14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب فیصلہ ہوچکا تو شیطان بولا بلاشبہ اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا ، سچا وعدہ اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا مگر اسے پورا نہ کیا مجھے تم پر کسی طرح کا تسلط نہ تھا جو کچھ پیش آیا وہ صرف یہ ہے کہ میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میرا بلاوا قبول کرلیا پس اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو ، آج کے دن نہ تو میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو ، تم نے اب سے پہلے جو مجھے شریک ٹھہرا لیا تھا تو میں اس سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں بلاشبہ ظلم کرنے والوں کے لیے بڑا ہی دردناک عذاب ہے

شیطان کا اعتراف کہ اللہ نے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا ‘ میں نے ایک بات کہی تم نے تسلیم کرلی 23 ؎ ” لما قضی الامر “ ” جب فیصلہ ہوچکے گا “ تو شیطان کہے گا یعنی اپنے مریدوں سے کہ تمہارے تمام گلے شکوے اس حد تک تو صحیح ہیں کہ اللہ سچا تھا اور اس کا وعدہ بھی سچا نکلا اور میں جھوٹا تھا اور میرا وعدہ بھی جھوٹا نکلا۔ اتنی بات تو مجھے بھی معلوم تھی اور ہے نہ اس سے پہلے انکار تھا اور نہ اب ہے۔ بلاشبہ اللہ کے وعدے صحیح اور سچ ‘ اس کی وعیدیں صحیح اور سچ اور اس وقت تم بھی دیکھ رہے ہو کہ ان میں سے ہر ایک بات جوں کی توں صحیح جس طرح اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے دنیا میں تم کو بتائی اور میں خود مانتا ہوں کہ جو بھروسے میں نے تمہیں دلائے ‘ جن جن فائدوں کے لالچ تمہیں دیئے ‘ جن خوشنما توقعات کے جال میں ‘ میں نے تم کو پھانس اور سب سے بڑھ کر یہ یقین جو میں نے تم کو دلایا کہ اول تو آخرت و اخرت کچھ ہے ہی نہیں صرف ایک ڈھکو سلا ہے اور اگر ہوئی بھی تو فلاں پیر ‘ فلاں بزرگ ‘ فلاں مرشد کے صدقے تم صاف صاف بچ جائو گے بس اس کی کدمت میں نذر و نیاز پیش کرتے رہو دیکھو یار یاروں کی مانتے آئے اور مانتے رہیں گے یہ اللہ کے ولی اور دوست ہیں ان کی بات آخر وہ کیسے رد کرے گا۔ اس لئے دنیا میں تم جو چاہو کرتے پھرو نجات کا ذمہ ان کا ‘ وہ تو وہابی ہیں اور گستاخ رسول ہیں جو پیروں فقیروں کو نہیں مانتے۔ اس طرح کی ساری باتیں جو میں تم سے کہتا رہا اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ تم تک پہنچتا رہا۔ یہ سب کچھ محض دھوکا تھا لیکن اتنی بات تو ذرا تم بھی بتا دو کہ تمہارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت کہ تم خود تو سیدھی راہ چلنا چاہتے تھے لیکن میں نے زبردستی سے تمہارا ہاتھ پکڑا اور تم کو اس راستے سے ہٹا کر اس راستہ کی طرف لے آیا یا میں نے کوئی تمہارے راستے میں ڈنڈے دے کر کچھ لوگوں کو کھڑے رکھا تھا جو تم کو زبردستی اس طرف لے آئے تو اس ثبوت کو بھی پیش کر دو تاکہ مجھ پر وہ فرد جرم عائد ہو جو ایسے لوگوں کے لئے ہونی چاہئے لیکن یہ بات تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ وہاں ایسی کوئی بات نہ تھی ۔ ہاں ہاں ! میں نے فرض کرو ڈھول پیٹا تو تم نے خود ٹانگ اٹھا لی اور خوب ناچے چلو ڈھول تو میں پیٹتا رہا لیکن تمہاری ٹانگ بھی میں نے ہی اٹھائی تھی یا وہ تم خود ہی تھے۔ اچھا میں نے کیا کیا ؟ یہی کہ دعوت حق کے مقابلہ میں اپنی دعوت باطل آپ کے سامنے پیش کی۔ سچائی کے مقابلے میں جھوٹ کی طرف آپ کو بلایا ‘ نیکی کے مقابلے میں بدی اور برائی کی طرف تم کو پکارا وہ بھی آوازیں دے کر نہیں صرف اشاروں ہی اشاروں میں لیکن ماننے کے جملہ اختیارات تو تمہارے ہی پاس تھے۔ ہاں ہاں ! وقت نکل گیا اور جو ہونا تھا وہ ہوگیا سچی بات کہو کہ میرے پاس تم کو مجبور کرنے کی کوئی طاقت تھی جو میں نے استعمال کی ؟ اور تم میری طاقت و قوت کے سامنے مجبور ہوگئے اچھا میں دکاندار تھا ایک سودا میں نے بھی رکھا تھا اس کے بیچنے وار فروخت کرنے کیلئے آوازیں بھی دیں لیکن کیا میں نے بزور تمہارے ہاتھ فروخت کیا یا تم تلاش کر کی اور سمجھ سوچ کر اس کو خریدتے رہے ؟ سچی بات تو یہ ہے کہ تم اس کے گاہک تھے تمہاری خواہش اس کو خریدنے کی تھی اگر وہ سودا میں نہ بیچتا تو تم کسی دوسرے سے خرید لیتے اس لئے اب سارے کا سارا الزام جو مجھ پر دھرتے ہو کوئی اس کی وجہ بھی تو بتائو ؟ اچھا شراب میں نے بیچی لیکن وہاں کتنی دکانیں تھیں جہاں وہ بک رہی تھی ؟ اس جگہ کو تلاش کس نے کیا وہ بڑے شوق و ذوق سے رقم مجھے کس نے دی اور وہ کون تھا جو بوتل پکڑ کے ساتھ میرا شکریہ بھی ادا کر رہا تھا اور ایڈوانس کے طور پر مزید رقم بھی پیش کرتا تھا۔ ہاں ! اپنی دعوت کا ذمہ دار میں ہوں اور اس کی سزا بھی پا رہا ہوں اور پاتا رہوں گا لیکن میں تم کو ملامت نہیں کرتا تم کیسے چودھری ہو کہ الٹا چور کو توال کو ڈانٹے۔ میں نے اگر دعوت دی تھی تو لبیک چوہدری صاحب تم نے خود کہی۔ اس کی ذمہ داری مجھ غریب کے کھاتے میں مت ڈالو جتنا قصور میرا ‘ میں مانتا ہوں لیکن جو غلط انتخاب آپ نے کیا ہے۔ اس کی ذمہ داری خود اٹھائو۔ فلا تلومونی ولوموا انفسکم ‘ آج مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو۔ آج نہ میں تمہارا فریاد رس ہو سکتا ہوں اور نہ ہی تم میرے فریاد رس ہو سکتے ہو۔ میں اپنی سزا پا رہا ہوں تم اپنی سزا بخوشی قبول کرلو تم میرا منہ کالا کرنے کی کوشش نہ کی اور میں تم پر کوئی اعتراض نہیں کرتا حالانکہ جس طرح تم باتیں بنا رہے ہو اور میرا شکوہ کر رہے ہو میں بھی ایسا کرسکتا ہوں لیکن نہیں کر رہا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ دنیا نہیں کہ وہاں جھوٹ چل جائے اب تو سچ کا معاملہ ہے اور جو کچھ ہونا ہے سچ کے مطابق ہونا ہے اور جو ہوا ہے بالکل سچ ہوا ہے۔ تم چور تھے اس لئے چور نکلے اب چتر نہ بنو اور ساری بدنامی میرے ماتھے پر نہ رکھو اپنا قصور بھی تسلیم کرلو۔ ” اس سے پہلے جو تم نے مجھے شریک ٹھہرایا تھا میں تو اب اس سے بیزار ہوں یعنی بری الذمہ ہوں۔ “ تم مجھے دنیا میں خدا کا شریک سمجھتے تھے میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ فیصلہ کروا لو جس سے تم چاہو۔ مجھے تو برا کہتے ہوئے تم تھکتے ہی نہیں تھے تم نے مجھے کیسے شریک ٹھہرا لیا۔ دنیا کی کوئی مجلس ‘ کوئی جگہ غور کرو کہ جہاں تم سارے چوہدری ‘ سارے سرغنے ‘ سارے سردار اور و ڈیرے اکٹھے بیٹھتے تھے اور اس وقت جو کچھ تم کرتے تھے وہ تو تم کو بھی معلوم کبھی میرا نام تم نے بھی اچھے طریقے سے لیا تھا ؟ تو پھر آج کیوں جھوٹ بولتے ہو ؟ میں تم کو صاف صاف بتائے دیتا ہوں کہ میں خدا کا شریک نہ تھا اور نہ ہوں تم تو محض اپنی حماقت کے باعث ایسے سمجھتے رہے۔ یہ وہ مکالمہ ہے جو قیامت کے روز ہونے والا ہے اور شیطان کے پیروکار اس دن جس ندامت اور شرمندگی سے دوچار ہوں گے وہ کتنی روح فرسا ہوگی۔ ہر ہوش مند کو چاہئے کہ وہ اس شرمساری اور رسوائی سے بچنے کئے آج ہی اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو شیطان کا رویہ اپنے پرستاروں کے ساتھ آج بھی وہی ہے جب وہ کسی کو نقب زنی پر اکساتا ہے ‘ اپنے حقیقی بھائی کو قتل کرنے کیلئے برانگیختہ کرتا ہے۔ جب کسی کی ناموس کو ملوث کرنے کی تحریک دل میں پیدا کرتا ہے اس وقت دولت اور عزت ‘ لذت اور عیش کی زندگی کا جو نقشہ وہ پیش کرتا ہے کتنا دل فریب ہوتا ہے۔ لیکن جب انسان اس کے دام زریں میں پھنس جاتا ہے تو شیطان اس سے آنکھیں پھیر لیتا ہے۔ جب چور پر ڈنڈتے پڑتے ہیں تو وہ اس کی پٹائی پر بغلیں بجاتا ہے۔ جب اسے تختہ دار پر کھڑا کر کے موت کا پھندا اس کے گلے میں ڈالا جاتا ہے تو شیطان کی خوشی کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ جب بدکاری کی وجہ سے وہ موذی بیماریوں آتشک ‘ سوزاک اور نامردی وغیرہ کے چنگل میں گرفتار ہو کر چیختا ہے تو وہ آگے بڑھ کر اس کے زخموں پر مرحم رکھنے کی بجائے نمک چھڑکتا ہے جب جعفر از بنگال اور صادق از دکن نے اپنی ملت اور اپنے دین سے غداری کرنے کا ارادہ کیا تھا انہیں اپنا مستقبل کتنا روشن نظر آیا ہوگا اور اب بھی کتنے جعفر اور صادق ہیں جو اس ملک عزیز کے ساتھ غداری کرنا چاہتے ہیں بلکہ ایک جعفر نے دوبارہ بنگال میں غداری کا ارتکاب کر کے دیکھ بھی لیا لیکن اس غداری کے بعد بجز لعنت اور ذلت کے ان کے ہاتھ کیا آیا ؟ بدر کے میدان میں کفار مکہ کے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ شیطان نے پہلے انہیں اکسایا اور یقین دلایا کہ ” لا غالب لکم الیوم من الناس “ آج تم پر کوئی بھی غالب نہیں آسکتا اور پختہ وعدہ کیا ” وانی جارلکم “ میں تمہارا پشت پناہ ہوں اور جب حضرت حمزہ کی زہر آلود شمشیریں بےنیام ہو کر ان کی صفوں میں تباہی مچانے لگیں تو شیطان نے خود آ کر کہہ دیا۔ ” انی بربی منکم “ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہے جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تمہیں نظر نہیں آ رہا اور ان ساری جگہوں پر ” شیطان من الانس “ بھی مراد لیا جاسکتا ہے اگرچہ اکثریت نے ” شیطان من الجن “ ہی مراد لیا ہے۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے وہ باغوں میں داخل ہوگئے ان کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں ، اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ انہیں میں رہیں گے وہاں ان کے لیے دعاؤں کی پکار ہے کہ تم پر سلامتی ہو

مومنوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے وہ باغات میں سیر و تفریح کریں گے 24 ؎ مومنوں کیلئے جو کچھ تیار کیا گیا ہے اس کا نام اسلام کی زبان میں جنت ہے۔ اس مقام کا نام جو نیکوکار انسانوں کا دائمی گھر ہوگا قرآن کریم میں عموماً ” الجنۃ “ یعنی ایک باغ بتایا گیا ہے اور کہیں کہیں اس کو مناسب اضافتوں کے ساتھ بھی ادا کیا گیا ہے مثلاً ” جنۃ النعیم “ نعمت کا باغ ” جنۃ الخلد “ یعنی بقائے دوام کا باغ اور اس کو ” الجنۃ الفردوس “ ” روضۃ “ ” دارالخلد “ ” جنت عدن “ یعنی دائمی سکونت کے باغات ” دارالمقامۃ “ اور ” دارالسلام “ ام و سلامتی کا گھر۔ اس موجودہ دنیوی زندگی میں بھی اگرچہ لذتیں اور مسرتیں ہیں مگر جو چزیں یہاں نہیں ہے وہ بقائے دوام ہے۔ یہاں کی ہر لذت فانی ‘ عارضی اور ہر مسرت فانی ہے۔ یہاں خوشی کا کوئی ایسا ترانہ نہیں جس کے بعد غم و ماتم کا نالہ نہ ہو ‘ یہاں ہر پھول کے ساتھ کاٹنا ہے ‘ ہر روشنی کے ساتھ تاریکی ہی ‘ ہر وجود کے ساتھ فنا ‘ ہر سیری کے بعد بھوک اور ہر سیرابی کے بعد پیاس اور ہر فنا کے بعد محتاجی ہے۔ انسان ہزاروں مشکلیں اٹھانے اور ہزاروں صدمے سہنے کے بعد ایک مسرت کا پیغام سناتا ہے اور خوشی کا منظر دیکھتا ہے مگر ابھی اس سے سیر ہونے کی نوبت ہی نہیں آتی کہ اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ غرض اس موجودہ عالم فانی کی ہر شے آنی جانی ہے اور یہی یہاں کی سب سے بڑی کمی ہے۔ لیکن جنت اس مملکت کا نام ہے جہاں کی راتیں جاودانی اور جہاں کی مسرتیں غیر فانی ہیں۔ جہاں حیات ہے ” مگر حیات ہے “ مگر موت نہیں۔ راحت ہے مگر تکلیف نہیں۔ لذت ہے مگر الم نہیں ‘ مسرت ہے۔ مگر غم نہیں۔ جہاں وہ سکون ہے جس کے ساتھ اضطراب نہیں اور وہ شادمانی ہے جس کے بعد حزن واندوہ نہیں۔ شیطان ہے تو شیطان لیکن کبھی کبھی بات بڑی کام کی کرجاتا ہے اور ایسا سچ بولتا ہے کہ اس کو جھوٹا کہنے کے باوجود اس کی اس بات کو جھٹلا نہیں جاسکتا۔ آپ کو معلوم ہوگا اس نے آدم (علیہ السلام) کے سامنے جنت کا جو نقشہ کھینچا تھا وہ سوفیصد صد صحیح تھا اس نے کہا تھا۔ ” ھل ادلک علی شجر ۃ الخلد و ملک لا یبلی “ (طہ 20 : 120) ” آدم (علیہ السلام) بتائوں میں آپ کو وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے ؟ “ مگر جنت کا یہ وصف سنا کر ان کو جدھر کا رستہ بتایا وہ موت کے درخت اور فنا کے ملک کی طرف کا تھا اور یہی وہ فریب تھا جس میں آدم (علیہ السلام) گرفتار ہوئے چناچہ اس جنتی زندگی کی تلاش میں وہ چیز کھالی جو ان کے حق میں زہر تھی یعنی گناہ کا پھل۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنۃ الخلد اور غیر فانی ملک سے نکل کر ان کو اس فنا کے ملک میں آنا پڑا جہاں کیلئے وہ دراصل پیدا کئے گئے تھے اور پھر اس جنۃ الخلد اور غیر فانی ملک کا استحقاق ان کے اور ان کی نسل کے اعمال صالحہ کا صلہ قرار پایا جب کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ام جنۃ الخلد التی وعد المتقون کانت لھم جزاء و مصیرا “۔ (الفرقان 25 : 15) ” یا وہ ابدی جنت جس کا وعدہ خدا ترس لوگوں سے کیا گیا ہے جو ان کے عمل کی جزاء اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی۔ “ ہمیشگی کا باغ وہ غیر فانی مملکت ہے جہاں کا آرام دائمی اور جہاں کی سلامتی ابدی ‘ جہاں کی لذت بےانتہا ‘ جہاں کی زندگی غیر منقطع ‘ جہاں کا سرور غیر مختتم اور جہاں کا عیش جاوداں ہے۔ ” تحیتم فیھا سلام “ انسان امن و سلامتی کا بھوکا ہے لیکن وہ اس امن و سلامتی کو اسباب راحت کے انبار میں تلاش کرتا ہے اور نہیں پاتا۔ وہ دنیا میں امن کا گوشتہ ڈھونڈتا ہے اور وہ اس کو نہیں ملتا لیکن یہاں آ کر اس کو نہ صرف امن کا گوشہ بلکہ امن و سلامتی کی ایک دنیا ملے گی۔ وہ پرند جو عمر بھر چار عناصر کے قفس میں گرفتار رہا یہاں وہ سدرۃ المنتہا کی ہر شاخ پر آزادانہ پرواز کرے گا ‘ جنت کے جہاں وحی محمدی نے اور بہت سے نام بتائے ہیں وہاں اس کا ایک نام ” دارالسلام “ بھی بتایا ہے جس کے معنی امن و سلامتی کے گھر کے ہیں۔ چناچہ اہل جنت کی نسبت ارشاد ہے ۔ ” لھم دارالسلام عند ربھم “ ان کیلئے ان کے پروردگار کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس شریعت کو دے کر اپنے پیغمبر ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے وہ حقیقت میں اس امن و سلامتی کی نوید و بشارت ہے۔ اس لیے فرمایا کہ ” واللہ یدعوا الی دارالسلام “ (یونس 10 : 45) اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے نبی اعظم و اخر ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف الئے تو سب سے پہلے اس امن و سلامتی کے گھر کی دعوت پیش فرمائی۔ عبداللہ بن سلام ایک یہودی عالم تھے نبی اعظم و آخر ﷺ کی جس صدائے نبوت نے سب سے پہلے ان کے دل میں گھر کیا وہ یہی تھی کہ ” لوگو ! سلامتی پھیلائو ‘ بھوکوں کو کھلائو ‘ جب دنیا غفلت کی نیند سوئے تو تم اٹھ کر اللہ کی عبادت کرو ‘ امن و سلامتی کے گھر میں رہنا تم کو نصیب ہوگا “۔ مختصر یہ کہ جنت کے ذکر میں اس امن و سلامتی کا تذکرہ قرآن کریم میں بار بار آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے در و دیوار سے امن و سلامتی کے ترانے سنائی دیں گے اور اس کا بیان بہت وسیع ہے اس کیلئے ہمارا ایک رسالہ ” جنت کیا ہے ؟ “ کا مطالعہ کریں انشاء اللہ تفصیل وہاں مل جائے گی۔
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کس طرح ایک مثال بیان کی ؟ ایک اچھی بات کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھا درخت جڑ اس کی جمی ہوئی اور ٹہنیاں آسمان میں پھیلی ہوئیں

