Ayah 54:24قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) کو اپنے ہی جیسا انسان سمھج کر اس کی پیروی سے انکار کر دیا
24 ؎ ثمود قوم کا مذہب بت پرستی تھا یعنی وہ لوگ بھی اپنے بزرگوں کے مجسمے بنا کر ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے اپنے سامنے رکھا کرتے تھے اور انہی کی پرستش کرتے جیسا کہ ان کے آبائو اجداد کیا کرتے تھے حالانکہ یہ ان لوگوں کی اولاد تھے جنہوں نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کیا تھا لیکن اس میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اس قوم نے وہی کچھ کرنا شروع کردیا جو ہلاک شدگان کیا کرتے تھے اور یہ بات کوئی تعجب کی نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم نے ہمارے سامنے جتنی دعوتوں کا ذکر کیا ہے ان میں یہ بات سرفہرست آتی ہے اور آج بھی وہی بات سرفہرست ہے زیادہ سے زیادہ جو تبدیلی آئی ہے وہ فقط اتنی ہے کہ ہمارے ہاں پتھروں کو گھڑ کر بتوں کی صورت میں تیار نہیں کیا جاتا بلکہ ان گھڑے پتھروں کو قبروں کے ڈھیروں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ باقی سارے لوازمات وہی ہیں جو وہ پتھروں کے ساتھ کرتے تھے یعنی وہ لوگ نذر و نیاز بتوں پر چڑھاتے تھے ہمارے ہاں قبروں پر چڑھاتے ہیں ‘ وہ چادریں اور پھول بتوں پر ڈالا کرتے تھے اور ہمارے ہاں یہ کام قبروں کے ساتھ خاص کردیئے گئے ہیں وہ لوگ جن کے بت تراشتے تھے وہ بھی نیک لوگ ہی تھے اور ہمارے ہاں جو قبریں اور روضے بنائے جاتے ہیں وہ بھی ان بزرگوں ہی کے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم کی یہ سنت ہے کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے گزشتہ اقوام اور ان کے ہادیوں کے واقعات و حالات بیان کر کے نصیحت و موعظت کا سامان مہیا کرتا ہے اور اس کا موضوع حکایات و قصص بیان کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو عقل کی روشنی عطا فرمائی تو اسکی ہدایت و نجات اخروی کا کیا سامان مہیا کیا ہے تاکہ وہ ان اسباب کی مدد سے اپنی عقل سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور نامرضیات کو پہچانے ؟ اس نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے ان ہی میں سے پیغمبر اور رسول بھیجتا ہے ‘ وہ ان کو حق کی راہ بتاتے اور ہر قسم کی گمراہی سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں اور تائید میں وہ اقوام و امم کے واقعات بیان کرتا اور تاریخ ماضی کو دہراتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ جن اقوام نے اپنے رسولوں کی ہدایت کو تسلیم کیا انہوں نے دنیا و آخرت کی فلاح پائی اور جن امتوں نے ان کی تلقین کا انکار کیا ان کا مذاق اڑایا اور ان کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تصدیق کے لئے کبھی بطور خود اور کبھی قوم کے مطالبہ پر ایسا عزاب نازل کیا جس نے اس قوم کو صفحہ ہستی سے بالکل مٹا کر رکھ دیا۔ قوم ثمود بھی ان اقوام عالم میں سے ہے جنہوں نے اپنے نبی و رسول سے جلد عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کیا اور پھر جب ان کی مہلت پوری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی طرح قوم ثمود کو بھی مٹا کر رکھ دیا۔ ثمود نے صالح (علیہ السلام) کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ کیا ہم اپنے لوگوں میں سے ایک آدمی ہی کی پیروی کرنا شروع کردیں جب کہ اس کو ہم پر کسی طرح کی کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے نہ مال و دولت میں اور نہ خاندان اور بیٹوں میں۔ گویا انہوں نے دنیاوی لحاظ سے اپنے اور صالح (علیہ السلام) کے درمیان موازنہ شروع کردیا اور ان کی عقل میں نہ آیا کہ نبوت و رسالت کے لئے اخلاق و کردار کو دیکھا جاتا ہے نہ کہ مال و دولت کے ڈھیروں اور انباروں کو۔ بہرحال انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت سے انکار کرنے کے لئے کوئی ایسا اعتراض نہ کیا جس کا تعلق اخلاق و کردار کے ساتھ تھا بلکہ انہوں نے اپنا اور صالح (علیہ السلام) کا موازنہ مال و دولت اور دنیا کے مال و متاع اور خاندان و برادری کے ساتھ کیا اور اس طرح انہوں نے مال و دولت میں صالح (علیہ السلام) کو اپنے ہم مرتبہ نہ پا کر مسترد کردیا اور یہی بات آج کل کی جا رہی ہے کہ یہ بڑے لوگ اپنے باپ دادا کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اللہ کے نیک بندوں کا مذاق اڑایا کرتے ہیں۔
Ayah 54:25قوم ثمود نے کہا کہ کیا صالح ہی ہم میں سے وحی کا مستحق ٹھہرا حالانکہ وہ جھوٹا ہے
25 ؎ قارئین کرام کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ غور و فکر کریں کہ قوم نے صالح (علیہ السلام) کو کیا کہا ؟ قوم نے صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر اللہ نے ذکر نازل کیا ؟ گویا قوم کو یہ بات پسند نہ آئی اور صالح (علیہ السلام) کے متعلق جو کہا وہ یہ تھا کہ صالح تو ایک جھوٹا اور بڑائی مارنے والا آدمی ہے۔ (اشر) بہت زیادہ اترانے والا ‘ بڑائی مارنے والا اشر سے جس کے معنی بہت زیادہ اترانے اور بڑائی مارنے کے ہیں ‘ صفت ‘ مشبہ کا صیغہ ‘ اندازہ کیجئے کہ کسی اللہ کے نبی اور رسول میں بھی یہ صفت ہوتی ہے جو انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی بیان کی ؟ ظاہر ہے کہ یہ سراسر جھوٹ اور محض افتراء ہے لیکن جو خود جھوٹا ہو اس کے لئے دوسروں کو جھوٹا کہنا کتنا آسان ہے کہ مجسمہ نیکی کا نام انہوں نے جھوٹ رکھا۔ مال و دولت کا نشہ اور اس کے ساتھ اگر خاندان اور برادری کی طاقت و قوت بھی مل جائے تو پھر آدمی چاہے جو کچھ کہتا رہے ‘ ہاں ہاں کرنے والے اس کو مل جاتے ہیں۔ یہی کام قوم ثمود نے کیا اور خصوصاً ان لوگوں نے جو اپنے اپ کو باپ دادا والے سمجھتے تھے کہ صالح (علیہ السلام) کو نہ صرف یہ کہ جھٹلایا بلکہ کذاب اور اترانے والا اور بڑائی مارنے والا کہا اور نہایت دھڑلے سے یہ بیان کیا کہ اس کو کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ وحی کا مستحق ٹھہرا۔
Ayah 54:26ان کو کل ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون جھوٹا اور بڑائی مارنے والا ہے
26 ؎ (غدا) کل یعنی آنے والا دن۔ اس جگہ اس سے مراد ان کے عذاب کا دن ہے جو عنداللہ مقرر کیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ کذاب اور اترانے والا کون ہے ؟ صالح (علیہ السلام) یا صالح (علیہ السلام) کے متعلق اس طرح کے الزام لگانے والے ۔ (غدا) اصل میں غدوا ہے لیکن اس کا وائو بلا عوض حذف کردیا گیا ہے۔ آنے والے کل سے ان کے لئے مقرر دن جو عزاب کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہی مراد لیا گیا ہے اگرچہ بعض جگہ اس سے مراد قیامت کا دن بھی لیا جاتا ہے تاہم اس جگہ مراد قیامت کا روز نہیں بلکہ عذاب ہی کا دن ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
