30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 30:22

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے بلاشبہ اس میں (بھی) علم رکھنے والوں کے لیے (بڑی ہی) نشانیاں ہیں

انسانوں کی مختلف زبانوں اور مختلف رنگتوں میں بھی نشانیاں ہیں ‘ دانش مندوں کے لئے : 22۔ گزشتہ آیت 20 سے قرآن کریم نے جو مضمون بیان کرنا شروع کیا ہے اور جو اس کے لئے پیرایہ اختیار کیا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آیات کریمات سے جن میں انفس وآفاق کے نشانات سے استدلال کیا ہے اور انداز استدلال بھی توحید الہی اور تدبر و تفکر کو ملا کر پشے کیا گیا ہے اور ہر صاحب فکر اور صاحب علم وفضل کو دعوت دی گئی ہے جو علوم جدیدہ اور علم آسمانی کی یکسانیت کو ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جو لوگ آسمانی علوم اور ان علوم جدیدہ کو آپس میں مخالف ثابت کرتے ہیں قرآن کریم ان لوگوں کو مخاطب کرنے کے قابل ہی نہیں سمجھتا اس لئے اس کے مخاطب وہ بالکل نہیں ہیں وہ اپنے آپ کو خواہ کچھ ہی نہیں سمجھتے ہوں ۔ تم خود غور کرو کہ آسمان و زمین کی تخلیق کو زیر غور لاؤ کیوں ؟ اس لئے کہ اس میں تمہارے لئے بہت سی نشانیاں موجود ہیں جب اس پر غور وفکر کرنے کی دعوت خود قرآن کریم دے تو کیا وہ ان غور کرنے والوں کو برا بھلا کہے گا یا ان کی تعریف کرے گا ، بلاشبہ جو اس کائنات کی ان دو سب سے بڑی مخلوقات میں غور وفکر کرنے گا تو جوں جوں غور کرنا چاہے گا توں توں اس کی راہیں کشادہ ہوتی جائیں گی اور اس کا ایمان بھی اتنا ہی بلند پایہ کا ہوتا جائے گا کیونکہ وہ ایمانی قوت سے خالی ہو کر نہیں چلا بلکہ یہ دولت اس کے پاس ہے اور جوں جوں اس کو صرف کرے گا یہ بڑھتی ہی چلی جائے گی کیونکہ یہ دولت ختم ہونے والی نہیں بلکہ بڑھنے والی ہے ، پھر جب انسان مختلف زبانوں اور مختلف رنگتوں میں غور کرے گا تو وہ یقینا اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے مختلف جگہوں میں اس پیدائش کو رکھا یہی وجہ ہے کہ ان کی بولیوں اور رنگتوں میں اس قدر فرق ہے اگر یہ تخلیق کسی ایک جگہ پر ہوتی تو ایسا یقینا نہ ہوتا لیکن قدرت کی کرشمہ سازی کہ باوجود اس علاقائی بعد کے سب کے اعضاء ترکیبی میں کوئی فرق نہ رکھا گیا ایک ہی طرح کے اعضاء اور ایک ہی طرح کے جذبات و احساسات ‘ ایک ہی طرح کی طلب وتڑپ لیکن اس کے باوجود اتنا واضح فرق کہ ایک کوئی زبان بولتا ہے اور دوسرا کوئی دوسری زبان استعمال کرتا ہے حالانکہ اس آلہ گفتگو میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہی حال انسان کے دوسرے اعضاء کا ہے ۔ آلہ سماعت ایک جیسا ‘ آلہ بینائی ایک جیسا اور اس کی ساری مشینری پر غور کرتے جاؤ گے تو ہر پرزے میں یکسانیت پاؤ گے اس کے باوجود جس اختلاف کا ذکر کیا گیا وہ اختلاف اپنی جگہ پر قائم ہے اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا ۔ اس مضمون کو جتنا پھیلائیں گے ، یہ تو پھیلتا ہی جائے گا اشارات ہم نے دیئے ہیں اپنی طرف سے ؟ ہرگز نہیں بلکہ قرآن کریم کے اشارات کے ضمن میں ذرا ان کو کھول دیا ہے اور اب تمہارا اپنا فرض ہے کہ ان کو جہاں تک کھول سکتے ہو کھولتے چلے جاؤ ‘ جوں جوں کھولو گے ایمان میں مضبوطی اور دل میں یقین پیدا ہوتا جائے گا ۔ اب ذرا اس نہج پر بھی غور کرو کہ قرآن کریم کی زبان اس جگہ عالم کن لوگوں کو قرار دیا گیا ہے ؟ ان لوگوں کو جو ساری زندگی ابواب الصرف اور کتاب النحو میبذی اور ان جیسی دوسری کتابوں سے ہوتے ہوتے قدوری ، کنز ‘ شامی ‘ درمختار ‘ رد المختار ‘ عالمگیری اور قاضی خاں پڑھتے پڑھاتے چلے آ رہے ہیں یا ان کو کو عالم کہا گیا ہے جو اس کائنات کی سب سے بڑی مخلوقات سے لے ہر ایک چیز پر غور وفکر کرتے ہوئے انسانی رنگتوں اور بولیوں میں غور وفکر کرتے ہیں اگر ایمان کی رتی آپ میں موجود ہے تو اس رتی بھر ایمان ہی کی روشنی میں بتا دو سنو قرآن کریم نے (آیت) ” ان فی ذلک لایت للعلمین “۔ بلاشبہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عالموں کے لئے (دانش مندوں کے لئے) گزشتہ آیت میں (یتفکرون) غوروفکر کرنے والے کہا تھا اور زیر نظر آیت میں عالمین کہا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اس کائنات میں غور وفکر اور اس کائنات کی ہرچیز میں تدبر کرتے ہیں حتی کہ انسانوں کی بولیوں اور رنگتوں کے اختلاف کے متعلق بھی سوچ وبچار کرتے اور کسی نتیجہ پر پہنچ کر دم لیتے ہیں کیا ہمارے دور کا موجودہ عالم ‘ مولوی ‘ مفتی اور مذہبی پیشوا اس کو تسلیم کرتا ہے ؟ اگر نہیں تو وہ اس کو تسلیم نہ کرکے قرآن کریم کی ان آیات اور ان جیسی بیشمار آیات کا عملی انکار کر رہا ہے یا نہیں ؟ کیا قرآن کریم کی آیات کا عملی انکار کرکے بھی کوئی مسلمان اور مومن رہ سکتا ہے ؟ بلاشبہ اوپر ذکر کئے گئے بھی علوم ہیں اور وہ بھی ایجاد کئے گئے ہیں کیا ان کو خالصتا مذہبی علوم کہا جاسکتا ہے لیکن افسوس کہ آج انہی علوم کو ہمارے علمائے گرامی قدر علوم مانتے ہیں باقی علوم کو علوم تسلیم کرنے ہی کے لئے وہ تیار نہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے حروف ابجاد ہی سے وہ ناواقف ہیں اور علماء کہلانے والے اپنی ناواقفی کو تسلیم کریں آخر کیوں ؟ اس لئے وہ سرے سے ان علوم ہی کا انکار کردیتے ہیں کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اس سے قرآن کریم کی ان آیات کا اقرار ہو یا انکار ان کی بلا سے ان کو تو اپنے علم کو بحال رکھنا ہے اور وہ اسی صورت بحال رہ سکتا ہے اور انہوں نے اس کو بحال رکھنے کی قسم کھائی ہے اور اس سے ان کی مذہبی حیثیت قائم ہے ‘ وہ مردوں کو ثواب پہنچانے کے ٹھیکہ دار ہیں جو رقم پیشہ ‘ کپڑے اور روٹی ان کو دو گے اس کا وہ ثواب تمہارے مردوں تک پہنچا دیں گے جو کسی غریب مسکین یتیم اور اسی قبیل کے دوسرے لوگوں کو دو گے وہ سب تمہارا اکارت جائے گا ان کا یہی فتوی ہے اور وہ اس فتوی کو بحال رکھنا چاہتے ہیں باقی کچھ رہے یا کچھ بھی نہ رہے ان کے پیٹ کا معاملہ حل کرو تو تم بھی اور تمہارے آباؤ و اجداد بھی سیدھے جنت میں اور اگر وہ بھوکے رہے تو تم دوزخ میں جلو گے صرف تم ہی نہیں تمہارے آباء و اجداد بھی ۔ اے ہمارے رب ! اس طبقہ سے ہماری غلو خلاصی کرا کہ انہوں نے ہم کو نہ ادھر کا چھوڑا ہے نہ ادھر کا تجھے تیری کبریائی کا واسطہ ہماری مدد فرما ‘ انکی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ تیری رحمت کے سوا اس سے چھوٹنے کی ہمارے لئے کوئی صورت نہیں ہے ۔
Ayah 30:23

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات کے وقت سونا اور دن کے وقت اس کا فضل تلاش کرنا ہے بلاشبہ اس میں (بھی) سننے والوں کے لیے نشانیاں موجود ہیں

