83. Surah Al-Mutaffifin

المطففينDefrauding · 36 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 83:30

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ یَتَغَامَزُوْنَ٘ۖ Open ayah 83:30 in the Quran reader

اور جب ان (نیکوکاروں) کے پاس سے گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھ سے اشارے کیا کرتے تھے

جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرتے تھے 30 ؎ (یتغامرون) کا اصل مادہ غ م ز ہے اور اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ ایک بار اس جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس مادہ کا کوئی دوسرا لفظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا ۔ جمع مذکر غائب مضارع تغامز مصدر آنکھوں سے اشارہ کرتے ہیں ایک دوسرے کو دیکھ کر اور پھر ان غریب مسلمانوں کی طرف آنکھ دبا کر ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں گویا مسلمانوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس طرح کمینگی کی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ باتوں ہی باتوں میں جس کی ہوٹنگ (Hooting) کرنی ہو اس کے متعلق جس طرح آنکھ دبا کر آج کل بات کی جاتی ہے یہ طریقہ بہت پرانا طریقہ ہے اور اس میں اس طرح کی شیطنت پائی جاتی ہے کہ انسان ان کی حرکات و سکنات دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ معزز اور شریف لوگوں کا حال ہے اگر شرافت یہ ہے کہ تو پھر رذالت کس کو کہیں گے یا معاملہ الٹ دیا گیا ہے کہ یہاں کی ہرر ذالت شرافت اور ہر شرافت رذالت کہلاتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں کہ ان کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔
Ayah 83:31

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ Open ayah 83:31 in the Quran reader

اور جب اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو (مسلمانوں کے خلاف) خوب خوش گپیاں ہانکتے تھے

اور جب اپنے گھروں کی طرف لوٹتے ہیں تو مسلمانوں کے ذکر پر خوب خوش گپیاں ہانکتے ہیں 31 ؎ اس طرح گویا ان لوگوں کی دل لگی کا معاملہ اور کچھ نہیں تھا مگر یہ کہ جب وہ مجلسیں بر خواست کر کے ، دکانیں اور کاروباری مراکز بند کر کے ، ملازمت سے فارغ ہو کر کسی میٹنگ میں شامل ہونے کے بعد جب گھروں کو واپس لوٹتے تو کسی نہ کسی غریب مسلمانوں کا تذکرہ چھیڑ لیتے اور راستے میں خوب مزے لے لے کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ آج تو فلاں جگہ پر ہم نے فلاں صاحب کو گھیر لیا اور ان سے پیر جی کی باتیں سنتے رہے کہ آج آپ کے رسول پر کیا وحی آئی ہے اور کون کون سانیا پیغام تم تک پہنچا ہے ؟ پھر کوئی فرض فرض بات شروع کردی اور باتوں ہی باتوں میں خوب اس بات کی دل لگی بنائی مثلاً یار آج وہ بڑے میاں وہاں بیٹھے تھے تو میں نے ان کی خوب گت بنائی اور باتوں ہی باتوں میں ان کو اس طرح شرمندہ کیا وہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے قابل نہ رہے۔ میں نے ان سے کہا کہ جب تم لوگ آپس میں مل کر بیٹھتے ہو تو دل لگی کے لیے جنت کی حوروں کی باتیں کر کے وقت گزارتے ہو جب ادھر تم کو گھاس بھی ڈالنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔ بس جناب پھر تو کیا تھا کہ نہ اوپر دیکھے اور نہ بات کرے ، میں ایسا چپ کرایا کہ دوبارہ کبھی میرے ساتھ تو بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا پھر دوسرا بولا تو اس نے کوئی اور شوشہ چھوڑ دیا ۔ بس اس طرح کی باتیں آپس میں کرتے کرتے گھروں کو پہنچ گئے اور آنے والے کل کے لیے کوئی اور بات ذہن میں سوچ لی ۔ یہ ان کا وطیرہ تھا مسلمانوں کو مذاق کا نشانہ بنانے کا اور ایک دوسرے کے ساتھ دل لگی کرنے کا (فکھین) اسم فاعل جمع مذکر فاکھہ واحد اسم مصدر محلی نے اس کا ترجمہ تاعیین کے لفظ سے کیا ہے یعنی آرام پانے والے یا مزہ اڑانے والے اور صادی نے لکھا ہے کہ 1 ( فکھین) کے معنی استہزاء کرنے والے کے ہیں ۔ صاحب منجم نے لکھا ہے کہ ( فکھین) اور فاکھین دونوں کے معنی ہیں کہ مسلمانوں کا مذاق بنا کر مزے اڑانے والے یا دل لگی کرنے والے۔
Ayah 83:32

