Ayah 14:37دعا میں اپنی اولاد کو شامل کر رہے ہیں جن کو یہاں آباد کرنے کیلئے ساتھ لائے تھے
38 ؎ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا جاری ہے اور آپ (علیہ السلام) کی دعا کے سلسلہ میں یہ تیسری آیت آرہی ہے ۔ پہلی دو آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) اپنی ذات کو مخاطب کر کے دعا فرما رہے تھے لیکن زیر نظر آیت کے اس پہلے حصے میں مخاطب تو اپنی ذات ہی کیلئے ہیں لنکل اصل دغا اپنی اس اولاد کے لئے مخصوص کر رہے ہیں جس اولاد کو مکہ بسانے کیلئے ساتھ لائے تھے اور یہاں ان کی رہائش کا مکمل انتظام کرنا چاہتے ہیں اور یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پہلے فرزند ارجمند ہیں جو بی بی ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ تورات کے بیان کے مطابق بی بی ہاجرہ اور سارہ میں قدرے چشمک چلتی رہتی تھی اور سارہ کے ہاں کوئی اولاد بھی نہیں تھی جب بی بی ہاجرہ کے بطن سے سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اس چشمک میں مزید اضافہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق خوابات میں بتایا کہ اس بچے کو بیت اللہ کے قریب لے جا کر بسایا جائے اور خواب میں اس واقعہ کو اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح ہونے کی صورت میں دکھایا گیا اور اس کی تعبیر میں یہ بات سمجھائی گئی کہ اس کو بیت اللہ کے قریب آباد کرنا ہی دراصل ذبح کرنا اور اس کیلئے ذبیح ہونا ہے۔ یہ سلسلہ ایک مدت تک چلتا رہا تاآنکہ سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) سن بلوغ کو پہنچ گئے اور ادھر اللہ نے سارہ کو بھی اسحٰق (علیہ السلام) جیسا فرزند عطا کردیا۔ اسحٰق (علیہ السلام) کی پیدائش سے لازم آگیا کہ اب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بڑے بیٹے کو اللہ کے حکم کے مطابق بیت اللہ کے قریب آباد کردیں تاکہ سارا اور ہاجرہ دو مائوں کے الگ ہونے سے وہ چپقلش جو خاندان میں پیدا ہونا ایک فطری بات ہے وہ پیدا نہ ہو۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر اس خواب کی تعبیر میں جس کے متعلق بیٹے سے پوچھا تھا کہ میں نے یہ یہ خواب دیکھا ہے اب تم بتائو کہ اس کا کیا ہونا چاہئے اور بیٹے نے وہ تاریخی جواب دیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا کہ ” یابت افعل ما تومر “ ابو جان ! آپ وہ کام بےخطر کریں جس کا آپ کو آپ کے رب نے حکم دیا ہے۔ ستحدنی ان شاء اللہ من الصبرین۔ انشاء اللہ العزیز آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔ والد بزرگوار نے اللہ کے حکم کے مطابق اس پر عمل کیا اور بیٹے نے والد کے حکم کو سر آنکھوں پر رکھ کر اپنے وطن سے دور رہائش اختیار کرلی۔ اس موقع پر ابراہیم (علیہ السلام) نے جو دعا مانگی تھی کہ ” اے ہمارے رب ! ایک ایسے میدان میں جہاں کھیتی باڑی کا نام و نشان نہیں میں نے اپنی بعض اولاد تیرے محترم گھر کے پاس لا کر بسا دی ہے۔ “ اور میں نے یہ جو کچھ کیا ہے تیرے ہی حکم خاص سے کیا ہے۔ ہمارے اس عمل کو منظور و مقبول فرما لے۔
میرے اللہ ! میری دعا ہے کہ میرا یہ بیٹا اور اس کی اولاد در اولاد تیری ہی عبادت میں لگے رہیں
39 ؎ فرمایا میرا یہاں لا کر بسانا تیرے ہی حکم سے ہے ان کو توفیق عطا فرما کہ یہ لوگ نمازیں قائم کریں اور تیری عبادت میں مصروف رہیں اور اے میرے اللہ ! ان میں انس اور محبت پیدا ہو اور خصوصاً لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف پھیر دے اس لئے کہ یہ اس علاقہ میں بالکل اجنبی ہیں کوئی ان سے اور ان کے باپ دادا سے کسی کو بھی جانتا پہچانتا نہیں۔ اے میرے اللہ ! ان کو پھلوں سے وافر رزق عطا فرما تاکہ یہ لوگ تیرے شکر گزار ہوں۔
صحیح بخاری اور دوسری کتب احادیث میں جو شیر خوار بچے کو یہاں لا کر آباد کرنے کا ذکر پایا جاتا ہے وہ دراصل ابراہیم (علیہ السلام) کا خواب تھا جو ایک بار نہیں آپ نے بار بار دیکھا لیکن اس کی تعبیر اپنے وقت پر آ کر اس وقت پوری ہوئی جو اللہ کے نزدیک اس کے پورا ہونے کا وقت مقرر کیا جا چکا تھا اور یہ بات کوئی نئی بات نہیں ہے آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں کہ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا وہ خواب ہی تھا جس کی بناء پر باوجود اس کے یعقوب (علیہ السلام) کو حقیقی بیٹوں نے کہا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا کھا گیا لنک یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی بات کا یقین نہیں کیا اور اللہ نے یوسف (علیہ السلام) کو زندہ رکھا تاآنکہ آپ (علیہ السلام) کا خواب بالکل من و عن تقریباً 35 ‘ 40 سال بعد جا کر پورا ہوا اور جو کچھ ہوا وہ ان کے خواب کی تعبیر ہی تھی۔ یہ بات ذرا تفصیل طلب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مورخین اور مفسرین نے ایسی باتوں کی طرف ہمیسہ کم ہی توجہ دی ہے۔ اس دعا میں آپ نے فرمایا کہ اے میرے رب میں نے جو تیرے گھر کے نزدیک اپنی بعض اولاد بسائی ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ ” تیرا حکم پورا ہو اور یہ لو نمازیں قائم کریں پس تو ایسا فرما کہ ان کی طرف لوگوں کے دلوں کو پھیر دے اور ان کیلئے زمین کی پیداوار اور سامان رزق مہیا کردے تاکہ وہ لوگ تیرے شکر گزار ہوں۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا بحمد للہ اسماعیل (علیہ السلام) کے حق میں پوری ہوئی اور اس وادی غیر ذی ذرع کو جو رنگ لگا اس کا نظارہ آج تک دنیا دیکھ رہی ہے۔ ایمانداری سے کہئے کہ اس سے بڑا کوئی اور کیا معجزہ ہوگا کہ آج تک صدیاں گزر جانے کے باوجود اس دعا کو اللہ تعالیٰ نئی سے نئی زندگی بخش رہا ہے اور پوری دنیا میں وہی غیر ذرع خطہ وہ ہے جہاں نہ پھلوں کی کوئی کمی ہے ‘ نہ غلہ کی اور اشیاء خوردنی کی اتنی کثرت ہے اور اتنی فراوانی ہے کہ اتنی کثرت اور اتنی فراوانی ان جگہوں اور ملکوں میں بھی نہیں جہاں کی وہ پیداوار ہیں۔ تعجب ہے کہ ہمارے مفسرین جب کیڑے نکالنے لگتے ہیں تو بڑی بڑی دور تک پہنچ جاتے ہیں اور اگر خاموش ہوں تو پائوں میں پڑی ہوئی چیز کو آنکھوں دیکھنے کے باوجود بیان نہیں کرتے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے لئے دعا نہ فرمائی کہ اے اللہ اس سرزمین کو قابل کاشت بنا دے اگر وہ یہ دعا مانگ لیتے تو یقینا مکہ کی وادی ذی ذرع ہوجاتی اور پہاڑ ادھر ادھر ہٹا دیئے جاتے اور آج وہاں کھیت ہی کھیت نظر آنے لگتے۔ گویا کہ مفسرین نے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں جو کسر رہ گئی تھی اگر اس کو پورا نہیں کیا تو کم از کم نشاندہی تو کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے دعا میں یہ کمی رہ گئی اگر اس وقت وہ یہ دعا مانگ لیتے تو آج عرب کا نقشہ کچھ اور ہوتا اور ہماری حالت یہ ہے کہ جب کوئی شخص بچوں کی سی کوئی بات کرتا ہے تو لوگ عش عش کر اٹھتے ہیں اور پھر سبحان اللہ کا نعرہ بلند ہوتا اور کتنے ہی لوگ ہیں کہ سردھن کر رہ جاتے ہیں لیکن اس بات پر جب غور کیا جاتا ہے تو اس میں سوائے بیوقوفی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
Ayah 14:38ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کہ اے ہمارے رب ! ہماری چھپی اور ظاہری ساری باتوں کو تو جانتا ہے
40 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کا تکملہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا حوالہ دے کر کیا ہے اور الحاج وزاری کرے ہوئے ربنا کا لفظ بار بار ذکر کیا ہے جس طرح والہانہ صورت حال میں ہوا کرتا ہے فرماتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! آپ ہمارے ہر حال سے واقف اور ہماری قلبی و باطنی کیفیات اور ظاہری عرض و معروض سب سے باخبر ہیں۔ باطنی کیفیات سے مراد وہ رنج و غم اور فکر ہے جو فطری طور پر اپنی اولاد کو اپنے وطن عزیز سے اتنی دوری پر سارے غیر ماحول میں چھوڑ دینے سے فطری طور پر لاحق ہو رہا تھا اور ظاہری عرض و معروض سے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور حضرت ہاجرہ کے وہ کلمات مراد ہیں جو انہوں نے امر الٰہی کی خبر سن کر کہے تھے کہ ” جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم کیا ہے تو وہ ہمارے لئے کافی و وافی ہے۔ وہ ہمیں بھی یقینا ضائع نہیں کرے گا۔ اے اللہ تو ہمارے ظاہر و باطن ہر طرح کی حالت سے واقف ہے اور تیری ذات سے کوئی حال بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 14:39اے ہمارے رب ! تیری ذات کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ تو نے مجھے بڑھاپے میں اولاد عطا کی
41 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اے اللہ ! جس طرح تو نے میری پچھلی دعائیں سن لیں اور قبول کرلیں تیری ذات سے مجھے پختہ یقین ہے کہ تو آئندہ بھی ایسا ہی کرتا رہے گا کہ تو دعائوں کا قبول کرنے والا ہے۔ اب تک تو ابراہیم (علیہ السلام) طلب مزید کیلئے دامن پھیلائے رہے اب سابقہ عنایات کا شکریہ ادا کرنے لگے کہ پہلے بھی ہم تیرے دست وجود و سخا کے پروردہ ہیں۔ آج تک تیری ہی چشم لطف و کرم نے ہماری حاجت روائیاں کی ہیں ۔ جب میں بوڑھا ہوگیا ‘ میری بیوی بانجھ ہوگئی اور عام طور پر اولاد پیدا ہونے کا وقت گزر گیا۔
اس بڑھاپے اور پیرانہ سالی میں تو نے مجھے اسماعیل (علیہ السلام) و اسحٰق (علیہ السلام) جیسے دو ارجمند فرزند عطا فرمائے۔ مجھے یقین ہے کہ تو اس خوگر لطف و عطا کو پھر بھی اپنے الطاف و خردانہ سے نوازتا ہی رہے گا۔
بلاشبہ میرا پروردگار دعائیں سنتا اور قبول فرماتا ہے
