Ayah 46:9اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں کوئی پہلا رسول نہیں :
9 ؎ مخالفین و معندین کو ایک سے زیادہ اعتراض تھے آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر اور اس دعویٰ پر کہ مجھ پر یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے
نازل ہو رہا ہے مثلاً ایک اعتراض یہ تھا کہ آپ ﷺ تو انسان ہیں یعنی بشر اور بشر کبھی رسول نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کبھی منصب رسالت پر فائز ہو سکتا ہے کبھی کہتے کہ آپ تو ہماری طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں سودا سلف خریدنے کے لئے آتے جاتے ہیں اور اس طرح تمہارے ساتھ ساری حوائج و ضروریات ہیں جس طرح دوسرے انسانوں کے ساتھ ہیں اگر آپ اللہ کے رسول بنائے گئے ہوتے تو تمہاری ان ساری چیزوں اور باتوں کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص (Special) انتظام کیا جاتا۔ آپ کے ساتھ فرشتے آپ کی نگہبانی کے لئے ہوتے۔ آپ کے پاس شاندار سونے کا گھر ہوتا اور نہایت بہتر اور شاندار باغات آپ کی ملکیت میں دیئے جاتے۔ اس قرآن کو ہم اللہ کی کتاب تب مانیں گے جب آپ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمانوں پر خالی ہاتھ چڑیھیں اور وہاں سے لکھی لکھائی کتاب لے آئیں جس کو ہم پڑھیں تو ہم مان لیں کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے یہ اور اسی طرح کے بیسیوں بےسروپا اعتراضات تھے جو آپ ﷺ کی رسالت و نبوت پر کرچکے تھے اور ان کے ان سارے اعتراضات کے جوابات ساتھ ساتھ دیئے گئے اور زیر نظر آیت میں ان سارے سوالوں کا ہی جواب دیا جا رہ یہ جو سارے اعتراضات پر حاوی ہے۔ فرمایا اے پغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان معترضین کے سارے اعتراضوں کو ایک ہی جواب دے دیں کہ اللہ کے بندو ! میں کوئی یا رسول نہیں میرے سے پہلے ہزاروں نبی اور رسول آ چکے ہیں کیا آپ لوگ کسی ایک نبی و رسول کے متعلق ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ بشر نہیں تھا ، وہ کھاتا پیتا نہیں تھا ، اس کے ساتھ یہ ساری ضروریات نہ تھیں جو انسانوں کے ساتھ ہوتی ہے کیا ان کی اولاد اور بیوی بچے نہیں تھے کیا ان میں سے ہر ایک نبی و رسول کے پاس سونے کے گھر اور فرشتے دربان ہوتے تھے ، کیا ان میں سغے کوئی اس طرح آسمانوں پر خالی ہاتھ جا کر کتاب لے کر وہاں سے اترا تھا اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر تم مجھ پر یہ سارے بےسروپا اعتراضات کیوں کرتے ہو۔ کیا کسی نبی نے پہاڑوں کو سونا بنایا یا کسی نبی کے لئے سپیشل (Special) چشمے جاری کئے گئے اور نہریں بہائی گئیں تھیں اور صرف میرے لئے ہی یہ سارے کام یا ان میں سے کوئی ایک نہیں کیا گیا ۔ کیا میں کوئی نیا اور انوکھا رسول ہوں جو تم لوگ مجھ سر اس طرح کے اعتراضات کرتے ہو ؟ اگر میں دنیا میں ایک اور پہلا ہی رسول ہوتا تو تم اس طرح کی باتیں کرتے جب اللہ نے بہت سے رسول بھیجے جن میں سے کچھ کو تو تم بھی نبی اور رسول مانتے اور تسلم کرتے ہو کیا وہ انسان نہیں تھے ؟ کیا انہوں نے اپنی اپنی امتوں کی ایسی ایسی بیہودہ فرمائشوں کو پورا کیا تھا ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو تم ایسے سوال کیوں کرتے اور ایسے اعتراضات کیوں اٹھاتے ہو جو نبوت و رسالت کے متعلق نہیں ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبی و رسول بھی آیا وہ بلا شبہ معرفت الٰہی کے چشمے بہانے کے لئے آیا ، کفر کی موت مرنے والوں کو زندگی بخشنے کے لئے آیا۔ مردہ دلوں کی قلبی زمین کو زندگی عطا کرنے کے لئے آیا ، دل کے کانوں اور اندھوں کو سنانے اور دکھانے کے لئے آیا اور بلا شبہ جن لوگوں نے کسی بھی نبی و رسول کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا اور ایمان لانے کے بعد ان کو یہ سب کچھ ملا اور تم کو بھی مل سکتا ہے اگر تم میری نبوت و رسالت پر ایمان لے ئو پھر دیکھو کہ تمہارے دلوں کی مردہ زمین کیوں کر زندہ ہوتی ہے پھر ارشاد فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ میں اللہ کا پیغام تم تک پہنچا رہا ہوں اور وہ جب تک ہوں پہنچاتا رہوں گا میں نہیں جانتا کہ ” کل میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے۔ “ مطلب یہ ہے کہ میں عالم الغیب نہیں ہوں کہ ماضی ، حال اور مستقبل مجھ پر سب روشن ہیں۔ یہ صفت تو صرف اور صرف رب ذوالجلال والاکرام کی ہے ہاں ! وحی الٰہی کے ذریعے جو حکم او جو پیغام مجھ تک پہنچتا ہے وہ تم کو پہنچا دیتا ہوں۔ میں جو کچھ جانتا ہوں وہ اللہ رب کریم کے بتانے ہی سے جانتا ہوں اور پھر جو باتیں تم تک پہنچانے کا حکم ہے ان کو پہنچا دیتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ آنے والے کل میں کیا ہوگا اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ آنے والے کل میں تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ہاں ! جس چیز کا وحی الٰہی کے ذریعہ مجھے علم ہوتا ہے اس کو جانتا ہوں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا اور نہ ہی میں نے یہ تم سے وعدہ کیا ہے کہ تم ہر آنے والے کل کے بارے میں جو مجھ سے پوچھو گے میں تم کو بتا دیا کروں گا اور نہ ہی ان باتوں کا نبوت و رسالت کے ساتھ کوئی تعلق ہے نہ میرے سے پہلے کسی رسول نے یہ کہا اور نہ ہی میں کہتا ہوں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا تھا کہ ” میں تم کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا تم اپنے گھروں میں ذخیرہ کر کے رکھتے ہو “ تو اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حلال و حرام کا بتانا تھا کہ کونسا طریقہ تمہارے لئے حلال اور کونسا حرام ہے اور یہ کہ تم جو کچھ کھاتے ہو وہ حلال و طیب کھاتے ہو یا نہیں اور جو کچھ ذخیرہ کرتے ہو وہ کیا ہے اور بلا شبہ حلت و حرمت کو واضح کرنا رسالت کا کام ہے اور وہ میں بھی بدرجہ اتم کرتا ہوں اور حلال و حرام تم پر واضح کر ہا ہوں۔ نہ مجھ سے پہلے کسی رسول نے یہ کہا تھا کہ تم مجھ سے کسی چور کے بارے میں دریافت کرو جو تمہارا گھوڑا یا اونٹ چرا کرلے گیا تو میں تم کو بتا دوں گا یا اس رہزن اور ڈاکو کا پتہ پوچھو جو دن دہاڑے تمہارا مال لوٹ کرلے گیا ہے تو میں اس اس کا پورا پتہ اور نشان تم کو بتا دوں گا بلکہ تمہارے چرائے مال کے اوپر لے جا کر تم کو کھڑا کر دوں گا اور نہ ہی میں نے ان باتوں میں سے کسی کے بتانے کا تم سے وعدہ کیا ہے تم خواہ مخواہ مجھ سے ایسے سوال کرتے ہو جو نبوت و رسالت سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے۔ کوئی نبی و رسول لوگوں کی ایسی فرمائشیں پوری کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا اور نہ ہی نبوت اور رسالت سے ان باتوں کا کوئی تعلق ہے۔ تم بھی اگر غیر متعلق باتیں مجھ سے دریافت کرو گے تو سراسر زیادتی ہوگی۔ میرا دعویٰ نبوت و سالت کا ہے اور اس کے متعلق جو آپ دریافت کریں گے اس کا جواب میں تم کو دوں گا اور غیر متعلق باتوں کے بارے میں میں تم سے زیادہ وچھ نہیں جانتا۔ یرا کام تم کو آخرت کی یاد دہانی اور آخرت کے انجام سے ڈرانا ہے اور وہ میں کر رہا ہوں گا جب تک زندہ ہوں۔ لیکن { ومآ ادری ما یفعل بی ولا بکم } ” میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا “ کا مطلب اور مفہوم یہ سمجھنا کہ قیامت کے روز میرے ساتھ کیا ہوگا اور میرے مخالفین و معاندین کے ساتھ کیا ہوگا کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ بات منشاء ایزدی کے خلاف ہے کیونکہ آپ کے انجام ، اہل ایمان کے انجام اور آپ کے مخالفین و معاندین کے انجام کے متعلق تو اللہ نے قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے اور احادیث میں بھی اس کی وضاحت اور تشریح موجود ہے جس میں کسی طرح کا ابہام اور پردہ موجود نہیں ہے اور کوئی بات اس معاملہ میں راز نہیں رکھی گئی۔ کسی صاحب کو اس میں اس طرح کا اشتباہ نہیں ہونا چاہئے۔ ” یہ کہنا کہ آپ ﷺ کو اس بات کا علم نہ تھا کہ آخرت میں میرے ساتھ کیا کیا جائے گا تو یہ ایسی نازیبا بات ہے کہ اس سے ہم اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں لاریب آپ ﷺ کو اس وقت سے یہ معلوم تھا جس روز کو روز میثاق کے نام سے پکارا جاتا ہے جو میثاق رسولوں سے لیا گیا تھا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ دنیا میں مجھے سابقہ انبیاء کی طرح جلا وطن کیا جائے گا یا نہیں “ اور اسی طرح یہ بھی کہ تم کو گزشتہ قوموں کی طرح ہلاک کیا جائے گا یا تم میں نہ ماننے والوں کے عذاب کی کیا صورت ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ ہی اس حقیقت سے واقف ہے۔
Ayah 46:10یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو تم انکار کر کے کیا کر رہے ہو خود ہی سمجھ لو :
01 ؎ { قل آراء یتم ان کان من عنداللہ } یہ بات کسی شک و شبہ کی بنا پر نہیں کہی گئی بلکہ بطور حکایت فرمایا جارہا ہے کہ تم اس کلام کو اللہ کا کلام ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور یہ کہتے ہو کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے لیکن کل کو تم کو جب یہ معلوم ہوجائے گا اور تم پر یہ بات واضح کردی جائے گی کہ یہ فی والواقع اللہ کا کلام ہے تو تم آخر کیا کرو گے جب کہ تم اس کا مسلسل انکار کئے چلے جا رہے ہو اگر تم غو کرو کہ اس کا انجام کتنا ہولناک ہے تو تم اتنی جلدی اس کا انکار نہ کر دو بلکہ اس کو سمجھنے اور عقل و فکر سے کام لینے کی کوشش کرو اور میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ ضد اور عناد کو اپنے دل دس لے نکال دو اور عقل و فکر سے کام لیتے ہوئے اس کو تسلیم کرلو کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں لیکن تم ہو کہ اس سے مسلسل انکار کئے جا رہے ہو حالانکہ تم سے پہلے ایک گواہ نے جو بنی اسرائیل میں سے نہ ہونے کے باوجود ان پر گواہی دینے کے لئے کھڑا ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بیان کی تصدیق کردی اور پھر یہ بھی کہ صرف تصدیق ہی نہ کی بلکہ سچے دل سے موسیٰ (علیہ السلام) پر اور آپ کی لائی ہوئی کتاب پر ایمان بھی لے آیا او اس شاہد کا ذکر پیچھے سورة المؤمن میں تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے اور مکہ کے لوگ اس کو اچھی طرح سن چکے ہیں اس لئے ان کو مخاطب کر کے اس شاہد کی شہادت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور واضح الفاظ میں کہا گیا کہ تم لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کی قوم اور خویش و اقارب ہونے کے باوجود اور آپ کو منحیث القوم الامین اور الصادق کے خطاب سے نوازنے کے باوجود انکار کئے چلے جا رہے ہو لیکن تمہارے مقابلہ میں وہ اللہ کا بندہ ہی اچھا رہا وہ تو موسیٰ (علیہ السلام) پر جو نبی دھرتی پر اڑے رہنے کے عادی ہوتے ہیں اور حق و ناحق کو پہچاننے کے باوجود حق کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ اپنے گروہ ، پارٹی اور باپ دادا کا خیال رکھتے ہیں کہ ہمارا گروہ ، پارٹی اور باپا دادا حق کی تصدیق میں غلط ٹھہرتے ہیں اور اس حجاب میں وہ محجوب ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ جس کی مثالیں بیشمار اس وقت بھی موجود تھیں جب قرآن کریم نازم ہوا اور آج بھی کثرت سے موجود ہیں۔
زیر نظر آیت میں { شھدشاہد } کی تفسیر میں جو اختلاف کیا گیا ہے اور جو جو کچھ مفسرین نے بیان کیا ہے بحمد اللہ ہماری نگاہ میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس سے مراد اکثر مفسرین نے جن کا پایہ اور درجہ بہت بلند ہے اور ہمارے دل میں بھی ان کی عزت و اکرام موجود ہے بلکہ ہماری ان کے سامنے کوئی حقیقت اور کوئی وقعت نہیں اس سے مراد عبداللہ بن سلام ؓ لئے ہیں لیکن جب یہ بات بھی شک و شبہ سے پاک ہے کہ وہ ہجرت کے بعد مدینہ میں ایمان لائے ہیں تو پھر ان بزرگوں نے اس کی کی ہے وہ ہمارے دل میں نہیں جچتی۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد خود موسیٰ (علیہ السلام) لئے ہی کہ نبی اعظم و آخر ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کے مثیل ہیں اور انہوں نے پیش گوئی کے طور پر محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی ہے اور وہ اس تصدیق کے لئے کتاب اسثناء سے شہادت بھی پیش کرتے ہیں جو (81 : 51) تا 81 میں بیان کی گئی ہے لیکن یہ بات بھی بنتی نظر نہیں آتی کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ اس مفہوم کو قبول نہیں کرتے کہ بنی اسرائیل پر دی گئی گواہی کو موسیٰ (علیہ السلام) کی گواہی مرد لے کر یہ ثابت کیا جائے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نبی اعظم و آخر ﷺ پر ایمان لائے تھے اور یہ کہا جائے کہ ” بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ نے اپنے مثیل (کے آنے) کی گواہی دی تھی سو اس نے تو مانا اور تم تکبر کرتے ہو “ جیسا کہ محمد علی لاہور اور بعض دوسرے مفسرین نے بیان کیا ہے پھر بعض مفسرین نے اس سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) لئے ہیں۔ اور اس گروہ میں ہمارے علامہ امین احسن اصلاحی مرحوم بھی شامل ہیں اور انہوں نے تدبر القرآن میں اس کی بہت وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ سب کچھ ” تدبر “ ج 7 کے صحافت 153 سے 553 تک موجود ہے اس مضمون کو پڑھ کر خود ہی فیصلہ کرلیا جائے کہ کیا اس شاہد سے جو بنی اسرائیل پر گواہی دینے والا ہے کوئی بات میل کھاتی ہے کہ مراد عیسیٰ (علیہ السلام) لے لئے جائیں۔ اور خصوصاً { من بنی اسرائیل علی مثلہ فامن } کے الفاظ مسیح (علیہ السلام) کی طرف جانے دیتے ہیں۔
