Ayah 47:18حق واضح ہوگیا اور دلائل نے باطل کا سر توڑ دیا لیکن یہ لوگ ابی تک انتظار ہی میں ہیں
18 ؎ انہوں نے طرح طرح کے سوالات کئے اور ان کو ان کے ہر سوال کا جواب دلائل کے ساتھ سنا دیا گیا لیکن ان کی عادت میں جو میں نہ مانوں راسخ ہوچکا ہے اور ان کے دل میں ایک ہی کائنا اٹک کر رہ گیا ہے کہ وہ قیامت جس کا بار بار ڈراوا ہم کو دیا جاتا ہے وہ آخر آ کیوں نہیں جاتی تو فرمایا ان کو بہت سمجھایا گیا کہ جب وہ آئے گی تو تم کو توبہ کی توفیق بھی نہیں ملے گی اپنی اس زندگی سے جس سے تم گزر رہے ہو سمجھ لو کہ قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی اور وہ اس طرح کہ تم نے کوئی پہلی بار اس دنیا میں قدم نہیں رکھا بلکہ تم سے پہلے بہت قومیں اور لوگ یہاں آئے اور اپنی اپنی دی گئی مہلت کے دن پورے کر کے چلے گئے اور کتنے ہیں جو تمہاری آنکھوں کے سامنے گئے اور تم ان کو روک نہیں سکے اور یہ بھی کہ جو چلے گئے ان میں سے ایک بھی نہیں جو جا کر واپس آیا ہو تو اس سے یہ بات تو سمجھ لو کہ تم کو بھی ایک روز یہاں سے رخصت ہونا ہے اور واپس دوبارہ یہاں نہیں آنا ہے پھر جب وہ قیامت آئے گی آخر آئے گی لیکن تمہاری قیامت تو اسی روز آگئی جس روز تم کو یہاں سے رخصت ہونے کا پیغام پہنچ گیا۔ قیامت جب آئے گی تو اچانک آدھمکے گی جس طرح تمہاری موت اچانک آجاتی ہے لیکن قیامت کی علامات تو آرہی ہیں اور جب علامت نظر آجائے تو اصل چیز آنے کا امکان پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے ؟ کیا نبی اعظم و آخر ﷺ پر نبوت و رسالت جیسے بہترین منصب کا ختم ہوجانا اس بات کی واضح دلیل نہیں ہے کہ اب دنیا اپنی بلوغت کو پہنچ گئی ہے اور اب روز بروز اس میں انحطاط ہی ہوگی اور اس طرح چلتے چلتے جب یکدم ان کے سامنے آ کھڑی ہوگی اور اس کا کھڑاک شروع ہوجائے گا تو اس وقت ان کو سمجھنا کب نصیب ہوگا ؟
{ الساعۃ } سے کیا مراد ہے ؟ عام طور پر مفسرین نے اس سے مراد قیامت ہی لی ہے اور لاریب قیامت کے ناموں میں سے ایک نام اس کا { الساعۃ } بھی ہے اور جو اس کے آنے کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ اچانک آجائے گی تو یہ بھی قیامت پر صادق آتا ہے کہ اس کا اچانک آجانا محقق ہے لیکن اس کے بعد جو یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ { فقد جآء اشراطھا } کہ اس کی علامتیں اب نمایاں ہوچکی ہیں یا آ چکی ہیں تو اس سے مراد کیا ہے ؟ وہ کونسی علامات و شرائط ہیں جو آگئی ہیں ؟ اس کے متعلق ہم نے ایک علامت تو عرض کی ہے کہ خود نبی کریم ﷺ کی آمد ہے جس کے متعلق خود رسول اللہ ﷺ نے اس طرح وضاحت فرمائی ہے کہ ” میں قیامت کے ساتھ ان دونوں انگلیوں کی طرح متصل بھیجا گیا ہوں “ اور آپ ﷺ نے اس وقت اپنی درمیانی انگلی اور اس کے برابر کی انگلی جو انگوٹھے سے متصل ہے جوڑ کر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ (صحیح مسلم ، ابن ماجہ ، عن سہل بن سعد ؓ
تاہم اس جگہ { الساعۃ } سے مراد وہ عذاب کی گھڑی بیگ ہوسکتی ہے جو کسی نبی و رسول کو قوم کے تنگ کرنے کے باعث مقرر کی جاتی ہے اور نبی و رسول سے اس کا اعلان کرا دیا جاتا ہے کہ وہ قوم کو آخری وارننگ (Warning) کے طور پر واضح کر دے کہ خبردار ہو جائو وہ وقت جو تمہارے عذاب کا مقرر ہے وہ بس آیا ہی چاہتا ہے اور اس قوت کی کوئی علامت بھی مقرر کردی جاتی تھی اس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کو اس مخصوص گھڑی کے بارے میں بتا دیں کہ بس وہ آیا ہی چاہتی ہے اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ مکہ والوں نے آپ ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردیا اور آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے آئے گا اور نبی و رسول کی ہجرت ہی اس گھڑی کی علامت میں سے واح علامت ہوتی ہے اور وہ ظاہر ہوگئی اور اس طرح گویا ان کے عذاب کی شرائط واضح طور پر آگئی ہیں کہ جو عذاب محض اس لئے زکا ہوا تھا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ ان کے اندر مکہ موجود تھے اور آپ ﷺ ہی ان کے عذاب دیئے جانے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے کیونکہ جب نبی و رسول قوم میں موجود ہوتا ہے قوم پر وہ موعود عذاب نہیں آتا اور جب نبی و رسول ہجرت کر جائے تو یہ اس بات کی واضح شرط ہے کہ اب عذاب بس آیا کہ آیا۔ اس لئے اب مکہ والوں کے عذاب کا معاملہ بھی یقیناً شروع ہوگیا جس کا دور بدر سے شروع ہو کر فتح مکہ پر جا کر ختم ہوا اور جس کا نتیجہ وہی نکلا جو نبی و کر سول کے مخالفین کا نتیجہ نکلتا آیا ہے اس طرح اللہ نے جن لوگوں کے حق میں سنبھل جانے کا فیصلہ فرمایا تھا وہ دیرپا سویر بہرحال سمجھ گئے اور جن کے حق ہلاکت تھی وہ ہلاک ہوگئے اور نتیجہ یہی رہا کہ حق کا بول بالا ہوگیا اور باطل انجام کار مٹ گیا۔ اس طرح { الساعۃ } سے ان دونوں گھڑیوں کا احتمال ہو سکتا ہے لیکن ہمارے دل کو پہلی بات زیادہ اپیل کرتی ہے کہ اس سے مراد قیامت کی گھڑی ہو سکتی ہے اور اس کی بڑی بڑی علامات میں سے ایک تو وہی ہے جو ہم نے اوپر ذکر کی ہے یعنی خود رسول اللہ ﷺ کا خاتم النبین ہو کر تشریف لانا اور دوسرا آپ ﷺ کا اس بات کی وضاحت کرنا کہ میں اور قیامت اس طرح قریب قریب ہیں جس طرح میری دونوں انگلیاں اور جس کا واضح اور صاف مطلب یہی ہے کہ اب میرے بعد کوئی نیا یا پرانا رسول نہیں آئے گا اور قیامت میری ہی رسالت پر قائم ہوگی۔ آپ ﷺ کا ارشاد کہ علم اٹھا لیا جائے گا یعنی علماء حق عنقا ہوجائیں گے ور جہالت کا دور دورہ ہوگا۔ مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ بدکاری اور بدکرداری بہت بڑھ جائے گی۔ (بخاری و مسلم) اور جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ” ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک روز نب کریم ﷺ ہم سے گفتگو فرما رہ تھے کہ ایک اعرابی آیا تو اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب امانت کو ضائع کیا جائے گا تو وہ وقت قا امت کا ہوگا یعنی قیامت قریب ہوگی اس نے کہا کہ امانت ضائع کرنے کی کیا صورت ہوگی ؟ فرمایا جب کام نا اہلوں کے سپرد کئے جائیں گے تو اس وقت قیامت کا انتظار کرنا “ نبی کریم ﷺ کے یہ الفاظ نہایت ہی معنی خیز ہیں اور ان کی وضاحت کے لئے دفتر درکار ہیں امانت کے اٹھائے جانے کی جو وضحت آپ ﷺ نے فرمائی ہے لاریب ہر آنے والا دن اس کو قریب لا رہا ہے تاہم اس کروڑوں سال کی پرانی دنیا کو جاتے جاتے کتنے سینکڑوں سال لگ جائیں گے اس حقیقت کو وہی جانتا ہے جو اس کا لانے والا اور اس سارے نظام کا بنانے ، چلانے اور اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ مفسرین نے علامات قیامت میں بہت کچھ لکھا ہے اور اس طرح بیشمار قیاس آرائیاں کی ہیں اور رطب و یا بس اس جگہ اکٹھا کردیا ہے لیکن ہم نے ان ساری چیزوں سے عمداً کنارہ کشی کی ہے اور احتیاط و یقین کا فیصلہ یہی سمجھا ہے کہ یا مت کے وقوع پزیر ہونے کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی جنتا ہے مخلوق میں سے کوئی شخص بھی اس کا علم نہیں رکھتا ، نہ ہی کوئی انسان اس کا متحمل ہے۔