کلمہ طیبہ کی مثال پاکیزہ درخت سے دی جاسکتی ہے اور دی گئی ہے 25 ؎ زیر نظر آیت میں ” کلمہ طیبہ “ سے مراد کیا ہے ؟ مکتلف رائیں قائم کی گئیں ہیں ہمارے خیال میں اس سے مراد ایمان ہے جس کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ایمان ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے اور پاکیزہ اور عمدہ درخت کی یہ صفات ہوتی ہیں کہ اس کی جڑیں کافی گہری ہوتی ہیں ‘ کوئی تند و تیز آندھی بھی اسے اکھیڑ نہیں سکتی ‘ اس کی شاخیں خوب پھیلی ہوئی اور اونچی ہوتی ہیں اور اس طرح اس کا سایہ بھی خوب گھنا ہوتا ہے اور پھر اس پر پھل بھی بکثرت لگتا ہے وہ پھل دار بھی ہوتا ہے اور اس کا پھل مقدار میں زیادہ اور ذائقہ میں لذیذ ہوتا ہے۔ فرمایا ایمان بھی ان تمام صفات اور خوبیوں سے متصف ہے جو ایک پاکیزہ درخت کے خواص ہیں اور اس کی جڑیں دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ مصائب و آلام کا کوئی طوفان اس کو ہلا نہیں سکتا۔ اسلام سے پہلے حضرت عمر ؓ نے اپنی ہمشیرہ کو مار مار کر لہولہان کردیا تھا کیا ان کے ظلم و تشدید سے ان کا ایمان اکھڑ سکا تھا ؟ اس کی شاخیں اتنی بلند ہیں کہ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ مومن کے کردار ‘ اس کے خلق عظما اور اس کے جذبہ للھیت کی رفعتوں کا کوئی کیا اندازہ لگا سکتا ہے اور اس درخت کا جو پھل ہے اس کی شان ہی نرالی ہے۔ دوسرے درختوں پر سال میں ایک بار پھل لگتا ہے وہ کبھی زیادہ کبھی کم ‘ کبھی پکتا ہے کبھی کچا ہی گر جاتا ہے لیکن شجر ایمان کا کیا کہنا ؟ پورا سال یعنی بارہ مہینے اس کی فلک بوس شاخیں میٹھے اور لذیذ پھلوں سے لدی ہوئی جھولتی رہتی ہیں ایک لمحہ بھی تو ایسا نہیں آتا کہ اس کی شاخیں ثمر سے خالی ہوں۔ ؎ یہ نغمہ وصل گل و لالہ کا نہیں پابند بار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل پیدا کرتا رہتا ہے اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سوچیں اور سمجھیں

اس درخت کے پھل ہر وقت تیار پکے رہتے ہیں اور کبھی بھی وہ پھل سے خالی نہیں ہوا 26 ؎ یعنی وہ ایسا بار آور اور نتیجہ خیز کلمہ ہے کہ جو شخص یا قوم اسے بنیاد بنا کر اپنی زندگی کا نظام اس پر تعمیر کرے اس کو ہر آن اس کے مفید نتائج حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ وہ فکر میں سلجھائو ‘ طبیعت میں سلامت ‘ مزاج میں اعتدال ‘ سیرت میں مضبوطی ‘ اخلاق میں پاکیزگی ‘ روح میں لطافت ‘ جسم میں طہارت و نظامت ‘ برتائو میں خوشگواری ‘ معاملات میں راست بازی ‘ کلام میں صداقت شعاری ‘ قول وقرار میں پختگی ‘ معاشرت میں حسن سلوک ‘ تہذیب میں فضیلت ‘ تمدن میں توازن ‘ معیشت میں عدل و مواساۃ سیاست میں دیانت ‘ جنگ میں شرافت ‘ صلح میں خلوص اور عہد و پیمان میں وثوق پیدا کرتا ہے وہ ایک ایسا پارس ہے ‘ جس کی تاثیر اگر کوئی ٹھیک ٹھیک قبول کرلے تو کندن بن جائے۔ فرمایا یہ مثال اس لئے بیان کی گئی ہے تاکہ لوگ اس سے سبق حاصل کریں۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور نکمی بات کی مثال کیا ہے ؟ جیسے ایک نکما درخت ، زمین کی سطح پر اس کی جڑ کھوکھلی ، جب چاہا اکھاڑ پھینکا اس کے لیے جماؤ نہیں

کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت سے دی جاسکتی ہے اور دی گئی ہے 27 ؎ کلمہ خبیثہ کلمہ طیبہ کی ضد ہے اس لئے ضروری ہے کہ سمجھ لیا جائے کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ بلاشبہ اس میں بھی مختلف رائیں قائم کی گئیں لیکن تفہیم میں اس سے مراد کفر ہے اور کفر ایک خبیث درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں نہیں ہوتیں یعنی زمین میں اس کی جڑیں نہیں ہوتیں اور یہ بھی کہ ہوا کا ایک جھونکا آیا تو اسے اکھاڑ کر زمین پر پھینک دیا۔ ایسے درخت کی شاخیں کہاں ہوں گی اور اس پر پھل کہاں لگے گا۔ اس سے مراد ہر وہ باطل عقیدہ ہے جس کو انسان اپنے نظام زندگی کیبنیاد بنائے عام اس سے کہ وہ شرک ‘ کفر ہو ‘ دہریت ہو ‘ الحادو زندقہ ہو ‘ شرک و بت پرستی ہو یا قبر پرستی یا کوئی اور ایسا تخیل جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واسطے سے نہ آیا ہو۔ یعنی ہر عقیدہ باطل اس سے مراد ہے چونکہ وہ حقیقت کے خلاف ہے اسی لئے قانون فطرت کہیں بھی اس سے موافقت نہیں کرتا۔ کائنات کا ہر ذرا اس کی تکذیب کرتا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر شے اس کی تردید کرتی ہے زمین میں اس کا بیج بونے کی کوشش کی جائے تو وہ ہر وقت اس کو اگانے کیلئے تیار رہتی ہے ۔ آسمان کی طرف اس کی شاخیں بڑھنا چاہیں تو وہ انہیں نیچے دھکیلتا ہے۔ انسان کو اگر امتحان کی خاطر انتخاب کی آزادی اور عمل کی مہلت نہ دی گئی ہوتی تو یہ بدذات درخت کہیں اگنے ہی نہ پاتا مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو اپنے رجحان کے مطابق کام کرنے کا موقع عطا کیا ہے اس لئے جو نادان لوگ قانون فطرت سے لڑ بھڑ کر یہ درخت لگانے یا اگانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ یقینا ان کی ایمان ہی کے درخت پر وہ قرار پا جاتا ہے اور اس قدر جلدی بڑھتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ان کے ایمان کے درخت کو باطل کھا کر صاف کردیتا ہے اور بالکل ٹنڈ منڈ ہو کر رہ جاتا ہے اور انجام کار ایک دن ایسا آتا ہے کہ اس کے ایمان کا درخت جڑوں تک سوکھ جاتا ہے۔ کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کے اس فرق کو ہر وہ شخص با آسانی محسوس کرسکتا ہے جو دنیا کی مذہبی ‘ اخلاقی فکری اور تمدنی تاریخ کا مطالعہ کرے وہ دیکھے گا کہ آغاز تاریخ سے آج تک کلمہ طیبہ تو ایک ہی رہا ہے مگر کلمات خبیثہ بیشمار پیدا ہوچکے کلمہ طیبہ کبھی جڑ سے نہیں اکھڑ سکتا مگر کلمات خبہث کی فہرست ہزاروں مردہ کلمات کے ناموں سے بھی پڑی ہے اور تفصیل اس کی بہت لمبی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ یہاں تمثیل کے پیرایہ میں اس مضمون کو سمجھا یا گیا ہے جو اوپر آیت 18 میں اس طرح بیان ہوا تھا کہ ” اپنے رب سے کفر کرنے والوں کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو اور بالکل یہی مضمون اس سے قبل سورة الرعد کی آیت 17 میں ایک دوسرے انداز سے سیلاب اور پگھلائی ہوئی دھاتوں کی تمثیل میں بیان ہوچکا ہے۔ ملاحظہ ہو سورة الرعد آیت 17 اسی جلد کے اندر پیچھے گزر چکا ہے گزشتہ دونوں آیتوں کے مضمون پر ایک نگاہ ڈال لیجئے فرمایا اس عجائب آباد ہستی کا کوئی گوشہ دیکھو تم کو دو طرح کی باتیں نظر آئیں گی۔ ایک کو قرار ہے دوسری کو قرار نہیں۔ ایک میں جمائو ہے دوسری میں جمائو نہیں۔ ایک اس لئے ہے کہ پھلے پھولے۔ دوسری اس لئے ہے کہ پامال ہو پہلی کلمہ طیبہ ہے دوسری کلمہ خبیثہ ہے یعنی پہلی اچھائی ہے ‘ پاکیزگی ہے ‘ نفع و فیضان ہے دوسری برائی ہے ‘ گندگی ہے ضرر و نقصان ہے۔ پہلی کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھا درخت۔ اچھے درخت کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں ؟ جڑ کی مضبوطی کہ اکھڑنے والی نہیں ‘ شاخوں کی بلندی کہ جھکنے والی نہیں۔ دوسری کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نکما درخت زمین میں جگہ پکڑ نہیں سکتا ‘ ٹہنیاں معدوم ‘ پھل نابود جب چاہو پکڑ کر کھینچ لو تو ضمنی جڑ سمیت اکھڑ آئے۔ اس کے بعد فرمایا اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو ایمان لاتے ہیں وہ انہیں جمنے والی اور مضبوط باتوں کے ساتھ جمائو دے دیتا ہے ان کی یہ خصوصیت دنیا کی زندگی میں بھی نمایاں ہوتی ہے اور آخرت میں بھی نمایاں ہوگی لیکن جو لوگ ظلم و نافرمانی کی راہ اختیار کرتے ہیں انہیں یہ بات نہیں مل سکتی۔ ان پر جمائو اور استقرار کی راہ بند ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل ایمان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کی ساری باتیں جمائو اور مضبوطی کی باتیں ہوتی ہیں ٹلنے والی ‘ اکھڑ جانے والی اور اپنی جگہ سے ہل جانے والی نہیں ہوتیں۔ ان کا اعتقاد ‘ ان کا عمل ‘ ان کا طور طریقہ ‘ ان کے دلائل و شواہد ‘ ان کے تمام کام القول الثابت ہوتے ہیں اور ان کی مثال شجرۃ طیبہ کی ہوتی ہے لیکن جو لوگ ایمان حق سے محروم ہیں ان کی کوئی بات بھی القول الثابت کی بات نہیں ہو سکتی ان کی مثال شجرہ خبیثہ کی ہوتی ہے کہ مالھا من قرار۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ ایمان والوں کو جمنے اور مضبوط رہنے والی بات کے ذریعہ جماؤ اور مضبوطی دیتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت کی زندگی میں بھی اور نافرمانوں پر راہ گم کردیتا ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

اللہ ایمان والوں کو اپنے ایمان پر قائم رہنے اور جمے رہنے کی توفیق وافر عطا کرتا ہے 28 ؎ ذرا غور کرو کہ اس دنیا کی زندگی میں ہر فرد و بشر کو کیسی کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ یہ ایمان ہی کی صراط مستقیم ایسی ہے جو اسے ہر امتحان میں ثابت قدیم رکھتی اور ہر تاریکی میں روشنی دکھلاتی رہیس ہے اور پھر برزخ اور محشر میں ایک سے بڑھ کر ایک ہولناک منظر کے وقت بھی آڑے آنے والی چیز یہی کلمہ توحید و ایمان ہے …… نجات کی راہ دنیا اور آخرت دونوں میں بجز دین توحید کے اور کوئی نہیں۔ بےدین حقیقی چین سے دنیا میں بھی محروم رہتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی حرمان نصیبی تو ظاہر ہے ” الظلمین “ یعنی راہ توحید و ایمان کو چھوڑ کر جاہلی اور مشرکانہ نظریوں اور فلسفوں کو ماننے والے اور ان پر چلنے والے ہی دراصل ظالم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو ظالم کلمہ طیبہ کو چھوڑ کر کسی کلمہ خبیثہ کی پیروی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ذہن کو پراگندہ اور ان کی مساعی کو پریشان کردیتا ہے وہ کسی پہلو سے بھی فکر و عمل کی صحیح راہ نہیں پا سکتے ان کا کوئی تیر بھی نشانے پر نہیں بیٹھتا۔
Ayah 14:28

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں پر نظر نہیں کی جنہیں اللہ نے نعمت عطا فرمائی تھی مگر انہوں نے کفران نعمت سے اسے بدل ڈالا اور اپنے گروہ کو ہلاکت کے گھر میں جا اتارا ؟

ان لوگوں کی حالت کی طرف توجہ دلائی ہے جنہوں نے کفران نعمت سے کام لیا 29 ؎ زیر نظر آیت میں مشرکین مکہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ملک کی ریاست و پیشوائی کی باگ انہیں کی ہاتھ میں تھی اور عامۃ الناس انہیں کے پیچھے چلتے تھے فرمایا ان کی محرومی دیکھو کہ کس طرح اللہ کی نعمت کی ناشکری کر رہے ہیں اور کلمہ طیبہ کی جگہ کلمہ خبیثہ کو اپنا شعار بنا لیا ہے ؟ اللہ نے انہیں قوم کی پیشوائی دی تھی پس ان کا فرض تھا کہ دعوت حق کی قبولیت میں سب سے آگے ہوتے اور قوم کی سچی راہنمائی کرتے مگر انہوں نے استبدلال نعمت کی راہ پسند کی خود بھی گمراہ ہوئے اور اپنی قوم کو بھی گمراہی میں دھکیل دیا۔
Ayah 14:29

