49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو پھر اگر ان میں ایک دوسرے پر زیادتی کرتا چلا جائے تو تم سب اس سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے پھر اگر وہ رجوع کرے تو ان دونوں میں غیر جانبداری سے صلح کرا دو اور انصاف ملحوظ رکھو (اس لیے کہ) بلاشبہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے

دو مسلمان جماعتیں اگر آپس میں بھڑ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری 9 ۔ (وان طائفتین من المومنین اقتتلوا) ” اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑپریں “ (طائفۃ) کیا ہے ؟ (طائفۃ) گروہ یا جماعت کو کہتے ہیں اور اس کا مطلب ہے ” بعض لوگ “ ” کچھ لوگ “ ۔ ایک اور ایک سے زائد طائفہ کہلاتا ہے طرف سے اسم فاعل کا صغیہ واحد مونث۔ علامہ بدرالدین عینی (رح) نے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں بیان کیا ہے کہ لغت میں طائفہ کے معنی کسی شے کے ایک قطعہ یا ٹکڑے کے ہیں جیسا کہ عباب میں ہے کہ الطائفۃ من الشی القطعۃ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ (ولیشھد عذابھما طائفۃ من المومنین) (2:24) ” ان دونوں کو عذاب دیتے وقت مومنوں کی ایک جماعت حاضر کرو “ (طائفۃ) کا لفظ قرآن کریم میں بیس بار استعمال ہوا ہے مثلات (154 , 72 , 69:3) (113 , 102 , 81:4) (87:7) (122 , 83 , 66:9) (2:24) (4:28) (13:33) (14:61) (20:73) اور ان سب جگہوں کو نگاہ میں رکھا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایک اور ایک سے زائد طائفہ ہے اور مجاہد کا قول ہے کہ ایک سے ایک ہزار تک طائفہ کا لفظ بولا جاتا ہے لیکن زجاج نے کہا ہے کہ میرے نزدیک اقل طائفہ دو ہیں اور پھر دو سے جتنے زیادہ ہوں سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور اس میں بہت سے اقوال اور بھی دج کیے گئے ہیں لیکن ماحصل سب کا یہی ہے کہ کم از کم ایک اور زیادہ کی کوئی قید نہیں البتہ فرقہ کے مقابلہ میں طائفہ کم جماعت کو کہتے ہیں کیونکہ فرقہ سے طائفہ کو الگ کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : ( فلولا تفرمن کل فرقۃ منھم طائفۃ) ” ہر ایک فرقہ میں سے کیوں نہ نکلا ایک طائفہ یعنی چھوٹی جماعت یا کوئی ایک فرد “ امام راغب (رح) کہتے ہیں کہ (طائفۃ) سے جب جماعت مراد لی جائے گی تو طائف کی جمع ہوگا اور جب اس سے واحد مراد ہوگا تو اس صورت میں اس کا جمع ہونا بھی صحیح ہے اور اس کے ذریعہ واحد سے کنا یہ ہوگا اور یہ بھی صحیح ہے کہ اس کو ( روایۃ) اور (علامۃ) کی طرح قرار دیاجائے یعنی اس کی تاء کو مبالغہ کی تاء قرار دیاجائے نہ کہ تانیث کی اور اس لفظ (طائفۃ) کے معنوں میں بہت وسعت ہے اگر مزید وضاحت چاہتے ہوں تو سورة التوبہ کی آیت 122 کی تفسیر دیکھیں۔ زیر نظر آیت کے شان نزول میں بہت سے واقعات نقل کیے گئے ہیں اور بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے کہ عبداللہ بن ابی نے کچھ کلمات نبی اعظم و آخر ﷺ کی شان میں نازیبا کہے اور آپ ﷺ کی تحقیر کی اور اس پر بعض صحابہ کرام ؓ اور عبداللہ بن ابی کے ساتھیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا “ اور اس موقعہ پر یہ آیت اتری بہرحال اس کے نازل ہونے کا کوئی واقعہ قرار دیاجائے یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ حکم آیت کا عام ہے اور عام حکم کو کسی واقعہ کے ساتھ منسلک کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ وہ حکم عام ہے جس کا اطلاق سب مسلمانوں پر ایک جسار ہوتا ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ عبداللہ بن ابی بھی نام کا مسلمان ہی تھا اور اپنی قوم کا سردار بھی اور قرآن کریم نے ان لوگوں کو جن کے دلوں کے اندر منافقت کا روگ تھا ان کا نام لیے بغیر ان کے روگ کو اکثر مقامات پر اجاگر کیا لیکن بظاہر اسلام سے نکال باہر نہیں پھینکا کیونکہ وہ بظاہر ارکان اسلام کو مانتے اور ادا کرتے تھے ، نمازیں پڑھتے تھے ، روزے رکھتے تھے ، جنگوں میں چندے دیتے تھے اور بددلی کے ساتھ ہی سہی اکثر جنگوں میں شریک ہوتے تھے اور کبھی کبھی عذر بہانے بناکر آنکھیں چرا بھی جاتے تھے اس لیے ان کو مسلمانوں ہی کا ایک گروہ کہنے میں بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے اور پھر بعض اوقات سچے مسلمان بھی ایسے لوگوں کی باتوں میں آجاتے ہیں جن کا سبب خاندان ، رشتہ داری اور اسکے علاوہ کوئی بھی ہوسکتا ہے اور اس طرح کی غلطی کا امکان ہوسکتا ہے کہ باتوں ہی باتوں میں طول کلامی ہوجائے اور نوبت جھگڑے اور فساد تک پہنچ جائے اور اس طرح کے واقعات اس وقت بھی رونما ہوتے رہتے تھے اور آپ ﷺ کے بعد بھی صحابہ کرام ؓ کے دور میں ہوئے اور آج بھی ہو رہے ہیں تاہم اگر ایسا کوئی واقعہ رونما ہو تو مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے اس بات کا بیان ہے کہ جب دو فریق ، دو گروہ ، دو جماعتیں ، دو خاندان ، دو افرادآپس میں الجھ جائیں اور نوبت جنگ وجدال تک پہنچ جائے تو دوسرے مسلمانوں کا حق کیا ہے ؟ فرمایا دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے کہ فوراً مداخلت کریں ، خاموش تماشائی نہ بنے رہیں اور مداخلت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اثر و رسوخ والے لوگ ہی ہوں جن کا اثر فریقین پر ہوسکتا ہو اور ان کی یہ مداخلت محض اسلام کے ناطے اور رشتہ داری کے باعث ہو اور وہ ان دونوں فریقوں کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں ان کے جھگڑے کا اصل حال معلوم کریں جب باعث معلوم ہوجائے تو جس فریق نے ابتدا زیادتی کی ہے اس کو اچھی طرح سمجھائیں کہ آپ لوگوں نے یہ زیادتی کی ہے اور پھر اس زیادتی کا تدارک بھی ہوسکتا ہے جتنا جلدی ہوسکے اس کا تدارک کریں تاہم زیادتی کرنے والا فریق اپنی زیادتی سے اگر باز نہ آئے تو پھر اس کو ظالم قرار دیتے ہوئے مظلوم کی مدد کریں اور وہ اس طرح کہ ظالم فریق کو خوب اچھی طرح باور کرا دیں کہ ہماری ہمدردیاں ہی نہیں ہم مکمل طور پر مظلوم فریق کے ساتھ ہیں اب تم لوگوں کو جو کچھ کرنا ہے وہ ہمارے ساتھ کرنا ہے اس معاملہ میں اگر جنگ ناگزیر ہوجائے تو پھر مظلوم کے ساتھ ہو کر ظالم سے جنگ کرنا ہے تاوقتیکہ وہ فریق اصل حقیقت کی طرف لوٹ آئے اور پھر جونہی وہ حقیقت کی طرف لوٹے تو نہ صرف یہ جنگ سے رکنا ہے بلکہ اس کا صحیح تصفیہ کرکے دونوں فریق کو دو نہیں ایک بنانا ہے کیونکہ اسلام فرقہ بندی اور متفرق ہونے کی مذمت کرتا ہے ان کے اختلاف کو ختم کرانے کے بعد ان کو شیرو شکر بنانے کے اقدامات کرنا ہیں تاکہ اگر کوئی بات دلوں میں ایسی موجود ہے تو وہ بھی نکل جائے اور دل اس خباثت سے بالکل پاک ہوجائیں اس طرح سارے مسلمانوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں ، دو فریق جو اصل میں بھڑ گئے ان کی ذمہ داریاں اور نوعیت کی ہیں اور جو فریق درمیان میں صلح کے لیے پڑا تھا اس کی ذمہ داریاں اور نوعیت کی ہیں پھر اگر اصلاح کی کوئی صورت نکل آئے تو سب فریقوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور سب کو اسلام کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنا چاہیے زیادتی کرنے والے گروہ سے حسب و نسب کے تعلقات ہوں ، ہم مشرب ، ہم فکر اور ہم خیال ہونے کے تعلقات ہوں تو بھی ان تعلقات کا لحاظ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مظلوم کے ساتھ کوئی پرخاش بھی ہو تو اسی وقت اس کو بھلا کر اس کی مدد لازم و ضروری ہے اگر اس میں کسی نے کوئی کوتاہی کی تو وہ اس کوتاہی کے باعث مومن نہیں رہے گا یہ حکم عام ہے لنک افسوس کہ آج فی زماننا جس حالت سے ہم دو چار ہیں وہ حالت کسی سے پوشیدہ نہیں ہمارے درمیان مذہبی جنگ جاری ہے بلکہ اس وقت خوب زوروں پر ہے آپس میں خاندانی رقابتیں زوروں پر ہیں اور سیاسی صورت حال نہایت ابتر ہے اور کسی ایک مقام پر حق و ناحق کی بات نظر نہیں آتی ہر جگہ جنگ ہے مکاتب فکر کی جنگ ہے ، فرقہ بندی کی جنگ ہے ، خاندانی رقابتوں کی جنگ ہے ، سیاسی پارٹیوں کی جنگ ہے اور ان ساری جنگوں میں بڑے بڑے عقل و فکر والے ، بڑے سمجھدار ، بڑے بڑے دین کے دعویدار ، مذہب کے ٹھیکہ دار ، اسلامی سیاست کی ڈینگیں مارنے والے ، سپاہ صحابہ کا نام استمعال کرنے والے ، سپاہ محمد کا نام رکھنے والے پھر تعجب ہے کہ سب کے سب ایک کلمہ پڑھتے ہیں ایک اللہ کو مانتے ہیں ، محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور خاتمیت کے دعویدار ہیں ایک مذہب و ملت سے وابستہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور قرآن کریم کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں گویا بنیادی عقائد کے اندر بھی ان کو کوئی اختلاف نہیں پھر جس بات پر لڑ رہے ہیں اور برسرپیکار ہیں وہ بات بھی آج کی نہیں بلکہ اس کو بھی ہزار ہا سال سے بہرحال زیادہ گزر چکے ہیں مثلاً شیعہ سنی جھگڑا ہے جو پچاس ہجری کی بات پر ہے حنفیوں ، مالکیوں ، شانعیوں اور حنبلیوں کا جھگڑا اپنے عقیدہ سے لحاظ سے سب کہتے ہیں کہ چاروں حق ہیں لیکن چاروں حق ہونے کے باوجود ان میں وہ نفرت پائی جاتی ہے جو ایک ہندو اور مسلمان ، یہودی اور مسلمان ، عیسائی اور مسلمان ، لامذہب اور مسلمان کے درمیان بھی نہیں پائی جاتی اور پھر یہ نفرتیں رکھنے والے جاہل ، اجڈ اور ناخواندہ لوگ بھی نہیں اس میں زمانہ کے متقی و پرہیزگار ، مذہبی اور سیاسی رہنما سب کے سب برابر کے شریک ہیں اور سب قرآن کریم کی اس آیت کو جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں ، اس پر ہاتھ پھیر کر اپنے منہ پر لگاتے ہیں اس کو متبرک خیال کرتے ہیں ، اس کو کلام اللہ سمجھتے ہیں ، اس کی طرف پیٹھ کرنا حرام جانتے ہیں ، اس کو بغیر وضو و طہارت کے چھونا ناجائز سمجھتے ہیں ، اس پر بہترین قسم کا غلاف ڈال کر سروں سے اوپر کہیں طاق پر رکھتے ہیں ، صبح اٹھ کر اس کی چند آیتوں کی تلاوت کرنا ایک نہایت اچھا عمل جانتے ہیں لیکن اس حکم کی جو قدر و قیمت وہ ڈال رہے ہیں وہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے موجود ہے کہ اس ہمارے دور میں جس طرح اس کی طرف مسلمانوں نے پیٹھ کردی ہے اور اس کو وراء ظہر پھینک دیا ہے اس کی مثال کسی دوسرے زمانہ میں نہیں ملتی اور جو مثالیں گزشتہ ادوار اور خصوصاً صحابہ کرام ؓ اور تابعین عظام (رح) کے دور کی ہمارے اندر سرایت کرچکی ہیں ان کی کوئی اصل موجود ہی نہیں اور اگر کوئی غلط فہمی پیدا بھی ہوئی تو وہ اس وقت کے منافقوں اور یہودیوں کی ریشہ دوانیوں سے ہوئی جس کا وقت پر تدارک بھی کردیا گیا آج ان داستانوں کو داستان گوئوں نے جس طرح بڑھا چڑھا کر کچھ سے کچھ کردیا ہے اور جس طرح پر سے کوا اور کوے سے ڈار بنایا ہے اس کی مثال باقی دنیا میں بہت ہی کم ملتی ہے قرآن کریم کی اس ہدایت اور تعلیم کی جو وضاحت نبی کریم ﷺ نے کی ہے وہ آج بھی من و عن ہمارے پاس موجود ہے اور اس کو بھی ہمارے سارے مذہبی گروہ ، سیاسی لیڈر اور سارے پڑھے لکھے سمجھدار لوگ حق مانتے اور سمجھتے ہیں۔ مثلاً آپ ﷺ نے فرمایا : (1) (سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر) (بخاری و مسلم ، مشکوٰۃ ص 411 ، عن عبداللہ بن مسعود ؓ ” مسلمان کو گالی دینا گناہ اور اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کفر ہے “ (2) (لاینبغی لصدیق ان یکون لعانا) (صحیح مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص 411 عن ابی ہریرہ ؓ ” کسی مسلمان کے شایان شان نہیں کہ وہ دوسروں پر لعنت کرتا پھر۔ “ (3) (مثل المومنین فی تو ادھم و تراحمھم و تعاطفھم مثل الجسد اذا اشتکیٰ منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالسھر والحمی) (بخاری ، ترمذی ، جمع الفوائد ص 358 ج 2 ، عن نعمان بن بشیر ؓ ” باہمی دوستی اور ایک دوسرے پر رحم و شفقت میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے جب اس کے کسی عضو کو کوئی تکلیف ہو تو پورا جسم اس کی خاطر بخار اور بیداری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ “ (4) (انصرا خاک ظالماًٰ او مظلوماً فقال الرجال یا رسول اللہ انصرہ اذا کان مظلوماً افرایت ان کان ظالماً کیف انصرہ ؟ قال تعجزہ اور تمنعہ عن الظلم فان ذلک نصر تہ) ( بخاری ، ترمذی جمع الفوائد ص 355 ج 2 ، عن انس ؓ ” اپنے بھائی کی مدد کر ، ظالم ہو تب بھی مظلوم ہو تب بھی ، ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ مظلوم کی تو میں مدد کروں گا لیکن ظالم کی مدد کیسے کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے ظلم سے روکو ، یہی اس کی مدد ہے۔ “ (5) (مامن مسلم یخذل امر امسلمافی موضع ینتھک فیہ حرمتہ وینتقص فیہ من عرضہ الاخذلہ اللہ فی موضع یحب فیہ من حرمتہ الانصرہ اللہ فی موضع یخب نصرتہ ) (ابو دائود جمع الفوائد ص 355 ج 2 ، عن جابر وابو طلحہ ؓ ” جو مسلمان بھی کسی دوسرے مسلمان کو کسی ایسی جگہ بےیارو مددگار چھوڑ دے جہاں اس کی بےحرمتی ہورہی ہو اور آبرو پر حملہ کیا جارہا ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ایسی جگہ بےیارو مددگار چھوڑ دے گا جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرتا ہو اور جو شخص بھی کسی مسلمان کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا جہاں اس کی آبرو پر حملہ کیا جارہا ہو اور جہاں اس کی بےحرمتی کی جارہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی ایسی جگہ مدد کرے گا جہاں وہ اپنی مدد کو پسند کرتا ہے۔ “ (6) (من ذب عن عرض اخیہ رد اللہ النار عن وجھ یوم القیامۃ ) ( ترمذی جمع الفوائد ص 355 ج 2 ، عن ابوالدرداء ؓ ” جو شخص اپنے بھائی کی آبرو کا دفاع کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور رکھے گا “ (7) (المسلم اخوالمسلم لایظلمہ ولا یسلمہ و من کان فی حاجۃ اخیہ کان اللہ فی حاجۃ و من فرج عن مسلم کر بۃ فرج اللہ عنہ بھامن کرب یوم القیامۃ ومن ستر مسلما سترہ اللہ یوم القیامۃ) (ابودائود ، جمع الفوائد 356 ج 2 عن عبداللہ بن عمر ؓ ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے اس کے دشمنوں کے حوالے کرتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرنے میں لگ جاتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی کوئی بےچینی دور کرے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے قیامت کی بےچینیوں میں سے اس کی کوئی بےچینی دور کرے گا اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ “ (8) (الا اخبر کم بافضل من درجۃ الصیام و الصلوٰۃ والصدقۃ قالو ابلیٰ قال صلاح ذات البین فان فساد ذات البینھی الحالقۃ لا اقول تحلق الشعر ولکن تحلق الدین) (ابودائود جمع الفوائد ص 361 ج 2 ، عن ابورداء ؓ ” کیا میں تم کو نفلی روزے ، نماز اور صدقہ سے زیادہ افضل چیز نہ بتائوں ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا ضرور بتائیے ، آپ ﷺ نے فرمایا باہمی تعلقات کو خوش گوار بنان اس لیے کہ باہمی تعلقات کا بگاڑ مونڈنے والی چیز ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ بال مونڈتا ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔ “ (9) (لا یحل ل مومن ان یھجر اخاہ فوق ثلث لیال یلتقیان فیعرض ھذا و یعرض ھذا و خیر ھما الذی یبدا بلملام) ( بخاری ، مسلم ، جمع الفوائد ج 2 ص 395 ، عن ابو ایوب ؓ ” کسی مومن کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ایسا قطع تعلق کرے کہ دونوں ملیں تو یہ اس سے منہ موڑ جائے اور وہ اس سے منہ موڑ جائے ان دونوں میں بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے “ (10) (الدین النصیحۃ ، قلنا لمن یا رسول اللہ ؟ قال اللہ ولکتابہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین و عامتھم) ( صحیح مسلم جمع الفوائد ص 371 ج 2 ، عن تمم الداری ؓ ” بلاشبہ دین خیر خواہی کا نام ہے ، ہم نے پوچھا کس کے لیے یا رسول اللہ ﷺ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے لیے ، اس کی کتاب کے لیے ، اس کے رسول کے لیے ، مسلمانوں کے حکا کے لیے اور عام لوگوں کے لیے ۔ “ اوپر دس احادیث ہم نے درج کی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہی دس احادیث ہیں جن میں اصلاح بین المسلمین کا حکم ہے نہیں ! اس طرح کے ارشادات اتنے ہیں کہ اگر ان کو نقل کیا جائے تو ایک کتاب تیار ہوجائے ہم نے صرف دس پر اکتفا کیا ہے ویسے بات پر عمل کرنا ہو تو ایک ہی بار کا آپ ﷺ کا حکم کفایت کرتا ہے اور نہ ماننے اور نہ تسلیم کرنے والوں کے سامنے ایک حکم سو بار بھی پیش کیا جائے تو وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیں گے ان کو ایک بار یا سو بار کے حکم سے کیا فرق پڑے گا اس وقت جو حالت ہم مسلمانوں کی ہے اور جو کمزوریاں قوم مسلم کے اندر آچکی ہیں ان کا دور کرنا جوئے شیر لانے کیے مترادف ہے۔ پھر یہ حال کسی ایک ملک کا نہیں پوری دنیا میں اسلامی ممالک کا یہی حال ہے کہ مسلمان کہلانے ، ایک قبلہ کی طرف منہ کرنے ، ایک اللہ کی توحید کا اعلان کرنے ، ایک کلمہ کا ورد کرنے ، ایک کتاب کو کتاب اللہ اور ایک رسول کو رسول اللہ اور خاتم النبیین ماننے اور تسلیم کرنے کے بعد آپس میں برسر پیکار ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے کو ہڑپ کرجائیں اور اس مقصد کے لیے غیروں سے مدد کے طلب گار ہیں اور اس قرآن کریم کی اشاعت میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے میں کوشاں ہیں اللہ تعالیٰ ہم کو سمجھ کر توفیق دے اور ہمارے ان اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو آپس کے تعلقات اپنے مسلمانوں کے اجتماع میں آگے بڑھانے اور مل بیٹھنے کی توفیق دے جس طرح ہمارا قبلہ ، ہمارا اللہ ، ہمارا رسول ، ہماری کتاب ، ہمارا کلمہ ایک ہے اللہ کرے کہ ہماری سوچ ، ہمارا دفاع اور ہمارے آپس کے تعلق اور دکھ درد اور خوشی و غمی بھی ایک ہوجائیں اور سارے اسلامی ممالک مل کر ایک اسلامی ملک و ملت بن کر ایک ہی ملک کے مختلف صوبہ جات تسلیم کرلیے جائیں ہمارا وفاق ایک ہوجائے ، ہمارا قانون ایک ہوجائے اور ہمارا دکھ درد اور خوشی و مسرت بھی ایک ہوجائے اے اللہ ! ہمارے حکمرانوں کو مثبت سچ عطا فرما دے اور ایک ہونے اور عوام کو ایک بنانے کی ہمت عطا فرما۔ اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما۔ خلاصہ کلام کیا ہوا ؟ یہ کہ مسلمانوں میں جنگ نہیں ہونی چاہیے اگر بدقسمتی سے ایسا ہو تو پھر اس ناگوار صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اس ارشاد الٰہی کے مطابق عمل کرنا چاہیے اس باہمی جنگ وجدل کی مختلف صورتیں ہیں اور ہر صورت کے اپنے اپنے مخصوص احکام ہیں سب سے پہلے جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھے تو قطع نظر اس کے کہ لڑنے والے کثیر التعداد ہیں یا مختصر سا گروہ ہے ، یہ تصادم حکومت سے ہے یا ایک قبیلہ کا دوسرے قبیلہ سے یا ایک گروہ کا دوسرے گروہ سے ؟ ان تمام صورتوں میں دوسرے مسلمانوں کو محض تماشائی بن کر رہنے کی اجازت نہیں بلکہ انہیں اپنے اثرو رسوخ سے کام لیتے ہوئے اس فتنہ کو فرو کرنے کی ہر امکانی کوشش کرنی چاہیے اگر یہ لڑائی دو خاندانوں یا رعایا کے دو گروہوں کے درمیان ہے تو ان کے درمیان مصالحت اور اصلاح احوال کی اولین ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اثر و اختیار سے کام لے کر صورت حال پر قابو پائے اور اگر ارباب حکومت اس میں دلچسی نہ لیں یا معاملہ ان تک پہنچا ہی نہ ہو تو پھر اہل محلہ یا علاقہ کے بااثر لوگوں کا فرض ہے کہ مصالحت کی مخلصانہ کوشش کریں اگر حکومت اس طرح کے ادارے نہ بنائے جو اپنے علاقہ کے اندر ایسے حالات کا جائزہ لے کر جہاں کہیں اس طرح کی صورتحال ظاہر ہو اس کا حل تلاش کریں تو وہ حکومت نہ اسلامی حکومت کہلا سکتی ہے اور نہ ہی حکومت کرنے کا ان لوگوں کو حق ہے اگر وہ مسلمان رعایا کے اس ابتدائی حق کی نگہداشت بھی نہیں کرسکتے تو وہ حکمران کیسے حکمران ہوں گے اور ان کو حکومت کرنے کا کیوں حق حاصل ہوگا ؟ لیکن اس ملک عزیز کو معرض وجود میں آئے کتنا عرصہ ہوا یا آج تک کسی حکمران نے اس معاملہ میں کوئی حرکت کی یا کسی سیاسی اور مذہبی رہنما نے یہ سوال اٹھایا کہ حکمرانوں کی جو ابتدائی ذمہ داری ہے اس کی طرف کیوں توجہ نہیں دی جاتی اگر اس معاملہ میں پیش رفت کی جائے تو کیا جھگڑے ، لڑائیاں اور قتل و غارت کی ساری نوبتوں کا دفاع ممکن نہیں ہوسکتا ؟ اگر ہوسکتا ہے اور یقیناً ہوسکتا ہے تو اس سلسلہ میں قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا ؟ ہم سب کا مذہب اسلام ہے۔ اسلام کیا چیز ہے کس کو علم نہیں ؟ کیا اسلام کے کوئی اصول و ضوابط نہیں ؟ اگر اسلام کوئی چیز ہے اور اس کے اصول و ضوابط بھی ہیں تو ان کی وضاحت کیوں نہیں کرائی جاتی تاکہ ان غیر اسلامی چیزوں کو اس سے نکال کر صحیح اسلام کی داغ بیل ڈالی جاسکے تاکہ یہ فرقہ بندیاں روز بروز بڑھنے کی بجائے خود بخود سمٹنے لگیں اور آہستہ آہستہ ان کا وجود ختم ہوجائے کیا اسلام کوئی ایسا بےلگام گھوڑا ہے کہ جدھر اس کا منہ آئے وہ دوڑتا پھرے اور اس کے منہ کو پھیرنے والا کوئی نہ ہو ؟ اوپر غور و خوض کرنے کا ایک رخ بیان کیا گیا اور اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر کوئی گروہ ، جماعت ، پارٹی یا فرد حکومت سے متصادم ہوتا ہے تو اس کے حل میں حکومت کیا اقدام کرے اور عوام کی ذمہ داری کیا ہے ؟ یہ کہ حکومت کی مخالفت کرنے والا کیوں مخالفت کرتا ہے اس کی وجہ معلوم کی جائے اگر وہ مخالفت صحیح مخالفت ہے تو حکومت کو وہ وجہ ختم کرنا ہوگی جو اس مخالفت کا باعث ہوئی اور اگر مخالفت کرنے والا غلط ہے تو حکومت اس کو قرار واقعی سزا دے اور عوام بھی حکومت کا ساتھ دیں اور اگر وہ گروہ ، جماعت یا پارٹی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی ہے اور اس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ ایسا کرسکتی ہے یا بغاوت پھیلا سکتی ہے تو ضروری ہے کہ عوام حکومت کا ساتھ دے کر اس کی طاقت کو ختم کریں اور بغاوت و انارکی پھیلانے والوں کا قلع قمع کریں۔ ہاں ! سخت اقدام کرنے سے پہلے ان کی تفہیم کے لیے حالات اجازت دیں تو ضرور ان کو متنبہ کیا جائے تاکہ الجھائو سے بچا جاسکے اگر کوئی صورت ممکن ہو اس جگہ ہمارے مفسرین نے صحابہ کے مناتشات کا ذکر بھی کیا ہے اور دونوں اطراف سے جو کچھ کیا گیا وہ بھی بیان کیا گیا ہے لیکن ہم اس کو نظر انداز کر رہے ہیں کیونکہ اس وقت کی تاریخ اس قدر مسخ ہوچکی ہے کہ جس کا تجزیہ کرنے کا یہ موقع و محل نہیں ہے کم از کم اس معاملہ میں ایک کتاب تیار کرنا ضروری ہے تاکہ اس میں مکمل وضاحت موجود ہو اور اس کے بعد تفسیری نوٹ میں اس کا حوالہ ہی دیا جاسکے اور اس طرح کی کوئی کتاب ہماری نظر سے نہیں گزری جس کو بنیاد بناکر اس معاملہ میں گفتگو کی جاسکے ہم ایک بار پھر گزارش کرتے ہیں کہ آیت کا حکم عام ہے گزشتہ لوگوں کے واقعات بر بحث کرنے کی بجائے موجودہ حالات پر بحث کرنا اور صورتحال کو درست کرنا علماء کرام کا اصل کام ہے نہ کہ گزشتہ موضوعات پر بحث و تکرار پر سارا وقت صرف کردینا کیونکہ ایسے واقعات کے لیے ہمارے لیے رب ذوالجلال والا کرام کی یہ ہدایت موجود ہے کہ (تلک امۃ قد خلت لھا ماکسبت ولکم ما کسبتم ولا تسلون عما کانویعملون) (البقرہ 141:2) ” وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اور ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے کمایا اور تم سے ان کی حالت کے بارے میں بالکل نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے “ پھر ایک غرن متعلق بات پر گفتگو کرتے رہنا عقل مندی نہیں بلکہ عقل مندی یہ ہے کہ اپنے معاملات پر غور و فکر کیا جائے کہ اس وقت ہم کیا کر رہے ہیں اور ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟ زیر نظر آیت کے مفہوم میں بہت وسعت ہے اور اس وسعت کے پیش نظر ہم کو اپنا تجزیہ کرتے رہنا بہت ضروری ہے آج جب ہر طرف سے ایسے حالات موجود ہیں کہ ہمارے ہر فرد کو اس سلسلہ میں جہاں بھی وہ موجود ہے اس طرح کی جدوجہد کرتے رہنا لازم و ضروری ہے اور صلح کرتے وقت اگر کمزور کو مزید دبا کر صلح پر مجبور کیا گیا تو یہ وہ ظلم ہوگا جو ان ظالموں سے بھی بڑا ہوگا جو پہلے ہی ظلم کر رہے ہیں اور اس کی اصلاح کرانے والے نہ تو صحیح معنوں میں اصلاح کرا سکیں گے اور نہ ہی ظلم کا دفاع بلکہ وہ ظالموں کے ساتھ مل کر ظالم بن جائیں گے لیکن اس وقت ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ یہی ہے کہ فیصلہ کرنے والے پنچ اور چودھری صاحب جب منتخب ہوتے ہیں تو وہ ہمیشہ جس کو کمزور دیکھتے ہیں اس کو مزید دبا کر اور جھکا کر صلح پر مجبور کردیتے ہیں اور اس طرح صلح کرا کر وہ لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عنداللہ وہ منصف نہیں بلکہ ظالم کا کردار ادا کرتے ہیں اور ایسے اصلاح کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کبھی پسند نہیں کرتا بلکہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام ان ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے جو عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ نکلنے دیں اور عدل و انصاف سے کام لیتے ہوئے حق کا ساتھ دیں اللہ تعالیٰ ہم کو ظالموں کے شر سے محفوظ رکھے اور ہم کبھی ظالموں کی حمایت کرنے والے نہ ہوں کیونکہ ظالموں کی حمایت کرنے والا ان ظالموں سے بھی زیادہ ظالم اور مجرم ہوتا ہے۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