Ayah 47:19مخلوق کی نظریں رب کریم کا احاطہ نہیں کرسکتیں خواہ نظرنی یا رسول کی ہو
19 ؎ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کے سامنے اہل ایمان کی سعادت اور کفار کی شقاوت کا حال کھول کر بیان کردیا ہے اور کوئی بات اس معاملہ میں مبہم نہیں رہنے دی کہ جس کی عقل انسانی احاطہ کرسکتی ہو اور ہم نے اس کو بیان نہ کردیا اور اس لئے آپ کو جو توحید الٰہی کا درس دیا گیا ہے اس کو ہمیشہ یاد رکھیے اور اپنی امت کے ہر فرد تک پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کو پہنا دیجئے یہ آپ ﷺ کی گویا ذمہ داری کو نبھایا اور قوم سے شہادت لی اور پھر قوم کی گمراہی پر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو گمراہ ٹھہرایا جس کی وضاحت آپ ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع میں کی گئی ہے۔ ” اور اپنے گناوں کی حفاظت چاہتے رہو “
{ واستغفر لذنبک } یاد رہے کہ انبیاء و رسل معصوم تھے ان سے کوئی گناہ جو گناہ کی تعریف میں آئے سرزد نہیں وا اور نہ ہی و سکتا تھا اور یہ بات ہم اپن طرف سے نہیں کہہ رہے اس کی وضاحت خود قرآن کریم نے کی ہے ملاحظہ ہو جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 27 کی تفسیر۔ انسانی لغزش اور نسیان اس زد ہی میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود کسی معصوم سے معصوم اسنان کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اپنے معصوم ہونے کا ذکر رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے کرے کیونکہ معصوم پیدا کرنے والا وہ خود ہے اس لئے ادب کے خلاف ہے کہ اس کے سامنے کوئی بندہ اپنی معصومیت کا اظہار کرے تاکہ اس کی اس معصومیت میں مزید اضافہ کیا جائے اور جس درجہ پر وہ فائز ہے اس سے اس کا مقام مزید بلند ہو کر کیونکہ بلندی درجات میں اختتام کی حدود میں بےانتا وسعت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مغفرت طلب کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ پہلے گنہگار ہو۔ پھر آیت کے معنی بلا شبہ گناہ کے کئے گئے ہیں لیکن یہ معنی اصطلاحی معنی { ذنب } کے ذم کے ہیں جو پیچھے کوئی ہوتی ہے اور اسی سے الزام کے معنوں میں بھی اس کا استعمال ہونے لگا اور الزام جرم نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ ملزم اور مجرم میں بہت فرق ہے اس لئے { ذنب } اس بات کو کہتے ہیں جو اچھی تو نہیں ہوتی لیکن دوسروں کی طرف سے بغیر تحقیق کسی کی طرف منسوب کی جاتی ہے اگرچہ جس کی طرف وہ منسوب کی جاتی ہے اس میں وہ موجود نہ ہو اس طرح ذنوب وہ جھوٹے الزامات ہیں جو دوسروں کی طرف یعنی مخالفین کی طرف سے بطور مخالفت لگائے جاتے ہیں اور اکثر اوقات ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ ایسے جھوٹے الزامات نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اور صحابیات ؓ پر لگائے گئے جو اگرچہ بےبنیاد تھے تاہم جھوٹے الزام لگانے والوں نے ان کو آپ کی طرف منسوب کیا اور اس طرح دوسرے مسلمانوں کی طرف بھی ۔ جھوٹے الزام بھی اگر کسی پر لگائے جائیں تو جب تک ان کی بریت نہ ہو اس وقت تک انسان پریشان رہتا ہے اور یہ فطری تقاضا ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار ضروری تھی تاکہ ان جھوٹے الزامات کے شر سے جن کا انجام اچھا نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے اور ان کے انجام کی برائی سے بچائے ۔ غور کیجئے کہ نبی کریم ﷺ کو مفتری کہا گا ، ساحر کہا گیا ، سحر زدہ کہا گیا ، مجنون کہا گیا ، لوگوں کے درمیان تفریق کرنے والا کہا گیا ، شاعر کہا گیا ، کاہن کہا گیا اور ظاہر ہے کہ یہ سب کے سب جھوٹے الزمات ہی تھے اور ان کا ایک ایک الزام ایسا ہے کہ اگر انسان خود اس کی بریت کرنے لگے تو ممکن نہیں کہ وہ از خود بریت حاصل کرسکے جب تک اللہ تعالیٰ کا خاص فضل شامل نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان سارے جھوٹے الزامات سے اس طرح بری فرمایا کہ ایسی باتیں آپ کی طرف منسوب کرنے والے طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کئے گئے یا تو وہ اس عذاب میں بری موت مرے یا اگر مشیت ایزدی کے مطابق وہ اس عذاب کی گرفت سے نکلے تو سچے دل سے ایمان لا کر مسلمان ہوگئے اور مدینہ منورہ میں منافقوں کی جماعت نے بھی مخفی طور پر متعدد بار پریشانیاں کھڑی کرنے کی کوشش کی لیکن آپ ﷺ بحمد اللہ ہر بار ان کے شر سے محفوظ رہے اور ان کے اس شرکا وبال انہیں پر پڑا اور یہ سب واقعات جمع کئے جائیں تو ایک کتاب تیار ہوجائے اس لئے ان باتوں سے محفوظ رہنے کیلئے استغفار ضروری تھا اور اسی بات کا آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اپنے لیے بھی اور دوسرے مسلمانوں مردوں اور عورتوں کے لئے بھی ان سب شرور سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کی کثرت رکھے۔ مختصر یہ کہ آپ ﷺ کے ذنب سے مراد یہی کمزوریاں اور الزامات ہیں اور ان سب کے ازالہ کے لئے استغفار لازم و ضروی ہے اور اسی بات کا آپ ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے اور اس ذھنب سے مراد جرم لینا خود جرم ہے اور جرم اور ذنب کے فرق کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل آیتوں کا ترجمہ اور تفسیر دیکھیں ان شاء اللہ پوری وضاحت ہوجائے گی اور پھر کبھی اس کے سمجھنے کی غلطی نہیں ہوگی۔ جرم کی اصل جو الفاظ تعلق رکھتے ہیں ان سے اس کی وضاحت زیادہ آسان ہے اور اس کے لئے درج ذیل آیات ملاحظہ ہوں :
لفظ (اجرموا) کے لئے دیکھیں (124:4) ، (47:30) (29` 83)
لفظ (مجرمون) کے لئے دیکھیں (46` 77) (22:44)
لفظ (المجرمون) کے لئے دیکھیں
(43` 41:55) (59:36) (12:31) (55` 21:30)`(78:28)`(19:26)`(53:18) `(82` 50:10)`(8:9)
