Ayah 46:21ہود علیہ اسلام نے قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا :
21 ؎ { الاحقاف } حقف کی جمع اور حقف ریت یا مٹی کے مستطیل شکل کے تودہ کو کہا جاتا ہے یعنی وہ علاقہ جس میں اس طرح کے ٹیلے پائے جاتے تھے اور کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ عمان ، یمن ، نجد اور حضر موت کے درمیان اقع ہے اور الاحقاف کے نام سے موسوم ہے اور یہی علاقہ قوم عاد کا اصل مسکن رہا ہے اور اقوام عالم میں قوم عادہی کو جو شہرت اپنے زمانہ میں ملی تھی اس کا ذکر تاریخ کے صفحات میں آج تک پایا جاتا ہے۔ قوم عاد کی زیادتیوں اور مظالم کی داستان بھی بہت لمبی ہے اور جو دنیا میں انہوں نے کارہائے نمایاں کئے اور جس جس فن میں ترقی حاصل کی اور اپنے رسول ہودعلیہ السلام کی نافرمانی میں جو کچھ کہا اس کا ذکر ہم سورة ہود کے پانچویں رکوع میں کر آئے ہیں اور اس جگہ ہود (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت بھی بیان کرچکے ہیں اس کے لئے عروۃ الوثقی ، جلد چہارم میں سورة ہد کے پانچویں رکوع کی تفسیر دیکھیں اور ہود علیہ السالم کی مختصر سرگزشت کا مطالعہ بھی کریں۔
Ayah 46:22قوم عاد نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور عذاب کا مطالبہ کیا :
22 ؎ قوم عاد نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرایا اور مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اچھا آپ آپ ہمارے پاس اس لئے تشریف لائے ہیں کہ جھوٹ موٹ داستانیں سنا کر ہمارے معبودوں سے ہم کو برگشتہ کردیں۔ کان کھول کر سن لو کہ ہم آپ کی اس دھونس میں آنے والے نہیں اور نہہی تیری ان داستانوں کی کوئی وقعت ہم سمھجتے ہیں۔ جا ! جس عذاب کا ڈراوا ہم کو تو دے رہا ہے اس کو لے آ اور اگر تو سچا ہے توجلدی کر ذرا دیر نہ لگا۔ وضاحت پیچھے حوالہ بالا میں گزر چکی ہے۔
Ayah 46:23ہود (علیہ السلام) نے نے کہا کہ عذاب کب آئے گا یہ تو اللہ ہی جانتا ہے میرے علم کا معاملہ نہیں :
23 ؎ ہود (علیہ السلام) نے قوم کے اس مطالبہ کا جواب یہ دیا کہ تم بہت جلدی کر رہے ہو حالانکہ تم کو اتنی جلدی نہیں کرنی چاہئے پھر تم کو یہ بھی خیال ہونا چہئے کہ جب میں نے اپنا پیغام تم لوگوں تک نہیں پہنچایا بلکہ اللہ کے پیغام پہنچایا اور وہی چاہئے پھر تم کو یہ بھی خیال ہونا چاہئے کہ جب میں نے اپنا پیغام تم لوگوں تک پہنچایا بلکہ اللہ کے پیغام پہنچایا اور وہی پہنچایا جو اس نے مجھے حکم دیا ہے یہ معاملہ تو اللہ کا ہے کہ وہ تم کو کتنی مدت تک مہلت دینا چاہتا ہے میں اللہ کا پیغام تم کو پہنچا رہا ہوں اور جو تم نے اس پیغام کے جواب میں کہا یہ سب کچھ بھی اس کے علم میں ہے میں تو اتنی بات کہہ سکتا ہوں کہ تم لوگ بہت ہی جاہل ہو جن کو اتنی سمجھ بھی نہیں کہ جب عذاب آجائے گا تو تم کو اتنی مہلت ہی کب ملے گی کہ تم سے کچھ پوچھ لیا جائے اس وقت تو جو ہونا ہے وہ چکا ہوگا اور تم نتیجہ پا چکو گے۔ وضاحت حوالہ بالا میں بیان کردی گئی ہے۔
Ayah 46:24قوم عاد نے ایک بادل کو آتا دیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ رزق دوڑتا چلا آ رہا ہے :
42 ؎ بارش میں بلا شبہ اللہ نے رزق رکھا ہے بلکہ آسمان سے رزق نازل کرنے سے مراد بارش نازل کرنا ہی ہے لیکن یہ بادل صرف رزق ہی کو نہیں اٹھائے نظر آ رہا تھا بلکہ اس میں وہ عذاب الٰہی بھی مخفی تھا جو قوم عاد کی ہلاکت کا باعث تھا لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ جس چیز کا ہم مذاق اڑا رہے ہیں یہ وہی چیز ہے جو ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں لیکن زیادہ دیر نہ لگی کہ ان کی خوشیاں ان کی ہلاکت میں بدل گئیں اور جہاں شہنائیاں بج رہی تھیں وہاں ماتم کرنے والا بھی کوئی نہ رہا۔ ایسی آندھی چلی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی جس نے نہ ان کو چھوڑا او نہ ان کے پختہ محلات کو جن پر وہ ناز کیا کرتے تھے۔ تفصیل پیچھے حوالہ بالا میں کردی گئی ہے۔