اس نیند میں جو رات اور دن میں پوری کی جاتی ہے بھی نشانیاں ہیں : 23۔ قرآن کریم کی زبان کس قدر فطرت انسانی کا خیال رکھتی ہے اگر اس نے نیند کا تعلق سو بار رات سے جوڑا ہے تو ایک دو بار رات کے ساتھ دن کا نام بھی لے لیا گیا ہے کیونکہ انسان کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں اور حالات کے ساتھ ساتھ اس کو کچھ نہ کچھ ضرور بدلنا پڑتا ہے بلاشبہ اکثر وبیشتر انسانوں کی اکثریت رات کو سوتی اور دن کو معیشت کے لئے مصروف رہتی ہے لیکن بعض انسانوں کو مکمل طور پر رات کو دن اور دن کو رات بنانا پڑتا ہے لہذا وہ اپنی مجبوری کے باعث رات کو کماتے اور دن کو نیند پوری کرتے ہیں اس لئے رات کے ساتھ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے دن کا ذکر بھی کردیا ہے اور پھر بتایا کہ تمہارے لئے نیند میں کتنی بڑی نشانی ہے کہ جب تم تھک ہار کر سونے پر مجبور ہو کر سو جاتے ہو تو پھر تازہ دم ہو کر اپنے کام کاج میں مصروف ہوجاتے ہو اور یہ تازہ دم ہونا تو کسی ٹانک سے میسر نہیں آسکتا اور اسی طرح مفت میں سو کر اٹھتے ہی دوسرے روز کے لئے اپنے کام کاج میں مصروف ہوجاتے ہو بلاشبہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ہر بات کو بگوش ہوش سننے کے عادی ہیں اور وہ جانوروں کی طرح نہیں بلکہ صاحب عقل وفکر انسانوں کی طرح بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خیال رہے کہ بعض لوگ سن لینے کے بعد اور سمجھ لینے کے بعد عمل شروع کرتے ہیں اور بعض لوگ عمل کرتے رہتے ہیں اور بات کو کانوں سے سنتے بھی رہتے ہیں لیکن ان کے عمل میں اور سننے میں کوئی تعلق قائم نہیں ہوتا کیونکہ ان کا عمل ایک طے شدہ عمل ہوتا ہے جس کا تعلق سننے سے ہرگز نہیں ہوتا یہی وہ لوگ ہیں جو بگوش ہوش نہیں سنتے بلکہ ہر سنی ان سنی کردیتے ہیں اور کرتے وہی ہیں جو ان کو کرنا ہوتا ہے ۔ غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ بہت سے عمل کر کرکے تھک جانے والوں کا یہی حال ہے ۔ قرآن کریم کے نزول کے وقت بھی ایسے لوگ موجود تھے اور آج بھی ان کی کثرت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن پر سننے والے لوگوں کا اطلاق نہیں ہوتا ۔
Ayah 30:24

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم کو بجلی دکھاتا ہے خوف وامید دلانے کے لیے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے ، اس میں ان لوگوں کے لیے جو صاحب عقل ہیں (بڑی ہی) نشانیاں ہیں

نشانات الہی میں سے یہ بھی ہے کہ وہ آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے : 24۔ بادلوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ملنا اور اس ملنے سے کڑک وبرق کا پیدا ہونا روز مرہ کے مشاہدات میں سے ایک مشاہدہ ہے جس سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ بلاشبہ کڑک پہلے پیدا ہوتی ہے اور برق بعد میں لیکن دیکھنے والوں کو برق پہلے نظر آتی ہے اور کڑک بعد میں جس سے یہ اصول و قانون معلوم ہوگیا کہ برق کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہے اور اس ایک اصول و قانون نے انسان کے لئے کتنی ایجادات کی راہیں کھول دیں جو بلاشبہ انسانوں کے لئے مفید بھی ہیں اور مضر بھی اور یہ خوف اور طمع سے تعبیر کرکے بتا دیا کہ اس کا فائدہ اور ضرر ایک تو وقتی ہے کہ جو سب کو معلوم ہے کہ کبھی برق کڑک سے نقصان بھی ہوجاتا ہے اور بارش سے بلاشبہ انسان کو بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے اور کبھی اس سے نقصان بھی اور اس کے فائدے بہرحال مضرات سے بہت زیادہ ہیں اور پھر جب یہ بارش زمین پر گرتی ہے تو اس زمین کو جو بانجھ اور ناکارہ ہوچکی ہوتی ہے اور جس کو زمین کے مردہ ہونے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اس میں بھی انسانی زندگی کے لئے بیشمار فائدے ہیں جن کو اگر شمار کرنا چاہیں تو بھی نہیں کرسکتے اور اس میں عقل والوں کے لئے بہت سے مزید نشانات بھی ہیں کہ جس طرح بارش انسانی زندگی کے لئے اتنا کچھ انتظام رکھتا ہے کیا ممکن ہے کہ اس نے انسان کی روحانی زندگی کے لئے کوئی انتظام نہ کیا ہو بلاشبہ اس نے جس طرح انسان کی جسمانی زندگی کے لئے اس کائنات میں وافر انتظام موجود ہے لیکن انسان خود ایسا ظالم ہے کہ وہ اپنی روحانی زندگی کی طرف بہت ہی کم غور کرتا ہے زیادہ تر اس کی سوچ وبچار اس چند روزہ زندگی کے لئے ہے جو بلاشبہ بہت ہی عارضی اور وقتی چیز ہے ، اب دنیوی زندگی کے اس سروسامان پر جو ہر گھر میں موجود ہے اور ہر انسان اس کی تگ ودو میں جس قدر مصروف ہے اگر اس پر وہ خود ہی غور کرے تو اس کی عقل خود بخود اس نتیجہ پر پہنچ جاتی ہے کہ بلاشبہ وہ بہت بڑے گھاٹے اور خسارے میں ہے کہ عارضی زندگی کے لئے اتنی دوڑ دھوپ اور ابدی زندگی سے اس قدر تغافل اور یہ چیز ہر اس انسان میں بہت زیادہ ہے جو اس دنیا میں بڑا بنا بیٹھا ہے اور بلاریب جتنا ہی وہ بڑا ہے اتنا ہی زیادہ غافل ہے اگر اپنے ماحول میں ذرا غور کرو گے تو تم کو اس کا یقین آجائے گا کہ کتنی سچی بات ہے جو قرآن کریم نے واضح طور پر کہہ دی ہے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بھی اس کو خوف نہیں ہوا یہ بات اس وقت بھی تھی جب قرآن کریم نازل ہوا اور آج بھی موجود ہے بلکہ کثرت سے ہے اور اس غفلت کے پردے آج کل کے وڈیروں پر اس قدر پڑچکے ہیں کہ وہ انہیں پردوں کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں لیکن جو بات قرآن کریم نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دی آج ہمارے دور کا کوئی مذہبی پیشوا بھی کہنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ وہ خود انہی غافلوں کے مرہون منت ہیں اور انہی کو اپنا داتا مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اس لئے ان کے خلاف ان کی زبان نہیں کھل سکتی بلکہ ان غافلوں نے نہایت چالاکی کے ساتھ ان بڑے بڑے علمائے کرام سے ساز باز کر رکھی ہے کہ تم لوگ اپنا حصہ ہم سے وصول کرتے رہو اور ہماری اس غفلت کا ذکر نہ کرو اور اس کو قرآن کریم نے دوسری جگہ خسارہ پر خسارہ سے تعبیر کیا ہے اور علمائے کرام نے خواہ وہ کسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں اپنی اس پذیرائی کے باعث فتوی جاری کر رکھا ہے کہ ” دین کے معاملہ میں عقل کی ضرورت نہیں ہے “ اور اس ایک فقرہ نے ان کی ساری کارستانیاں ہضم کر کے رکھ دی ہیں لیکن قرآن کریم کی اس آیت پر غور کرو وہ کیا کہہ رہی ہے ؟ اس میں ارشاد ہے کہ : (آیت) ” ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون “۔ ” بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لئے جو صاحب عقل ہیں بڑی ہی نشانیاں ہیں ۔ “ کیا اس کا مفہوم یہ نکل سکتا ہے وہ ہیں تو صاحب عقل لیکن عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہین تو ان لوگوں نے یہ ” فتوی کہاں سے اخذ کیا ہے ‘ ؟ “ اگر کسی کی ہمت ہو تو وہ ان سے ذرا پوچھ لے اور ہم کو بھی آگاہ کردے کہ انہوں نے کیا جواب دیا ۔
Ayah 30:25

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے (یہ بھی ایک نشانی) ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب تم کو زمین سے ایک بار پکارے گا تو تم اسی وقت نکل پڑو گے

آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اسی کے حکم سے قائم ہے اور اسی کے حکم کا پابند : 25۔ آسمان کیا ہے ؟ وہی کچھ جو تم کو نظر آرہا ہے وہ حد نظر کا نام ہے لیکن اس فضا میں کتنی بڑی مخلوق اور بھی موجود ہے یہ اتنا بڑا سورج ‘ چاند اور ستارے وسیارے مختلف قسم کی گیسیں اور ہوائیں اور اس کثرت سے پانی کہ اس کی کثرت کا آج تک کوئی اندازہ ہی نہ لگا سکا یہ سب کچھ کس کے حکم سے قائم ہے اور اس پانی پر غور کرو کہ کس طرح اس کو اڑا دیا گیا ہے کہ وہ اس فضا میں ہوا بن کر اڑتا بھی اکثر اوقات نظر نہیں آتا بلاشبہ یہ کرہ زمین کسی نے کندھے پر انہیں اٹھا رکھا اور اس کی ہرچیز کس طرح اپنی اپنی جگہ قائم ہے اور ہزاروں لاکھوں برسوں سے قائم چلی آرہی ہے لیکن آج تک اس کی ایک جول بھی ڈھیلی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس میں کوئی شگاف پڑا ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ نے اس کو قائم رکھنا ہے اس وقت تک اس کو اسی طرح قائم رہنا ہے اور جب اس کے خاتمہ کا وقت آگیا تو بھی اس کو دیر نہیں لگے گی اور اس طرح جب وہ انسانوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گا تو اس میں کوئی مدت خرچ نہیں ہوگی بلکہ جب وہ چاہے گا تو تم کو اس زمین سے دوبارہ پیدا کر کے حاضر کرلے گا اور تم کو اس کے حکم سے نکل کھڑے ہونا ہوگا حالانکہ وہ سارے بڑے بننے والے بھی تم میں موجود ہوں گے اور تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو اس کے حکم سے سر پھیر سکے کیونکہ یہ اختیار کے مطابق عمل کرے بلکہ وہ زندگی دنیوی میں کئے گئے اعمال کے نتائج حاصل کرنے کے لئے ہوگی اور بلاشبہ تم میں سے ہر ایک اپنے عمل کا نتیجہ پائے گا ۔
Ayah 30:26

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے ، سب اس کے فرمانبردار ہیں

زمین وآسمان کی ہرچیز اس کے لئے آج بھی فرمانبردار ہے : 26۔ اس دنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جو اختیار دیا ہے تو وہ محض انسان کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ انسانوں ہی میں سے وہ انسان بھی ہیں جو نافرمانیوں پر نافرمانیاں کئے چلے جا رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اختیار ہے ورنہ انسان کے سوا اس پوری کائنات کے اندر ایک مخلوق بھی ایسی نہیں جو ایک ذرہ برابر اختیار رکھتی ہو اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوجائے یا اس کے حکم کے خلاف کوئی قدم بھی اٹھائے ، رات کو آرام کے ساتھ بستر پر لیٹ جاؤ جس پر اب لیٹنے کی عادت ہی آپ کو نہیں رہی کہ زمانہ کی غفلت اس وقت تم کو بستر کے قریب جانے دیتی ہے جب بستر پر لیٹ کر تم نیند میں گم ہوجاؤ ورنہ یہ وہ نسخہ ہے جس نسخہ سے انسان کو کلی صحت حاصل ہو سکتی ہے کہ آدمی بستر پر لیٹ جائے اور کسی ایک بڑی سے بڑی چیز کو اور چاہے تو چھوٹی سے چھوٹی چیز کو اپنے سامنے حاضر کرکے غور وفکر شروع کر دے یقینا کسی ایک کو بھی تم نہیں ثابت کرسکتے کہ وہ سرمو بھی اس کے حکم سے سرک جائے ‘ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اس کائنات کی کسی چیز کو اختیار نہیں بخشا اسی لئے اس کائنات میں کسی ایک چیز کو بھی مکلف نہیں قرار دیا گیا سوائے انسان کے کیونکہ اختیار اس کے پاس ہے اور اس کے سوا کسی کے پاس بھی نہیں ہے اس لئے ضروری تھا کہ جس کے پاس اختیار ہے وہ اپنے اختیار کے مطابق مکلف ٹھہرے اور بلاشبہ وہی مکلف قرار دیا گیا ۔
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند وبالا ہے اور وہی بڑا غلبہ والا حکمت والا ہے

پہلی بار پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور دوبارہ لوٹانے والا بھی وہی ہے : 27۔ پہلی پیدائش کون سی ہے ؟ وہی جس میں والدہ ‘ والد اور ولد کی کوئی بحث نہیں بلکہ وہ ایک مخلوق تھی جس کو انسان اول کہا گیا وہ جتنی بھی تھی اور جہاں بھی تھی ۔ اس کے بعد وہ مخلوق آئی جس میں مخلوق ہونے کے ساتھ ساتھ والد ‘ والدہ اور ولد کی بحث پیدا ہوگئی جو اس وقت تک جاری وساری ہے اور رہتی دنیا تک رہے گی یہ سب مخلوق اللہ تعالیٰ ہی کی ہے لیکن ضابطہ کے مطابق ان میں سے کسی ایک کا نام آجائے تو دوسرے کا وجود خود بخود لازم آتا ہے مثلا کسی شخص کے متعلق آپ کو علم ہے کہ وہ والد ہے تو اس کے والد ہونے سے لازم آتا ہے کہ کوئی اس کا ولد موجود ہو اور اس طرح اگر ولد موجود ہے تو یقینا کوئی نہ کوئی اس کی والدہ بھی ہے اور والد بھی گویا تینوں لازم وملزوم ہیں جب ایک کا نام آگیا تو دوسرے خود بخود لازم ہوگئے اب مخلوق کے لحاظ سے پیدائش اول بھی مخلوق اور موجودہ پیدائش بھی مخلوق ہی ہے لیکن ایک نہ ایک دن یقینا اس سلسلہ کو بھی ختم ہونا ہے کیونکہ دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے کہ جس کا ایک سرا موجود ہو اور دوسرا نہ ہو پوری دنیا کے خاتمہ کے بعد تیسری پیدائش یعنی مخلوق ہوگی تو اس پر بعض انسانوں کو تعجب ہوتا ہے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے حالانکہ وہ اگر ذرا غور کرتے تو ان کی سمجھ میں بات آسکتی تھی کہ پہلی پیدائش کے بعد دوسری پیدائش تو پہلی سے بلاشبہ بہت آسان ہے پھر اس سے انکار کیوں ؟ تعجب ہے کہ پہلی پیدائش جو عام عقل انسانی کے لحاظ سے ایک مشکل امر ہے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی مشکل بات نہ تھی تاہم اس کی مثل یعنی دوبارہ پیدا کرنا تو پیدائش اول سے ہر لحاظ سے آسان ہے اس آسان سے انکار کوئی صاحب عقل بھی نہیں کرسکتا مگر جو خود بیوقوف اور ضدی ہو اور وہ محض اپنی بیوقوفی اور ضد کے باعث انکار کرتا رہے تو دوسری بات ہے حالانکہ اس آسمان وزمنت اور اس کے مابین جو کچھ ہے اس میں سب سے بلند ذات اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کی ہے جس کی مثال اتنی اعلی اور اتنی بلند ہے کہ اس کی مثال کسی چیز سے بھی نہیں دی جاسکتی اور وہی سب پر غالب اور سب سے زیادہ حکمت والا ہے تم تو اس کی مثال نہیں دے سکتے ہاں ! بلاشبہ وہ تمہارے لئے مثال پیش کرسکتا ہے تاکہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے بشرطیکہ تم سمجھنا بھی چاہتے ہو ۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

تمہارے لیے تمہارے (روز مرہ کے) حالات میں سے ایک مثال بیان کی جاتی ہے (تم بتاؤ ) کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی تمہارا اس مال و دولت میں شریک ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے (حالانکہ) تم سب اس میں برابر کے شریک ہو ، کیا تم ان (لونڈی غلاموں) سے ڈرتے ہو جیسے تم اپنوں سے ڈرتے ہو ، اس طرح ہم نشانیاں کھول کر ان لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