بعض مفسرین نے پوری قوم بنی اسرائیل کو بطور گواہ تسلیم کیا ہے اور اس گروہ کے ترجمان ہمارے دور میں اردو تفاسیر میں پیر کرم شاہ صاحب پیش پیش ہیں کہ وہ بھی ضیاء القرآن ج 4 ص 284 پر رقمطراز ہیں کہ ” تعجب ہے کہ بنی اسرائیل کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے انہیں تورات عطا کی گئی بنی اسرائیل نے اس کتاب کو بھی مان لیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر بھی ایمان لائے تمہارے پاس قرآن کریم جیسی عظیم اور بےمثل کتاب آئی ہے اور اس کتاب کو لے کر آنے والی وہ ہیتہ ہے جس کی عظمتوں کا انکار نہیں کیا جاسکتا اس کے باوجود تم اس کتاب پر ایمان نہیں لاتے ہو۔ “ اس تقابل سے بھی { من بنی اسرائیل علی مثلہ فامن } کے الفاط واضح طور پر انکار کر رہ ہیں کہ یہ مفہوم بھی نظم قرآنی کے بالکل خلاف ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پیر صاحب نے تفہیم القرآن کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں بیان کردینے پر اکتفا کیا ہے۔
ہم نے اس گروہ سے مراد وہی مرد مومن لیا ہے جس کی گواہی اور شہادت کی پوری تفصیل قرآن کریم نے سورة ال مومن میں بیان کی ہے اور لاریب قرآن کریم نے اس کو آل فرعون میں سے ہونے کی وضاحت کی ہے تاہم اس کی گواہی بنی اسرائیل ہی کے حق میں تھی اور ” من “ بمعنی ” علی “ معروف ہے اور ہمارے خیال میں { من بنی اسرائیل علی مثلہ فامن } سے مراد قوم بنی اسرائیل سے تعلق کے باعث نہیں بلکہ قوم بنی اسرائیل پر گواہی دینے کے باعث ہے یعنی { من } بمعنی ” علی “ اور اس کی وضاحت خود قرآن کریم کے الفاظ { علیٰ مثلہ } واضح کر رہے ہیں اور مطلب ی ہے کہ اس مرد مومن کی گواہی بنی اسرائیل کے حق میں تھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور پھر وضاحت کردی ہے کہ وہ صرف خالی گواہ ہی نہ رہا بلکہ اس نے اپنے ایمان لے آنے کو واضح اور واشگاف الفاظ میں بیان بھی کردیا اور کلام کو شروع کرتے وقت اس نے بالکل یہی انداز اختیار کیا جو زیر نظر آیت میں اختیار کیا گیا ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ واضح ہے کہ { آل } کا تعلق حسب و نسب سے نہیں ہوتا بلکہ ہم فکر اور ہم مشرب ، ہم عقیدہ ہونے سے ہوتا ہے اور عین ممکن ہے کہ اس کا خاندان بنی اسرائیل میں ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ ملا ہوا ہو جاس کہ قارون وغیرہ بھی بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ ملا ہوا تھا اور اسی باعث اس کو آل فرعون کہا گیا ہو اور پھر ظاہر ہے کہ جب وہ ایمان لے آیا تو آل فرعون نہ رہا بلکہ آل موسیٰ ہوگیا او من حیث القوم وہ پہلے ہی بنی اسرائیل میں ہو۔ بہرحال ہمارا انشراح یہی ہے جو ہم نے بیان کردیا ہے اگرچہ گزشتہ مفسرین میں سے کسی کی توجہیہ ہم نے اس طرح نہیں پڑھی۔ ہم قارئین سے درخواست کریں گے کہ وہ سورة ال مومن کی آیت 82 تک کی تفسیر کو پڑھیں اور اس کے بعد زیر نظر آیت کی تفسیر کا مطالعہ کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سورة ال مومن مکی سورت ہے اور اس سورت سے کچھ صہلے وہ نازل ہوچکی تھی اور قریشی مکہ اس مرد مومن کی داستان سن چکے تھے۔
Ayah 46:11کافر ایمان والوں کو کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں کوئی صداقت ہوتی تو ہم ضرور قبول کرتے :
11 ؎ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب نہ ماننے والوں کے اشکبار اور غرور کا جو گزشتہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان ظالموں کے ظلم کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم تو نرے بیوقوف ہو اور چڑھتے سورج کی پرستش کرنے والے ہو حالانکہ ہم تم لوگوں سے زیادہ عقل و بصیرت رکھتے ہیں اگر اس تحریک میں کوئی صداقت موجود ہوتی تو ہم تم سے پہلے اس کو قبول کرتے۔ وہ کونسی حقیقت ہے جو ہمارے کانوں نے نہیں سنی اور تم نے اس کو ہم سے پہلے سن لیا اور اس طرح تم ایمان لے آئے اور ہم نے ایمان کو ٹھکرا دیا تم تو سادہ لوح لوگ ہو اور محمد ﷺ کی باتوں میں آگئے ہو تم نے یہ باتیں آج سنی ہیں اور ہم ایک مدت سے ایسی باتیں سنتے آ رہے ہیں کہ قیامت آئے گی اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا حالانکہ آج تک تو کچھ بھی نہ ہوا۔ محمد ﷺ نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے گزشتہ لوگوں کی ان باتوں کو خواہ مخواہ دہرانا شروع کردیا ہے اور چاہتا ہے کہ مجھے شہرت حاصل ہوجائے اس کے متعلق کہا جاتا ہے چلو بدنام ہوں گے تو کیا نام تو ہوگا۔ اگر محمد ﷺ کی باتوں میں کوئی صداقت ہوتی تو تو ہم اس صداقت کو سب لوگوں سے پہلے قبول کرتے۔ یہ جو کچھ کہا جا رہا ہے یہ آج سے نہیں بلکہ بہت فرسودہ باتیں ہیں جن کا کوئی سر اور پیر نہیں ہے۔
{ اِذلم یھتدوابہ } ” جب وہ خود ہدایت نہیں پا سکے “ تو وہ حق کو ناحق ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ وہ دوسروں کو ہدایت کی راہ اختیار کرتے کیونکر دیکھ سکتے ہیں اس لئے وہ اپنے مخاطبین کو اس طرح باور کراتے ہیں کہ دیکھو یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کبھی ہم سے زیادہ سمجھدار ہو سکتے ہیں حالانکہ ان کے پاس نہ علم ، نہ تجربہ ، نہ دولت اور نہ شہرت کوئی چیز بھی ان کو حاصل نہیں ہے۔ اس کو کہتے ہیں آنکھوں دکھائی نہ دے اور نام نور بھری عقل و فکر ان کے پاس ہے نہیں اور کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم ایمان میں سبقت لے گئے حالانکہ ہم نے اسلام کو حرفاً حرفاً پڑھا ہے اور سمجھا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے تب اس کے قریب نہیں گئے حالانکہ اس طرح کی جتنی باتیں وہ کر رہے ہیں محض اپنی کو رباطنی اور محرومی کے باعث کہہ رہے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
Ayah 46:12موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب میں بھی اس کے اللہ کی کتاب ہونے کا ذکر موجود ہے :
21 ؎ کو رباطن سمجھیں یا نہ سمجھیں قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کے کتاب الٰہی ہونے کی شہادت تورات میں بھی موجود ہے ور جو کچھ تورات میں بطور پیش گوئی کہا گیا ہے وہ اس پر بالکل صادق آتا ہے اور جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے حق میں کہا گیا ہے وہ بلا ریب آپ ﷺ یں بھی صادق آیا ہے تورات کی شہادتیں آج بھی موجود ہیں اور باوجود اس کے کہ کتنی بار اس میں تحریف کی جا چکی ہے اور یہ بھی کہ تورات کے کوئی سے مختلف طباعت کے چار نسخے اکٹھے کر لئے جائیں تو آج بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ فی الواقع یہ بات حق ہے ، قابل غور بات ہے کہ قرآن کریم کو یا اس کے بیانات کو پرانا سچ ثابت کرنے کے لئے جو دلیل دی جا رہی ہے اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ { افک قدیم } کی بات مکہ والوں کو سمجھانے والے یہود ہی ہیں اس لئے ان کے سامنے ایک مثال تو وہ پہلے ان کے اپنے گھر کی رکھی جو اس مرد مومن کی داستان کا حوالہ دیا گیا اور دوسری بات بھی ان ہی کے گھر کی بیان کی جا رہی ہے کہ تورات تو حق ہے اگر وہ بول کر اس کی تصدیق کر دے تو پھر تو مان لو گے کہ یہ قدیم جھوٹ نہیں بلکہ بہت پرانا سچ ہے کہ قیامت آئے گی اور ضرور آئے گی اور یہ کہ سارے سچے اس کی تصدیق کرتے رہے ہیں اور جھوٹے وہ ہی جو قیام قیامت سے انکاری ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ بات کہنے سے مکہ والوں کو اس طرح کی باتیں سکھانے والے خود قابو آگئے کہ کچھ مزید کہنے ہی کے نہ رہے اور یہ بھی کہ تورات عبرانی میں تھی اور قرآن کریم واضح عربی میں نازل کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ تورات کی من و عن تصدیق کرتا ہے اور اپنے حق ہونے کی بشارات جو تورات میں دی گئی ہیں ان کو بھی واضح کر رہا ہے ۔ اس لحاظ سے جس طرح قرآن کریم کی تصدیق تورات کر رہی ہے قرآن کریم بھی تورات کی تصدیق کر رہا ہے پھر ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہنے کی دلیل کیا ہے۔ گویا بتایا جا رہا ہے کہ دو متضاد باتیں کبھی ایک نہیں ہو سکتی لیکن لوگ ہمیشہ متضاد باتوں کے ماننے اور تسلم کرنے کے عادی ہیں لاریب پہلے بھی تھے لیکن آج بھی ایسوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ غور کیجئے کہ آج ہمارے اس ملک میں کتنے گروہ ہیں جو بخاری کو صحیح بخاری کہتے ، مانتے اور لکھتے آ رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود جو احادیث اس میں پائی جاتی ہیں ان میں سے کتنی ہیں جن کو منسوخ تسلیم کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب مانتے اور تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود قرآن کریم کی آیتوں کو منسوخ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بعض آیتوں کی تلاوت منسوخ ہوگئی اور وہ قرآن کریم میں سے نکال دی گئی ہیں لیکن ان کے احکام بعینہ موجود ہیں اور اسی طرح بعض آذیتیں ہیں جن کی تلاوت تو کی جاتی ہے اور قرآن کریم میں موجود بھی ہیں لیکن ان کے احکام منسوخ ہوچکے ہیں اور پھر اس پر طرہ یہ کہ وہ قرآن کریم میں سے اس کا ثبوت بھی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام ہیں کہ ان کے علم کعے زعم میں یہ سب کچھ مانتے چلے جا رہے ہیں۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ایسے ظالموں کو جو متضاد باتیں کرتے ہیں اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ذمہ لگا دیتے ہیں ان ہی کو سمجھانے کی خاطر یہ قرآن کریم ہم نے نازل کیا ہے تاکہ وہ ان کی غلطی ان پر واضح کر دے اور ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول کر رکھ دے کہ دو متضاد باتیں جب بھی اور جہاں بھی کی جائیں گی وہ متضاد باتیں جب بھی اور جہاں بھی کی جائیں گی وہ متضاد ہی رہیں گی وہ کبھی ایک نہیں ہو سکتیں۔ ان کے کرنے والا خواہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو۔ مثلاً ایک بات حق ہے تو جو بھی اس کو کرے گا بہرحال وہ حق ہی رہے گی اور ایک بات ناحق ہے تو جو بھی اس کو کرے گا بہرحال وہ ناحق ہی رہے گی لیکن افسوس کہ اس اصل کو عوام تو عوام خواص بھی اکثر بھول جاتے ہیں اور وہ اکثر اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہتے ہیں کہ اس بات کا کہنے والا کون ہے تاکہ اس کہنے والے کو دیکھ کر حق اور ناحق کا فتویٰ صادر کیا جاسکے۔ حالانکہ یہ بات اگر صادق آسکتی ہے تو صرف اور صرف اللہ اور اس کے بعد اس کے رسولوں پر صادق آسکتی ہے کسی دوسرے پر اس کا اطلاق قطعاً جائز اور درست نہیں ہو سکتا خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو او کہاں کا ہو۔ افسوس کہ اس اصل کو بھلا کر مسلمانوں نے اپنا کتنا نقصان کیا اور ایک دوسرے پر فتوے صادق کرنے کے لئے کہاں سے کہاں نکلتے چلے گئے اور اس معاملہ میں انہوں نے جو ترقی کی اس کا نتیجہ ہمیشہ صفر رہا اور صفر ہی رہے گا اگر غور کرو گے تو تم پر ساری بات روشن ہوجائے گی۔
شاید آپ کے ذہن میں خیال پیدا وہ گا کہ بار بار اس جگہ بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اور نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق تورات میں پیش گوئیاں موجود ہیں لیکن یہبات بالکل بغیر حوالہ قلم بند کی گئی ہے حالانکہ یہ بات بغیرحوالہ نہیں ہے بلکہ حوالہ کے ساتھ بیان کی گئی ہے چناچہ بیان کیا گیا ہے کہ ” میں انکے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔ “ (اسثناء 81 : 51) اور یہ کہ ” اس
کی عثت عربوں میں سے ہوگی “ (حوالہ بالا) اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نبی اسحاق کے بھائی اسماعیل (علیہ السلام) ہیں اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کو ای کہا گیا ہے اور انہی امیوں کی زبان عربی مبین ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔ { لسانا عربیا } اور ایک ہی بات ہے جو ظالموں کے لئے ایک ڈرامہ اور نیکوں کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ { الذین ظلموا } کے مقابہ میں { محسنین } کا لفظ لا کر جس بلاغت کا مظاہرہ کیا گیا ہے لاریب اس کو بلاغت اور ادب ہی کے نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے اور صاحب علم لوگوں کو جو اس سے لطف اور حظہ ملتا ہے وہ ہی بتا سکتے ہیں میرے جیسے نالائق اس سے کیا محفوظ ہو سکتے ہیں۔
Ayah 46:13محسنین کی بشارت کی مزید وضاحت اور ان کے کردار کی طرف مزید اشارہ :
31 ؎ فرمایا وہ محسننی جن کو گزشتہ آیت میں بشارت دی گزئی ہے ان کا تعارف تم لوگ مزید حاصل کرلو کہ بات تم پر واضح ہوجائے فرمایا وہ لوگ ہیں کہ جب وہ اللہ رب ذوالجلال کرام کے رب ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو جو ان کی زبانیں کہت ہیں ان کا عمل اس کی تصدیق کرتا ہے اور وہ اس نظریہ پر سختی سے قائم رہتے ہیں خواہ ان کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیوں نہ کرنا پڑے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتاے کہ اس اقرار کا مطلب کیا ہے ؟ اور وہ جانتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کے رب ہونے کی نفی کی جائے اور لاریب وہ اس کی نفی کرتے ہیں تاکہ ان کا مانا ہوا نظریہ صحیح ثابت ہوجائے اور اس معاملہ میں وہ دنیا کی کس بڑی سے بڑی طاقت کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے خواہ وہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیا ہو۔ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہو تو سورة حم السجدہ کی آیات 03 ، 13 ، 23 کی تفسیر دیکھیں جو اسی جلد کی پہلی سورت ہے۔
Ayah 46:14لاریب یہی لوگ ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہنے کے مستحق قرار قائیں گے :
