47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے اور ان کے مونہوں اور ان کی پشتوں پر مارتے جائیں گے

ان کی حالت کیا ہوگی جب بوقت موت فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ماریں گے 72 ؎ جو اوپر حالت ان لوگوں کی بیان کی گئی ہے وہ محض اس وجہ سے تھی کہ وہ دائیں اور بائیں دونوں طرف سے فائدہ اٹھاتے رہیں اور ہر کوئی ان کو اچھا کہے لیکن ان کی یہ خواہش کبھی دنیا میں بھی پوری نہیں ہوئی اور نہ ہی پوری ہو سکتی ہے بہرحال ان کی دنیوی زندگی تو گزری جیسے گزری ان کی آخرت کا کیا ہوگا ؟ فرمایا آخرت کی منزل موت سے شروع ہوجاتی ہے گویا موت آخرت کی منزل کی پہلی سیڑھی ہے اور اس پہلی سیڑھی پر پہنچتے ہی جو حالت ان کی ہوگی وہ یہ ہے کہ موت کے فرشتے موت طاری کرتے وقت ان کی پیٹھوں اور مونہوں پر تابڑ توڑ کوڑے برسائیں گے اور ان کی اس حالت کا سارا نشہ وہ ہرن کردیں گے اور ابھی تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ قرآن کریم کے الفاظ پر غور کرو کہ فرشتوں نے جو عمل کیا وہ وفات دینے کے بعد کیا ‘ قبر میں کیا یا میدان حشر میں کیا جہاں وہ دوبارہ زندہ ہو کر پہنچیں گے یا وفات دیتے وقت کیا ؟ اگر آپ مجھ ہی سے پوچھتے ہیں تو میں تو یہ آخری بات ہی سمجھا ہوں کہ فرشتے ان منافقین کے ساتھ وفات دیتے وقت ہی یہ عمل کرتے ہیں اور چونکہ فرشتے کوئی مرئی چیز نہیں اس لئے نہ تو وہ نظر آتے ہیں اور نہ ہی ان کا یہ عمل لیکن یہ بیان قرآن کریم کا ہے جو کسی شک و شبہ سے پاک ہے اس لئے ہمارا ایمان ہے کہ یہ عمل من و عن اسی طرح ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کا تعلق آخرت کی منزل سے ہے جو مشاہدہ کی چیز نہیں اور مرنے والا مرتے وقت اس سے دوچار ہے اور اس منزل پر قدم رکھتے ہی اس کے عذاب کا معاملہ شروع ہوجاتا ہے اور لاریب یہ عوارضات روح پر ہوتے ہیں اور روح اس عذاب کو محسوس کرتی ہے اور اس کو اذیت پہنچتی ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس مارنے کا ذکر ہی بیکار ہوتا اور کیا بےکار اور بےفائدہ بات کا ذکر قرآن کریم میں ؟ ہرگز نہیں ہو سکتا اور اس طرح اگر روح جسم کے سوا کوئی الگ چیز نہ ہوتی تو قرآن کریم اس کو (من امر اللہ) نہ کہتا بلکہ صاف کہہ دیتا کہ روح جسم کے علاوہ کوئی چیز نہیں۔ پھر کتنی چیزیں ہیں جن کو انسان جانتا ہے لیکن بیان نہیں کرسکتا حالانکہ وہ اس مشاہدہ ہی کی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں اور اگر آپ مصر ہوں کہ انسان ان کو جانتا ہوں تو بھی آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ جو کچھ جانتا ہے وہ بھی اسی جسم کی مرہون منت ہے اور اگر وہ جسم اس کے سامنے موجود نہ ہو تو وہ اس کا احساس بھی نہیں کرسکتا کہ اس پر کیا اثر ہوا ہے۔ بہرحال اگر یہ حقائق ہیں اور آپ بھی اس کو حقیقت سمجھتے ہیں اور اس کے رد کی کوئی دلیل نہیں رکھتے تو ہر طرف سے خالی الذہن ہو کر بتایئے کہ عذاب قبر یعنی جہاں روح موجود ہے اس پر وہ عوارضات وارد ہوں جو عذاب اور ثواب کا احساس کرائیں تو اس میں آخر اشکال کیا ہے ؟ جب کہ عذاب وثواب کا تعلق مرنے والے کے اپنے عمل ہی کے نتیجہ میں سے ہے نہ کہ کسی دوسرے کے عمل سے کیونکہ اس معاملہ میں اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ (لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم) (2 : 431 ‘ 141) ایک بار پھر غور کرو کہ کھرا اور کھوٹا مل جائیں تو انسان کو کیا کرنا چاہئے ؟ دونوں کو پھینک دینا چاہئے یا دونوں کو استعمال کرنا چاہئے ؟ یا دونوں میں امتیاز کی کوئی صورت اختیار کرنی چاہئے ؟ دلیل کے ساتھ جو رائے آپ کی وہ ہماری اور بغیر دلیل کے جو ہوتا ہے اس کو ضد کہتے ہیں اس لئے اس سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ امتیاز کی صورت کیا ہوگی ؟ یہ ایک الگ سوال ہے جو پہلی بات واضح ہونے کے بعد پیدا ہوگی فی الحال اس کے طے کرنے کا وقت نہیں۔ اس معاملہ میں ہمارا ایک مزید مشورہ اگر قبول ہو تو زہے نصیب۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے وہ یہ کہ آپ غزوہ الوثقیٰ سے درج ذیل مقامات کا مطالعہ کریں جلد دوم سورة النساء کی آیت 79 ‘ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 39 ‘ 49 ‘ جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 05 ‘ جلد پنجم سورة النحل 82 ‘ 23 ‘ جلد ششم سورة المومنون آیت 99 ‘ 001 ‘ جلد ہفتم سورة یٰس آیت 62 ‘ 72 ‘ سورة المومنون آیت 64۔ زیر نظر آیت میں منافقین کی جس ساز باز کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بےنقاب ہونے کے کئی واقعات تاریخ ‘ سیرت اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں اور قرآن کریم نے بھی ان کی طرف بار بار اشارات کئے ہیں جن کا ذکر پیچھے سورة الانفال اور التوبہ میں تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے اور انہوں نے کئی بار میدان جنگ میں جانے اور پہنچ کر واپس چلے آنے ‘ وہاں رہ کر تکلیف میں مبتلا کرنے ‘ مسلمانوں کو غلط راستہ پر لگانے ‘ ذومعنی باتیں کر کے چلتے چلتے شرارت کر جانے کے کارہائے نمایاں ادا کئے اور مخالفین و معاندین کو یقین دہانیاں کرائیں کہ اگر تم مسلمانوں پر حملہ کرو گے تو ہم میدان جنگ میں نہیں آئیں گے اور اگر آئے تو تمہارے حق میں سکیمیں پیش کریں گے اور تم کو یہ اور یہ فائدہ پہنچائیں گے اور اس جگہ ان کی ساری حرکتوں کی طرف صرف اشارہ کیا گیا ہے اور ان کی پہچان ان کو کرائی گئی اور احادیث میں میں ان کی پہچان کو اس سے بھی واضح الفاظ میں پیش کیا گیا ہے فرمایا۔ : (قال : ایتہ ال منافق ثلاث اذا حدث کذب و اذا و عد اخلف وذا اتمن خان) متفق علیہ۔ ” آپ نے فرمایا : منافق تین باتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ اکثر جھوٹ بولتا ہے ‘ وعدہ کو کبھی پورا نہیں کرتا ‘ امانت میں خیانت کرتا ہے “ اور ایک حدیث میں فرمایا۔ (اربع من کن فیہ کان منافقا خالصا و من واذا عاھد غدر واذا خاصم فجز) (متفق علیہ) ” جس میں یہ چار باتیں جمع ہوجائیں وہ پورا منافق ہے اور اگر ان چاروں میں سے کوئی ایک بات پائی جائے تو سمجھ لو اس میں نفاق کی ایک خصلت نے جگہ بنا لی تاآنکہ اسے چھوڑ دے۔ جب امانت دی جائے تو خیانت کرے ‘ جب بولے تو جھوٹ بولے ‘ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب جھگڑے تو گالیوں پر اتر آئے “۔
Ayah 47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جس چیز سے اللہ ناخوش تھا یہ اس کے پیچھے ہو لیے اور اس کی خوشنودی کو پسند نہ کیا پھر (نتیجہ یہ ہوا کہ) اس نے اپنے قانون کے مطابق ان کے اعمال برباد کر دیئے

منافقین کی مذکورہ حالت کیوں ہوگی اس لئے کہ انہوں نے اللہ کی رضامندی کو مکروہ جانا 82 ؎ منافقین کی جو حالت گزشتہ آیت میں بیان کی گئی ہے وہ بہت ہی خوفناک اور دردناک ہے کیونکہ اکثر و بیشتر نفاق کے مرض میں مبتلا ہونے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو کسی بستی ‘ گائوں ‘ شہر ‘ صوبے اور پورے ملک میں گنے چنے لوگ ہوں جن کو ہمارے ہاں اکثر باپ دادا والے لوگ کہا جاتا ہے اور جو اقتدار ‘ حکومت اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور اکثر اپنی من مانیوں میں دو دوسروں کے محتاج نہیں ہوتے اور پر بیان کردہ جس گروہ سے وہ تعلق رکھتے ہیں اسی میں وہ جانے پہچانے اور معروف ہوتے ہیں۔ فرمایا وہ جو کچھ بھی ہوتے ہیں ہوا کریں ان کے اس عذاب کا باعث ان کا کردار ہوگا کہ وہ بجائے اللہ تعالیٰ کی مرضی و رضا تلاش کرنے اور اسی کے مطابق اپنی حالت کو درست کرنے کے اپنے اس اقتدار ‘ مال و دولت ‘ عزت و وقار کے نشہ میں اپنی من مانیاں کرتے رہے ۔ وعدوں کے متعلق ان کا قانون یہ رہا کہ وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہوگیا اور جو ان کی جیب میں چلا گیا بس وہ ان کا ہے اس پر کسی ایرے غیرے کا حق نہیں آخر کیا ہے اور جو ان کے منہ سے نکلے وہ سوچ ہوتا ہے کوئی اس کو جھوٹ کہنے کا حق نہیں رکھتا اور نہ ہی کسی کی مجال ہے کہ کوئی اس کو جھوٹ کہہ سکے اور جس سے وہ ناراض ہوں اس کا نہ تو وہ سیدھا نام لے سکتے ہیں اور نہ بغیر گالی دیئے اس کی بات کرسکتے ہیں اور ماں بہن کی گالی تو ان کے درد زبان ہوتا ہے جس کے بغیر بولنا وہ حرام سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ معمر بھی ہوں تو اس وقت وہ گالیوں میں وہ در دہ ہوجاتے ہیں کہ بیوی ‘ بچوں ‘ بچیوں ‘ عزیزوں اور دوستوں یاروں کو بھی گالی کے سوا خطاب نہیں کرسکے۔ فرمایا جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی پرواہ نہیں کی جس نے یہ سارے انعامات ان کو دیئے ‘ جن کے بل بوتے پر وہ اس قدر بےلگام ہوئے تو یہی سبب ہوا جس کے باعث ان کے اچھے اعمال بھی برباد کردیئے گئے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں ان کا کوئی نیک عمل بھی قابل قبول نہ ہوا۔ صبط اعمال کا قرآن کریم میں جہاں بھی ذکر آیا ہے وہاں وہی اعمال مراد ہیں جو عام دیکھنے والوں کی نظر میں بھی اچھے اعمال کہے جاتے ہیں اور کوئی بھی ان کو برے اعمال نہیں کہتا جس طرح بعض لوگوں کی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیں گی اسی طرح ان کی برائیاں ان کی نیکیوں کو مٹا دیں گے۔
Ayah 47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہ فرمائے گا (جو وہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں)