بلاشبہ مسلمان تو (آپس میں) بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لیے اگر کوئی پرخاش ہے تو اس کو ختم کرا دو 10 ۔ سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور بھائیوں کے درمیان شکر رنجی اور پرخاش کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے اور فی الواقع انسان اس معاملہ میں اکثر بخیل ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق کو تو حق سمجھتا ہے لیکن دوسرے کے حق کا کبھی خیال نہیں کرتا حالانکہ حقیقی اور سچی بات تو یہ ہے کہ جس طرح ” م “ اپنا حق ” عین “ پر سمجھتا ہے اس کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ ” عین “ کا حق بھی مجھ پر اسی طرح کا ہونا چاہیے نہیں بلکہ اس طرح کا حق ” عین “ کا مجھ پر بھی ہے لیکن اس طرح کی سوچ بہت کم دیکھی گئی ہے بلکہ ہر شخص اپنے ہی حق کا رونا روتا نظر آتا ہے جو اس پر دوسروں کے حقوق عائد ہوتے ہیں ان کا کم ہی کوئی نام لیتا ہے اور یہ بخل ہر جگہ پایا جاتا ہے الاماشاء اللہ ۔ فرمایا مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں یہ اگر کسی معاملہ میں الجھ گئے ہیں تو جتنا جلدی ہوسکتا ہے ان کے درمیان صلح کرائیں اگر تم نے ان کے درمیان صلح نہ کرائی اور ان کا تماشا دیکھتے رہے تو تم نے اپنے ظلم کا اظہار اپنے کردار سے کردیا اور اس طرح تم کچھ نہ کرنے کرنے کے باوجود ظالم ٹھہرے اور اللہ تعالیٰ کا ڈر اختیار نہ کیا بلکہ اس سے نڈر ہوگئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تم اس کے رحم و کرم کے مستحق نہیں ٹھہرو گے اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے تم متقی بن جائو تو تم کو خاموش نہیں رہنا ہوگا بلکہ ان اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرانے کی جستجو کرنا ہوگی تب ہی کہیں جاکر تم اللہ کے رحم و کرم کے مستحق ٹھہرو گے اور اللہ کی رحمت کے مستحق تم اسی وقت ہوسکتے ہو جب امت مسلمہ کے افراد انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایک دوسرے سے محبت و پیار کا مظاہرہ کریں اور آپ رسول اللہ ﷺ کا پیغام پڑھ چکے ہیں جو نمبر 8 پر گزر چکا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان صلح کرانا نفل نماز ، روزہ اور صدقہ و خیرات سب سے زیادہ اجر کا مستحق ہونا ہے اس کے باوجود ہم اس معاملہ میں کبھی متحرک نہیں ہوتے بلکہ دو آدمیوں ، دو گروہوں ، دو پارٹیوں اور دو مکاتب فکر کے درمیان کسی طرح کا الجھائو دیکھ کر مزید الجھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کے درمیان لڑائی جھگڑا دیکھ کر ہم بہت خوش ہوتے ہیں کہ اگر یہ لوگ اسی طرح آپس میں الجھے رہیں گے تو ہم کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا اس لیے اگر ہمارے اختیار میں ہوا تو ہم ان کے اس طرح الجھتے رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو شہ دلا کر مزید بھڑکا دیتے ہیں تاکہ یہ آگ کہیں بجھ نہ جائے ہم میں کتنے ہیں جن کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ایسی آگ اگر مسلسل سلگتی رہے اور اس کا دھواں نکلتا رہے تو ہم اس دھوئیں کو دیکھ کر خوش ہوں ہم اس نظریہ پر لاحول ولا قوۃ الا باللہ ہی پڑھ سکتے ہیں اس وقت ہماری طبقاتی تقسیم نے ہم کو اس طرح تقسیم کرکے رکھ دیا ہے کہ آج ہم ایک دوسرے کے ساتھ اس سلسلہ میں گفتگو تک نہیں کرسکتے اور خصوصاً باپ دادا والے لوگ اپنے آپ کو ایسا سمجھتے ہیں کہ کوئی غریب اور بغیر باپ دادا کے اس دنیا میں آنے والا ان کو ان کی اس طرح کی زیادتیوں کی نشاندہی بھی نہیں کرا سکتا اور اگر کوئی ایسی بات کہہ دے گا تو وہ اس کو اتنا برا سمجھیں گے کہ گویا اس نے ایسی بات کہہ کر ان کی عزت پر ہاتھ ڈال دیا ہے اور وہ اس کو اس طرح مخاطب ہوں گے کہ گویا اس نے ایسی بات کہہ کر کوئی بہت بڑی گستاخی کی بات کہہ دی ہے یا کوئی گالی نکال دی ہے اور ائندہ وہ اس طرح کی بات کرنے کی جرات ہی نہ کرسکے اور دخل در معقولات کا مرتکب نہ ہو اور وہ ایسا جرم آئندہ نہ کرے غور کرو کہ جو کچھ ہمارے معاشرہ میں اس وقت ہورہا ہے وہ یہی نہیں ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اور جو ذکر ہم نے کیا ہے آنے والی آیت کریمہ اس کی خود وضاحت پیش کررہی ہے۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! (تم میں سے) ایک جماعت دوسری جماعت کا مذاق نہ اڑایا کرے ممکن ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑایا کریں ممکن ہے کہ وہ عورتیں ان سے بہتر ہوں اور نہ اپنے لوگوں پر عیب لگاؤ اور نہ برے القاب دے کر ایک دوسرے کو بدنام کرو ، ایمان لانے کے بعد (کسی کا) برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو کوئی (ایسی حرکتوں سے) توبہ نہ کرے تو یہی لوگ ظالم کہلائیں گے

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تمہارا کوئی گروہ دوسرے گروہ کو حقیر نہ سمجھے 11 ۔ ایک بار پھر مسلمانوں کو مخاطب کرکے حکم دیا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! کان کھول کر سن لو کہ تم میں سے کوئی قوم ، دوسری قوم کا تمسخر نہ اڑائے اور نہ ہی اس کو کوئی حقیر سمجھے عین ممکن ہے کہ جو جماعت دوسری کو حقیر سمجھتی ہے اس سے حقیر سمجھی جانے والی ہی اپنے اعمال کے باعث اس سے اچھی اور بہتر ہو۔ خیال رہے کہ اس جگہ قوم سے مراد وہ خاندانی تقسیم کی قوم ہے جو شناخت کی جانے کے لیے ضروری ہوتی ہے اور ایک ہی قوم کے لوگوں کے اندر شعوب و قبائل کی صورت میں تقسیم ناگزیر ہوجاتی ہے اور یہ محض شناخت کے لیے ہوتی ہے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت ہوتی رہے اور ایک دوسرے کا حال معلوم کرنے کے لیے آسانی پیدا ہوجائے جیسے عربوں میں پہلی تقسیم بنی جرہم اور بنی اسماعیل کے نام سے تھی اور پھر بنی اسماعیل کے اندر کے قبائل میں قریش اور پھر قریش کے اندر بنی ہاشم اور بنی امیہ وغیرہ مدینہ میں اوس و خزرج اور پھر دونوں گروہوں کے اندر کے بہت سے قبائل میں تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی اور آج ہمارے ہاں بڑی بڑی قوموں میں تارڑ ، وڑائچ ، باگڑی اور پھر ان کے اندر قبائل کے لحاظ سے بہت سے خاندان صرف پہچان کا کام دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کا ہیچ اور حقیر بھی سمجھا جاتا ہے اور جن لوگوں کی علاقہ میں اکثریت ہوتی ہے وہ اپنی اکثریت کے بل پر دوسری قوموں کو جو اقلیت میں ہوں حقیر سمجھتی ہیں اور اس طرح زمیندار اور کاشتکار غیر زمینداروں اور غیر کاشتکاروں کو بہت حقیر سمجھتے اور جانتے ہیں اور کمزور قوموں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے اور طاقت ور قوموں نے کمزور قوموں کو اچھوت بنا کر رکھ دیا ہے ان کے ساتھ رشتہ ناطہ تو درکنار برابری کی بییس پر بات چیت کرنا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ اوپر جنگ وجدل کی بات کی گئی تھی اس جگہ جن باتوں کے باعث جنگ وجدال تک انسان ، جماعت یا گروہ پہنچ جاتا ہے اس سے روکا گیا ہے کہ ایسے حالات پیدا ہی نہ ہوں لاریب دین اسلام میں یہ خوبی بھی ہے کہ جہاں بیماریوں کا قلع قمع کرتا ہے وہ ان عوارضات کو بھی ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے جو ان بیماریوں کا باعث بنتے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اصلاح احوال کی صرف اسی صورت ہی کا قائل نہیں جس سے پہلے حالات کو بگڑنے دیا جائے اور پھر اس کی صلاح کی جائے بلکہ وہ داعی ہے اس بات کا کہ جذبات کو مشتعل ہی نہ ہونے دیاجائے اور عداوت کے شعلے بھڑکنے ہی نہ دیئے جائیں تو زیادہ بہتر یہی صورت ہے وہ نہیں چاہتا کہ جب خون کی ندیاں بہنے لگیں تو آگے بڑھ کر کوئی کوشش شروع کی جائے اور اس طرح ان لوگوں کو اس کا موقع فراہم کیا جائے کہ پہلے وہ آگ بھڑکائیں اور جب خوب بھڑک جائے تو خود ہی اس کو بجھانا شروع کردیں یا وہ بھڑکائیں اور دوسرے ان کو بجھانا شروع کردیں نہیں ! وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اللہ کرے یہ آگ کہیں بھڑک ہی نہ پڑے غور کرو کہ زیر نظر آیت نے سب سے زیادہ آگ بھڑکانے والی چیز کی کس طرح نشاندہی کردی اور ایی باتوں سے سختی کے ساتھ روک دیا جس سے اسلامی معاشرے کا امن و سکون برباد ہوتا ہے محبت کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور خون خرابہ شروع ہوجاتا ہے اس سلسلہ میں پہلا حکم یہ دیا کہ اے مسلمانو ! ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑایا کرو اور یہ امر معلوم ہے کہ مذاق اسی کا اڑایا جاتا ہے جس کی عزت و احترام دل میں موجود نہ ہو جب آپ کسی کا مذاق اڑاتے ہیں تو گویا آپ اس چیز کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ اس شخص کی میرے دل میں کوئی عزت نہیں اور پھر جب آپ اس کی عزت نہیں کرتے تو اسے کیا پڑی ہے کہ وہ آپ کا احترام کرے اور اس طرح جب دلوں سے ایک دوسرے کا احترام اٹھ جائے تو انسان عداوت و دشمنی کی طرف بڑھنے لگتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے یہی کہ آدمی بات کرے گا تو اس کی نقلیں اتارے گا ، منہ چڑھائے گا ، اس کے نام کو الٹا کرکے بلائے گا جیسے سردار خاں کو ” دارو “ حالانکہ ان ساری باتوں سے اسلام نے منع کیا ہے۔ اسلام کے جتنے احکام ہیں جو مردوں کا نام لے کر بیان کیے جاتے ہیں عورتیں بھی اس میں شامل ہیں کہیں باہر نہیں جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ اور اسی طرح دوسرے احکام و منیہات سب میں عورتیں مردوں کے ساتھ شامل ہیں لیکن بعض جگہ مردوں کے ساتھ عورتوں کو الگ کرکے بھ یذکر کیا جاتا ہے اس لیے کہ دراصل وہاں یہ بات باور کرائی جاتی ہے کہ اس جگہ مردوں سے زیادہ عورتوں میں ان احکام کا ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ اس معاملہ میں زیادہ کوتاہی کرتی ہیں جس طرح زیر نظر آیت میں عام حکم دینے کے بعد پھر عورتوں کا مخصوص حکم بھی بیان کیا گیا اور اس کا اصل باعث یہی ہے کہ اس طرح کا مذاق اڑانے اور ان پر پھبتی کسنے میں عورتیں بڑی تیز رفتار ہوتی ہیں اس لیے اس نازیبا حرکت سے جب روکا گیا تو عورتوں کے لیے مخصوص حکم بھی دیا کہ عورتیں بھی دوسری عورتوں کا مذاق نہ اڑایا کریں اس لیے کہ شاید جن کا مذاق اڑا رہی ہیں وہ ان سے بہتر ہوں یعنی مذاق اڑانے والیوں سے جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہ بہتر ہوں اعمال و کردار کے لحاظ سے کیونکہ ہمیشہ مال و دولت اور برادری و خاندان ہی بڑے اور بہتر ہونے کا معیار تسلیم کیا جاتا ہے اگرچہ اسلام کی نگاہ عمیق میں اس کا لحاظ نہیں رکھا گیا بلکہ اسلام محض تقویٰ و پرہیز گاری کو بزرگی اور بہتری کا معیار تسلیم کرتا ہے اور باقی چیزوں کو وہ نہیں دیکھتا گویا مال و دولت ، برادری اور خاندان شرافت کا کوئی معیار نہیں ہیں عین ممکن ہے جو اپنے آپ کو شریف سمجھتی ہیں وہی حقیقت میں رذیل ہوں کیونکہ جس میں رذائل ہوں گے وہ رذیل اور جن میں فضائل ہوں گے وہ شریف کہی جائیں گی اور اسلام کے نزدیک فضائل ہی شرافت کا معیار ہیں خواہ وہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو۔ اس کے بعد ایمان والوں کو اس آیت میں دوسرا حکم یہ دیا گیا ہے کہ ” اے مسلمانو ! ایک دوسرے پر عیب نہ لگائو “ اور عیب کے لیے جو لفظ اس جگہ استعمال کیا گیا وہ (لمز) کا ہے اس لیے قابل غور بات یہ ہے کہ (لمز) کیا ہے۔ (لمز) کے معنی ہیں طعن کرنا ، چبھونا ، آبرو اور آنکھ سے بطور طنز اشارہ کرنا اور خیال رہے کہ تلوار اور اسی طرح کے کسی تیز دھار آلہ سے زخم جلد مند مل ہوجاتا ہے لیکن زبان کا زخم جلد مندمل نہیں ہوتا اور زبان کے زخم سے زیادہ گہرا اور گھائو ڈال دینے والا زخم اشارہ و کنایہ کا زخم ہوتا ہے جو صرف اور صرف آنکھ کرتی ہے اور تعجب ہے کہ جس کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ اسی وقت اس بات کو سمجھتا ہے لیکن نشانہ بنانے والا کم ہی اس بات کا خیال کرتا ہے اور ابرو اور آنکھ سے بطور طنز اشارہ کرنا لوگوں میں عام پایا جاتا ہے اور اکثر بڑے لوگ جب وہ کمزوروں سے گفتگو میں مصروف ہوں تو اس طرح ابرو اور آنکھ سے اشارہ کرتے ہیں جس سے کمزور دلوں کے دل زخمی ہوتے ہیں اور دل سے نازک تر عضو اور کوئی نہیں جو انسان کے جسم میں موجود اعضا پائے جاتے ہیں عیب چینی زبان سے ہو یا ابرو آنکھ کے اشارہ سے کسی طریقہ سے بھی صحیح نہیں ہے بلکہ ایک قابل مذمت چیز ہے۔ تیسرا حکم زیر نظر آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ ” اے مسلمانو ! ایک دوسرے کو برے القاب سے مت بلائو “ (تنابروا) مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر اور چونکہ اس جگہ لا نہیں بھی موجود ہے اس لیے فعل نہی ہے (لاتنابروا) تم چڑمت مقرر کرو تم برے نام مت نکالو (تنابروا) تم برے نام سے مت پکارو اور آپس میں ایک دوسرے کے برے نام مت رکھو ایک دوسرے کو برے نام سے مت یاد کیا کرو اور لقب وہ چھوٹا نام یا نام کا مثنیٰ ہے جس سے آدمی کو بلایا جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کا نام بگاڑ کر بلانے کے عادی ہوتے ہیں اور یہ بات اکثر حقارت کو ظاہر کرتی ہے جیسے سردار خاں سے ” دارو “ جس کو انسان اکثر ناپسند کرتا ہے اگرچہ وہ ناپسندیدگی کمزوری کی نذر ہو کر نظر انداز کردی جاتی ہے تاہم یہ اقدام اچھا نہیں ہے اور خصوصاً کسی غریب کے ساتھ ایسا سلوک تو اور بھی بری بات ہے کیونکہ یہ دوہرا گناہ ہے اور اس طرح کسی اندھے کو اندھا اور کانے کو کانا کہہ کر بلانا بھی برے القاب میں داخل ہے کسی غریب اور نادار کو ” سیٹھ جی “ اور کسی کمزور ور لاغر کو ” پہلوان جی “ کہہ کر مخاطب کرنا بھی اسی ضمن میں آتا ہے ۔ ہاں ! اگر کسی شخص نے اپنا لقب خود رکھا ہے اور وہ اس کے بلانے سے خوش ہوتا ہے اگر وہ فی نفسہ اچھا نہ ہو تو اس سے بلانے میں کوئی قباحت نہیں ہے مثلاً بعض لوگ اپنا تخلص یا لقب ” عاصی “ رکھتے ہیں حالانکہ ” عاصی “ کا لفظ اچھا نہیں اور پھر خود ہی اپنے آپ کو کوئی ” عاصی “ کہتا یا کہلاتا ہے تو وہ دوسری بات ہے اس کو عاصی کہنے میں مضائقہ نہیں ہے۔ چوتھا حکم یہ دیا گیا کہ ” ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری عادت ہے “ اگر کوئی عادت ثانیہ ہوگئی ہے کہ کسی کا نام سیدھا وہ نہیں بلا سکتا اور اس طرح گالی کے سوا وہ بولنا گویا اپنی توہین خیال کرتا ہے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہو کر کسی کا سیدھا نام بلائوں اور پکاروں ، آخر کیوں ؟ اس لیے وہ جب بولے گا اور کسی کو مخاطب کرے گا تو گالی دے کر کرے گا اور بد زبانی کے ساتھ بولے گا اور لوگوں کا مذاق اڑانا گویا ایک فخر کی بات سمجھی جاتی ہے اور ہماری سوسائٹی کا تو آج کل یہ سیدھا اور صاف رواج ہے کہ نام بلائو تو الٹا اور مخاطب کرو تو گالی دے کر پھبتیاں کسو تو خوب بنا بنا کر مذاق اور ٹھٹھہ سے کسی کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہا … ہا اور ہی … ہی کے ساتھ ۔ فرمایا تعجب ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان لانے کا دعویٰ بھی کرے اور اس طرح کی حرکتیں بھی تو اس کی کس بات کی تصدیق کی جائے کیونکہ ایمان کے ساتھ حرکتیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ اب پانچواں اعلان ایک تنبیہہ پر ختم کیا جارہا ہے کہ ” اے مسلمانو ! کان کھول کر سن لو کہ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔ “ فرمایا خوب یاد رکھو کہ جس شخص نے قرآن کریم کے ان اعلانا اور احکامات کو قبول نہ کیا اور ان کو سن کر ، سمجھ کر پھر ان کی خلاف ورزی کی تو یہی لوگ درحقیقت ظالم ہیں و اور ان کو ان کے ظلم کی سزا اگر نہ دی گئی تو ان کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی اور یہ لوگ اپنی روش سے باز نہیں آئیں گے لہٰذا یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جائے اور قاضی ان کو ان کے کیے کی سزا دے اور اس کی سزا کیا ہوگی ؟ ظاہر ہے کہ وہی جو حد قذف کی ہوتی ہے کیونکہ یہ بھی اسی کے برابر گنا ہے۔