41 ؎ غور کرو کہ اہل جنت کی نشانیاں کس طرح واضح الفاظ میں بیان کردی گئی ہیں۔ کیا اتنی واضح نشانیاں بھی کسی کی پہچان کے لئے ناکافی ہو سکتی ہیں اور پھر قرآن کریم کا جو انداز بیان ہے وہ کتنا واضح ہے ” کہ یہی لوگ ہیں جو جتنی ہیں اور لاریب وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بھی کہ جنت ان کے اعمال کے صلہ میں ان کو دی جائے گی گویا یہ ان کا حق ہوگا اور بلا شبہ احسان خداوندی سے ان کے درجات کو مزید بلند سے بلند تر کردیا جائے گا۔ ایک بار پھر غور کرو کہ اہل جنت کو جو خوشخبری دی گئی ہے وہ ان کی آخرت کی زندگی کے متعلق دی گئی ہے لیکن ان کی دنیوی زندگی کے مصائب اور تکلیفوں اور آسانیوں اور خوشیوں کا ذکر نہیں کیا گیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ دنیوی زندگی میں مشیت الٰیی کے قانون کے مطابق ان پر مشکل وقت بھی آسکتے ہیں اور خوش حالی اور آسانی کا دور بھی وہ دیکھ سکتے ہیں لیکن دنیویزندگی کی مشکلات یا خوشحالیوں پر جنت و دوزخ کا انحصار نہیں کیا جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ دنیوی زندگی کے اصول و ضوابط آخری زندگی پر فٹ نہیں کئے جاسکتے کہ جو یہاں خوشحایوں میں ہیں وہاں بھی ہوں گے اور جو یہاں مشکلات اور تکلیفوں میں اور دکھوں میں گھرے ہوئے ہیں وہ وہاں بھی اسی طرح گھرے رہیں گے۔ جن لوگوں نے یہ اصول وضح کیا ہے وہ عقل و فکر سے بالکل عاری ہیں خواہ وہ اپنے آپ کو افلاطون اور ارسطو ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔
Ayah 46:15ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرے
51 ؎ والدین یعنی ماں باپ کی عزت و احترام ، خدمت اور اطاعت و فرمانبراری کا ذکر سید نا موسیٰ (علیہ السلام) ، سید نا عیسیٰ (علیہ السلام) اور سید نا محمد الرسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں یکساں ضروری قرار دیا گیا ہے اور تینوں ہی میں ان کا درجہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے بعد انسانی رشتوں میں بڑا اور اہم بنایا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی تاکید کی گئی ہے اور صرف ایک بات سے روکا گیا ہے کہ اگر والدین اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے منع کریں تو یہ بات ان کی مانی نہیں جاسکتی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے میں (92 : 8) ” اگر تیرے ماں باپ تجھ کو اس بات پر مجبورر کریں کہ تو میرے ساتھ کس کو شریک ٹھہرا جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کا کہا نہ مان۔ “ (العنبکوت 92 : 8) بای احکام میں ان کی فرمانبراداری لازم و ضروری ہے والدین کی فرمانبرداری کا حکم قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر دیا گیا جس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں اس کے لئے مندرجہ ذیل مقامات کی طرف رجوع کریں ۔ عزوہ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ آیت 38 ، 512 ، جلد دوم سورة النساء آیت 23 ، 531 ، جلد سوم سورة الانعام کی آیت 151 ، سورة ابراہیم کی آیت 24 جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 32 ، سورة النحل آیت 91 جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 8 سورة لقمان کی آیت 41۔ تاہم زیر نظر آیت کے تحت ہم چند احادیث پیش کرتے ہیں جن سے نبی اعظم و آخر ﷺ کی تاکد کا حال بھی قارئین کو معلوم ہوجائے گا اور مزید وضاحت بھی ہوجائے گی۔
ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا اگرچہ وہ مشرک ہوں :
1۔ ” بھزبن حکیم ؓ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ میں کس سے اچھا سلوک کروں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ میں نے عرض کی پھر کس کے ساتھ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے پھر عرض کیا کس کے ساتھ ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ، میں نے پھر عرض کیا پھر کس کے ساتھ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا باپ کے ساتھ اور پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو اور پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو “
2۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس بات کا زیادہ حق دار کون ہے کہیں اس کیس اتھ اچھا سلوک کروں ؟ فرمایا : تیری ماں ، اس نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا تیری ماں ، اس نے عرض کیا پھر کون ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تیرا باپ اور ایک روایت یہ کہ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں ، پھر تیری ماں ، پھر تیری ماں ، پھر تیرا باپ اور پھر جو تیرے ساتھ زیادہ قریب کا رشتہ رکھتا ہے ، جو تیرے ساتھ زیادہ قریب کا رشتہ رکھتا ہے۔ “
3۔ ” اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ جس زمانہ میں نبی کریم ﷺ اور قریش کے درمیان عہد ہوگیا یعنی حدیبیہ میں تو میری والدہ میرے پاس آئی اور وہ اس وقت مشرکہ تھی میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میری والدہ میرے پاس آتی ہے اور ابھی تک وہ مسلمان نہیں ہوئی تو کیا میں اس کے ساتھ کچھ اچھا سلوک کروں ؟ یعنی کچھ اس کو دے دوں) آپ ﷺ نے فرمایا : اس سے اچھا سلوک کر “ (یعنی اس کو جو میسر آئے دے دے) اس سلسلہ میں احادیث بہت ہیں لیکن ہم طوالت کے باعث اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔
والدین کے ساتھ محبت اور نرمی کے ساتھ بات کرنا
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والا فرزند جب اپنے ماں باپ کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اس طرح دیکھنے کے عوض ایک مقبول حج کا اجر اس کے اعمال نامہ میں لکھ دیتا ہے۔ صحابہ ؓ نے سنا تو عرض کی یا رسول اللہ ﷺ اگر وہ سو بار دیکھے تو بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بڑی ہے اور بہت پاکیزہ ہے “ ص اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے وہ اس سے زیادہ بھی دے سکتا ہے) کوئی بدبخت ہی ہوگا جو اس طرح کی تنقید کرے کہ پھر حج کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ضرورت یہ ہے کہ اتنا مال جمع ہوجائے جس سے زاد راہ میسر آئے تو اپنے فرض کو ادا کرنا ہے۔ یاد رہے۔ کہ فرض اور چیز ہے اور اجر وثواب اور شے ہے لاریب نوافل کا ثواب بہت ہے لیکن فرائض ترک کردینے سے سب ضائع ہوجاتا ہے اور ترغیب و ترہیب سے ان باتوں کی وضاحت نہیں ہوتی اس لئے کوئی آدمی کسی غلط فہمی میں بتلا نہ ہوجائے اور بوڑھے والدین کی طرف نظر رحمت و شفقت سے دیکھنا اتنا آسان کام بھی نہیں کہ اس پر تعجب کیا جائے اور اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔
مشروع باتوں کے علاوہ ہر امر میں والدین کی اطاعت ضروری ہے۔
” عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی والد کی رضا مندی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے “ آپ ﷺ کے اس ارشاد میں والدہ باہر نہیں ہے بات کرتے وقت بات کرنیوالا ضرورت کی بات کرتا ہے اور یہی آپ ﷺ کے فرمان میں بات موجود ہے ایک بات کو سنتے وقت دوسری باتوں کو ذہن سے نکال نہیں دیا جاتا بلکہ سب کو مد نظر رکھنے ہی سے بات صحیح بنتی ہے۔ کوئی بات سنتے وقت اس کا لحاظ ضروری ہوتا ہے۔
” عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں بہت محبت کرتا تھا اور میرے والد عمر ؓ اس سے ناخوش تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس کو طلاق دے دو ۔ میں نے انکار کردیا تو میرے والد رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو ۔ “ باپ عمر ؓ اور بیٹا بھی عبداللہ اس طرح حضرت عبداللہ کے انکار کرنے سے بھی اور حضرت عمر ؓ کے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کرنے میں بھی یقیناً کوئی خاص بات ہے اور ضروری نہیں کہ ہر بات کی وضاحت کی جائے اور یہ بھی واضح ہے کہ آپ ﷺ نے عام حکم نہیں دیا بلکہ مخصوص حکم ہے عبداللہ بن عمر ؓ کے لئے بہرحال والدین کی جب یہ بات صاف ہوجائے کہ طلاق دینا ہی مناسب ہے تو انجام کار طلاق دینا پڑے گی ورنہ نہیں۔ گویا سارا عاملہ حالات پر منحصر ہے اور والدین کی رضا بھی ضروری ہے۔ بہرحال ایسے حالات میں فوراً فیصلہ مناسب نہیں اور حقیقت تلاش کرنے سے یقیناً آدمی کسی نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے اور یہی بات اس سے واضح ہو رہی ہے۔
” عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے عرض کی جی ہاں ! فرمایا : تو تو ان کی ضروریات اور حقوق کی حفاظت میں لگا رہ (تیرا جہاد یہی ہے) اور ایک روایت میں ہے کہ اپنے ماں باپ کی طرف لوٹ جا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کی خدمت بجا لا۔ “ معلوم ہوا کہ جہاد ضمروریات دین میں سے ہے لیکن اس میں شریک ہونے کے لئے امیر (Commander) کی اجازت ضروری ہے اور امیر (Commender) کو مجاہد کے حالات سے واقفیت بھی ضروریات دین میں سے ہے اور اس کے فیصلہ پر عمل درآمد بھی ہونا
چاہئے۔
” ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ماں باپ کا حق اولاد پر کیا ہے ؟ فرمایا تیری جنت اور دوزخ وہی دونوں ہیں ۔ “
” ابواسید الساعدی کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ بنی مسلمہ قبیلہ کے ایک شخص نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کہ کیا کوئی نیکی اور اچھا سلوک باقی ہے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ ان کے مرنے کے بعد کرسکوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! یہ کہ ان کے حق میں دعا اور استغفار کرو انور ان کے بعد ان کے عہد و پیمان پورا کرو اور صرف اور صرف ان کی رضا کے لئے اور خوشی کے لئے صلہ رحمی کرو اور ان کیملنے والوں کی عزت و توقیر کرو۔ “ جب کہ والدین کے لئے ان کی زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی دعا کرنے کا حکم قرآن کریم نے دیا ہے جیسا کہ سورة ابراہیم کی آیت 14 اور سورة نوح کی آیت 82 میں مذکور ہے۔
” ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں ایک بڑے گناہ کا مرتکب ہوگیا ہوں تو کیا میرے لئے توبہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیری ماں زدہ ہے ؟ عرض کیا نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیری خالائوں میں کوئی خالہ موجود ہے ؟ عرض کیا جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا اس کے ساتھ اچھا سلوک کر۔ “ اس یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کے گناہ کا کھوج لگانا بہتر نہیں ہے اور لاریب نیکیاں برائیوں کا مٹا دیتی ہیں اور ہر برائی کو نیکی کے ساتھ رفع کرنا بہت اچھی بات ہے جس کا قرآن کریم نے حکم دیا ہے۔ علاوہ ازیں بھی احادیث بہت ہیں ہم نے مختصراً احادیث کا انتخاب کیا ہے اور احادیث کی سندات سے بحث کی ہم کو ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمارا یہ ضبط ہے اور نہ ہی ہم کسی ایک چیز کو لے کر جرح کرنے کے عادی ہیں ایک بات کی جائے تو دوسری باتوں کا لحاظ رکھنا سا معین اور قارئین کا کام ہے۔ نبی کریم ﷺ کے ارشادات سے جو بات مجموعی طور پر ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک رشتہ کی حفاظت کرتے کرتے دوسروں کو بھلا نہیں دینا چاہئے اور خصوصاً ازدواجی زندگی کے بعد جس طرح والدین کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اس طرح نظر انداز کرنے کی کسی مسلمان کو اجازت نہیں اور خصوصاً والدین کو بڑھاپے کے وقت جو حوائج و ضروریات ہوتی ہیں ان کا خیال رکھنا بہت ہی ضروری ہے اور والدین کا ادب و احترام اولاد کیلئے اولیت رکھتا ہے اور چونکہ بعض اوقات یہ بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے اس لئے اگر کوئی شخص ایسی حالت میں سے دوبھر ہوجائے تو بھی صبرو ثبات کا دامن نہ چھوڑے بلکہ بہت مرداگی کے ساتھ اس کو نباہنے کی پوری پوری کوشش کرے خواہ اس کو کن مشکلات سے گزرنا پڑے اور اس سلسلہ میں سید نا اسماعیل (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ مشعل راہ بنانا چاہئے جس کا ذکر عروۃ الوثقی جلد ہفتم سوہ الصافات کی آیت 101 تا 801 تک کیا جا چکا ہے۔
زیر نظر آیت سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت گزاری کرنا چاہئے تاہم باپ سے بھی زیادہ حق ماں کا ہے کیونکہ فطری طور پر ماں نے زیادہ مشقت اٹھائی ہے کہ مشقت اٹھا کر اسکو پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر اولاد کو جنا اور اسی طرح دودھ اور حمل کی مدت کو ملا کر بیان کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ بچہ چھ ماہ سے نو ماہ تک معمول کے مطاقب ہے اگر چھ ماہ کا پیدا ہوگیا ہے تو مدت رضاعت دو سال مزید پوری کی جائے گی اور اگر 9 ماہ تک معمول کے مطابق ہے اگر چھ ماہ کا پیدا ہوگیا ہے تو مدت رضاعت دو سال مزید پوری کی
جائے گی اور اگر 9 ماہ کا پیدا ہوا ہے تو مدت رضاعت 12 ماہ کا فی و شافی ہے اور یہ بھی کہ کبھی بچہ 9 ماہ سے زیادہ بھی حمل میں رہ سکتا ہے جس کا باعث کوئی عارضہ ممکن ہے۔ لہذا بچے کا حسب و نسب دیکھنے میں اس کا لحاظ بھی ضروری ہے اور یہ بحث بہت لمبی ہے اور پیچیدہ بھی اور اختصار اس کا یہ کہ اگر نکاح کے چھ مہینہ بعد بچہ پیدا ہوجائے تو اس کا حس و سب صحیح ہے اور اگر نکاح کے بعد چھ مہینے بھی نہ گزریں کہ بچہ صحیح سالم پیدا ہوجائے تو وہ بچہ حلال نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کی ماں سزا سے بچ سکے گی لیکن سزا دینا حکومت کا کام ہے اور یہ کہ بچہ کا حسب و نسب اس باپ سے قائم نہیں ہوگا جو اس وقت اس کی ماں کا خاوند ہے
