔ تم اپنے عمل کے ذمہ دار ہو میں اپنے عمل کا۔ ہر ایک کو اس کے عمل کا ثمرہ مل کر رہے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ (معاذ اللہ) " اگر اللہ کا حکم غلط پہنچاؤں تو میں گنہگار ہوں، اور میں سچ لاؤں تم نہ مانو تو گناہ تم پر ہے۔ بہرحال ماننے میں کسی طرح تمہارا نقصان نہیں۔ "
Ayahs 10:42–43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور بعضے ان میں کان رکھتے ہیں تیری طرف کیا تو سنائے گا بہروں کو اگرچہ ان کو سمجھ نہ ہو

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعضے ان میں نگاہ کرتے ہیں تیری طرف کیا تو راہ دکھائے گا اندھوں کو اگرچہ وہ سوجھ نہ رکھتے ہوں5

5 بعض لوگ بظاہر قرآن شریف اور آپ کا کلام مبارک سنتے ہیں اور آپ کے معجزات و کمالات دیکھتے ہیں مگر دیکھنا سننا وہ نافع ہے جو دل کے کانوں اور دل کی آنکھوں سے ہو۔ یہ آپ کے اختیار میں نہیں کہ آپ دل کے بہروں کو اپنی بات سنا دیں۔ بحالیکہ وہ سخت بہرہ پن کی وجہ سے قطعاً کسی کلام کو نہ سمجھ سکتے ہوں یا دل کے اندھوں کو راہ حق دکھلا دیں جبکہ انہیں کچھ بھی نہ سوجھتا ہو۔ " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی کان رکھتے ہیں یا نگاہ کرتے ہیں اس توقع پر کہ آپ ہمارے دل پر تصرف کردیں جیسا بعضوں پر ہوگیا، سو یہ بات اللہ کے ہاتھ ہے۔ " بعض مفسرین نے لایَعْقِلُوْنَ سے مطلق عقل کی اور لایبصرون سے بصیرت کی نفی مراد لی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے اندھے، بہرے جو علاوہ نہ سننے اور نہ دیکھنے کے ہر قسم کی سمجھ بوجھ سے محروم ہیں۔ ان کو آپ کس طرح سنا اور دکھا کر منوا سکتے ہیں۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

اللہ ظلم نہیں کرتا لوگوں پر کچھ بھی لیکن لوگ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے ہیں6

6 یعنی جن کے دل میں اثر نہیں ہوتا، یہ ان ہی کی تقصیر ہے۔ خود اپنی بےاعتدالیوں اور غلط کاریوں سے انہوں نے قوائے ادراکیہ کو تباہ کرلیا ہے۔ ورنہ اصل فطرت سے ہر آدمی کو خدا نے سمجھنے اور قبول کرنے کی استعداد بخشی ہے۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن ان کو جمع کرے گا گویا وہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی دن7 ایک دوسرے کو پہچانیں گے8 بیشک خسارے میں پڑے جنہوں نے جھٹلایا اللہ سے ملنے کو اور نہ آئے وہ راہ پر9

7 یعنی محشر کے ہولناک اہوال و حوادث کو دیکھ کر عمر بھر کا عیش و آرام اس قدر حقیر و قلیل نظر آئے گا گویا دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ ٹھہرے ہی نہ تھے اور افسوس کریں گے کہ ساری عمر کیسی فضول اور بیکار گزری، جیسے آدمی گھنٹہ دو گھنٹہ یوں ہی گپ شپ میں بیکار گزار دیتا ہے۔ نیز وہاں کی زہرہ گداز مصائب کو دیکھ کر خیال کریں گے کہ گویا دنیا میں کچھ مدت قیام ہی نہ ہوا جو یہ وقت آلیا۔ گھڑی دو گھڑی ٹھہرے اور یہاں آپھنسے۔ کاش وہاں کی مدت قیام کچھ طویل ہوتی تو یہ دن اس قدر جلد نہ دیکھنا پڑتا۔ بعض مفسرین نے کہا کہ برزخ (قبر) میں ٹھہرنے کی مدت کو ایک گھڑی کے برابر سمجھیں گے۔ واللہ اعلم۔ 8 مگر کچھ مدد نہ کرسکیں گے نفسی نفسی پڑی ہوگی۔ بھائی بھائی کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آئے گا۔ (فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ ) 23 ۔ المؤمنون :101) (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ 34؀ۙ وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ 35؀ۙ وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ 36؀ۭ ) 80 ۔ عبس :34 تا 36) 9 باقی جنہوں نے لقاء اللہ کی تصدیق کی اور سیدھی راہ پر چلے وہ سراسر فائدہ میں ہیں۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم دکھائیں گے تجھ کو کوئی چیز ان وعدوں میں سے جو کیے ہم نے ان سے یا وفات دیں تجھ کو، سو ہماری ہی طرف ہے، ان کو لوٹنا، پھر اللہ شاہد ہے ان کاموں پر جو کرتے ہیں1

1 یعنی ہم نے کفار کو عذاب دینے اور اسلام کو غالب و منصور کرنے کے جو وعدے کیے ہیں، خواہ ان میں سے بعض وعدے کسی حد تک آپ کی موجودگی میں پورے کر کے دکھلا دیے جائیں، جیسے " بدر " وغیرہ میں دکھلا دیا۔ یا آپ کی وفات ہوجائے۔ اس لیے آپ کے سامنے ان میں سے بعض کا ظہور نہ ہو۔ بہرصورت یہ یقینی ہے کہ وہ سب پورے ہو کر رہیں گے۔ اگر کسی مصلحت سے دنیا میں ان کفار کو سزا نہ دی گئی تو آخرت میں ملے گی۔ ہم سے بچ کر کہاں بھاگ سکتے ہیں۔ سب کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے اور ان کے تمام اعمال ہمارے سامنے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " غلبہ اسلام کچھ حضرت ﷺ کے روبرو ہوا، اور باقی آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفاء " کے ہاتھوں سے۔ گویا نَتَوَفَّیَنَّکَ میں اس طرف اشارہ ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر فرقے کا ایک رسول ہے پھر جب پہنچا ان کے پاس رسول ان کا فیصلہ ہوا ان میں انصاف سے اور ان پر ظلم نہیں ہوتا2