اللہ تم کو تمہاری ذات ہی سے ایک مثال دیتا ہے تم عقل کے ناخن لے کر اسے سن لو : 28۔ غور کرو کہ ایک آقا ہے اور ایک اس کا غلام ! کیا دونوں کا تعلق ایک جنس سے نہیں ؟ بلاشبہ دونوں کی جنس ایک ہے حالات زمانہ نے دونوں میں کتنا بڑا فرق کردیا ہے اور یہ فرق ضروری نہیں کہ غلام اور آقا ہی میں ہو بلکہ ہر ایک صاحب ملکیت اور اس کے ملازم کے درمیان موجود ہے ۔ ایک دکان ‘ فیکٹری اور ادارہ کا مالک ہے اور دوسرا اس دکان ‘ فیکٹری ادارہ میں ملازم ‘ دونوں کے حالات واحوال برابر نہیں ہو سکتے کہ دکان ‘ فیکٹری اور ادارہ میں کتنا نفع ہوتا ہے یا کتنا نقصان ملازم کو اس کی کوئی فکر نہیں اور نہ ملازم اس میں شریک ہے اور نہ ہی کبھی مالک کو اس ملازم سے شرکت کا خطرہ لاحق ہوا ہے حالانکہ کام کے لحاظ سے ملازم زیادہ ہمت و طاقت صرف کر رہا ہے اور اس کی توانائی زیادہ خرچ ہو رہی ہے لیکن آقا کو غلام سے مالک کو ملازم سے ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں لیکن اس کے ساتھ تمہاری جنس کا ایک آدمی اگر تمہارے ساتھ اس کام میں اس دکان میں ‘ اس فیکٹری میں اور ادارہ میں اگر شریک ہو تو کیا اس کی طرف سے بھی تم کو کوئی خطرہ اور کوئی ڈر لاحق نہیں ؟ کیوں نہیں ضرور ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تمہارا شریک کاروبار ہے ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے سب بندے اور غلام ہیں اس کائنات میں کوئی شریک نہیں اور کسی کی طرف سے اس کو کوئی خطرہ لاحق نہیں لیکن تف ہے تم پر کہ تم نے اس کے شریک گھڑے ‘ ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنایا تم جب کہ اپنے شریک کی ذات جو ہر طرح کے شرک سے پاک اور جو کچھ آسمانوں ‘ زمین اور ان کے مابین ہے سب اس کا ہے اس میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو تو تم ہی غور کرو کہ کیا تم سے زیادہ ظالم بھی کوئی ہو سکتا ہے ، پھر تمہاری جنس تمہاری اصلیت سے موجود ہے کہ تم کس طرح کی رشتہ داریوں میں جکڑے ہوئے ہو کوئی تمہارا بھائی ہے ‘ کوئی باپ اور کوئی بیٹا لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات تو ان سارے رشتہ داریوں سے بھی پاک ہے ‘ نہ اس کا کوئی باپ ہے ‘ نہ بھائی اور نہ بیٹا کہ اس کا کوئی ہم جنس ہو ہرگز نہیں اور کوئی اس کا ہم جنس نہیں لیکن اس کے باوجود تم اس کی مخلوق میں سے اس کے شریک بنانا شروع کردیتے ہو کیا تم نے خالق حقیقی کو اپنے جیسی مخلوق سمجھ لیا ہے تف ہے تم پر کہ کتنے عقل کے کورے ہو تم حالانکہ ہم تو اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں اور کوئی بات بھی ہم نے مبہم نہیں چھوڑی تاہم ہماری نشانیاں انہیں لوگوں کے لئے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں اور تم کو یہ بات کس نے کہہ دی کہ دین کو عقل سے نہیں پڑھا جاسکتا اور یہ کہ دین میں عقل کو کوئی دخل نہیں بلاشبہ وہ خود جاہل ہیں جو اپنی اس جہالت کو پھیلا رہے ہیں اگرچہ تم ان کو عالم سمجھتے ہو اور وہ خود اپنے آپ کو حضرت العلام سمجھتے ہیں ۔
Ayah 30:29

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ اس کے باوجود ظالم اپنی خواہشوں پر بغیر سمجھے بوجھے چلے جاتے ہیں ، پھر جس کو اللہ گمراہ کر دے اسے کون راہ دکھا سکتا ہے ؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ہو گا)

بلاشبہ ایسا کہنے والے اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور علم ان کے پاس نہیں ہے : 29۔ ایک صاف اور سیدھی بات کو بھی اگر کوئی عقل وفکر سے سمجھنے کی کوشش نہ کرے بلکہ عقل کو قریب بھی نہ بھٹکنے دے ‘ نہ خود سمجھے اور نہ ہی کسی کے سمجھانے سے سمجھنے کے لئے تیار ہو تو اس کی عقل پر بلاشبہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اپنے قانون کے مطابق مہر لگا دیتا ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ضد اور جہالت پر اڑ جاتا ہے اور کوئی معقول بات بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کو اس کی ضد اور ہٹ دھرمی سمجھنے دیتی ہے بلاشبہ وہ گمراہ ہوجاتا ہے اور گمراہ آدمی ظاہر ہے کہ گمراہی کو ہی پسند کرے گا ہدایت کی بات تو اس کو اسی طرح محسوس ہوگی جس طرح زخم پر نمک محسوس ہوتا ہے اور جلتی پر تیل ۔ ذرا غور کرو کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اپنے قانون کے مطابق جس کو گمراہ کر دے کون ہے جو اس کو سیدھی راہ دکھا سکے بلاشبہ وہ تو گمراہی میں بڑھتا چلا جائے گا اور اس طرح وہ جو قدم بھی اٹھائے گا حق سے اتنا ہی دور ہوتا چلا جائے گا اور کوئی بھی ایسی شخص کا حامی و مددگار نہیں ہوگا ۔
Ayah 30:30

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پس تو (اے پیغمبر اسلام ! ) اس دین حنیف کی طرف اپنا رخ کرلے اللہ کی اس فطرت پر جس پر اس نے اپنے بندوں کو بنایا ہے (قائم رکھ) اللہ اپنے بنائے ہوئے قوانین کو بدلا نہیں کرتا یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ دین فطرت پر جم جاؤ یہی دین کی اصل اعظم ہے : 30۔ دین حنیف کیا ہے ؟ وہی جس کو ملت ابراہیم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جس کی تعلیم ہی یہ ہے کہ سارے انسان ایک ہی جنس کے مختلف افراد ہیں ان میں سے خواہ کوئی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ معبود نہیں ہو سکتا اور نہ ہی خالق ہو سکتا ہے اور اسی طرح کوئی مطاع حقیقی بھی نہیں ہو سکتا یہی انسانی فطرت ہے اور اس فطرت پر اس کو قائم رہنا چاہئے اگر وہ کلی طور پر خود مختاری کا رویہ اختیار کرے گا تو گمراہ ہوگا اور اگر وہ بندگی غیر کا طوق اپنے گلے میں لٹکائے گا تو بھی اپنی فطرت کے خلاف کام کرے گا ۔ اس مضمون کو ہمارے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ نے ہماری تفہیم کے لئے اس طرح بیان فرمایا کہ ” ہر بچہ جو کسی بھی ماں کے بطن سے پیدا ہوتا ہے اصل فطرت انسانی پر پیدا ہوتا ہے لیکن یہ اس ماں ‘ باپ کا کارنامہ ہے کہ اس کے بعد تعلیم وتربیت اور روز مرہ زندگی کے گزارنے کے طریقوں سے اگر وہ یہودی ہے یہودی ‘ اگر وہ عیسائی ہے تو عیسائی اور اگر وہ مجوسی ہیں تو مجوسی بنا دیتے ہیں اور اگر وہ مسلمان ہیں تو مسلمان بنا دیتے ہیں اور بچہ اپنے ماں باپ کی گود پرورش سے وہ عادت واطوار سیکھ لیتا ہے جو وہ اپنائے ہوتے ہیں اور اس نے بڑا ہو کر بھی کبھی غور وفکر نہیں کیا “ بلکہ وہ اپنی جہالت پر بدستور قائم رہتا ہے اور قائم رہنا چاہتا ہے ، حالانکہ اس کے لئے حکم تو یہ تھا کہ وہ اپنا رخ پورے کا پورا دین فطرت یعنی اسلام کی طرف موڑ دے اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنا بندہ بنایا ہے اور اپنی ہی بندگی کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ ساخت کسی حال میں بھی نہیں بدلنی چاہئے نہ انسان بندہ سے غیر بندہ بن سکتا ہے اور نہ ہی کسی غیر اللہ کو اللہ بنایا جاسکتا ہے ہاں ! اگر کوئی ایسا کرے بھی تو بلاشبہ یہ نہیں ہو سکتا لیکن ایسا کرنے والے نے تو بہرحال جرم کردیا ۔ انسان مانے یا نہ مانے وہ تسلیم کرے یا نہ کرے نہ تو وہ اللہ کی بندگی سے نکل سکتا ہے اور نہ ہی کسی غیر اللہ کو معبود بنانے سے وہ معبود بن جاتا ہے ہاں ! اس نے جو ایسی بات کہی تو چونکہ سراسر جہالت اور حماقت کی کہی اس لئے اس کو اس کی جہالت کی سزا ملنا بھی ضروری ہے اگر اس کو اس جگہ کسی خاص مصلحت کے تحت ڈھیل دی گئی ہے تو لازم ہے کہ وہ آخری اور ابدی زندگی میں اس کا بدلہ پائے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا کردیا جائے ۔ ” اللہ اپنے بنائے ہوئے قوانین کو بدلا نہیں کرتا ۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ دین عقل سلیم سے کلیۃ ہم آہنگ اور فہم صحیح کے عین مطابق ہے اس لئے فطری طور پر انسان نہ اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور نہ اس کا انکار کرسکتا ہے اور یہ بھی کہ انسانی فطرت کے جتنے تقاضے ہیں خواہ وہ جنسی ہوں ‘ معاشی ہوں ‘ اخلاقی ہوں ‘ عقلی ہوں یا روحانی یہ دین ہر قسم کے تقاضوں کو صحت مندانہ انداز میں پورا کرتا ہے جس کے باعث زندگی کا دامن مسرت کے پھولوں سے بھر جاتا ہے اور اسی طرح یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کو زمین پر اس کی خلافت کے منصب جلیلہ کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے جو صلاحتیں اور استعدادیں اس کو ودیعت کی گئی ہیں ان کی صحیح نشو ونما کا اہتمام صرف یہی دین کرتا ہے ۔ ” یہ سیدھا دین ہے ۔ “ بلاشبہ دین اسلام نے جو نظام حیات ہمیں دیا ہے وہ ہماری فطرت کے عین مطابق ہے اگر تم چاہو کہ اس نظام فطرت کو چھوڑ کر کوئی دوسرا نظام حیات تجویز کرلو جو اسلام کی طرح تمہاری فطرت کے عین مطابق ہو تو ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ دین ایسا ہے کہ جس میں ذرا بھی کجی مجوجود نہیں ہے ” لیکن اس حقیقت کو لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی “ شاید وہ دین اسلام کو بھی رسم و رواج کا ایک خود ساختہ پلندہ سمجھتے ہوں حالانکہ یہ وہ بات ہے جس میں صداقت کا نام ونشان بھی موجود نہیں ہے بلکہ یہ تو ان کی زبردست بھول ہے اور جاہل جب بھی بات کرے گا تو جہالت ہی کی کرے گا ۔ مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی میں سورة الانعام کی آیت 14 ‘ سورة یوسف کی آیت 101 ‘ سورة ابراہیم کی آیت 10 کی تفسری دیکھیں ۔
Ayah 30:31

