49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بیشتر بدگمانیوں سے بچتے رہو بلاشبہ بعض بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں اور کسی کے کھوج میں نہ لگے رہا کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو ، تم میں سے کسی کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ سو اسکو تو تم بہت ناگوار سمجھتے ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو بلاشبہ اللہ معاف کرنے والا پیار کرنے والا ہے

اے ایمان والو ! بدگمانیوں سے باز رہو لاریب بعض بدگمانیاں بڑا گناہ ہیں 12 ۔ ایمان والوں کو مخاطب کرکے مزید ہدایات دی جارہی ہیں اور فرمایا جارہاے کہ ایمان والو بدگمانیوں سے بچو۔ اب معلوم کرنا ہے کہ بدگمانی کیا ہے ؟ بدگمانی ایک قسم کا جھوٹا وہم ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو ہر ایک کے کام میں بدنیتی معلوم ہوتی ہے اور کسی کے کام میں اس کو حسن نیت نظر نہیں آتا دوسروں کی طرف ان ہوئی باتیں منسوب کرنے لگتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کا خیال ہوتا ہے اور وہ بھی اس سے کترانے لگتے ہیں اس سے آپس میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس سے باز رہنے کی تاکید کی ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں بیان کیا ہے کہ ” اے مسلمانو ! بدگمانی سے بچا کرو بلاشبہ بعض بدگمانی بہت بڑا گنا ہے “ نبی اعظم وآخر ﷺ نے جب بدگمانی سے بچنے کی تاکید کی تو اس کے ساتھ بغض و حسد اور دوسرے معاملات کے تجسس و تلاش کی بھی ممانعت فرمائی کیونکہ وہ بدگمانی کے اسباب یا لازمی نتائج ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ” تم بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ، تم دوسروں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور نہ ایک دوسرے سے بڑھنے کی بےجا ہوس کرو اور آپس میں حسد نہ رکھو اور نہ بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو اور اے اللہ کے بندو ! جیسا اللہ نے فرمایا ہے آپس میں بھائی بھائی ہوجائو “ (صحیح بخاری و مسلم ، ابودائود ، ترمذی ، مالک باب تحریم الظن) یہ بھی مناسب ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا کام کررہا ہو یا کسی ایسی حالت میں ہو جس سے دوسروں کو بدگمانی کا موقع ہو تو وہ اس بدگمانی کو دور کردے تاکہ دوسرا فتنہ میں نہ پڑے اس کی مثال خود نبی اعظم و آخر ﷺ نے پیش فرمائی ہے ایک دفعہ آپ ﷺ اعتکاف میں بیٹھے تھے رات کو ازواج مطہرات ؓ میں سے کوئی آپ سے بات کرنے آئیں آپ ﷺ واپسی پہ ان کے ساتھ گھر تک چلے گئے کہ کہ اتفاقاً راستہ میں دو انصارف آگئے وہ آپ ﷺ کو کسی عورت کے ساتھ دیکھ کر اپنے آپ کو بےموقع سمجھے اور واپس بھرنے لگے آپ ﷺ نے فوراً آواز دی اور فرمایا یہ میری فلاں بیوی ہے انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ اگر مجھے کسی کے ساتھ بدگمانی بھی کرنا ہوتی تو کیا آپ ﷺ کے ساتھ کرتا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندے ! شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑ جاتا ہے۔ “ (صحیح مسلم باب انہ یستحب لمن روی خالیا بامراۃ یقول ھذہ فلانۃ) جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات سے تین روز قبل فرمایا تھا کہ : ( لایموتن احد کم الا وھو یحسن الظن باللہ عزوجل) ” تم میں سے کوئی نہ مرے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ رب کریم کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو “ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا : (یقول اللہ انا عندالظن عبدی بی فلیطن ماشاء ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں اپنے بندوں کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جس کا وہ مجھ سے ظن رکھتا ہے۔ اب اس کی مرضی کہ جیسا چاہے میرے ساتھ ظن رکھے ۔ زیر نظر آیت میں دوسرا حکم یہ ہے کہ (فلاتجسسوا) تم جاسوسی نہ کیا کرو ، تم ایک دوسرے کا کھوج نہ لگایا کرو۔ فعل نہی ہے اور مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر اس کا مادہ ج س سس ہے اور تجسس جس سے ماخوذ ہے جس کے اصل معنی صحت یا مرض کو معلوم کرنے کے ہیں جس بنسبت حس کے خاص ہے کیونکہ حس کے معنی ہیں ہم نے اس چیز کو پہچانا جو بذریعہ حس معلوم ہوسکے اور جس کے معنی ہیں ایک خاص حالت کا پتہ چلانا۔ اللہ تعالیٰ نے کس وضاحت کے ساتھ حکم دیا ہے کہ اے مسلمانو ! ایک دوسرے کے راز نہ ٹٹولو ، ایک دوسرے کے عیب نہ تلاش کرو ، دوسروں کے نجی معاملات و حالات کی ٹوہ نہ لگاتے پھرو۔ حکم عام ہے اور کسی حالت میں بھی مسلمانوں کے اندرونی معاملات کی ٹوہ لگانا ایک بہت بڑا عیب ہے۔ یہ حرکت بدگمانی کی بنا پر کی جائے تو بری ہے ، بدینی سے کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جائے تو بری ہے اور اگر محض اپنا استعجاب دور کرنے کے لیے کی جائے تو بھی بری ہے مسلمانوں کے مابین اس کا استعمال کسی حال میں بھی جائز اور درست نہیں ہے۔ ہاں ! انسان اپنے بارے میں تجسس کرے اور اپنی ٹوہ لگائے ، اپنے نفس کا استعجاب ، اپنی ذات کے بارے میں کرے تو یہ یک خوبی کی بات ہے اگر اللہ توفیق دے تو ایسا کرے لیکن ایسا کوئی شخص کم ہی کرے گا بلکہ اکثر ہوتا وہی ہے جس سے منع کیا گیا ہے اور بدقسمتی سے آج یہ بیماری اتنی عام ہے کہ ہر آدمی دوسرے کی ٹوہ میں ہے یہاں تک کہ ماں بیٹی کی ٹوہ میں اور بیٹی ماں کی ٹوہ میں ، بہو ساس کی ٹوہ میں اور اس بہو کی ٹوہ میں ، بھائی بھائی کی ٹوہ میں مختصر یہ کہ ہر ایک دوسرے کی ٹوہ میں مصروف ہے اور پھر کوئی نہیں جو اس ٹوہ کو برا کہے ، برا جانے ، برا سمجھے جن باتوں کے متعلق منع کیا گیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ منع نہیں بلکہ ان کے کرنے کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے اور جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہم کو منع کیا گیا ہے کہ ان کے قریب بھی نہ جائیں بدقسمتی سے ہمارا معاملہ بالکل ہی الٹ ہوگیا ہے حکومت کے ایوانوں سے لے کر مسجد و منبر تک سارا معاملہ ہی گڑ بڑ ہے حکومت جس کے کرنے کا اعلان کرتی ہے اس کے بالکل برعکس لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت یہ بلکل نہیں کرے گی اور حکومت جس کی نفی کرتی ہے کہ ہم لوگ یہ نہیں ہونے دیں گے بالکل وہی ہوتا ہے اور عوام سمجھتے ہیں کہ حکومت انہیں کاموں کو کرنا چاہتی ہے مثلاً آپ آٹھ دس سال کے دور کا تجزیہ کرکے دیکھیں کہ حکومت نے اعلان کیا کہ ہم مساوات قائم کریں گے اور بنیادی ضروریات سب کی یکساں پوری ہوں گی نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے لوگوں کی بنیادی ضروریات اور چھوٹے لوگوں کی بنیادی ضروریات میں زمین و آسمان کا فرق ہوگیا اور یہ فرق اتنا واضح اتنا صاف اور نمایاں ہے کہ آج کسی کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہا بنیادی ضروریات روٹی ، کپڑا اور مکان تسلیم کیا گیا ہے بڑوں کی میزوں پر ایک وقت میں بلا مبالغہ بیسیوں کھانے چنے جاتے ہیں اور چھوٹوں کو صحت مند آٹے کی روٹی بھی میسر نہیں۔ بڑوں کے کپڑے ملک سے باہر کا کپڑا ، باہر کی سلائی ، باہر کی دھلائی اور باہر کے طریقوں کے مطابق زیب تن ہوتے ہیں اور عوام کا سارا انحصار لنڈے بازار پر ہے بڑوں کے پاس اپنے ملک کے سارے بڑے بڑے شہروں میں بڑی بڑی کو ٹھیاں موجود ہیں ، پشاور سے کراچی تک محلات ہی محلات ہیں جن میں الو بولتے ہیں اور ایک ہو کا عالم ہے تہ خانے ہیں اور بالا خانے ہیں اور غریبوں کے پاس ایک مربع مٹر فی کس جگہ بھی موجود نہیں کہ رات کو آرام کے ساتھ سر چھپالیں اور یہی حال باقی ضروریات زندگی کا ہے گویا جس چیز کو عام کرنا تھا اسی کو عنقا کردیا گیا ہے اور امن عامہ کو بحال کرنا تھا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کا امن تو بحال نہ ہوسکا لیکن امرا کا اپنا امن بی بحال نہ رہا اور اب کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ کس وقت کیا ہونا ہے۔ شاید آپ کہیں گے کہ جس تجسس سے روکا گیا ہے وہی تجسس ہم نے کرنا شروع کردیا ہے گویا ہم بھی اسی گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں جس کے سا رے لوگ مرتکب ہیں ؟ جو باتیں ہم نے بیان کی ہیں ان میں سے کون سی بات ہے جس کو تجسس اور ٹوہ کے نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے ؟ کیا حقیقت کو بیان کرنا جس کو بچے سے لے کر بوڑھے تک سب دیکھ رہے ہیں اور سب جانتے ہیں اس کا نام تجسس ہے ؟ تجسس اور ٹوہ تو اس کی کی جاتی ہے جس کو کوئی عام صورتحال میں جانتا ہی نہ ہو۔ جس پھل کی آپ بات کرتے ہیں وہ پھل تو بازاروں میں عام پڑا ہے بلکہ گھر گھر دروازے پر جاکر دینے والے دے رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ اس پھل کی ہم ٹوہ لگا رہے ہیں کہ کہاں سے ملتا ہے ؟ میرے بھائی ٹوہ تو اس کی لگائی جاتی ہے جو بظاہر کہیں نظر نہ آئے اور اس کے لیے کھوج لگانا پڑے کہ وہ کہاں سے اور کیسے ملے گا ؟ میرے بھائی ! یہ تجسس اور ٹوہ نہیں بلکہ یہ تو تجسس کرنے والوں پر نوحہ خوانی ہے اور ماتم ہے اور آہ وفغاں ہے واویلا ہے اور تجسس کرنے والے ہمارے تجسس میں ہیں کہ کہیں مل جائے تو اس کا دایاں بازو کاٹ کر رکھ دیں تاکہ مزید کچھ لکھ نہ سکے اور زبان اس کی کھینچ دیں تاکہ وہ کچھ بول نہ سکے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو تجسس اور ٹوہ سے بچائے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے عیب ہی تلاش نہ کرتے رہیں بلکہ وہ بات کہیں جوہر جگہ عام دیکھنے میں آرہی ہے اور وہ اتنی عام ہے کہ جس کے سر میں دماغ ہے اور آنکھوں میں بینائی وہ اس کو ہر جگہ ، ہر فرد ، ہر جماعت ، ہر گوہ یہاں تک کہ وہ سارے رہنمائوں ، لیڈروں ، حکمرانوں ، پیروں ، بزرگوں اور مرشدوں میں عام تام پائی جاتی ہے حالانکہ اس کو عام لوگوں میں بھی پایا نہیں جانا چاہیے تھا کیونکہ یہ کوئی خوبی کی بات نہیں ہے عیب کی بات ہے اور پھر عیب کو اگر کوئی چھپ کر کر رہا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی جانتا ہی نہ ہو اور اتفاقاً کسی کی نظر پڑجائے تو اس پر پردہ ڈال دینا عیب پر پردہ ڈال دینا کہلاتا ہے چلو اس کو برداشت کرلینا چاہیے یا کہنا ہے تو صرف اسی کو کہنا چاہیے لیکن اگر عیب سربازار ہو اور سارے لوگ کھلے بندوں کر رہے ہوں تو اس کو دیکھ کر اگر کوئی واویلا شروع کردے تو اس کو تجسس سے تعبیر نہیں کیا جائے گا بلکہ اس پر خاموش رہنا گونگا شیطان کہلانا ہوگا اللہ ہمیں سمجھ کی توفیق فرمائے اور اس عیب کو عیب سمجھنے کی توفیق دے اور اگر ہم میں بھی پایا جاتا ہے تو اس سے باز رہنے میں ہماری رہنمائی فرمائے سامعین اور قارئین کو بھی اس پر آمین ہی کہنا چاہیے کہ اے اللہ ! ہماری اس دعا کو قبول فرما۔ تجسس کی ممانعت میں ایک روایت ہمارے سید مودودی (رح) نے اپنی تفسیر ج 5 کے ص 89 پر نقل کی ہے جس کی ضمن میں تبصرہ کرتے ہوئے مرحوم نے فرمایا ہے کہ ” شریعت نے نہی عن المنکر کا جو فریضہ حکومت کے سپرد کیا ہے اس کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ جاسوسی کا ایک نظم قائم کرکے لوگوں کی چھپی برائیاں ڈھونڈ کر نکالے اور ان پر سزا دے بلکہ اسے صرف ان برائیوں کے خلاف طاقت استعمال کرنی چاہیے جو ظاہر ہوجائیں رہی مخفی خرابیاں تو ان کی اصلاح کا راستہ جاسوسی نہیں بلکہ تلقین ، وعظ اور عوام کی اجتماعی تربیت ہے “ اور جس روایت سے استد لال کرکے یہ فرمایا ہے وہ روایت محض روایت ہی ہے اگر اس کو صحیح سمجھ کر سید صاحب (رح) کی بتائی ہوئی بات اور اس کے نتیجہ کو صحیح مان لیا جائے تو نہ صرف دین اسلام کی پوری عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر سیدنا عمر فاروق ؓ کے کردار پر بھی حرف آتا ہے اور ان کی تفہیم بھی سطحی اور عوامی تفہیم کہی جاسکتی ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ دین کے معاملہ میں جتنی نظر عمر فاروق ؓ کی عمیق اور گہری ہے دوسرے لوگوں میں اس کی مثال نہیں دی جاسکتی اگر روایت صحیح ہے تو اس کے مطالب درست ہوسکتے ہیں جو عین کتاب و سنت کے موافق ہیں ورنہ سید صاحب (رح) کا مطلب شریعت اسلامی کے قانون کے بالکل منافی ہے سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ موصوف نے اس سے جو نتیجہ نکالا ہے اس سے آپ کیسے مطمئن ہوئے اور اس سے کیا بات آپ نے ثابت کی ؟ زیر نظر آیت میں تیسرا حکم غیبت سے بچنے کا ہے اس لیے سمجھ لنیا چاہیے کہ غیبت کیا ہے ؟ قارئین کرام ! آپ میں اور دوسرے سب لوگ انسان ہیں اس لیے ہم اتنی بات تو سمجھتے ہیں کہ انسانی کمزوریاں اور انسانی خوبیاں کیا چیز ہیں پھر ہم سب کو یہ بھی معلوم ہے کہ کچھ کمزوریاں ذاتی ہوتی ہیں جن کا تعلق دوسرے انسانوں کے ساتھ نہیں ہے اور کچھ کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا تعلق پورے معاشرہ کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ تعلق اتنا عام ہوتا ہے کہ دوسروں کے تعلق کے بغیر اس کی کمزوری کا پتہ ہی نہیں چل سکتا بس اس بات سے آپ سمجھ لیں کہ اگر کسی کے ایسے عیب کا ذکر کیا جائے جو اس کی ذات تک محدود ہے دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تو اس کا بیان کرنا اس کی عدم موجودگی میں ہو یا موجودگی میں غیبت کہلائے گا لیکن اگر اس کے عیب کا تعلق دوسرے لوگوں سے ہو یہاں تک کہ دوسروں کے تعلق کے بغیر وہ عیب معلوم ہی نہیں ہوسکتا اور کرنے والے میں یہ عام طور پر پایا جاتا ہے تو اس کو اس غرض سے بیان کرنا تاکہ دوسرے اس کے اس عیب کے شر سے بچ جائیں تو یہ غیب کے ضمن میں نہیں آئے گا یہ بات اچھی طرح ذہن نشین نہ کی جائے تو آدمی غیبت کا مفہوم نہیں سمجھ سکتا اور خود مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں اس لیے غیبت کے مفہوم کے لیے یہ وہ کسوٹی ہ کے جس کو کم ہی لوگ جانتے ہیں کیونکہ غیبت کے مفہوم میں میں نے یہ کہیں نہیں پڑھا کہ کسی نے اس کی ایسی تعریف کی ہو جس سے ہر انسان فوراً سمجھ جائے کہ یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں کیا غیبت کے ضمن میں آتی ہے یا نہیں ؟ لہٰذا وہ بہت سی باتیں کرجاتا ہے جو فی الحقیقت غیبت کے ضمن میں آتی ہیں اور بہت سی ایسی باتیں نہیں کرتا جو غیبت کے ضمن میں نہیں آتیں لیکن اس کے باوجود وہ اس کو غیبت سمجھ کر چھوڑتا ہے یہ جواب ہے اس سوال کا کہ غیبت کیا ہے ؟ اب اس کی وضاحت کریں گے تاکہ بات ذرا مزید واضح ہوجائے فرض کیجئے کہ میرے جسم میں کوئی عیب ہوے جس کو میرے لباس نے چھپا دیا ہے لیکن آپ کی اتفاقی نظر اس کو پا گئی ہے اور آپ اس کو اگر میرے سامنے یا میری عدم موجودگی میں کسی سے ذکر کرتے ہیں تو آخر کیوں ؟ میرے اس عیب سے آپ کو یا کسی دوسرے کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوسکتا ہے اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو آپ کے اس بیان کرنے کو ہم کیا کہیں گے یہی کہ آپ نے غیبت کی خوہ میرے منہ پر کی اور خواہ میری پیٹھ کے پیچھے دونوں ہی صورتوں میں کوئی اچھا کام نہ کیا بلکہ ایک ایسی برائی کی جس پر غیبت کا اطلاق کیا جائے گا جس کو میں نے اپنے جسم کا کوئی عیب قرار دیا ہے اس پر آپ غور کریں گے تو آپ کو کتنی ہی باتیں سمجھ میں آجائیں گی جو میری ذات سے تعلق رکھتی ہیں جن کا آپ سے اور معاشرہ میں کسی بھی دوسرے فرد سے تعلق نہیں ہوسکتا اور اس طرح کی ساری باتوں کو ” میرے جسم کے عیب سے “ میں نے بیان کردیا ہے تاکہ بات آپ کی سمجھ میں آجائے اب وہ ساری باتیں جو ” میرے جسم کے عیب سے “ تعلق رکھتی ہیں ان کو تعریض ، تصریح ، رمز و اشارہ ، تحریر و کتابت اور محاکات و نقالی کسی بھی طریقہ سے دوسروں کے عیوب بیان کیے جاسکتے ہیں اور ایک شخص کے نسب ، اخلاق ، دین و دنیا ، جسم و کپڑے غرض کہ ہرچیز میں عیب نکالا جاسکتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت پرزور طریقہ سے اس کی ممانعت کردی ہے اور اس کو خود اپنے بھائی کے مردار گوشت سے تشبیہہ دی ہے جس میں بلاغت کے بہت سے نکتے مخفی ہیں۔ مثلاً یہ کہ : 1: انسان کا گوشت محض اس کی عزت و حرمت کی وجہ سے حرام ہے اس لیے جو چیز اس کی عزت و حرمت کو نقصان پہنچاتی ہے وہ بھی اس کے گوشت کی طرح حرام ہے۔ 2: لڑائی جھگڑے میں جب باہم مقابلہ ہوتا ہے تو بعض لوگ شدت غضب میں اپنے حریف کا گوشت نوچ لیتے ہیں اگرچہ یہ بھی ایک برا فعل ہے تاہم اس میں ایک قسم کی شجاعت پائی جاتی ہے لیکن اگر کوئی شخص حریف کے مر جانے کے بعد اس کا گوشت نوچ لے تو مکروہ ہونے کے ساتھ یہ ایک بزدلانہ فعل بھی ہے اس لیے اگر کوئی شخص رودر رو کسی کو برا کہے تو اگرچہ یہ بھی ایک ناپسندیدہ چیز ہے تاہم اس میں بزدلی نہیں پائی جاتی لیکن ایک شخص کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا نہایت بزدلانہ کام ہے اور بیعنہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنے حریف کے مقتول ہونے کے بعد اس کا گوشت نوچ کھائے۔ 3: لوگ شدت محبت سے بھائی کی مردہ لاش کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے اس لیے جو شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت نوچ کھاتا ہے اس سے اس کی سخت قساوت و سنگدلی اور بغض و عداوت کا اظہار ہوتا ہے اور یہ اس لطف و محبت کے منافی ہے جس کو اسلام مسلمانوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ 4: مردار گوشت کا کھانا سخت اضطرار کی حالت میں جائز ہے لیکن اللہ نہ کرے کہ کسی کو ایسی ضرورت پیش آہی جائے تو اس کو دونوں مردار گوشت میسر آئیں تو انسان کے مردار گوشت سے بکری مردار ہی کو اختیار کرے گا انسان کے مردار کو کبھی اختیار نہ کرے گا جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ غیبت کسی وقت میں بھی پسندیدہ چیز نہیں ہوسکتی بعض لوگوں نے جو بعض قسم کی غیبتوں کو جائز کرنے کی کوشش کی ہے وہ محض اس لیے کہ وہ حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں اور ان باتوں کو غیبت میں شمار کرلیا ہے جو غیبت کی تعریف میں نہیں آتیں اور جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ باتیں تو ناگزیر ہیں اور اسلام نے ان کے کرنے کا حکم دیا ہے تو انہوں نے بعض غیبتوں کو جائز قرار دے لیا ہے جس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ خیال ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے نہایت بلیغ طریقہ پر غیبت کی برائی بیان فرمائی ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” شب معراج میں میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جس کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے میں نے جبریل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ بولے یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزت و آبرو کے درپے رہتے تھے “ ( ابودائود کتاب الادب باب فی الغیبۃ) غور کریں تو بات واضح ہوجائے گی کہ اعمال اور اعمال کی جزا و سز میں مناسبت ہوتی ہے یہ لوگ چونکہ لوگوں کا گوشت نوچ کھاتے تھے یعنی ان کی غیبت کرتے تھے اس لیے دوزخ میں ان کی سزا یہ مقرر کی گئی کہ خود اپنا گوشت نوچتے ہیں۔ یہ اور اس طرح کی دوسری احادیث کی سندات پر بحث کرکے محض برزخ کی زندگی یا عالم برزخ کے نام سے الرجک ہو کر یا روح کی بقا کے نظریات سے بچنے کے لیے حدیث کو غلط قرار دینے کی بجائے صرف کلام مماثلت تسلیم کرلینا زیادہ سہل اور آسان ہے اور اس میں کسی طرح کی کوئی قباحت بھی لاحق نہیں ہوتی کیونکہ اس کا تعلق اخرت کے ساتھ ہے نہ کہ اس دارالعمل کے ساتھ اور اس طرح کے استعارات و اشارات سے انسانوں کی اصلاح مقصود ہے اور آخرت کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کوئی شخص بھی نہیں جانتا اور اس طرح اگر سننے والوں کی اصلاح ہوجائے اور وہ ان عذابوں سے ڈر کر اپنی اصلاح کی کوشش کریں تو یہ زیادہ مفید مطلب ہے اور جہاں سیدھا اور صاف مضمون بات کی وضاحت پیش کررہا ہو اور وہ کسی قانون کے ساتھ متصادم بھی نہ ہو تو اس کے اختیار کرنے کے لیے نبی اعظم و آخر ﷺ کا ایک ادنیٰ اشارہ ہی کفایت کرتا ہے بعض لوگ جن کو تحقیق کا ہیضہ ہوجاتا ہے ان چیزوں پر بحث شروع کردیتے ہیں جو بحث اس عالم دنیا سے کوئی تعلق نہیں رکھتی اور عالم آخرت کے لیے مفید پڑتی ہے خواہ مخواہ اضاعت وقت کرنا ہے تماثیل اور اشارہ و استعارہ اس بحث کی زد میں نہیں آتا اس لیے اس پر ضد کبھی مفید مطلب نہیں ہوسکتی بلکہ اس سے عوام کا سراسر نقصان ہوتا ہے سینا نہ آتا ہو تو پھاڑتے چلے جانا عقل مندی کی نشانی نہیں بلکہ بےوقوفی کا کام ہے اور ایسے ہی پڑھے لکھے بیوقوفوں نے ایسے نظریات کی اشاعت کرکے عوام سے پہلے نظریات چھین لیے اور نئے نظریات کی صحیح وضاحت نہ کرسکنے کی بنا پر لوگوں کے لیے ایک ایسا دروازہ کھول دیا جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوا۔ ایک بار سخت بدبو پھیل گئی تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے ؟ پھر آپ ﷺ نے خود ہی وضاحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں (ادب المفرد باب الغیبۃ) اس حدیث سے بھی اعمال اور ان کی جزا و سزا کی مناسبت ظاہر ہے مردار گوشت اکثر بدبو دار ہوتا ہے اور یہ لوگ بھی گوشت کھاتے تھے اس لیے یہ بدبو اس مردار خوری کا نتیجہ تھی اس میں ایک نکتہ یہ بھی پنہاں ہے کہ غیبت کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی کے عیوب کی تشہیر و تفضیح کی جائے اس لیے جس طرح غیبت کرنے والوں نے لوگوں کے عیوب عام طور پر پھیلائے اسی طرح ان کے اس عمل کی نجاست و گندگی کی بو نے بھی دنیا کے لوگوں کو ان سے متنفر کردیا اس نکتہ کی آپ نے ایک دوسری حدیث میں خود وضاحت فرما دی اور یہ وضاحت بغیر تشبیہہ و تمثیل کے نہایت واضح طور پر بیان فرمائی کہ : ” اے وہ لوگو ! جو زبان سے تو ایمان لائے ہو لیکن ایمان تمہارے دلوں کے اندر جاگزیں نہیں ہوا ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور نہ ان کے عیوب کی تلاش میں رہو کیونکہ جو شخص ان کے عیوب کی تلاش میں رہے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کے عیوب کی تلاش کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیوب کی تلاش کرے گا خود اس کے گھر کے اندر ہی اس کو رسوا کردے گا “ (ابودائود کتاب الادب باب فی الغیبۃ) لاریب لغت میں غیبت کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کے بیان کو کہتے ہیں مگر مذہبی تعلیم میں کسی کی غیر موجودگی غیبت کے لیے کوئی ضروری نہیں ہے اسی طرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کی واقعی برائیاں ظاہر کی جائیں تو یہ غیبت نہیں لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ کے اس ارشاد سے ان دونوں باتوں کی تردید ہوتی ہے چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ غیبت کس کو کہتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” تمہارا اپنے بھائی کی اس چیز کا ذکر کرنا جس کو وہ ناپسند کرے “ کہا گیا کہ اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جس کو میں بیان کرتا ہوں تو ؟ فرمایا : ” اگر وہ عیب اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غبت کی اور اگر اس میں وہ عیب نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا “ (ابودائود کتاب الادب باب فی الغیبۃ ) اس سے ایک بات معلوم ہوگئی کہ کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کی برائی بیان کرنا غیبت کی تعریف کا کوئی ضروری جز نہیں بلکہ اگر کسی شخص کے سامنے اس کی برائی بیان کی جائے تو یہ بھی غیبت ہی ہوگی اور دوسری بات یہ معلوم ہوگئی کہ غیبت کا اطلاق اس بات پر ہوگا جو اس کی ذات سے متعلق ہو کسی دوسرے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہ قائم ہوتا ہو جیسا کہ پیچھے اس کی وضاحت گزر چکی کہ جن باتوں کا تعلق معاشرہ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی وابستہ ہو اگر کسی شخص کو کسی دوسرے کا عجیب معلوم ہوجائے اور تحقیق کے بعد بھی یہ واضح ہو کہ اس کا تعلق دوسروں کے ساتھ ہے تو اس کے متعلق دوسروں کو بتانا اور آگاہ کرنا غیبت میں نہیں آئے گا بلکہ اس کا مطلب فقط یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ اس سے چوکنا رہیں تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہیں اور کسی غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اپنے ہاتھوں اپنا نقصان نہ کرلیں ۔ لاریب کسی کی برائی بیان کرنا اخلاقاً نہایت اچھی چیز ہے لیکن خود اخلاق ہی کا تقاضا ہے کہ لوگوں کی واقعی برائی جو معاشرہ کے دوسروں لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہو وہ لوگوں کے سامنے بیان کی جائے تاکہ خود برائی کرنے والے کو ندامت اور تنبیہہ ہو اور وہ شرمندگی اور ندامت محسوس کرے اور دوسرے بھی اس کے شر سے محفوظ رہیں اگر بروں کی برائی کو بیان کرنے کو یک قلم بند کردیا جائے تو ان کی برائی کی روک تھام کی کوئی صورت نہ ہوسکے گی اسلام کی نگاہ سے یہ نکتہ چھپا نہیں رہ سکتا تھا چناچہ قرآن کریم میں کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کی اعلانیہ برائیاں کی گئی ہیں مگر کہیں کسی کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ہمیشہ عدم کے ساتھ پردہ میں یا صیغہ مجہول کے ساتھ یا وصف کے ساتھ جو کچھ کہا گیا ہے بس وہی کہا گیا ہے کہ جو لوگ جھوٹ بولتے ہیں یا کفر کرتے ہیں ان کا حال یہ ہے اور اس طریقہ تعمیری میں جو فائدہ ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے کہ بروں کی برائی کا اظہار بھی ہوتا ہے اور کسی ایک شخص کو ناگواری کا حق بھی نہیں پہنچتا اور قرآن کریم نے یہ طریقہ اختیار کرکے ہر انسان کی عزت نفس کو محفوظ کردیا ہے لیکن جو باتیں غیبت کی مد ہی سے خارج ہوگئیں ان سے ممانعت کا بھی کوئی جواز نہ رہا۔ معاملات میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جہاں تخصیص کی ضرورت پیش آتی ہے اس لیے قرآن کریم نے ان کا مختصر بیان کرکے واضح کردیا کہ اس پر غیبت کا اطلاق نہیں ہوتا اور اس کی وضاحت احادیث میں بالکل واضح الفاظ میں موجود ہے اس لیے ان باتوں کو غیبت میں شامل کرکے غیبت کو حلال اور حرام میں تقسیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مثلاً قرآن کریم میں ہے کہ : ( لایحب اللہ الجھر بالسوء من لاقول الا من ظلم وکان اللہ سمیعاً علما) (النساء 128:4) ” اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ انسان بد گوئی پر زبان کھولے مگر ہاں ! جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے “ مطلب کیا ہوا ؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں کہ کوئی شخص کسی کی برائی کو پکار کر کہے لیکن مظلوم کو حق ہے کہ وہ اپنے ظلم کی داستن کو لوگوں سے بیان کرے اور ظالم کے ظالمانہ کاموں کو آشکار کرے۔ اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے وہ ظالم کو اس کے برے اعمال کی سزا دے گا حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور ملنے کی اجازت مانگی آپ ﷺ نے اس کو دیکھا تو گھر والوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ اپنے خاندان کا بہت برا شخص ہے لیکن جب وہ آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس سے نہایت نرم لہجہ اور لطف اندوز پیرایہ میں بات چیت کی۔ (بخاری کتاب الادب باب ما یجوز اغیاب اہل الفساد و الریب) اس سے معلوم ہوگیا کہ ایک شخص کے شر و فساد سے دوسروں کو بچانے کے لیے ان کو آگاہ کرنا او اس کے احوال واقعی کا اظہار جائز اور صححی ہے کیونکہ اس میں دوسروں کی خیر خواہی کا جذبہ شامل ہوتا ہے اور اس بات کے پیش نظر آپ نے گھر والوں کے سامنے اس کا سارا حال مختصر الفاظ میں بیان کردیا جس سے مقصود صرف یہ تھا کہ اس کی باتوں میں آکر دوسرے اپنا نقصان نہ کرلیں مثلاً جب اس نے اپنا تعارف کرایا تو آپ ﷺ کے گھر والوں نے اس کی بات سن لی وہ کہیں آپ ﷺ کی موجودگی میں گھر والوں سے کوئی چیز اس تعارف کی بنا پر حاصل کرسکتا تھا لیکن جب آپ ﷺ نے گھر والوں کو اس کے کردار کی خبر کردی تو انہوں نے جہاں اس کا تعارف سنا وہاں اس کی تعریف بھی سن لی اور اس طرح وہ احتمال ختم ہوگیا جس کا خیال درست ہو سکتا تھا۔ اس لیے علماء اسلام نے ان باتوں کو غیبت کے تعارف سے نکال دیا مثلاً : 1: کسی حاکم کے مظالم کی حاکم اعلیٰ کے سامنے فریاد کرنا جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ (لصاحب الحق مقالاً ) ۔ 2: مذہبی اور اخلاقی برائیوں کا انسداد کرنا تاکہ ان کا احتساب ہوسکے جیسا کہ قرآن کریم نے منافقوں اور کافروں کی برائیوں کو طشت ازبام کیا ہے۔ 3: فتویٰ طلب کرنا جیسا کہ ہند بنت عتبہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ابوسفیان ؓ کے کم خرچ دینے کی شکایت کی اور آپ ﷺ نے سن کر اس کا مناسب جواب عطا فرمایا۔ 4: ایسے لوگوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور ان کی برائیوں پر تنقید کرنا جو فسق و فجور پھیلا رہے ہوں یا بدعات اور گمراہیوں کی اشاعت کر رہے ہوں اور خلق خدا کو بےدینی اور ظلم وجور کی طرف رغبت دلا رہے ہوں۔ 5: ایسے لوگ جو ایسے القاب سے لقب اور مشہور ہوچکے ہوں جو بظاہر تو صحیح نہ معلوم ہوں لیکن ان کے عرف کے باعث وہ خود بھی اس کو برا محسوس نہ کرتے ہوں جیسے اعمیٰ ، اعمش اور اعرج وغیرہ جب کہ وہ انہی القاب سے معروف ہوچکے ہوں۔ زیر نظر آیت کے آخر پر ارشاد فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہا کرو مطلب یہ ہے کہ سارا زور لوگوں کی اصلاح پر ہی مت خرچ کرو کچھ اپنی ذات کے تجزیہ کرنے کے لیے رکھو کیونکہ ایسا نہ ہو کہ اوروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت۔ تقویٰ کی بات تو یہی ہے کہ سب سے پہلے پنے دل سے پوچھو اگر تسلی ہوجائے کہ اپنی اصلاح ہوچکی تو اب دوسروں کی اصلاح کی طرف ضرور توجہ دو اور ان شاء اللہ اب تمہاری توجہ لوگوں کے دلوں پر اثر کرے گی اور اگر اپنے اندر کوئی کمزوری نظر آئے کیونکہ انسان اپنی کمزوری خود جس طرح معلوم کرسکتا ہے کوئی دوسرا اس طرح معلوم نہیں کرسکتا خواہ وہ کون ہو اور کیسا ہو پھر جب اپنی کمزوری نظر آئے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرکے معافی طلب کرو لاریب اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر توبہ قبول کرنے والا اور پیار کرنے والا اور کوئی نہیں ہوسکتا اور اگر اپنی اصلاح ہوگئی تو بہت کچھ حاصل ہوگیا کیونکہ جس چیز کا نام کامیابی سے وہ اپنی اصلاح ہی سے ممکن ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے شعوب و قبائل بنا دیئے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے ، بلاشبہ اللہ سب کچھ جانتا اور باخبر ہے

اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک ہی جنس سے پیدا کیا اور یہ شعوب و قبائل تعارف کیلئے ہیں 13 ۔ اس آیت نے فخر و مباہات کے سارے امتیاز مٹا دیئے اور اونچ نیچ کے سارے نظریوں پر پانی پھیر دیا پھر یہ سب کچھ بین کرنے کے بعد آخری تعلیم یہ دی جس میں گزشتہ ساری آیتوں کا خلاصہ بیان کردیا اور ان ساری بیماریوں کا واحد علاج بتا دیا کہ اگر تم غورو فکر کرو تو یہ جو تقسیمات تم نے اختیار کی ہیں ان کی آخر کوئی حقیقت بھی ہے ؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ مراثی سے کسی نے دریافت کیا کہ ” دادا “ آپ بتا سکتے ہیں کہ آدم کون تھا ؟ ” دادا “ نے برجستہ جواب دیا کہ حضور جاں بخشی ہو تو عرض کروں اس سے کہا گیا کہ ہاں ! بےفکر ہو کر بیان کرو اس نے پھر کو رنش بجا لاتے ہوئے عرض کیا کہ حضور وہ مراثی تھا بڑے صاحب ہکا بکا رہ گئے اور پھر دریافت کیا کہ ” اے دادا “ جی حضور ! فرمایا اس کی دلیل کیا ہے ؟ دادا نے پھر کو رنش بجا لاتے ہوئے عرض کیا کہ حضور دلیل یہی ہے کہ میں بھی ایک حلال زادہ ہوں اور دوسرے لفظوں میں آدم زادہ بھی۔ پھر جب مراثی ہوں اور اگر آدم مراثی نہ ہو تو میرے حلال زادہ ہونے کی کوئی صورت ؟ فرمایا اے لوگو ! تم سب جو جنس انسانی سے تعلق رکھتے ہو تو میں نے تم کو ایک ہی مرد اور عورت جو دونوں ایک ہی جنس کی دو اصناف تھیں سے پیدا کیا اور تم کو ان شعوب و قبائل میں تقسیم کیا ہے تو وہ محض پہچان اور شناخت کی خاطر ایسا کیا ہ کے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچاننے اور شناخت کرنے میں کسی مشکل کا شکار نہ ہو جائو اور اس پہچان کے لحاظ سے آگے ان شعوب و قبائل کی کوئی حقیقت نہیں ہے تم میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک متقی و پرہیز گار وہ ہے جو تم میں اعمال و کردار اور اخلاق کے لحاظ سے اچھا ہے اگر تمہاری آپس کی پہچان کی ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ رب ذوالجلال والا کرام کے لیے تو ان شعوب و قبائل کی تقسیم اور اس طرح کی پہچان کی کوئی ضرورت نہیں اس کی پہچان تو ایک ہی علامت سے واضح ہوجائے گی او اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وہ علم والا ، خبر رکھنے والا ہے اور اس نے سارا نظام محض تمہاری پہچان اور شناخت کے لیے مقرر کیا ہے تاکہ تم کو ایک دوسرے کو پہچاننے میں اور تعارف کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ کتنی آسان شناخت ہے کہ بعض کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور یہ ان کی شناخت ہے کہ بحمد اللہ یہ لوگ جنتی ہیں اور جن کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ہوگا وہ شامت کے مارے دوزخ کے مستحق ٹھہریں گے اور اس یکبارگی عمل میں آخر کتنا وقت لگے گا ؟ اس طرح ساری بات اس پر بھی اور اس کے دوسرے ہم جنسوں پر بھی واضح ہوجائے گی کہ کون کیا ہے اور کیا نہیں ؟ قرآن کریم کے انداز فکر پر بھی آپ غور کریں کہ وہ کتنا گہرا اور عمیق ہے کہ جس بات کا تعلق صرف ہل ایمان ہی سے نہ تھا اس کی نسبت بھی اس نے ایمن والوں سے ہٹا کر تمام انسانوں کی طرف پھیر دی ہے اور جہاں وہ (یا ایھا الدین امنوا) سے خطاب کرتا چلا آرہا ہے وہاں اس نے فوراً خطاب کا رخ سارے انسانوں کی طرف پھیر دیا ہے تاکہ کسی کو اس معاملہ میں ابہام نہ رہے کہ عام انسانوں کی ذمہ داری اس نے فقط مسلمانوں پر کیسے ڈال دی لاریب یہ کلام الٰہی کا زندہ جاوید معجزہ ہے کہ وہ شک اور اعتراض کو قبل از وقت ہی معدوم کردیتا ہے اور یہی بات اس نے اس جگہ کی ہے۔