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

دوزخ میں جا اتارا جس میں وہ داخل ہوں گے کیا ہی برا ٹھکانا ہے ؟

جہنم میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بدترین جائے قرار ہے 30 ؎ ایک جگہ ارشاد ہے کہ ” اللہ کو تمہارے عذاب سے کیا کام ‘ اگر تم شکر کرو اور ایمان لائو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری شکرگزاری کو قبو ل کرنے والا اور تمہارے دلوں کے حال کو جاننے والا ہے۔ “ (النساء 4 : 137) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو گنہگاروں کے عذاب سے کوئی خوشی حاصل نہیں ہوتی نہ ہی وہ چاہتا ہے کہ اس کے گنہگار بندے اس عذاب میں مبتلا ہوں لیکن ازل سے اس نے اپنے لئے جو قانون مقرر کردیئے ہیں وہ ان کو کبھی نہیں توڑتا۔ غور کرو کہ جس وقت آدم کو جنت کی سرزمین سے نکال کر اس دنیا میں اس لئے بھیجا گیا کہ وہ اپنے عمل کے استحقاق سے اس جنت کو دوبارہ ہمیشہ کیلئے حاصل کریں اس وقت یہ قانون بھی ان کو سنا دیا گیا تھا۔ زیر نظر آیت میں مستحق دوزخ ہونے کی دو وجہیں بیان کی گئی ہیں ایک کفران نعمت اور دوسری تکذیب اور سورة النساء والی آیت میں عذاب دوزخ سے نجات پانے کی دو شرطیں شکر اور ایمان ان کے بالمقابل بیان کی گئیں جس سے ظاہر ہوا کہ شکر اور ایمان استحقاق جنت کی شرطیں اور کفران اور تکذیب استحقاق دوزخ کے اسباب ہیں بقیہ تمام نیکیاں شکر اور ایمان کے فروغ اور تمام برائیاں کفر اور تکذیب کی شاخیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس لئے نہیں بتایا کہ وہ ان کو پیدا کر کے دوزخ کا ایندھن بنائے بلکہ اس نے تو ان کو اپنی رحمت کے ظہور کیلئے پیدا کیا۔ غیظ و غضب کے اظہار کیلئے نہیں فرمایا۔ بلاشبہ ایسے بدبخت بھی ہوں گے جو ابدی جہنم میں رہیں گے لیکن اس کی پیہم رحمتوں کا یہ تقاضا بھی ہے کہ وہ گنہاروں کو زیادہ سے زیادہ یہ کہ ان کے نتائج عمل کے بھگت لینے کے بعد آخرکار اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے اور وہ ان کو اپنی بخششوں سے سرفراز فرمائے۔ اس لئے ان لوگوں کی کمی بھی نہیں ہوگی جن کیلئے دوزخ ایک قید خانہ نہیں بلکہ شفاخانہ ہے۔ انسان جب عدم حفظ صحت کی غلط کاریوں کے سبب سے بیمار ہوجاتا ہے تو اکثر یہی سمجھا جاتا ہے کہ فطرت نے اس کو ان کے معاوضہ میں بیماری کی تکالیف کی سزائیں دی ہیں مگر واقعہ یہ نہیں ہے واقعہ یہ ہے کہ ان غلط کاریوں کے جو برے نتائج انسان کے جسم کے اندرپیدا ہوگئے ہیں ان کو دور کرنے کیلئے جسم جدوجہد کرتا ہے ‘ اس لڑائی کا نام بیماری اور اس لڑائی کی کشمکش کا نام بیماری کی تکالیف و آلام ہے جن کو ہم درد سر اور درد شکم ‘ اعضاء شکنی اور بےخوابی وغیرہ الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں ‘ یہی روحانی بیماریوں کا حال ہے جن کو ہم اصلاع شرعی میں ” گناہ “ اور جن کے نتائج بد کو ” عذاب “ کہتے ہیں ‘ یہ نتائج آتش دوزخ اور اس کے شدائد و آلام کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور جن کا منشاء یہ ہوگا کہ روح انسانی اپنی غلط کاریوں کے نتائج بد کو دور کرنے کیلئے جدوجہد میں مصروف ہوگی اور جونہی وہ ان سے عہدہ برآ ہوگی خدا کی رحمت سے سرفرازی پا کے اس عذاب سے نکل کر اپنی موروثی بہشت میں داخل ہوگی۔ اس تمہید سے ظاہر ہے کہ دوزخ کی مثال یہ نہیں ہے کہ وہ مجرموں کیلئے قید خانہ ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ بیماروں کیلئے شفاخانہ ہے ‘ بیمار کو شفاخانہ کے اندر بھی ہر قسم کی تکلیفیں محسوس ہوتی ہیں ‘ درد ‘ اعضا شکنی ‘ شدت تشنگی ‘ سوزش جسم وہاں اس کو کڑوی سے کڑوی غذا پلائی جاتی ہے ‘ بدمزہ سے بدمزہ کھانا کھلایا جاتا ہی ‘ ضرورت ہوتی ہے تو اس کو نشتر دیا جاتا ہے مگر یہ ساری ایذا رسانی کسی انتقام اور تکلیف دہی کی غرض سے نہیں ہوتی بلکہ عدم صحت کی غلط کاریوں کے برے نتائج سے اس کے جسم کو محفوظ رکھنے کی غرض سے کی جاتی ہے اس کو جو تکلیفیں وہاں محسوس ہوتی ہیں وہ گوشفاخانہ کے اندر ہی محسوس ہوتی ہیں مگر ان سب کے سبب شفاخانہ نہیں بلکہ خود اس بیمار کا اصول صحت سے دانستہ یا نادانستہ انحراف کرنا اور اس کی وجہ سے ان بیماریوں میں مبتلا ہونا ہے۔ یہ اصول ان آیتوں اور صحیح احادیث سے پوری طرح سمجھ میں آجاتا ہے جن میں بالآخر عذاب دوزخ سے نجات پانے کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ دنیاوی آلام و تکالیف کی نسبت قرآن کریم نے یہ اصول پیش کیا ہے ۔ والیمحص اللہ الذین امنوا و یمحق الکافرین۔ (آل عمران 3 : 141) ” اور جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں انہی پاک کر دے اور جو منکرین حق ہیں انہیں نیست و نابود کر دے۔ “ یہی اصول عذاب اخروی پر صادق آتا ہے کہ اس سے بھی مقصود گناہ گار اہل ایمان کی پاکیزگی و صفائی ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ۔ حقوق العباد کے بعد حتی اذا ھذبوا و نقوا اذن لھم فی دخول الجنتہ (صحیح بخاری کتاب القصاص یوم القیامہ ص 967 ج 2) اس حدیث میں یہ دو لفظ ھذبوا و نقوا تشریح طلب ہیں ھذبوا کا مصدر تہذیب ہے اور تہذیب کے لغوی معنی یہ ہیں کہ درختوں کی خراب شاکیں اس لئے چھانٹ دی جائیں تاکہ ان میں سرسبزی و شادابی پیدا ہو اور ترقی کی نئی زندگی ان کو مل جائے اور نقوا کا مصدر تنقیہ ہے اور تنقیہ کے اصل معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کے اندر سے خراب و فاسد مادہ کو الگ کردیا جائے تاکہ وہ پوری طرح نکھر جائے اس تشریح سے صاف کھل گیا کہ گنہگاروں کو جنت کے داخلہ کیلئے کیا درکار ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہے کہ اہل جنت جب جنت کے قریب پہنچیں گے تو ندا آئے گی۔ طبسم فادخلوھا خلدین۔ (زمر 39 : 73) تم پاک و صاف ہوچکے ہو تو جنت میں سدا کے لئے آجائو۔ مختصر یہ کہ جب اس طیب و پاکیزگی کا دور آئے گا تو گنہگاروں کو بھی نجات ملے گی اس لئے ہر گنہگار کیلئے دوزخ سے نکلنے کی مدت خواہ کتنی ہی طویل ہو مگر بہرحال اس کی انتہا ہے چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ لا یشین فیھا احقانا (نباء 78 : 23) ” دوزخ میں وہ دہاسال پڑے رہیں گے۔ “ لیکن بالآخر ان صدہال سال کے بعد ایک دن آئے گا کہ اللہ نے چاہا تو ان کو نجات ملے گی۔ حدیث رویائے برزخ میں ہے کہ ” آپ (علیہ السلام) نے دوزخ میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جنہوں نے کچھ اچھے اور کچھ برے کام کئے تھے ان کا آدھا دھڑ تو نہایت خوبصورت اور آدھا سخت بدصورت تھا لیکن جب ان کی سزا کی مدت ختم ہوئی تو فرشتوں نے ان سے کہا کہ جائو اور اس نہر میں جا کر پڑ جائو ‘ سامنے وہ نہر تھی جس میں خالص سپید پانی بہہ رہا تھا وہ اس میں جا کر پڑگئے ‘ پھر نکل کر آئے تو ان کی دو بدصورتی جاتی رہی اور وہ نہایت خوبصورت ہوگئے۔ “ (صحیح بخاری کتاب التعیر) اس سے ظاہر ہے کہ اللہ کی رحمت کیونکر گنہگاروں کو سرفراز فرمائے گی۔ جس سے معلوم ہوا کہ دوزخ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جس طرح دنیا میں شفاخانوں کا وجود بیماریوں کیلئے نعمت ہے۔ اگر دوزخ نہ ہوتی تو گنہگاروں کی پاکیزگی اور جنت میں ان کی داخل ہونے کی کوئی صورت نہ ہوتی تو اس رحمن و رحیم کی رحمت و کرم نے گوارا نہ کیا کہ ان بدبختوں کی ان نافرمانیوں کے باوجود ہمیشہ کیلئے محروم رکھا جائے اس لئے ان کی صفائی کیلئے پہلے برزخ کا حمام مقرر کیا اور جو اس سے بھی پاک نہ ہو سکیں ان کیلئے دوزخ کی آگ مقرر کی کہ وہ اپنی ہر قسم کی بد اعمالیوں کے می کچیل جلا کر نکھر کر پاک و صاف ہوجائیں اور کندن بن کر بالآخر اپنی آبائی اور فطری وراثت (جنت) پائیں اس نظریہ کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم کا مطالعہ کیجئے اور خصوصاً ان آیات کریمات کو پڑھئے جن میں قیامت کی ہولناکیوں اور مصیبتوں کو بھی نعمت سے تعبیر کیا گیا ہے اور اگر مزید ضرورت محسوس کریں تو ہمارا کتابچہ ” دوزخ کیا ہے ؟ “ کا مطالعہ کریں۔ انشاء اللہ تسلی ہوگی۔
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے لیے شریک بنائے کہ لوگوں کو اس کی راہ سے بھٹکائیں ، ان سے کہہ دو اچھا فائدہ برت لو تمہاری راہ آتش دوزخ ہی کی طرف ہے

اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمسر بنانے والوں کا بالآخر انجام کیا ہوگا ؟ 31 ؎ دنیا کیا ہے ؟ بار بار عرض کیا جا چکا کہ دنیا دارالعمل ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے دارالجزاء نہیں بنایا یہی وجہ ہے کہ بہت سے سخت سے سخت کافروں کو بھی دنیا میں سزا ملنا ہرگز ضروری نہیں اور مکافات عمل اس سے ایک علیحدہ چیز ہے۔ ” جعلو اللہ اندادا “ شرک کی مختلف صورتیں اور عجیب عجیب قسمیں مسلمانوں موحدوں کے خا ال میں ان کا آنا مشکل ہے۔ ایک شرک ستارہ پرستی کا ہے کہ زحل ‘ مشتری ‘ زہرہ وغیرہ مستقل دیویاں تسلیم کی گئ ہیں ایک شرک آفتاب پرستی ہے کہ آفتاب و مہتاب بھی بڑے بڑے دیوتا اور اس نظام کائنات میں دخیل و متصرف ہیں ایک شرک اوتار پرستی کا ہے کہ اللہ فلاں انسان فلاں حو ان کا قالب اختیار کر کے اس دنیا میں آگیا اور اتنی مدت تک زمین پر چلتا پھرتا پیتا رہا اور قبر پرستی اور پیر پرستی کا مرض تو وبائی ہے اور ظاہر ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہی ہے۔ لیضلوا میں ل عاقبت کا ہے یعنی ان کے اس ساتھ ٹھہرا لینے کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ یہ خود اور دوسرے راہ حق سے بھٹک کر رہیں اور بالاخر یہی نکلا اور ان کیلئے اب ابدی دوزخ کا عذاب ہے کہ ان کا اس کے اندر رہنا ہی قانون الٰہی میں طے پا گیا ہے۔ یہ نہ تو خود یہاں سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو کوئی یہاں سے نکال سکتا ہے کو قن کہ یہ اللہ کے بندے ہونے کے باوجود اللہ کے بندے نہ رہے بلکہ شیطان کے ہوگئے اور اس پر ان کا خاتمہ ہوا اور ان کو شرک سے توبہ کی توفیق نہ ہوئی۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یا اے مخاطب ان سے کہہ دیجئے کہ اس چند روز زندگی سے فائدہ اٹھا لو جو تم اٹھانا چاہتے ہو انجام کار تم کو آگ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی تمہارا اصل ٹھکانا ہے۔ اب کفار اور مشرکوں کے ذکر کے بعد رخ مسلمانوں کی طرف پھر رہا ہے۔
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

میرے بندوں کو جو ایمان لائے ہیں یہ پیغام پہنچا دو اس سے پہلے کہ وہ دن آ نمودار ہو جب کہ نہ تو کسی طرح کا لین دین کام دے گا نہ کسی طرح کی دوستی کہ وہ نماز قائم کریں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ظاہر و پوشیدہ طور پر خرچ کرتے رہیں

میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ دن آنے سے قبل کہ کوئی دوستی کام نہ آئے گی توبہ کر لو 32 ؎ یہ حکم نبی اعظم و آخر ﷺ کو دیا جا رہا ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے ساری امت کے ہر ہر فرد کو بھی ہے کہ وہ دوسروں تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ نمازوں کی پابندی کریں کہ اول وقت میں ساری شرطوں کے ساتھ اس کو قائم کریں اور جو کچھ ان کو دیا گیا ہے اس میں سے پوشیدہ یا اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں اس سے پہلے کہ وہ دن آئے کہ اس میں خریدو فروخت نہیں اور نہ اس روز کوئی دوستی کام آئے گی بلکہ خالص اور کامل انصاف ہی کا سکہ چلے گا۔ عبادی میں مومن بندوں کی اضافت حق تعالیٰ کا اپنی ذات سے کرنا ان کے غایت اکرام و شرف ہے اور ” ینفقوا “ میں نیک اور مطابق شریعت اسلام کاموں میں خرچ کرنا ہے اور یہ حکم انفاق قرآن کریم میں جہاں بھی آیا ہے ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق خرچ کرنا نہیں بلکہ بمطابق حکم الٰہی خرچ کرنا ہے اور ” مما رزقنھم “ رزق کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب منسوب کر کے اوپر بھی اشارہ کردیا کہ رزق حلال ہونا ضروری ہے جس میں حرام کمائی کا کوئی شائبہ بھی نہ ہو کیونکہ حرام کمائی کی نسبت اللہ سے جائز نہیں کیونکہ وہ اگر قانون مشیت الٰہی ہے لیکن رضائے الٰہی کے مطابق نہیں اور خرچ کرنے کی دونوں صورتیں جائز ہیں یعنی سرا ہو یا اعلاناً لیکن اس دن سے قبل خرچ کرنا چاہئے جس دن کو کسی انسان کی موت کا دن کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جس کو خرچ کرنا ہے اپنی موت سے قبل خرچ کرلے تو وہی کام آئے گا کیونکہ موت کا وقت ہی ایک ایسا وقت ہے اس وقت نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کوئی خریدو فروخت۔ اس سے اس جاہلی عقیدہ کی مکمل طور پر وضاحت ہوگئی مرنے والے کیلئے اس کے مرنے کے بعد اس کی بخشش کا سامان کیا جاسکتا ہے اور کیا جاتا ہے اور اس طرح موت کے وقت پیر و مرشد ہی کے ذریعہ سے کام نکالا جاسکتا ہے۔ دراصل یہ تخیل اسلام کا نہیں بلکہ یہ عقدطہ یہودیوں سے مسلمانوں نے مستعار لیا ہے کیونکہ دراصل یہ عقیدہ انہی کا تھا کہ پیغمبروں اور مقبولان الٰہی کی عزیزداری کام آجائے گی۔ ” یوم “ نکرہ ہے لیکن اس کو اس کی صفت نے معرفہ بنا دیا ہے اس پر دن مراد نہیں بلکہ وہ خاص دن مراد ہے جس دن میں خریدو فروخت اور کسی کی دوستی کچھ کام نہ آئے گی اس لئے اس دن سے وہ خاص دن مراد ہوگیا اب یہ بات باقی رہ گئی کہ کیا اس خاص دن سے مراد موت کا دن ہے یا قیامت کا دن تو بلاشبہ عام طور پر اس سے قیامت ہی کا دن مراد لیا گیا ہے لیکن اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ” من مات قد قامت قیامۃ “ جو شخص مر گیا اس کی قیامت تو آگئی کیونکہ اس کا تعلق دنیا سے منقطع ہوگیا اور آخرت کے ساتھ جڑ گیا لیکن ہمارے مفسرین نے اس جگہ قرآن کریم کی اس آیت سے عجیب استدلال کیا ہے چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ ” لاخلاء یومذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین (الزخرف 43 : 67) ” وہ دن جب آئے گا تو متعین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ “ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس جگہ تو بیان یہ کیا گیا ہے کہ متعین کے سوا باقی سب دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی لیکن متعین کی دوستیاں بحال رہیں گی اور زیر نظر آیت میں جو بیان جاری ہے وہ قیامت کے روز یا موت کے وقت دوستوں کی دوستی کے کام آنے کا بیان ہے اور ” کام آنے “ کا مطل تو سب جانتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی کی گرفت میں آجائے تو اس کی گرفت سے چھڑانے کو ” کام آنا “ کہا جاتا ہے اور یہاں بیان بھی یہی کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آنے والوں کو کوئی دوستی کام نہ آئے گی یعنی دنیا کی دوستی آخرت میں اگر کوئی شخص اپنے برے اعمال کے باعث پکڑ لیا گیا تو اس کے کام نہیں آئے گی۔ اس طرح دونوں باتوں کا فرق بالکل واضح ہے سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کو ملحوظ کیوں نہیں رکھا گیا۔ رہی سفارش تو وہ ایک الگ چیز ہے اور قرآن کریم اور سنت رسول اللہ ﷺ میں اس کے متعلق واضح بیان موجود ہے کہ کوئی سفارش نہیں کرسکے گا مگر باذن اللہ اور اللہ تعالیٰ سے اجازت ملنے کے بعد سفارش کا ہونا ایک الگ چیز ہے جس کے بیان کا اس جگہ کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 14:32

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

یہ اللہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور اوپر سے پانی برسایا جس کی آبیاری سے طرح طرح کے پھل پیدا کیے جو تمہارے لیے غذا کا سامان ہیں اور تمہارے لیے بحری جہاز مسخر کردیئے کہ اس کے حکم سے سمندر میں چلنے لگیں نیز دریا بھی تمہارے لیے مسخر کردیئے ہیں