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

(اللہ کے بندو ! ) اس کی طرف رجوع رہا کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز قائم رکھو اور شرک کرنے والوں سے مت ہو جاؤ

اللہ کی طرف رجوع کرو اور نماز قائم کرو اور شرک مت کرو : 31۔ ” اللہ کی طرف رجوع کرو “ خود سر اور خود مختار بن کر زندگی نہ گزارو کیونکہ اس طرح تم مالک حقیقی سے انحراف کرجاؤ گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس دنیا میں بھی خائب و خاسر ہو گے اور آخرت بھی تمہاری برباد ہوجائے گی ” اس سے ڈرتے رہو “ اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اللہ کے سامنے اپنی خود مختاری کا اعلان نہ کرو بلکہ اللہ کی بندگی اختیار کرو کیونکہ یہی اللہ سے ڈرنا ہے معلوم ہوا کہ جو شرک کا مرتکب ہوتا ہے اگر وہ اللہ کی بندگی کرتا بھی ہو تو اس کا یقینا کوئی اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ شرک اور اسلام دونوں اکٹھے نہیں چل سکتے ” نماز کو قائم کرو “ کیونکہ اللہ کی طرف رجوع کرنا اور اللہ کا تقوی اختیار کرنا دونوں باتیں ہی قلب کا فعل ہیں لہذا اس قلبی فعل کے ظہور کی اصل حقیقت اسلام کی نگاہ میں صلوۃ موقت ہے جو ایک دن رات میں پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اور جس کے ادا کرنے کے لئے ایک خاص طرح کا اہتمام بھی لازم اور ضروری ہے اور پھر یہ اسلامی پریڈ ساری زندگی جاری رہتی ہے تاکہ اس سلسلہ میں غفلت نہ ہو اور اس کا مسلسل جاری رہنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ نماز ادا کرنے والا مشرکوں میں سے نہ ہو کیونکہ مشرک کی نماز کوئی نماز نہیں کیونکہ نماز کا حاصل برائیوں سے بچنا ہے اور شرک ساری برائیوں کی ماں ہے مشرک کتنا بھی نمازی ہو لیکن وہ اپنے شرک کے باعث نماز کے ادا کرنے کے باوجود نماز کے اجر کا مستحق قرار نہیں پائے گا ۔
Ayah 30:32

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہ گروہ ہوگئے کہ (ایک جماعت سے متعدد جماعتوں میں تقسیم ہوگئے) ہر فرقہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے

گروہ بندی میں تقسیم ہوجانا بھی شرک ہے اور ایسا شرک ہے جس کی اصلاح ممکن نہیں : 32۔ عام طور پر لوگ بتوں کی پرستش کو شرک سمجھتے ہیں اور علاوہ ازیں وہ کسی چیز کو شرک نہیں سمجھتے یہاں تک کہ غیر اللہ کو پکارتے ہیں ‘ ان کے نام کے وظیفے پڑھتے ہیں ‘ ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ سجدہ سلام مانتے اور کرتے ہیں ‘ غیر اللہ کی نذر ونیاز دیتے ہیں اور اس کو تبرک سمجھ کر سب میں تقسیم کرتے ہیں حالانکہ یہ سارے کام ہی کھلا شرک ہیں ‘ جن کے شرک ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہیں رہتا لیکن اس کی وضاحت یہاں درکار نہیں کیونکہ اس کی وضاحت بیسیوں مقامات پر پیچھے گزر چکی ہے اس جگہ ایک خاص قسم کے شرک کا بیان ہے جو اس زمانہ میں سارے شرکوں سے بڑھ کر ہے اور اس کے باوجود اس شرک میں بڑے بڑے توحید کے دعویدار بھی برابر کے شریک ہیں بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اول نمبر میں شمار ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم نے نہایت واضح اور صاف غیر مبہم الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ ” تم ان مشرکوں میں مت شریک ہوجاؤ جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا اور وہ گروہوں میں بٹ گئے ، دین فطرت تو آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر کہ وہ پیدائش اول تسلیم کئے گئے ہیں محمد رسول اللہ ﷺ تک سارے نبیوں اور رسولوں کا دین اسلام ہی تھا اور اس دین کی طرف انہوں نے اپنی اپنی قوم کو دعوت دی تھی لیکن لوگوں نے اس دین پر اکتفا نہ کیا اور نئے نئے نام رکھ لئے اور پھر ان ناموں کے اندر ایک گروہ نہیں بلکہ بیسیوں سے بھی متجاوز گروہ بن کر رہ گئے مسلمان یا اہل اسلام اس پہلے دین کی زندہ وجاوید تصویر بن گئے تھے اور ان کی زندگیوں نے اسلام کی سچی تصویر لوگوں کے دلوں میں پیوست کردی اور چونکہ نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو خصوصی ہدایت دی گئی تھی اے پیغمبر اسلام ! ﷺ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور الگ الگ گروہ بن گئے تمہیں ان سے کچھ سروکار نہیں (تمہاری راہ دین حقیقی کی راہ ہے نہ لوگوں کی بنائی ہوئی گروہ بندیوں کی) ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے پھر وہی بتلائے گا کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کی حقتقگ کیا تھی ۔ “ (الانعام 6 : 159) اس لئے وہ سارے گروہوں سے الگ تھلگ فقط اسلام کے نام کی طرف اپنی نسبت کرتے تھے لیکن مرود زمانہ نے وہی گزشتہ امتوں کا واضح اور کھلا شرک مسلمانوں میں بھی پھیلا دیا اور وہ بیسیوں جماعتوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے اس پر طرہ یہ کہ جس کو کوئی بات کہی وہ علامہ بن کر فورا جواب دے گا دیکھو رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی موجود ہے کہ یہود ونصاری 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے اور مسلمان 73 فرقوں میں تقسیم ہوں گے اس لئے اب ان فرقوں کو تو ہونا ہی ہونا ہے حالانکہ یہ تفہیم کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے ۔ بات تو یہ تھی کہ نبی کریم ﷺ نے نفی بطریق اثبات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا گزشتہ قوموں نے یہ حرکت کی وہ 72 فرقوں میں تقسیم ہوگئے تو کیا تم ان کے بھی کان کاٹ کر 73 فرقوں میں تقسیم ہوجاؤ گے اور آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ دین اسلام پر قائم رہنا چاہئے لیکن یاروں نے اس کو پیش گوئی سمجھ کر تقسیم در تقسیم کرنا شروع کردیا اور 73 سے بھی متجاوز گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور پھر خوش کے خوش بھی رہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی پیش گوئی کو پورا کرنے میں اپنا حصہ ڈال دیا ۔ ان للہ وانا الیہ راجعون ۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ان مذہبی گروہ بندیوں میں تقسیم ہونا سارے شرکوں سے بڑا شرک تھا اور اس وقت بدقسمتی سے مسلمان کتنے ہی فرقوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں حالانکہ اس چیز سے قرآن کریم کی زیر نظر آیت نے منع کیا تھا اس کو واضح الفاظ میں شرک قرار دیا تھا اور اس جیسی آیات کریمات پیچھے سورة الانعام 159 ‘ سورة النساء کی آیت 150 ‘ 152 ‘ سورة آل عمران کی آیت 103 ‘ 105 ‘ سورة التوبہ کی آیت 107 میں پوری وضاحت گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ قوم مسلم بلاشبہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئی اور پھر ہر گروہ اپنے اپنے حالات میں اس طرح مگن ہے کہ ہر ایک کا دعوی اپنی اپنی جگہ حق پر ہونے کا ہے اور ان میں سے ایک بھی ایسا گروہ اپنے اپنے حالات میں اس طرح مگن ہے کہ ہر ایک کا دعوی اپنی اپنی جگہ حق پر ہونے کا ہے اور ان میں سے ایک بھی ایسا گروہ نہیں جو اس صورت حال پر کم از کم افسوس ہی کرتا نظر آتا ہو بلکہ ہر ایک گروہ اپنے علاوہ باقی سب کو گمراہ تصور کرتا ہے بلکہ ہر ایک گروہ کے ترجمان اپنا اپنا فرض پورا کر رہے ہیں کہ ہم ہی حق پر ہیں اور باقی سب گمراہ ہیں اور یہی بات قرآن کریم کہہ رہا ہے کہ ” ہر فرقہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے ۔ “
Ayah 30:33