2 پہلے اس امت اور اس کے رسول اکرم ﷺ کا ذکر تھا۔ اب عام اقوام و امم کا ضابطہ بتلاتے ہیں کہ ہر جماعت اور فرقہ کے پاس خدا کے احکام پہنچانے والے بھیجے گئے ہیں جن کو " رسول " کہیے۔ تاکہ خدا کی حجت تمام ہو، اتمام حجت سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیا جاتا۔ لوگ عمل پہلے سے کرتے ہیں۔ مگر دنیا میں ان کو سزا رسول پہنچنے اور حجت تمام کرنے کے بعد دی جاتی ہے۔ خدا کے یہاں یہ ظلم اور اندھیر نہیں کہ بدون پیشتر سے آگاہ کرنے اور ملزم ثابت ہونے کے مجرموں کو فیصلہ سنا دیا جائے۔ قیامت میں بھی باقاعدہ پیشی ہوگی، فرد جرم لگائیں گے، گواہ پیش ہوں گے، ہر قوم کے ساتھ ان کے پیغمبر موجود ہوں گے۔ ان کے بیانات وغیرہ کے بعد نہایت انصاف سے فیصلہ ہوگا۔ (وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ) 39 ۔ الزمر :69) مجاہد وغیرہ نے آیت کو قیامت کے احوال پر حمل کیا ہے۔
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو3

3 یعنی عذاب آنے کی جو دھمکیاں دیتے ہو، محض جھوٹ اور بےاصل ہیں۔ اگر واقعی تم سچے ہو تو لے کیوں نہیں آتے۔ آخر یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

تو کہہ میں مالک نہیں اپنے واسطے برے کا نہ بھلے کا مگر جو چاہے اللہ ہر فرقے کا ایک وعدہ ہے جب آپہنچے گا ان کا وعدہ پھر نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے4

4 یعنی عذاب وغیرہ بھیجنا خدا کا کام ہے، میرے قبضہ اور اختیار میں نہیں۔ میں خود اپنے نفع نقصان کا صرف اسی قدر مالک ہوں جتنا اللہ چاہے۔ پھر دوسروں پر کوئی بھلائی برائی وارد کرنے کا مستقل اختیار مجھے کہاں سے ہوتا۔ ہر قوم کی ایک مدت اور میعاد خدا کے علم میں مقرر ہے۔ جب میعاد پوری ہو کر اس کا وقت پہنچ جائے گا، ایک سیکنڈ کا تخلف نہ ہو سکے گا۔ غرض عذاب کے لیے جلدی مچانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ خدا کے علم میں جو وقت طے شدہ ہے اس سے ایک منٹ آگے پیچھے نہیں سرک سکتے۔ زمخشری کے نزدیک ( لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ ) 7 ۔ الاعراف :34) اس سے کنایہ ہے کہ عذاب کا اپنے وقت معین پر آنا اٹل ہے۔ کنایہ میں حقیقت تقدم و تأخر کا نفیاً یا اثباتاً اعتبار نہیں فتنبہ لہ '۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر آپہنچے تم پر عذاب اس کا راتوں رات یا دن کو تو کیا کرلیں گے اس سے پہلے گناہ گار5

5 یعنی رات کو سوتے ہوئے یا دن میں جب تم دنیا کے دھندوں میں مشغول ہو، اگر اچانک خدا کا عذاب آجائے تو مجرم جلدی کر کے کیا بچاؤ کرسکیں گے ؟ جب بچاؤ نہیں کرسکتے پھر وقت پوچھنے سے کیا فائدہ ؟ مترجم (رح) نے (نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ ) 10 ۔ یونس :50) کا یہ ترجمہ حضرت شاہ صاحب کے مذاق کے موافق کیا ہے عموماً مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ عذاب الٰہی کے آنے میں کون سی ایسی خوشی اور مزے کی بات ہے، جس کی وجہ سے مجرمین جلدی طلب کر رہے ہیں۔ یا یہ کہ تعجب کا مقام ہے کہ مجرمین کیسی سخت خوفناک چیز کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ حالانکہ ایک مجرم کے لائق تو یہ تھا کہ وہ آنے والی سزا کے تصور سے کانپ اٹھتا اور ڈر کے مارے ہلاک ہوجاتا۔ (البحر المحیط)
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا پھر جب عذاب واقع ہوچکے گا تب اس پر یقین کرو گے اب قائل ہوئے اور تم اسی کا تقاضا کرتے تھے6

6 یعنی عذاب کے لیے جلدی کرنا اس بناء پر ہے کہ انھیں اس کے آنے کا یقین نہیں۔ اس وقت یقین ہوتا تو فائدہ ہوسکتا تھا کہ بچنے کی کوشش کرتے۔ عذاب آچکنے کے بعد یقین آیا تو کیا فائدہ ہوگا۔ اس وقت خدا کی طرف سے کہہ دیا جائے گا کہ اچھا اب قائل ہوتے ہو، اور پہلے سے جھٹلاتے رہے۔ کیونکہ تقاضا کرنا بھی جھٹلانے اور مذاق اڑانے کی نیت سے تھا۔ اس وقت اقرار کرنے سے کچھ نفع نہیں۔ (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ 84؀ فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا ۭ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ 85؀ ) 40 ۔ غافر :85-84)
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر کہیں گے گنہگاروں کو چکھتے رہو عذاب ہمیشگی کا وہی بدلہ ملتا ہے جو کچھ کماتے تھے7