اللہ کو کیا مشکل ہے کہ وہ منافقوں کے ان کھوٹوں کو واضح نہ کرے 92 ؎ کیا یہ لوگ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایسے عیوب کو کیوں بیان کرے گا جن کو وہ عیوب کہنا بھی عیب سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں تو ان کے منصب ‘ عہدہ اور عزت و قار کے مطابق ہیں اس لئے ان کا حق ہے ‘ اس کو کوئی عیب سمجھے گا تو کیونکر ؟ فرمایا وہ کچھ بھی خیال کریں اور اپنے دل میں جو چھپایا ہے اس کا اظہار نہ کریں اور نہ ہونے دیں لیکن کیا اللہ رب کریم سے بھی کوئی بات پوشیدہ رکھی جاسکتی ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کو ایسا سمجھنے کا کیا حق تھا کہ وہ اللہ سے بھی اپنی حالت کو چھپانے کی کوشش کرتے اور بغل میں چھری منہ پہ رام رام کرتے۔ ان کو تو باور کرنا چاہئے تھا کہ وہ ہمارے رام رام کرنے کو بھی جانتا ہے اور ہماری چھری بھی اس سے پوشیدہ نہیں اور ہمارے ایک ایک کھوٹ کو وہ جانتا ‘ پہانتا اور دیکھتا ہے تاکہ وہ اس نظریہ سے باز آجاتے۔ ( اضغان) کی اصل ض غ ن ہے اور یہ مادہ صرف اس سورة محمد میں استعمال ہوا ہے ایک بار اس جگہ اور ایک بار آیت 73 میں اور (ضغن) کے معنی سخت کینہ اور دل کی خفگی کے بیان کئے گئے ہیں اور اس کو ہم نے دل کے کھوٹ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ کینہ اور خفگی کا تعلق دل ہی سے ہوتا ہے اور کینہ پروری ایک معروف چیز ہے فرمایا ہم نے ان لوگوں کے دل کے روگوں کو اس لئے کھول کھول کر بیان کردیا ہے کہ ابھی وقت ہے کہ سمجھناچا ہیں تو سمجھ جائیں اور اگر وہ نہیں سمجھیں گے تو کم از کم دوسروں پر ان کے یہ روگ عیاں ہوں گے تو ان کی پہچان آسان ہوگی اور یہ بھی کہ اگر دوسرے چاہیں گے تو اپنی اصلاح کرنا ان کے لئے آسان ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ الل ہم کو ان دلوں کے پجاریوں سے محفوظ رکھے اور ایسے بیماروں کو صحت کامل عطا فرمائے۔ اس معاملہ میں ہماری طرف سے یہ نصیحت ہے کہ آج کل فی زماننا یہ باماری اتنی عام ہے کہ شاید ہی قوم مسلم میں اس سے قبل اتنی عام رہی ہو۔ اس لئے آپ کو اور مجھے اور ہم سب کو خود اپنا تجزیہ کرتے رہنا چاہئے کیونکہ یہ مہلک مرض متعدی بھی ہے اور سوزاک کی طرح خبیث بھی اور طب میں خبیث مرض سے مراد وہ مرض ہوتا ہے جو اتنی جلد پیچھا چھوڑنے والا نہ ہو۔
Ayah 47:30

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ) اگر ہم چاہیں تو آپ کو وہ لوگ دکھلا دیں تاکہ آپ ان کے چہروں سے ان کو پہچان لیں اور انداز کلام سے تو آپ ﷺ ان کو پہچان ہی لیں گے اور (اے لوگو ! ) اللہ کو تو تمہارے سارے اعمال کا علم ہے

اے پیغمبر اسلام ! اگر ہم چاہیں تو ان میں سے ایک ایک کا حال تم پر کھول کر رکھ دیں 03 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! اگر ہم چاہیں تو ان منافقین میں سے ایک ایک کا حال تمہارے سامے کھول کر رکھ دیں لیکن یہ بات آپ ﷺ کے لئے اور خصوصاً دوسرے مسلمانوں کے لئے مفید نہیں ہوگی اس لئے ہم نے ہر ایک کا چٹھا کھول کر آپ ﷺ کے سامنے نہیں رکھا بلکہ عام طور پر ان کی ظاہری علامتیں آپ ﷺ کو بتا دی ہیں اس لئے آپ ﷺ ان علامتوں ہی سے ان کی پہچان کرلیں گے تو بہتر رہے گا پھر یہ بھی ہے کہ جب تک اسلام اور کفر موجو ہیں یہ نفاق بھی رہے گا اور ان علامات و نشانات سے لوگ متصف ہوتے صاف دکھائی دیا کریں گے اس لئے مصلحت اسی میں ہے کہ جتنا آپ ﷺ کو بتا دیا گیا ہے اسی سے ان کی پہچان کرلی جائے اور یہ بھی کہ اللہ نے انسان کا چہرہ ایک ایسی چیز بنا دی ہے کہ چہرے کے تاثرات اندر کے حالات کی پوری وضاحت کردیتے ہیں اور پہچاننے والے اس سے سارا کچھ پہچان لیتے ہیں پھر جو ملکہ یعنی نبوت اللہ نے آپ ﷺ کو عط کیا ہے اس کی ایک نگاہ ان کے اندر کے سارے حالات آپ ﷺ پر روشن کر رہی ہے اور کوئی آپ ﷺ کی ضرورت کی بات آپ ﷺ سے پوشیدہ نہیں رہی۔ رہا ان کے یہ روگ دور کرنے کا معاملہ تو یہ بات اللہ نے آپ ﷺ کے اختیار میں نہیں دی بلکہ اس کے لئے اللہ نے کچھ اصول بتا دیئے ہیں اور ان میں عام فہم اصول یہ ہے کہ ہمیشہ جو یندہ پابندی ہوتا ہے جو تلاش کرتا ہے اسی کو ملتا ہے اگر یہ خود اپنی بیماری کو بیماری سمجھ کر اس کے علاج کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی بیماریوں کو دور فرما دی گا ورنہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نہیں کہ جو بیمار رہنا چاہئے اس کی بزور بیماری دور کر دے۔ ہاں ! جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایک بالشت آئے اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک ہاتھ (دو بالشت) آتا ہے لیکن بزور ہدایت دینا اس کے قانون کے خلاف ہے اور یہ بات پہلے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتا اور اس کے کسی وعدے کو کوئی غلط ثابت نہیں کرسکتا۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ تو ان لوگوں کو ان کے انداز بیان ہی سے سمجھ جائیں گے کہ یہ صاحب کس بینڈ سے بول رہے ہیں اور ان کی کونسی رگ پھڑک رہی ہے ان لوگوں کا تذبذب اور دو ٹرخا پن ان کی حالت کی ساری وضاحت کر دے گا۔ یہ ایک بار بولیں گے تو آپ ﷺ سمجھ جائیں گے کہ ان کے شر کی گہرائی کتنی ہے ؟ رہے ان کے اعمال تو ان سے اللہ تعالیٰ خوب واقف ہے اور اس فقرے کا خطاب براہ راست ان منافقین سے ہے جن میں ایک سے زیادہ حکمتیں مخفی ہیں اور یہ انداز اتنا بہترین اور خوبصورت ہے کہ سمجھنے والے اس سے بہت کچھ سمجھ جاتے ہیں اور ہر زبان کے ادب کی یہ جان ہے کہ کچھ کہا بھی نہیں اور سب کچھ کہہ بھی دیا ہے یہ وہ استعارات ہیں جو اللہ اور اس کے رسلوں کے درمیان اکثر استعمال ہوتے رہتے ہیں اور ہمارے ہاں اس کو کو زے میں دریا بند کرنے سے موسوم کیا جاتا ہے۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور البتہ ہم تم لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ معلوم کرلیں کہ تم میں مجاہد کون ہیں اور صابر کون ؟ اور (اس طرح) تمہاری حالتوں کی تحقیق کر لیں