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہو کر اس کو پکارنے لگتے ہیں اور جب وہ اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

اپنی تکلیف کے وقت رجوع الی اللہ اور رحمت الہی کے وقت شرک باللہ : 33۔ آج کی بات نہیں بلکہ گزشتہ ساری قوموں میں یہ بات مشترک چلی آرہی ہے کہ جب کوئی انسان ‘ گروہ ‘ جماعت یا پارٹی تکلیف میں مبتلا ہوتی ہے تو جس قدر اس کو زیادہ سے زیادہ تکلیف پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتی ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اپنا فضل کردیتا ہے اور اس انسان ‘ گروہ ‘ جماعت یا پارٹی کا دکھ دور کردیتا ہے اور اپنی رحمت کے سایہ میں اس کو لے لیتا ہے تو اچانک پتہ اس وقت چلتا ہے کہ وہی انسان گروہ ‘ جماعت یا پارٹی اپنے پروردگار کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتی ہے ۔ اس کی صورت پہلے بھی یہی رہی اور آج بھی یہی ہے کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ دوسرے معبودوں کی نذریں اور نیازیں چڑھانا شروع کردیتی ہے اور کہا جانے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں حضرت کے طفیل اور فلاں بزرگ کے صدقے ہم سے ٹل گئی ہے اور معا یہ پتہ چلتا ہے کہ جونہی ذرا رزق کی فراوانی آئی تو کسی نہ کسی دربار اور خانقاہ پر گھڑولی چڑھانا شروع کردی اور پھر شیطان کے نرغے میں آکر وہ سب کچھ کر ڈالا جو شیطان نے سکھایا اور جس کی طرف اس نے راہنمائی کی ۔
Ayah 30:34

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں ، پس (اے کافرو ! ) مزے اڑا لو پھر تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

اچھا وہ فائدہ اٹھالیں عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اس کفر کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ ۔ 34۔ یہ روش وہ لوگ کیوں اختیار کرتے ہیں ؟ فرمایا اس لئے یہ روش اختیار کرتے ہیں تاکہ ہم یعنی اللہ تعالیٰ نے جو قوت عطا فرما کر ان پر انعام و احسان فرمایا ہے تاکہ اس کی ناقدری اور ناشکری کریں ، اچھا چند روز مزے اڑا لیں آخر کار اپنے کئے کا انجام جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا اس دنیوی زندگی میں جو ان کو ڈھیل دی گئی ہے اس کی مدت پوری ہونے کی دیر ہے کہ ان کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا اور بلاشبہ وہ امن کا زمانہ افسوس کے ساتھ یاد کریں گے اگرچہ اس افسوس کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔
Ayah 30:35

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل اتاری ہے جو انہیں شرک کرنے کو کہہ رہی ہے

کیا اس شرک پر وہ کوئی دلیل بھی رکھتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں : 35۔ یہ سوال اگر اس وقت کفار مکہ یا مشرکین مکہ سے کیا گیا ہے کہ کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل اتاری ہے جو انہیں شرک کرنے کو کہہ رہی ہے ؟ تو یہ سوال بدستور آج بھی موجود ہے جو فی زماننا شرک کرتے چلے جا رہا ہے بلکہ اس شرک کا نام انہوں نے اسلام رکھ دیا ہے اور اس اسلامی شرک میں وہ مبتلا ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ نہ تو اس کی کوئی دلیل اس وقت مشرکین کے پاس تھی اور نہ ہی کوئی دلیل آج کے مشرکوں کے پاس ہے جس میں وہ آج مبتلا ہیں کہ بلائیں اللہ تعالیٰ نہیں ٹالتا بلکہ علی ہجویری (رح) ‘ عبدالقادر جیلانی (رح) ‘ صابر کلیری (رح) ‘ مجدد الف ثانی (رح) ‘ شہباز قلندر (رح) عبدالطیف بھٹائی ‘ (رح) مہر علی شاہ ‘ (رح) پیرے شاہ قلندر (رح) ‘ سلطان باہو (رح) ‘ شاہ دولہ (رح) ‘ اور کا واں والی سرکار ٹالتے ہیں ؟ کیا عقل اس کی شہادت دیتی ہے یا کسی الہی کتاب میں کوئی اس کی دلیل لکھی گئی تھی جو ان کے ہاتھ لگ گئی ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ ان کے خیال و گمان ہی کی کارستانیاں ہیں جن میں یہ مبتلا نظر آرہے ہیں اور آج قوم مسلم کے جتنے و ڈیرے ہیں سب اس شرک میں مبتلا ہیں اور اس کے گرویدہ ہیں اور پھر ان کی دیکھا دیکھی پوری قوم اس میں ڈوب چکی ہے مگر ہاں جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو اور وہ اس لعنت سے بچ نکلا ۔
Ayah 30:36

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھائیں تو پھولے نہیں سماتے اور اگر انہیں خود اپنے اعمال کی پاداش میں تکلیف پہنچے تو بس (اُسی وقت) آس توڑ بیٹھتے ہیں

رحمت پہنچتی ہے تو پھولے نہیں سماتے اعمال کی پاداش آتی ہے تو آس توڑ دیتے ہیں : 36۔ گویا انسان کی حالت بھی بڑی ہی عجیب و غریب ہے کہ جہالت وحماقت اور ناشکری ونمک حرامی پر آتا ہے تو اسی حالت میں مست ہوجاتا ہے ، اس کو دولت ‘ طاقت اور عزت نصیب ہوجاتی ہے اور کام خوب چل نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کبھی اس کو یاد بھی نہیں آیا اور اپنی حالت میں مگن ہوجاتا ہے لیکن جونہی اس کے اقبال نے مونہہ موڑا تو اس کی زبان تالو سے لگ گئی اور ہمت جواب دے گئی اور اس کی بدنصیبی کی ایک ہی چوٹ نے اس کا سارے کا سارا نشہ ہرن کردیا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا حالانکہ جو کچھ اس کو پیش آیا اس کے اپنے ہی کئے کا نتیجہ تھا اس کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا گیا لیکن اس کی حالت اتنی جلدی بدلی کہ یہ آس وامید کی ڈور ہی توڑ بیٹھا اور اب نہ اس کروٹ چین ہے اور نہ اس کروٹ۔
Ayah 30:37

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے ، بلاشبہ اس میں ایمان والوں کے لیے (بڑی ہی) نشانیاں ہیں

کیا انہوں نے دیکھا ہی نہیں کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کے قانون کے مطابق ہے : 37۔ رزق کی کشادگی اور تنگی کا تعلق انسان کے نیک وبد ہونے سے نہیں ہے اس کے لئے مشیت خداوندی کا قانون طے ہے اور اس قانون کے مطابق سلسلہ جاری وساری ہے اس کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 26 جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 30 ‘ جلد ششم سورة القصص کی آیت 82 ‘ جلد ہذا سورة العنکبوت کی آیت 62 میں کرچکے ہیں اس لئے محولہ حوالوں کی طرف رجوع کریں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس میں بلاشبہ نشانیاں موجود ہیں لیکن کن لوگوں کے لئے ؟ قرآن کریم کہتا ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔ ان لوگوں کے لئے جو توبہ کرتے ہیں ‘ ان لوگوں کے لئے جو غور وفکر کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ۔
Ayah 30:38

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پس (اے مسلم ! ) تو قرابت دار کو اس کا حق دیا کر اور مسکینوں اور مسافروں کو بھی ، یہ بات ان لوگوں کے حق میں بہت بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ (صحیح معنوں میں) فلاح پانے والے ہیں