7 جو کفر و شرک اور تکذیب کرتے رہے تھے، اب ہمیشہ اس کا مزا چکھتے رہو۔ یہ قیامت میں کہا جائے گا۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تجھ سے خبر پوچھتے ہیں کیا سچ ہے یہ بات تو کہہ البتہ قسم میرے رب کی یہ سچ ہے اور تم تھکا نہ سکو گے8

8 یعنی غفلت کے نشہ میں چور ہو کر تعجب سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سچ ہے کہ ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور دائمی عذاب کا مزہ چکھیں گے ؟ کیا واقعی ریزہ ریزہ ہو کر اور خاک میں مل کر پھر ازسر نو ہم کو موجود کیا جائے گا ؟ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ تعجب کی کیا بات ہے، یہ چیز تو یقینا ہونے والی ہے۔ تمہارا مٹی میں مل جانا اور پارہ پارہ ہوجانا خدا کو اس سے عاجز نہیں کرسکتا کہ پہلے کی طرح تمہیں دوبارہ پیدا کر دے اور شرارتوں کا مزہ چکھائے۔ ممکن نہیں کہ اس کے قبضہ سے نکل بھاگو اور فرار ہو کر (معاذ اللہ) اسے عاجز کرسکو۔ (تنبیہ) اس آیت کے مشابہ دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ ایک سورة " سبا " میں (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ ) 34 ۔ سبأء :3) دوسری " تغابن " میں (زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ) ۔ 64 ۔ التغابن :7) یہ دونوں قیامت اور معاد کے متعلق ہیں ان ہی کی مناسبت سے حافظ ابن کثیر نے آیت حاضرہ کو معاد کے متعلق رکھا ہے۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہو ہر شخص گناہ گار کے پاس جتنا کچھ ہے زمین میں البتہ دے ڈالے اپنے بدلے میں9 اور چھپے چھپے پچتائیں گے جب دیکھیں گے عذاب اور ان میں فیصلہ ہوگا انصاف سے اور ان پر ظلم نہ ہوگا1

9 یعنی اگر روئے زمین کے خزانے فرض کروا سکے قبضہ میں ہوں تو کوشش کرے کہ یہ سب دے کر خدا کے عذاب سے اپنے آپ کو بچا لے۔ 1 دل میں اپنی حرکتوں پر پشیمان ہوں گے اور چاہیں گے لوگوں پر پشیمانی کا اظہار نہ ہو مگر تابکے۔ کچھ دیر آثار ندامت ظاہر نہ ہونے دیں گے۔ آخر بےاختیار ظاہر ہو کر رہیں گے۔ اس وقت کہیں گے۔ ( يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ ) 39 ۔ الزمر :56) اور (يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا) 21 ۔ الانبیآء :97)
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سن رکھو اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں سن رکھو وعدہ اللہ کا سچ ہے2 پر بہت لوگ نہیں جانتے3

2 یعنی سارے جہان میں حکومت صرف اللہ کی ہے۔ انصاف ہو کر رہے گا۔ کوئی مجرم نہ کہیں بھاگ سکتا ہے، نہ رشوت دے کر چھوٹ سکتا ہے۔ 3 یعنی سوء استعداد، بدفہمی اور غفلت سے اکثر لوگ ان حقائق کو نہیں سمجھتے۔ اسی لیے جو زبان پر آئے بک دیتے ہیں اور جو جی میں آئے کرتے ہیں۔
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جلاِتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے4

4 جلانا اور مارنا جب اسی کا فعل ہے تو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگوں تمہارے پاس آئی ہے نصیحت تمہارے رب سے اور شفاء دلوں کے روگ کی اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے واسطے5

5 یہ سب صفات قرآن کریم کی ہیں۔ قرآن اول سے آخر تک نصیحت ہے جو لوگوں کو مہلک اور مضر باتوں سے روکتا ہے۔ دلوں کی بیماریوں کے لیے نسخہ شفا ہے۔ وصول الی اللہ اور رضائے خداوندی کا راستہ بتاتا ہے، اور اپنے ماننے والوں کو دنیا و آخرت میں رحمت الٰہیہ کا مستحق ٹھہراتا ہے۔ بعض محققین کے نزدیک اس آیت میں نفس انسانی کے مراتب کمال کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جو شخص قرآن کریم سے تمسک کرے ان تمام مراتب پر فائز ہوسکتا ہے۔ (1) اپنے ظاہر کو نالائق افعال سے پاک کرنا۔ لفظ " موعظت " میں اسکی طرف اشارہ ہے (2) باطن کو عقائد فاسدہ اور ملکات رویہ سے خالی کرنا جو " شِفَآءٌ لِّمَا فِیْ الصُّدُوْرِ " سے مفہوم ہوتا ہے۔ (3) نفس کو عقائد حقہ اور اخلاق فاضلہ سے آراستہ کرنا، جس کے لیے لفظ " ہدی " زیادہ مناسب ہے، (4) ظاہر وباطن کی درستی کے بعد انوار رحمت الٰہیہ کا نفس پر فائض ہونا، جو لفظ " رحمت " کا مدلول ہے۔ امام فخر الدین رازی (رح) نے جو تقریر کی ہے اس میں ان چار لفظوں سے شریعت، طریقت، حقیقت اور نبوت و خلافت کی طرف علی الترتیب اشارہ کیا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں اور نہ اس قسم کے مضامین خالص تفسیر کی مد میں آسکتے ہیں۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ اللہ کے فضل سے اور اس کی مہربانی سے سو اسی پر ان کو خوش ہونا چاہیے6 یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو جمع کرتے ہیں7