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

اور یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ ﷺ فرما دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ ہم (بظاہر) فرمانبردار ہوگئے ! ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان نے گھر نہیں کیا ہے اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی (سچے دل سے) فرمانبرداری کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہ کرے گا بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے

دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے آپ ﷺ کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! ابھی اسلام کی بات کرو 14 ۔ ہم اس سے پہلے کئی باریہ بات عرض کرچکے ہیں کہ ناخواندگی اور جہالت دو الگ الگ چیزیں ہیں اور شروع سے یہ دونوں چلی آرہی ہیں اور اب بھی کثرت سے موجود ہیں بعض لوگ ناخواندہ ہوتے ہیں لیکن جاہل نہیں ہوتے اور ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس ڈگریاں اور عہدے تو بہت ہوتے ہیں اور وہ ناخواندہ بھی نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود نرے جاہل ہوتے ہیں ان لوگوں کی کمی نہ دیہات میں ہے اور نہ شہروں میں ، یہ ساری قسمیں اس وقت بھی موجود تھیں اور آج بھی ہیں اس جگہ جن لوگوں (اعراب) کہا گیا ہے یہ خواندہ ہوں گے یا ناخواندہ لیکن جاہل بہرحال ضرور تھے ان کو دیہاتی کہو یا گنوار لوگ بہرحال ان کی جہالت کا حال اس سے ظاہر ہورہا ہے اور اسی جہالت کے باعث ان کو اعراب کہا گیا ہے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے اور اپنے ایمان کا اظہارکرکے آپ ﷺ سے فوائد حاصل کرنا چاہتے اور وہی کچھ کرتے جو ایسے لوگ آج بھی کرتے دیکھے جاتے ہیں کہ مانگتے ہیں تو ضد ان کی حد کو پہنچ جتی ہے ایک چیز دو تو دوسری کا مطالبہ دوسری دو تو تیسری کا مطالبہ اسی طرح عادتاً وہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور جب تک ان کو سختی سے منع نہ کیا جائے وہ پیچھا نہیں چھوڑتے اور بعض اوقات تو لوگوں کی ناک میں دم کردیتے ہیں ایک بات کرتے ہیں تو بس کیے ہی جاتے ہیں کبھی اللہ کا واسطہ ، کبھی رسول کا ، کبھی حسن کا اور کبھی حسین ؓ کا کبھی فاطمہ ؓ کا اور کبھی علی ؓ کا کبھی گیارہویں والے کا اور کبھی علی ہجویری کا کبھی ربڑی والے کی بات کریں گے اور کبھی کا واں والی سرکار کی ، کبھی گولڑے والوں کا واسطہ کبھی جس سے مانگا جارہا ہے اس کی جوانی کا ، کبھی دودھ کا کبھی بیٹوں اور پوتوں کا ، اس طرح کی عادات وا اطوار رکھنے والے جب آپ ﷺ کے پاس آتے تو بس اسلام و ایمان ہی کا نام استعال کرتے ۔ آپ ﷺ دیتے کہ آپ ﷺ کی عادت میں سوالی کا سوال پورا کرنا تھا لیکن وہ ایک بار و بار بلکہ بار بار لے کر بھی مطمئن نہ ہوتے وہی ایک رٹ کہ ہم ایمان لائے ، ہم نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، ہم نے آپ ﷺ کو مان لیا ، ہم نے کوئی ضد نہیں کی ، ہم نے آپ ﷺ کی کبھی مخالفت نہیں کی ، ہمارا خاندان بس آپ ﷺ ہی کافر مانبردار ہے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ تم کہتے ہو کہ ہم ایمان لائے اور یہ تقاضا تمہارا بتاتا ہے کہ ایمان ابھی تمہارے دلوں تک نہیں پہنچا اگر ایمان دلوں تک پہنچا ہوتا تو تم اس طرح کے تقاضے کیوں کرتے اور ہم پر اپنے ایمان لانے کا احسان کیوں جتاتے کیونکہ ایمان کی شیرینی اور مٹھاس جب کسی کے دل میں جم جاتی ہے تو وہ اپنے ایمان لانے کا احسان نہیں رکھتا بلکہ جس کے توسط سے اس کو ایمان نصیب ہوتا ہے اس کا وہ شکر گزار اور احساس مند ہوتا ہ کے اس لیے وہ جب بات کرتا ہے تو اس طرح کی نہیں کرتا جس سے یہ بات واضح ہو کہ یہ اپنے اسلام لانے کا ہم پر احسان کررہا ہے بلکہ وہ اس انداز سے گفتگو کا آغاز کرتا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ میں آپ کا احسان مند ہوں کہ آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور میری آخرت سنور گئی اگر آپ یہ بات نہ کرتے تو میں سیدھا جہنم کے دروازے پر چلا جاتا بہرحال ان کی تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے میرے رسول ! آپ ﷺ ان سے کہیں کہ ابھی ایمان ایمان کی بات نہ کرو ابھی تو تم نے اسلام کی دعوت کو قبول کیا ہے اگر کیا ہے اور ایمان تمہارے دلوں میں جم نہیں رہا اور اگر اسلام لانے کے بعد تم صحیح معنوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمانبردار ہو جائو اور اپنی حالت کو سچے ایمان والوں کی حالت کے ساتھ منطبق کرنے کی کوشش کرو یہاں تک کہ تم سے وہ حرکات سرزد ہی نہ ہوں جو صرف خالی دعویٰ کرنے والوں سے سرزد ہوتی ہیں بلکہ تم پکے ایمان والے ہوجائو اور تمہارا سارا انحصار اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوجائے تمہاری ہر حرکت اسلام کی حرکت ہو کر ایمان کو مضبوط کردے تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اپنے اسلام کا احسان رکھنے کی بجائے ان کی فرمانبرداری اور ان کی حرکات و سکنات کے مشتاق ہو جائو تم بار بار مانگنے کی بجائے اسلام کے نام پر سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہوجائو ، مانگنے کو برا اور دینے کو اچھا خیال کرنے لگوخ محنت کرکے اور جان جو جھوں میں ڈال کر کھائو پھر خود بھی کھائو اور دوسروں کو بھی کھلانے کے آروزو مند ہو جائو تو مانیں گے کہ ہاں تم ایمان لے آئے کیونکہ ایمان لانے والوں کی حرکات و سکنات ، ان کا رہن سہن ، ان کا چلنا پھرنا ، ان کا کھانا اور خرچ کرنا سب کا سب اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے حکم کے مطابق ہوجاتا ہے وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے صرف اور صرف اللہ ہی سے مانگتے ہیں جو کچھ مانگتے ہیں تمہاری طرح ان کی عادت میں ہر وقت مانگنا ، ہر ایک سے مانگنا اور ہرچیز مانگنا نہیں ہوتا وہ دوسروں سے مانگ کر کبھی خوش نہیں ہوتے وہ بھوک برداشت کرتے ہیں ، پیاس برداشت کرتے ہیں لیکن دودھ اور دوسری مشروبات تو درکنار وہ خالی پانی بھی دوسروں سے طلب نہیں کرتے بلکہ خو دپانی تک پہنچنے کی ہمت و کوشش کرتے ہیں اگر آپ لوگ برا نہ مانیں تو یہ ساری حرکتیں آج بھی ان لوگوں میں من و عن پائی جاتی ہیں جن کو ہمارے گائوں ، دیہات اور قصبات بلکہ شہروں کے بنگلوں میں بھی امام مسجد کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور پھر وہ مختلف انسانی ناموں سے بلائے اور پکارے جاتے ہیں گویا دوسرے لفظوں میں وہ صرف اسلام کے دعویدار ہی نہیں ہوتے بلکہ داعی اور دعوت دینے والے وتے ہیں اور پھر جب وہ دیکھتے کہ اس مسجد اور اس محلہ کی بجائے فلاں مسجد اور فلاح ملحہ کے لوگ زیادہ آسودہ حال ہیں وہ زیادہ خدمت گزار ثابت ہوسکتے ہیں تو وہ ایک مسجد سے دوسری مسجد تک ایک گائوں سے کسی دوسرے گائوں تک نکل کر شہروں تک ہجرت کرتے رہتے ہیں