42 ؎ معلوم ہوا کہ نیک بخت اور سعادت مند اولاد بھی اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے جس کیلئے حضرت خلیل جیسے جلیل المرتبہ نبی سراپا تشکر و امتنان بنے ہوئے ہیں۔ ” علی الکبر “ کے الفاظ بھی آپ کے بڑھاپے پر دلالت کرتے ہیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے لحاظ سے بھی آپ کو پیرانہ سالی کی شکایت بہرحال تھی لیکن اللہ نے جب اولاد دینی شروع کی تو پھر کتنی ہی اولاد عطا فرما دی۔ آپ کی تین بیویاں تھیں سارہ ‘ ہاجرہ اور قطورا سب سے پہلے ہاجرہ کے بطن سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اس کے بعد سارہ کے بطن سے اسحٰق (علیہ السلام) تولد ہوئے اور غالباً اس کے بعد قطورا کے بطن سے آپ کے 6 بچے یدا ہوئے تاریخ میں اگرچہ ان کا ذکر موجود ہے لیکن کتاب و سنت میں ان کا نام کہیں نہیں آیا۔ اس کا باعث کیا ہے ؟ یہ بات تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ قطورا کے بطن سے پیدا ہونے والے لڑکوں میں سے کسی کی آپ کو بشارت نہ دی گئی تھی اس لئے ان کا ذکر نہ کیا گیا اور یہ بھی ان بیٹوں میں سے کوئی نبی نہ بنایا گیا ہاں ! ان کی اولاد میں سے بعض کو نبی بھی بنایا گیا۔ جیسے ایوب (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر نبی بنی قطورا ہی سے تعلق رکھتے تھے۔ تاہم آپ کے بیٹوں میں سے جو بنی قطورا کہلائے کسی نے نبوت کا دعویٰ نہ کیا غالباً اس وجہ سے ان میں سے کسی کا ذکر کتاب و سنت میں نہ آیا۔
Ayah 14:40اے رب میرے مجھے اور میری اولاد کو نمازی بنا دے اے اللہ ہماری دعا قبول فرما
43 ؎ سبحان اللہ ! دعا کے آداب اور طریقے جو حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) کو آتے تھے دوسرے لوگوں کو کہاں آئیں گے فرمایا ” اے میرے رب ! مجھے نماز کا ادا کرنے والا بنا دے۔ نماز کی اہمیت اس دعا سے ظاہر ہے کہ ایک نبی اور وہ بھی جلیل القدر نبی و رسول اپنے رب سے اپنے حق میں دعائے خصوصی کرتا ہے اور ساتھ ہی ان کی مزیداہمیت جتلانے کو فرماتا ہے کہ ” ومن ذریتی “ اور اے اللہ ! اے میرے رب ! میری اولاد میں سے بھی نمازی بنا دے۔ ” اور اولاد میں سے “ کہنے میں کیا حکمت پنہاں ہے واضح ہو رہا ہے کہ آپ کی نسل میں سے بھی کوئی نہ کوئی ایسے ہوں گے جو مومن نہ ہوں۔
اے میرے رب ! میری دعا قبول فرما۔
Ayah 14:41ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے ‘ اپنے والدین کے لئے اور سارے مومنوں کے لئے دعا فرمائی
44 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنے والدین کیلئے جو دعائے مغفرت فرمائی اس کا ذکر واضح الفاظ میں قرآن کریم میں موجود ہے اس لئے بعض مفسرین نے اس سے یہ اخذ کیا ہے اور پھر اس پر دلائل پیش کئے ہیں کہ آذر جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے اگرچہ ابراہیم (علیہ السلام) اس کو مخاطب کر کے ” یا ابنی “ کے الفاظ کہتے رہے جیسا کہ قرآن کریم میں موجود ہے تاہم مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ دراصل آذر آپ کے والد نہیں تھے بلکہ آذر آپ کا چچا تھا آپ کے والد کا نام ” تارح “ ہے اور وہ مسلمان ہوگیا تھا اور اس کا ثبوت یہ آیت ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” ولوالدی “ گویا تارح آپ کے والد تھے جو مسلمان ہوچکے تھے اس وجہ سے آپ نے اپنے والدین کو دعائے مغفرت میں شریک کیا ہے اور بعض نے یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ دعا اس وقت کی جب کہ ابھی والد زندہ تھا اور ہجرت کے وقت چونکہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ ” سا ستغفرلک ربی (مریم 19 : 47) مگر بعد میں جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ وہ تو بدستور شرک پر قائم رہا اور شرک ہی پر اس کی موت ہوگئی تو آپ نے صاف بیزاری کا اعلان کردیا اور اس کے بعد دعائے مغفرت نہیں فرمائی اس کی تفصیل ہم سورة التوبہ کی آیت 114 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔ بہرحال ہجرت کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) بدستور اپنے والد کیلئے دعائے مغفرت کرتے رہے جس کا مدعا ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت عطا فرما دے جیسا کہ سورة الشعراء میں بھی آپ ﷺ کی دعا کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ ” واغفرلی یابی انہ کان من الضالین (الشعراء 26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بلاشبہ وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ آج کل بعض علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ ” رب اجعلنی “ الخ والی دعا ان لوگوں کو نہیں پڑھنی چاہئے جن کے والدین ‘ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں اور وہ اس عقیدہ پر وفات پا جائیں تو ان کی نماز جنازہ میں شریک اور دعا کی ممانعت ہے اس لئے یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ کسی مکتب فکر کا نام لے کر اس کے ساتھ وابستگی پر اتنا سخت فتویٰ مناسب نہیں جو لوگ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کلمہ ادا کرتے ہیں اگر وہ ناسمجھی اور جہالت کے باعث کوئی کام ایسا کرتے بھی ہیں جو شرک کے ساتھ ملتا ہے یا بظاہر ایسا نظر آتا ہے تو ان کو معذور خیال کرنا ہی مناسب ہے جب تک وہ زندہ ہوں اولاد کا حق ہے کہ اگر وہ صحیح العقیدہ ہے تو ان کے ساتھ شفقت و ہمدردی سے کوشش کرے اور کرتی ہی رہے کہ ان کا عقیدہ صحیح اور درست ہوجائے لیکن اگر وہ بضد ہوں تو ان کے کلمہ کا اعتماد کرتے ہوئے ان کو بدستور نہلائے ‘ دھلائے اور تجہیز و تکفین میں برابر حصہ لے اور دعائے مغفرت کرے اور علم الٰہی کا معاملہ علم الٰہی ہی تک رہنے دے اور اپنی نماز میں بغیر کسی روک ٹوک کے اس دعا کو مانگے اور دعا کے اندر لفظ ” وللمومنین “ کے الفاظ آتے ہیں اور وہ اب بھی ان کو ادا کر رہا ہے لہٰذا اگر اس کے والدین مومنین میں شامل ہیں تو دعا ان کیلئے ہوگی ۔