مکہ تم نے بھی یہی چال رکھی جو تم شروع کرچکے ہو تو جو اس کا نتیجہ نکلے گا وہ بھی وہی ہوگا جو قوم عاد کا ہوا کیونکہ جب تمہارے کرتوت ایک جیسے ہیں تو نتیجہ ایک جیسا آخر کیوں نہیں نکلے گا ؟
زیر نظر آیت سے یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ جو چیز اللہ نے جس مقصد کے لئے دی ہے اس سے وہ کام نہ لیتا اس چیز کی قدر نہ کرنا ہے اور جو شخص انعامات الٰہی کی قدر نہ کرے وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو عذاب دیا جائے اور اس طرح جو شخص انعامات الٰہی کی قدر کرے وہ اس کا مستحق کہ اس کو مزید انعامات دیئے جائیں بلا شبہ سماعت ، تصارت و بصیرت اور عقل و فکر اور سمجھ سوچ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہیں اور یہی چیزیں جو دنیا میں بھی کام آتی ہیں اور آخرت میں بھی کام آئیں گی بشرطیکہ ان کی قدر کی گئی۔ اس دنیا میں رہ کر ان چیزوں سے آخرت کے لئے استفادہ کرنا یہی ہے کہ آخرت پر ایمان لانے کے بعد اس کے لئے مکمل تیاری کی جائے اور ہدایت کی باتیں سن کر ، دیکھ کر ، سمجھ کر ان کے مطابق عمل کیا جائے ۔ اللہ تعالٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو آنکھوں ، کانوں اور دلوں سے وہ کام لینے کی تو فقر دے جو کام ہمارے لئے آخرت کی بھلائی کا باعث ہوں۔
Ayah 46:25ایک عاد ہی نہیں بلکہ تمہارے ارگرد اور بھی کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم ہلاک کرچکے ہیں :
72 ؎ اس آیت میں بھی تنبیہہ کا رخ قریش مکہ ہی سے ہے اور ان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ایک قوم عاد ہی پر کیا انحصار ہے اگر تم اپنے ارگرد نظر دوڑائو تو تم کو تمہارے ہر وقت آنے جانے کے راستوں پر کتنی بستیاں ہیں جو تم کو سبق دے رہی ہیں اور ان کے کھنڈرات تم کو بتا رہے ہیں یہ عمارات بھی عجیب تھیں اور جس طرح آج ہم تم قریشی کو باور کرانے کے لئے بطور تنبیہہ قوموں کے قصص سنا رہے ہیں اور تمہاری توجہ مبذول کرا رہے ہیں اسی طرح ان قوموں کو بھی ہم نے ان کے دور میں یہ تنبیہات کیں اور ان سے پہلے کی قوموں کے قصص بھی ان کو سنائے لیکن اس طرح کی کوئی نصیحت بھی ان کے کام نہ آئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج وہ قومیں ایک قصہ پارینہ بن کر رہ گیں اور تم لوگ ہو کہ ان کو دیکھ کر اس طرح گزر جاتے ہو گویا کہ تم نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔
Ayahs 46:26–28ایک قابل غور بات ہے جس پر تم کو بھی غور کرنا چاہئے کہ شاید تمہاری اصلاح ہوجائے :
82 ؎ جس طرح آج تم قریش مکہ کے سوا دوسروں کو معبود بنائے بیٹھے ہو اور رب کریم کے سوا بہت سی ہستیوں کو حاجب روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو کبھی فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ، کبھی ان کے بت اور شبیہیں تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے ہو یہ قرار دے کر ، کبھی اللہ کے بندوں کو داتا اور اوتار سمجھ کر ، کبھی ان کے بت اور شبیہیں تیار کر کے اپنے سامنے رکھتے ہو یہ سارے کام قوم عاد ، ثمود اور دوسری ساری قوموں نے کئے لیکن غور و فکر کرو کہ جب ان کے عذاب کا وقت آیا تو ان ساری شخصیتوں میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا حالانکہ ان کا دعویٰ بھی یہی تھا کہ یہ سب کے سب ہم کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جب ہمارے مددگار ہوں گے تو ہمیں کون پوچھ سکے گا لیکن جب ان کی ہلاکت کا وقت آیا تو ان میں سے ایک بھی نہ ہوا جو ان کی مدد کرے اور وہ سب کے سب ان سے کھوئے گئے ہیں اور اس طرح یہ سارے آسرے اور وسیلے قیامت کے روز بھی کھوئے جائے گے اور کوئی بھی کسی کے کام نہیں آئے گا اور قیامت تک کے لوگوں کے لئے اس میں سبق رکھا گیا ہے اگر کوئی اس سے سبق حاصل بھی کرنا چاہئے ؟ ہمیں افسوس اور دکھ ہے کہ آج ہم مسلمانوں کی بھی وہی حالت ہوچکی ہے جو اس وقت قریش مکہ کی تھی اور ان سے پہلے دوسری قوموں کی کہ قیامت تک کے بارے میں بھی ہمارا عقیدہ برائے نام ہے جس میں صداقت بہت کم ہی اور پھر جو نام کا عیدہ ہمارے پاس ہے اس کے لئے جو ہم نے آسرے اور سہارے بنا رکھے ہیں وہ مجسموں پر عمارات تعمیر کرتے تھے یا عمارتیں بنا کر ان میں وہ بت اور مجسمے رکھتے اور ہم روضے تعمیر کر کے ان میں اپنے بزرگوں کو دفن کرتے ہیں یا دفن کر کے ان پر روضے تعمیر کرتے ہیں۔ ان تعمیرات میں ہمارے بزرگوں ، حاجت روائوں اور مشکل کشائوں کی قبریں ہیں اور ان کی تعمیرات میں ان کے بزرگوں ، حاجب روائوں اور مشکل کشائوں کے بت رکھے ہوئے تھے۔ حقیقت ان سب کی ایک ہے جس میں سوائے نام کے کچھ بھی فرق نہیں ہے اللہ ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں حقیقت کے تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہ ہو کیونکہ یہی عار تھی جس نے گزشتہ قوموں کی مت ماری تھی اور آج ہماری عقلوں پر بھی اس نے پانی پھیر دیا ہے ۔ اس کی وضاحت ہم اس سورت کی آیت 4 ، 5 کے تحت کر آئے ہیں اگر بات ذہن نشین نہ ہوئی تو ایک بار اس مضمون کو دوبارہ دیکھ لیں۔
Ayah 46:29ایک گروہ جن نے نبی کریم ﷺ کو قرآن کریم پڑھتے سنا :
92 ؎ { جن } کی اصل ج ن ن ہے اصل الجن : ستر الشئی من الحاسۃ۔ یقال جن الشئی یجنہ ، جنا مثل سترہ ماوزنا و معنیٰ ہر چھپی ہوئی چیز کو کہتے ہیں جو نظر نہ آئے۔ مختصر یہ کہ { جن } کا لفظ عربی زبان میں کائنات کی ہر ایک چیز پر کسی نہ کسی طرح بولا جاتا ہے او احادیث میں ہر طرح کے سانپوں ، کیڑوں مکوڑوں ، ڈنگروں ، ڈھوروں ، کتوں ، بلوں ، چوہوں ، مکھیوں ، مچھروں اور سارے حشرات الارض پر بولا جاتا ہے۔ ایک پوشیدہ مخلوق جس کی اصل آگ ہے اس پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور بعض انسانوں پر بھی یہ لفظ بولا گیا ہے جسے شیطان کا لفظ بولا گیا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس مخلوق جن کی بات ہے جو مخلوق مکلف ہے اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 821 ، 031 ، سورة الاعراف کی آیت 83 ، 971 ، جلد پنجم سورة الاسراء آیت 88 ، سورة الکھف آیت 05 جلد ششم سورة النحل کی آیت 71 ، 93 ، جلد ہفتم سوہ سبا آیت 21 ، 41 ، 14 ، سورة حم السجدہ آیت 52 ، 92 میں کرچکے ہیں اس لئے وہیں سے ملاحظہ کریں اور اس جگہ اس مخلوق کی بات ہے جو مخلوق مکلف ہے اور جن کہلاتی ہے یا جن کا اس پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ اس جنوں کی جماعت کا قرآن کریم سننے کا ذکر سورة الجن میں ہی آئے گا یہ واقعہ اس سے مختلف ہے یا ایک ہی ہے اور اس طرح کے واقعات کئی بار ہوئے ہیں یا ایک ہی بار اس کا ذکرجس طرح کیا گیا اس کو ہم اس جگہ اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے اور فیصلہ آپ پر کہ آپ ایک واقعہ کہتے ہیں یا مختلف اور کئی واقعات قرار دیتے ہیں۔ اس جگہ { نفرا من الجن } کے الفاظ ہیں نفر جماعت کو کہتے ہیں۔ یہ اسم جمع ہے ، جماعت متعدد افراد کی ایک ٹولی کو کہا جاتا ہے اور { نفر } اس جمع منصوب ہے ۔ جنوں کی ایک جماعت خواہ ان کی تعداد کتنی تھی۔
کہا گیا ہے کہ طائف سے ناکام واپسی میں رسول اللہ ﷺ ایک نختلستان میں اترے ، رات میں نماز پڑھ رہے تھے تو نصیبین (علاقہ یمن) کے چند آدمی (سات یا نو) آئے اور انہوں نے قرآن کریم سنا۔ (محمد بن کعب قرظی)
عکاظ کے بازارکو جانے میں رسول اللہ ﷺ ایک نخلستان میں اترے اور فجر کی نماز صحابہ ؓ کو پڑھا رہے تھے تو تہامہ کی طرف سے گزرنے والے جنات کے افراد کی جماعت اتر پڑی اور قرآن کریم سننے لگی۔ (ابن عباس ؓ بروایت سعید بن جبیر ؓ