اور جہاں ان کی پزیرائی زیادہ ہوتی ہے وہاں ڈیرہ جمانے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں پھر ظاہر ہے کہ جس دین کے پیشوائوں اور اماموں کی یہ حالت ہے اس معاشرہ کی حالت ایسی ہی کیوں نہ ہوگی جیسی کہ اس وقت ہم کو نظر آرہی ہے مکان کی ساری زیبائش کا انحصار مکیں پر ہوتا ہے مکیں اچھا ہے تو مکان خودبخود اچھا ہے اور مکیں گندے ، میلے اور وحشی ہیں تو مکان کی حالت خود ہی ناگفتہ بہ ہوگی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ ابھی ایمان کے دعویدار نہ ہو صرف اتنا کہو کہ ہم اسلام لے آئے اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں راسخ نہیں ہوا اور اگر تم نے اپنی روش بدل لی ، اللہ اور اس کے رسول کے سچے اور پکے فرمانبردار ہوئے تمہیں اپنی خواہشوں کی بجائے رضائے الٰہی مطلوب ہوگئی تو تمہارے اعمال خودبخود درست ہوتے چلے جائیں گے اور پھر جب اعمال درست ہوں گے تو ان کے نتائج خراب کیسے نکل سکتے ہیں جب کہ سنت اللہ یہی ہے کہ اچھے اعمال کا بدلہ بھی اچھا ہی ہوتا ہے اور برے اعمال کا بدلہ اور نتجہ بھی برا ہی نکلتا ہے پھر یہ کیونکر سمجھ لیاجائے کہ تمہارے اعمال کا نتیجہ اچھا نہیں رہے گا نہیں ! اور ہرگز نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ہاں ! تم لوگ اپنی کمیاں دور کرو اور اچھے اعمال کی کوشش کرو رضائے الٰہی کے طالب رہو تمہارا مطالبہ صرف اور صرف روٹی ، کپڑا اور مکان تک ہی محدود نہ رہے بلکہ آخرت کی درستی کا بھی خیال کر تو یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی معاف فرمائے گا اور تم سے پیار و محبت بھی کرے گا اور پھر جب تم اللہ کے محبوب بند اور شکر گزار بندے بن گئے تو کس چیز کی کمی باقی رہ گئی جب کہ یہ بات طے ہے اور سو فیصد صحیح اور درست ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے پھر اللہ بھی اسی کا ہوجاتا ہے جس کا اللہ ہوگیا اس کو کمی کس چیز کی رہ گئی وہ کسی سے مانگے گا تو آخر کیوں ؟ کسی کے سامنے دست سوال پھیلائے گا تو آخر کیوں ؟ کسی کے سامنے اپنی کمزوریاں کھولے گا تو آخر کیوں ؟ کسی کو اپنے دکھ بتائے گا تو آخر کیوں ؟ فرمایا اے میرے رسول ان سے کہہ دو کہ ایمان کا دعویٰ کرنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ تم نے سمجھ لیا ہے ایمان لانا لوہے کے چنے چبانے سے بھی زیادہ مشکل ہے اور پھر ایمان کی آزمائش اس سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ ! اے رب ذوالجلال والا کرام تجھے تیری ربوبیت کا واسطہ ہم کو سچا ایمان نصیب فرما دے اور ہماری دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار دے اور ہمیں دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھ۔ یہی ہمارے دل کی آرزو ہے۔ اے اللہ ! ہمارے دل کی آرزو کو پورا فرما دے۔
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

بلاشبہ مومن وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں پھر شک نہیں کرتے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے ہیں (حقیقت میں) یہی لوگ سچے ہیں

ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے بعد پھر شک و شبہ میں کبھی گرفتار نہیں ہوئے 15 ۔ ہر وہ شخص ، ہر وہ گروہ ، ہر وہ جماعت اور ہر وہ جماعت اور ہر وہ پارٹی جو اپنا اندراج اسلام کے نام کے ساتھ کرتی ہے اور پھر آبائو اجداد سے کرتی ہی چلی آرہی ہے اور زبانی اقرار کے سوا اور کچھ نہیں کرتی اس کی ظاہری حالت ، اس کے سارے اعمال وہی ہیں جو دوسرے گروہ ، دوسری جماعتیں ، دوسرے افراد اور دوسری پارٹیاں کررہی ہیں جو اسلام کے نام سے موسوم نہیں کی جاتیں تو ان کے ایمان کی تصدیق جب ان کے اعمال نے نہ کی تو ان کا ایمان کیا ہوا ؟ ایمان والے تو وہ لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور پھر ان کو اپنے ایمان جتلانے کی کبھی ضرورت پیش ہی نہیں آتی ان کے اعمال ان کے ایمان کی خود بخود تصدیق کرتے چلے جاتے ہیں پھر جب ان کے ایمان کو ان کے مالوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ لبیک کہہ کرمیدان میں قدم رکھتے ہیں اور اگر جانوں کی ضرورت پڑجائے تو خون کی ندیاں بہانے کے لیے سروں پر کفن باندھتے ہیں اور نعرہ تکبیر کے ساتھ میدان میں کود جاتے ہیں اللہ کی راہ میں ان کا مال خرچ ہوسکے ان کی جان قربان کی جاسکے تو وہ نہایت سعاوت اور خوش قسمتی سمجھتے ہوئے تن من دھن قربان کرنے کے لیی میدان عمل میں موجود ہوتے ہیں ان کو کسی دعویٰ کی ضرورت کبھی پیش ہی نہیں ٓتی ان کو زبان ہلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی وہ تو میدان عمل میں پہلے ہی موجود ہوتے ہیں ان کے چلنے پھرنے ، بیٹھنے اٹھنے ، آنے جانے ، کھانے پینے اور سونے جاگنے میں اسلام و ایمان کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور ان کو تعارف کرانے کی کبھی حاجت نہیں ہوئی وہ جیتی جاگتی اسلام و ایمان کی تصویر ہوتے ہیں ایک بار پھر سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ مسلمان اس کو کہتے ہیں جو بظاہر مطیع و فرمانبردار ہو اگرچہ اس کے دل میں ایمان ابھی پختہ نہ ہوچکا ہو لیکن مومن وہ ہے جس کے جوارح اور خواہشات اور ہر نقل و حرکت سے ایمان سپک رہا ہو اور اس کی کوئی حرکت ایمان کے دعویٰ کے خلاف نہ ہو لیکن جس طرح فقط اسلام کا دعویٰ موجود ہو اس طرح مومن ہو ونے کا خالی دعویٰ ہی دعویٰ ہو تو صرف دعویٰ کردینے سے کبھی دعویٰ ثابت نہیں ہوتا جب تک دعویٰ کے مطابق دلائل موجود نہ ہوں جو دعویٰ کو ثابت کریں اس لیے دعویٰ خارج بھی ہوجاتا ہے ، واپس بھی لیا جاسکتا ہے ، دعویٰ جھوٹا بھی ہوسکتا ہے اور کبھی دعویٰ کرنے سے دعویٰ ثابت بھی نہیں ہوتا۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اپنی دینداری اللہ کو جتلاتے ہو (حالانکہ) اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کو ہرچیز کا علم ہے