حیران و سراسیمہ نظریں اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے نگاہیں ہیں کہ لوٹ کر
تو دعا ان کیلئے ہوگی اور اگر خدانخواستہ وہ ” للمومنین “ میں شامل نہیں تو معاف کرنا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے وہ چاہے گا تو معاف فرمائے گا اور چاہے گا تو نہیں لیکن وہ دوسرے مومنوں کو محروم کیوں کریں ؟ یہ آیت رسول اللہ ﷺ نے خود پڑھی اور دوسرے سارے مومن پڑھتے رہے ان میں وہ لوگ بھی تھے جن کے والدین واقعی مشرک تھے یا والدین میں سے ایک مشرک تھا اور ان کے شرک میں کوئی شک نہیں تھا تاہم میں نے کسی حدیث میں یہ نہیں پڑھا کہ آپ نے اس دعا کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے وقت نہ پڑھنے کا ارشاد فرمایا یا نماز ادا کرتے وقت اس آیت کی تلاوت ان لوگوں کو منع فرمایا ہو یا کبھی نماز میں ان لوگوں کو پڑھنے سے منع فرمایا ہو جب ایسی کوئی بات شارع (علیہ السلام) سے نہیں ملتی تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ اس سے منع کرے پھر اس گرو ہی اسلام کا تصور تو ویسے اسلام میں موجود نہیں ہے جس سے سارے گروہوں کا حکم ایک ہی جیسا ہے اگر کوئی عرف عام میں مشرک نہیں تو گروہوں میں تقسیم کرنا یا تقسیم ہونا تو بذاتہ شرک ہے جس کے شرک ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس گروہی شرک سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلام کے ساتھ وابستگی کی سچی توفیق نصیب کرے۔
Ayah 14:42اے پیغمبر اسلام ! اللہ ظالموں کے کام سے غافل نہیں حساب کے روز ان کو معلوم ہوجائے گا
45 ؎ اب خطاب پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے اور آپ ﷺ کی قوم کو مخاطب کیا جا رہا ہے اور گزشتہ دعوتوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے فرمایا اس سے بڑھ کرنا شکری اور کیا ہو سکتی ہے جو قریش مکہ نے کی ہے ؟ وہ دنیا کے ایک ایسے گوشہ میں سکونت رکھتے ہیں جو انسانی آبادی کیلئے زیادہ سے زیادہ ناموزوں مقام تھا کہ ایک بےآب وگیاہ ریگستان جہاں درندے بھی بھٹ نہ بنائیں اور پرند بھی ہوا میں اڑنا پسند نہ کریں لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے اسے ایسا دلچسپ اور معمور مقام بنا دیا کہ انسانی گروہوں کے دل بےاختیار اس کی طرف کھینچنے لگے اور زمین کی ساری پیداواریں جو کسی سرسبز و شاداب ملک میں ملک سکتی ہیں اس بنجر زمین میں مہیا ہوگئیں۔ یہ انقلاب حال کیونکر ظہور میں آیا ؟ اس طرح کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں دین حق کی عبادت گاہ بنائی اور اس کی پاسبانی اپنی اولاد کے سپرد کی ‘ انہوں نے دعا مانگی تھی کہ خدایا ! اس ویرانے کو آباد کردیجئے چناچہ ان کی دعا قبول ہوئی اور یہ ویرانہ اس طرح آباد ہوگیا کہ تمام عرب وا طراف عرب کے سالانہ اجتماع کا مرکز بن گیا۔ رئوسا قریش انہی کی نسل سے ہیں اور انہی کی برکتوں کا ظہور ہیں لیکن انہوں نے اس نعمت کا حق کس طرح ادا کیا ؟ یوں ادا کیا کہ ملت ابراہیمی سے منحرف ہوگئے ظلم و گمراہی کو اپنا شیوہ بنا لیا ‘ وہ دین حق جس کے قیام کیلئے یہ عبادت گاہ بنائی گئی تھی اصنام پرستی سے بدل گیا اور اب اپنی تمام طاقتیں اس دعوت کی مخالفت میں خرچ کر رہے ہیں جو اس ملت ابراہیمی کی تجدید ہے۔ زیر نظر آیت میں رسول اللہ ﷺ اور ہر مظلوم کی تسلی اور ظالم کیلئے سخت عذاب کی دھمکی ہے کہ ظالم اور مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی ڈھیل دینے سے بےفکر نہ ہوجائیں اور یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے جرائم کی خبر نہیں ‘ اس لئے باوجود جرائم کے وہ پھل پھول رہے ہیں۔ کوئی عذاب و مصیبت ان پر نہیں آتی بلکہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں سب اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہے مگر وہ اپنی رحمت اور حکمت کے تقاضے سے ڈھیل دے رہا ہے۔ ” ایسا خیال نہ کرنا کہ اللہ ان ظالموں کے کاموں سے غافل ہے “۔ یہ خطاب بظاہر ہر اس شخص کیلئے ہے جس کو اس کی غفلت اور شیطان نے اس دھوکہ میں ڈالا ہوا ہے اور اگر اس کا مخاطب رسول اللہ ﷺ ہوں تو بھی مقصود اس سے امت کے غافلوں کو سنانا اور تنبیہہ کرنا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کا امکان ہی نہیں کہ وہ معاذ اللہ ‘ اللہ تعالیٰ کو حالات سے بیخبر یا غافل سمجھیں۔
Ayah 14:43وہ لوگ نظریں اٹھائے ہوئے دوڑ رہے ہوں گے اور دل ان کے اڑتے ہوں گے
