30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارتا ہے پھر تم کو زندہ کرے گا ، کیا تمہارے شریکوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے جو اس میں سے کچھ بھی کرسکے ، وہ تو پاک ہے اور بہت بلند وبالا ہے ان (ہستیوں) سے جنہیں وہ شریک ٹھہراتے ہیں

روزی دینا ‘ زندہ کرنا اور مارنا اللہ تعالیٰ کے مخصوص کاموں میں سے ہے : 40۔ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں اور اسی طرح جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پیدا کرنے والا اسی طرح ہمارا اور تمہارا اور دنیا کے سارے انسانوں اور حیوانوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اس کائنات کی ہرچیز کا رزق بھی اس کے ہاتھ میں ہے پھر جس طرح زندگی اور رزق اللہ تعالیٰ ہی کی عطا ہے اسی طرح موت دینا بھی اسی کا کام ہے ۔ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں پوچھا ہے کہ تم جن جن کی بھی پرستش کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہو کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی ایک کام ہی کر کے دکھائے جو لوگ اس سے صرف بت ہی مراد لیتے ہیں وہ اس کا کیا جواب دیں گے ‘ کیا بتوں سے کوئی پوچھ سکتا ہے یا وہ بتا سکتے ہیں ؟ بلاشبہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہے خواہ وہ نبی ورسول ہے اور خواہ کوئی زندہ و مردہ ‘ پیر و بزرگ اور اسی طرح سب ہی کو مخاطب کرکے پوچھا جا رہا ہے اگر کوئی علی ؓ کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتا ہے تو اگر کوئی ان کے بیٹے حسین ؓ کو سمجھتا ہے تو یہاں تک کہ اگر کوئی خود محمد رسول اللہ ﷺ ہی کے متعلق ایسا خیال کرتا ہے تو ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جس کے قبضہ میں موت وحیات یا رزق وغیرہ دیا گیا ہو ؟ اگر نہیں تو پھر تم آخر شرک سے باز کیوں نہیں آجاتے حالانکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات گرامی ایسی ہے کہ وہ ان سارے تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے بہت بلند ہے اور بلاشبہ یہ سارے کے سارے اس کے بندے ہیں اور مخلوق ہیں اور خالق و مخلوق کو مد نظر نہ رکھنا ہی وہ کوتاہی ہے جس کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں ۔
Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں لوگوں کے لیے اپنے ہاتھ کی کمائی کے باعث فساد پھیل پڑتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ، ممکن ہے لوگ (ڈر کر) واپس آجائیں

فساد جب بھی پھیلتا ہے تو وہ لوگوں کے کیے کا نتیجہ ہوتا ہے : 41۔ آپ کو یاد ہوگا کہ زیر نظر سورة کے شروع میں ایک فساد فی الارض کا ذکر کیا گیا تھا جو ایرانیوں اور رومیوں کے درمیان پھیلا ہوا تھا جس کا نتیجہ اس وقت اس طرح ظاہر ہو رہا تھا کہ رومی ایرانیوں کے ہاتھوں پٹتے جا رہے تھے ، حالانکہ ایرانی آتش پرست تھے اور رومی خالصتا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے تھے اگرچہ یہ لوگ بھی غلو میں مبتلا تھے ۔ زیر نظر آیت میں اس جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے تو بلاشبہ ” یہ لوگوں ہی کے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے ۔ “ کہ وہ لوگ ایک دوسرے کے درپے ہیں اور ایک دوسرے کو ختم کرنے پر تل گئے ہیں اور یہ چیز ان چیزوں میں سے ایک ہے جس کی سزا اللہ تعالیٰ آخرت کی سزا سے پہلے ہی دے دیتا ہے اور اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ شاید لوگ اس کو سمجھ کر ایمان لے آئیں کہ یہ آزمائیش جس میں ؤج ہم مبتلا ہیں محض اس لئے ہے کہ شاید اس سے ہماری اصلاح ہوجائے اور ہم اس کو عذاب الہی سمجھ کر اس سے بچنے کی اپنی بساط کے مطابق کوشش کریں اور آخرت کے عقیدہ کی اس سے اصلاح کرلیں اور اس مضمون کی تفصیل پیچھے عروۃ الوثقی جلد چہارم میں سورة التوبہ کی آیت 126 ‘ سورة الرعد آیت 31 میں پوری وضاحت سے گزر چکی ہے اس لئے محولہ بالا آیات کی تفسیر کو دیکھ لیں یہ بات انشاء اللہ سمجھ میں آجائے گی ۔
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ کہہ دیجئے کہ زمین میں چلو پھرو ، پھر دیکھو کہ جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا کیونکہ ان میں بھی بہت شرک کرنے والے تھے

زمین میں چلو پھرو اور گزشتہ قوموں کے مقامات ہلاکت کو دیکھو : 42۔ زیر نظر آیت اس سورت کی آیت 9 کے طور پر گزر چکی ہے اور نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین میں وہ چلیں پھریں اور دیکھیں کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوا جو ان سے پہلے موجود تھے اور شرک میں ڈوبے ہوئے تھے بلاشبہ یہ ان لوگوں کے کھنڈرات ہی سے اندازہ لگا سکیں گے کہ ان کی عمارات کتنی عجیب تھیں اور ان کے شرک نے ان کو کسی طرح برباد کر ڈالا تھا ۔
Ayah 30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

پس (اے مخاطب) تو اپنا رخ دین حق کی طرف کرلے قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ روز آپہنچے جو ہٹنے والا نہیں ، اس دن لوگ جدا جدا ہوجائیں گے

اپنا رخ دین حق کی طرف کرلو قبل اس سے کہ لوگ جدا جدا ہوجائیں : 43۔ تم نے مختلف ممالک کی سیر کی تو بلاشبہ تم نے اپنی سیر کے دوران اجڑے ہوئے امصار ودیار دیکھے ہوں گے اور کبھی غور کیا ہوگا کہ یہاں کے بسنے والوں نے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے شرک کیا ہوگا اور پھر اور اس کے نتیجہ میں ان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس کو بھی ملاحظہ کرلیا ہوگا کہ ان لوگوں کو کس طرح تہس نہس کرکے رکھ دیا گیا ہاں ! اگر وہ لوگ تمہارے لئے باعث عبرت ہوچکے ہیں تو تم ان کے لئے باعث عبرت نہ بنو جو تمہارے بعد آنے والے ہیں اس لئے تم کو تلقین کی جا رہی ہے کہ تم دین قیم کو اچھی طرح مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور اس دن سے قبل ہی اپنی اصلاح کرلو جسے کوئی ٹالے ٹال نہیں سکے گا کیونکہ بلاشبہ وہ دن نہایت ہی اٹل ہے کہ کسی کے ٹالے بھی ٹلنے والا نہیں اور لوگ اس دن منتشر ہوجائیں گے گویا سب کو اپنی اپنی پڑے گی اور کوئی ایک بھی کسی دوسرے کی خبر لینے کے لئے تیار نہیں ہوگا ۔
Ayah 30:44

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جو کافر رہا ‘ اسی پر اس کا کفر پڑے گا اور جو نیک عمل کر رہا ہے تو اپنے ہی لیے سامان تیار کر رہا ہے