حضرت ابن مسعود ؓ کی ایک طویل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ جنات کو تبلیغ قرآن کریں اس غرض سے جنات کی ایک جماعت کو بھیجا گیا یہ لوگ نینویٰ (کوفہ کے قریب علاقہ عراق) کے رہنے والے تھے۔ صحابہ ؓ کی جماعت اگرچہ موجود تھی لیکن صرف میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے ساتھ نکلا۔ ایک جگہ پہنچ کر آپ ﷺ نے مجھے پابند کردیا کہ یہاں سے آگے پیچھے نہ جانا اور خود ایک طرف کو تشریف لے گئے ایک جگہ پہنچ کر قرآن کریم پڑھنا شروع کیا ، میں نے دیکھا کہ گدھوں کی طرح کے کچھ جانور اوپر نیچے گرتے پڑتے ہیں یہاں تک کہ اس کے بعد آپ ﷺ کی آواز بند ہوگئی یا یہ کہ میں نے نہیں سنی کچھ دیر کے بعد بادلوں کی طرح چھٹنے لگے فجر تک آپ ﷺ فارغے ہوگئے۔ اس بیان کے آخر میں ہے کہ ابن مسعود ؓ نے کہا کہ میں نے سفید کپڑے پہنے کچھ کالے آدمی دیکھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ نصیبین کے رہنے والے تھے ایک مقتول کے قتل کے متعلق ان میں اختلاف تھا میرے پاس فیصلہ کروائے آئے تھے میں نے ان کا صحیح فیصلہ کردیا۔ فتادہ کی روایت سے ثابت ہے کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا ایک رات آپ ﷺ غائب ہوگئے ہم نے ہر چند تلاش کی لیکن ناکام رہے۔ صبح کو حرائ کی طرف سے تشریف لائے اور فرمایا کہ جنات کا قاصد آیا تھا اور میں اس کے ساتھ گیا تھا۔ میں نے جنات کو قرآن کریم پڑھ کر سنایا اس کے بعد آپ ﷺ ہم کو ساتھ لے گئے اور جنات کے قدموں کے آثار اور آگ کے کچھ نشانات دکھائے (مسلم) شعبی نے اس روایت میں کہا ہے وہ جزیرہ (علاقہ شام) کے جنات تھے۔ (معالم)
ابن عباس ؓ نے فرمایا نصیبین کے جنات کی تعداد سات تھی۔ زرین حبیش نے فرمایا نو تھے۔ مختلف روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جنات کے قرآن کریم سننے یا آپ ﷺ سے ملاقات کرنے کے متعدد واقعات ہوئے اور مختلف جگہوں پر مختلف جگہوں کے افراد شامل ہوئے لیکن آپ کیا سمجھے ہیں ؟ آپ ہی کو معلوم ہوگا ۔ ہم نے مختلف روایات کا اختصار اور اس کا نتیجہ عرض کردیا ہے اور اس کی وضاحت ہم پہلے کرچکے ہیں کہ یہ وہ جنات ہیں جو مکلف قرار پاتے ہیں جن کی مثال قرآن کریم میں سورة الانعام کی آیت 031 میں پیش کی گئی ہے۔
زیر نظر آت میں الفاظ { اذ صرفنا الیک نفرا من الجن } کے آئے ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جماعت اتفاقاً اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف بھیجی تھی نہ آپ ﷺ نے ان کے لئے کوئی اہتمام کیا اور نہ ہی انہوں نے کوئی اس طرح کا ارادہ کیا تھا یہ جو کچھ ہوا اسی طرح ہوا جیسے سر راہ ہے ایک کام یا ایک بات ہوتی ہے اور اس کو اتفاق کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جب ان کا گزر اس طرف ہوا جہاں آپ ﷺ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے کان میں اس کی آواز پہنچی تو ان میں سے کسی نے کہا کہ ذرا ٹھہرو اور خاموش ہو جائو اور سنو کہ کیا آواز آرہی ہے اس آواز کو خاموش ہو کر سنو اور اس طرح انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو خاموش کرا کے قرآن کریم کی تلاوت سنی اور جب آپ ﷺ نے قرآن کریم پڑھنا بند کردیا تو وہ اپنی راہ کی طرف مڑ گئے اور جدھر ان کو جانا تھا چلے گئے اور اس طرح جب وہ اپنی قوم میں پہنچنے تو گویا وہ قوم کے مبلغ تھے کیونکہ جو کچھ انہوں نے قرآن کریم کی آواز میں سنا تھا اس کو ایسا نقش کیا کہ اپنی قوم کو وہ ڈرانے والے بن گئے اور اس طرح یہ وہی بات ہوئی جس کو ہماری زبان میں کہتی ہیں کہ فلاں نے چور کو پکڑ کر قطب بنا دیا۔
Ayah 46:30واپس جا کر وہ قوم کو اس طرح نصیحت کرنے لگے :