46 ؎ فرمایا کہ اگر ان لوگوں پر فوری عذاب نہیں آ رہا ہے تو یہ انکیلئے کوئی اچھا شگون نہیں کیونکہ اس کا انجام یہ ہے کہ یہ لوگ اچانک قیامت اور آخرت کے عذاب میں پکڑ لئے جائیں گے اور وہ پکڑ ان کیلئی ایسی ہوگی کہ ان کے اوسان مکمل طور پر خطا ہوجائیں گے اور ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ موقت حساب کی طرف دوڑ رہے ہوں گے اور کسی دوسری طرف کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے اور ان کی حالت کچھ ایسی ہوگی کہ گویا آنکھیں جھپکیں گے بھی نہیں اور پپوٹے اور اس قدر خشک ہو کر رہ جائیں گے گویا آنکھیں کھلی ہیں تو ان کو بند نہیں کر پاتے ہیں اور اس طرح ان کی ٹکٹکی بندھ کر رہ جائے گی اور ان کے دل ہیں کہ وہ اڑتے ہوں گے یعنی بدحواس ہوچکے ہوں گے اور ان کی حالت اس وقت دیدنی ہوگی جس کو قلم بیان نہیں کرسکتی۔
Ayah 14:44مجرم عذاب کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے اے اللہ ! ذرا ڈھیل ‘ کہ ہم دعوت کو مان لیں
47 ؎ ان کے حالات کی کیفیات بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنی قوم کو اس دن کے عذاب سے ڈرایئے جس میں ظالم اور مجرم لوگ مجبور ہو کر پکاریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کچھ اور مہلت دے دیجئے یعنی دنیا میں دوبارہ چند روز کیلئے بھیج دیجئے تاکہ ہم آپ کی دعوت قبول کرلیں اور آپ کے رسولوں کا اتباع کر کے اس عذاب سے نجات حاصل کرسکیں اور یہ مضمون قرآن کریم میں کی ایک بار دہرایا گیا ہے کہ مجرم موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل جہنم ہونے تک بلکہ اس کے بعد بھی بار بار یہی درخواستیں کرتے رہیں گے کہ ہمیں بس ایک دفعہ دنیا میں اور بھیج دیا جائے ‘ اب ہماری توبہ ہے اب ہم کبھی نافرمانی نہیں کریں گے ‘ اب ہم سیدھی راہ چلیں گے اور ہر بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ جواب دیا گیا کہ اب ازسر نو عمل کرنے کیلئے کوئی دوسرا موقع انہیں نہیں دیا جاسکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں دوبارہ امتحان کیلئے آدمی کو اگر واپس بھیجا جائے گا تو لا محالہ دو صورتوں میں سے ایک ہی صورت اختیار کرنی ہوگی یا تو اس کے حافظے اور شعور میں وہ سب مشاہدے محفوظ ہوں جو مرنے کے بعد اس نے کئے یا ان سب کو محو کر کے پھر ویسا ہی خالی الذہن پیدا کیا جائے جیسا کہ وہ پہلی زندگی میں تھا۔ صورت اول میں امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے کیونکہ اس دناا میں تو آدمی کا امتحان ہے ہی اس بات کا کہ وہ حقیقت کا مشاہدہ کئے بغیر اپنی عقل سے حق کو پہچان کر اسے مانتا ہے یا نہیں اور اطاعت و معصیت کی آزادی رکھتے ہوئے ان دونوں راہوں میں سے کس راہ کو انتخاب کرتا ہے۔ اب اگر اسے حقیقت کا مشاہدہ بھی کرا دیاجائے اور معصیت کا انجام عملاً دکھا کر معصیت کے انتخاب کی راہ بھی اس پر بند کردی جائے تو پھر امتحان گاہ میں اسے بھیجنا ویسے ہی فضول ہے۔ اس کے بعد کون ہے جو ایمان نہ لائے گا اور کون اطاعت سے منہ موڑ سکے گا۔ رہی دوسری صورت تو یہ آزمودہ را آزمودن کا ہم معنی ہے۔ جو شخص ایک دفعہ اس امتحان میں ناکام ہوچکا ہے اسے پھر بعینہ ویسا ہی ایک اور امتحان دینے کیلئے بھیجنا لاحاصل ہے کیونکہ وہ پھر بھی وہی کچھ کرے گا جیسا پہلے کرچکا۔ اس کی تفصیل پیچھے جلد سوم سورة الانعام آیت 158 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
کیا تم وہی نہیں کہ تم تو قسماً کہتے تھے کہ ہم کو کبھی زوال نہ ہو گا
48 ؎ فرمایا تم کو ہو ؟ وہی نہیں جو ” اب سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہمیں کسی طرح کا زوال نہ ہوگا۔ “ اس دنیا میں یعنی آخرت میں ان کو جواب دیاجائے گا کہ کیا دنیا میں رہنے کی تمہیں مہلت قلیل تو نہیں مدت طویل ملی تھی تو پھر تم نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا بلکہ تم تو الٹے قسمیں کھا کھا کر بڑے زور اور دعویٰ کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ یہ حشر و نشر کا قصہ سب ڈھکوسلا ہے۔ وجود جو کچھ ہے صرف اس مادی دنیا اور اس مادی زندگی کا ہے اس کے آگے کچھ بھی نہیں۔ ممکن ہے کہ بعض لوگوں نے اپنی زبان سے یہ سب تقریر نہ کی ہو تاہم زبان حال سے تو وہ بھی یہی کہتے رہے تھے یاد رہے کہ ” من زوال “ میں ” من “ تاکید نفی کیلئے۔
Ayah 14:45تم نے گزشتہ بستیوں کے مساکن میں وقت گزارا لیکن ذرا خیال نہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ؟
49 ؎ واضح رہے کہ یہ خطاب مشرکین عرب سے ہے جن کیلئے نبی کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ ” انذر الناس “ ” ان لوگوں کو ڈرائو “ اس خطاب میں ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اقوام سابقہ کے حالات و انقلابات تمہارے لئے بہترین واعظ ہیں تعجب ہے کہ تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ تم ان ہلاک شدہ قوموں کے گھروں میں بستے اور چلتے پھرتے ہو اور تمہیں کچھ حالات کے مشاہدہ سے ‘ کچھ متواتر خبروں سے بھی معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر کیسا سخت عذاب نازل کیا اور ہم نے تم کو راہ راست پر لانے کیلئے کتنی ہی مثالیں بیان کیں لیکن پھر بھی تم ذرا ہوش میں نہیں آتے بلکہ ہمیشہ پنبہ درگوش ہی رہے۔ آج چیخنے چلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ معذرت خواہی بعد از وقت ہے اب تو تم کو لا محالہ اپنے کرتوتوں کی سزا بھگتنی ہوگی۔