کفر کا وبال کافر ہی پر پڑے گا کوئی نیک عمل ہے تو خود فائدہ میں ہوگا : 44۔ آج سے نہیں بلکہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کیا اس وقت سے یہ بات طے چلی آرہی ہے کہ یہ کفر کرنے والے کو کفر کے وبال سے دوچار ہونا ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ کفر تو کرے الف اور اس کا وبال ب پر پڑے کیونکہ وہاں اندھیر کھاتا نہیں اور نہ ہی ایسا قانون ہے کہ ہرچیز ٹکے سیر بک رہی ہو ‘ نہیں بلکہ اصول خداوندی ایک مدت سے یہی چلا آرہا ہے کہ جو عمل کرتا ہے اس کے نتیجہ سے وہی دو چار ہوتا ہے اس لئے یہی اصول اس جگہ بھی کام کر رہا ہے کہ نیک عمل کرنے والے اپنی ہی لیے راہ ہموار کر رہے ہیں ۔
Ayah 30:45

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے (اللہ) انہیں اپنے فضل و کرم سے (اچھا) بدلہ دے بلاشبہ اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا

نیک عمل کرنے والے اپنے کئے کا انجام دیکھ لیں اور کافروں کو وہ پسند نہیں کرتا : 45۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کا بدلہ دیتا ہے اور ان کو شرف پذیرائی بخشتا ہے تو بلاشبہ یہ اس کا فضل ہے کیونکہ اس کے فضل سے کوئی نیک عمل کرسکتا ہے غور کرو کہ کتنے لوگ ہیں جو کفر میں ڈوبے پڑے ہیں حالانکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام تو کبھی کفر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا پھر اگر وہ پسند نہیں کرتا تو کیا ان کی روزی اس نے بند کردی نہیں کی ہاں ! اس کو کشادہ کردیتا ہے تاکہ وہ خوب فائدہ اٹھا سکیں اور ان کی کوئی کسر باقی رہ نہ جائے حالانکہ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ وہ کسی کی حالت کفر کو پسند نہیں کرتا اور اسی طرح اگر کوئی شخص ساری عمر بھی اس کی یاد اور ذکر میں بسر کر دے تو اس کی ایک نعمت کا وہ شکر ادا نہیں کرسکتا ۔ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ” لوگو ! راہ راست اختیار کرو ‘ اللہ تعالیٰ کا قرب چاہو اور خوش رہو کیونکہ کسی شخص کو بھی محض اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا عمل بھی یا رسول اللہ ! فرمایا ہاں ! میرا عمل بھی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے دامن مغفرت ورحمت میں ڈھانپ لے ۔ “ یہ وہ پاک تعلیم ہے جو آپ ﷺ نے اپنی امت کے لوگوں کو دی ہے تاکہ وہ اللہ کے خاص فضل و کرم سے اپنے آپ کو آزادنہ متصور کرلیں بلکہ ہر حال میں اس کے فضل و رحمت کو شامل حال رکھیں کہ کوئی انسان بھی اس کی رحمت اور اس کے فضل سے آزاد رہ کر کامیاب نہیں ہو سکتا انسان کی کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ وہ اللہ کے فضل کا متلاشی ہو اور کسی حال میں بھی اپنے مجرد عمل پر انحصار نہ رکھے اور اس کے ساتھ وہ کفر سے بیزار رہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کفر کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور اس کو دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ ایمان ‘ رجا اور خوف کے درمیان ہے جس نے اس راز کو پالیا یقینا وہ کامیاب ہوا ۔
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ وہ خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو

خوشخبری دینے والی ہواؤں کو چلانا اس کا کام ہے اور کشتیاں بھی اسی کے حکم سے چلتی ہیں : 46۔ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ بلاشبہ اس کے فضل و کرم سے ہے اور ہر ایک چیز اس ذات کی مرہون منت ہے اس کی قدرت کی نشانیاں اس قدر ہیں کہ اگر کوئی شخص ان کو شمار کرنا چاہے تو ممکن ہی نہیں کہ وہ ان کو شمار کرسکے ذرا غور کرو کہ ان ہواؤں کا چلنا کیا ہے اور یہ کہ ان کی اقسام کتنی ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں ‘ گیسوں اور ہواؤں میں کیا فرق ہے ‘ اس فضا کے اندر کتنی گیسیں اور ہوائیں ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس فضا میں موجود ہیں اور وہ کون ذات ہے جو ان سب کو الگ الگ اور جدا جدا کرکے رکھ رہا ہے بلاشبہ وہ ان ساری ہواؤں اور گیسوں کا پیدا کرنے والا ہے اور پھر فرمایا کہ اچھا ان ہواؤں پر غور کرو جو انسان کے مبشرات کا کام سرانجام دے رہی ہیں ‘ مبشرات کیا ہیں ؟ ان کی اقسام تو ان گنت اور بیشمار ہیں لیکن اس وقت اس جگہ جن مبشرات کا ذکر کیا گیا ہے وہ وہی ہیں جو بارش کی خوشخبری سناتی ہیں خصوصا اس وقت جب انسان بارش نہ ہونے باعث سخت مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور ان ہواؤں کے چلنے سے اس کی امید کی کرن پھوٹ پڑتی ہے اور جب بارش شروع ہوجاتی ہے تو اس وقت ایک طرف تو اس کی خوشی کی کوئی انتہاء نہیں رہتی اور دوسری طرف وہ انہیں ہواؤں اور بارشوں کی آمد کی نسبت غیر اللہ کی طرف شروع کردیتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس کو ذرا شرم نہیں آتی کہ وہ کس طرح اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ دوسروں کو جو اس کی مخلوق ہیں شریک کرنا شروع کردیتا ہے پھر اس بارش کے پانی سے جب وادیاں اور ندی نالے اور دریا بھرنا شروع ہوجاتے ہیں تو اس کے راستے مسدود ہونے لگتے ہیں پھر ان کو عبور کرنے کے لئے وہ کشتیوں کو کام میں لاتا ہے اور اب غور طلب بات یہ ہے کہ اس کشتی میں جتنا میٹیریل خرچ ہوا ہے اس پر کبھی انسان غور کرے تو وہ جان لے کہ اس کی ایک ایک چیز کا خالق تو وہی اللہ تعالیٰ ہے انسان کا کمال تو صرف یہ ہے کہ اس نے ان ساری چیزوں کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ جوڑ دیا ہے پھر جوڑنے والوں کا تو یہ کمال سمجھے اور جس نے اس کے میٹیریل کی ایک ایک چیز کو پیدا کیا ہے اس کا نام بھی اس کی زبان پر نہ آئے تو یہ ناشکری نہیں تو اور کیا ہے ؟ پھر جب کشتی تیار ہوجاتی ہے تو وہی ہوائیں ہیں جو اس کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیتی ہیں اور وہی پانی ہے جو اپنے سر پر اس کے بوجھ کو برداشت کرتا ہے اور اس طرح اس کا سینہ چیرتی ہوئی کشتی ایک کنارہ سے چل کر دوسرے کنارہ پر پہنچا دیتی ہے تاکہ اس زمین پر سے وہ اس کو تلاش کرلے جہاں سے تلاش کرنا ہر انسان کے لئے آسان ہے ، کیا انسانوں کو اس کے صلہ میں اتنا کام کرنا کہ وہ اس زبان سے اس کا شکر ادا کردیں اتنا بھی وہ نہیں کرسکتے ؟ کس بلاغت سے اس مضمون توحید کو بیان کیا گیا ہے کہ جس انسان کے دل میں ایک ذر بھر بھی ایمان کا قطرہ موجود ہے وہ اس کو سنتے ہیں توحید الہی کے گیت گانا شروع کر دے تو کرسکتا لیکن انسانوں کی اکثریت ناشکری ہے کہ ان کو شکر ادا کرنا نہیں آتا اور وہ ہر سنی ان سنی کردیتے ہیں ۔ ان کا دل توحید الہی پر نہیں جمتا بلکہ وہ شرک کی طرف بڑھنے میں بہت جلدی کرتے ہیں حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے آپ سے قبل ان قوموں کی طرف کتنے ہی پیغمبر بھیجے تو وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر پہنچے پھر ہم نے ان لوگوں سے بدلہ لیا جو مجرم تھے اور مومنوں کی مدد کرنا تو ہمارے ذمہ تھی