Ayah 54:27ہم نے ان کو آزمائش کے لئے ایک اونٹنی بھیج دی ہے تم انہیں دیکھتے رہنا
27 ؎ یہ اونٹنی کون سی اونٹنی تھی ؟ وہی جس پر صالح (علیہ السلام) تبلیغ کا کام سرانجام دیتے تھے اور اپنی بستیوں میں ادھر ادھر آتے جاتے تھے۔ قوم کے لوگوں نے جب صالح (علیہ السلام) کو جھوٹا قرار دیا اور شیخی بگھارنے والا اور اترانے والا کہا تو ظاہر ہے کہ ان کے غصہ کی کوئی حد نہ تھی اور جب انسان کسی پر غصہ ہوتا ہے تو اس کی کوئی چیز بھی اس کو اچھی نہیں لگتی بلکہ وہ اس کی ہرچیز کو غصہ کی نظر سے دیکھتا ہے یہی حال صالح (علیہ السلام) کی قوم کا تھا کہ انہوں نے نہ صرف صالح (علیہ السلام) کی مخالفت میں یہ سب کچھ کہا بلکہ ان کی اونٹنی سے بھی بیر کیا اور اس کو چارہ پانی سے روکنے کی پوری پوری کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کو ان کے عذاب کے ساتھ معلق کردیا اور صالح (علیہ السلام) سے اعلان کروا دیا کہ آپ قوم کے لوگوں کو متنبہ کردیں کہ اگر انہوں نے اونٹنی کو آئندہ کسی طرح کی کوئی گزند پہنچائی اور کسی طرح کی کوئی تکلیف دی اور اس کو چارہ اور پانی سے روکا تو بس وہ سمجھ لیں کہ ان کے عذاب کا وقت آگیا۔ فرمایا ہم نے ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی مقرر کردی ہے۔
اے صالح (علیہ السلام) آپ ان کے انجام کا انتظار کریں اور صبر و تحمل سے کام لیں۔ (ازتقبھم) تو ان کا انتظار کر ‘ تو ان کو دیکھتا راہ ارتقب صیغہ امرھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ (اصطبر) تو قائم رہ۔ یہ استعارہ ہے صبر کر اصطبار سے جس کے معنی صبر کے ساتھ قائم رہنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر اور اس کے مخاطب صالح (علیہ السلام) ہیں یعنی جو بات ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے آپ ان کو بتا دیں کہ وہ کچھ دیر مزید انتظار کریں اور صبر و سہارے سے کام لیں بس ان کا کام تمام ہونے والا ہی والا ہے اگر انہوں نے آئندہ اونٹنی کو کوئی تکلف دی تو بس ان کو دھر لیا گیا۔
Ayah 54:28ان کو آگاہ کر دو کہ اونٹنی کے پانی پینے کی باری مقرر کردی گئی ہے ‘ بس اپنی باری پر حاضر ہو
28 ؎ (محتضر) اسم مفعول واحد مذکر احتصار مصدر (اقتصال) مراد پانی کی وہ باری جس پر سب حصہ دار موجود ہوں اور ان کے حصے مقرر کردیئے گئے ہوں۔ (مختصر) قریب الموت آدمی کو بھی کہتے ہیں جس کے سامنے موت آگئی ہو اور اس کو بھی جس پر جن آنے کا اندیشہ کیا گیا ہو۔ کہاوت ہے کہ اللبن مختصر فغط اناء ک دودھ پر سب آفتیں موجود ہوتی ہیں اس لئے برتن کو ڈھانک دو ۔ محتصر (1) اسم فاعل ہے لیکن آیت میں (مختصر) ہے جو اسم مفعول ہے۔ صالح (علیہ السلام) سے کہا جا رہا ہے کہ اے صالح ! اپنی قوم کے لوگوں کو متنبہ کر دو کہ پانی کی باری اونٹنی اور آپ کے جانوروں کے لئے مقرر کردی گئی ہے اور یہ احتیاط اور چاہئے کہ ہر ایک اپنی اپنی باری پر حاضر ہو اور اپنے اپنے جانوروں کو پانی پلایا جائے اور اونٹنی کی باری کے وقت تم لوگ اپنے جانوروں کو ادھر نہ جانے دو ۔ احتیاط کرو ورنہ بےاحتیاطی کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
Ayah 54:29انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو بلایا اور اس نے اونٹنی پر وار کر کے اس کی کونچیں کاٹ دیں
29 ؎ (فتعاطی) پس اس نے دست درازی کی ‘ اس نے ہاتھ چلایا ‘ اس نے پکڑا اتعاطی سے جس کے معنی کسی چیز کی طرف ہاتھ بڑھانے اور اس کو پکڑنے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ قوم ثمود نے اپنے ایک آدمی کو بلایا اور اس کی ہمت بندھائی اور اس کو یقین دلایا کہ ہم سب تیرے ساتھ ہیں۔ صالح نے اونٹنی کو ایک نشانی قرار دے دیا ہے اور تو ہمت کر کے اس اونٹنی کا کام تمام کر دے۔ پھر جو ہوگا وہ دیکھا جائے گا۔ (عقر) اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ عق سے جس کے معنی کونچیں کاٹ دینے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اور کونچیں کہتے ہیں پائوں کے پٹھوں کو جو پیچھے کی طرف ایڑی کے پاس ہوتے ہیں۔ عربوں میں دستور تھا کہ جب وہ اونٹ کو ذبح کرنا چاہتے تو پہلے اس کی کونچیں کاٹ دیتے تاکہ وہ بھاگ نہ سکے اور اس کے بعد اس کو نحر کرتے۔ مصباح میں تحریر ہے کہ عقر کا استعمال صرف کونچیں کاتنے کے لئے ہوتا ہے اور کبھی کبھی نحر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ازہری نے اس کی وجہ یہ تحریر کی ہے کہ چونکہ نحر عام طور پر عقر کے بعد ہوتا ہے اس لئے اس سے نحر کرنا یا قتل کرنا بھی مراد لے لیا جاتا ہے۔ بہرحال جس آدمی کے ذمہ انہوں نے یہ کام لگایا اس نے اس کو ان کے کہنے کے مطابق کردیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں گویا اس کو قتل کردیا۔
Ayah 54:30پھر دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟
30 ؎ ادھر اس بدبخت نے جس کا نام قدار بن سالف بتایا جاتا ہے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں اور ادھر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونا شروع ہوگیا اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب صالح (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ قوم کے لوگوں نے مل کر اتحاد کے ساتھ اونٹنی کی کونچیں کٹوا دی ہیں یعنی اس کو قتل کردیا ہے تو آپ آبدیدہ ہوگئے اور فرمایا کہ اے بدبخت قوم ! آخر تم سے صبر نہ ہوسکا ‘ تم نے عذاب الٰہی کی دعوت دے دی۔ اب تم لوگ صرف تین دن تک انتظار کرو اور تین دن کے بعد وہ نہ ٹلنے والا عذاب آئے گا اور تم سب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تہس نہس کردیا جائے گا۔ اس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے کہ دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا ؟ صالح (علیہ السلام) تیسرے روز اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر اس علاقہ سے نکل گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ پر اپنا عذاب نازل کرنا شروع کردیا۔
Ayah 54:31لاریب ہم نے ان پر ایک سخت چیخ بھیجی جس نے ان کو چورا چورا کر دیا