6 " فرح " (خوش ہونا) محمود بھی ہے اور مذموم بھی۔ کسی نعمت پر اس حیثیت سے خوش ہونا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ملی ہے، محمود ہے۔ جیسے یہاں فرمایا۔ (فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا) 10 ۔ یونس :58) اور حطام دنیا پر خوش ہونا اور اکڑنا خصوصاً یہ خیال کر کے ہم کو اپنی لیاقت سے حاصل ہوئی ہے، سخت مذموم ہے۔ قارون اپنے مال و دولت کی نسبت کہتا تھا " اِنَّمَا اُوْتِیْتُہ، عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ " اس کو فرمایا (لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ 76؀ وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا) 28 ۔ القصص :77-76) 7 یعنی اصل چیز خدا کا فضل و رحمت ہے، انسان کو اسی کی تلاش کرنی چاہیے مال و دولت، جاہ وحشم، سب اس کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اللہ نے جو اتاری تمہارے واسطے روزی پھر تم نے ٹھہرائی اس میں سے کوئی حرام اور کوئی حلال کہہ کیا اللہ نے حکم دیا تم کو یا اللہ پر افتراء کرتے ہو8

8 یعنی قرآن جو نصیحت، شفاء اور ہدایت و رحمت بن کر آیا ہے وہ ہی استناد اور تمسک کرنے کے لائق ہے۔ احکام الٰہیہ کی معرفت اور حلال و حرام کی تمیز اسی سے ہوسکتی ہے۔ یہ کیا واہیات ہے کہ خدا نے تو تمہارے انتفاع کے لیے ہر قسم کی روزی پیدا کی۔ پھر تم نے محض اپنی آراء وا ہواء سے اس میں سے کسی چیز کو حلال، کسی کو حرام ٹھہرا لیا۔ بھلا تحلیل و تحریم کا تم کو کیا حق ہے ؟ کیا تم یہ کہنے کی جرأت کرسکتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے ایسا حکم دیا، یا یوں ہی خدا پر افتراء کر رہے ہو۔ اگلی آیت میں صاف اشارہ کردیا کہ بجز افتراء علی اللہ کے اور کچھ نہیں۔ (تنبیہ) جن چیزوں کو حلال وحرام کیا تھا، ان کا مفصل تذکرہ " مائدہ " اور " انعام " میں گزر چکا۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور کیا خیال ہے جھوٹ باندھنے والوں کا اللہ پر قیامت کے دن9 اللہ تو فضل کرتا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے10

9 یعنی یہ لوگ روز قیامت کے متعلق کیا خیال کر رہے ہیں کہ کیا معاملہ ان کے ساتھ ہوگا سخت پکڑے جائیں گے، یا سستے چھوٹ جائیں گے۔ عذاب بھگتنا پڑے گا یا نہیں۔ کن خیالات میں پڑے ہیں۔ یاد رکھیں جو دردناک سزا ملنے والی ہے وہ ٹل نہیں سکتی۔ 10 یعنی خدا اپنے فضل سے دنیا میں بہت کچھ مہلت دیتا ہے۔ بہت سی تقصیرات سے درگزر کرتا ہے۔ لیکن بہت لوگ نرمی اور اغماض کو دیکھ کر بجائے شکر گذار ہونے کے اور زیادہ دلیر اور بےخوف ہوجاتے ہیں۔ آخر سزا دینی پڑتی ہے حلمِ حق باتو مواساہاکند چوں نتو ازحد بگزری رسواکند
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور نہیں ہوتا تو کسی حال میں اور نہ پڑھتا ہے اس میں سے کچھ قرآن اور نہیں کرتے ہو تم لوگ کچھ کام کہ ہم نہیں ہوتے حاضر تمہارے پاس جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں اور غائب نہیں رہتا تیرے رب سے ایک ذرہ بھر زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا جو نہیں ہے کھلی ہوئی کتاب میں1

1 پہلے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے تھے وہ سراپا نور ہدایت، شفائے قلوب، نعمت عظمیٰ اور رحمت کبریٰ ہیں۔ پھر اشارہ کیا کہ ہدایت و بصیرت کی ایسی صاف روشنی کو چھوڑ کر لوگ اپنے اوہام و خیالات کے اندھیرے میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور خدا پر افتراء کر کے اس کے فضل و انعام کی ناقدری کرتے ہیں۔ اس آیت میں متنبہ کیا کہ لوگ کس حال میں ہیں اور پیغمبر ﷺ کی کیا شان ہے۔ آپ شب و روز مالک حقیقی کی وفاداری، ہمدردی خلائق کی جن شون عظیمہ کے مظہر بنتے ہیں، خصوصاً آپ ﷺ کی جو امتیازی شان قرآن پڑھنے پڑھانے کے وقت ظاہر ہوتی ہے یعنی قرآن کے ذریعے سے جو جہاد آپ کر رہے ہیں وہ سب خدا کے حضور میں ہے اور لوگ جو کچھ اچھا یا برا معاملہ کرتے ہیں وہ سب بھی خدا کی نظر کے سامنے ہیں۔ جس وقت مخلوق کوئی کام شروع کرتی اور اس میں مشغول و منہمک ہوجاتی ہے، خواہ اسے خدا کا تصور نہ آئے۔ لیکن خدا اس کو برابر دیکھ رہا ہے۔ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہ، یَرَاک زمین و آسمان میں کہیں ایک ذرہ برابر یا اس سے چھوٹی بڑی چیز نہیں جو خدا تعالیٰ کے علم محیط سے غائب ہو۔ بلکہ علم الٰہی سے نیچے اتر کر تمام " مَاکَانَ وَمَایَکُوْنُ " کا حال " کتاب مبین " (لوح محفوظ) میں ثبت ہے۔ جسے " عالم تدبیر " میں " صحیفہ علم الٰہی کہنا چاہیے۔ جب حق تعالیٰ پر کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ چیز پوشیدہ نہیں تو ان مکذبین معاندین کے معاملات و احوال کیسے مخفی رہ سکتے ہیں، پھر روز جزاء کی کارروائی کے متعلق یہ کیا خیال کر رہے ہیں۔ وہ خوب سمجھ لیں کہ ان کی ہر چھوٹی بڑی حرکت خدا کے سامنے ہے وہاں کوئی خیانت اور چوری نہیں چل سکے گی۔ ہر عمل کی سزا مل کر رہے گی۔ اور جس طرح دشمنوں کے معاملات اس کے سامنے ہیں، ان کے بالمقابل دوستوں کا ذرہ ذرہ حال بھی اس کے علم میں ہے، اگلی آیات میں ان کو بشارت سنائی گئی۔
Ayah 10:62