ہم مجاہدین اور صبر کرنے والوں کو دوسرے لوگوں سے ممتاز کردینا چاہتے ہیں 13 ؎ منافقین کے کردار ‘ اخلاق اور اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اب بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کا ذکر اس تفصیل سے آپ ﷺ کو کیوں سنایا ہے ؟ فرمایا۔ یہ سارا بیان محض اس لئے کیا گیا ہے تاکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ‘ صبر کرنے والے سچے اور پکے مومنوں کو منافقوں اور زبان سے اسلام کا اقرار کرنے کے بعد عمل کے کافروں سے الگ کردیا جائے گا۔ شاید کسی صاحب کو خیال آئے کہ پیچھے مجاہدین اور صابرین کے متلق تو دور دور کوئی بات نہیں کی گئی پھر اچانک یہ بات کس طرح ارشاد فرما دی گئی تو خیال رہے کہ ضدین میں سے ایک کا بیان کر دیاجائے تو دوسری ضد کی خود بخود وضاحت ہوجاتی ہے اگرچہ اس کا نام تک نہ لیا جائے مثلاً آپ اندھیرے کی وضاحت کردیں کہ فلاں جگہ پر گھپ اندھیرا تھ اور دوسرا آدمی اس جگہ کے متعلق یہ شہادت دے کہ وہاں دور دور تک کہیں روشنی کا نام و نشان نہ تھا تو دونوں کی بات میں ذرا بھر بھی فرق نہیں ہوگا حالانکہ ایک نے اندھیرے کا اثبات کیا ہے اور دوسرے نے روشنی کی نفی۔ معلوم ہوا کہ ضدین میں سے کسی ایک کی وضاحت کردینے سے دوسری ضد کی خود بخود وضاحت ہوجاتی ہے ۔ منافقین ‘ مجاہدین اور صابرین کی ضد ہیں جب منافقوں کے تعرف میں ان کی ساری باتوں کی وضاحت فرما دی گئی تو مجاہدین اور صابرین کی خود بخود وضاحت ہوگئی اور دونوں کا کردار بالکل واضح ہوگیا اس حقیقت کے پیش نظر زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے قتال کا حکم دے کر تم دونوں فریقوں کو آزما لیا ہے اور دونوں کے کردار نے واضح کردیا ہے کہ منافق کون ہیں اور مجاہد و صابر کون اور ایک گروہ کے کردار کا ذکر کر کے دونوں گروہوں کی واضح تقسیم کردی ہے اور یہ بات سب پر روشن ہوگئی ہے کہ کون کیا ہے ؟
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بلاشبہ جن لوگوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعد کہ ان پر راہ ہدایت ظاہر ہوچکی وہ (نافرمانی کر کے) اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اور (اللہ) ان کے سب اعمال برباد کر دے گا

رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کر کے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا 23 ؎ مجاہدین اور صبر کرنے والے لوگوں کے اصل مخالف اور ضد تو کفار تھے لیکن تعجب ہے ان لوگوں پر جنہوں نے اسلام کے دعویٰ کے باوجود کفر کا کردار ادا کیا ان لوگوں کو اصل کافروں کے نام اور ان کے کام کا ذکر کے بتایا جا رہا ہے کہ سوچنے کا مقام ہے اس لئے ذرا تم بھی سوچ لو کہء کافروں کو کافر کیوں کہتے ہیں ؟ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے خود رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تبلیغ کو سن کر اور اچھی طرح سمجھ کر اس کا انکار کر رہے ہیں اور آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی کھلی مخالفت کر رہے ہیں اس لئے ان کی ہدایت اور گمراہی کی حالت سب پر واضح ہوگئی ہے اور بچہ سے لے کر بوڑھے تک ایک بھی نہیں جس پر ان کی حالت واضح نہ ہوگئی ہو پھر انہوں نے مخالفت کر کے دیکھ لیا کہ آخر انہوں نے اللہ کا کیا نقصان کیا ؟ لاریب نہ انہوں نے کوئی نقصان کیا اور نہ ہی وہ کوئی نقصان کرسکتے تھے کیونکہ پہاڑ سے ٹکر لینے والا بیوقوف اپنا ہی سر پھوڑتا ہے پہاڑ کا کچھ نقصان نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کو کوئی ضرر پہنچتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات ور اس کو کوئی ضرر پہنچائے۔ یہ کیوں اور کیسے ؟ بہرحال وہ منافقوں سے پھر بھی اچھے رہے کہ کم از کم لوگوں کو دھوکے میں تو نہیں رکھا رہے ان کے وہ منصوبے جو مسلمانوں کے ہجرت کر کے آنے کے بعد بھی وہ بنا رہے ہیں تو ہم ان کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا دیں گے اگر وہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا تیرہ سال کا عرصہ میں بال بیکا نہیں کرسکے جب کہ وہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت موجود رہے تو اب وہ تین سو میل دور بیٹھ کر کیا بگاڑ لیں گے ابھی تک ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ہم مخالفین و معاندین کی سکیموں کو کس طرح قبل کردیتے ہیں۔ اگر وہ سبق حاصل کرنا چاہتے تو رسول اللہ ﷺ کی ہجرت ہی سے سیکھ سکتے تھے لیکن مثل ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور (اپنی بیوقوفی سے) اپنے اعمال ضائع نہ کرو

اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہا مانو اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو 33 ؎ مسلمانوں کے اندر ہی ایک ایسا گروہ پروان چڑھ رہا تھا جس کے ستھ ہر وقت ان کے روابط تھے آنا جانا ‘ اٹھنا بیٹھنا اور وہ بھی مسلمان ہی کہلاتے تھے ‘ مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں شریک ہوتے تھے اور ان کی ساتھ رشتے ناطے بدستور قائم تھے اس لئے زیر نظر آیت میں ان پکے اور سچے مسلمانوں کو متنبہ کی اجا رہا ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے چوکنے رہیں اور کوئی حرکت ایسی نہ کر بیٹھیں جس سے ان کے اعمال ضائع ہوجائیں اس لئے کہ یہ ہمارا عام قانون ہے کہ جو بھی ہمارے قانون کی مخالفت کرے گا وہ اس کی زد میں آجائے گا تو ہم اس کا لحاظ نہیں کرتے کہ وہ کون ہے اور کیسا ہے اس لئے مسلمانوں کو چوکنا کردیا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں رہیں تاکہ اچانک کسی ہلاکت کی زد میں نہ آئیں اور اپنا جائزہ خود لیتے رہیں کہ کوئی شخص ہمیں راہ سے ہٹا کر بےراہ تو نہیں کر رہا۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا پھر وہ حالت کفر ہی میں مر گئے تو اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا

43 ؎ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ جو شخص بھی ہمارے قانون کی گرفت میں آجاتا ہے اس کے لئے رعایت نہیں رکھی گئی کیونکہ ہم نے کفر اور اسلام دونوں کی راہیں کھول کر واضح کردی ہیں (قدتبین الرشد من الفی) اور اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں رہنے دیا اس کے باوجود اگر کوئی شخص اسلام سے منہ موڑ کر کفر کی طرف چل نکلتا ہے اور باوجود سمجھانے کے وہ نہیں سمجھتا بلکہ مخالفت میں تیز سے تیز تر ہو کر دوسروں کو بھی اسلام سے روکنے کا باعث بنتا ہے اور پھر اسی حالت پر قائم رہتے ہوئے اپنی زندگی کی پوری مہلت کو ضائع کرتے ہوئے کفر ہی کی حالت میں مر جاتا ہے تو گویا وہ ہمارے قانون کے مطابق دوزخ کا مستحق ہوگیا اور جنت سے بہت دور کردیا گیا اس لئے ہمارا اعلان ہے کہ اس کی بخشش ہرگز نہیں ہوگی پھر جب ہم کہہ دیں کہ اس کی بخشش نہیں ہوگی تو کون ہے جو آگے بڑھ کر اس کی بخشش کا سامان کرے ؟ لاریب نہ کوئی ہے اور نہ ہی کوئی ہو سکتا ہے۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

پس تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی دعوت نہ دینے لگو اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال کم نہ کرے گا

میدان کا رزار میں پہنچ کر اس بات کا خیال رکھو کہ نہ سستی کا شکار ہو اور نہ ہی صلح کی پہل کرو 53 ؎ جب حالات مجبور کردیں اور جنگ ناگزیر ہوجائے اور میدان کار زار تک پہنچ جائیں تو پھر وہاں پہنچ کر سستی اور کاہلی بدولی اور عذر و بہانے یہ سب کی سب نفاق کی علامات ہیں اور نفاق کو قریب بھی نہ بھٹکنے دو اور خیال رکھو کہ اگر تمہاری زندگی ہے تو میدان کار زار میں موت تمہارا بالکل انتظار نہیں کر رہی اور نہ ہی تم کو کوئی طاقت مار سکتی ہے اور اگر تمہاری شہادت عنداللہ اسی جگہ ہے تو کوئی طاقت تم کو بچا کر واپس نہیں لے جاسکتی اگر تمہارے اندر یہ ایمان اور یقین موجود ہے تو پھر سستی اور کاہلی آخر کیوں ؟ اب تو قتال کرنا ہے اور کسی حال میں بھی صلح کی پہل نہیں کرنا اگر تم اس بات پر قائم رہے تو ہمارا وعدہ ہے کہ تم غالب رہو گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے وہ تمہاری حفاظت و نگرانی خود کرے گا اور تمہارے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ دشمن تک تمہاری کوئی خبر ایسی نہیں پہنچنی چاہئے کہ تمہارے حوصلے پست ہو رہے ہیں بلکہ تم شیروں کی طرح گرجتے ہوئے اور بجلی کی طرح کو ندتے ہوئے میدان جنگ میں نکلو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ یہ ڈھیلا ڈھالا رہنے کی جگہ نہیں بلکہ کمر کس کر چلنے کا مقام ہے۔ اس لئے کفن سروں پر باندھ کر اور جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلو اور باز کی طرح جھپٹ کر ان چڑیوں کو لقمہ اجل بنا دو ۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دُنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور بچتے رہو تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا اور تمہارے مال طلب نہ کرے گا