توحیدالٰہی کے دلائل میں آسمان و زمین کی پیدائش اور بارش سے استدلال کیا گیا 33 ؎ اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا اور زمین کو بچھایا اور آسمانوں کی بلندیوں سے پانی اتارا ‘ ربوبیت الٰہی کی تین باتیں یہاں ذکر کی گئیں لیکن ایک سے ایک بڑھ کر ہے فرمایا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے نادر کرشموں میں غور و فکر کرو کہ ان میں سے کوئی ایک کرشمہ ہے جس میں کوئی انسان اس کام میں اللہ تعالیٰ کا شریک ہو اور یہ بھی کہ تمہارے سارے انسانوں کیلئے خواہ وہ کسی فکر کے ساتھ وابستہ ہوں ۔ مسلم ہوں یا یا غیر مسلم ہوں اللہ تعالیٰ نے کوئی تخصصی رکھی ہے کہ ان سے استفادہ کرنے کیلئے تم ایسا کرو گے تو فائدہ اٹھائو گے ورنہ تم اس زمین پر رہ نہیں سکتے صرف انہی لوگوں پر برسا یا جائے گا جو اس طرح کے لوگ ہوں گے۔ ربوبیت الٰہی کے یہ سارے نشانات دنیا کی ہرچیز کیلئے یکساں مفد ثابت ہو رہے ہیں اور مفید ثابت ہوتے رہیں گے گویا زیر نظر آیت اور اس سے آگے آنے والی آیت میں برہان ربوبیت کا استدلال ہے فرمایا اپنی زندگی کی احتیاجوں کو دیکھو اور پھر ربوبیت الٰہی کی بخششوں اور کافرمائیوں پر نظر ڈالو زندگی کی کوئی قدرتی احتیاج ایسی نہیں ہے جس کا قدرتی انتظام نہ کردیا گیا ہو اور کارخانہ عالم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو تمہارے لئے افادہ فیضان نہ رکھتا ہو حتیٰ کہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ہرچیز صرف اس لئے نہیں ہے کہ تمہاری کوئی نہ کوئی ضرورت پوری کر دے اور کسی نہ کسی شکل میں خدمت و نفع رسانی کا ذریعہ ہو۔ پھر کیا ممکن ہے کہ یہ سب کچھ بغیر کسی ارادہ کے ظہور میں آگیا ہو اور کوئی ربوبیت رکھنے والی ہستی موجود نہ ہو ؟ اور اگر ایک ایسی ہستی موجود ہے تو ہر طرح کی عبادتوں کی مستحق اس کی ذات ہے یا ان کی جو اپنی احتیاجوں میں خود کسی پروردگار کی پروردگار یوں کے محتاج ہیں اور پھر کشتیوں اور نہروں کے مسخر کرنے کا مطلب بھی واضح اور صاف ہے کہ ہر وہ چیز جو اس کشتی کے اندر استعمال کی گئی اور وہ عقل و فکر جس سے کام لے کر اس کو تشکیل کیا گیا سب کے سب اللہ کے مطیع و فرمانبردار ہیں اور اللہ نے ان اشیاء کے اندر ایسی صفات رکھی ہیں جو کبھی ان سے جدا نہیں ہو سکتیں اور اس طرح اگر اللہ نے ان کے اندر وہ صلاحیتیں نہ رکھی ہوتیں تو کوئی شخص ان سے وہ فائدہ ہاصل نہ کرسکتا اس لئے ان کشتیوں اور سمندری جہازوں کا چلنا بھی نشانات قدرت الٰہی کی نشانیاں ہوئیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جو زمین کا موجد اعلیٰ ہے زمین کو اس طرح بنایا کہ اس کا ایک طرف ہر جگہ نشیب کو جاتا ہے اور پھر زمین کے پہاڑوں کو اس طرح پیوست کردیا کہ وہ مانند کیل ثابت ہوئے زمین کو اتنا دبایا گیا کہ اس کے دبانے سے زمین کے ذخائر ابھر کر باہر آگئے اور انہی ذخیرہ کی گئی چیزوں میں ایک پانی بھی ہے۔ پانی کو اتنی بلندی پر جا کر گرایا تاکہ وہ نہروں اور دریائوں کی شکل اختیار کرے اور اس میں یہ خاصیت بھی رکھی کہ وہ ہمیشہ نشیب کو بہے اور لوگوں کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہوا جو باقی بچے تو وہ سمندر میں جا گرے اگر پانی میں یہ خاصیت نہ رکھی ہوتی تو یہ دریا اپنا قدرتی بہائو نہ رکھتے تو اس سے جو مشکلات پیدا ہوتیں ان کا ذرا تصور کر کے دیکھو کہ کیا ہوتا اور تمہارے کھیتوں کو کس طرح سیراب کیا جاتا اور زمین کیسے ہری بھری نظر آتی۔ فرمایا جس کی قدرت کے یہ سارے کام خود بخود چل رہے ہیں یعنی جن کے پلانے والا کوئی انسان نہیں بلکہ ایک حکم الٰہی ہے اور وہی کائنات کا رب ہے اس کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے انسان شرم کیوں محسوس نہ کرے اور اپنے جیسے انسانوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے لگے اور دوسروں کو اپنی حاجات میں دعوت دینے لگے اس کو اللہ رب العزت کا بندہ کیسے کہا جاسکتا ہے ؟
Ayah 14:33

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اسی طرح سورج اور چاند بھی مسخر کردیئے ہیں کہ ایک خاص دستور پر برابر چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کا ظہور بھی مسخر ہے

سورج اور چاند کو مسخر کرنے والا بھی اللہ ہی ہے جو تمہارے کام بنانے والا ہے 34 ؎ غور کرو کہ ” رزقا لکم “ سخر لکم میں بار بار لکم (تمہارے لئے) کا تکرا رکتنا معنی خیز ہے گویا بتایا جا رہا ہے کہ تم ہی مقصود کائنات ہو ‘ باقی سب کچھ جو تم کو نظرآ رہا ہے یعنی زمین ‘ آسمان ‘ سورج ‘ ستارے ‘ سیارے ‘ درخت ‘ پہاڑ ‘ سمندر اور دریا بلکہ اس کائنات کا ایک ایک ذرہ تمہارے کام میں مصروف ہے اور اللہ نے ان سب کے اندر ایسی کشش رکھی ہے کہ ہرچیز اپنی اپنی جگہ اپنا کام بڑی مستعدی سے ادا کر رہی ہے۔ زمین و آسمان کے اس خلاء کے اندر کتنے کتنے بڑے اجرام فلکی آپ کو نظر آئے ان کی کشش ایک دوسرے کو بحال رکھنے کا باعث ہے۔ یہ آسمان اور زمین ‘ چاند اور سورج ‘ دریا اور سمندر اور گردش لیل و نہار سب کے سب تمہارے خدمت گزار ہیں۔ اے انسان ! تو بھی اپنے دل سے پوچھ کہ تجھے کیوں پیدا کیوں کیا گیا ؟ اس لئے کہ تو سورج کو پوجتا رہے یا سورج دیوتا کو پوجتا رہے جو تیری چاکری میں مصروف ہے تو دریائوں کے سامنے جھکتا پھرے جو تیری خدمت کیلئے رواں دواں ہیں ‘ تو اپنے جیسے انسانوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتا رہے جو تیری ہی طرح خود محتاج ہیں یا تو ان ہی انسانوں کی قبروں پر سجدے کرتا پھرے تو تو ہی بتا کہ تیرے اور ایک بت پوجنے والے انسان میں فرق کیا رہا ؟ تیری شان تو اے انسان ! بڑی بلند اور تیرا مقام بڑا رفیع ہے سب کچھ تیرے لئے ہے اور تو اپنے خالق ومالک اللہ کیلئے کیا اچھا ہوتا کہ تو سجدہ ریز ہوتا کہ صرف اس خالق ومالک کے سامنے تو تجھے زیب دیتا اب تیری احسان شناسی اور شکر گزاری کا تقاضا یہ ہے کہ تو اس کا ہو رہے جس نے اس ساری کائنات کو بشمول تیرے بنایا اور پھر ہرچیز کی نگہبانی کر رہا ہے۔ اے انسان ! تو کیا تھا ؟ خلیفتہ اللہ اس لئے اللہ نے اس کائنات کی ہرچیز کو تیری خدمت کیلئے پیدا کیا پھر یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ تو الٹا انہیں کو سمجھ بیٹھے ! یہ سورج اور چاند جو بہت بڑے نظر آتے ہیں یہ بھی فی نفسہ تیری ہی خاطر گرداں ہیں یعنی اپنی عادت جاریہ پر ثبات و دوام رکھنے والے اپنی روشنی اور اپنی گرمی ‘ اپنی شرح رفتار اور اپنی دوسری طبعی خصوصیات سے ہمیشہ تجھے فائدہ پہنچاتے رہنے پر مجبور ہیں۔ پھر تف ہے تجھ پر کہ تو اپنے خادموں کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے اور ان کو اپنا رب مان لے۔ تو نے تو ایسا کر کے نہ صرف اپنے رب کی عزت و تکریم نہ کی بلکہ اپنی توہین کا بھی خود ہی باعث ہوا۔
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

غرض کہ تمہیں جو کچھ مطلوب تھا سب اس نے عطا فرما دیا ، اگر تم اللہ کی نعمتیں گننی چاہو تو وہ اتنی ہیں کہ کبھی ان کا احاطہ نہ کرسکو ، حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناانصاف اور بڑا ہی ناشکرا ہے