لفظ (مجرمین) کے لئے دیکھیں (32)
لفظ (اجرموا) کے لئے دیکھیں
لفظ (اجرموا) کے لئے دیکھیں
لفظ (اجرموا) کے لئے دیکھیں
لفظ (اجرموا) کے لئے دیکھیں
لفظ (اجرموا) کے لئے دیکھیں
لفظ { یجرمنکم } کے لئے دیکھیں (8:5) ` (89:11) ` (2:5) جہاں کہیں اس لفظ (جرم) کی نسبت کسی نبی و رسول کی طرف کی گئی ہے تو وہاں حکایت کے طور پر کہا گیا ہوگا حقیقت کے طور پر نہیں اور مخالفین کی طرف سے کہی گء بات جرم نہیں بلکہ جرم کہی گئی بات بھی الزام ہے جس کو کہیں دھرایا گیا ہو جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کو کہا گیا آپ اپنی قوم کو اس طرح جواب دیں کہ
{ قل ان افتریتہ فصلی اجرامی وانا بری مما تجرمون } (35:11) آپ کہہ دیں کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرا جرم مجھ پر ہے اور میں بری الذمہ ہوں اس چیز سے جو تم جرم کرتے ہو “ ور یہ جواب ہے { ام یقولون افتراہ } کا کہ “ کفار کہت ہیں کہ اس نے گھڑ لیا ہے “ اور ظاہر ہے کہ یہ کفار کا الزام ہے نہ کہ نوح (علیہ السلام) کا جرم۔
اس کے مقابلہ میں { ذنب } کا لفظ جہاں بھی قرآن کری میں آیا ہے وہ الزام ، بھول ، لغزش اور انسانی کمزوری کے لئے آیا ہے اور خصوصاً جب اس کی نسبت کسی نبی و رسول یا مومن و مسلم کی طرف کی گئی ہے تو اس سے اس طرح کی کوئی لغزش ، بھول ، الزام اور کمزوری ہی کے لئے کی گئی جس میں عمدہ ارادہ نہیں پایا جاتا بلکہ اتفاقاً اس کا سرزد ہونا مراد ہے رہے انبیاء رسول کے مخالفین و معاندین کفار اور مشرکین اگر ان کی طرف سے اس کی نسبت کا ذکر ہے تو وہ بھی جرم سے ہلکے گناہ ہی کی وجہ سے ہوا ہے اور اس کو بھاری بنا دینے والی بات ان کا کفر ، شرک اور مخالفت ہے جو پہلے ہی ایک بہت بڑا جرم ہے پھر ایک مجرم مزید جو بھی گناہ کرے گا ظاہر ہے کہ اس کا پہلا جرم ہی اس کو مزید جرم بنا کر رکھ دے گا اور اس کی مثال جلتی پر تیل ڈالنے کی ہوگی۔
ایک نبی و رسول کے ذنب کو سمجھنے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک واقعہ سے بہت مدد ملتی ہے غور کرو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جب اللہ تعالیٰ نخے رسالت کے لئے منتخب کیا اور آپ کو اطلاع دی کہ اے موسیٰ ! ہم نے آپ کو نبوت و رسالت کے لئے منتخب کیا ہے ، آپ اس ظالم قوم کی طرف رہ جائیں جو فرعون کی قوم ہے اور ان سے کہیں کہ تم توقیٰ کی راہ کیوں نہیں اختیار کرتے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی اسیں یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھ پر ان کی طرف سے ایک الزام ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ اس کے عوض مجھ کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے “ وہ الزام کیا تھا ؟ وہ اتفاقی قتل جو اس سے ایک مدت پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کے دھکا دینے کے باعث ہوگیا تھا اور آپ کے ارادہ میں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ اس کو قتل ہی کردینا جائے اور جو کچھ ہوا تھا وہ ایک اتفاقی امر تھا اور اس خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ { ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون } (14:26) وضاحت کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد ششم میں سرہ اشعراء کی آیت 14 کی تفسیر دیکھی۔ یہ تو ذنب کی بات تھی اب استغفار کے متعلق بھی ذرا تفصیل آپ دیکھ لیں پھر آگے چلیں گے۔
{ استغفر } تو بخشش مانگ ، حفاظت طلب کر۔ استغفار سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر استغفار کا مادہ غر ہے جس کے معنی کئے گئے ہیں الباس ما یصونہ عن الدنس (راغب) اس کو پہنا دینا جو اسے میل ، برائی اور معیوب ہونے سے بچائے رکھے اور اسی سے کہتے ہیں کہ اغفر ثوبک فی الدعا اپنے لباس کو صندوق میں محفوظ رکھو۔ کہا جاتا ہے کہ کپڑے کو رنگ لو فانہ اغفر للدسخ کے معنی ہیں اللہ نے اس کے گناہوں کو ڈھانک لیا۔ (لسان) اور مغفر خود کو کہتے ہیں کہ وہ حصافت کا کام دینا ہے اور واضح ہے کہ گناہوں سے حفاصت دو طرح ممکن ہے ایک یہ کہ ان گناہوں سے جو انسان کرچکا ہے حفاظت کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ ان کی سزا سے بچ جائے اور دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ انسان گناہ کرنے سے بچ جائے عام انسانوں کے لئے دونوں معنی صحیح اور درست ہیں لیکن انبیاء کرام اور رسل عظام چونکہ گناہوں سے پہلے ہی محظوظ ہوتے ہیں اور گناہ ان سے سرزد نہیں ہوتا جیسا کہ سورة الانبیاء آیت 27 کے تحت ہم نے عرض کردیا ہے اس لئے جب انبیاء کرام اور رسل عظام کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں وہاں مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم لوگوں کے جھوٹے الزامات لگائے جانے سے حفاظت طلب کرو کہ یہ بدباطن تمہارے بارے میں کوئی بات بنا ہی نہ سکیں اور جو باتیں وہ کہہ چکے ہیں ان کے وبال سے محفوظ فرما۔ جیسا کہ قسطلانی شرح بخاری میں سورة الفتح کی آیت { قد غفرلک ما تقدہ من ذنبک } کی تشریح میں لفظ { غفر } کے معنی میں بربادی سے اس طرح نقل کرتے ہیں الغفر الستروھوا مابین العبد والذنب و عقوبتہ یعنی (غفر) کے معنی بچانا ہیں اور وہ یا تو بندہ اور اس کے ذنب کے درمیان ہے یا بندہ کو قصور وار ہونے سے بچایا جائے اور یا گناہ اور اس کے سزا کے درمیان ہے یعنی جو گناہ ہوچکا ہے اس کی سزا سے بچایا جائے اور اس جگہ پہلے معنی مراد ہیں کیونکہ وہ سرے سے ممکن نہیں اور اس کی وضاحت عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 1999 میں ہم کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔
سورة محمد مدنی سورتوں میں سے ابتدائی سورتوں میں شمار ہوتی ہے اور ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے حالات کو بدل دیا اور اس طرح کے جو جھوٹے الزامات آپ ﷺ پر لگائے گئے تھے اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ و صحابیات ؓ پر تو وہ سب بحد اللہ رخصت ہونے لگے اور اس کے لئے بطور پیش گوئی آپ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش کی دعا کرتے رہیں اس کا وقت اب قریب آگیا ہے کہ آپ لوگوں سے یہ جھوٹے الزامات خود بخود اترنے شروع ہوجائیں اور اس طرح کے سارے بادل دور ہوجائیں اور اندھیری رات دن کی روشنی میں تبدیل ہوجائے کیونکہ آپ ﷺ کی ہجرت سے ایک بہت بڑا انقلاب پیدا ہوگیا ہے اور وقت قریب آگیا ہے کہ دب کر رہنے والوں کو اتنا بلند کیا جائے کہ بلند ہونے والے ان کے سامنے دب کر رہ جائیں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” کیا ان کو نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں ؟ پھر کیا یہ لوگ غالب آجائیں گے ؟ “ (الانبیاء 21 : 44) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اس سرزمین پر چلے آ رہے ہیں اور اس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آئے ہیں ؟ اللہ حکومت کر رہا ہے اور کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے اور اسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ ان سے قبل جو لوگ ہو گزرے ہیں وہ بھی بڑی بڑی چالیں چل چکے ہیں مگر اصل فیصلہ کن تدبیر اور وہ بھی نہایت سلجھی ہوئی تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کر رہا ہے اور کس کسب و کمائی میں وہ مصروف ہے اور عنقریب یہ منکرین حق دیکھ لیں گے کہ کسکا انجام بخیر ہوتا ہے اور یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم اللہ رب کریم کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ آپ ﷺ کہہ دیں اے پیغمبر اسلام ! کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ اور ہر اس شخص کی گواہی جو آسمانی کتب کا علم رکھتا ہے۔ “ (13 : 41 تا 43) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت کی دعا مانگو بلا شبہ وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ “ (110 : 2 ، 3) آپ غور کریں کہ اس میں گناہ کی بات کو نیت ہوئی کہ آپ ﷺ کو مغفرت طلب کرنے کا حکم مل رہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس سے مغفرت طلب کرنے کا مطلب مزید فتوحال اور اسلام کی ترقی اور قوت میں اضافہ کی دعا ہے جو بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور جو ہوگا وہ اس کی بخشش و کرم سے ہوگا پھر اس کی طلب کیوں نہ کی جائے اور اس طرح اس کی طلب کسی غیر اللہ سے کیوں کی جائے جب کہ دینے والا صرف اور صرف وہی رب ذوالجلال والاکرام ہے اور اسی بات کا آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔
پھر اسی طرح کی لغزش سرزد ہوتی ہے تو وہ توبہ و استغفار کرتا ہے تو قدرت الٰہی اس کی طرف لپک کر آتی ہے او اپنی پوری چادر اس پر ڈال دیتی ہے اس کی وضاحت آپ چاہتے ہیں تو آپ کو { عفا اللہ عنک لم اذنت لھم } کی تفسیر دیکھنے کیلئے عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم میں سورة التوبہ کی آیت 44 ، 45 کی طرف لوٹنا پڑے گا۔
نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی { رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین } (لمومنون 23 : 118) ” اے میرے پروردگار ! در گزر فرما اور رحم کر تو ہی سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے “
صحیح مسلم میں نبی اعظم و آخر ﷺ کی نمازوں کے معمول میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے ہی یعنی سلام پھیرتے تو اس کے فوراً بعد تین بار استغفر اللہ ، استغفر اللہ ، استغفر اللہ پڑھتے تھے۔ کیا نماز کوئی جرم ہے ؟ اگر نہیں اور ہر گز نہیں تو پھر استغفار کا مطلب ؟ مطلب واضح ہے کہ اللہ کے لوگوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ آدمی کتنی ہی محنت کرے پھر بھی انسان ہے اور انسانی کمزوریاں اس کے ساتھ ہیں اس لئے گویا جس طرح خیالات سے فارغ ہو کر دلجمعی کے ساتھ نماز ادا کرنا چاہئے تھی اس طرح میں نہیں کرسکا یعنی ہم میں سے کوئی بھی نہیں کرسکتا اور اس کی تعلیم دینا مقصود ہے جو عمل سے دی جا رہی ہے کہ انسان ہر حال میں اپنی کمزوری کا اظہار کرتا رہے تو اس سے اس کے درجات بلند ہوتے رہتے ہیں اور درجات میں اوپر سے اوپر جانے کا کس کو شوق نہیں ہوتا ؟ غور کرو کہ ہم میں سے کون ہے جو پورے دل کی حاضری کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے ؟ آخر ہر آدمی اپنے متعلق تو جانتا ہی ہے کہ میرا کیا حال ہے اور اس میں غیر کی کوئی بحث ہی نہیں ہے۔
نبی اعظم و آخر ﷺ رات کی نماز میں اتنا قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدموں پر ورم آجاتی تو ایک روز سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف کردی ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (بخاری عن عائشہ ؓ اس شکر گزاری کے لئے استغفار کرنا ہے کیونکہ استغفار کرنے سے زیادہ شکر گزاری کا کلمہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور اپنے دوسرے مومن بندو کو دعائیں سکھائی ہیں ان میں استغفار اور بخشش طلب کرنا ، اپنی لغزشوں کی معافی مانگنا سر فہرست رکھا ہے اس کے لئے ملاحظہ کریں سورة البقرہ آیت 282 ، سورة آل عمران 193 سورة الاعراف 23 ، 155۔
اہل جنت جنت میں پہنچ کر جو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کریں گے اور جس طرح اللہ کا شکر ادا کریں گے اس کا ذکر سورة فاطر میں گزر چکا ہے اور سورة فاطر عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں گزر چکی ہے۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی بندہ نوازی کا ذکر کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ { ان ربنا لغفور شکور } (35 : 24) ” یقینا ہمارا رب معاف کرنے والا قدر فرمانے والا ہے۔ “ کیا جنت میں پہنچ کر بھی کوئی گناہ کا امکان ہے ؟
لاریب استغفار وہ چیز ہے جس سے تنگیاں اور فکریں دور کردی جاتی ہیں ” عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ستغفار میں لگا رہے اللہ تعالیٰ اس کی ہر دشواری سے نکلنے کے راستے پیدا فرما دیتا ہے اور تنگی اور فکر بحمد اللہ دور ہوجاتی ہے۔ “ اگر آپ معلوم کرنا چاہیں کہ یہ حدیث کس آیت کی وضاحت کرتی ہے تو اس کے لئے سورة الانفال 8 کی آیت 33 کا ترجمہ اور تفسیر دیکھیں۔
نبی اعظم و آخر ﷺ نے استغفار کے جو الفاظ اور طریقے سکھائے ہیں ان کی تفصیل بہت طویل ہے تاہم ایک دو وظائف عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ان کے الفاظ پر غور کر کے ان کے پڑھنے کی تلقین بھی کر رہا ہوں ، اللہ توفیق عطا فرمائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دعا میں یہ پڑھا کر :
(رب اغفر وارحم تجاوز عما تعلم فانک تعلم مالا نعلم انک انت الاعزالاکرم)