پہلی قوموں میں بھی رسول بھیجے گئے اور پھر نہ ماننے والوں سے بدلہ لینے میں ہم کو کیا دیر لگی ؟ : 47۔ اب اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کی امت کوئی نئی امت نہیں ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کی رسالت کوئی نئی رسالت ہے ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھی ساری قوموں کی طرف ان کو پیغام پہنچانے کے لئے ان میں رسول مبعوث کیے جو ان کے پاس یعنی اپنی قوموں کے پاس روشن دلائل لے کر آئے لیکن ان کی قوموں کے لوگوں نے ان کی ایک نہ سنی اور ان کی اکثریت نے ان کی سخت مخالفت کی اور ہم نے ان کو جو مہلت دی اس مہلت کا سارا وقت ان قوموں نے اس مخالفت میں ضائع کردیا اور انجام کار جب ان کی پکڑ کا وقت قریب آگیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور مجرموں کو ہم نے ان کے جرم کی سزا دی اور صفحہ ہستی سے ان کو اس طرح مٹا دیا گیا کہ گویا وہ کبھی اس پر آباد ہی نہیں ہوئے تھے اور ہم نے ایمان والوں کی مدد کی اور ہمارے قانون میں ایمان والوں کی مدد کرنا طے کردیا گیا ہے لیکن بہرحال اس کے لئے ایک وقت بھی مقرر ہے اور یہ مدد بھی وہ مدد ہے جو ان کی اجتماعی طور پر کی گئی کیونکہ مجرموں کو ہلاک وبرباد کردینا بھی مظلوموں کی مدد ہی کا ایک طریقہ ہے لیکن اس کا کوئی بھول کر یہ مطلب نہ سمجھ لے کہ اس میں قانون خداوندی کے خلاف ابھی ایک آدمی ایمان لایا اور ابھی اس کو اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا گیا نہیں بلکہ ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے مطابق ان کی آزمائش بھی کی اور ان کی آزمائش کا دور اتنا لمبا ہوگیا کہ ان میں سے بعض ایمان والوں کی حالت زیادہ ہی دگرگوں ہوگئی اور عین مایوسی کے عالم میں ان کا ہاتھ پکڑ لیا گیا بہرحال مومنوں کی اس اجتماعی مدد کو اللہ تعالیٰ نے اعلانا اپنے ذمہ لازم قرار دے لیا اگر اس اعلان کے بعد بھی کوئی شخص نہیں سمجھتا تو وہ اپنے ایمان کا اندازہ خود ہی لگا لے ۔ یہ بات اس جگہ اس لئے دہرائی گئی تاکہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کے لو بھی اس اعلان کو بغائر سن لیں اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات پر پورا یقین رکھیں وہ یقینا ان کی مدد فرمائے گا اور اس کے پاس ہر ایک کام کا ایک وقت مقرر کردیا گیا ہے جو اپنے وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوتا اور اس وقت کا کسی کو علم نہ دینا ہی ان کی آزمائش ہے اور اس آزمائش پر پورا اترنا ہی ایمان لانا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کا اعلان کردیا تو اس پر ایمان لانا بھی تو بہرحال ایمان ہی کی نشانی ہے ۔ لوگوں کو ایمان پر قائم رہنا چاہئے ان کی مدد کا اعلان الہی آج بھی حسب دستور موجود ہے کاش قوم مسلم بھی اس بات پر ایمان لائے جو ایمان لانے کا حق ہے ۔ اس وقت قوم مسلم جس حالت سے دوچار ہے یہ حالات واضح کر رہے ہیں کہ ہم مسلمانوں کا ایمان اس وقت دوسری قوموں کے مقابلہ میں بھی زیادہ کمزور نظر آتا ہے کہ ہم مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کلی طور پر ختم کردیا ہے اور ہمارا سارا انحصار کافر قوموں کے کفر پر ہے اور آج اس بات پر جتنا رویا جائے بلاشبہ اتنا ہی کم ہے ۔ کاش کہ مسلمان قوم من حیث القوم بھی اللہ پر وہ ایمان لے آئے جس ایمان کے بعد نصرت الہی ایمان والوں کے قدم چومنے لگتی ہے ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو اور اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے کہ ہم اسی ایمان کے حامل ہوں جس ایمان کے ساتھ نصرت الہی خاص ہے ۔
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں پھر وہ (انہی ہواؤں کے ذریعہ) جس طرح چاہتا ہے اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم مینہ کو اس کے اندر سے نکلتا دیکھتے ہو ، پھر جب اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (اور جتنی چاہتا ہے بارش) پہنچاتا ہے تو وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں

ہواؤں اور بادلوں کی آمد کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور ناظم اعلیٰ خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے : 48۔ یہ بادلوں اور ہواؤں سے بار بار توحید الہی پر استشہاد کیوں ؟ اس لئے کہ ایک تو ہر انسان کا ایک گہرا تعلق ان کے ساتھ ہے خواہ وہ انسان ادنی عقل کا مالک ہو یا اعلی کا اور دوسرا یہ کہ ہر ایک انسان ان ضرورت کی چیزوں کی طرف خیال دوڑا سکتا ہے اور ان کی ضرورت کو محسوس کرسکتا ہے اگر ہوا نہ چلے تو کیا ہوا ہے اگر بادل نہ برسے تو کیا ‘ اگر ہوا کہیں زیادہ زور دار چلنا شروع ہوجائے تو نتیجہ کیا ہوتا ہے اور اگر بارش زور دار اور مسلسل شروع ہوجائے تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ اتنی عام فہم باتیں ہیں کہ ان کی ضرورت اور ان کے احساس کے لئے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں اس لئے بار بار انہیں مثالوں کو تصریف آیات کے ذریعہ سے بیان کیا جاتا ہے ایک لحاظ سے تو ان کی یہ صورت حال ہے اور دوسرے لحاظ سے یہ کہ اگر گہرائی میں جا کر ان پر مزید غور کیا جائے تو ان ہواؤں کا پیدا ہونا ‘ مدہم چلنا اور زور دار چلنا ‘ بارشوں کا رک جانا اور بارشوں کا موسلادھار ہونا ‘ مسلسل برسنا شروع ہوجانا وغیرہ ان کے اسباب پر غور کرنا اتنا بڑا علم ہے کہ ابھی تک اس کی انتہا کسی کو معلوم نہیں ہوسکی اور خصوصا ایک عام فہم بات کہ اتنا کروڑوں ٹن پانی فضا کے اندر اس طرح پھیلا دیا جانا اور پھر فضا پر اس کا کوئی اثر نہ ہونا کوئی معلولی بات نہیں کہ اگر یہی پانی بادلوں سے برسنا شروع ہوجائے تو زمین کی برداشت ہی سے باہر ہوجائے اور زمین کے اندر جتنے نالے ‘ ندیاں نہریں اور دریا جھیلیں اور جوہڑ ہیں سب بھر جائیں اور اس پانی کو اتنے اتنے بڑے ڈیم برداشت نہ کرسکیں ‘ ادھر یہ تماشا اور ادھر یہ کرشمہ حیرت زا نہیں تو اور کیا ہے اس فضا کو اچھی طرح دیکھ لو اس کے اندر اس کے ذرات تک نظر نہیں آتے اور اس پانی کے قطرات تک کا کوئی وجود نہیں اس فضا میں جتنا اونچے سے اونچا تم جاسکتے ہوجا کر دیکھ لو کہ اس کا کہیں نشان بھی تم کو نظر نہیں آئے گا حالانکہ یہ سارا پانی آج بھی اس فضا کے اندر موجود ہے اور اس آسمان و زمین کی خاص مشینری کو اس سے وہ پانی مل رہا ہے جس سے اس کو خاص نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے اس طرح غور کرتے جاؤ گے تو جس سائنس کے وجود سے تم متنفر ہو اور جس سائنس کا نام لینے سے تم بیزار ہو وہ سارے کی ساری قرآن کریم کی ان آیات کریمات میں بند کردی گئی ہے اور تم کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ان سے تنفر کا نتیجہ کیا ہے ؟ اس لئے تم اپنی جہالت کے باعث یہ سب کچھ اندھا دھند کئے جا رہے ہو اور لوگ ہیں کہ تم کو عالم جانتے اور مانتے ہیں ۔ اگر تم قرآن کریم کے مزاج شناس ہوتے تو آج تمہاری اور تمہاری قوم کی یہ حالت نہ ہوتی بلکہ تم عملی طور پر سچے مسلمان ثابت ہوتے اس دنیا میں بھی تمہارا مقام ہوتا اور آخرت بھی تمہاری سنور گئی ہوتی ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” اللہ تعالیٰ ہی ہے جو موسمی ہوائیں بھیجتا ہے اور وہ بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں پھر وہ بادلوں کو اپنے قانون مشیت کے مطابق جس طرف چاہتا ہے آسمان پر پھیلا دیتا ہے اور انہیں مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کردیتا ہے پھر اس کے خاص قانون قدرت کے تحت ان بادلوں سے بارش کے قطرات برسنے شروع ہوجاتے ہیں یہ بارش جس جگہ اس کو منظور ہوتا ہے یا جو جگہ اس کے قانون میں مقرر کی گئی ہے اس جگہ پر برساتا ہے تو وہاں کے باشندے یکایک خوشیاں منانے لگتے ہیں ۔ “
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور یہ کہ مینہ برسنے کے قبل وہ بالکل ناامید ہوچکے تھے (گویا نا امیدی کو امید میں بدلتے اس کو کچھ دیر نہیں لگتی)