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

یاد رکھو جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے2

2 ابن کثیر نے روایات حدیثیہ کی بناء پر اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ " اولیاء اللہ " (خدا کے دوستوں) کو آخرت میں اہوال محشر کا کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ دنیا کے چھوٹ جانے پر غمگین ہوں گے۔ بعض مفسرین نے آیت کو کچھ عام رکھا ہے یعنی ان پر اندیشہ ناک حوادث کا وقوع نہ دنیا میں ہوگا نہ آخرت میں۔ اور نہ کسی مطلوب کے فوت ہونے پر وہ مغموم ہوتے ہیں گویا خوف سے خوف حق یا غم سے غم آخرت کی نفی مراد نہیں بلکہ دنیا میں دنیاوی خوف و غم کی نفی مراد ہے جس کا احتمال مخالفت اعداء وغیرہ سے ہوسکتا ہے، وہ مومنین کاملین کو نہیں ہوتا۔ ہر وقت ان کا اعتماد اللہ پر ہوتا ہے اور تمام واقعات تکوینیہ کے خالی از حکمت نہ ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ اس اعتماد واعتقاد کے استحضار سے انھیں خوف و غم نہیں ستاتا۔ میرے نزدیک " لَاخَوْفُ عَلَیْہِمْ " کا مطلب یہ لیا جائے کہ " اولیاء اللہ " پر کوئی خوفناک چیز (ہلاکت یا معتدبہ نقصان) دنیا و آخرت میں واقع ہونے والی نہیں۔ اگر فرض کیجئے دنیا میں صورتاً کوئی نقصان پیش بھی آئے تو چونکہ نتیجہ وہ ان کے حق میں نفع عظیم کا ذریعہ بنتا ہے اس لیے اس کو معتدبہ نقصان نہیں کہا جاسکتا۔ رہا کسی سبب دنیاوی یا اخروی کی وجہ سے ان کو کسی وقت خوف لاحق ہونا، وہ آیت کی اس تقریر کے منافی نہ ہوگا کیونکہ آیت نے صرف یہ خبر دی ہے کہ ان پر کوئی خوفناک چیز نہ پڑے گی، یہ نہیں کہا کہ انھیں کسی وقت خوف لاحق نہ ہوگا۔ شاید لا یحزنون کے مناسب لایخافون نہ فرمانے اور لاخوف علیہم کی تعبیر اختیار کرنے میں یہ ہی نکتہ ہو۔ باقی لا یحزنون کا تعلق میرے خیال میں مستقبل سے ہے، یعنی موت کے وقت اور موت کے بعد غمگین نہ ہوں گے جیسا کہ فرمایا۔ (تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا) 41 ۔ فصلت :30) اور فرمایا (لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ۭ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) 21 ۔ الانبیاء :103) واللہ تعالیٰ اعلم بمرادہ۔
Ayah 10:63

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

جو لوگ کہ ایمان لائے اور ڈرتے رہے3

3 " یہ اولیاء اللہ " کی تعریف فرمائی یعنی مومن متقی خدا کا ولی ہوتا ہے پہلے کئی مواقع میں معلوم ہوچکا ہے کہ ایمان وتقویٰ کے بہت سے مدارج ہیں۔ پس جس درجہ کا ایمان وتقویٰ کسی میں موجود ہوگا۔ اسی درجہ میں ولایت کا ایک حصہ اس کے لیے ثابت ہوگا۔ پھر جس طرح مثلاً دس بیس روپیہ بھی مال ہے اور پچاس، سو، ہزار دو ہزار، لاکھ دو لاکھ روپیہ بھی لیکن عرف عام میں دس بیس روپے کے مالک کو " مالدار " نہیں کہا جاتا۔ جب تک معتدبہ مقدار مال و دولت موجود نہ ہو۔ اسی طرح سمجھ لیجئے کہ ایمان وتقویٰ کسی مرتبہ میں ہو، وہ ولایت کا شعبہ ہے اور اس حیثیت سے سب مومنین فی الجملہ " ولی " کہلائے جاسکتے ہیں لیکن عرف میں " ولی " اسی کو کہا جاتا ہے جس میں ایک خاص اور ممتاز درجہ ایمان وتقویٰ پایا جاتا ہو۔ احادیث میں کچھ علامات و آثار اس ولایت کے ذکر کیے گئے ہیں۔ مثلاً ان کو دیکھنے سے خدا یاد آنے لگے یا مخلوق خدا سے ان کو بےلوث محبت ہو، عارفین نے اپنے اپنے مذاق کے موافق " ولی " کی تعریفیں کی ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لیے خوشخبری دنیا کی زندگانی میں اور آخرت میں4 بدلتی نہیں اللہ کی باتیں5 یہی ہے بڑی کامیابی

4 " اولیاء اللہ کے لیے دنیا میں کئی طرح کی بشارتیں ہیں مثلاً حق تعالیٰ نے انبیاء کی زبانی جو لاخَوْفُ ، عَلَیْہِمْ وغیرہ کی بشارت دی ہے، یا فرشتے موت کے قریب ان کو کہتے ہیں (وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :30) یا کثرت سے سچے اور مبارک خواب انھیں نظر آتے ہیں یا ان کی نسبت دوسرے بندگان خدا کو دکھائی دیتے ہیں جو حدیث صحیح کے موافق نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ یا ان کے معاملات میں خدا کی طرف سے خاص قسم کی تائید و امداد ہوتی ہے یا خواص میں اور کبھی خواص سے گزر کر عوام میں بھی ان کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اور لوگ ان کی مدح وثناء اور ذکر خیر کرتے ہیں۔ یہ سب چیزیں دنیاوی بشارت کے تحت میں درجہ بدرجہ آسکتی ہیں۔ مگر اکثر روایات میں لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کی تفسیر رویائے صالحہ سے کی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔ رہی بشارت اخروی، وہ خود قرآن میں منصوص ہے۔ بُشْراکم الیوم جنات تجری من تحتھا الانھار اور حدیث میں بھی یہی تفسیر منقول ہے۔ 5 یعنی اللہ کی باتیں اور اس کے وعدے سب پختہ اور اٹل ہیں۔ جو بشارتیں دی ہیں ضرور پہنچ کر رہیں گی۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور رنج مت کر ان کی بات سے، اصل میں سب زور اللہ کے لیے ہے وہی ہے سننے والا جاننے والاف 6