اے اللہ ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم کر ہماری جو لغزشیں تیرے علم میں ہیں وہ سب معاف فرما اس لئے کہ تیرے علم میں ہماری وہ لغزشیں بھی ہیں جن کا علم ہم کو بھی نہیں ہے اور تو ان کو جانتا ہے بلا شبہ تو ہی سب سے زیادہ معزز اور مکرم ہے “
بلا شبہ کتنی ہی غلطیاں ایسی ہیں جن کو ہم کر کے بھول جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ریکارڈ میں وہ سب محفوظ ہیں اس لئے ایسی جامع دعا سکھائی کہ اگر بندہ سچے دل سے دعا کرے تو خطائیں کہا باقی رہ جائیں گی جب کہ معاف کرنے والا اللہ رب ذوالجلال والاکرم ہو۔
نبی اعظم و آخر ﷺ نے استغفار کے الفاظ یاد کراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح استغفار طلب کرو :
” اے اللہ تو ہی میرا پروردگار ہے۔ تیرے سوا کوئی معیود نہیں ، تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں مجھ سے جہاں تک ہوسکا میں تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو نے جو نعمتیں مجھے عطا کی ہیں انہیں حاصل کر کے تیری طرف رجوع کرتا ہوں اے میرے اللہ ! میرے گناہ معاف فرما دیجئے لاریب تیرے سوا کوئی نہیں جو گناہوں اور خطائوں کو معاف کرنے والا ہو۔ “
اور استغفار کے مختصر الفاظ بھی آئے ہیں جو یہ ہیں کہ (استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ) اور اس سے بھی مختصر صرف استغفر اللہ ہے جس کو سمجھ کر پڑھنے کے بڑے فوائد ہیں۔ بہرحال انسان کو ہر حال میں اللہ سے استغفار طلب کرتے رہنا چاہئے لاریب انسانی کمزوریوں کا بہترین ازالہ ہے اور اس میں گناہ کرنے نہ کرنے یا ہونے نہ ہونے کی کوئی بحث نہیں یہ ایک بندہ اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کتنا بڑا اور کتنا نیک ہے بندہ بہرحال بندہ ہے اور اس کو اپنے بندہ ہونے کا اعتراف ہر حال میں ہونا چاہئے اور یہی سبق اعظم و آخر ﷺ نے ازبر کیا اور دوسروں کو یاد رکھنے کی تلقین فرمائی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ اللھم آمین۔
زیر نظر آیت کے آخر میں فرمایا { واللہ یعلم متقلبکم و مثوکم } اللہ تعالیٰ تمہارے پھرنے اور تمہارے ٹھہرنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔ “ اور متقلب سے بعض نے دنیا میں گھومنا پھرنا اور پیلنال اور مثویٰ سے آخرت میں میں جنت دوزخ کو جانا مراد لیا ہے اور بعض نے متقلب سے دن میں کاروبار میں مصرو ہونا اور مثوٰی سے رات کو خواب گاہوں اور بستروں میں جانا مراد لیا ہے اور بعض نے متقلب سے پشت قدر سے رحم مادر میں آنا اور مثویٰ سے زمین پر ٹھہرنا مراد لیا ہے اور بعض نے متقلب سے شکم مادر میں آنا اور مثوٰی سے قبروں میں جانا مراد ہے اور بہت اچھا ہے کہ یہ سب حالتیں اس سے مراد لی جائیں اور وسعت کا دائرہ تنگ کر کے ایک کی تصدیق اور دوسرے کی تردید نہ کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر انسان کی ہر حالت عیاں ہے جو انسانوں نے کئے ہیں وہ بھی جانتا ہے اور جو ابھی کرتے ہیں ان کا بھی علم ہے کہ { لا بخفی علیہ شی ما فی السموات وما فی الارض وھو العلیم الخبیر وھواحد القھار }
Ayah 47:20ایمان والے لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کے پیش نظر جہاد کی اجازت طلب کرتے تھے :
20 ؎ مکہ میں مسلمانوں پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں وہ کسی سے پویدہ نہیں اور ان کی تفصیلات سے کوئی تاریخ اور سیرت کی کتاب خالی نہیں جس میں اس کی وضاحت نہ کی گئی ہو اس لئے ہم ان واقعات کے نقل کئے بغیر یہ بات عرض کر رہے ہیں اور یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مسلمانوں نے جس مردانگی کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب جب ہجرت کی باقاعدہ اجازت دی گئی اور خود رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچ گئے تو مسلمانوں کو امید تھی کہ اب مکہ سے نکل کر ہم تین سو سال میل کے فاصلہ پر آگئے ہیں اب یہاں آرام کا سانس لیں گے اور اپنے قائد و راہنما کی معیت میں رہ کر اپنے دین حنیف کے احکامات پر امن کے ساتھ عمل کریں گے لیکن کفار کی وسعت درازیوں نے ان کی حالت کو پہلے سے بھی زیادہ بےآرام کردیا یہاں آ کر خود نبی اعظم و آخر ﷺ اور دوسرے مہاجرین کو اپنے غم کے ساتھ انصار کا غم بھی مل گیا کہ اگر قریش مکہ نے انصار کو کوئی نقصان پہنچایا اور ان کو کوئی گزند پہنچائی تو چونکہ اس کا باعث ہم مہاجرین ہوں گے اس لئے انصار میں سے پکے مومن تو نہ سہی لیکن ابھی بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو پوری دلجمعی سے اسلام میں داخل نہیں ہوئے لہذا ان کو کوئی تکلیف پہنچی تو یہ لوگ بد دل ہو سکتے ہیں اور ان کی بددلی سے ہمارا اور انصار میں سے بعض لوگوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ فکر کہنے کو تو معمولی بات ہوگی لیکن بہت کربناک ہے اور حالات کے پیش نظر اس حالت سے دو چار ہونا ممکن بھی تھا۔ ان حالات کے پیش نظر مسلمانوں کو قتل کی اجازت دی گئی تھی اور اس اجازت کا بیان سورة البقرہ کی آیت 190 میں ہم واضح کر آئے ہیں اور جن لوگوں نے سورة الحج کی آیت 39 کو پہلی اجازت قراردیا ہے ان کا بیان صحیح نہیں ہے بلکہ اس سے بہت پہلے اس کی اجازت دی جا چکی تھی بہرحال مسلمانوں کو جو خطرہ محسوس ہوتا تھا وہ سو فیصد صحیح نکلا اور قتل کا حکم ملتے ہی مسلمانوں کے دونوں گروہ اپنی حالت کے باعث بالکل واضح طور پر الگ الگ نظر آنے لگے۔ ایک وہ لوگ تھے جو اس حکم سے بہت خوش نظر آتے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے کہ اب ہم کو کفار مکہ سے بدلہ لینے اور ان کو قتل کر کے دوزخ رسید کرنے کا موقعہ مل گیا اور اللہ کیر اہ میں شہید ہو کر حقیقی زندگی کو حاصل کرنے کا موقع ہاتھ آگیا لیکن ان کے مقابلہ میں منافقین کی حالت دیدنی تھی وہ لاریب حواس باختہ ہوچکے تھے اور ان کے اوسان خطا ہوگئے تھے جس کی اصل وجہ یہ ہوئی کہ یہ حکم ملنے سے پہلے وہ بہت ڈینگیں مارتے تھے کہ اگر ہم کو جہاد کا حکم مل گیا تو ہم کافروں کو عبرتناک سزا دیں گے اور میدان جہاد میں اپنی شجاعت کے ایسے کارنامے دکھائیں گے کہ دنیا عش عش کر اٹھے گی اور اس طرح جو کچھ وہ زبانوں سے کہتے تھے دراصل ان کے دل کی آواز نہ تھی وہ محض دوسرے مسلمانوں کو خوش کر کے ان سے داد لینا چاہتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ جہاد کرنے کی اجازت نہیں ملے گی کیونکہ مسلمان مسلسل تیرہ سال مکہ والوں کے مظالم سہتے رہے لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی قدم نہ اٹھایا تو اب بیگانے ماحول میں آ کر وہ اتنی جلدی ایسا اقدام نہیں کریں گے اس خیال کے پیش نظر وہ اس طرح کی باتیں کیا کرتے تھے لیکن ان کے زحم کے خلاف جب قتل کا حکم نازل ہوگیا تو ان پر حکم سنتے ہی غشی طاری ہونے لگی اور ان کی حالت دیدین ہوگئی ۔ اس کی وضاحت ہم پچھے سورة الانفال کی آیت 5 ، 6 میں کرچکے ہیں اور سورة الانفال عروۃ الوثقیٰ کی جلد چہارم میں ہے۔