ابھی تو وہ بارش سے ناامید بیٹھے تھے اور ابھی وہ جل تھل ہوگئے : 49۔ جب یہ بارش ابھی نازل ہوئی تھی تو وہ دعائیں مانگتے اور اپنے اپنے رسم و رواج کے مطابق پانی طلب کرنے کے لئے بےتاب نظر آتے تھے اور ان کی حالت مایوسی تک پہنچ چکی تھی اور ان کو کوئی امید نہیں تھی کہ کبھی بارش بھی ہوگی اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو ان کی اس ناامیدی کو امید میں بدلنے کے لئے کتنی دیر لگی ؟ ابھی ناامیدی کی باتیں جاری ہی تھیں کہ اس نے جل تھل کردیا حالانکہ وہ ناامید بیٹھے تھے ان کی ناامیدی کو امید میں بدلنے کی یہ ایک مثال ہے اگر غور کیا جائے تو انسانی زندگی کی ان ناامیدیوں کو امیدوں میں بدلتے اس کو ذرا بھی دیر نہیں لگتی لیکن انسان ایسا ناشکرا اور بھول جانے والا ہے کہ ادھر اس کی ناامیدی امید میں بدلی اور ادھر اس کے ذہن میں و دماغ میں یہ بات محو ہوئی کہ کبھی میں ناامیدی کی حالت کو بھی پہنچ چکا تھا اور ابھی اس کی امید پر بھی آگئی اور وہ اس کو بھول بھی گیا گویا وہ کبھی ناامید ہوا ہی نہ تھا یا کبھی اس کی پوری بھی ہوئی اور اس کی ان خواہشوں کی جگہ نئی خواہشیں ایسی پیدا ہوگئیں کہ وہ گزشتہ کو اپنے ذہن سے محو بھی کر گیا لیکن غور کیا تو معلوم ہوا کہ ابھی تو وہ تاریخ بھی نہیں بدلی اور وہ دن بھی غروب نہیں ہوا واہ رے انسان تو اور واہ رے تیری یہ خواہشیں اور تیری یہ موہوم امیدیں اور پھر مایوسیاں ۔ ذرا غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ بلاشبہ انسان مجموعہ اضداد ہے اس لئے اس کی خواہشوں اور امیدوں کو بدلتے ذرا دیر نہیں لگتی ایک طرف اس کی طلب ہوتی ہے اور دوسری طرف اس کو اس طلب کی نفی کرتے زیادہ دیر نیں لگتی اگر وہ اپنی اس حالت پر نگاہ رکھتا تو یقینا اس کو اپنی ذات کے سمجھنے کا موقعہ میسر آتا لیکن بہت کم ایسا ہوا ہے کہ اس نے کبھی اپنی ذات کو سمجھنے کی کوشش کی ہو یا کم از کم اپنی اضداد پر غور کیا ہو ۔
Ayah 30:50

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

پس اللہ کی رحمت کے آثار دیکھو کہ وہ کس طرح زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے بلاشبہ وہی مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے

رحم الہی کے آثار پر غور کرو کہ وہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے : 50۔ جون کے مہینے کے آخر پر ذرا زمین پر نظر ڈالو تو تم کو سبزے کا نام ونشان بھی نظر نہیں آئے گا اور جدھر نظر دوڑاؤ گے صاف اور چٹیل میدان نظر آئیں گے خصوصا ان علاقوں میں جو بارانی علاقے کہلاتے ہیں کہ ہر طرف زمین مردہ ہی مردہ نظر آرہی ہوتی ہے لیکن اچانک اللہ تعالیٰ کی رحمت کی گھٹائیں اٹھتی ہیں اور آسمان زمین پر لوٹ آتا ہے اور مردہ نظر آنے والی زمین میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے اور وہ تروتازہ ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے پھٹنے لگتی ہے اگرچہ اس کا پھٹنا تو نظر نہیں آتا لیکن اس کے پھٹنے کا عمل اس طرح نظر آنے لگتا ہے کہ ہر طرف ہریاول ہی ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے ۔ اس مردہ زمین کو کس نے ہرا بھرا کردیا ؟ وہ کون ہے جس نے آسمان کو زمین کی طرف متوجہ کیا ؟ وہ کون ہے جس نے زمین کی زندگی آسمان پر لے جا رکھی ؟ وہ کون جس نے آسمان سے اس زندگی کو زمین کی طرف منتقل کیا ؟ بلاشبہ وہ اللہ ہی تو ہے ہاں ! تو پھر وہی ہے جو قیامت کے روز ان مردوں کو زندہ کر دے گا جن کو مدتوں پہلے اس نے مار دیا تھا اور جن کو قیامت کے روز مارا سب کو اس طرح کھڑا کر دے گا جس طرح سوکھی زمین سے ہریاول کو کھڑا دیا دیا بلکہ اس نے ہر ایک چیز کا بندھ باندھ دیا ہے کہ وہ اس سے الگ نہیں ہو سکتی ۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی ہوا چلا دیں تو وہ اپنی کھیتی کو دیکھیں کہ وہ زرد پڑگئی ہے تو یہ لوگ اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں

پھر آج کی ہریاول آنے والے کل میں زرد رنگ میں کس نے رنگ دی ؟ 51۔ آج جو سبزیاں لہلہا رہی ہیں ان پر ہوائیں چلتی ہیں تو یہ جھوم جھوم کر قدرت الہی کی تسبیح میں مصروف ہیں کہ اس مصروفیت کے اندر دیکھنے والے اس کو دیکھتے ہیں کہ وہ زرد رنگ میں تبدیل ہونا شروع ہوگئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے زرد رنگ کی چادر نے کتنے دن نکالے ‘ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ انہی ہواؤں نے اس کو چورا چورا کردیا حتی کہ اس کا نام ونشان مٹ گیا اور اس نے نئی ہریاول کے لئے جگہ خالی کردی ۔ تعجب ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور پھر اس کے بعد دوبارہ جی اٹھنے سے انکار کردیتے ہیں اور کبھی غور نہیں کرتے کہ جس طرح زمین کی حالت میں تبدیلی واقع ہوئی اور اس زمین کی پیداوار پر تبدیلی واقع ہوئی اور ہر تبدیلی نے ایک نئی شکل و صورت پیدا کردی اس طرح یہ تبدیلی بھی لازم اور ضروری ہے اور بلاشبہ وہ اپنے وقت پر ہوگی بلکہ یہ ساری تبدیلیاں اسی ایک تبدیلی کو منوانے کے لئے تو کی گئی تھیں لیکن انسان کتنا غافل ہے کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود پھر انکار ہی کرتا چلا جا رہا ہے ۔
Ayah 30:52

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

پس نہ تو تو مردوں کو اپنی پکار سنا سکتا ہے اور نہ ہی بہروں کو جب کہ وہ روگردانی کر رہے ہوں

مردوں اور بہروں کو آپ ﷺ نہیں سنوا سکتے جب کہ وہ روگردانی بھی کر رہے ہوں : 52۔ زیر نظر آیت سورة النحل کی آیت 80 کے طور پر گزر چکی ہے اور ظاہر ہے کہ جو مضمون اس جگہ بیان ہوا ہے وہی اس جگہ بھی مراد ہے لہذا اس کی تفسیر عروۃ الوثقی جلد ششم میں سورة النحل کی آیت 80 میں دیکھ لی جائے تو بہتر ہے ۔ ہاں ! اتنی بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم نے جس طرح اس جگہ (موتی) کا لفظ کفر کی موت مرے ہوئے لوگوں پر استعمال کیا ہے اسی طرح بہت سے دوسرے مقامات پر بھی (موتی) یا موت سے مراد کفر ہی لیا گیا لیکن ان جگہوں پر جب ہم نے اس سے مراد کفر لیا تو لوگوں نے ہم پر ناک بھوں چڑھائے اور ہم کو برا بھلا کہا اور ہم پر تفسیر بالرائے کرنے کا الزام لگایا لیکن جب اس جگہ پر پہنچے تو اکثر مفسرین نے اس سے مراد کفر ہی کی موت کو لیا لیکن انہوں نے خاص اپنی مجبوری کے باعث ایسا کیا کیونکہ وہ مردوں کو سنوانا چاہتے تھے اور آیت سے بظاہر مردوں کو سنوانے کی نفی نکلتی تھی انہوں نے محض اس سے بچنے کی خاطر اس جگہ ایک قدم سیدھا رکھا لیکن ساتھ ہی چرکہ دے کر الٹی راہ اختیار کر گئے اور پھر چلتے چلتے حیات انبیاء کا مسئلہ چھیڑ دیا اور پھر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اجساد ان کی قبروں میں موجود ہیں ہاں ! انہی قبروں میں جہاں ہم مردوں کو گاڑتے ہیں اور اس کے ساتھ اور بھی بہت کچھ خرافات تحریر کی ہیں اور عبارت کو مزید شستہ اور مسجع بنانے کے لئے قبر کے لفظ کو مزارات سے قائم ہوتا ہے اور وہ ان لوگوں کی باتوں کو سنتے اور جواب دیتے ہیں جو ان کے مزارات کی حاضری دیتے ہیں اور حالات ان کے سامنے بیان کرتے ہیں تو وہ ان کی حاجات کو سنتے اور پورا کرتے ہیں اور پھر اس ایک جسم کی بجائے جو اس قبر میں موجود ہوتا ہے اس کو ویسے ہی سینکڑوں اجسام عطا کردیئے جاتے ہیں اور پھر وہ مختلف مقامات پر اپنے ماننے والوں کی مدد کے لئے پہنچ جاتے ہیں اور بیک وقت مختلف مقامات پر دیکھے بھی جاسکتے ہیں ، غور کرو کہ بات کہاں سے چلی تھی اور یاروں نے بات سے بات نکالتے نکالتے کہاں پہنچا دی ، قرآن کریم کی آیت کیا کہہ رہی تھی اور بحث کرنے والوں نے اس کو کیا بنا ۔ اس جگہ پیر کرم شاہ صاحب اس آیت کے تحت رقم طراز ہیں کہ ” اس آیت میں (الموتی) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل مر چکے ہیں ، کفر وشرک پر پیہم اصرار کے باعث ان کی عقل وفہم کے چراغ بجھ گئے ہیں اور کسی بات میں سنجیدگی اور متانت سے غور وفکر کی صلاحیت دم توڑ چکی ہے ۔ “ ” اور (الصم) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کے کان بہرے ہوچکے ہیں جنہوں نے اپنے گوش ہوش میں تعصب کی انگلیاں ٹھونس دی ہیں تاکہ انہیں حق کی صدا سنائی نہ دے ۔ “ ” آیت کا مقصد یہ ہے کہ توحید پر مسکت دلائل ان کے سامنے پیش کئے گئے انہیں بار بار دل نشین انداز سے دعوت حق دی گئی اس کے باوجود یہ کفر پر اڑے ہوئے ہیں ان کے اس طرز عمل سے اے محبوب ! آپ ﷺ رنجیدہ خاطر نہ ہوں ان کے دل مر چکے ہیں ‘ ان کے کانوں سے حق سننے کی طاقت سلب ہوگئی ہے آپ نے اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرنے میں ذرا کوتاہی نہیں کی ۔ اگر یہ کفر اور گمراہی کے اندھیروں سے باہر نہیں نکلنا چاہتے تو ان کی قسمت ۔ “ یہاں تک پیر صاحب نے بالکل صحیح لکھا لیکن اس کے معا بعد پیر جی نے ” سماع موتی “ کا مضمون شروع کردیا اور پھر سماع موتی کے منکرین کی خوب خبرلی اور حق و باطل کو ملانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اپنے فن کے مظاہرہ کے لئے ” کتاب الروح “ سے خاص مدد حاصل کی اور اپنے مکتب فکر کی ترجمانی کرنے میں خوب زور لگایا ۔ صحیح احادیث سے غلط استدلال کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔ کتاب الروح کی عبارات سے صحیح احادیث اور قرآن کریم کی آیات کا رد کرنے کی ناکام کوشش کی اس جگہ ہم نے اشارہ کردیا ہے اور ہم اس بحث کو انشاء اللہ مختصر طور پر سورة فاطر کی آیت 22 کے تحت بیان کیا ہے تاکہ اس بحث کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر اپنا من مانا مفہوم بیان کرسکیں جس میں ان کو خوب مہارت اور دسترس حاصل ہے اور اپنے مخصوص فکر کی ترجمانی وہ کرسکتے ہیں ۔
Ayah 30:53

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ تو اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لاسکتا ہے (ہاں ! ) تُو اسی کو سنا سکتا ہے جو ہماری باتوں پر یقین کرتے ہیں پس وہی (بات کو) تسلیم کرتے ہیں