03 ؎ قرآن کریم کو اتفاقاً سننے والے جتنے افراد بھی تھے گویا کہ وہ اپنی قوم کے مبلغ بن گئے اس لئے کہ ان کی گفتگو واضح کر رہی ہے کہ وہ ہماں شماں نہیں ہیں بلکہ اچھی خاصی واقفیت رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے قوم کے سامنے جا کر جو بیان دیا اس میں کہا ہے کہ اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے جو کتاب سنی ہے وہ بلا شبہ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بطور پیش گوئی اس کی تصدیق کرتی ہے اور اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ یقیناً حق ہے اور وہ حق کی طرف ہدایت دینے والی ہے اور ظاہر ہے کہ حق کی راہ ہی صراط مستقیم ہے اور اس طرح جو کچھ انہوں نے اپنی قوم کے سامنے بیان کیا تھا وہی سورة الجن کی آیت 1 ‘ 2 میں بیان کیا گیا ہے کہ ” جنوں کے ایک گروہ نے قرآن کریم کو غور سے سنا پھر جاکر اپنی قوم سے کہا ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ “ (27 : 1 ‘ 2) اور اس طرح مخالین پر ایک طرح واضح کیا جا رہا ہے کہ اگر تم اس قرآن کریم کو سننے کے لئے تیار نہیں تو اللہ کی اس کتاب کو سننے والے اور بہت لوگ ہیں لیکن اس طرح یہ قسمت کی بات ہے کہ جس چشمہ کے قریب رہ کر تم پیاسے رہے اسی چشمہ نے دور دور کے لوگوں کو سیراب کردیا۔ سچ ہے کہ ملاح کے حقہ میں گندا پانی اور موچی کے پائوں میں ٹوٹا جوتا ہی دیکھا گیا ہے۔
Ayah 46:31اے ہماری قوم کے لوگوٖٖ ! اس داعی الی اللہ کی بات سنو اور ایمان لائو :
13 ؎ قوم میں پہنچ کر ان لوگوں کو جو تقریر ہوئی وہ ابھی جاری ہے اور انہوں نے اپنی بات کو بیان کرتے ہوئے قوم کو کہا اے ہماری قوم کے لوگو ! اس اللہ کے داعی کی بات کو بغور سنو اس کو قبول کرتے ہوئے اس پر ایمان لے آئو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو صاف کر دے گا اور تم کو دردناک عذاب سے نجات دے گا ۔ غور کرو کہ انہوں نے قرآن کریم اتفاقاً سنا ہے لیکن حقیقت ی ہے کہ ان کے دل میل سے صاف تھے اور خصوصاً رسول اللہ ﷺ سے کوئی بغض اور کوئی عناد ان کے دلوں میں موجود نہ تھا اور نہ ہی وہ آپ کو جانتے تھے اور مکہ والوں کو حسد اور کینہ وبغض جیسی چیزوں نے گھیر رکھا تھا اس لئے ان کے دل پہلے ہی اس سے بھرے پڑے تھے اور ظاہر ہے کہ بھرے ہوئے برتنوں میں کوئی چیز ڈالی جائے تو وہ ضائع ہی ہوتی ہے کہ برتن اس کو سنبھال نہیں سکتا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر طرف سے خالی الذہن ہو کر میری بات کو سنو اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھو۔ آج بھی بدقسمتی سے ہم کو فرقہ بندی کوئی بات سمجھنے نہیں دیتی اگر فرقہ پرستی کا مرض دور ہوجائے تو بات سمجھتے دیر نہیں لگتی۔
Ayah 46:32جو شخص اس داعی کی بات کو قبول نہیں کریگا اس کا کوئی دوست نہیں ہوگا :
23 ؎ وہ اپنی قوم ہی کے لوگوں کو مخاطب کر کے بات کر رہے ہیں اور قوم پر واضح کر رہے ہیں کہ اے ہماری قوم کے لوگو ! جس شخص نے اس داعی الی اللہ کی بات کو نہسنا اور اس پر کان نہ رکھا اس کے بیان کی رپوا نہ کس اس نے اپنا ہینقصان کیا کیونکہ یہ کلام اللہ کا ہے کسی بندہ کا نہیں اور پھر جس شخص نے اللہ کے کلام کو ٹھکررا دیا وہ یقیناً اس دنیا میں بھی ٹھکرایا جائے گا اور آخرت میں بھی اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ یہ کلام اللہ کا ‘ یہ زمین اللہ کی اور پھر کوئی شخص اللہ کو عاجز کرنے کی کوشش میں مصروف ہوجائے تو اس کی کامیابی کی کوئی صورت ؟ ایک بار پھر سن لو کہ اگر اللہ تعالیٰآ ہی کسی کا دوست نہ رہے تو آخر کون ہوگا جو اس کا ہاتھ تھام لے گا ؟ کوئی مانے نہ مانے ‘ تسلیم کرے نہ کرے بس یہی لوگ ہیں جو کسی پرانی بھول میں مبتلا ہیں کہ حق کو دیکھ کر اس سے منہ پھیر رہے ہیں۔ اگر ذوا غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ بالکل یہی بات سورة الجن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے کہ { وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض ولن نعجزہ ھربا } (27 : 21) ” اور لاریب ہم نے جان لیا ہے کہ نہ ہم زمین میں اللہ رب کریم کے قابو سے باہر نکل سکتے ہیں اور نہ ہی آسمان میں بھاگ کر اس کو چرکادے سکتے ہیں۔ “ اور آخرت میں ہمارا کو ئیہاتھ پکڑے تو یہ ممکن ہی نہیں اگر کوئی کہتا ہے تو سفید جھوٹ بکتا ہے جسکی اللہ پروا نہ کرے اس کی پروا کون کرسکتا ہے ؟