دنیا کی زندگی کی حقیقت ہی کیا ہے ؟ یہ حباب آب سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتی 63 ؎ دنیوی زندگی کی حقیقت کیا ہے ‘ ؟ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے۔ اس زندگی میں تو جو وقت کسی کو میسر آیا ہے وہ وقت غنیمت جانتے ہوئے اپنی آخری زندگی کو سنوارنے کے لئے خرچ کرے تاکہ اس عارضی زندگی سے اپنی ابدی زندگی کیلئے کوئی توشہ جمع کرلے اگر اس سے وہ محروم رہ گیا اور دنیا کا مال دنیا ہی کے لئے جمع کرتا رہا اور دنیا ہی کی خاطر خرچ کرتا رہا تو یہ مہلت کا وقت تو اس نے گویا ضائع کردیا اور یہ تو ایسے ہی ہے جیسے اس نے اپنا سارا وقت کھیل کود میں ضائع کردیا اور یہ بھنی غور کرو کہ کھیل کھیلنے والا آخر کتنی مدت تک کھیل سکتا ہے ؟ ہاں ہاں ! کسی پہلوان ‘ کسی باکسر ‘ کسی کر رکٹر یا کسی اور کھلاڑی سے دریافت کرلو اور آخرت کی زندگی کے متعلق تو تم کو معلوم ہی ہے کہ قیامت کے روز میدان حشر کے اندر موت کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا اور ابدی زندگی کا اعلان کردیا جائے گا اگر تم اس بات کو حقیقت سمجھتے ہو جو فی الحقیقت حقیقت ہے تو خود ہی فیصلہ کرلو کہ پھر یہ دنیوی زندگی آخرت کے مقابلہ میں کیا چیز ہے یہ تو اتنی بھی ثابت نہیں ہوتی جتنا کہ ایک سمندر میں کوئی انسان اپنی انگلی ڈال کر نکال لے تو اس کی انگلی پر جو پانی لگے گا اس کی حیثیت جو اس سمندر کے مقابلہ میں ہے پھر تم منتوں ہو تو کس چیز پر ؟ غور کرو اور بار بار غور کرو کہ اس غفلت کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ ہاں ! اس زندگی کو کامیاب کرنے اور کارآمد بنانے کا ایک اور صرف ایک ہی گر ہے اور وہ یہ ہے کہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کرو اور اس بےثبات زندگی میں ایسے اعمال کرو جو زندہ رہیں اور تمہاری زندگی میں بھی تم کو ان کا اجر ملے اور تمہارے مرنے کے بعد بھی ان کا اجر تم کو برابر ملتا رہے اور اس اجر کا وعدہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے تم ملاں کے وعدہ پر خرچ کرتے ہو ‘ لوگوں کو دکھانے کے لئے اپنی ناک کی فکر کرتے ہو اور اسطرح ایک کھیل کے اندر مزید کھیل کھیلتے ہو اور اس حقیقت کی طرف نہیں لوٹتے۔ کیا تم کو کبھی خیال آیا کہ کیا اللہ تمہارے مالوں کا محتاج ہے اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر تم نے جو کسی فقیر اور کسی مسکین ‘ کسی ضرورت مند اور حاجت مند کو دیا اس فقیر ‘ مسکین ‘ ضرورت مند اور حاجت مند نے اس کو استعمال کیا اور اس کے باوجود اللہ نے تم سے اس دیئے ہوئے مال سے سینکڑوں گنا بڑھا کردینے کا جو وعدہ کیا وہ اس لئے کیا کہ اس کو تمہارے مال کی ضرورت تھی ؟ نہیں اور ہرگز نہیں اس نے تو تم کو یہ مال دیا پھر تم کو دوسروں کو دے کر مزید دینے کا ڈھنگ سکھایا اور تم کو بتایا کہ تمہارا یہ دیا ہوا مال اس وقت کے لئے جمع ہوگیا جس وقت تم کو اس کے اجر اور عوض سے دوچار کیا جائے گا تو تم حیران و ششدر رہ جائو گے کہ میرے پاس تو اتنا مال کبھی تھا ہی نہیں اور نہ ہی میں نے اتنا دیا اور تم سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارا وہی مال ہے جو ایک درہم ‘ ایک کپڑے یا غلے کی ایک لپ بھر کردی تھی اور یہ بڑھتے بڑھتے اس حد کو پہنچ گیا اس لئے تم پر احسان کیا اور تم کو ترغیب دی کہ تم اس بےثبات ‘ عارضی اور فانی زندگی میں ثابت رہنے والی ‘ ہمیشہ چلنے والی اور جس کو کبھی فنا نہ آئے گی اس زندگی کے لئے کام کرو اور اس کو درست کرلو لیکن افسوس تم پر کہ تم نے اس عارضی اور فانی زندگی کے لئے اس ساری زندگی کو کھپا کر گویا ضائع کردیا اور کھیل کود ہی میں مصروف رہے اور ایک دوسرے سے سکور پوچھتے ہی اس کو ختم کردیا اور اچانک ڈھنڈورا پٹ گیا کہ آج فلاں ابن فلاں کی وفات ہوگئی۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور تم کو تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ تمہاری ناگواری ظاہر کر دے گا

اگر وہ تم سے تمہارے سارے مالوں کا مطالبہ کرتا تو تمہارا سارا بھانڈ پھوٹ جاتا 73 ؎ گزشتہ آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم ایمان لائو تو وہ تم کو اجر دے گا اور تمہارے مال تم سے نہیں مانگے گا یعنی وہ تمہارے مالوں کا تم سے مطالبہ نہیں کرے گا کیونکہ وہ محتاج نہیں ہے اور زیر نظر آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر وہ تم سے تمہارے مال کا مطالبہ کر دے تو تم بخل کرو گے۔ اس لئے یہ مضمون ذرا سمجھنے والا ہے۔ پہلی آیت کا مطلب جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کیا ہے اگر تم کو ایمان و یقین ہو تو تم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال نہیں ماگنتا یعنی تمہارے مالوں کا محتاج نہیں بلکہ تم کو جو غریبوں ‘ مسکینوں ‘ یتیموں اور اسی طرح دوسرے کار خیر کی ترغیب دیتا ہے تو وہ تمہاری عزت افزائی کے لئے اور تمہیں مزید عطا کرنے کے لئے ایک صورت تمہارے سامنے پیش کی ہے کبھی تم نے دیکھا کہ جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور اس کی رضا کے لئے ایک صورت تمہارے سامنے پیش کی ہے کبھی تم نے دیکھا کہ جو مال تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور اس کی رضا کے لئے کسی کو دیتے ہو اس میں کوئی حصہ اللہ نے بھی استعمال کیا ہے تم انسان ہی اس کو کھاتے ہو اس کو تو قطعاً تمہاری مالوں کی ضرورت نہیں ہاں ! تمہیں زیادہ دینے کی اور وہاں پہنچ کردینے کی جہاں یہ مال کام نہیں آئے گا بلکہ وہی کام آئے گا جو تم نے اس کی راہ میں اس کی درضا میں خرچ کیا تو گویا تمہارا مال اس نے محفوظ کیا اور اس پر بہت کچھ بڑھا چڑھا کردینے کے لئے دوسروں کد ولایا یہ اس کی کتنی فیاضی ہے کہ تم نے اپنی ہی جنس کے لوگوں کو دیا جو کچھ دیا اور جب وصول کرنے کا وقت آیا تو اس اللہ سے وصول کیا جس نے تم کو دنیوی زندگی میں وہ مال دیا تھا اور اب فرمایا جا رہا ہے کہ جب تم سے کچھ اس نے وصول نہیں کیا تھا تو تمہاری یہ حالت ہے اور اگر وہ تم سے تمہارا سارا ہی مال طلب کرلیتا تو پھر کیا ہوتا ؟ حالانکہ تم کو تمہارا سارا مال دینے والا بھی وہی تھا ؟ فرمایا تم اگر جواب نہیں دینا چاہتے تو سن لو کہ اگر وہ ایسا کرتا تو تم بخل کرتے اور تمہارے اندر کی حالت ساری کھل کر باہر آجاتی اور سب کو پتہ چل جاتا کہ تم کتنے پانی میں ہو اور تمہاری حالت کیا ہے ؟ اس حقیقت کو ایک بار ایک طریقہ سے نہیں سو طریقہ سے سمجھانے کی کوشش کرو ‘ ترغیب دو ‘ پرزور اپیلیں کرو ‘ خرچ کرنے کے فوائد بیان کرو ‘ مال کو بڑھا چڑھا کر واپس کرنے کی تسلیان دو ‘ نہ خرچ کرنے کی وعیدیں سنائو لیکن کتنے ہی لوگ ہیں کہ ذرا ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اچھا کبھی غور کیا تم نے کہ یہ لوگ جو مانگنے کی ساری صورتیں اور سارے ڈھنگ اختیار کرتے ہیں ان کے اپنے دینے اور خرچ کرنے کی حالت کیا ہے ؟ مجھ سے نہ پوچھو اپنے ماحول میں دیکھ لو اور اردگرد سے پوچھ لو۔ فیحفکم کا اصل مادہ حی ہے۔ احفاء احفاء الح ‘ علہ و برح فی الالحاح۔ حفا ح ’ حفیتہ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم احفا مصدر (افعال) اصل میں یحفی تھا کم ضمیر ضمیر مفعول تم سے مانگنے میں بہت زیادتی کرے۔ کسی کام میں زیادتی کرنا ‘ بہت زیادہ پرستش احوال کرنا۔ اسی سے ہے احفی شاربہ اس نے اپنی لبوں کے بال بہت زیادہ تراشے۔ احفی زیدا زید سے سوال میں زیادتی کی اور سوال کرنے پر اڑ گیا۔ یہ لفظ اضداد میں سے ہے یعنی جو معنی اصل ہیں اس کے بالکل خلاف بھی بولا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ” اگر وہ اللہ تم سے تمہارے مال طلب کرے اور تم کو تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ تمہاری ناگواری ظاہر کر دے۔ (ضغن) کی وضاحت پیچھے آیت 92 میں کی جا چکی ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں جتنی وسعت سے کام لے اور اپنے اخراجات جائز حد تک رکھ کر باقی سارا بھی خرچ کر دے تو اس کا یہ دیا ہوا مال اس کے حق میں محفوظ ہوجاتا ہے جس کا عوض اس کو لاریب اس دنیا میں بی ملتا ہے اور آخرت میں بھی وہ اسی مال کے خرچ کرنے کے باعث اللہ رب ذوالجلال والا کرام سے اچھے ٹھکانے کا مستحق ٹھہرے گا لیکن بدقسمتی سے یہ بات بہت ہی کم لوگوں کے دل میں بیٹھتی ہے کہ مال رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرنے سے بڑھتا ہے حالانکہ یہ ایمان و یقین کی کمزوری ہے اور یہ بھی کہ سونے کے ڈھیر اور اسی طرح کی دوسری چیزیں اگر وہ چھوڑ کر مرے گا تو آخر وہ بیس اس کے کام کب آئیں گی ؟ اللہ کی راہ میں بہرحال مال خرچ کرنے کی عادت ایک اچھی عادت ہے اور جائز حد تک بھی خرچ نہ کرنے کو بخل کہتے ہیں اور بخیل کے لئے دنیوی زندگی میں خلق ہی قلق ہے اور آخرت بھی اس کی برباد ہوجاتی ہے خواہ وہ کوئی ہو ‘ کون ہو اور کہاں ہو۔ اللہ تعالیٰ بخل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے راستے میں خرچ کرنے کی توفیق بہم پہنچائے۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ تم کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض لوگ بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وہ خود اپنی ذات سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو وہ تمہاری جگہ ایک دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ لوگ تمہاری طرح کے نہ ہوں گے