Ayah 14:46انہوں نے کیا کچھ تدبیریں نہ کیں لیکن اللہ کے پاس ان کی تدبیروں کا جواب موجود تھا
50 ؎ فرمایا ان لوگوں نے دین حق مٹانے اور دعوت حق قبول کرنے والے مسلمانوں کو ستانے اور ایذا دینے کیلئے بھرپور تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی سب کھلی اور پوشیدہ تدبیریں سب کے سامنے موجود ہیں وہ سب کو جاننے والا اور ان کو ناکام بنا دینے پر قادر ہے اگرچہ ان کی مخفی تدبیریں ایسی سخت اور عظیم تھیں کہ ان کے مقابلہ پر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ ساری تدبیریں گرد راہ بن کر رہ گئیں اور ان کی داستانیں ان کے بعد آنے والوں نے سنیں۔ جن مخالف اور مخفی تدبیروں کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اس میں ممکن ہے کہ اس سے مراد گزشتہ ہلاک شدہ قوموں کی تدبیریں ہوں جیسے نمرود ‘ فرعون ‘ عاد وثمود وغیرہ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں موجودہ مشرکین عرب کا حال بیان کیا گیا ہو کہ انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے مقابلہ میں بڑی گہری اور دور رس سازشیں کیں اور مخفی تدبیریں بنائیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ناکام بنا دیا اور کامیابی کی راہیں اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کیلئے کھول دیں۔
” وان کان مکرھم “ میں لفظ ان کو حرف نفی قرار دے کر یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اگرچہ ان لوگوں نے بہت سی تدبیریں کیں اور سخت سے سخت چالیں چلیں لیکن ان کی تدبیروں اور چالوں سے ممکن تو نہ تھا کہ پہاڑ ٹل جاتے اور پھر اس جگہ پہاڑ (جبال) سے مراد نبی اعظم و آخر ﷺ کا عزم و ارادہ اور استقلال مراد لیا گیا ہے کہ کفار مکہ کی کوئی چال بھی اس پراثر انداز نہ ہوسکی۔
مشرکین مکہ کی مزاحمتوں کے باوجود اسلام دن بدن ترقی کرتا گیا اور حق کی روشنی آئے دنوں جس کے دل میں چمکتی وہ معاشرہ کفر سے کٹ کر معاشرہ اسلامی کے ساتھ وابستہ ہوجاتا۔ یہ صورت کفر کے سرغنوں کیلئے ناقابل برداشت تھی اس لئے انہوں نے اسلام کو مٹانے کیلئے کتنی ہی سازشوں کے منصوبے بنائے ان میں کتنی سازشیں نبی کریم ﷺ کا چراغ رحمت گل کرنے کیلئے تھیں اور بلاشبہ ان کی یہ سازشیں بڑی ہی خطرناک تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری مخفی تدبیروں ‘ چالوں اور تجویزوں کو ناکام بنا دیا۔ ان میں کچھ یہود کی سازشیں تھیں ‘ کچھ یہود و نصاریٰ کی ملی جلی اور بعض میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ خود مشرکین مکہ بھی ملوث تھے بلکہ یہود و انصاریٰ نے ان کو آگے لگا رکھا تھا اور پیچھے ان کی ساری مدد کرتے تھے۔ پروپیگنڈہ کی مہمیں بھی ان کی اسکیموں میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں جن میں وہ ماہر تھے۔ دور دور کی کوڑی لائے لیکن ہر بار منہ کے بل گرتے اور اپنے ہی دانت توڑتے اور پیشانیاں زخمی کرتے اور سارے پروپیگنڈہ کا خود ہی شکار ہو کر رہ جاتے۔
Ayah 14:47اللہ نے کبھی اپنے رسولوں سے کیا ہوا وعدہ خلاف نہیں کیا وہ نہایت ہی طاقتور ہے
51 ؎ فرمایا کوئی یہ نہ سمھے اور نہ ہی ایسا گمان کرے کہ اللہ نے کوئی وعدہ اپنے کسی رسول سے کر کے ان کے خلاف کیا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی ایسا واقعہ جس میں اللہ نے اپنے وعدہ کا خلاف کیا ہو۔ تلاش کرتے جائو اور جہاں تک چاہتے ہو مطالعہ کرو تم کہیں ثابت نہیں کرسکو گے یعنی کوئی ایک واقعہ بھی تم کو ایسا نہیں مل سکے گا۔ ہاں ! اگر لوگوں نے کوئی ایسی صورت بیان کردی ہو تو وہ دوسری بات ہے لیکن اس کی تحقیق کر کے دیکھو تو تم کو کبھی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ ناکام ہی رہو گے اور یہ بات اس لئے بیان کی جا رہی ہے کہ اب بھی وہ وعدے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے ساتھ کئے گئے ہیں وہ اپنے اپنے وقت پر پورے ہو کر رہیں گے۔ لوگوں کو یہ غلطی لگی کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس “ کا محاورہ درست ہے تو پھر طاقتور کا اپنے معاہدہ کے مطابق کرنا اور اس کے خلاف نہ کرنا چہ معنی وارد۔ گویا ان کی عقل پر ایسا پردہ پڑا کہ انہوں نے اللہ کو بھی اس کھاتے میں رکھا جس میں اس دنیا کے سارے ظالموں کو رکھا۔ ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس “ کا محاورہ دنیا کے ان سارے ظالموں پر بولا جاتا ہے جو کمزوروں پر ظلم کرتے آئے ہیں اور کر رہے ہیں کیا اللہ کا شمار بھی انہی ظالموں میں سے ہے۔ حالانکہ ہقیقت یہ ہے کہ وعدہ کر کے پورا نہ کرنا دراصل کمزوری کی نشانی ہے۔ اگرچہ اس کمزوری کا تم کو احساس نہ رہا ہو تمہاری نگاہ اس کے طلم پر تو ہے لیکن تم کو یہ معلوم نہیں کہ یہ بھی اس ظالم کی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے اگرچہ آپ کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے۔ زیر نظر آیت میں جملہ ” ان اللہ عزیز “ پر گہری نظر ڈالو تو شاید بات تمہاری سمجھ میں آجائے اور پھر آنے والی آیت اس کی مزید وضاحت بھی پیش کر رہی ہے ذرا توجہ سے مطالعہ کرو گے تو انشاء اللہ بات سمجھ میں آجائے گی۔