حقوق العباد کو ادا کرنا نہایت ضروری ہے اور رضائے الہی کی تلاش بھی : 38۔ حقوق العباد میں سے اس جگہ قرابت داروں کے حقوق ‘ مسکینوں اور مسافروں کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی تلاش کو نہایت مستحسن نگاہ سے دیکھا جانے کا ذکر ہے اور آیت کے اخیر میں وضاحت کردی ہے کہ جو لوگ ان حقوق کو ادا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے متلاشی رہتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں فلاں پانے والے ہیں ۔ اسلام میں حقوق العباد کا تعلق انسان کی اخلاقی تعلیمات سے ہے اور ان اخلاقی حقوق کو اسلام نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ‘ حقوق ‘ فضائل ورذائل اور آداب ۔ اسلامی تعلیمات میں ہر انسان پر دوسرے انسانوں کے حقوق ہیں بلکہ انسانوں سے بڑھ کر حیوانوں تک کے لئے حقوق کی نشاندہی کی گئی ہے اور ہر انسان کو اپنے امکان پر ادا کرنا ضروری ہے بلاشبہ یہ حقوق وفرائض اسلامی اخلاق کی پہلی ہی قسم میں ان کو رکھا گیا ہے ۔ ہم ان حقوق وفرائض کی وضاحت پیچھے عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 83 ‘ آیت 177 ‘ آیت 215 ‘ جلد دوم ‘ سورة النساء کی آیت 36 ‘ جلد پنچم سورة النحل کی آیت 90 ‘ سورة الاسراء کی آیت 26 جلد ششم میں سورة النور کی آیت 22 میں کردی ہے اس لئے آپ محولہ بالاحوالوں کی طرف رجوع کرکے تفصیل معلوم کرسکتے ہیں ۔ اس جگہ اتنی مزید گزارش یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم نے بار بار ان کو حقوق میں شامل کیا اور حق وہ شے ہے جس کے ادا کرنے میں بلاشبہ اجر ملتا ہے لیکن اس کے ادا نہ کرنے میں اس کا وبال بھی لازم آتا ہے اس لئے اس کو ایسا صدقہ اور خیرات نہیں سمجھا جاسکتا جو دینے سے انسان اجر کا مستحق ہو لیکن نہ دینے سے کوئی گناہ بھی لازم نہ آئے بشرطیکہ وہ صدقہ و خیرات نفلی ہو فرائض تو پھر اس حق کے اندر آگئے اس لئے اس سلسلہ میں اپنے قرابت داروں ‘ غریبوں اور مسکینوں کو جو کچھ دیا جائے ان کا حق سمجھ کردیا جائے نہ یہ کہ ان پر احسان سمجھ جائے کیونکہ فی الحقیقت تمام امور کا مالک اللہ ہے اور اس نے اپنے قانون مشیت کے مطابق انسان کو دیا ہے اور جن کو دیا ہے ان میں قرابت داروں ‘ مسکینوں اور غریبوں کا حق بھی دیا ہے تاکہ ان کی آزمائش بھی کی جاسکے کہ جس نے ان کو یہ مال دیا ہے اس کی رضا کو بھی وہ ملحوظ خاطر رکھتے ہیں یا نہیں اور اس میں جو راز پنہاں ہیں اور جو حقیقتیں پوشیدہ ہیں ان کی وضاحت بھی پیچھے کردی گئی ہے اس حکم محض اشارہ پر اکتفا کیا ہے تاکہ آپ رغبت سے پیچھے کی طرف نظر لے جائیں اور ایک پڑھی ہوئی چیز کو دوبارہ پڑھ کر ذہن تازہ کرلیں اور خوشی کے ساتھ ان بندوں میں شامل ہوں جو قرآن کریم کی زبان میں فلاح پانے والے ہیں ۔
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو تم زیادہ حاصل کرنے کے لیے دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال سے مل کر (تمہارا مال) بڑھتا رہے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو تم پاک دل سے واپس لینے کے لیے نہیں صرف اللہ کی رضامندی کے لیے دیتے ہو پس وہی لوگ ہیں جو اپنے مال کو دو چند کریں گے (اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا مال دوچند ہوگا)