اللہ نے ضرورت کی ہرچیز تم کو دی اور تم اللہ کی نعمتوں کو گن نہیں سکتے 35 ؎ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہاری طلب کی ہرچیز تم کو دی اور وہ عظیم انعامات ہیں جو تمہارے عالم وجود میں قدم رکھنے سے پہلے بن مانگے تمہارے لئے مہیا کردیئے گئے لیکن ان کے علاوہ ہم تمہاری ان ضروریات کو بھی پورا کرتے ہیں جن کے متعلق تم ہم سے التجائیں کرتے ہو اور دعائیں مانگتے ہو اور اس کے انعامات و احسانات اتنے کثیر ہیں کہ تم اگر ان کا شمار کرنا چاہو تو نہ کرسکو تمہارے ہند سے ختم ہوجائیں اور تمہاری زبانیں گنتے گنتے تھک جائیں لیکن تم ان کی گنتی نہ کرسکو۔ انسان اگر اپنے گرد و پیش سے آنکھیں بند کر کے صرف اپنے وجود ہی میں غور کرے تو اسے معلوم ہوجائے کہ اس پر اس کے پروردگار کی نوازشات بیحد و حساب ہیں ذرا سوچو اگر مرد کے منہ پر بال ہی نہ اگیں اور عورت کے چہرے پر بال اگ آئیں تو پھر ؟ اگر ہاتھوں میں انگلیاں ہی نہ ہوں یا انگلیوں کے سروں سے ناخن ہی جھڑ جائین تو آپ کے بازو کی ساری قوت بےکار ہو کر رہ جائے۔ اگر منہ میں لعاب دہن (تھوک) ہی نہ پیدا نہ ہو تو کیا آپ کی زبان لکڑی کی طرح خشک ہو کر نہ رہ جائے گی۔ اگر آنکھوں پر چھپر نہ ہوں یا چھپر بھی ہوں لیکن چھپروں کے ساتھ پکیں نہ ہوں تو آپ آنکھوں کی حفاظت کیسے کرسکیں گے ؟ بہ ظاہر یہ کتنی معمولی چیزیں ہیں جن کی افادیت کے متعلق شاذ و نادر ہی ہم غور کیا کرتے ہیں جب ان کی اہمیت کا یہ حال ہے تو بڑی بڑی نعمتوں کی اہمیت کا آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ” بلاشبہ انسان بڑا ہی ناشکرا اور بڑا ہی ناانصاف ہے۔ “ انسان کے یہ دو وصف بیان کئے ہیں اور سورة النحل میں اپنے دو وصف ذکر کئے ہیں کہ ” ان اللہ لغفور رحیم “ گویا وہ آیت اس آیت کے ٹھیک مقابلہ میں اور انسان کی ناانصافی کے مقابلہ میں ہے اللہ کی مغفرت ور انسان کے کفران نعمت کے مقابلہ میں اللہ کی رحمت ہے والمقصود کانہ یقول ان کنت ظلوما فانا غفور و ان کنت کفارا فانا رحیم (کبیر) چاہئے تو یہ تھا کہ ہماری پیشانیاں اپنے حی وقیوم پروردگار کے حضور میں ہر وقت جھکی رہتیں۔ دل اس کی عظمت وکبریائی کے احساس سے لبریز رہتے اور زبانیں اس کی حمد وثناء کے گیت گاتی رہتیں لیکن یہ تو وہ خاک جس کی عزت افزائی کیلئے اتنے سامان کئے گئے یہ نراہی ظلوم و کفار ہے یہ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں یعنی بڑا ظالم سخت ناشکرا تم خود ہی انصاف سے بتائو کہ ایسے محسن اور کریم رب کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا یا اس کی نافرمانی کرنا ظلم عظیم نہیں اور اس کی گراں بہا نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے باوجود اس کی ناشکری کرنا کیا کفران نعمت کی حد نہیں ؟ الانان۔ انسان سے یہاں ہر فرد انسانی مراد نہیں بلکہ جنس انسانی ہے عام اس سے کہ اس ظلم اور کفران کا تحقق چند ایک میں پایا جائے یا زائد میں۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا مانگی تھی کہ اے میرے پروردگار ! اس شہر کو امن کی جگہ بنا دیجیو اور مجھے اور میری نسل کو اس بات سے دور رکھیو کہ وہ بتوں کی (غیر اللہ) کی پوجا کرنے لگیں

ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر جو مکہ کی آبادی کیلئے مانگی گئی تھی 36 ؎ پیچھے اس انسان کا ذکر تھا جو ” ظلوما کفارا “ تھا اور اب اس انسان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو کفر و شرک کی ہوا سے بھی دور رہنے والا ہے اور اس میں انسانیت کیلئے کتنا بڑا سبق موجود ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کفر و شرک سے ماورا نہیں ہوجاتے بلکہ برابر اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور کہنا چاہیے کہ اس خوف لغزش ہی نے ان کو معصوم رکھا ہے تو بھلا ہم دنیا داروں کا کیا ذکر جو ہر وقت نفس اور شیطان کی کمند میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے یہ دعا آپ (علیہ السلام) نے اس وقت کی جب اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو یہاں بسانے کیلئے لائے تھے ظاہر ہے کہ یہ شہر جس کی آبادی اور پر امن ہونے کی التجا کی جا رہی ہے وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا آبائی وطن نہیں ہے۔ ان کی اپنی رہائش تو یہاں نہیں ‘ ان کا خاندان ‘ ان کا مال اور ان کی جائیدادیں یہاں موجود نہیں ہیں بلکہ یہ اس شہر کیلئے التجا کی جا رہی ہے جہاں ان کے حقیقی معبود کا گھر ہے اور اس رب ذوالجلال والاکرام سے دعا مانگ رہے ہیں جو اس گھر کا رب ہے۔ فرما رہے ہیں کہ اے میرے رب ! وہ جگہ جو تیرے انوار کی تجلی گاہ ہے وہ وادی جہاں تیرے جلوئوں کا ہجوم ہے۔ وہ مقام جہاں تیرا حسن مائل بہ آشکارائی ہے وہاں سلامتی ہو ‘ وہاں امن ہو ‘ وہاں کے بسنے والے تیری یاد اور تیری عبادت میں کھوئے رہیں اور کسی تکلیف کا کاٹنا ان کے دامن احساس میں نہ چبھے۔ اے اللہ مجھے بھی اور میرے سارے بچوں کو بھی ان بتوں اور جن کے یہ بت بنائے گئے ہیں ان سب کی عبادت سے دور رکھ اور خصوصاً میرے اس بچے کو جس کو میں تیرے گھر کے قریب آباد کرنے کیلئے لایا ہوں اور پھر صرف یہ عرض نہیں کیا جا رہا کہ ہمیں بتوں اور جن کے بت بنائے گئے ہیں ان کی عبادت سے بچا بلکہ التجا یہ کی جا رہی ہے کہ اے اللہ ! ہمیں ان سے بہت دور رکھ کہ ہمارے خیال میں بھی اس غیر اللہ کا تصور نہ آنے پائے۔ معلوم ہوا کہ جب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کو یہاں آباد کرنے کیلئے لائے تھے اس سے پہلے آپ نے رئویا میں اس جگہ کو آباد کرنے کیلئے دیکھا تھا اور اس کو خوب اچھی طرح ذہن میں رکھا تھا اور وہاں پہنچ کر اللہ کے حکم سے اس بیت اللہ کے رب کریم ہی سے دعا والتجا کر رہے ہیں۔ یہ شہر خواہ اس کی کچھ ہی آبادی ہو بہرحال پہلے اس جگہ موجود تھا اور بیت اللہ بھی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے اسماعیل (علیہ السلام) کو آباد ہونے کے وقت یہاں موجود تھا اور آپ ﷺ نے اللہ کے حکم سے اسماعیل (علیہ السلام) کو اس جگہ آباد کرنا چاہا تھا اور اس وقت وہ یقینا بلاغت کو پہنچے ہوئے تھے اگرچہ اس وقت ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) نے وحی الٰہی کے مطابق اسماعیل (علیہ السلام) کو یہاں لا کر آباد کرنے کی سعی فرمائی تھی اور اس وقت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ سیدہ ہاجرہ ؓ بھی ساتھ تھیں۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے پروردگار ! ان بتوں (کے پوجنے والوں) نے بہت سے آدمیوں کو راہ حق سے بھٹکا دیا ہے تو جو میرے پیچھے چلا وہ میرا ہوا جس نے میرے طریقہ سے نافرمانی کی تو تو بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے

دعا بھی جاری ہے اور فرما رہے ہیں اے اللہ ! کتنے ہی لوگوں کو انہوں نے گمراہ کر رکھا ہے ؟ 37 ؎ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ابھی جاری ہے فرماتے ہیں اے میرے رب ! یہ بت اور صاحب بت ان لوگوں کی گمراہی کا سبب اور ذریعہ بن گئے ہیں یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے عمداً اور قصداً کسی کو گمراہ کیا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ شرک کا باعث ہوتے ہیں اور ساتھ پوری دنیا میں کثرت غیر اللہ کی پرستش کرنے والوں کی ہی رہی ہے ایسا کیوں ہوا ہے ؟ اس لئے کہ اکثریت اکثر بےعقلوں اور بےشعوروں ہی کی رہی اور وہ چاہتے تھے کہ ہم اللہ کی عبادت کریں تو کچھ دیکھ کر کریں کیونکہ ان دیکھا اور ان سمجھا خدا ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اور سمجھانے والوں نے ان کو سیدھی راہ کی طرف جانے ہی نہ دیا تاکہ ان کا کام بنا رہے۔ فرمایا اے اللہ ! جس نے میری تابعداری کی بلاشبہ وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو ظاہر ہے کہ اسنے تیری ہی نافرمانی کی لیکن میری زبان یہ زیبا نہیں دیتی کہ تیری نافرمانی کا ذکر میری زبان پر آئے اس لئے میں یہی کہوں گا کہ جو لوگ میری نافرمانی کرتے ہیں تو تیرے پاس کیا کسی چیز کی کمی ہے کہ تو بلاشبہ مغفرت والا اور پیار کرنے والا ہے۔ اگر تو چاہے تو ان کی مغفرت کا سامان پیدا کر دے وہ اس طرح کہ تو ان کو توبہ کی توفیق مرحمت فرما دے تاکہ وہ تیرے دین حق کے پیروکار ہوجائیں تو تیرے لئے کیا مشکل ہے ؟ دعا میں ابراہیم (علیہ السلام) مصروف تھے کہ اچانک دوسروں کو بھی اپنی دعا میں شامل کرلیا۔