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 83:32 in the Quran reader

اور جب (بھی) انہیں دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ لوگ تو بالکل گمراہ ہیں

اور جب مسلمانوں کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے یہ لوگ تو بالکل گمراہ ہیں 32 ؎ یہ بات بھی بہت پرانی ہے کہ جس شخص میں جو کمزوری پائی جاتی ہے وہ سمجھتا ہے کہ فلاں میں بھی یہ کمزوری ہے اور فلاں میں بھی اور پھر ذکر کریں گے تو اس کمزوری کا جو خود ان کے اندر موجود ہوگی ، خود ایمانداری سے کام نہ کریں گے اور دوسروں کو بےایمان سمجھیں گے اور کہیں گے کہ یہی حال ان کا ہوگیا ۔ فرمایا جب مسلمانوں کو دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہی ان کا تقابل شروع کردیتے ہیں اور باتیں بناتے بناتے انجام کار تان اس جگہ آ کر توڑتے ہیں کہ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو راہ راست سے بھٹک گئے ہیں ، ان لوگوں کو نام آوری کا بڑا شوق ہے اور وہ پورا نہیں ہو رہا تو انہوں نے یہ سوچا ہے کہ چلو بد نام ہوں گے تو کیا ہوا نام تو ہوگا۔ دیکھ لو ان میں سے ایک ایک کو دیکھو کہ ہے کوئی ان میں باپ دادا والا آدمی یہ تو ساراہی کوڑا کرکٹ اکٹھا کیا ہوا جن لوگوں کے نام تک سے کوئی واقف نہیں ہے ، جن کو پاس بٹھانے کے لے کوئی تیار نہیں ہے سارے کے سارے جنت کے تارے بنے بیٹھے ہیں اور حوروں کے تصور میں راتیں گزارنے والے ، جن کو پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں وہ اللہ میاں کے چہتے بنے بیٹھے ہیں اپنی طرف دیکھتے نہیں اور باتیں کرتے ہیں ہمارے معبودوں اور ولوں اور بزرگوں کی جن کی ساری دنیا کھا رہی ہے ، جن کے واسطے ان کو روٹی مل رہی ہے ، جن کے ناموں سے دنیا دہل جاتی ہے ، ان کا نام لیتے ان کو ذرا شرم ہی محسوس نہیں ہوتی ۔ ان گستاخوں سے توفلاں یہودی اور فلاں عیسائی اچھا ہے یہ تو نرے گمراہ کے گمراہ ہیں ۔ دنیا کا تو ان کا کچھ پتہ ہی نہیں اور آخرت آخرت کی باتیں کرتے ہیں ۔ اس کو کہتے ہیں کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ بہر حال ان لوگوں کو ہمارے بزرگوں کی بات کرنے اور ان کی توہین کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اگر انہوں نے آئندہ کوئی ایسی بات کی تو معاملہ خراب ہوجائے گا اور پھر ان کو جان کے لالے پڑیں گے۔
Ayah 83:33

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَیْهِمْ حٰفِظِیْنَؕ Open ayah 83:33 in the Quran reader

اور حالانکہ وہ ان (مسلمانوں) پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