اور نہ ہی اس کا نکاح کو شرعی نکاح کہا جائے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے اگر دو سال کی مدت کے بعد کسی بچے نے کسی عورت کا دودھ پی لیا تو اس سے رضاعی حرمت قائم نہیں ہوگی کیونکہ بچہ دودھ پلانے کی شرعی مدت سے نکل چکا ہے۔ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت کو قرآن کریم نے بیان نہیں کیا اور فقہاء نے اس میں بہت لمبا کلام کیا ہے اور عقل اس کا تقاضا کرتی ہے کہ 2 ماہ سے 30 ماہ کی درمیانی مدت یعنی دو سال تسلیم کر لینی چاہئے اور یہی قرین قیاس ہو ت کی ہے یعنی نکاح کے بعد تیس ماہ تک جو کم ازکم مدت حمل و رضاعت ہے۔ { بلغ اربعین سنۃ } چالیس سال عمر ہونے تک سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ چالیس سال عمر تک انسان کی جسمانی اور ذہنی قوتیں اضافہ پزیر ہوتی رہتی ہیں اور یہ مدت زیادہ سے زیادہ ہے اور کم مدت شرعی طور پر بلوغت ہے اور چالیس سال کے بعد یہ انحطاط پزیر ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد انسان کا انحصار زیادہ تر تجربات پر قائمہوتا ہے۔ اس لئے اس عمر میں پہنچ کر انسان کو والہانہ توفیق طلب کرتے رہنی چاہئے اور اپنے لئے اپنی اولاد کے لئے اپنے والدین کے لئے دعا کا باب ضرور کھول دینا چاہئے اور اس پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی ایک فطری تقاضا ہے اور اس کی تاکید اس لئے کی گئی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بوڑھا تصور کرنے میں بہت بخیل ثابت ہوا ہے اور پھر تعجب یہ ہے کہ بوڑھاپے کا دفاع بھی کرتا ہے اور تسلیم بھی نہیں کرتا حالانکہ جس چیز کو وہ روکنے کی کوشش میں ہے اس کو تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے ؟ اس عمر میں پہنچ کر جو فطری تقاضے شروع ہوتے ہیں ان کی ترجمانی زیر نظر آیت نے خوب کی ہے اور لاریب ایک بندہ مومن کے عقائد و نظریات ، اس کی عقل و فکر اور سمجھ سوچ کا انداز اسکی آرزوئوں اور امنگوں اور اس کی منزل مراد کا عکس جمیل اس آیت نے عین فطری کے مطابق واضح کردیا ہے خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیا ہے۔
Ayah 46:16یہی وہ لوگ ہیں جن کے اچھے کاموں کی قدر اور برائیوں سے در گزر کی جاتی ہے
12 ؎ انسان اور بھولو نسیان لازم و ملزوم ہیں جب انسان مجموعی طور پر اچھے عقائد اور نیک اعمال کا حامل ہوجاتا ہے تو وہ یقیناً اپنی عمر کے تقاضوں کا بھی خیال رکھتا ہے اور اپنے کاموں کی بھی تکمیل چاہتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کرنے میں بھی اس سے بھولو نسیان کا شکار ہوجانا ممکن ہے۔ فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ عقائد و اعمال میں اپنی ساری کوششوں کے باوجود پھسل جاتا ہے تو فوراً سنبھلتا ہے اور اپنے پھسلنے کو تسلیم کرتے ہوئے جب رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پھسل جانے سے درگزر فرما دیتا ہے اور اس کے نتیجہ سے اس کو دو چار نہیں کرتا گویا اس طرح اس نے ایک غلطی کر کے اس پر لکیر پھیر دی ہے گویا جب بندہ نے اپنی بندگی کا اظہار کردیا تو اس بندہ نواز نے بھی اس کی قدر کی اور اپنے بندہ کو سہارا دے کر کھڑا کردیا اور اس کی غلطی معاف کردی۔ لاریب یہ لوگ خوش نصیب ہیں کہ ان کے اچھے اعمال کو قبولیت بخشی جاتی ہے اور ان کی برائیوں سے درگزر کیا جاتا ہے اور یہی لوگ جنت کے صحیح معنوں میں مستحق ہیں اور اللہ تعالیٰ کا جنت عطا کرنے کا ان سے وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے میں کون سچا ہو سکتا ہے۔ لاریب یہی وہ لوگ ہیں کہ رحمت الٰہی ان کو خود تلاش کرتی ہے اور خود ہی چھانٹ کر الگ کردیتی ہے اور پھر جس کو رحمت الٰہی میں جگہ مل گئی اس کو کس چیز کی کمی رہ گئی یہ وہ لازوال دولت ہے جس کا مقابلہ دنیا کی دولت ، اقتدار اور عزت و وقار اور کوئی بھی دوسری چیز ہرگز ہرگز نہیں کرسکتی بلکہ یہ لوگ دنیا کی ان ساری چیزوں سے بےنیازہو جاتے ہیں اور اپنے حال میں مست اپنے رب سے جا ملتے ہیں۔ اے اللہ ! میں تیرا ایک عاجز بندہ تیریہی رحمت کا امیدوار ہوں تو مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ عطا فرما۔ اے میرے رب ! تو ہی میرے دلوں کے رازوں کو جاننے والا ہے میں جس دل سے تیری طلب کر رہا ہوں تو اس سے بھی واقفحال ہے میری غلطیوں سے درگزر فرما ، تجھے تیری ذات کا واسطہ میرے حال پر رحم فرما اور میری دنیا و ھخرت کو درست فرما دے۔ ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
Ayah 46:17اس سے بدبخت کون ہے جس کو والدین بھلائی کی ہدایت کریں اور وہ ان پر افسوس کرتا ہو :
17 ؎ ہمارے مفسرین نے اس آیت کے شان نزول اور بعد اس کے ایک دوسرے کعے حق میں پڑے جانے کا ذکر کیا ہے اور ناموں کی تخصیص بھی کی ہے اور پھر سب نے نہ تو اس کا ایک شان نزول لکھا اور نہ ہی ایک جیسے نام استعمال کئے ہیں۔ اور اس بات سے سب حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جو جس کے جس میں آیا اس نے کہہ دیا ہم اس کے متعلق وضاحت نہیں کرنا چاہتے اور جو احترام کے مستحق ہیں ان کا احترام کرتے ہیں اور حقیقت حال کے متعلق صرف اتنی عرض ہے کہ یہ حکم عام ہے اور ہر معاشرے میں اس طرح کے لوگ رہے ہیں اس وقت بھی موجود تھے جب قرآن کریم نازلہو رہا تھا اور اس کے بعد قرون اولیٰمیں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں اگرچہ کم سہی اور آج تو یہ کردار اتنا عام ہے کہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور یہ کردار گزشتہ کردارکا عکس ہے اس میں اللہ کے نیک بندوں کا کردار اجاگر کیا گیا تھا اور اس میں اللہ کے ان بندوں کا ذکر ہے جو شرک ، کفر ، دھوکا ، فریب ، مکاری اور غلط کاری کے دلدل میں پھنسے ہیں اور اس سے نکلنا بھی نہیں چاہتے اور اپنے حال میں اس قدر مست ہیں کہ اسی میں رہنا ان کو پسند آگیا ہے۔
یہ وہ شخص ہے جس کو والدین نے اپنا لخت جگر سمجھ کر نہایت درد دل کے ساتھ دعوت دی کہ بھلائی اور خیر کی طرف لوٹ آلیکن اس نے اپنے والدین سے نفرت و کراہت کا اظہار کیا اور بول کر کہنے لگا کہ تف ہے تم پر کہ تم مجھے دوبارہ زندہ ہونے اور زندہ کرکے رب کے سامنے پیش ہونے کا وعدہ دیتیہو حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی قرن گزریں کیا کوئی گیا ہوا واپس آیا جو مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر آنا ہوگا۔ کیسی باتیں کر رہے ہو تم لوگ حالانکہ اس کی حقیقت صرف اور صرف یہ ہے کہ تم لوگ دراصل سترے بہترے گئے ہو اور دقیانوسی باتیں کرتے ہو اور تمہاری ذہنی حیثیت صحیح نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ وہ اس کی یہ باتیں سنتے ہیں لیکن اس کے باوجود پدری جوش ان کو مجبور کرتا ہے اور وہ دونوں اپنے بیٹے اور اولاد کی ان باتوں سے درخور اعتناء کرتے ہوئے اپنے رب سے درخواست کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہماری مدد فرما اور ہمارے بیٹے کو ایمان کی توفیق عطا فرما یہ بھول گیا ہے کہ اس کو راہ راست کی رف تو ہی لاسکتا ہے پھر ایک طرف اللہ سے دعائیں کرتی ہیں اور دوسری طرف اس اپنے نافرمان بٹے کو کہتے ہیں کہ افسوس ہے تیرے لئے تو کہاں جا رہا ہے مان لے اللہ رب