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ اندھوں کو ہدایت نہیں دے سکتے : 53۔ جس طرح گزشتہ آیت میں (موتی) سے مراد وہ لوگ تھے جو کفر کی موت مر چکے ہیں اگرچہ وہ چلتے پھر تے اور کھاتے پیتے ہیں اور اسی طرح (الصم) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل کے کان حق بات کے سننے سے بہرے ہوچکے ہیں اور زیر نظر آیت میں (الاعمی) سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی آنکھیں نور ہدایت دیکھنے سے اندھی ہوچکی ہیں اور گمراہی میں ڈوبے پڑے ہیں ۔ دراصل یہ انہی لوگوں کا بیان ہے جو نہایت ضدی قسم کے ہوتے ہیں اور کبھی سیدھی بات کو وہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اس لئے قانون الہی کے مطابق ان کی عقلیں ماری جاتی ہیں اور سمجھ بوجھ الٹی ہوجاتی ہے کتنی ہی صاف بات کہی جائے ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی ‘ کتنی ہی ان کی بھلائی چاہو وہ اور زیادہ مخالفت کریں گے ۔ قرآن کریم ان کی اس حالت کو کہیں تو اس طرح بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی پس وہ سمجھتے نہیں گویا یہ صورت حال اللہ تعالیٰ کے ٹھہرائے ہوئے قانون کا قدرتی نتیجہ ہے جب کبھی کوئی ایسی چال چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا مقررہ قانون مؤثر ہو کر اسے میں حالت میں پہنچا دیتا ہے ایسے ہی لوگ ہیں جن کی حالت کو قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح بیان کیا ہے کہ ” جو لوگ ناحق اللہ کی زمین میں سرکشی کرتے ہیں ہم اپنی نشانیوں سے ان کی نگاہیں پھیرا دیں گے وہ دنیا بھر کی نشانیاں دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہ لائیں گے اگر وہ دیکھیں ہدایت کی سیدھی راہ سامنے ہے تو کبھی اس پر نہ چلیں اور اگر دیکھیں گمراہی کی ٹیڑھی راہ سامنے ہے تو فورا چل پڑیں ان کی ایسی حالت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں اور ان کی طرف سے غافل رہے اور جن لوگوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائیں اور آخرت کے پیش آنے سے منکر ہوئے تو بلاشبہ ان کے سارے کام اکارت گئے وہ جو کچھ بدلہ پائیں گے وہ اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ انہیں کے کرتوتوں کا پھل ہوگا جو دنیا میں کرتے رہے ۔ “ (الاعراف 7 : 146) مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی محولہ آیت کی تفسیر دیکھیں ۔ زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” تم صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں ۔ “
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے تم کو کمزور پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد قوت عطا فرمائی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ بڑا ہی جاننے والا ہے ، بڑا ہی قدرت والا ہے ، (انسان غور کرتا جائے تو اس کی توحید کے نشانات واضح ہوتے جاتے ہیں)

اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے تم کو مختلف ادوار سے گزار کر بڑھاپے میں ڈال دیا : 54۔ زیر نظر آیت میں لفظ (ضعف) تین بار ذکر کیا گیا اس کے تلفظ کے متعلق یہ بات قابل یادداشت ہے کہ اس کو ہمارے ہاں ضاد کی پیش سے پڑھا جاتا ہے اور باقی مشرقی وسطی کے اسلامی ممالک میں ضاد کے زبر سے لیکن معنی کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا گیا ۔ گزشتہ آیات میں توحید الہی کا بیان آفاقی سے استدلال کرتے ہوئے کیا تھا اور اب اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کاملہ کی ایک دلیل انسان کے اپنے نفس سے کی جا رہی ہے کہ اگر تمہاری نگاہ کائنات کی دوسری اشیاء تک نہیں پہنچ سکتی تمہاری توجہی کے باعث یا کوتاہ نظری کے باعث اور تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے دلائل و شواہد سے استفادہ کرنے سے قاصر ہو تو کم از کم اپنی ذات ہی پر نگاہ ڈال لو غور کرو کہ جب تم پیدا ہوئے تو تمہاری ناتوانی کی یہی حالت تھی جو تمہارے ہاتھوں میں پیدا ہونے والوں کی ہے کہ نہ اٹھ سکتے تھے نہ بیٹھ سکتے تھے لیکن اس کے بعد کچھ ماہ گزرے کہ تم نے بیٹھنا شروع کردیا اور پھر وقت آیا کہ تم کو کھڑا کیا گیا اور تم کھڑے ہوگئے تو تمہارے سامنے تالیاں بجائی گئی تھی ہاں ! بالکل اسی طرح جس طرح آج تم اپنے سامنے کھڑے ہونے والوں کے سامنے بجاتے ہو پھر کیا شان تھی تمہاری جب ٹیڑھی ٹانگوں سے تم نے ایک قدم اٹھا کر رکھا اور سہار نہ سکے اور پیٹھ کے بل گر کر رو دیئے لیکن پھر کیا ہوا کہ تم رفتہ رفتہ جوان ہوگئے اور تمہاری عقلی وفکری اور جسمانی وحیوانی قوتوں پر شباب آگیا اور تم اپنے کندھوں پر تھوکنے لگے اور پھر کیا ہوا کہ اس مست جوانی کا دور بھی گزر گیا اور تم ایک نہایت ہی سنجیدہ اور متین آدمی نظر آنے لگے پھر کیا ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے تمہارے دانت ‘ کان اور آنکھیں متاثر ہونا شروع ہوگئیں اور سیاہ بالوں نے جواب دینا شروع کردیا اور انہوں نے بالکل سفید رنگ اختیار کرلیا اور تمہارے سارے اعضاء وقوی میں انحطاط شروع ہوگیا اور کمزوری اور بڑھاپے نے آلیا تمہاری زندگی نے کتنے مختلف روپ دھارے کیا تم کسی ایک روپ پر بھی ٹک سکے اور اس کو بحال رکھ سکے ؟ اگر نہیں تو آخر کیوں ؟ وہ کون ہے جس نے تمہاری اس طرح حالت بدلی اور بدلتے بدلتے تم کو اس گڑھے تک پہنچا دیا جس گڑھے کو قبر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، اگر تم نہیں بتا سکتے کہ وہ کون سی طاقت ہے تو ہم تم کو بتائے دیتے ہیں کہ وہ تمہارا اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور پیدا کرنے کے بعد ان سارے اطوار سے گزارتے ہوئے تم کو اس مٹی میں جا رکھوایا جس سے تمہارا خمیر اٹھایا گیا تھا اس ساری داستان میں کتنا وقت لگا اور اس وقت میں تمہارے ساتھ کیا کچھ ہوگیا لیکن ان ساری تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر نہ تو تم ان تبدیلیوں پر کنٹرول کرسکے اور نہ ہی تم نے یہ بتایا کہ یہ تبدیلیاں لانے والا کون تھا ہم تو تم کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جو ذات یہ تبدیلیاں لانے والی ہے اس نے تم کو پیدا کیا اور اس نے تم کو اس زمین میں دوبارہ پہنچا دیا اور پھر اس پر قیاس کرکے مان لو اور تسلیم کرلو کہ وہی تم کو جب چاہے گا عالم آخرت میں پیدا کر دے گا اور وہ علم وقدرت والا ہے تمہاری ان ساری حالتوں کا بھی اس کو علم ہے اور تمہارا دوبارہ پیدا کرکے میدان حشر میں کھڑا کردینا بھی اس کی قدرت سے کوئی بعید نہیں ہے ۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قائم ہوگی ، مجرم قسمیں کھائیں گے کہ ہم (دُنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہ رہے ، اسی طرح وہ لوگ (حق چھوڑ کر) الٹے چلا کرتے تھے