ہم نے پیچھے اشارہ کردیا ہے کہ اس جنوں کی جماعت سے وہی جن مراد لئے جاسکتے ہیں جو مکلف ہیں اور چونکہ مکلف جن کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے تھے اس لئے اس کا حوالہ پیش کردیا ہے تاکہ ضرورت ہو تو پیچھے مراجعت کر کے اس مکلف جن کی وضاحت کو آپ ذہن نشین کرلیں اور جن لوگوں نے یہاں مکلف جن کو تسلیم نہیں کیا ان کو بڑی بڑی عجیب توجیہات کرنا پڑی ہیں جس کا نمونہ تفاسیر میں دیکھا جاسکتا ہے اور اس طرح کی غلط فہمیوں نے ہماری قوم کے اندر بدقسمتی سے ایک ایسا طبقہ پیدا کردیا ہے جو جن ڈالنے اور جن نکالنے کا دھندا کرتا ہے اور مکر ‘ فریب ‘ دھوکا اور فراڈ سے کام لے کر قوم کو لوٹ رہا ہے اور نوجوان بچوں ‘ بچیوں اور ان کے والدین کو پریشان کر کے اپنے پیٹ کے دوزخ کو بھر رہا یہ ۔ حاشا اللہ ! کہ اس طرح کی کوئی گنجائش ان آیات یا قرآن کی کسی دوسری جگہ یا احادیث وغیرہ میں ہو عوام کو چوکنا ہو کر ان کے حرام فریب سے بچنا چاہئے اور اپنی قوت و ہمہ کو سورة الحمد ‘ سوہ الفلق اور سورة الناس کے وظیفہ سے مضبوط کرنا چاہئے اور ان سارے لٹیروں کو جن ‘ بھول اور چڑیلیں سمجھ کر ان سے پرہیز کرنا چاہئے یہی وہ لوگ ہیں جو دین کے ڈاکو ‘ چور اور اچکے ہیں۔ خواہ وہ کسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں ‘ کہاں ہیں اور کیسے ہیں۔
Ayah 46:33مخالفین ‘ معاندین اور مکذبین کو معلوم نہیں کہ آسمانوں زمین کو پیدا کرنیوالا اللہ ہے :
33 ؎ اب مضمون کا رخ نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخالفین ‘ معاندین اور مکذبین کی طرف پر تا ہے جو قیامت کا نہایت سختی سے انکار کرتے تھے اور یہی سب سے بڑا کانٹا تھا جو ان کے گلے میں پھنس گیا تھا اور وہ اس کو نگل نہیں سکتے تھے اور بضد تھے کہ اگر تم سچے ہو تو اس کو فوراً لے آئو ورنہ اس تعلیم و تبلیغ سے باز آئو۔ توحید کے اعلان کے بعد دوسری یہی سب سے بڑی بات تھی جس کو وہ ہضم نہیں کرسکے تھے۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ اچھا یہ تو بتائو کہ اس کارخانہ کائنات کا پیدا کرنے والا تو تم بھی مانتے ہو کہ اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں اور یہ کہ جب تم کو پوچھا گیا کہ بتائو ان آسمانوں و زمین کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ تو تم نے جواب یہی دیا کہ اللہ۔ ذرا اتنی بات تو سمجھائو کہ کیا اللہ ان سب چیزوں کو پیدا کر کے تھک گیا ہے کہ اب دوسری بار تم کو اور اس سارے کارخانہکائنات کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکے گا ؟ اور یہ بات تو بالکل عام فہمہ کہ جس نے بھی کوئی ایجاد پہلی دفعہ بنائی ہے اگر وہ دوسری بار اس کو بنانا چاہے تو وہ پہلے سے یقیناً بہتر بنائے گا۔ پھر تعجب ہے تم پر کہ تم پہلی بار ہر ایک چیز کو بنانے والے اللہ تعالیٰ کو مانتے ‘ تسلیم کرتیہو اور اگر دوسری بار کا ذکر آتا ہے تو جزبز ہونے اور انکار کرنے لگتے ہیں اور یہ بات تم ہضم ہی نہیں کرسکتے حالانکہ جس نے پہلی بار پیدا کیا وہ جب دوسری بار پیدا کرنا چاہے گا تو یقیناً ایک ہی کلمہ { کن } سے پیدا کر دے گا جیسا کہ اس نے یہ سب کچھ پہلی بار پیدا کیا ہے اور وہ اس کی یقیناً قدرت رکھتا ہے۔ کفار مکہ کے پیچجھے ان کو پڑھانے والے اور سکھانیوالے زیادہ تر یہود تھے۔ قریش مکہ ان کو اہل کتاب سمجھ کر ان سے رابطہ کرتے اور وہ ان کو کوئی نہ کوئی ایسی پڑھنت پڑھا دیتے اور چونکہ ان کے ہاں تورات اللہ کی کتاب تھی لیکن انہوں نے اس میں اپنی مانیاں کر کے اس قدر تحریف کردی تھی کہ وہ اس طرح کی کہانیاں اس سے بھی قریش کو دکھا دیتے تھے اور چونکہ تورات میں اللہ کے تھک جانی اور آرام کرنے کا ذکر موجود تھا جو ان کی تحریف ہی کا نتیجہ تھا تاہم وہ قریش کو بتا رہے تھے کہ دیکھوتورات میں میں کیا ہے۔