ذوالجلال والاکرم کو اور قیامت کے روزدوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کو کیونکر یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی خطا نہیں ہو سکتا۔ تیرا ستیاناس ! تو کیوں اپنی آخرت کو برباد کرنے لگا ہے۔ اس طرح وہ اللہ سے بھی دعائیں مانگتے ہیں اور اپنے بیٹے کو بھی طعن و لعن کرتے رہیں کہ اس آزاد خیال کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے اور موت دینے والے رب کی طرف خیال کر ، کیسی باتیں تو کفر کی کر رہا ہے لیکن وہ برابر اپنی بات کہے جا رہا ہے کہ قیامت ویامت کچھ نہیں ہے یہ سب کی سب گزرے ہوئے لوگوں کی جھوٹی کہانیاں ہیں اور تم نے ان کو اپنے پلے بندھ لیا ہے اور ان کہانیوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ ایک تمثیلی بیان ہے اس لئے ضروری نہیں کہ اس سے کسی شخصیت ہی کو مراد لیا جائے جیسا کہ ہمارے اکثر مفسرین نے کیا ہے اور اس تمثیلی بیان کی قرآن کریم میں کثرت ہے لیکن افسوس کہ اس حقیقت کو قصوں اور کہانیوں میں بیان کر کے بڑوں بڑوں کی پگڑیاں بھی اچھالی گئی ہیں اللہ تعالٰ ہم کو اپنی حالت کی طرف دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ اصلاح اسی میں ہے اور ہم سب کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ ہمارا ہر ایک آدمی اپنی کمزوریوں پر نگاہ رکھے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرے۔
Ayah 46:18اس کردار کے لوگ ہیں جن کے لئے عذاب الٰہی تیار کیا گیا ہے۔
18 ؎ گزشتہ آیت میں { الذی } کہہ کر اس کردار کے لوگوں کو ایک شخص کی صورت پیش کیا گیا تھا اور اس کیلئے دعوت دینے والے اور حق کی طرف بلانے والے والدین بتائے گئے تھے کہ اولاد اور والدین کے رشتہ سے نازک تر رشتہ اور کوئی نہیں ہوتا اور زیر نظر آیت میں اس { الذی } کو { الذین } سے تعبیر کیا تاکہ اس کردار کے سارے لوگوں پر بات وضاح ہوجائے کہ اس کردار کے لوگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے عذاب دوزخ تیار کر رکھا ہے اور اس کردار کے لوگ گزشتہ امتوں اور جماعتوں میں بھی موجود تھے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی امت سے قبل گزر چکی ہیں اور اس کردار کے وہ لوگ ہیں جو اس وقت موجود تھے اور اس وقت بھی ان کی کثرت ہے اور لاریب یہ لوگ انسان کی دونوں ہی اصناف میں موجود ہیں گویا مکلفین کی دونوں جماعتوں میں اس کردار کے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی لا ابالانہ زندگیاں بسر کر رہے ہیں اور قانون الٰہی کی حد بندیوں کی زذرا بھر بھی پروا نہیں کرتے۔ یہ اپنے آپ کو چاہے روشن خیال کہیں ، چاہے آزاد خیال ، چاہے (Intellectual) قرار دیں اور چاہے جو کچھ ان کی عاقبت یقیناً خراب ہوگئی جو دوسروں کی دعائوں سے کبھی درست نہیں ہو سکتی خواہ ان کے لئے دعائیں کرنے والے ان کے اپنے ہی عزیزواقارب اور کتنے ہی نیک اور پارسا ہوں جیسا کہ آیت 17 میں واضح کردیا گیا ہے لیکن افسوس کہ ملائیت نے اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے لوگوں کو رسومات کا ایسا چکر دیا ہے جن میں دعائوں کا ایک لمبا چوڑا جال بچھا دیا ہے اور خود ان کے قبول کرانے کے لئے ٹھیکہ دار بن گئے ہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ثواب کے سارے کارخانے کے یہی لوگ مالک ہیں جو حلوے مانڈے کے عوض فروخت ہی نہیں کرتے بلکہ پہنچا کر آنے کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں گویا عذاب وثواب کا تعلق ایمان و عمل سے نہیں بلکہ حلوے مانڈے سے ہے۔ ان للہ وانا الیہ راجعون۔
Ayah 46:19ہر ایک کے آخری درجات کا تعلق اعمال سے ہے ، ختم و درود سے نہیں
19 ؎ گزشتہ آیتوں میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے اچھے اعمال و کردار کے لوگوں کا بھی اور برے اعمال و کردار کے لوگوں کا بھی اور اب واضح کیا گیا ہے کہ آخرت میں دو جرجات کسی کو ملیں گے اور جو جگہ کسی کو الاٹ ہوگی وہ اسی کے اعمال کے بدلے میں ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جس درجہ میں وہ رہنے کے قابل ہوں اسی میں رکھا جائے گا جنت کا مستحق ہوگا تو جنت ملے گی او اگر دوزخ کا مستحق ہوگا تو دوزخ ہی پر انحصار کرنا ہوگا کسی کی سفارش اور ختم و درود کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی اور اسی طرح کسی پر کسی طرح کی زیادتی اور ظلم نہیں ہوگا اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 46:2020 ؎ ایک ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے جس حقیقت حال سے گزرنا پڑتا ہے سب کو معلوم ہے اور پھر اس کی وضاحت خود بخود ہوجاتی ہے کہ آیا ملزم مجرم بھی ہیں یا نہیں اگر وہ مجرم قرار پاتا ہے تو اس وقت اس کی سزا شروع ہوتی ہے اور اس کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں الزام مجھ پر لگا تھا اور اب وہ الزام نہیں بلکہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ مجرم تھا اور پھر جو سزا سنائی جاتی ہے وہ بہرحال اس کو پوا کرنا پڑتی ہے کفار پر جب یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ فی الواقع وہ کفر کے مرتکب ہوئے تھے تو ان کو آگ پر لایا جائے گا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے سا جیل خانہ کو دیکھ لیں تو ان سے کہا جائے گا کہ تم نے اس دن کے آنے ہی سے انکار کیا تھا اور اس امید پر تمہارا کوئی عمل بھی نہیں تھا کہ تم کو اس کی جزا آخرت میں ملے گی اس لئے جو کام تمہارے اچھے بھی تھے ان کا بدلہ بھی تم کو انعامات الٰہی کی صورت میں چکا دیا گیا ہے اور تم نے ان سے دنیا میں خوب فائدہ بھی اٹھایا ہے کہ پورے علاقے میں تمہارا ہی نام تھا اور تم ہی کو لوگ پوچھتے ، بلاتے اور اپنے فیصلے کراتے تھے لہذا جو نیک نامی اور مشہوری تھی وہ تم کو پوری پوری دے دی گئی اور تمہاری کوئی نیکی ایسی نہیں ہے جس کا بدلہ تم کو اس جگہ ملے گا اور رہے تمہارے برے اعمال انہیں کی تم کو جزا دی جائے گی اور وہ رسوال کرے والا عذاب ہے جس سے تم کو ڈرایا گیا تھا اور تم نے پکار پکار کر کہا تھا کہ یہ دقیانوسی خیالات ہیں کوئی قیامت ویامت نہیں ہوگی یہ سب کے سب ڈھکوسلے ہیں جو آج کے نہیں بلکہ ایک مدت سے ہم سنتے چلے آ رہے ہیں اس طرح تم نے دنیا میں تکبر کیا اور حقیقت کو جھٹلایا اور حقیقت باور کرانے والوں کا خوب مذاق اڑایا کہ ” کیا تم مجھ کو اس سے ڈراتے ہو کہ میں دوبارہ زندہ کیا جائوں گا حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں “۔ اور اس طرح تم اس وقت اپنی فانی زندگی پر اس طرح اترائے کہ اس کو سب کچھ سمجھ لیا اور اس طرح اس فسق میں مبتلا ہونے سے تم ذرا بھی نہ جھکے اور وہ کام کئے جن کے کرنے کا تم کو کوئی حق نہ تھا اور تم نے اس کی دی ہوئی نعمتوں کا نہصرف یہ کہ کوئی حق ادا نہ کیا بلکہ ان کا ناحق استعمال بھی کیا۔