سود اور زکوۃ کی وضاحت اور زکوۃ ادا کرنے والوں کے مال کے اضافہ کی تشریح : 39۔ سورة الروم نبی کریم ﷺ پر مکہ مکرمہ میں بعثت کے چھٹے یا ساتویں سال نازل ہوئی اور سود کی حرمت مدینہ منورہ میں بعد از ہجرت ہوئی ہے ، قرآن کریم کی زیر نظر آیت میں سود کی حرمت کا اعلان نہیں ہے بلکہ سود کی مذمت کا ذکر کیا گیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ جس مقصد کے لئے تم لوگ سود لیتے دیتے ہو وہ مقصد اللہ تعالیٰ کے نزدیک پورا نہیں ہوتا کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کا نفع کم اور نقصان زیادہ ہے اور جس چیز میں نفع کم اور نقصان زیادہ ہو وہ کبھی کسی بھی عقل مند کے نزدیک درست نہیں ہو سکتی اس لئے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جس مقصد کے تحت تم سود کو لیتے دیتے ہو وہ پورا نہیں ہوتا بلکہ وہ مقصد زکوۃ کے ادا کرنے سے پورا ہوتا ہے باوجود اس کے کہ تمہارے خیال میں زکوۃ سے مال کم ہوتا ہے اور سود سے بڑھتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا نہیں ہے ۔ سود کیا ہے ؟ ہم نے کیا سمجھا ہے ؟ یہ کیونکر ہے کہ سود سے مال نہیں بڑھتا بلکہ زکوۃ سے مال بڑھتا ہے ؟ یہ سوالات اور علاوہ ازیں بہت سے سوالات کے جواب سورة البقرہ کی آیت 275 تا 281 عروۃ الوثقی جلد اول میں اور جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 130 میں بیان کئے گئے ہیں اور رہی سود کی حرمت کیوں ‘ اور کیسے ؟ یہ بھی بحث پیش کردی گئی ہے ۔ زیر نظر آیت میں بعض مفسرین کے بیان کے مطابق ایک دوسرے کے درمیان تحفہ وتحائف اور رسومات شادی بیاہ اور اس طرح کے دوسرے معاملات میں لینے دینے کے جو معروف طریقے ہیں ان میں سے اس غرض کے پیش نظر دیتے وقت یہ خیال رکھ کردینا کہ کل ہمارے ہاں بھی اسی طرح کی تقریب ہوگی تو جس کو ہم آج دے رہے ہیں کل ہم کو زیادہ ادا کرے گا اس نیت سے لینا دینا صحیح نہیں ہے ہاں ! تحفہ وتحائف کا لینا دینا بالکل جائز اور صحیح ہے لیکن عمل کا تعلق بہرحال نیت سے بھی ہوتا ہے لہذا نیت میں یہ بات نہیں ہونا چاہئے اگر کسی کی نیت میں یہ بات ہوگی تو گویا نہ اس کی نیت درست ہے اور نہ ہی اس عمل کا نتیجہ کبھی اچھا ہو سکتا ہے اور بلاشبہ یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح اور درست ہے لیکن ہمارا وطیرہ آج بھی وہی ہے جو شرعا صحیح اور درست نہیں ہے کیونکہ ہم سب مسلمان ہیں اور ہم نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ جو بات شرعا صحیح ہے اس کو ہم نہیں کریں اور کبھی نہیں کریں گے اور جو بات شروع صحیح اور درست نہیں ہے اس کو ہم ضرور کریں گے اور اس کے باوجود ہم پکے مسلمان کے مسلمان بھی رہیں گے کیونکہ ہمارے باپ دادا بھی یہ سب کچھ کرتے تھے اور اس کے باوجود وہ مسلمان تھے لہذا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب ہم یہ سب کچھ کریں اور ہمارے اسلام میں ذرہ برابر بھی فرق آئے آخر کیوں اور کیسے ؟ افسوس ہے ہماری حالت پر کہ ہم کرتے کیا ہیں اور کہتے کیا ہیں اور آج ہماری مجموعی حالت ایسی ہی ہے البتہ نیک اور صالح انسان آج بھی موجود ہیں اگرچہ وہ گنتی کے اعتبار سے چند معدودے آدمی ہی کیوں نہ ہوں ۔ ” جو تم پاک دل سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے دیتے ہو زکوۃ ادا کرتے ہو تو یہی لوگ ہیں جو مال کو دو چند کر رہے ہیں ۔ “ اس میں اصلیت یہ ہے کہ ایک آدمی اس دنیا کے مال سے جس کو وہ اپنا مال سمجھتا ہے اپنی ذات کے لئے اپنی مرضی کے مطابق جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا اور جیسے چاہتا ہے کماتا ہے اگر اس کو ورثہ میں مال مل گیا ہے تو گویا بغیر محنت کئے مل گیا اور اگر اس نے محنت کرکے خود کمایا ہے اور اس طرح مال جمع ہوگیا ہے دونوں صورتیں ممکن ہیں اور دونوں صورتوں میں مال جمع ہوجاتا لیکن ایک دوسرا آدمی ہے جو اس کے مقابلہ میں مال کماتے وقت بھی خیال رکھتا ہے کہ آیا اس طرح مال کمانے کی اسلام مجھے اجازت دیتا ہے یا نہیں اور اسی طرح وہ وہ طریقہ اختیار کرتا ہے جس طریقہ کے اختیار کرنے کی اس کو اجازت ملتی ہے عین ممکن ہے کہ ایک آدمی کو یہ فکر اپنانے کے باوجود مال دے دے تو اب دونوں کے مال میں از روئے اسلام بہت بڑا فرق ہوگیا اس طرح خرچ کرنے کا وقت آیا تو ایک کو خیال آیا کہ میں تو اس جگہ مال خرچ کروں گا جہاں خرچ کرنے کی اسلام اجازت دے گا اور وہاں خرچ نہیں کروں گا جہاں مال خرچ کرنے کی اسلام اجازت نہ دے تو ظاہر ہے کہ دونوں کے خرچ میں بہت بڑا فرق ہوگیا ۔ مال تو دونوں کا خرچ ہوا لیکن ایک کو صرف دنیوی زندگی کی خوشی حاصل ہوئی اور دوسرے نے دنیوی زندگی کے ساتھ اپنی آخری زندگی کا سامان بھی کرلیا اور ادھر اس دنیا میں جو مال اس نے اپنی نجی ضروریات پر صرف کیا اس کے صرف کرنے سے بھی اس کو مسرت حاصل ہوئی اور جتنا مال اس نے رضائے الہی کے لئے غریبوں ‘ مسکینوں ‘ اور یتیموں میں تقسیم کیا ان غریبوں ‘ یتیموں اور مسکینوں کی طرف سے جو اس کو دعائیں ملیں یہ وہ صلہ ہے جو کچھ ختم ہونے والا نہیں اور چونکہ اس نے ان لوگوں میں جو مال خرچ کیا ان سے کچھ عوض نہیں چاہا اس لئے جو اس نے خالصتا اللہ کی رضا کے لئے دیا تو بلاشبہ جو رضائے الہی اس کو حاصل ہوئی یہ اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا کا کوئی انعام بھی خواہ وہ کروڑوں روپے کا ہو اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا لکنج اس بات کو وہی سمجھ سکتا ہے جس آدمی کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو اور آخرت پر وہ پختہ یقین رکھتا ہو اور اس دنیوی زندگی کو ایک عارضی اور ناپائیدار زندگی سمجھتا ہو جس کا آخرت پر یقین ہی نہ ہو اور وہ دنیوی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھے وہ کچھ بھی کہتا رہے لیکن اس کی حقیقت کو وہ نہیں پاسکتا ۔ اب آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ زکوۃ دیا گیا مال کس طرح بڑھتا ہے اور اس کی افزائش کس طرح ہوتی ہے بات واضح ہوگئی کہ ایسے مال کی افزائش اسی طرح ہوئی کہ مال ایسی جگہ محفوظ ہوگیا جس جگہ اس کا اجر ان روپوں اور نوٹوں میں نہیں دیا گیا بلکہ اس کو اس صنف مال میں مل جائے گا جس کی اس وقت اس انسان کو ضرورت ہوگی لیکن وہ ملا کس کے عوض میں ؟ ظاہر ہے کہ وہ اسی مال کے عوض میں ملا جس مال کو اس نے رضائے الہی حاصل کرنے کے لئے خرچ کیا تھا اور بلاشبہ یہی اس بات کا اصل مطلب ہے اور یہی وہ مال کا دوگنا یا زیادہ گنا ہو کر ملنے کا مطلب ہے اور بعینہ یہ مفہوم سود کے لینے دینے میں استعمال ہوتا ہے کہ جس نے سود لیا اس نے اپنے پیسے کو بڑھایا لیکن آخرت کے خسارہ کو بھی ساتھ ہی بڑھا دیا حالانکہ آخرت کا خسارہ وہ چیز ہے جس کو کوئی مال بھی پورا نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی مال اس کا عوض ہو سکتا ہے اس طرح اس نے مال کو کیا بڑھایا کہ آخرت کے خسارے کو بھی بڑھا دیا جس کو دنیا کی کوئی چیز بھی پورا نہیں کرسکتی یہی وجہ ہے کہ وہ عنداللہ نہیں بڑھتا ۔ لوگ اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور صرف دولت اور مال کی گنتی کو گنتے رہتے ہیں اس لئے یہ کم ہونا اور زیادہ ہونا ان کی سمجھ میں نہیں آتا حالانکہ اصل تجارت تو وہ ہے جس کا سارا نفع ونقصان دیکھا جائے دیکھا جائے صرف ایک طرف ہی کو ذہن میں نہ رکھا جائے ، حدیث میں آتا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک بکری صدقہ میں تقسیم کرنا چاہی تو اس کو ذبح کیا اور تقسیم کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ اس کا ایک بازو رہ گیا باقی سب تقسیم ہوگیا ۔ نبی رحمت ﷺ گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ عائشہ اس بکری کا کیا ہوا ؟ سیدہ نے صورت حال بتاتے ہوئے فرمایا کہ ایک بازو رہ گیا باقی سب ختم ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اچھا بازو تو ختم ہوگیا اور باقی سب باقی رہا اور آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو رضائے الہی کے لئے دوسرے لوگوں میں تقسیم ہوا وہ تو عند اللہ باقی ہے اور یہ جو بازو باقی رہ گیا اس کو جب ہم کھالیں گے تو ظاہر ہے کہ یہ ختم ہوجائے گا ۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں : عن عائشۃ ؓ انھم ذبحوا شاۃ فقال البنی ﷺ ما بقی منھا ؟ قالت ما بقی منھا الا کتفھا قال بقی کلھا غیر کتفھا ۔ (ترمذی حدیث 2472 وسندہ صحیح) تصدقوا بھا الا کتفھا قال بقیت لنا فی الاخرۃ الا کتفھا ۔ (ریاض الصالحین مصری ص 262) اس طرح کے اور بھی بہت سے ارشادات ہیں جن سے آپ ﷺ نے تفہیم کرائی ہے کہ عند اللہ بڑھنے کا اصل مطلب کیا ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہمارے علماء کرام لوگوں کو وضاحت سے آگاہ نہیں کرتے اور لوگ صرف لفظی بحث ہی سے گھبرا کر کہہ دیتے ہیں کہ یہ ایسی ہی باتیں ہیں جو ان لوگوں نے خواہ مخواہ بنا لی ہیں ورنہ سود لینے والوں کا مال سود لینے سے زیادہ نہ ہوتا تو وہ آخر سود کیوں لتےٓ اور زکوۃ سے اگر فی الواقع مال بڑھتا ہوتا تو زکوۃ دینے سے لوگ انکار کیوں کرتے اور جب وہ یہ بات کہتے ہیں تو ہمارے پاس ان کے لئے کفر کا فتوی موجود ہوتا ہے ہم فورا ان پر داغ دیتے ہیں اور وہ پہلے ہی کیا روٹھ چکے تھے کہ اب وہ بگڑ جائیں گے اور اس طرح دین سے وہ اس قدر دور ہوجائیں گے کہ کبھی قریب آنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوں گے لیکن بعض ایسے بھی ہوں گے جو زبان سے تو نہیں بولیں گے لیکن اندر سے نفرت کرنے لگیں گے اور نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ وہ کبھی ایک پائی بھی خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ ان کا ذہن اس فارمولے کو تسلیم ہی نہیں کرے گا ۔ رہے وہ لوگ اور مفسرین کرام جنہوں نے اس سود سے مراد تحفہ تحائف لیا ہے تو بلاشبہ ان کی تفہیم بھی بالکل صحیح ہے اور جو چیز کسی کو زیادہ طلب کرنے کے لئے دی جائے وہ تحفہ تحائف کہلا ہی نہیں سکتی بلکہ اس کو قرض مع سود سے تعبیر کیا جاتا ہے اس لئے یہ زیادہ چاہنے کے لئے دینا تحفہ کی مد میں نہیں آتا ۔ تحفہ ہدیہ کی تو تعریف ہی یہ ہے کہ وہ ایک طرفہ ہوتا ہے اور دینے والا اپنی مرضی سے دے دیتا ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہدیہ پیش کرنے والوں کو ہدیہ پیش کرنا ہی چاہئے لیکن اس میں کمی بیشی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا یہ اپنی اپنی حالت اور گنجائش سے ہوتا ہے ۔ اس کو طلب نہیں کیا جاسکتا اور یہ رسم و رواج میں جو گن کر اور حساب کرکے لیا دیا جاتا ہے وہ تحفہ کیونکر رہ گیا ذرا غور کرو گے تو حقیقت انشاء اللہ سمجھ میں آجائے گی بشرطیکہ تم نے غور وفکر کرنے کو جائز قرار دے دیا کہیں اس کو حرام ہی نہ سمجھ رکھا ہو۔