31 ؎ مختصر یہ کہ ان تین دونوں کے بعد وقت موعود آپہنچا اور رات کے وقت ” ایک ہیبت ناک آواز “ نے ہر شخص کو اسی حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ تھا۔ قرآن کریم نے اس ہلاکت آفرین آواز کو کسی مقام پر (صاعقہ) (کڑک دار بجلی) اور کسی جگہ (رجفہ) (زلزلہ ڈال دینے کی شے) اور بعض جگہ (طاغیہ ) دہشت ناک اور بعض جگہ (صیحہ ) چیخ فرمایا۔ اس لئے کہ یہ تمام تعبیرات ایک ہی حقیقت کے مختلف اوصاف کے اعتبار سے کی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے اسی عذاب کی ہولناکیاں گوناں گوں تھیں۔ تم ایک ایسی کوندنے والی بجلی کا تصور کرو جو بار بار اضطراب کے ساتھ چمکتی ‘ کڑکتی اور گرجتی ہو اور اس طرح کوند رہی ہو کہ کبھی مشرق میں ہے تو کبھی مغرب میں اور جب اب تمام صفات کے ساتھ چمکتی ‘ کڑکتی اور گرجتی ‘ لرزتی لرزاتی ہوئی کسی مقما پر ایک ہولناک چیخ کے ساتھ گرے تو اس مقام اور اس کے نواح کا کیا حال ہوگا ؟ یہ ایک معمولی اندازہ ہے اس عذاب کا جو ثمود قوم پر نازلہوا اور ان کو اور ان کی بستیوں کو تباہ وبراد کر کے سرکشوں کی سرکشی اور مغروروں کے غرور کا انجام ظاہر کرنے کیلئے آنی والی نسلوں کے سامنے بطور عبرت پیش کر گیا۔ زیر نظر آیت میں (کھشھیم المحتظر) روندی ہوئی باڑھ کی طرح چورہ چورہ کر کے رکھ دیا۔ (المحتظر ) اسم فاعل واحد مذکر احتظار مصدر (اقتصال) ح ظ ر مادہ حظیر) اسم فاعل واحد مذکر احتظار مصدر (اقتصال) ح ظ ر مادہ حظیرۃ کاٹی ہوئی کانٹے دار ٹہنیوں کا باڑھ بنایا ہوا پھر جب اسکو چورہ چورہ کردیا جائے تو وہ کیا ہوتا ہے سب کو معلوم ہے۔ قوم ثمود کی تفصیل غزوہ الوثقیٰ جلد سوم سورة الاعراف آیت 72 تا 79 جلد چہارم سورة ہود آیت 61 تا 66 جلد ششم الشعراء آیت 141 تا 148 میں دیکھیں۔
Ayah 54:32ہم نے قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے جب کوئی نصیحت حاصل کرے
32 ؎ اس کی تفصیل آیت 17 کے تحت گزر چکی ہے۔ اس جگہ قرآن کریم میں صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی نصیحت گزر چکی ہے اگر کوئی شخص اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہے تو لاریب کوئی مشکل امر نہیں ہے لیکن نصیحت کون حاصل کرتا ہے وہی جو نصیحت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور قرآن کریم اس کے لئے بلاشبہ آسان ہے اور موشگافیاں کرنے والوں کو کبھی نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔
Ayah 54:33لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی
33 ؎ یہ بات قبل ازیں ہم واضح کرچکے ہیں کہ کسی ایک نبی و رسول کی تکذیب سارے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب تصور کی جاتی ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو بار بار قوموں کو اپنے رسولوں اور نبیوں کے جھٹلانے کے لئے یہ طرز بیان اختیار نہ کیا جاتا کہ فلاں قوم نے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی جیسے اس جگہ بیان کیا گیا۔ لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کے اکیلے ہی نبی و رسول تھے لیکن قرآن کریم نے جو ارشاد فرمایا وہ یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ‘ رسولوں کی تکذیب کی حالانکہ قوم نے لوط (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی۔ لوط (علیہ السلام) اہل سدوم کی طرف مبعوث کئے گئے تھے اور اہل سدوم فواحش اور مصیبتوں میں اس قدر مبتلا ہوچکے تھے کہ الامان والحفیظ۔ دنیا کی کوئی برائی ایسی نہ تھی جو اس قوم میں موجود نہ ہو۔ دنیا کی ہر سرکش ‘ متمرد ‘ بداخلاق و بد اطوار اقوام کے دوسرے عیوب و فواحش کے علاوہ یہ قوم ایک خبیث عمل میں آگے تھی یعنی اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ عورتوں کی بجائے امرد لڑکوں سے اختلاط رکھتے تھے۔ دنیا کی قوموں میں اس عمل کا اس وقت تک قطعاً کوئی رواج نہ تھا۔ یہی بدبخت قوم ہے جس نے اس ناپاک اور غیر فطری عمل کو ایجاد کیا اور اس عمل کا نام سدومیت معروف ہے اور اس سے بھی زیادہ شرارت ‘ خباثت اور بےحیائی یہ تھی کہ وہ اپنی اس بدکرداری کو عیب نہیں سمجھتے تھے اور علی الاعلان فخر و مباہات کے ساتھ اس فعل کے مرتکب ہوتے تھے۔ چناچہ دوسری جگہ قرآن کریم ہی میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ :
Ayah 54:34” اور یاد کرو لوط (علیہ السلام) کا واقعہ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ایسے فحش کام میں مشغول ہو جس کو دنیا میں تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا یہ کہ بلاشبہ تم عورتوں کی بجائے اپنی شہوت کو مردوں سے پورا کرتے ہو یقیناً تم حد سے گزرنے والے ہو۔ “ (الاعراف : 81) لوط (علیہ السلام) کی اس بات کا جواب جو قوم نے دیا وہ یہ تھا کہ ” وہ کہنے لگے ان کو یعنی لوط اور اس کے ماننے والوں کو اپنے سہر سے نکال دو یہ بلاشبہ بہت ہی پاکباز لوگ ہیں۔ ‘ (الاعراف : 82) لوط (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والوں کو انہوں نے بطور مذاق اور استہزاء کے پاکباز لوگ کہا تھا۔ اس قصہ کی تفصیلات پیچھے غزوہ الوثقیٰ جلد چہارم سورة ہود آیت 77 تا 83 ‘ جلد پنجم سورة حجر آیت 61 تا 74 میں گزر چکی ہیں اور اسی طرح سورة الشعراء آیت 160 تا 175 میں بھی اس کو ملاحظہ کریں۔
ہم نے ان لوگوں پر پتھروں سے لدی ہوئی ہوا چلائی سوائے لوط کے لوگوں کے
34 ؎ سیدنا لوط (علیہ السلام) کے ابلاغ حق ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قوم پر مطلق اثر نہ ہوا اور وہ اپنی بد اخلاقیون پر اسی طرح قائم رہی۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے یہاں تک غیرت دلائی کہ تم اس بات کو نہیں سوچتے کہ میں رات دن جو اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت و پیغام کے لئے تمہارے ساتھ حیران و سرگرداں ہوں کیا کبھی میں نے تم سے اس سعی و کوشش کا کوئی ثمرہ طلب کیا ‘ کیا کوئی اجرت مانگی ‘ کسی نذر و نیاز کا طالب ہوا ؟ میرے پیش نظر تو تمہاری دینی و دنیاوی سعادت فلاح کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے مگر تم ہو کہ مطلق توجہ ہی نہیں کرتے۔ مگر ان کے تاریک دلوں پر اس کے کہنے کا مطلق کچھ اثر نہ ہوا اور وہ برابر لوط (علیہ السلام) کو ” اخراج “ اور سنگساری کی دھمکیاں دیتے رہے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی اور ان کی سیاہ بخیس نے کسی طرح اخلاقی زندگی پر آمادہ نہ ہونے دیا تب ان کو وہی کچھ پیش آیا جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے بنائے ہوئے قانون جزا کا حتمی فیصلہ حے یعنی بدکرداریوں پر اصرار کی سزا بربادی و ہلاکت۔ مختصر یہ کہ عذاسب الٰہی کا وقت آپہنچا۔ ابتداء سب ہوئی تو ملائکہ کے اشارہ پر حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے لوگوں سمیت دوسری جانب سے نکل کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ان کی بیوی نے ان کی رفاقت سے انکار کردیا اور راستہ ہی سے لوٹ کر سدوم واپس آگئی۔ آخر شب ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیز نے اہل سدوم کو تہ وبالا کردیا اور پھر آبادی کا تختہ اس طرح الٹ دیا کہ ان بستیوں کے عین وسط سے زمین شق ہوگئی اور پوری آبادی زمین کے اندر ہی اندر دھنس کر رہ گئی اور پتھروں کی بارش نے ان کا نام ونشان تک مٹا کر رکھ دیا اور وہی ہوا جو گزشتہ اقوام کی نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہوچکا ہے۔ مگر ہاں ! لوط (علیہ السلام) اپنے لوگوں کو لے کر وہاں سے ہجرت کر گئے اس لئے وہ صبح ہوتے ہوتے اس عذاب الٰہی سے بچ گئے۔