زیر نظر آیت میں ان منافقین کی حکایت بیان کی جا رہی ہی جن کو اس حکم کے نازل ہونے سے قلبی قلق ہوا تھا اور میدان جنگ کی طرف نکلنے سے ان کا جی گھبراتا تھا۔ قرآن کریم نے ان کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا ہے اور آخر میں ان کو منافقین کے نام سے بھی واضح الفاظ میں یاد کیا ہے تاہم مسلمانوں سے الگ نہیں کہا اور نہ ہی ان سے جنگ لڑی ہے اور یہ بات آج عالم اسلام کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے لیکن مسلمانوں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے { فاذانزلت سوۃ محکمۃ و ذکر فیھا القتال } جب ان پر کوئی سورت محکم اتاری جاتی ہے جس میں قتل کا ذکرآتا ہے اس محکم سورت سے مراد محکم حکم ہے جس کا ذکرہ نے اوپر کردیا ہے کہ یہحکم سورة البقرہ کی آیت 190 میں بیان ہوا ہے جو قتل کی ترغیب نہیں بلکہ باقاعدہ جنگ کرنے اور ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو اس وقت ان کیج و حالت ہوئی اس کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ سورة الانفال کی آیت 5 ، 6 میں بھی گزر چکا ہے فرمایا ” تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف سے اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے کسی کو موت نے آگھیرا ہو اور وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا ہو لیکن منہ سے کچھ بول نہ سکے گویا ان پر غشی طاری ہوگئی جو موت سے قبل عموماً طاری ہو ہی جاتی ہے وہ دیدے پھیر رہا ہے لیکن حلق سے بات نہ نکال سکتا ہے یہی حال ان کا ہو رہا ہے کہ ” پائے رفتن نہ جائے ماندن “ نہ جاتے بن پڑے نہ ٹھہرتے۔
Ayah 47:21اطاعت کا اقرر اور خوبصورت باتیں صحیح بشرطیکہ عمل بھی اس کی تصدیق کرے
21 ؎ یہ ان نام کے مسلمانوں کی حالت کا بیان ہے جو قتل کا حکم آنے سے قبل تھی کہ اطاعت و فرمانبرداری کی بہت ڈینگیں مارتے تھے اور ان کا انداز گفتگو بہت سلجھا ہوا نظر آتا تھا اور باتیں بہت بڑھ چڑھ کر کرتے تھے اور بعد میں بات واضح ہوگئی کہ یہ ساری باتیں ان کی کھوکھلی تھیں کیونکہ جب عمل کا وقت آیا تو وہ جھاگ کی طرح بیٹھ گئے اور ان کی وہی باتیں ان کی پشیمانی کا باعث بن گئیں حالانکہ جو کچھ انہوں نے کیا تھا اگر اس پر وہ قائم رہتے اور جب حکم قتل آگیا تو کم از کم اس وقت ہی وہ پختہ ارادہ کرلیتے اور اپنی کہی ہوئی باتوں کو سچکر دکھاتے تو ان کے حق میں یہ بات بہت اچھی ہوتی کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی وہ پکے مومنوں میں داخل ہوجاتے اور صرف نام کے مسلمان نہ کہلاتے بلکہ کام کے مسلمان بن جاتے لیکن حقیقت یہ تھی کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑا تھا ، وہ چڑھتے سورج کی پوجا کے طور پر مسلمان ہوئے تھے اور قوم میں اپنا مقام اور اپنی سرداری کا تحفظ چاہتے تھے۔ ان کو کیا معلوم تھا کہ جو چیز وہ قبول کر رہے ہیں وہ حلوہ او کھیر نہیں بلکہ لوہے کے چنے ہیں کہ ہم سے نہ چبائے جاسکیں گے اور نہ نگلے جاسکیں گے اب قرآن کریم کے تخاطب کا انداز بدل رہا ہے پہلے ان کو بلواسطہ (Indircet) کہا جا رہا تھا اور اب بلاواسطہ (Dircet) ان کو مخاطب کر کے بات کی جا رہی ہے۔
Ayah 47:22منافقین کی حالت کے پیش نظر ان کو بات سمجھانے کا ایک انداز ، سبحان اللہ
22 ؎ منافقین کی حالت کیا تھی ؟ ایک طرف وہ قولاً ایمان لانے کے دعویدار تھے اور دوسری طرف عملاً ایمان لانے والوں کے خلاف چل پڑے۔ ان کی اس حالت پر ان کو سزنش کی جا رہی ہے کہ ایسے کردار کا مظاہرہ کر کے تم نے کس کا نقصان کیا ہے ؟ اگر تم غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ اس طرح جو نقصان ہوگا وہ تمہارا ہی ہوگا کیونکہ تم ہی میں سے وہ لوگ ہیں جو ایمان کے پکے اور اپنے ارادوں کے دھنی ہی اور وہ تمہاری رشتہ داری اور قرابت دری کی پروا نہیں کریں گے اور اللہ کے دین کی حفاظت ان کو اپنی جانوں سے ہزار درجہ عزیز ہے۔ وہ اسلام کے نام پر کٹ مریں گے اس لئے عین ممکن ہے کہ تم آپس ہی میں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگو اور دل سے ایمان لانے والے دوسروں سے نمٹنے سے پہلے تم سے نمٹنا شروع کردیں اور اس طرح ایک نیا فساد شروع ہوجائے اور یہ وہ آگ ہوگی جو آپس ہی میں ایک دوسرے کو بھسم کر دے گی اور تاریخ میں ایک نیا بھل کھل جائے گا اور اگر یہ بات ہے تو محض ان کی تفہیم کے لئے ہے کہ ایمان کا دعویٰ تو ان کا موجد ہے اس طرح ان کو ایک موقع دیا جائے تاکہ و اپنی اصلاح کرسکیں لیکن ہمارے مفسرین نے اس کا مفہوم اس طرح بیان نہیں کیا۔
{ ان تولیتم } کے دو طرح معنی کئے گئے ہیں ایک یہ کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے “ اور دوسرے ” اگر تم حاکم بنا دیئے گئے “ پھر پہلی صورت کے پیش نظر مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر تم اسلام کی مدافعت سے جی چراتے ہو اور جان و مال کی بازی لگانے سے منہ موڑتے ہو تو جس چیز کی کوشش نبی اعظم و آخر ﷺ اور سچے مسلمان کر رہے ہیں تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا یہی کہ تم پھر اسی جاہلیت کی طرف پلٹ جائو جس میں تم لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے گلے کاٹتے آ رہے ہو اور اس طرح وہی فساد فی الارض دوبارہ شروع ہوجائے گا جو اسلام کی آمد سے پہلے تھا۔
اور دوسرا مطلب اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ” جب تمہاری سیرت و کردار کا حال یہ ہے کہ جس دین پر ایمان لانے کا تم نے اقرار کیا تھا اس کے لئے تمہارے اندر کوئی اخلاص اور کوئی وفاداری نہیں ہے اس اخلاقی حالت کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ تم کو اقتدار عطا کر دے اور دنیا کے معاملات کی باگیں تمہارے ہاتھ میں آجائیں تو تم سے ظلم و فساد اور برادر کشی کے سوا کس چیز کی توقع کی جاسکتی ہے۔ “ لیکن یہ دونوں باتیں قرآن کریم کی عبارت اور مفہوم سے کسی طرح میل کھاتی ہیں کہ وہ اس کو خود سمجھ لیں۔ ہماری سمجھ میں جو آیا وہ ان دونوں سے پہلے عرض کردیا ہے۔