” اس لئے کہ چھ دن میں خداوند نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کر کے تازہ دم ہوا۔ “ (کتاب خروج 13 : 71) لیکن اس کے خلاف قرآن کریم نے جو نظریہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں بیان کیا وہ بالکل اس کی نفی کرتا ہے اور برملا کہتا ہے کہ یہ بات بالکل ایک گپ ہے اللہ تعالیٰ وہ ذات نہیں ہے جو کبھی تھک جائے لاریب وہ اس سے پاک ہے۔ لیکن جو بات ایک بار کسی کے دل میں جم جائے اس کا دور کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا یہ بات اس وقت بھی تھی اور آج بھی بہت سے انسانوں کو ایک چھوٹی سی بات ہضم کرنا مشکل ہوجاتی ہے اور خصوصاً وہ جو پیچجھے سے سنتے آ رہے ہوتے ہیں اور پھر اسکو صحیح اور درست ثابت کرنے لئے طرح طرح کی تاویلیں کرتے نظرآتے ہیں اور اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے۔
Ayah 46:34کفار کو جب آگ پر پیش کیا جائے گا تو ان سے پوچھا جائے گا کہ دیکھو کیا یہ حق ہے ؟
43 ؎ جیسا کہ گزشتہ آیت میں کفار مکہ کے اس نظریہ کا ذکر تھا کہ قیامت سے جو تم انکار کرتے ہو اس انکار پر آخر تمہارے پاس دلیل کیا ہے ؟ لیکن نہ تو وہ اس کی کوئی دلیل بتا سکے اور اسلام کی بتائی ہوئی دلیل کو انہوں نے تسلیم کیا جو قیامت کے آنے کے حق میں اس نے پشی کی اور یہ بھی کہ وہ دلیل انہیں کے نظریہ سے پیش کی۔ فرمایا اچا اگر نہیں مانتے تو ایک بات کو کان کھول کر سن لو کہ منکرین قیامت کو جب دوزخ کے اوپرلے جا کر کھڑا کردیا جائے گا اور وہ جس چیز کا انکار کرتے تھے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ صاحب ! دیکھو اور بتائو کہ کیا اب بھی تم اس کو حق مانتے اور تسلیم کرتے ہو یا ابھی کوئی شک باقی ہے ؟ لیکن اس وقت تو وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور اس وقت وہ کہیں گے { بلی } کیو نہیں لاریب یہ تو حق ہے۔ گویا اس وقت ان کے پاس اس کو مانے اور تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوگا لیکن ان کے اس تسلیم کرنے کا ان کو کوئی فادہ نہیں ہوگا صرف تصدیق کرائی جائے گی اور ان کو دھکیل کر دوزخ میں داخل کردیا جائے گا کہ اب اس عذاب کو چکھو جسکا تم انکار کیا کرتے تھے اور تم پر کوئی دلیل بھی اثر نہیں کرتی تھی۔
Ayah 46:35اے پیغمبر اسلامٖ ! آپ ﷺ بھی ثابت قدم رہیں جیسے اولوالعزم رسل ثابت قدم رہے
53 ؎ یہ خطاب نبی اعظم و آخر ﷺ سے ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے آپ ﷺ کی امت کے ہر اس فرد کے لئے جو دعوت اسلام کا کام کرے کہ اس راستے میں مشکلات آئیں گی اور یہ بھی کہ ان مشکلات کا آنا بہت ضروری ہے کیونکہ ہر داعی اسلام کے راستہ میں حائل رہی ہیں لیکن جس طرح اے پیغمبر اسلام ! آپ سے پہلے انبیاء و رسل ثابت قدم رہے اور اس راہ میں ان کے قائوں کو ذالغزش نہیں نہ آئی اسی طرح آپ ﷺ بھی صرب ثبات سے اس دعوت کو جاری رکھیں اور مخالفین و معاندین اور مکذبین کی تکذیب و مخالفت کی ذرا پروا نہ کریں جب وقت آئے گا تو یہ اس طرح ختم ہو کر رہ جائیں گے جس طرح حباب آب ختم ہوجاتا ہے ۔ یہ لوگ شر انگیز اور فتہ جو ہیں اسلام کے خلمف ان کی سازشیں خواہ کتنی ہی مضبوط ہیں لیکن ان کا خاتمہ ہمارے ذمہ ہے۔ آپ ﷺ صبروثبات سے اپنا کام کرتے چلے جائیں اور یہی درس اپنی امت کے ہر اس فرد کو بھی دیں جو دعوت اسلامی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے کہ وہ خوب کان کھول کر سن لے کہ یہ لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے اسلیء اس میں ثابت قدمی ہی اصل آزمائش ہے اس شخص کی جو اس ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ کام بھی بلا شبہ مشکل ہے لیکن انعام بھی بہت بڑا ہے۔ آپ گزشتہ انبیاء و رسل کی سرگزشتوں کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ ان کے راستے میں کیا کیا رکاوٹیں کھڑی کیگئیں اور وہ کس طرح ان طوفانوں کا مقابلہ کرتے رہے اور پھر ذرا نہیں گھبرائے اور انہوں نے نہایت عظمیت و حوصلہ سے کام لیا اور اپنا فریضہ رسالت و نبوت پورا کرتے رہے آپ بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں اور اپنی امت کے لئے یہی اسوہ حسنہ تیار کریں۔ جو لوگ مخالفت میں ڈٹ گئے ہیں اور کفر سے باز آنے کے لئے تیار نہیں پھر آپ ﷺ سے طرح طرح کے مطالبات بھی کرتے ہیں اور خصوصاً قیامت کے لانے کا مطالبہ بار بار دہرا رہے ہیں آپ ﷺ ان کے معاملہ میں جلدی نہ کریں بلکہ ان کی تفہیم کراتے رہیں کہ اگر قیامت آگئی اور جو کچھ ہونا ہے وہ ہوگیا تو تم اس کو کیا مانو گے اور کیا تسلیم کرو گے اور تمہارے ماننے اور تسلیم کرنے کا فائدہ کیا ہوگا۔ بلا شبہ وہدن آنے والا ہے جسکا وہ مسلسل انکار کئے چلے جا رہے ہیں اور ان کو باور کر ائو کہ اللہ کے بندو ذرا غور کرو کہ تم میں سے جو ایک بار موت سے دو چار ہوتا ہے کیا وہ دوبارہ لوٹ کر اس دنیا میں آتا ہے اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو اس طرح تم بھی دوبارہ لوٹ کر اس دنیا میں نہیں آئو گے بلکہ تم سب کو اور ان کو جو تم سے پہلے مر کر چلے گئے اور وہ بھی جو تم سے بعد مریں گے سب کو ایک ہی بار دوبارہ زندہ کر کے لایا جائے گا اس لئے جو بھی تم میں سے مر گیا گویا اس کی قیامت تو آگئی پھر تم تقاضا کس چیز کا کرتے ہو جس طرح تمہاری قیامت ہے اسی طرح ایک دن سارے نظام کی قیامت آئے گی کیونکہ یہ نظام بھی اسی طرح قائم کیا گیا ہے جس طرح تم کو ایک زندگی دی گئی ہے اور جس طرح تمہاری اس زندگی کے بعد موت ہے اس سارے نظام کی زندگی کے بعد بھی اس کی موت ہے اور پھر دوبارہ زندگی ملے گی تاکہ ہر فرد نے جو کچھ کیا ہے اس کا پورا پورا صلہ دیا جائے جو اسی دارالعمل میں ملنا ممکن ہی نہ تھا کیونکہ انسان مر جاتا ہے لیکن اسکے اعمال اچھے یا برے زندہ رہتے ہیں اور ان کا اجر ملنا ضروری ہے وہ اس کے اعمال ہیں اگر وہ اعمال خیر ہیں تو اچھا اجر ملے گا اور اگر وہ اعال ‘ اعمال شر ہیں تو ان کا بدلہ بھی اس کو ملنا لازم ہے اگر اسی دنیا میں اس کا بدلہ دیا جاتا جب کہ دنیا ابھی باقی ہے تو غور کرو کہ یہ ممکن ہی کیسے ہو سکتا تھا اس لئے تم جلدی نہ کرو جب وہ دن آئے گا اور ہر ایک شخص کے اعمال منقطع ہوجائیں گے تو ضروری ہے کہ ان کا صل چکایا جائے اور وہی دن عدل کا دن کہا جاسکتا ہے اور یہی کچھ اسلام نے بتایا ہے۔
فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آج تو یہ لوگ اس دن کا انکار کرتے ہیں اور کئے ہی چلے جاتے ہیں لیکن آنیوالے کل میں کیا ہوگا جب دو چار دن کا وعدہ دیئیجاتے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور پکار پکار کر کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں ایک ہی دن کا کچھ حصہ رہکر واپس آگئے تھے گویا صرف پل بھر کے لئے وہاں رکے تھے لیکن اس وقت جب وہ اس جگہ رہ رہے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیا ہے باقی سب جھوٹ ہے۔ آپ ﷺ ان تک یہ پیغام پہنچا دیں اور اس طرح پہنچا دیں کہ آنے والے کل یہ لوگ اس کا انکار ہی نہ کرسکیں کہ ایسے ہی ایک سرسری بات تھی جو ہم سے کی گئی اور ہم تو اس کو ایک مذاق ہی سمجھے تھے اور پھر جب ہلاکت کا وقت آئے گا تبو بلاشبہ یہ ہلاکت انہی لوگوں کے لئے ہے جو فاسق ہیں اور حدود اللہ سے تجاوز کرنے والے ہیں اور فسق و فجور میں اس طرح غرق ہیں کہ ان کو کوئی آواز بھی دے تو یہ سننے کے لئے تیار نہیں۔ افسوس کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ لوگ سمجھ جاتے اور اپنے پائوں پر خود کلہاڑیاں نہ چلاتے اور نہ ہی دوسروں کو دیکھا دیکھی اپنا منہ پیٹ پیٹ کر لال سرخ کرتے۔
ہم اسی مضمون پر سورة الاحقاف کی تفسیم کو ختم کرتے ہیں۔
عبدالکریم اثری
ٹھٹھہ اعلیہ
32/جنوری 8991 ء ‘ 42/رمضان المبارک 8141 ھ