Ayah 14:48اس دن کا خیال رکھو جب یہ زمین و آسمان اس زمین و آسمان سے بدل جائیں گے
52 ؎ یہ بیان قامت کے روز کا ہے کہ اس روز زمین و آسمان بدلے ہوئے ہوں گے اور جن آسمان و زمین سے ہم واقف ہیں ان کی بجائے کوئی دوسرے ہی موجود ہوں گے لیکن ان موجود ہونے والے زمین و آسمان کے متعلق ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کہ وہ کیا ہوں گے اور کیسے ہوں گے ؟ ہاں ! وہ یقینا ایسے آسمان و زمین نہ ہوں گے جیسے ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ رات کو ستارے جگمگا رہے ہیں چاند اپنی رو پہلی اور خنک کرنوں سے دلوں کو تازگی اور روح کو نشاط بخش رہا ہے ۔ لیکن ان کی ہقیقت کو اللہ ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ آیا ان کی ظاہری شکل و صورت ہی بدلی ہوئی ہوگی یا پوری زمین ایک سطح مستوی بنا دی جائے گی جس میں نہ کسی مکان کی آڑ ہوگی اور نہ ہی درخت وغیرہ کی ‘ نہ کوئی پہاڑ اور ٹیلہ رہے گا نہ غار اور گہرائی۔ قرآن کریم میں اس حال کا ذکر اس طرح فرمایا گیا کہ ” لا تری فیھا عوجا ولا امنا “ یعنی تعمیرات اور پہاڑوں کی وجہ سے جو آج کل راستے اور سڑکیں مڑ کر گزرتی ہیں وار کہیں اونچائی ہے کہیں گہرائی تو یہ صورت وہاں نہ ہوگی بلکہ سب کا سب میدان صاف ہوجائے گا اور اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ بالکل ہی اس زمین کے بدلے میں دوسری زمین اور اس آسمان کے بدلے دوسرے آسمان بنا دیئے جائیں۔ روایات حدیث جو اس کے متعلق منقول ہیں ان میں بھی بعض سے صرف صفات کی تبدیلی معلوم ہوتی ہے اور بعض سے ذات کی تبدیلی۔ عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محشر کی زمین بالکل نئی زمین چاندی کی طرح سفید ہوگی اور یہ زمین ایسی ہوگی جس پر کسی انسان نے کوئی گناہ نہیں کیا ہوگا اور نہ ہی اس پر کسی کا ناحق خون گرایا گیا ہوگا وار اس طرح کے مضمون کی احادیث انس ؓ سے بھی منقول ہیں۔ سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہء قیامت کہ قیامت کے روز لوگ ایک ایسی زمین پر اٹھائے جائیں گے جو ایسی صاف وسفید ہوگی جیسے میدے کی روٹی صاف اور ہموار ہوتی ہے۔ پھر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس زمین و آسمان کے بدل دینے ‘ اٹھا لئے جانے ‘ لپیٹ لئے جانی ‘ ان کی شکل و صورت کے بدل جانے کے استعارات آتے ہیں لیکن ان کی حقیقت ہر انسان کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں بلکہ انسانی ذہنوں سے یہ بات بہت بلند ہے کیونکہ وہ مشاہدہ میں آنے والی نہیں اس لئے اس کی بحث جائز نہیں۔
Ayah 14:49مجرم اس روز زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور ان کو تمہارے سامنے لایا جائے گا
53 ؎ مجرم اس روز جکڑے ہوئے ہوں گے اور یہ منظر بہت ہی بھیانک ہوگا جس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ حقیقت کیا ہوگی ؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ بلاشبہ قرآن کریم میں ان زنجیروں اور ان کے طول و عرض کا بیان موجود ہے لیکن بہرحال جو کچھ ہے وہ استعارہ کے سوا کچھ نہیں۔
Ayah 14:50ان کے لباس گندھک کے ہوں گے ‘ آگ ان کو جھلس رہی ہو گی
54 ؎ اور ان کو جو لباس پہنایا جائے گا اس کو ” قطران “ کا باس کہا گیا ہے اور ” قطران “ تار کول یا گندھک کا دوسرا نام ہے جس کی اصل حقیقت کو بھی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ دو تارکول یا گندھک کیسا ہوگا ؟ نیز ” قطران “ پگھلے ہوئے تانبے کو بھی کہا جاتا ہے مختصر اس کا ماحاصل جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ ان کے جسموں پر لباس ایسا ہوگا جو آگ کو خوب بھڑکا دے گا اور زیادہ تیزی کے ساتھ آگ کو قبول کرے گا۔
قبل ازیں ہم کتنی ہی بار یہ عرض کرچکے ہیں کہ آخر میں جزاء و سزا تمام تر تمثیلی ہوگی اور اس تمثیل کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ جیسا عمل ہوگا اس کے مناسب و مشاہد اس کی جزاء یا سزا ہوگی مثلاً قرآن کریم میں ہے کہ جو زکوٰۃ یعنی اپنے مال کا میل کچیل مستحقین کو کھانے کیلئے نہ دے گا تو اس کو دوزخ میں زخموں کا دھو ون کھانے کو ملے گا یا یہ کہ جو شخص اپنی جان اللہ کی راہ میں دے گا مرنے کے بعد اس کو جان تازہ اور حیات تو بخشی جائے گی۔ وہ دولت مند جس کو دھوپ کی تپش سے بچنے کیلئے مقرر محل اور پینے کیلئے ٹھنڈے سے ٹھنڈا پانی اور عزت کی جگہ عنایت کی گئی تھی اگر اس نے دنیا میں ان نعمتوں کے ملنے کا حق ادا نہ کیا تو دوسری دنیا میں اس کو یہ سامان ملے گا ” وہ لو اور کھولتے ہوئے پانی میں ‘ دھوئیں کے سایہ میں جو نہ ٹھنڈا اور باعزت اگرچہ وہ پہلے ناز و نعمت میں تھے “۔
(الواقعہ) دوزخ کی جسمانی سزائوں کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے بڑی تفصیل بیان کی ہے :