Ayah 47:23یہی لوگ اللہ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے اور ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہو گئیں
23 ؎ یہ وہی منافقین کے گروہ کا بیان ہے جو ایمان کے دعویدار ہونے کے باعث ایمان والوں کے اندر ان کے ساتھ رہ رہے تھے اور جن کے ساتھ مسلمانوں کے حسب و نسب اولوالارحام کے رشتے ناطے موجود تھے اور ان کو منقطع کرنے کا حکم بھی نہیں آیا تھا کیونکہ وہ کلمہ پڑھتے تھے ، نمازوں میں شریک ہوتے تھے ، زکوٰۃ ادا کرتے تھے ، روزے رکھتے تھے اور چندے کی اپیل میں بددلی سے سہی بہرحال حصہ لیتے تھے اور بعض حالات میں جنگوں میں بھی رشیک ہوتے تھے اسی لئے ہم نے ان کو قول کے مسلمان اور عمل کے منافق کہا جو بعض مجبوریوں کی بنا پر اسلام میں داخل ہوگئے تھے ان کی حالت زار کی ساری حقیقت سورة الانفال اور سورة التوبہ میں واضح کردی ہے اور اس جگہ بھی بالکل صاف صاف الفاظ میں ان کو لعنت کا مستحق قرار دیا ہے اور ان کو بہرے اور اندھے قرار دیا ہے حالانکہ نہ تو ان کے کان بہرے تھے کہ وہ سنتے نہیں تھے اور نہ ہی ان کی آنکھیں اندھی تھیں کہ ان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر سنی ان سنی اور ہر دیکھی ان دیکھی کردیتے تھے ان کے دل کو وہی بات بھاتی اور اچھی لگتی تھی جس سے وہ دنیا کا فائدہ دیکھتے تھے اگر ان کو کچھ ملتا تو خوش اور کچھ دینا پڑتا تو موت نظرآنے لگتی تھی خالی نعرہ بازی میں بہت تیز تھے اور ہمت کے کاموں میں پرلے درجے کے بزدل تھے۔ باتیں کرنے ، سننے اور سنانے میں بڑے بہادر اور کام کرنے کے وقت سستی اور کاہلی کا شکار اور بات کا بتنگڑ بنانے کے عادی تھے۔ فرضی باتوں فرضی باتوں کے بہت ماہر تھے ۔ قرآن کریم نے اکثر مقامات پر ان کو اندھے ، بہرے ور گونگے اور اندھے ہیں جن کو انبیاء کرام اور رسل عظام زندگی بخشنے اور ان لوگوں کی ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے آئے ہیں اور وہ بھی اللہ کے حکم و اذن سے یعنی اسی کے قانون کے مطابق بعض ان کی تعلیم سے زندہ ہوجاتے ہیں اور ان کی یہ کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں اور بعض ان کمزوریوں اور اسی موت میں اپنی طبیع زندگی گزر کر مر کر جہنم پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے اکثر مفسرین اور علمائے کرام نے اس حیقت کے برعکس وہ مطلب اور مفہوم مراد لیا ہے جو خالصتاً اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے تھا اور کوئی بندہ اس میں شریک نہ تھا اور نہ ہی ہو سکتا تھا اور نہ ہی اللہ رب کریم یہ اجازت کسی کو مرحمت فرماتا ہے خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو۔
بحمد اللہ ہمشروع سے آخر تک قارئین کی راہنمائی اسی اصول پر کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے اختیار میں ہے کہ جن کی عقل و فکر میں چاہے اپنے قانون کے مطابق اس بات کو آنے دے اور چاہے جن کو محروم رکھے کیونکہ ہدایت کا معاملہ اسی ذات اقدسکو اکبر کے ہاتھ میں ہے اور قارئین کو یہ بات بھی معلوم ہے کہ جہاں اللہ کے ہاتھ کا ذکر ہم کرتے ہیں وہاں قدرت اور اختیار مراد ہوتا ہے اور اس کے لئے ہم نے اس جگہ ہاتھکا استعمال کیا ہے ورنہ اس عضو سے جس کو ہم ہاتھ کہتے ہیں اللہ پاک ہے۔
Ayah 47:24کیا یہ لوگ قرآن کریم میں غور نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ؟
24 ؎ { یتدبرون } جمع مذکر غائب مضارع منفی تدبرمصدر (تفعل) کیا وہ غور نہیں کرتے۔ اس کا اصل مادہ د ب ر ہے اور دبر پشت یعنی کر کو کہتے ہیں اور تدبر اسی سے ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ باقی باتوں اور چیزوں سے منہ پھیر کر کسی ایک چیز یا بات کے پیچھی لگ جانا اور اس کی حقیقت تک پہنچ کر دم لینا اور یہی اس جگہ مراد ہے یعنی قرآن کریم ہم نے ان پر نازل کیا تھا اس لئے کہ یہ لوگ باقی ساری طرفوں سے منہ پھیر کر صرف اور صرف اس پر غور کریں اور اس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش میں مصروف ہوں اور پھر جو حقیقت ہو اس کو قبول کریں اور اس کی وضاحت اور کھوج بھی بتایا کہ یہ کس طرح ممکن ہے فرمایا قرآن کریم کا بعض بعض کی خود تفسیر کرتا ہے اس پر غور کریں اور پھر یہ کہ قرآن ہی وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کا کوئی تضاد نہیں یہ بات بھی ذہن نشین کریں اور قرآن کریم کو ہم نے تمہاری زبان میں نازل کیا ہے اس میں تشبیہات ‘ اشارات ‘ استعمارات ‘ محاورات ‘ امثال و ضربات بہت استعمال ہوئے ہیں کیونکہ یہی ہر زبان کے ادب کی اصل جان ہے ان کا خیال رکھے ہوئے اللہ کی کتاب سمجھ کر اس پر غور کریں گے تو اصل مقصود اور حقیقت تک پہنچ جائیں گے اور جس اللہ کے بندے کے دل پر ہم نے اس کو نازل کیا ہے اس سے راہنمائی طلب کریں گے تو ان کا راستہ بالکل سیدھا ہوجائے گا اور اس راستہ کی ہر ٹیڑھ ختم ہوجائے گی۔ فرمایا یہ مقصد ان کو اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جس وقت انہوں نے نے اس مقام کی طرف اس کو لوٹایا جس مقام پر اس کا نزول ہوا اور وہ دل ہے۔ ہاں ! دل کے تالوں کو انہوں نے کھول دیا تو غور و فکر سے ان کو مقصود حاصل ہوجائے گا ورنہ اس کو پڑھنے ‘ تفسیر کرنے اور لوگوں کو سمجھانے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ قرآن کریم نے اس کی جگہ جگہ وضاحت کردی ہے کہ یہ دلوں پر تالے کیا چیز ہیں ؟ اور ان کو کھولنے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا سب سے بڑا تالا فرقہ بندی کی لعنت ہے اور اس کے ساتھ جب دنیا کی محبت ‘ اولاد ‘ زر اور زن کا پیار ‘ موت کا ڈر ‘ تجارت کے مندے کا خوف ‘ نفاق ‘ حسد ‘ کینہ ‘ بغض ‘ بخل اور بزدلی جیسی چیزیں مل جاتی ہیں تو یہ ان میں ایک ایک چیز دل کے تالے کا زنگ ہے جب تک ان کو دور نہیں کیا جائے گا دل پر تالہ پڑا رہے گا اور ان چیزوں کے دور ہونے کا نام دل کا تالہ کھل جانا ہے اور اس کے بعد اگر قرآن کریم پر غور و فکر ہوتا تو مقصود حاصل ہوجائے گا ورنہ ہدایت کی بجائے اس سے ضلالت نصیب ہوگی اور اس کی وضاحت خود قرآن کریم نے دوسری جگہ (یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا) (البقرہ 2 : 62) کہہ کردی ہے اور پھر جگہ جگہ اس کا استعمال کیا ہے تاکہ مکمل تفہیم ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ ہم کو دل کے ان تمام روگوں سے محفوظ رکھے اور اپنے کلام قرآن کریم پر غور و فکر کرنے کی توفیق دے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اے اللہ ! تو بذات الصدور ہے اور دلوں کے رازوں سے واقف ہے اور تیرے سوا کوئی نہیں جو ان باتوں کا حامل ہو اے اللہ ! ہم کو اپنی اس ہدایت کی آخری کتاب پر دلوں کے تالے کھول کر غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس کے امامرو نواہی کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے کہ تیرے سوا کوئی نہیں جو اس کی توفیق بہم پہنچائے۔ اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما۔ رب یسر ولا تعسر و تمم بالخیر۔