اللہ آسمانوں ، زمین کی ہرچیز سے واقف ہے پھر تم اپنے دین سے آگاہ کرو گے تو اسے پتہ چلے گا ؟ 16 ۔ آیت 14 میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی جہالت کے باعث اپنے اسلام لانے کا احسان نبی اعظم و آخر ﷺ کو جتایا اور یہ کہہ کر کہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ہم ایمان لائے اور ہم نے شروع ہی سے اسلام کی مخالفت نہیں کی اور ہمارے قبیلہ نے کیھے آپ ﷺ کی مخالفت نہیں کی اور اسی طرح کے احسانات جتانے کے بعد سوال پر سوال کرنے شروع کردیئے اور کما کر کھانا اور استعمال کرنا ختم کرکے اس طرح کے سوالوں پر زندگی بسر کرنا شروع کردی گزشتہ آیت 14 میں ان کو کہا گیا کہ تم نے ایمان لاکر نبی کریم ﷺ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ یہ تو اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تم کو اسلام کی طرف رہنمائی فرمائی اور پھر یہ بھی کہ تم نے اسلام تو قبول کرلیا لیکن ابھی تک ایمان نے تمہارے دلوں میں پختگی اختیار نہیں کی زیر نظر آیت میں ان ہی لوگوں کی طرف رخ کرکے پھر فرمایا جارہا ہے کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اپنے ایمان کا اظہار کرکے اللہ کو بتانا چاہتے ہو کہ ہم نے ایمان اختیار کیا ہ کے حالانکہ اللہ تو وہ ذات ہے کہ جس سے آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے اور وہ ہرچیز کی خبر رکھنے والا ہے پہلے تو یہ ناز کرنے کی کوئی بات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بات کی جس نے تم کو توفیق عطا فرمائی ہے اور تم کو ایمان و اسلام کی دولت سے مالا مال کیا ہے اور اسی کے فضل و کرم سے تم نے اسلام کو قبول کیا اور اب اگر قبول کیا ہ کے تو اسی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرو تاکہ اسلام لانے کا فائدہ تم کو آخرت میں نصیب ہو تم عجیب لوگ ہو کہ بجائے اللہ تعالیٰ کا احسان اور فضل تسلیم کرنے کے الٹا اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر احسان رکھنے لگے ہو ذرا عقل کے ناخن لو اور حق کی شناخت کرو اسلام قبول کرنے کے بعد اس طرح کی حرکتوں سے باز آئو جن سے اسلام پختہ ہونے کی بجائے نفاق کی طرف مائل ہونا شروع ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ تم سے اور تمہاری اس طرح کی تمام حرکتوں سے اچھی طرح واقف ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 49:17

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ آپ ﷺ پر احسان رکھتے ہیں کہ وہ مسلمان ہوگئے (اے پیغمبر اسلام ! ) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اپنے اسلام لانے کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کا راستہ بتا دیا اگر تم (واقعی) سچے ہو

اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ آپ ﷺ پر احسان رکھتے ہیں ان سے کہہ دو کہ مجھ پر احسان مت رکھو 17 ۔ گزشتہ آیت کے مضمون کی مزید وضاحت ، پہلے ان کے دعویٰ ایمان کی حقیقت کو واضح کیا تھا اور اب ان کے دعوہ اسلام کی وضاحت کرتے ہوئے اس سے پردہ ہٹایا جارہا ہے تاکہ وہ جو چھ ہیں سب کو صاف صاف معلوم ہوجائے فرمایا : اے پمبرر اسلام ! یہ لوگ اسلام لانے کا احسان آپ ﷺ پر رکھتے ہیں اور اس طرح کے اشارے اور کنایے استعمال کرتے ہیں کہ ہم نے اسلام قبول کرکے اسلام کو طاقت و قوت بخشی ہے ان لوگوں کے کان کھول دو اور ان کے چہروں سے کپڑا ہٹا دو اور ان پر اچھی طرح یہ بات واضح کردو کہ بھائیو ! تم نے اسلام کو قبول کرکے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا اگر تم لوگ اپنے ایمان لانے اور اسلام کو دل و جان سے قبول کرنے کے دعویٰ میں سچے ہو تو تمہارا احسان مجھ پر نہیں بلکہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا تم لوگوں پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی طرف رغبت دلائی اور اپنی ہدایت کے دروازے تم پر کھول دیئے اس طرح تم اللہ تعالیٰ کا احسان مانو اگر تم دعویٰ سلام و ایمان میں سچے ہو تو سیدھے چلو الٹا نہ چلنا شروع کردو بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی کو نیکی اور ایمان و اسلام کی طرف رہنمائی فرما دے تو اللہ تعالیٰ نے اس بندے پر بہت انعام کیا کہ نیکی کی توفیق بخشی لیکن اگر کوئی ایمان کا دعویدار ایمان لانے کے بعد اللہ اور اس کے رسول پر اپنے ایمان لانے کا احسان رکھنا شروع کردے تو ایسے ہی کاموں کے لیے کہا جاتا ہے کہ الٹے بانس بریلی کو۔ بجائے اس کے کہ یہ لوگ اللہ رب کریم کا احسان مانیں انہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر احسان رکھنا شروع کردیا اور اس طرح الٹی گنگا بہادی بہرحال ان سے کہہ دو کہ اگر تم لوگ ایمان کے دعویٰ میں سچے ہو تو سچائی کو اختیار کرو اور سچائی یہی ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھو کہ اس نے تم کو ہدایت دی اور وہی تمہاری ایمانی طاقت و قوت اور اسلامی بھائی چارہ کی حقیقت کو سمجھنے والا ہے۔
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب چھپے بھیدوں کو جانتا ہے اور اللہ تمہارے اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے

اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا اور تمارے اعمال کو دیکھتا ہے 18 ۔ بندے اور اس کے ایمان و اسلام کا معاملہ اللہ رب کریم سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں اور لوگوں کے دلوں کے رازوں سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور اس کائنات کے ذرہ ذرہ سے وہ واقف ہے اور ہر ایک چیز پر اس کا علم محیط ہے آسمانوں کی وسعتوں اور زمین کی گہرائیوں اور فضائوں کی کشادگیوں میں سے کوئی چیز ایسی نہیں جس کی اس کو ساری حالت معلوم نہ ہو اور انسانوں میں سے ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی چھپ کر عمل کیوں نہ کرے بہرحال وہ اس کے ہر عمل سے آگاہ اور ہر ایک بات سے اچھی طرح واقف ہے اور کسی کا عمل بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت 16 کا مضمون دوبارہ بیان فرما کر بات کی تاکید و توثیق کردی ہے اور پھر اسی مضمون پر سورة مبارکہ کا مضمون ختم کردیا گیا ہے۔ دی اسلام کی اصل حقیقت بہت سے قامات پر کردی گئی ہے گزشتہ آیت میں جو تقابل پیش کیا گیا ہے اس کی نوعیت محض تقابل کے باعث بیان ہوئی ہے جو اپنی جگہ اور اپنے مقام پر بالکل صحیح اور درست ہے جہاں تک دین کا تعلق ہے وہ اسلام ہی کے نام پر ہے اور اسلام ہی کے نام پر مکن ہے کیونکہ ایمان دل کی تصدیق کا نام ہے جو مشاہدہ نہیں کی جاسکتی اور اس دارالعمل میں بات اس کی ہے جو مشاہدہ میں آنے والی ہے جو مشاہدہ میں نہ آئے یا نہ آسکے اس کا تعلق آخرت سے ہے فقط دارالعمل سے نہیں اس لیے بظاہر سار انحصار اسلام ہی پر ہے اور اسی پر ہونا چاہیے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں دین اسلام ہی کو اصل اور بنیاد قرار دیا گیا ہے اس کی تفہیم مزید درکار ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 19 ، آیت 87 کا مطالعہ کریں اگر مزید چاہیں تو جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 14 اور آیت 125 ملاحظہ کریں اور اس طرح سورة المائدہ کی آیت 44 کی تفسیر بھی دیکھیں اور اگر اس کے ساتھ سورة آل عمران کی آیت 130 جلد ششم سورة الحج کی ٓیت 78 ، سورة البقرہ آیت 132 , 128 کی تفسیر بھی دیکھیں اور جو خطاب ایمان والوں سے کیے گئے ہیں ان کو میں نے سورة المائدہ کی آیت اول میں بڑی تفصیل کے ساتھ جمع کردیا ہے اور قرآن کریم کی تمام آیات جو ایمان والوں کو مخاطب کرکے بیان کی گئی ہیں سب کو ایک جگہ جمع کردیا ہے جس سے قرآن کریم کے او امرو نواہی سمجھنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ عبدالکریم اثری 8 فروری 1998 ء بعد از نماز عشاء