Ayah 54:3535 ؎ یہ شروع سے سنت اللہ چلی آرہی ہے کہ جب کسی نبی و رسول کی قوم پر عذاب نازل ہونے کا وقت قریب آجاتا ہے تو اس وقت اس علاقہ سے نبی و رسول کو ہجرت کا پیغام بھیج دیا جاتا ہے اور جب نبی و رسول وہاں سے ہجرت کرجاتا ہے تو اس کے بعد پوری قوم کو عذاب الٰہی میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور اس طرح تہس و نہس کر کے رکھ دیا جاتا ہے ۔ فرمایا جن کو بچایا جاتا ہے محض اس لئے بچایا جاتا ہے تاکہ ان کے شکر کی ان کو جزا دی جائے۔ گویا اس شکر کی جزا دینے کے لئے ان کو یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچالیا گیا۔ غور کرو کہ جہاں مخاطبین پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے وہاں شکر گزاروں کو بچا بھی لیا جاتا ہے۔
Ayah 54:36لوط (علیہ السلام) نے قوم کو ہماری گرفت سے ڈرایا اور انہوں نے جھگڑنا شروع کر دیا
36 ؎ (فتماروا) ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ پس انہوں نے جھگڑا کیا۔ انہوں نے شک کیا اور آپس میں باہم جھگڑ پڑے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان کو یعنی اپنی قوم کے لوگوں کو ڈرایا کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اب تم کو اپنی گرفت میں لے لے گا لیکن قوم کے لوگوں نے لوط (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں سے جھگڑا شروع کردیا اور ان کی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔
Ayah 54:37لوط (علیہ السلام) سے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کو انہوں نے لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں
37 ؎ (راودوہ) کا مادہ ر و د ہے۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ‘ ضمیر واحد مذکر غائب یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم نے لوط (علیہ السلام) کو ورغلانے کی کوشش کی اور اس سے گفت و شنید کی۔ معاملہ کیا تھا ؟ یہ کہ چند فرشتے نوجوان امرد لڑکوں کی صورت میں لوط (علیہ السلام) کے پاس سدوم میں پہنچے اور لوط (علیہ السلام) کے ہاں مہمان ہوئے۔ لوط (علیہ السلام) نے ان مہمانوں کو دیکھا تو گھبرا گئے اور ڈرے کہ میری قوم تو بہت بدبخت ہے اور یہ آنے والے ایسے ہیں کہ جونہی قوم کے لوگوں نے ان کو دیکھا تو وہ ان پر چڑھ دوڑے گی اور ان کی رسوائی کرے گی اور مہمانوں کی رسوائی خود لوط (علیہ السلام) کی رسوائی ہوگی کیونکہ آنے والوں نے لوط (علیہ السلام) کو ابھی تک یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم فرشتے ہیں اور ہمارے آنے کا مقصد کیا ہے ؟ لوط (علیہ السلام) اسی طرح اپنے مہمانوں کے متعلق تشویش میں تھے کہ قوم کو خبر لگ گئی اور وہ لوط (علیہ السلام) کے مکان پر چڑھ دوڑے اور لوط (علیہ السلام) سے مطالبہ کرنے لگے کہ تم ان مہمانوں کو ہمارے حوالے کر دو ۔ لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو بہت سمجھایا اور یہاں تک فرمایا کہ کیا تم میں کوئی ” رجل رشید “ سلیم الفطرت انسان نہیں ہے کہ وہ انسانیت سے کام لے اور حق کو سمجھنے کی کوشش کرے ؟ تم کیوں اس لعنت میں گرفتار ہو اور خواہشات نفس کے ازالہ کے لئے فطری فطریقہ کو چھوڑ کر غیر فطری طریقہ کو اپناتے ہو۔ دیکھو تمہارے گھروں میں یہ جو میری بچیاں ہیں ان سے اپنے تعلق قائم کرو اور نیک اولاد کی اللہ سے طلب کرو۔ تم کیا کرتے ہو اور دل میں خیال کیا کہ کاش آج میرے پاس کوئی ” رکن شدید “ ہوتا تو یہ لوگ میرے سامنے میرے مہمانوں کی رسوائی کے مرتکب نہ ہوتے۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کی اس پریشانی کو دیکھ کر فرشتوں نے کہا کہ آپ ہماری ظاہری شکل و صورت دیکھ کر گھبرا نہ جائیں ہم تو اللہ تعالیٰ کے فرستادہ ہیں اور آپ کی قوم کو عذاب دینے کیلئے بھیجے گیے ہیں تاکہ آپ کو مطلع کریں کہ آپ اس بستی کو چھوڑ دیں اور یہاں سے نکل جائیں اس لئے کہ ان لوگوں پر عذاب نازل ہونے والا ہے۔ (فطمسنا) ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے ہاتھوں اندھے ہوگئے اور اس طرح انہوں نے اپنے اندھے پن کا انجام پا لیا اور میرے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
Ayah 54:38اور صبح سویرے یعنی علی الصبح ہی ان پر دائمی عاب نازل ہو گیا
38 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ عذاب الٰہی کا وقت آپہنچا ابتدائے شب ہوئی تو ملائکہ کے اشارہ پر لوط (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والے تو اس بستی سے نکل گئے جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو نکل جانے کا حکم دیا تھا اور رہے وہ لوگ جو آپ کے نافرمان تھے تو صبح ہوتے وہ دھر لئے گئے اور عذاب الٰہی نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے نہ تو ان کی اولاد بچی اور نہ ان کی قوم کا کوئی فرد بچا۔ علاقہ پر جو گزری وہ اس طرح تھی کہ زمین شق ہوگئی اور بستیاں زمین کے اندر گھس گئیں اور لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کا پورا علاقہ بحرمیت یا بحر لوط میں بدل کر رہ گیا اور ان کا نام و نشان مٹا دیا گای۔ (مستقر) اسم فاعل واحد مذکر مرفوع استقرار مصدر بمعنی قرار۔ قرار پکڑنے والا۔ ٹھہرنے والا۔ یعنی ایسا عذاب جس نے مکمل طور پر ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پھر نہ چھوڑا اور ان کو تہس نہس کردیا۔
Ayah 54:39پس میرے ڈرانے اور میرے عذاب کا مزہ چکھو
39 ؎ لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے جیسا کہ آیت 39 میں گزر چکا ہی اور اس طرح گویا ان کے اعمال کے نتائج کا ذکر کیا جا رہا ہے یعنی جو کام تم نے کئے ہیں ان کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لو کہ میرا ڈرنا اور میرا عذاب کیا ہوتا ہے اور کیسا رہتا ہے ؟ اور یہ کلمات حسرت و افسوس کے کلمات ہیں۔
Ayah 54:4040 ؎ ہر مختصر قبضہ کے بعد اس آیت کا تکرار کیوں ؟ محض اس لئے کہ از سر نو ان کو تنبیہہ ہو جو زندہ ہیں اور اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو نصیحت حاصل کرے اور اس بار بار ترغیب سے شاید کوئی عبرت حاصل کرلے لیکن اگر کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا یا نہیں کرنا چاہتا تو کیا نصیحت کرنا یا نصیحت دینا ترک کردیا جائے گا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ نصیحت کرنے کا عمل بھی جاری رہے گا چاہے کوئی شخص نصیحت حاصل کرے یا نہ کرے اور قرآن کریم کے آسان کرنے کا مطلب ہم نے آیت 17 میں بیان کردیا ہے وہیں سے ایک بار پھر ملاحظہ کریں۔
Ayah 54:41اور آل فرعون کے پاس بھی ڈرانے والے پہنچے