6 اوپر سے اعدائے مکذبین کا ذکر چلا آتا تھا۔ ان کے بالمقابل دوستوں کا تذکرہ فرمایا اور ان کو دارین میں محفوظ رہنے کی بشارت سنائی۔ اسی سلسلہ میں حضور ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ احمقوں اور شریروں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں، غلبہ اور زور سب خدا کے لیے ہے وہ اپنے زور تائید سے حق کو غالب و منصور اور مخالفین کو ذلیل و رسوا کر کے چھوڑے گا وہ ان کی سب باتیں سنتا اور سب حالات جانتا ہے۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سنتا ہے اللہ کا ہے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں اور یہ جو پیچھے پڑے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے سو یہ کچھ نہیں مگر پیچھے پڑے ہیں اپنے خیال کے اور کچھ نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں7

7 یعنی کل زمین و آسمان میں خدائے واحد کی سلطنت ہے، سب جن و انس اور فرشتے اسی کے مملوک و مخلوق ہیں۔ مشرکین کا غیر اللہ کو پکارنا اور انھیں خدائی کا حصہ دار بنانا، محض اٹکل کے تیر اور واہی تباہی خیالات ہیں۔ ان کے ہاتھ میں نہ کوئی حقیقت ہے نہ حجت وبرہان، خالی اوہام وظنون کی اندھیریوں میں پڑے ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ چین حاصل کرو اس میں اور دن دیا دکھلانے والا بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں8

8 دن رات اور اندھیرے اجالے کا پیدا کرنے والا وہی ایک خدا ہے۔ اسی سے خیر و شر اور تمام متقابل اشیاء کی پیدائش کو سمجھ لو۔ اس میں " مجوس " کے شرک کا رد ہوگیا۔ اور ادھر بھی لطیف اشارہ کردیا کہ جس طرح رات کی تاریکی کے بعد خدا روز روشن کو لاتا ہے اور دن کے اجالے میں وہ چیزیں نظر آتی ہیں جو شب کی ظلمت میں دکھائی نہ دیتی تھیں۔ ایسے ہی مشرکین کے اوہام وظنون کی اندھیریوں کا پردہ چاک کرنے کے لیے اس نے قرآن کریم کا آفتاب چمکایا جو لوگوں کو وصول الی اللہ کا ٹھیک راستہ دکھانے والا ہے۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

کہتے ہیں ٹھہرا لیا اللہ نے بیٹا وہ پاک ہے وہ بےنیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں نہیں تمہارے پاس کوئی سند اس کی کیوں جھوٹ کہتے ہو اللہ پر جب بات کی تم کو خبر نہیں1

1 اس میں عیسائیوں کے شرک کا رد ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر وہ واقعی طور پر مسیح کو خدا کا (معاذ اللہ) صلبی بیٹا سمجھتے ہیں تو اس سے بڑھ کر کیا گستاخی ہوگی۔ خداوند قدوس بالبداہت بیوی بچوں سے پاک ہے۔ اور اگر بیٹے سے مراد متبنی ہے تو خدا کو اس کی ضرورت کیا پیش آئی کہ ایک مخلوق کو متبنی بنائے۔ کیا معاذ اللہ اسے اولاد کی حسرت اور بیٹا نہ ہونے کا غم تھا ؟ یا فکر تھی کہ اس کے بعد مال و دولت کا وارث اور اس کا نام روشن کرنے والا کون ہوگا ؟ یا یہ کہ بڑھاپے اور حرج مرج میں کس سے سہارا ملے گا ؟ (العیاذ باللہ) وہ تو سب سے بےنیاز ہے اور سب ہر وقت اس کے محتاج ہیں۔ اسے بیٹے پوتے یا متبنی وغیرہ کی احتیاج کہاں ہوسکتی ہے ؟ سب چیزیں اس کی مملوک و مخلوق ہیں۔ پھر مالک و مملوک اور خالق و مخلوق کے درمیان ان نسبتی رشتوں کی کہاں گنجائش ہے۔ یہ بڑی سخت بات ہے کہ خدا کی نسبت محض جہالت سے ایسی جھوٹی اور بےسند باتیں کہی جائیں۔
Ayahs 10:69–70

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ جو لوگ باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ بھلائی نہیں پاتے

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

تھوڑا سا نفع اٹھا لینا دنیا میں پھر ہماری طرف ہے ان کو لوٹنا پھر چکھائیں گے ہم ان کو سخت عذاب بدلہ ان کے کفر کا2

2 یعنی خدا پر جھوٹ باندھنے والے خواہ دنیا میں کیسی ہی طاقت رکھتے ہوں اور اپنے سازو سامان پر مغرور ہوں لیکن انھیں حقیقی بھلائی اور کامیابی ہرگز نصیب نہیں ہوسکتی۔ تھوڑے دن دنیا کے مزے اڑالیں، انجام کار ان کا معاملہ خدا کی طرف رجوع ہوگا۔ جہاں سے اپنے جرائم کی پاداش میں نہایت سخت عذاب کا مزہ چکھیں گے۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور سنا ان کو حال نوح کا3 جب کہا اپنی قوم کو اے قوم اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور نصیحت کرنا اللہ کی آیتوں سے تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام اور جمع کرو اپنے شریکوں کو پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں شبہ پھر کر گزرو میرے ساتھ اور مجھ کو مہلت نہ دو4