جس روز قیامت قائم ہوگی تو مجرم کیا بیان دیں گے اور ان کی حالت دیدنی ہوگی : 55۔ آج جب ان کو حشر کا دن بتایا جاتا ہے تو یہ طرح طرح سے استہزاء کرتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں اور اپنے جرائم سے باز آنے کا نام بھی نہیں لیتے لیکن اس وقت جب وہ بارگاہ ایزدی میں کھڑے کئے جائیں گے تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں صرف ایک پل بھر ہی رہے تھے یہ اتنا لمبا چوڑا حساب ہمارا کس چیز کا لیا جا رہا ہے گویا اتنے ڈھیٹ ہیں کہ ایسے نازک حالات میں بھی وہ کذب بیانی سے نہیں چوکیں گے لیکن ان کی اس کذب گوئی پر تعجب اور حیرت کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی تو یہ پرانی عادت ہے دنیا میں انہوں نے دن رات جھوٹ بولے اور جو ان کے منہ میں آیا انہوں نے کہہ دیا کیوں ؟ اس لئے کہ دنیا میں مال و دولت کی فراوانی ان کو میسر تھی اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والوں کی کثرت تھی ان کی مخالفت کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا اور ہر آنے والے دن میں ایک نہ ایک نیا جھوٹ انہوں نے تجویز کیا ہوتا تھا اب دنیاوی چیزوں میں سے تو بلاشبہ ان کے پاس ایک چیز بھی موجود نہیں لیکن عادت ایک ایسی چیز ہے کہ وہ اتنی جلدی نہیں بدلتی اس لئے اس وقت وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں صرف عادتا کہہ رہے ہیں کیونکہ اس طرح کے جھوٹ ان کے دنیا میں چل جایا کرتے تھے اور اسی ڈگر میں انہوں نے اس جگہ بھی جھوٹ بک دیا ہے اسی چیز کے متعلق کہا جاتا ہے کہ رسی جل گئی پر بل نہ گیا ۔ لیکن ایسے جھوٹوں کو آخرت میں باور کرا دینا کوئی مشکل امر نہیں کیونکہ اس جگہ دنیا کی ہو ہوا اور حاشیہ نشینوں کی کثرت میسر نہیں ہوگی ۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم و ایمان عطا ہوا ہے کہیں گے کہ کتاب الٰہی کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو اور یہ قیامت کا دن ہے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) تم کو اس کا یقین نہ تھا

اہل علم ان کو مخاطب کرکے ان کی ساری حالت کی حقیقت ان کے سامنے کھول دیں گے : 56۔ اہل علم سے مراد وہ لوگ ہیں جو قیامت کی گھڑی پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ان کا عمل بھی ان کے اس نظریہ کی تصدیق کرتا ہے ، جب وہ لوگ دنیوی زندگی کو ایک پل بھر کی زندگی قرار دیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں صرف ایک ساعت کی ساعت گئے تھے یا بھیجے گئے تھے تو وہ لوگ جو قیامت کے دن پر پختہ یقین رکھتے ہیں ان کی مخاطب کرکے کہیں گے کہ کتاب اللہ کے مطابق تو دنیا میں قیامت تک رہے ہو اور اس جگہ قیامت سے مراد ہر شخص کی انفرادی قیامت یعنی موت کی گھڑی ہے اور ان کی مراد بھی یہی ہے کہ کتاب اللہ کے مطابق تو تم اپنی موت تک دنیا میں رہے ہو اور وہ ایک پل بھر تو نہیں بلکہ وہ تو کئی سال کی ایک مدت تھی یعنی ایک مدت تک تم کو اس دنیا میں رکھا گیا یہاں تک کہ تم کو اس دنیا میں موت آئی اور اب تم اس قیامت کبری سے دو چار ہو جس کا تم کو کسی حال میں بھی یقین نہیں آرہا تھا اور تم ہر بار اس کو جھٹلا رہے تھے ، اب اچھی طرح پہچان لو کہ یہ وہی دن ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا اور تم کو کہا جاتا تھا کہ تم کو اس روز دوبارہ اٹھایا جائے گا اب اچھی طرح پہچان رکھو کہ آج وہ دن ہے جس کو یوم البعث کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور تم ان لوگوں پر پتے تھے جو تم کو اس دن کی خبر دیتے تھے ، آج تم بھی موجود ہو اور وہ دن بھی جس کا تم انکار کرتے تھے اور اس پر یقین لانے کے لئے کسی صورت بھی تیار نہ تھے ۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پس اس دن ظالموں کو ان کا عذر کرنا کچھ نفع نہ دے گا اور نہ ہی ان کی توبہ قبول کی جائے گی (کہ اس کا وقت گزر گیا)

آج ظالموں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہیں دے گا اور نہ ہی وہ تم کو ہلکا کرسکیں گے : 57۔ فرمایا ان ظالموں کو جو اس روز معذرت پیش کریں گے ان کی معذرت سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ معذرت کا وقت گزر چکا وہ دن تو نتیجہ کا دن ہوگا اور نتیجہ کے روز تو بہرحال معذرت پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ معذرت کا تعلق تو دار دنیا سے ہے اور اس وقت وہ دار الآخرۃ میں کھڑے ہوں گے وہاں تو ان کو اس کے سامنے عذر پیش کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ان سے اس بات کی طلب کی جائے گی کہ وہ توبہ و اطاعت کرکے اپنے رب کو رضا مند کریں کیونکہ اس روز یہ چیزیں مفید نہیں ہوں گی ۔ یستعتبون اے لا یطلب منھم ان یرضوا ربھم بالتوبۃ والطاعۃ لانھا لا تنتفع یومئذ اور اس کے معنی وہی ہیں جو اوپر بیان کئے گئے ہیں ۔
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن (کریم) میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے کر آئیں تو جو لوگ کافر ہیں یہی کہیں گے کہ تم سب باطل پر ہو

ہم قرآن کریم میں لوگوں کی ہدایت کے لئے مثالیں بیان کرتے ہیں اور کافر جھٹلا دیتے ہیں : 58۔ قرآن کریم میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی گئی ہیں وہ بھی جو عام لوگوں کے لئے عام فہم ہیں اور انسان کے لئے بھی وہ مفید ہوں اور ایسی گہری مثالیں بھی بیان کی گئی ہیں کہ وہ لوگ جو عقل وعلم وافر رکھتے ہیں ان سے استفادہ کرسکیں اور ہر وہ شخص ہدایت حاصل کرسکے جو ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے نہ ماننے کی قسم کھا رکھی ہے ان کے سامنے ایک سو نشانیاں بھی لا کر رکھ دی جائیں تو وہ کبھی ایمان لانے والے نہیں ہیں ان کی سرشت میں کفر کرنا ہے اور وہ کفر کی طرف ہی بڑھیں گے کیونکہ ان عقل کے اندھوں کا ہمیشہ یہی وطیرہ ہے کہ جب بھی آپ نے ان کے سامنے کوئی دلیل پیش کی یا اپنی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے ان ہی کی کتابوں میں سے لا کر ان کے سامنے حجت بیان کردی جو پیش گوئیاں ان کی کتب سابقہ میں موجود ہیں تو انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا کیونکہ یہ لوگ غور وفکر سے کام لینے کے لئے تیار ہی نہیں انہوں نے ایک ہی رٹ لگانا ہے اور وہ اس کو لگا رہے ہیں اور لگاتے رہیں گے اور جب بولیں گے تو الٹا آپ پر اور آپ کے متبعین پر الزام لگا دیں گے کہ تم ہی باطل کے پیروکار ہو ‘ تمہارا ہدایت سے کوئی واسطہ نہیں اور یہ جو دلائل تم ہمارے سامنے پیش کر رہے ہو ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ یہ گھڑی ہوئی باتیں ہیں جو تم نے خود گھڑی ہیں اور ہم تمہاری اس گھڑنت کو ماننے کے لئے قطعا تیار نہیں ہیں ۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ اس طرح ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو سمجھ نہیں رکھتے (ان کی قبول حق کی استعداد جاتی رہتی ہے)

ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ کبھی سمجھنے کے نہیں ہیں : 59۔ بلاشبہ جاہل اور نادان لوگوں کے دلوں پر اس طرح مسلسل انکار پر اصرار کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے جس کے بعد وہ حق اور صداقت کو سمجھ ہی نہیں سکتے رہی یہ بات کہ اس مہر لگانے کا مطلب کیا ہے اور وہ کیونکر لگائی جاتی ہے ؟ اس کی تفصیل ہم پیچھے سورة البقرہ کی آیت 7 میں بیان کرچکے ہیں اور عروۃ الوثقی جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 179 میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے لہذا وہیں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر اسلام ! ) تم صبر کرو بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تم کو (تمہارے عزم سے) کہیں ہٹا نہ دیں

آپ صبر کریں بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے یقین نہ رکھنے والے آپ کو ہلا نہ دیں : 60۔ یہ بات پیچھے بار بار بیان کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم کا معجزانہ کلام ہے کہ وہ بظاہر مخاطب تو نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو ہی کرے گا لیکن حقیقت میں وہ بات آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کو مخاطب کرکے کرنا چاہتا ہوگا اور اس کا پیرایہ بیان عام ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول رحمت للعالمین کو اس طرح مخاطب کیا ہے تو آپ ﷺ بھی اور دنیا کے سارے لوگ آخر کیا ہیں اور ان کو مخاطب کرکے یہ بات کیوں نہیں کی جاسکتی ؟ یہی پیرایہ بیان زیر نظر آیت میں اختیار کیا گیا ہے اور قرآن کریم آپ کی امت کے ہر فرد کو مخاطب کرکے یہ کہہ رہا ہے کہ اگر تم مردان میدان ہو تو خیال رکھو کہ تم پر فتنوں کے پہاڑ ٹوٹیں گے اور سر پھوڑ پھوڑ کر واپس لوٹیں گے تم چٹان کی طرف قائم رہو اور جس قدر بھی شکوک و شبہات کی آندھیاں چلیں چلتی رہیں تمہاری شمع ایمان بجھنے نہ پائے کیونکہ ثابت قدمی اور مستقل مزاجی ہی اہل حق کا شیوہ ہے اور انہوں نے ہر دور میں ظلم وجفا کے تیروں کو صبر کی ڈھال پر روکا ہے اور آج اہل حق کے علمبردار تم ہو اس لئے اس کی لاج تمہارے ہاتھ میں ہے لہذا جو ہو سو ہو لیکن دین محمد رسول اللہ ﷺ کا پرچم سرنگوں نہ ہو اگر تم نے عزم پختہ رکھا اور صبر کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہے تو نصرت الہی آئے گی اور طاغوتی طاقتوں کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دے گی اور فتح و کامرانی کا تاج تمہارے ہی سر پر چمکے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق ہے اور حق ہی رہے گا ۔ آپ کو یہ لوگ موم کی ناک نہ سمجھ لیں کہ جدھر کو چاہیں موڑ کر کرلیں اور نہ ہی آپ کے وزن کو یہ لوگ ہلکا سمجھیں اور ظاہر ہے کہ یہ بات اسی وقت ممکن ہے جب یہ لوگ اپنی ساری تدبیریں تم پر لڑا دیکھیں اور ان کا ہر وار بےکار جائے گویا یہ پتھر کی چٹان سے ٹکڑا کر خود ہی پاش پاش ہوجائیں ۔ ذرا غور کرو کہ اہل ایمان ویقین کے و ایمان کو برباد کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ وہی جو خود بےیقینی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ لوگ جو دولت ایمان سے مالا مال ہیں اور جن کے دلوں میں ایمان ویقین پرورش پاچکا ہے اور ان کے سامنے دائیں اور بائیں نور یقین اجالا کر رہا ہے وہ اگر ایسے لوگوں کا اتباع شروع کردیں جو اس نعمت سے محروم ہوچکے ہیں تو اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی ؟ آج ہم کو اپنی حالت پر خود بخود غور کرنا چاہئے اور دوسری قوموں کے مقابلے میں ہم کو اپنا تجزیہ کرکے دیکھنا چاہئے کہ ہماری راہ کیا ہے اور ہم کس راستے پر روا دواں ہیں اور اگر ہماری حالت یہی رہی تو آنے والی قومیں ہم کو کبھی معاف نہیں کریں گی اور ہماری نسلیں ہم پر ماتم کریں گی ہم اس وقت اپنے اسلاف کے جلوسوں میں مشغول ہیں کہیں میلاد النبی کا جلوس جا رہا ہے تو کہیں حسین کے جلوسوں میں آہ وزاری اور زور وشور سے ماتم ہے اور ہم نے سمجھ لیا کہ شاید اس چیز کا نام دین اسلام ہے اور اس میں ہماری دنیوی ودینی کامیابی ہے لیکن ہمارے مقابلے میں غیر مسلم قومیں ہیں کہ آخرت سے تو ان کو کوئی سروکار نہیں ہے لیکن اس زندگی کی وہ کونسی سہولت ہے جو ان کو میسر نہیں ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ہم اس دنیاوی زندگی میں بھی ان کا مقابلہ کرتے اور اس کائنات میں جو ہمارا حق ہے اس کو وصول کرکے ان پر روشن کردیتے کہ ہم زندہ قوم ہیں اور آخرت کی کامیابی بھی یقینا ہمارے ہی قدم چومتی کہ ہم ہی اس نظریہ کے صحیح معنوں میں حامل ہیں ۔ ہم اس خواب غفلت سے کب اٹھیں گے اور کون ہے جو ہم کو اس سے اٹھا دے گا اور ہم کب ایمان ویقین نہ رکھنے والوں کے سامنے اپنے ایمان ویقین کا بھرا ہوا برتن رکھیں گے اور ان پر ثابت کردیں گے کہ ۔ ع مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا : اے ہمارے رب ! آج بلاشبہ ہم کو ان ایمان ویقین سے خالی لوگوں نے بھی نہایت ہلکا جانا اور ہماری پوری قوم کی قوم کو انہوں نے انسان نہیں بلکہ ایک گیند کی مانند سمجھ لیا اور جہاں چاہا اور جیسے چاہا ہم پر اپنے بلے کا استعمال کیا لیکن ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنے نام مسلمانوں والے رکھتے ہیں اور ختنہ ان کے رواج میں اسلام کی سب سے بڑی علامت سمجھی جاتی ہے ۔ اے اللہ تجھے تیری کبریائی کا واسطہ ہمارے حال پر رحم فرما اور ہمارا شمار زندہ قوموں میں بنا دے اور ہمیں اپنی آخرت کے سنوارنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین یا رب العالمین ۔ اسی التجا پر سورة الروم کا مضمون ختم ہو رہا ہے ۔ عبدالکریم اثری : 7۔ جولائی 1997 ء بروز سوموار ‘ بعد از نماز عصر :