41 ؎ فرعون اور آل فرعون کے پاس جانے والے کون تھے ؟ ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) تھے اور وہ سارے لوگ جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ (النذر) جمع ہے لانذیر کی اور لانذیر واحد ہے ڈرانے والا اور النذر یعنی ڈرانے والے۔ جب آل فرعون کا ذکر کیا گیا تو فرعونبذاتہ ان میں آگیا کیونکہ اصل وہی تھا اور اس کے اعوان و انصار تھے۔
Ayahs 54:42–43انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلایا اور ہم نے بھی ان کو خوب پکڑا
42 ؎ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ ان ہماری نشانیوں سے کیا مراد ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت سے نشانات عطا فرمائے تھے جن کا ذکر سورة البقرہ ‘ سورة الاعراف ‘ سورة النحل ‘ سورة القصص ‘ سورة الاسراء ‘ سورة طٰہ ‘ سورة الزخرف ‘ سورة ال مومن ‘ سورة القمر اور سورة الصافات میں مختلف طریقوں سے کیا ہے۔ چناچہ سورة الاسراء میں ہے کہ : (ولقد اتینا موسیٰ تسع ایاب بینت فسئل بنی اسرائیل اذ جاء ھم فقال لہ فرعون انی لا ظنک یموسیٰ مسحورا قال لقد علمت ما انزل ھولاء الا رب السموات والارض بصائر وانی لاظنک یفرعون مثبورا (الاسراء : 101 ‘ 102) ” اور اے پیغمبر اسلام ! ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو آشکارا نشانیاں دی تھیں جب وہ بنی اسرائیل میں ظاہر ہوا تھا تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلے کہ فرعون نے اس سے کہا تھا اے موسیٰ ! میں خیال کرتا ہوں ضرور تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تو یقین جان چکا ہے کہ یہ نشانیاں مجھ پر کسی اور نے نہیں اتاریں مگر اس نے جو آسمان و زمین کا پروردگار ہی اور سمجھنے بوجھنے کی روشنی ہے اور اے فرعون ! میں تو سمجھت اہوں تو نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ “ اور طٰہ ‘ النحل ‘ الزخرف اور النازعات میں شمار بتائے بغیر صرف (آیات) کہہ کر ذکر کیا گیا ہے پھر کسی جگہ (آیات بینات) اور کہیں (آیات مفصلات) اور کہیں (الایتہ الکبریٰ ) اور کہیں صرف (ایاتنا) سے تعبیر کیا ہے اور ان تفصیلی اور اجمالی تعبیرات کے علاوہ مسطورہ بالاتمام سورتوں میں علیحدہ علیحدہ نشانات کا بھی ذکر موجود ہی اور اگر ان سب کو یکجا کیا جائے تو حسب ذیل فہرست مرتب کی جاسکتی ہے۔
(1) عصاء ۔ (2) ید بیضاء (3) سنین (4) نقص ثمرات (5) طوفان (6) جراد۔ (7) قمل (8) صفادع (9) دم (10) فلق بحر (11) من وسلویٰ (12) غمام (13) انفجار عیون (14) نتق جبل (15) نزول تورات۔
مختلف تعبیرات و تفصیلات کی بناء پر مفسرین کو حیرانی ہے کہ کونسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے تسع آیات تعیین بھی ہوجائے اور باقی آیات اللہ کی تفصیل بھی صحیح اسلوب پر باقی رہ جائے ۔ چناچہ قاضی بیضاوی اور بعض دوسرے مفسرین نے یہ تشریح فرمائی ہے کہ سورة الاسراء میں جن (تسع آیات) کا تذکرہ ہے ان سے وہ نشان مراد نہیں جو فرعون اور قوم فرعون کے مقابلہ میں بطور سرزنش عزاب اور عبرت کے لئے بھیجے گئے بلکہ اس سے وہ احکام مراد ہیں جو بنی اسرائیل کو قلزم عبور کرلینے کے بعد دیئے گئے تھے اور اپنی اس تشریح کی تائید میں حضرت صفان بن عسال کی حدیث پیش کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک مرتبہ دو یہودیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ نبی ﷺ کے دعویٰ نبوت کا امتحان لیا جائے اور مشورہ کے بعد آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جو (تسمع آیات) دی تھیں ان کی وضاحت کیجئے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ احکام یہ ہیں کہ :
(1) شرک نہ کرنا ۔ (2) زنا نہ کرنا۔ (3) ناحق کسی کو قتل نہ کرنا۔ (4) چوری نہ کرنا۔ (5) جادو نہ کرنا۔ (6) حکام کے ذریعہ جرم سے پاک انسان کو قتل نہ کرنا۔ (7) سود نہ کھانا۔ (8) پاک دامن کو تہمت نہ لگانا۔ (9) میدان جنگ سے نہ بھاگنا۔ تاہم نویں حکم میں راوی کو شک ہوگیا کہ وہ کیا ہے ؟ (10) اے یہود ! سبت کے دن کی خلاف ورزی نہ کرنا ۔ (ترمذی کتاب التفسیر ج 2 ص 159)
مگر ان مفسرین کی یہ تشریح اس لئے صحیح نہیں کہ اسراء میں (تسع آیات) کے ذکر کے ساتھ فرعون اور حضرت موسیٰ کا مقابلہ بھی درج ہے۔ فرعون ان آیات کو دیکھ کر کہتا ہے کہ اے موسیٰ یہ سب جادو کا دھندا ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں اے فرعون ! یہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ہیں اور تو ان کا انکار کر کے ہلاکت میں پڑ رہا ہے پس اس جگہ احکام مراد لینا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا نزول خود ان مفسرین کے نزدیک بھی غرق فرعون کے بعد ہوا ہے پھر یہی اشکال ترمذی کی اس حدیث پر بھی وارد ہوتا ہے۔ نیز یہ بات بھی خدشہ سے خالی نہیں کہ قرآن کریم کی آیات زیر بحث میں جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے نو آیات کا ذکر ہے اور صفوان کی حدیث میں دس احکام شمار کرائے ہیں۔ تو یہ گنتی کا تعارض ہے اور پھر احکام عشر کو (تسع آیات) کی تشریح بتانا کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟ ان ہر دو اہم خدشات کے علاوہ اس قول اور حدیث صفوان کی تشریح پر جو سخت اشکال لازم آتا ہے وہ یہ ہے کہ سورة النحل میں (یسع آیات) کا ذکر کرتے ہوئے (ید بیضا) کو نو میں کا ایک بتایا گیا ہے اور یہ بھی صراحت کی گئی ہے کہ یہ آیات فرعون اور قوم فرعون کی عبرت و بصیرت کے لئے بھیجی گئی تھیں۔ ملاحظہ ہو غزوہ الوثقیٰ جلد ششم سورة النحل کی آیات 12 ‘ 13۔ یہ بحث مفصل ملاحظہ کرنا چاہتے ہوں تو تفسیر ابن کثیر ج 6 ص 112 ملاحظہ کریں۔
مختصر یہ کہ قرآن کریم کی اس صراحت کے بعد نہ حدیث نکارت سے خالی رہ جاتی ہی اور نہ ہی مفسرین کا یہ قول صحیح ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہ تشریح قطعاً مخدوش و مجروح ہے اور بعض مفسرین نے اس کے خلاف (تسع آیات) کی تعیین میں ان ہی آیات کو شمار کرایا ہے جو عبرت و بصیرت اور مخالفین کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کے لئے عطا کئے گئے تھے لیکن یہ اقوال مختلف ہیں اور ان میں کافی انتشار موجود ہے اس لئے کہ ان میں قبل عبور اور بعد عبور نشانات کو خلط کردیا گیا ہے البتہ ان سب اقوال میں قابل ترجیح حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول ہے کہ تسع آیات سے مراد حسب ذیل آیات اللہ ہیں۔ (1) عصا (2) ید بیضاء (3) سنین (4) نقص ثمرات (5) طوفان (6) جراد (7) قمل (8) صفادع اور (9) دم اور حضرت ابن عباس ؓ کے علاوہ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ شعبی اور قتادہ ؓ بھی اس کی تائید فرماتے ہیں۔ عبداللہ بن عباس ؓ کی اس تشریح کا ماحاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جس قدر بھی آیات عطا کی گئیں ایک حصہ بحر قلزم کے عبور سے قبل اور دوسرا حصہ عبور کے بعد سے متعلق ہے اور پہلے حصہ کا تعلق ان تمام واقعات سے ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان پیش آئے اور معرکہ حق و باطل کا باعث بنے اور یہ نوہین ان میں سے عصا اور ید بیضا آیات کبریٰ ہیں اور دونوں قسم کے نشانات کے بعد حد فاصل وہ عظیم الشان نشان ہے جو فلق بحر کے عنوان سے (معنون ) ہے جو ظلم و قہر کی ہلاکت اور مظلومانہ زندگی کی نصرت و حمایت کے لئے ایک فیصلہ کن نشان تھا۔ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ” فرعون اور اس کے اعوان و انصار نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا “ اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہی نشانیاں ہوسکتی ہیں جو فرعون کی ہلاکت سے قبل موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھیں فرمایا آخر کار ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قوت والا پکڑتا ہے یعنی بحر قلزم میں غرق کر کے رکھ دیا۔
Ayah 54:44کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ایک بہت بڑی بھاری جماعت ہے ، بچاؤ کرلیں گے
44 ؎ یہ زعم ان کا سراسر باطل ہے آپ نوح (علیہ السلام) سے شروع کر کے عیسیٰ (علیہ السلام) تک ایک ایک نبی و رسول کا ذکر اور ان کی قوم کی داستانیں پڑھیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اس دنیا میں جن قوموں کو بھی عذاب دیا گیا وہ اپنے وقت کی بہت بڑی قومیں تھیں اور جس جس علاقہ میں بھی وہ تھیں اس اس علاقہ میں ان ہی کا سکہ چلتا تھا اور ان کے نام کی بہت شہرت تھی اور دنیوی طور پر بھی ان کے پاس بہت سروسامان تھے اور قریش مکہ کا مقابلہ ان گزشتہ اقوام سے کیا جائے تو یہ ان کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں اس لئے ان کو جو اپنی جمعیت پر ناز ہے اس کی کوئی حقیقت اور اصلیت نہیں ہے اس لئے جو یہ بڑھک رہے ہیں اس کا پول عنقریب کھل جائے گا ۔ غور کریں کہ وہ لوگ جو اس وقت اپنے آپ کو (جمیع منتصر) سب بدلہ لینے والے یعنی مضبوط و طاقتور سمجھتے تھے چند ہی سالوں کے بعد ان کے مضبوط جتھے کا سارا بھرم کھل گیا۔
Ayah 54:45عنقریب یہ جماعت شکست کھا جائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے
45 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ سب لوگ جو بزعم خویش اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھتے تھے یہ کون تھے ؟ قریش مکہ۔ انہوں نے کس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو طاقت ور جماعت کہا تھا ؟ پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کے مقابلہ میں۔ قریش مکہ کو کیا کہا گیا ؟ یہ کہ عنقریب تم جو اپنے آپ کو (جمیع منتصر) کہہ رہے ہو جلد ہی شکست کھا جائو گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائو گے۔ یہ کہنا بلاشبہ ایک پیش گوئی تھی جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھا تحدی اور چیلنج سے کہا گیا ہے کہ عنقریب تمہاری اتنی بڑی جماعت جس میں تم کو بہت ناز ہے جلد ہی شکست کھا جائے گی۔ جب یہ بات ان سے کہی گئی ہے اسی وقت وہ اس کی ہنسی اڑا رہے تھے لیکن پھر کیا ہوا ؟ چند ہی سالوں کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے اور ہجرت کے دوسرے ہی سال یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوگئی غور کرو کہ معرکہ بدر کب ہوا ؟ رمصان المبارک 2 ھ میں اور بدر میں جو کچھ اس (نحن جمیع تنصر) کہنے والوں کے ساتھ ہوا وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں بلکہ بعینہ وہی ہوا جو قرآن کریم نے ارشاد فرمایا اور یہ سب پیٹھیں پھیر کر بھاگتے نظر آنے لگے۔
Ayah 54:46ان کے اصل وعدہ کا وقت تو قیامت ہے جو بڑی ہی سخت اور تلخ ہے
46 ؎ یہ دنیا کا معاملہ تھا جہاں مکافات عمل ہوتا ہے لیکن وہ مکمل اور پورا نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا مکمل اور پورا ہونا ممکن ہی نہیں ہے اس کی وضاحت پیچھے کتنے مقامات پر ہم کرچکے ہیں کہ دنیا میں اس کا بدلہ کیوں ممکن نہیں ؟ اس لئے کہ انسان اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ‘ خواہ وہ اچھا ہو یا برا لیکن اس کے بعض اعمال باقی رہ جاتے ہیں اور وہ اس وقت تک اثر انداز ہوتے رہیں گے جب تک یہ نظام دنیا قائم ہے۔ ہمارے آبائو اجداد کتنے ہی ایسے اعمال چھوڑ گئے جو آج تک زندہ وجاوید ہیں اگرچہ ان کو دنیا سے رخصت ہوئے سینکڑوں برس گزر چکے ہیں پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ ان کے اعمال کا بدلہ۔ اس وقت دنیا میں ان کو دیا جاتا اور یہی بات زیر نظر آیت میں تفہیم کرائی جا رہی ہے۔ کہ ان کے اصل وعدہ کی گھڑی تو قیامت ہے اور قیامت کیا ہے ؟ فرمایا وہ بہت بڑی آفت اور بہت ہی زیادہ تلخ ہے (ادھی وامر) دونوں ہی (افعل التفضل) کے صیغے ہیں۔ (ادھیٰ ) کی اصل د ھ ی ہے اور (امر) کی اصل م ر ر ہے۔
Ayah 54:47بلاشبہ گناہگار بڑی غلطی اور پاگل پن میں مبتلا ہیں
47 ؎ مجرم لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ مجرم کون ہیں ھ ؟ وہی جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخالف ہیں یعنی قریش مکہ جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو نہیں مانتے تھے۔ (ضلال) معنی کیا ہیں (ضلال) کے معنوں میں بہت وسعت ہے اس کا مادہ ض ل ل ہے اور (ضلال) کے معنی گمراہی ‘ بھٹکنا ‘ راہ سے دور ہٹ جانا ‘ کھو جانا ‘ ضائع ہوجانا ‘ گم ہوجانا ‘ ہلاک ہوجانا ‘ کسی چیز کی تلاش کرنا ‘ متلاشی ہونا ہے۔ (ضلال) بالفتح ضائع ہونا ‘ گم ہونا اور مغلوب ہونا کیا جاتا ہے۔
(ضل الماء فی اللبن) یعنی پانی اتنا مغلوب ہوا کہ دودھ میں اس کا اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن زیر نظر آیت میں اس کے معنی کھلی گمراہی کے ہیں اور (سعر) کے معنی سودا ‘ جنون اور بےعقلی کے ہیں یعنی یہلوگ جو نبی کریم ﷺ کے مخالف ہیں درحقیقت خود گمراہی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ (سعر) مفرد بھی ہو سکتا ہے جس کے معنی جنون کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے (ناقۃ مسعودۃ) اونٹنی جو اپنی رفتار میں دیوانی ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ (سعیر) کی جمع ہو جس کے معنی نار یعنی آگ کے ہیں اور دونوں احتمال منقول ہیں۔ (الجلالین ج 4 ص 247 طبع مصر 1352 ء)
Ayah 54:48جس دن ان کو اوندھے منہ جہنم میں گھسیٹا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو
48 ؎ (یسحبون) جمع مذکر غائب مضارع مجہول سحب مصدر۔ وہ گھسیٹے جائیں گے۔ سحب گھسیٹنا ‘ بسیار خوری کرنا ‘ بہت پینا ‘ بچھانا ‘ جاری ہونا ‘ اس جگہ گھسیٹے جائیں گے ہی صحیح ترجمہ ہے یعنی جس روز وہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اب جہنم میں جھونکے جانے کا مزہ چکھو۔ (سقر) آگ ‘ دوزخ کے ایک طبقہ کا نام ہے۔ (سقر) کے بارے میں دو اقوال ہیں ایک یہ کہ آتش کا نام (سقر) رکھ دیا گیا ہے اس لفظ کے اشتقاق کا کچھ معلوم نہیں ہے۔ (امام سیوطی رحمتہ اللہ نے الاتقان میں جو الیقی سے نقل کیا ہے کہ یہ عجمی لفظ ہے ج اول ص 138) اور معرفہ اور عجمہ ہونا منصرف ہونے سے مانع ہے اور بعض کا قول ہے کہ دوزخ کو (سقر) اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ جسم و روح کو تحیل کر ڈالتی ہے اور یہ عربی نام ہے۔ اہل عرب کے محاورہ سقرتہ الشمس سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں دھوپ نے اسے تحلیل کردیا اور اسے لولگ گئی اور جو اسے عربی اسم بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کے غیر منصرف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ معرفہ مونث ہے۔ “ (سید مرتضیٰ زبیدی تاج العروس من جواہر القاموس)
(سقر) علمیت اور تانیث کی بناء پر غیر منصرف ہے اس کے وسط کی حرکت زینب کے حرف رابع کے قائم مقام ہے۔ (ابوحیان اندلسی البحرالمحیط ج 8 ص 173) ” چونکہ سقر اصل میں جھلسانے کو کہا جاتا ہے اس لئے یہ فرما کر کہ : (وما ادراک ماسقر لا نبقی ولا تذر لواحۃ للبشر ) اور تو کیا سمجھے کہ کیسی ہے وہ آگ کہ نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑے۔ جلا دینے والی ہے آدمیوں کو۔ واضح کردیا کہ مشاہدہ میں جو تم (سقر) کا احوال جانتے ہو اس سے معاملہ جداگانہ ہے۔ “ (امام راغب اصفہانی مفردات)
Ayah 54:49ہم نے ہر ایک چیز مقرر اندازہ سے بنائی ہے
49 ؎ دنیا کا نظام ایک باقاعدگی کے ساتھ بنایا گیا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ چلایا گیا ہے اور اسی باقاعدگی کے ساتھ چلایا جا رہا ہے اور اس کا بنانے والا اور چلانے والا رب ذوالجلال والاکرام ہے جس نے ہر ایک چیز کے لئے ایک بندھن باندھ دیا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ اس میں عمل تخلیق جاری وساری کیا ہے اور اسی کے مطابق ہرچیز کی تخلیق ہوتی چلی جا رہی ہے۔
انسان اپنی ہی پیدائش پر غور کرلے تو ساری باتیں اس کے سامنے واضح اور روشن ہوجاتی ہیں کہ انسان کیا تھا ؟ منی کی ایک بوند جو خواہشات نفس کی صورت میں ٹپکائی گئی تھی پھر کونسے اطوار میں وہ گزرتی ہوئی کیا سے کیا بنتی چلی گئی اور کوئی زیادہ مدت نہ صرف ہوئی کہ ایک اچھا بھلا انسان کا بچہ اس کے سامنے پیش کردیا جس کو دیکھ کر وہ بےساختہ پکار اٹھتا ہے کہ : (فتبارک اللہ احسن الخالقین)
Ayah 54:50ہمارا حکم تو یکبارگی ایسا ہوجائے گا جیسا آنکھ کا جھپکنا
50 ؎ (کلمع بالبصر) محاورہ ہے جس کے معنی ہیں کہ کسی کام کا بہت جلد ہوجانا۔ پلک جھپکنے میں بعنی بہت جلد ذرا سی دیر میں۔ فوراً سے پہلے۔ فٹا فٹ اور ایک چٹکی میں۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کا آنا لازم و ضروری ہے اور اس کو آنے میں ذرا بھی دیر نہیں لے گی اور چشم زون میں اس کی تعمیل ہوجائے گی کہ ادھر ہمارا حکم ہوا اور ادھر نظام درہم برہم ہونا سروع ہوگیا اگر آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہوں تو ایک تسبیح کو ہاتھ میں پکڑ کر درمیان سے اس کا دھاگہ کاٹ دیں اور دیکھیں کہ تسبیح غائب ہونے میں آخر کتنا وقت لگا ہے ؟ بس اسی سے اندازہ کرلیں کہ اس دنیا کا سارا نظام ختم ہونے میں کتنی دیر لگے گی اور اسی پر (لمح) کا لفظ بولا جاتا ہے اور ” لمحہ بھر “ اردو زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کوند ‘ بجلی کی چمک ‘ پلک جھپکنے کا وقفہ ‘ چشم زدن ‘ ثانیہ ‘ پل بھر ‘ ذرا سی دیر میں ‘ بہت جلد۔
Ayah 54:51ہم تمہارے ہم مشربوں کو قبل ازیں ہلاک کرچکے ہیں ‘ ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ؟
51 ؎ (اشیاعکم) تمہارے ساتھ والے۔ تمہارے طریقے والے اشیاع شعۃ کی جمع ہے جس کے معنی متبعین اور انصار کے ہیں۔ اشیاع مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر ‘ مضاف الیہ۔ کتنی جماعتیں اور کتنے گروہ ایسے تھے جیسے کہ تم ہو اور ہم نے ان کو جب ان کے متنے کا وقت آیا تو مٹا کر رکھ دیا کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہوا جو اپنے سے پہلے گزرنے والوں سے عبرت حاصل کرتا اور نصیحت قبول کرتا کہ جب دوسری قوموں کے ساتھ ایسا ہو گزرا تو ہم آخر کون ہیں کہ اگر وہی کچھ کریں جو پہلے کرتے رہے لیکن اس کے باوجود ہم ان حالات سے دوچار نہ ہوں جن سے وہ دوچار ہوچکے۔
Ayah 54:52جو کچھ انہوں نے کیا ان کے نامہ ٔ اعمال میں درج ہے
52 ؎ گزشتہ قوموں کے لوگوں نے جو کچھ کیا وہ سب کا سب ان کے نامہ اعمال میں محفوظ ہے اور ان کے اعمال کا عوض جو اعمال ان کے مرنے کے عبد بھی جاری وساری رہے ان کا عوض بھی ان کے نامہ اعمال میں محفوظ ہوتا چلا جا رہا ہے اور کوئی چیز بھی اس سے کم نہیں ہوگی۔ (الزبر) کتابیں۔ اس جگہ مراد ہیں اس سے وہ اعمال نامہ ہے جس میں انسان کا سارا کیا ہوا محفوظ رکھا جاتا ہے اور زبر جمع ہے زبور کی۔ لیکن زیر نظر آیت میں اعمال نامہ ہی کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جو چیز بھی ایک دفعہ پیدا ہوجاتی ہے پھر وہ اللہ کے حکم کے سوا فنا نہیں ہوتی اس طرح افعال و اعمال بھی جو انسان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ فنا نہیں ہوتے۔ موجودہ سائنس جس نے یہ اصول تسلیم کرلیا ہے کہ دنیا میں کوئی حرکت بھی پیدا ہو کر فنا نہیں ہوتی یہاں تک کہ فضا میں ہر آواز اور ہر صدا بھی جو کبھی بلند ہوئی ہے آج موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ہم اس کو پکڑ پائیں تو یقیناً سن سکتے ہیں بلکہ اس سے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یقینا اس کو پکڑا جائے گا۔ وہ اعمال و افعال کے دوام وجود سے اسلامی عقیدہ کو قبول کرنے میں پس و پیش نہیں کرسکتی۔ دنیا کے ریکارڈ میں انسان کا ہر عمل و فعل ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوچکا ہے۔ قرآن کریم نے اس اصول کو بار بار پیش کیا ہے۔
چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
(1) (یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضرا و ما عملت من سوء ) (آل عمران : 30) ” اور اس دن جس دن ہر انسان دیکھے گا کہ جو کچھ اس نے دنیا میں نیک عمل یا تھا وہ اس کے سامنے موجود ہے اور جو کچھ اس نے برائی کی تھی وہ بھی اس کے سامنے ہے “۔ ایک اور جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
(2) ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت) (یونس : 30) ” پس اس دن ہر آدمی جانچ لے گا کہ جو کچھ وہ پہلے کرچکا ہے اس کی حقیقت کیا تھی “۔
ایک اور جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