حالانکہ وہ ان لوگوں پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے 33 ؎ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں اور معاندین کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ وقت ان غریب مسلمانوں کی فکر میں مبتلا ہیں اور کبھی یہ بحث کرتے ہیں کہ ان لوگوں سے تو فلاں اور فلاں ہی اچھا ہے اور کبھی انکی باتوں کو کسی انداز میں پیش کر رہے ہیں اور کبھی کسی انداز میں کیا ان لوگوں کو ان غریب مسلمانوں پر داروغہ لگایا گیا ہے کہ ان کی نگران کو بہت لا حق ہوگئی ہے۔ آخر اس کا باعث کیا ہے کہ ان لوگوں کو ان غریب مسلمانوں کو بہت فکر لا حق ہوگئی ہے۔ گویا ان کو ان کی کمینہ حرکتوں پر تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ تم کو ان لوگوں کی کیا فکر پڑی ہے تم ان کے بارے میں آپس میں کیوں چہ مگوئیاں کرتے ہو اور اس طرح کی باتوں میں مصروف ہو کیا تم کو ان لوگوں پر نگران مقرر کیا گیا ہے ؟ کیا تمہیں ان کو راہ راست پر چلانے کے لیے ذمہ دار بنایا گیا ہے ؟ تم اپنی طرف نہیں دیکھتے کہ کیا کر رہے ہو اور کیا کہہ رہے ہو ۔ تم اپنے انجام کی فکر کرو ، ان غریبوں کی فکر تم کو کیوں لا حق ہے اور ان پر آوازیں کسنے سے تم کیا ملے گا ؟ گویا ان کفار کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ ” تجھے کیا پڑی ہے پرائی اپنی نبی ڑ تو “
Ayah 83:34

فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ Open ayah 83:34 in the Quran reader

پس آج جو لوگ ایمان لائے (ان) کفار پر ہنستے ہوں گے

آج لوگ ایمان لائے وہ کفار پر ہنسیں گے 34 ؎ دنیا میں تو کفار ان غریب مسلمانوں پر طرح طرح کے آوازے بلند کرتے تھے اور ان پر طرح طرح کی پھبتیاں کستے تھے لیکن قیامت کے روز معاملہ اس کے بالکل الٹ ہوگا اور ایمان والے ان کفار کو دیکھ کر ان پر ہنسیں گے کہ تم ہی وہ لوگ ہو کہ دنیا میں ہماری ہوٹنگ (Hooting) کیا کرتے تھے اور آج وہی ہوٹنگ (Hooting) تم سے کی جا رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج اپنے کیے کی پاداش میں پکڑے جا چکے ہو اور تم کو تمہارے کیے کا جو بدلہ دیا گیا ہے اس کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ تم اپنے دام میں خود ہی پھنس کر رہ گئے ہو اس وقت تم نے ہم کو اپنی دل لگی کا موضوع بنایا اور آج تم خود اپنے اعمال کے باعث اپنی ہی دل لگی کی پاداش میں دھر لیے گئے ہو ۔ یہ گویا اس طرح کا جملہ ہے جیسے یہ کہا جاتا ہے تم بھی آج وہی برائی ان سے کرلو جیسی کہ انہوں نے تم سے کی تھی ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو برائی کے بدلے میں ویسی ہی برائی کی اجازت دی جا رہی ہے ہرگز نہیں بلکہ ان کی برائی کے عوض میں جو ان کے ساتھ ویسی ہی اس برائی کی سزا دی جا رہی ہوگی ، اس کو اس طرح بیان کیا جا رہا ہے۔ مسلمان کی شان کے ہی خلاف ہے کہ وہ کسی پر کسی طرح کی کوئی پھبتی کیس اور اس سے ہوٹنگ (Hooting) کرے۔ ہاں ! کفار نے جو مسلمانوں کو مذاق کا نشانہ بنائے ہوئے پھبتیاں کسی تھیں آج وہ جب ان کی پاداش میں پکڑ جا چکے ہوں گے اور ان کو عذاب دیا جا رہا ہوگا تو اس کو بیان کرنے کے لیے یہ پیرا یہ کلام بیان کیا جا رہا ہے کہ آج ایمان والے کفار کو دیکھ کر ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ جس طرح اسلام نے برائی کے بدلے میں برائی کی اجازت نہیں دی بلکہ برائی کے بدلے میں اس برائی کا جتنا بدلہ دیا جاسکتا ہے اس کا بیان دیا ہے اسی طرح اس جگہ ان کا ہنسی اڑانا بیان کیا گیا ہے گویا ان کے اپنے ہی کیے کے نتیجہ میں جو ان کو عذاب پہنچ رہا ہوگا ، اس کو اس رنگ میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 83:35

عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۙ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 83:35 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے (ان کا سارا حال) دیکھ رہے ہوں گے