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اور بخل سے کام مت لو کہ بخیل کے لئے رسوائی ہے 83 ؎ انسان بعض خصلتوں کا ایک مجموعہ ہے۔ خصلتیں اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی۔ اچھی خصلتوں کو اخلاق حسنہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور بری خصلتوں کو اخلاق ذمیمہ سے جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ناپسند فرمایا ہے اس لئے ان سے بچنے کا حکم دیا ہے اور ان خصلتوں کو اپنانے والے اللہ کے حضور گنہگار ٹھہرتے ہیں۔ ان اخلاقی ذمیمہ کو رذائل کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اور بخل ان رذائل میں سے ایک ہے۔ رذائل کی فہرست بہت طویل ہے تاہم اس کی مختصر ترتیب اس طرح بیان کی جاسکتی ہے کہ جھوٹ ‘ جھوٹی قسمیں کھانا ‘ وعدہ خلافی ‘ خیانت اور بد دیانتی ‘ غداری اور دغا بازی ‘ بہتان ‘ چغل خوری ‘ غیبت اور بدگوئی ‘ دو رخا پن ‘ بدگمانی ‘ مداح اور خوشامد ‘ حرص و طمع ‘ بےایمانی ‘ چوری ناپ تول میں کمی ‘ چھپا کرلینا ‘ رشوت ‘ سود خواری ‘ شراب خواری ‘ غیض و غضب ‘ بغض و کینہ ‘ ظلم ‘ فخر و غرور ‘ ریا خود بینی و خود نمائی ‘ فضول خرچی ‘ حسد اور فحش گوئی اور انہی کے درمیان کسی جگہ پر بخل لگا لیں۔ یہ سب رذائل ہیں اور انہی میں ایک بخل بھی ہے۔ بخل ایک ایسی رذالت ہے جو بہت سی رذالتوں کی جڑ ہے۔ خیانت ، بددیانتی ، بےمروتی ، بےرحمی ، بدسلوکی اور دناءت بھی اسی سے پیدا ہوتی ہے۔ حرص ، طمع ، لالچ ، تنگ نظری ، کم ہمتی ، پست طبعی اور بہت سی دوسری برائیاں اس ایک جڑ کی مختلف شاخیں ہیں اسلام نے جھوٹ کے بعد سب سے پہلے اس جڑ پر کلہاڑی ماری اور بھوکوں کو کھلانا ، ننگوں کو پہنانا ، محتاجوں کو دینا ، یتیموں کی خبر گیری کرنا اور مقروضوں کی امداد کرکے ان کا قرض اتارنا ضروری قرار دیا اور انہی فرائض کے مجموعہ کا نام اس نے زکوٰۃ رکھا جو نماز کے بعد اسلام کا دوسرا فرض ہے۔ بخل کی تفسیر اور وضاحت ہم پیچھے کئی ایک مقامات پر کرچکے ہیں اس لیے اس جگہ گزشتہ حوالوں پر اکتفا کرر ہے ہیں۔ تفصیل کے لیے عروۃ الوثقی ، جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 80 ، سورة النساء کی آیت 37 ، جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 76 ۔ اس جگہ ان نام کے مسلمانوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ افسوس ہے تمہاری حالت پر اور تف ہے تمہارے اخلاق و کردار پر کہ تم کو جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے تو تم بخل اختیار کرتے ہو جو کتنی ہی برائیوں کی جڑ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو شخص بخل سے کام لیتا ہے وہ تو سرا سر اپنا نقصان خود کرتا ہے اور اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتا ہے۔ کیا اللہ نے تمہارے ان مالوں کو خود استعمال کرنا ہے یا تماہری قوم و نسل کے لوگوں نے اس کو استعمال کرنا ہے اور پھر یہ کہ تو تم کو دینے کا ایک بہانہ ہے اور گار تم اس کا عوض نہیں لینا چاہتے یا کم دے کر زیادہ کی خواہش نہیں رکھتے تو تم نے یہ نسخہ خوب یاد کیا ہے کہ نو نقد اچھے تیرہا دھار مندے اور تم نے اس کو پلے باندھ رکھا ہے حالانکہ یہ تو گداؤں اور بےنواؤں کے لیے اور نادہندگان کے لئے کہا گیا تھا لیکن تم نے بادشاہوں کے بادشاہ کے لیے اس محاورہ کو یاد رکھا ہے۔ اللہ تو غنی ہے اس کو تماہرے مال کی کیا پروا ہے اور تم ہی فقیر اور مانگت ہو اسی سے مانگتے ہو اور وہی تم کو دیتا ہے اس نے تو محض تمہاری آزمائش کے لیے تمہاری ہی جنس کے لیے تم کو کئی گنا زیادہ دینے کی خاطر تم کو یہ ترغیب دی ہے گویا دینے کا ایک بہانہ تلاش کیا ہے اور اگر تم کو اس طرح لینا پسند نہیں اور اپنی قومی زندگی کے لیے تم کو خرچ کرنا موت نظر آتی ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کا نام آتا ہی تو تم کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور تم زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوجاتے ہو تو اس کا نتیجہ تم کو معلوم ہے کہ کیا ہوگا ؟ یہی کہ تم کو نیست نابود کرکے تماہری جگہ ایک ایسی قوم لاکھڑی کرے گا کہ وہ تم کو ملیا میٹ کر کے تمہاری اس دولت پر خود براجمان ہوجائیں گے اور اس طرح نہ تم رہو گے اور نہ تمہاری قوم لیکن تمہارے یہ مال و متاع اور دنیا کے سارے سامان اسی طرح دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اس وقت تم اللہ اور اس کے رسول سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہو اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کو حرز جان بنائیں گے اور اللہ کی رضامندی تلاش کریں گے۔ اس کی مزید وضاحت درکار ہو تو عروۃ الوثقی ، جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 54 کی تفسیر دیکھیں۔ اور اسی مضمون پر ہم سورة محمد کی تفسیر کو ختم کرر ہے ہیں اس کے بعد آنے والی سورت اور سورت کے آخر میں محمد رسول اللہ ﷺ کے مضمون کو بغور پڑھیں جو ” آپ ﷺ کی مختصر سرگزشت “ کے طور پر سورة الفتح کے آخر میں درج کرنے کا ہم نے شروع سورت میں وعدہ کیا تھا۔ آنے والی سورت الفتح ہی کے نام سے موسوم کی گئی ہے۔ اللہم صلی علی محمدٍ و علی آل محمدٍ کما صلیت علی ابراہیم و علی اٰل ابراہیم انک حمید مجید۔ عبدالکریم اثری 29 رمضان المبارک 1814 ء ، 28 جنوری 1998 ء