Ayah 47:25قرآن کریم سے منہ پھیرنے والے شیطان کے مکرو فریب میں ہیں
52 ؎ نفاق اور ارتداد دونوں لازم و ملزوم ہیں اور دونوں ایک ہی قبیل کی چیزیں ہیں اور دل کے روگوں میں سے بہت بڑے روگ ہیں اور جس جگہ یہ موجود ہوں وہاں شیطان کی آرزوئوں کا جال بچھ جاتا ہے جس سے نکلنا نہایت مشکل ہوتا ہے گویا انسان ہر طرف سے اس کے قابو میں ہوتا ہے اور یہی وہ آرزوئیں ہیں جب یہ آنکھوں کے سامنے آتی ہیں تو آدمی کو اندھا ‘ کانوں کے پاس آتی ہیں تو بہرہ اور زبا کے سامنے آتی ہیں تو گونگا کردیتی ہیں اور اس وقت آدمی (صم بکم عمی فھم لا یرجعون) کا مصداق ہوجاتا ہے۔؎
آرزوئیں اتنی کہ ہر آرزو پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے
بلاشبہ جو لوگ حق قبول کرنے سے روگردانی کرتے ہیں ان کی روگردانی کا اصل باعث یہی آرزوئیں ہیں اور یہی ہیں جو باطل سے چمٹے رہنے کی تلقین کرتی رہتی ہیں اور شیطان یعنی دل کے وساوس ‘ باپ دادا کا تصور ‘ ان کے عقائد و اعمال ان کے سامنے آراستہ و پیراستہ کرتا رہتا ہے اور ان کو جھوٹی امنگوں سے للچاتا رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے منہ میں تو رام رام ہوتا ہے لیکن بغل میں چھری بھی دبائی ہوتی ہے اور ان کی رام رام سن کر جبھی کوئی ان کے قریب پہنچتا ہے تو وہ اس چھری سے اس کا کام تمام کردیتے ہیں اور ان کی لا الہ کی ضربیں اور ہو ہو اور حق حق کے نعرے محض لوگوں کو پھنسانے کے لئے ہوتے ہیں تاکہ وہ چھری پھر وانے کے لئے ان کے قریب آئیں۔
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
چومی گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلات لا الہ را
(سول لہ) ای زینہ و جبہ الیہ لیفعلہ ۔ (سول) کا اصل مادہ س و ل ہے اور اس مادہ کے صرف دو لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں۔ ایک (سول) اور دوسرا (سولت) (سول) کا لفظ صرف اس جگہ استعمال ہوا ہے اور (سولت) کا استعمال تین بار ہوا ہے دو بار سورة یوسف میں آیت 81 ‘ 38 میں اور ایک بار سورة طہ کی آیت 69 میں اور (سول) کے معنی ہیں اس نے بات بنائی ‘ اس نے اچھا کر کے دکھایا۔ ” تسویل “ سے جس کے معنی نفس کے اس چیز کو کہ جس پر وہ حریص ہے مزین کرنے اور بری کو اچھی شکل میں پیش کرنے کے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ گویا شیطان نے ایک نہایت بری بات کو ان کے لئے مزین کر کے اچھی شکل میں پیش کردیا اور انہوں نے اسے بخوشی قبول کرلیا اور ان کو ایسی ایسی آرزوئیں دلائیں کہ ان کو حقیقت یاد ہی نہ رہی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی زبان پر تو لا الہ الا اللہ کا ورد رہا لیکن ان کے دلوں میں غیر اللہ کا پیار بدستور قائم رہا اور وہ سمجھ ہی نہ سکے کہ ایمان لانے سے پہلے کفر لازم ہوتا ہے ورنہ ایمان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی کیونکہ قرآن کریم نے ایمان لانے کو کفر کرنے سے مقید کردیا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ (من یکفر بالطاغوت و یومن باللہ) ” جو شخص طاغوت سے کفر کے بعد اللہ پر ایمان لائے “ وہ ایمان مقبول ہوتا ہے اور طاغوت سے انکار کے علاوہ ایمان کا دعویٰ نفاق کہلاتا ہے اور نفاق ارتداد توام ہیں۔ جو ایک ہی عمل میں پروان چڑھتے ہیں۔
Ayah 47:26نفاق کی مزید تشریح کر کے اس کو واضح کیا جا رہا ہے تاکہ کسی پر وہ مبہم نہ رہے
62 ؎ (الذی کرھوا ما انزل اللہ) کن لوگوں کی تصویر پیش کر رہا ہے ؟ ان لوگوں کی جو کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کلام کو اللہ کا نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا گھڑا ہوا خیال کتے ہیں حالانکہ ان کا یہ خیال محض ضد اور عناد کے باعث ہے نہ کہ کسی دلیل اور حجت کے باعث پھر وہ لوگ جو ان لوگوں سے پیار کی پینگیں چڑھاتے ہیں اور ان سے ان کی فرمانبرداری کرنے اور ان کا کہا ماننے کے وعدے کرتے ہیں کیا ان کے دلوں تک ایمان پہنچتا ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ ان کے ایمان کا دعویٰ بالکل فرضی ہے اور وہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مترادف ہیں ان کا ذکر اور ان کی عادات و خصائل کا نقشہ ہم غزوہ الوثقیٰ میں بیان کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ یہ لوگ وہی ہیں جو دوہری پوزیشن کے ہیں کہ (لا الی ھولاء ولا الی ھولاء) یہ وہ لوگ ہیں کہ جو طرف بھاری سمجھتے ہیں اس کی طرف اپنے آپ کو مائل کرلیتے ہیں اور یہ اس اصول کے قائل ہیں کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔ ان کو کچھ مل جائے تو خوش اور اگر دینا پڑے تو موت دکھائی دینے لگتی ہے۔ لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے کی پوری مہارت رکھتے ہیں اور سستی شہرت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ خفیہ سازشوں میں پیش پیش ہوتے ہیں اور اسلام کا مزاج ان کو پسند نہیں آتا بلکہ اس سے اکثر وہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں کفر کی ہر روش ان کے دل کی دھڑکن ہوتی ہے۔ یہ ادھر کی باتیں ادھر اور ادھر کی باتیں ادھر پہنچانے میں بڑے تیز گام ہوتے ہیں اور کوے کا ڈار بنانا ان کو خوب آتا ہے گویا لائی بجھائی میں خوب مہارت رکھتے ہیں۔ جھوٹ ان کی گھٹی میں پڑا ہوتا ہے ‘ وعدہ کر کے بھول جانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور ہتھیلی پر سوسوں جمانا چاہتے ہیں۔ ہم چوما دیگرے نیست کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ وقتی مصلحت کے خواہش مند ہوتے ہیں ا۔ اپنے رازوں کو اللہ سے پوشیدہ رکھتے وقت کبھی ان کو خیال تک نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی مخفی سے مخفی راز بھی چھپا نہیں رہ سکتا اور نہ چھپایا جاسکتا ہے۔ سورة الحشر میں ان کی روش کو مزید اجاگر کیا گیا ہے۔