تختوں پر بیٹھے ان کا سارا حال دیکھ رہے ہوں گے 35 ؎ گزشتہ آیت کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی کہ جب قیامت کا دن آئے گا اور کفار اپنے کیے کی پاداش میں پکڑے جائیں گے اور اپنی بربادیوں پر آہ و فغاں کریں گے اور پیغمبر اسلام کے وہ سچے پیرو کار جن کے ساتھ ان کفار نے دنیا میں ہوٹنگ کی ہوگی اور ان کو طرح طرح سے مذاق کا نشانہ بنایا ہوگا آج وہ بحمد اللہ نہایت بہترین تختوں پر بیٹھے ، نہایت آرام و سکون کے ساتھ ان کی حالت زار کو دیکھ کر نہایت اطمینان کا سانس لیتے ہوں گے اور دیکھ رہے ہوں گے کہ ان کو کس طرح جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ ان کے شریکوں میں سے آج ایک بھی نظر نہیں آ رہا جو ان کو ان کی سزا سے کفایت کرا دے یا کم از کم کچھ کمی ہی کرا دے اب گویا اب ایک دوسرے کو دیکھتے ہی اور ایک دوسرے کو پہچانتے ہی معلوم ہوجائے گا اور منکرین و معاندین شرمندہ ہو کر جائیں گے اور اہل ایمان کو دیکھ کر وہ خود ہی اپنے دل ہی دل میں ضرور کچھ کہہ رہے ہوں گے کہ آج ہم کو ہمارے ہی کرتوتوں کی سزا دی جا رہی ہے اور اہل ایمان مزے میں ان تختوں پر بیٹھے ان کا حال ملاحظہ کر رہے ہوں گے ۔ گویا اہل ایمان کا ان کفار و معاندین کے سامنے تختوں پر نہایت اعزازو اکرام کے ساتھ بیٹھناہی کفار کے ساتھ ہنسی اور مذاق کیا جانا ثابت ہو رہا ہے نہ کہ مسلمانوں کو اس کردار کا مظاہرہ کرنا جس کردار کا مظاہرہ دنیا میں کفار و مشرکین کر رہے تھے۔ ہرگز ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 160 جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 22 ، جلد ششم سورة المؤمنون کی آیت 96 ، سورة القصص کی آیت 54 ، 84 ، جلد ہشتم سورة حم السجدۃ کی آیت 34 ، سورة الشوریٰ کی آیت 40 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ اور زیر نظر آیت نے بھی اس گزشتہ آیت کی وضاحت فرما دی ہے کہ محض نیک لوگوں کو ان کی نیکی کی جزا دیئے جانے اور ان کی آنکھوں کے سامنے منکرین و معاندین کو سزا میں مبتلا کرنے کا مفہوم ایمان والوں کا کفار کی ہنسی اڑانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
Ayah 83:36

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 83:36 in the Quran reader

(اور آپس میں کہیں گے) کیا کافروں کو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے (اس کا) پورا بدلہ مل گیا (یا نہیں ؟ )

کیا کافروں کو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اس کا پورا بدلہ مل گیا ؟ 36 ؎ ( ثوب) کا اصل مادہ ث و ب ہے اور اس کے معنی ہیں بدلا دیا گیا ۔ ثثویب سے جس کے معنی بدلہ دینے کے ہیں ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب تثویب کا استعمال قرآن کریم میں برے اعمال کی جزا ہی ہوا ہے بہر حال ( ثوب) کا لفظ قرآن کریم میں صرف اسی جگہ ایک ہی بار آیا ہے اگرچہ اس مادہ کے الفاظ دوسری جگہوں پر بھی بیان ہوئے ہیں ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ کفار کو ان کو ہنسی اور مذاق اڑانے کا پورا پورا بدلہ مل گیا جب ان کو عذاب میں گرفتار کرلیا گیا اور عین اسی حالت میں جب ان کی آنکھوں کے سامنے ان غریب مسلمانوں کو نہایت بہترین تختوں پر بٹھا کر اور ان کی عزت افزائی فرماتے ہوئے ان کو دکھا کر ان کے مخالفین و معاندین کو عذاب میں گرفتار کرلیا گیا اور اس طرح ان کی ساری بد تمیزیوں کی سزا ان کو دے دی گئی اور اسی مضمون پر ہم اس سورت التطفیف کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ۔ ربنا فاغفرلنا ذنوبناو کفر عنا سیاتنا و توفنا مع الابرابر۔