3 یعنی اہل مکہ کو نوح اور اس کی قوم کا حال سنا۔ تاکہ معلوم ہو کہ مکذبین و مفترین کو حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ان کی اچھل کود اور چمک دمک محض چند روزہ ہے جو انجام کار ہلاکت ابدی پر منتہی ہوتی ہے۔ اہل مکہ کو قوم نوح کا قصہ سن کر عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ اگر وہ خاتم الانبیاء ﷺ کی تکذیب و عداوت اور اپنی شرکیات سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوسکتا ہے جو نوح کی تکذیب کرنے والوں کا ہوا۔ نیز اس واقعہ کے بیان کرنے میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان لوگوں کی دشمنی اور شرارت سے زیادہ دلگیر نہ ہوں۔ ہر نبی کو اس قسم کے حالات کا مقابلہ کرنا پڑا ہے پھر آخر میں حق ہی غالب ہو کر رہا اور حق و صداقت کے دشمن تباہ و برباد کردیئے گئے۔ عام سامعین کو ان واقعات کے ایسے مفصل بیان سے یہ سبق ملتا ہے کہ نبی عربی ﷺ باوجود امی ہونے اور کسی مخلوق کے سامنے ایک منٹ کے لیے بھی زانوئے تلمذ تہ نہ کرنے کے پچھلی قوموں کے اس قدر صحیح اور پختہ احوال بیان فرماتے ہیں جو بظاہر بدون تعلیم اور طویل استفادہ کے ممکن نہیں، ناچار ماننا پڑے گا کہ آپ کا معلم کوئی انسان نہیں بلکہ سب انسانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ یہ تو آپ کی سچائی کی ایک دلیل ہوگی۔ 4 یعنی تمہاری خوشی ناخوشی یا موافقت و مخالفت کی مجھے ذرہ برابر پروا نہیں تمام پیغمبروں کی طرح میرا بھروسہ صرف خدائے واحد پر ہے اگر تم میری نصیحت و فہمائش سے برا مانو تو مانا کرو۔ میں اپنے فرائض منصبی کے ادا کرنے میں قصور نہیں کرسکتا۔ تم برا مان کر مجھ سے دشمنی کرو اور نقصان پہنچانا چاہو تو یہ چیز میرے ارادوں پر قطعاً اثر ڈالنے والی نہیں۔ جو کچھ تمہارے امکان میں ہے شوق سے کر گزرو میرے خلاف مشورہ کر کے کوئی تجویز پختہ کرلو۔ اپنے رفقائے کار بلکہ فرضی معبودوں کو بھی جمع کر کے ایک غیر مشکوک اور غیر مشتبہ رائے پر قائم ہوجاؤ۔ پھر متفقہ طاقت سے اسے جاری کر ڈالو، ایک منٹ کی مہلت بھی مجھ کو نہ دو پھر دیکھ لو کہ پیغمبرانہ استقامت و توکل کا پہاڑ تمام دنیا کی طاقتوں اور تدبیروں کو کچل کر کس طرح پاش پاش کر ڈالتا ہے۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر منہ پھیرو گے تو میں نے نہیں چاہی تم سے مزدوری میری مزدوری ہے اللہ پر اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں فرما بردار5

5 یعنی تمہارے مقابلہ میں نہ جانی و بدنی تکالیف سے گھبراتا ہوں اور نہ مالی نقصان کی کوئی فکر ہے کیونکہ میں نے خدمت تبلیغ و دعوت کا کچھ معاوضہ تم سے کبھی طلب نہیں کیا جو یہ اندیشہ ہو کہ تمہاری ناخوشی سے میری تنخواہ بند ہوجائے گی یا کم ازکم تم کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ میری ساری جدوجہد مال کی حرص اور روپیہ کے لالچ سے تھی۔ میں جس کا کام کر رہا اور حکم بجا لا رہا ہوں اسی کے ذمہ میری اجرت ہے جب میں اس کا فرمانبردار ہوں اور خدمت مفوضہ بےخوف و خطر انجام دیتا ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے فضل و رحمت کے دروازے مجھ پر نہ کھولے رکھے۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلایا سو ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور ان کو قائم کردیا جگہ پر اور ڈبو دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری باتوں کو، سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام ان کا جن کو ڈرایا تھا6

6 یعنی جس کے پاس چشم عبرت ہو وہ دیکھ لے کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ ان لوگوں کو سینکڑوں برس نوح (علیہ السلام) نے نصیحت کی، نفع و ضرر سے آگاہ کیا جب کوئی بات موثر نہ ہوئی بلکہ الٹا عناد و فرار بڑھتا گیا۔ اس وقت خدا نے سخت طوفان پانی کا بھیجا۔ سب مکذبین غرقاب کردیئے گئے۔ صرف نوح (علیہ السلام) اور چند نفوس جو ان کے ساتھ کشتی پر سوار تھے محفوظ رہے۔ ان ہی سے آگے نسل چلی۔ اور ڈوبنے والوں کی جگہ یہ ہی آباد ہوئے۔ نوح (علیہ السلام) کا کچھ قصہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر بھیجے ہم نے نوح کے بعد کتنے پیغمبر ان کی قوم کی طرف پھر لائے ان کے پاس کھلی دلیلیں سو ان سے یہ نہ ہوا کہ ایمان لے آئیں اس بات پر جس کو جھٹلا چکے تھے پہلے سے1 اسی طرح ہم مہر لگا دیتے ہیں دلوں پر حد سے نکل جانے والوں کے2