1۔ آتش دوزخ اور اس کی سوزش کا ذکر بار بار آیا ہے بلکہ ” النار “ یعنی آگ دوزخ کا دوسرا نام بھی ہے اور ” عذاب الحریق “ ” عذاب السعیر “ بھی اسی کو کہا گیا ہے اسی طرح اس کا ایک نام ” سقر “ بھی ہے۔ 2۔ وہاں سایہ نہ ہوگا۔ 3۔ وہاں ٹھنڈک نہ ہوگی۔ 4۔ دوزخ میں نہ موت آئے گی کہ چین آجائے اور نہ ہی ایسی زندگی ہوگی جس میں کوئی مسرت ہو۔ 5۔ پینے کو گرم پانی ملے گا جس سے آنتیں گل جائیں گی۔ 6۔ وہ لوگ پیپ پئیں گے۔ 7۔ ان کے اوپر گرم پانی چھوڑا جائے گا۔ 8۔ کھانے کو لتر تھوہر اور سینڈھے کا پھل ملے گا۔ 9۔ خار دار جھاڑیوں کی خوراک ہوگی جس سے بدن کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ 10۔ زخموں کے دھو ون کی خوراک ملے گی۔ 11۔ کھانا نکلا نہ جائے گا۔ 12۔ آگ کے کپڑوں کا لباس ہوگا۔ 13۔ لوہے کے ہتھوڑے پڑیں گے۔ 13۔ گلے میں طوق اور زنجیریں ڈالی جائیں گی ‘ پھر دوزخ کی روحانی سزائوں کا ذکر بھی موجود ہے کہ وہ دو زخیوں کو دی جائیں گی۔ مثلاً
1۔ دوزخ کی وہ آگ جس کی گرمی و سوزش کا ذکر کیا گیا وہ دل کو جا کر جھانکے گی۔ ” تطلع علی الافدۃ “ 2۔ ان کو معذرت پیش کرنے کی بھی اجازت نہ ہوگی۔ 3۔ اللہ تعالیٰ کے جلوہ سے وہ محروم رہیں گے۔ 4۔ رحمت و شفقت سے وہ کلی طور پر بھلا دیئے جائیں گے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ کی نگاہ کرم سے بھی وہ دور رہیں گے اور یہ اس روز سب سے زیادہ اور بڑی سزا ہے جو دی جائے گی۔
Ayah 14:51اپنے کئے کا بدلہ ہر ایک پائے گا اور اللہ کو حساب لیتے کوئی دیر نہیں لگتی
55 ؎ جس طرح ان لوگوں کو الگ الگ کر کے صرف تین گروہوں میں تقسیم کردینے سے ان کی پوزیشن واضح ہوجائے گی یعنی کچھ دائیں والے ہوں گے اور کچھ بائیں والے اور ایک گروہ کو سامنے رکھا جائے گا تو صرف اس بات سے ان کا فیصلہ ہوجائے گا کہ سامنے والے اللہ تعالیٰ کے انعامات میں ہوں گے اور دائیں والے ان سے کم درجہ میں ہوں گے لیکن بہرحال کامیاب وہ بھی قرار دیئے گئے ہوں گے لیکن بائیں والے کو دیکھتے ہی ہر آنکھ فیصلہ کرے گی کہ یہ لوگ ہیں جو جہنمی ہیں اور دوسری جگہ صرف اعمال نامہ کے ہاتھ میں دیئے جانے سے سب کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کامیاب ہیں یا ناکام ہوچکے ہیں جیسے اعمال نامہ کا دائیں ہاتھ میں دیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ لوگ کامیاب ہیں اور بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں جو دوزخ کی طرف دھکیل دیئے جانے والے ہیں۔ لہٰذا اس طرح سے کوئی زیادہ وقت خرچ نہیں ہوگا بلکہ آنکھ جھپکنے ہی میں سارا کام ہوجائے گا اور میدان حشر میں اکٹھے کرنے کا اور مطلب ہی کیا ہے کہ ہر ایک کو اس کا بدلہ دیا جائے اور جو اس نے کیا ہے اس کے نتیجہ سے دوچار ہوجائے اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لے اور یہ پہچان لے کہ یہ میں ہوں جو لوگوں کو کچھ کہتا رہا اور عمل کچھ کرتا رہا۔
Ayah 14:52یہ لوگوں کیلئے پیام ہے تاکہ وہ ڈرائے جائیں اور جان لیں کہ اللہ ایک ہے
56 ؎ زیر نظر آیت میں بیان کردیا کہ یہ سب احوال قیامت کا بیان کرنا لوگوں کو تنبیہ کرنے کیلئے ہے تاکہ وہ اب بھی سمجھ لیں کہ قابل عبادت وطاعت صرف اور صرف ایک ہی ذات ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ہے تاکہ جن لوگوں میں کچھ بھی عقل و دانش ہے وہ شرک سے باز آجائیں۔ امام فخر الدین رازی (رح) تفسیر کبیر میں رقم طراز ہیں کہ انسان میں دو قوتیں ہیں۔ قوت نظری اور قوت عملی اور انہی کی تکمیل میں انسان کی ترقی اور کمال کا راز پنہاں ہے اور پھر ظاہر ہے کہ قوت نظری کا کام حقائق و موجودات کو جاننا ہے اور اس کا کمال یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ وارفع حقیقت یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا عرفان اسے حاصل ہوجائے اور قوت عملی کا کام یہ ہے کہ انسان اخلاق فاضلہ سے متصف ہوجائے اور تمام اخلاق فاضلہ سے افضل اور احسن خلق یہ ہے کہ انسان اپنے خداوند ذوالجلال کی اطاعت کو اپنا شعار بنا لے اور یہ دونوں کمال قرآن کریم میں غور و فکر کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص ہدایت طلبی کے جذبہ سے سرشار ہو کر قرآن کریم کے دلائل وبراہین کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ بےساختہ یہ کہہ اٹھتا ہے لا الہ الا اللہ وہد لا شریک لہ ‘ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر اور پھر جب یقین کا یہ چراغ روشن ہوجاتا ہے تو عمل کی شاہراہ جگمگانے لگتی ہے اور وہ مستانہ وار یہ کہتا ہوا اس پر گامزن ہوجاتا ہے کہ اسلمت لرب العلمین میں نے اپنا سر اطاعت وانقیاد رب العالمین کے ہر حکم کے سامنے جھکا دیا ہے اور پھر وہ یقینا شرک کے قریب بھی نہیں بھٹکے گا خواہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔ یہی وہ حقیقت ہے کہ جب کسی کی سمجھ میں آجائے تو وہ اولوالالباب میں داخل ہوجاتا ہے اور اس مضمون پر سورة ابراہیم ختم ہو رہی ہے۔
الحمد للہ اس سورت کی تفسیر 19 اپریل 1996 ء بعد از نماز عصر ختم ہوئی۔