(3) (کل امری بما کسبت رھین) (انفور : 21) ” ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے “۔
ایک اور جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
(4) کل نفس بما کسبت رھینۃ) (المدثر : 38) ” ہر نفس اپنے کسب کے بدلے رہن ہے “۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
(5) (فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا برہ و من یعمل مثقال ذرۃ شرا برہ) (الزلزال 99 : 7 ‘ 8) ” پھر جس نے ذرا برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرا برابر برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا “۔
اور ہم اس کی وضاحت غزوہ الوثقیٰ جلد چہارم سورة یونس آیت 30 ‘ جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 13 ‘ سورة الکھف کی آیت 49 جلد ششم سورة الزخرف آیت 80 اور اوپر محولہ آیات میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 54:53ہر چھوٹی اور بڑی بات لکھی ہوئی ہے
53 ؎ (مستطر) اسم مفعول واحد مذکر استطار مصدر باب افعال سطر لکھا ہوا سطر اور سطر ایک لائن خواہ وہ تحریر کی ہو یا درختوں کی یا آدمیوں کی اسطر اور سطور اور اسطار جمع میں ہر چھوٹی بات ہو یا بڑی بات بہرحال وہ لکھی ہوئی ہے یعنی انسان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور محفوظ رہے گی کیونکہ اس بات کی ذمہ داری اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ہے جس نے یہ سارا نظام قائم کیا ہے اور نہ صرف یہ کہ قائم کیا ہے بلکہ اس کو چلا بھی رہا ہے اور کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اپنے کامل اور مکمل علم ہی کی بناء پر اس نے اس بات کا اعلان کیا ہے اور آج تک سائنس نے جو مشاہدات پیش کئے ہیں وہ اس کی زندہ وجاوید شہادت ہیں اور جو کچھ سائنس پیش کرے گی وہ اس سے باہر ممکن نہیں وہ یہی کچھ پیش کرے گی جس کی پیش گوئی قران کریم نے نہایت واضح اور صاف الفاظ میں کردی ہے۔ اس وقت تک جو ایجادات ہوچکی ہیں وہ سب کی سب اسی انسان صغیر کے اندر موجود ہیں۔ ذرا خیالات کی دنیا میں ایک غوطہ لگائو جب تم پانچ چھ برس کے تھے اور جو جو چکھ تم نے کیا تھا ذرا ذہن پر بار ڈالو سارا نہیں تو اس میں سے کچھ نہ کچھ تم کو یاد آئے گا اور اسی یاد سے تم پڑھ کر بتائو گے جو کچھ بھی بتائو گے اس وقت تم 65 ‘ 70 سال کے ہو اور آج 60 ‘ 65 سال کی پہلی باتیں ساری نہیں تو کچھ نہ کچھ تم کو یاد ہوں گی اور پھر یہی تمہارا وہ پڑھنا ہے اور وہی تحریر خداوندی ہے جس سے تم پڑھ رہے ہو اور بتا رہے ہو اب بھی اگر تم عالم کبیر میں ہر ایک انسان کا لیا ہوا سانس بھی مہفوظ نہ سمجھو تو تم کو اللہ ہی سمجھائے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ کر رکھا ہے اس کو کوئی محو نہیں کرسکتا۔
Ayah 54:54پرہیزگار وہاں باغات میں ہوں گے اور نہروں میں ہوں گے
54 ؎ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کے محفوظ ہونے کے بعد بتایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں نے اچھے اعمال کئے ہوں گے ظاہر ہے کہ ان کا رزلٹ بھی اچھا ہی ہوگا اور اچھے اعمال کرنے والوں ہی کو متقی اور پرہیزگار بھی کہا جاتا ہے اس لئے ان کو جو جزا دی جائے گی وہ بھی اچھی ہوگی اور اچھی جزا کو باغات اور نہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ میٹھے پانی کی فراوانی اور پھل دار درختوں کی کثرت گویا کھانے پینے اور چلنے پھرنے کے لئے اچھی جگہ اور اچھی خوراک و لباس کا مہیا ہوجانا ‘ اچھی جزا کا حاصل ہوجانا ہے اور قرآن کریم نے انہی چیزوں کا ذکر زیادہ تر کیا ہے۔ لباس ‘ رہائش اور خوراک اور ازدواجی زندگی کی خوبیاں اور رعنائیاں میسر آجائیں تو کون ہے جو محظوظ نہ ہوگا اور خصوصاً جو کچھ انسان کی چاہت ہوگی اس کے میسر آجانے کو بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی آخروی زندگی کو بنانے اور سنوارنے میں جو کچھ کرسکتا ہے کرے۔
Ayah 54:55وہ ایک اعلیٰ مقام میں صاحب اقتدار بادشاہ کے قریب ہوں گے
55 ؎ (ملیک) صیغہ صفت برائے مبالغہ مادہ م ل ک بہت بڑا بادشاہ۔ (مقتدر) اسم فاعل واحد مذکر مجرور (اقتدار) مصدر باب اقتال ہر طرح کی قدرت والا اور دونوں اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی صفتیں ہیں۔ (مقعد) ظرف مکان کا مفرد مقاعد جمع قعدۃ اور قعود مصدر بیٹھنے کی جگہ۔ (صدق) راستی ‘ سچائی ‘ نیک نام ‘ ثناء ‘ سچی بات (صدق) یصدق کا مصدر ہے اس کے معنی لغت میں سچ کہنے اور سچ کر دکھانے کے ہیں اور چونکہ یہ ذکر خیر کا سبب ہے اسلئے مجازاً نام نیک ‘ ثنا اور ذکر خیر کے معنی میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔
(صدق) اور (کذب) اصل میں تو یہ دونوں قول ہیں خواء وہ ماضی ہو یا مستقبل ‘ وعدہ یو ہا غیر وعدہ اور مراد اولیٰ میں یہ دونوں قول کے علاوہ اور کسی کے لئے نہیں آتے اور قول میں بھی صرف خبر ہی میں ہوتے ہیں اس کے سوا اور اصناف کلام میں نہیں ہوتے اس لئے ارشاد ہے (ومن اصدق من اللہ قبیلا) اور اللہ تعالیٰ سے سچی کسی کی بات ہو سکتی ہے اور (انہ کان صادق الوعد) وہ وعدہ کا سچا تھا۔ ہاں ! بالفرض ضمنی طور پر دیگر انواع کلام مثلاً استفہام امرا اور دعا کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ (امام راغب) پیچھے متقین کا ذکر خیر تھا کہ وہ جنت میں ہوں گے اور نہروں میں اور اس انعام کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو عظیم قدرت والے بادشاہ کے قرب میں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قربہی دراصل اس جنت کو جنت بناتا ہے کیونکہ یہ وہ چیز ہے جو دنیا میں کسی کو مثال کے طور پر بھی میسر نہیں آئی نہ نام کے لحاظ سے اور نہ کام کے لحاظ سے باقی جنت میں جو کچھ ملنے والا ہے وہ حقیقت میں نہ سہی لیکن بطور نام تو دنیا میں بھی معروف چیزوں ہی کا ناملیا جاتا ہے کہ جو کچھ جنت میں ملنے والا ہے وہ وہی ہے یعنی باغات ہیں اور باغات ہر وہ چیز ہے جو پھل اور میوہ ہوتی ہے سب کا ذکر کرتے چلے جائو نام کے لحاظ سے وہ معروف ہوں گے ‘ لباس کا نام آئی گا تو بہترکپڑوں کا تخیل کرتے جائو ‘ خیال میں بہرحال کچھ نہ کچھ اس کا نقشہ آتا ہی جائے گا لیکن ملاقات خداوندی کا کوئی تصور ذہن انسانی میں نہیں آسکتا اور اگر کوئی تصور قائم بھی کرے تو وہ چونکہ مثل ہوگا اس لئے گناہ ہی ہوگا کیونکہ اس کی مثال کوئی چیز نہیں۔ اس لئے اس حقیقت کے لئے یہ الفاظ اختیار کئے گئے کہ (مقصد صدق) وہ نہایت پسندیدہ جگہ میں جو نہایت عزت اور شان والی جگہ ہوگی بڑے ذی اقتدار بادشاہ رب ذوالجلال والاکرام کے قریب ہی بیٹھیں گے ظاہر ہے کہ وہ بہت بلند مرتبہ پر ٹھہرائے جائیں گے۔
الحمد للہ کہ انہی الفاظ پر سورة القمر کی تفسیر ختم ہو رہی ہے۔ رب یسر ولا تعسر و تمم بالخیر۔
عبدالکریم اثری
12 مارچ 1988 ء