1 یعنی نوح کے بعد ہود صالح لوط ابراہیم شعیب وغیرہ انبیاء کو اپنی اپنی قوم کی طرف کھلے ہوئے نشانات دے کر بھیجا، لیکن جس جہالت اور کفر کی حالت میں وہ لوگ اپنے اپنے پیغمبر کی بعثت سے پہلے تھے اور جن چیزوں کو پیشتر سے جھٹلاتے چلے آرہے تھے، یہ توفیق نہ ہوئی کہ انبیاء کے تشریف لانے اور سمجھانے کے بعد ان کو مان لیتے۔ بلکہ جن اصول صحیحہ کی تکذیب پہلے قوم نوح کرچکی تھی، ان سبھوں نے بھی ان کے ماننے سے انکار کردیا۔ اور جب پہلی مرتبہ منہ سے " نہ " نکل گئی، ممکن نہ تھا کہ پھر کبھی " ہاں " نکل سکے، اسی بےایمانی اور تکذیب حق پر آخر تک اڑے رہے۔ 2 جو لوگ تکذیب و عداوت حق میں حد سے نکل جاتے ہیں ان کے دلوں میں مہر لگنے کی یہ ہی صورت ہوتی ہے کہ اول تکذیب کرتے ہیں، پھر اس پر ضد اور اصرار کرتے محض دشمنی اور عناد کی روش اختیار کرلیتے ہیں۔ یہاں تک کے دل کی کلیں بگڑ جاتی ہیں اور قبول حق کی استعداد باقی نہیں رہتی۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے ان کے پیچھے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر پھر تکبر کرنے لگے اور وہ تھے لوگ گناہ گار3

3 یعنی جرائم پیشہ لوگ تھے۔ نافرمانی کی خو قبول حق کی اجازت کہاں دیتی۔ تکبر مانع ہوا کہ خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر اس کے سفراء کے سامنے گردن جھکائیں۔ (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا) 27 ۔ النمل :14) یہ ہی تکبر تھا۔ جس نے فرعون سے یہ الفاظ کہلوائے۔ ( اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّلَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِـنِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :18)
Ayah 10:76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب پہنچی ان کو سچی بات ہمارے پاس سے کہنے لگے یہ تو جادو ہے کھلا4

4 یعنی " عصا " اور " یدبیضا " وغیرہ کے معجزات دیکھ کر اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نہایت پر تاثیر باتیں سن کر کہنے لگے کہ یہ سب کھلا ہوا جادو ہے کیونکہ ان کے خیال میں تمام فوق العادت چیزوں کا آخری درجہ " جادو " ہی ہوسکتا تھا۔
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

کہا موسیٰ نے کیا تم یہ کہتے ہو حق بات کو جب وہ پہنچے تمہارے پاس کیا یہ جادو ہے اور نجات نہیں پاتے جادو کرنے والے5

5 یعنی حق کو جادو کہتے ہو، کیا جادو ایسا ہوتا ہے ؟ اور کیا جادو کرنے والے نبوت کا دعویٰ کر کے حق و باطل کی کشمکش سے کامیاب نکل سکتے ہیں۔ سحر اور معجزہ میں تمیز نہ کر سکنا ان کوتاہ فہموں کا کام ہے جو سونے اور پیتل میں تمیز نہ کرسکیں۔ پیغمبر کے روشن چہرے، پاکیزہ اخلاق، نور تقویٰ ، پرشوکت و عظمت احوال میں بدیہی شہادت اس کی موجود ہوتی ہے کہ جادوگری اور شعبدہ بازی سے انھیں کوئی دور کی نسبت بھی نہیں۔ پھر پیغمبر کو " ساحر " کہنا کس درجہ بےحیائی یا دیوانگی ہے۔
Ayah 10:78

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

بولے کیا تو آیا ہے کہ ہم کو پھیر دے اس راستہ سے جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو اور تم دونوں کو سرداری مل جائے اس ملک میں اور ہم نہیں ہیں تم کو ماننے والے6

6 یعنی معاذ اللہ تم دنیا کے حریص اور بدنیت ہو، ایک سیاسی تحریک کو مذہبی رنگ میں پیش کرتے ہو۔ تمہاری غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ مذہبی حیثیت سے ایک انقلاب عظیم برپا کر کے اس ملک میں اپنی حکومت اور سرداری جماؤ۔ اور یہاں کے قدیم سرداروں (قبطیوں) کو برطرف کردو۔ سو یاد رہے کہ یہ خواہش پوری ہونے والی نہیں۔ ہم لوگ ہرگز تمہاری بات نہ مانیں گے نہ تمہاری بزرگی کبھی تسلیم کریں گے۔
Ayah 10:79

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور بولا فرعون لاؤ میرے پاس جو جادوگر ہو پڑھا ہوا7

7 یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر کا جواب تھا۔ یعنی رہا سحر اور معجزہ کا جھگڑا، اس کا ہم عملاً تصفیہ کیے دیتے ہیں کہ اس ملک کے بڑے بڑے ماہر جادوگر اکٹھے کیے جائیں، پھر آپ ان کے خوارق کے مقابل اپنے معجزات دکھلائیں، دنیا مشاہدہ کرلے گی کہ تم پیغمبر ہو یا (معاذ اللہ) جادوگر ہو۔ اس کے لیے فرعون نے تمام ملک میں گشتی جاری کردی اور آدمی بھیج دیے کہ مشّاق اور ماہر جادوگر جہاں کہیں ہوں فوراً حاضر کیے جائیں۔ اس کا مفصل واقعہ سورة " اعراف " میں گزر چکا، وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 10:80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب آئے جادوگر کہا ان کو موسیٰ نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو8

8 دوسری جگہ مذکور ہے کہ ساحرین نے موسیٰ (علیہ السلام) سے دریافت کیا تھا کہ اپنا کرتب دکھلانے میں تم پہل کرتے ہو یا ہم کریں اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو تم کو دکھلانا ہے دکھلاؤ کیونکہ باطل کی پوری زور آزمائی اور نمائش کے بعد حق کا آنا اور باطل کو نیچا دکھا کر ملیامیٹ کردینا زیادہ موثر اور غلبہ حق کو زیادہ واضح کرنے والا ہے۔