Ayah 13:28ایمان لانے والوں کے دل مطمئن ہیں اور ذکر الٰہی ان کے دلوں کے اطمینان کا باعث ہے
46 ؎ انسانی زندگی کا مطالعہ کروتم دیکھو گے کہ انسان زندگی کی آسائش و آرام کیلئے کیا کچھ ہے جو نہیں کرتا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس کے اختیار میں ہے وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ آرام و آسائش اس کو مل جائے جس سے دل کو قرار آئے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بےانتہا کوششوں کے باوجود اور ان گنت آسائشوں اور آرام حاصل کرنے کے باوجود دلوں کو قرار نہیں آتا بلکہ دل کے سارے امراض بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں جدھر دیکھو پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ مال و دولت کے ڈھیروں ‘ زمینوں اور کارخانوں اور اقتدار کی کرسیوں میں دل کا اطمینان موجود نہیں پھر وہی بات ہوئی کہ گم ہونے والی سوئی جس جگہ گم ہوئی وہاں اندھیرا ہے اس لئے روسنی میں اس کو تلاش کرنا ہوگا پھر روشنی وہاں موجود نہیں تو کیا جہاں روسنی ہے وہ وہاں سے مل جائے گی ؟ کبھی نہیں کیونکہ اگر اس کو ملنا ہے تو وہیں سے جہاں وہ گم ہوئی ہے اور آپ کو وہاں روشنی کرنا ہوگی تاکہ تمہاری گم شدہ سوئی مل سکے۔
تمہاری کیا چیز گم ہوئی ؟ اطمینان قلبگم ہوگیا اور اس کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور ہر جگہ اس کو تلاش کیا۔ مال سے دولت سے ‘ زمینوں سے ‘ باغات سے ‘ کو ٹھیوں سے ‘ کاروں سے ‘ کارخانوں سے ‘ اقتدار کی کرسیوں کے نیچے لیکن کیا وہ کہیں سے مل بھی گیا ؟ ہرگز نہیں کیوں ؟ اس لئے کہ یہ اس کی جگہ نہیں جہاں ” اطمینان قلب “ تم کو مل جائے فرمایا اطمینان قلب چاہتے ہو تو اللہ کا ذکر اختیار کرو اور یاد رکھو اطمینان قلب صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے مل سکتا ہے۔ جب تک دل میں شک کا کانٹا چبھتا رہتا ہے انسان کو کسی پہلو قرار نہیں آتا اور جب یقین کا اجالا ہوتا ہے تو سارے اضطراب ختم ہوجاتے ہیں اور ساری بےچینیاں دو رہو جاتی ہیں۔ فرمایا ذکر الٰہی سے دل میں اطمینان اور سکون پیدا ہوتا ہے یہی وہ نور ہے جس سے شبہات کے اندھیرے بھاگ جاتے ہیں یہی وہ غذا ہے جس سے روح کو تقویت ملتی ہے اور انسان میں مضمر صلاحیتیں نشو ونما پاتی ہیں اور جوان ہوتی ہیں۔ اس سے انسان میں وہ جلال اور قوت نمودار ہوتی ہے جس سے شیطان پر لرزہ طاری ہوتا ہے اور اس کے منصوبے خاک میں مل جاتے ہیں۔ دنیا کی ساری نعمتوں میں سے اطمینان قلب سے عظیم نعمت ہے۔ دولت ‘ عزت ‘ صحت اور کثرت اولاد کے باوجود بھی روح کو سکون اور دل کو چین نصیب نہیں ہوتا صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی وہ آب حیات ہے کہ جس سے سیر کام ہونے والا پھر کبھی بھی تشنگی ‘ کوئی خلجان اور کوئی گھبراہٹ محسوس نہیں کرتا وہ تختہ دار پر بھی اور آتش کدہ نمرود میں بھی مسکراتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اللہ کا ذکر کیا چیز ہے ؟ کیا اللہ اللہ کی ضربیں لگانے سے اللہ کا ذکر ہوتا ہے ؟ تسبیح کے دانوں پر اللہ اللہ یا کوئی دوسرا درود و وظیفہ کرنا اللہ کا ذکر ہے ؟ کیا زندہ درگور ہوجانا اللہ کا ذکر ہے ؟ کیا ڈھولک کی تھاپ پر ناچنا اور گانا اللہ کا ذکر ہے ؟ کیا قبروں وار مزاروں ‘ ویرانوں اور بیابانوں میں بیٹھ کر ‘ پھر کر ‘ راتیں گزارنا اللہ کا ذکر ہے ؟ یہ اور ان جیسے بیسیوں سوالوں کا جواب بھی نفی ہی میں دیا جائے گا اور ” ذکر اللہ “ صرف یہ ہوگا کہ انسنا قلب کو غیر الہ کی طرف سے متوجہ ہونے کے الجھائو سے بچا لے تو انشاء اللہ یقینا اطمینان قلب حاصل ہوجائے گا۔ آزمائش شرط ہے۔ یہ فقرہ یاد کرلیں انشاء اللہ سارے دکھوں اور سارے دردوں کی دوا اسی میں ہے اگر آپ نے اس کو سمجھ لیا ہاں ! اگر سمجھ میں نہ آئے تو بندہ خدمت کے لئے حاضر ہوگا انشاء اللہ العزیز وار وہ فقرہ یہ ہے کہ ” انسان قلب کو غیر اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے الجھائو سے بچا لے “۔ پھر اس کی جگہ کیا ہوئی ؟ غور کرو گے ‘ تسلیم کرو گے کہ ” دل “ بشرطیکہ وہ زندہ ہوا۔
Ayah 13:29آخرت کی خوش حالیاں انہی لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے
47 ؎ دنیوی زندگی کی وہ متاع جو آخرت میں کام آنے والی ہے وہ دولت کے خزانے ‘ زمینیں ‘ باغات اور سونے چاندی کے ڈھیر اور اس طرح مسند اقتدار ‘ سیاسی یا مذہبی راہنمایاں نہیں بلکہ وہ ایمان باللہ وار عمل صالحہ ہے جس نے اس کو اختیار کرلیا وہ یقینا کامیاب و کامران رہا اور یہی لوگ ہیں کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور دل پرسکون ہوں گے اور یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن کریم میں ” طوبیٰ “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور ” طوبیٰ “ مصدر ہے ” یشریٰ “ اور ” زلفی “ کی طرح جو ” طاب “ سے بنا ہی اور حدیث شریف میں جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کا نام بھی ” طوبیٰ “ ہے۔
ع طوبیٰ درخت تیرے واسا یہنی وادی سر میرے
آخرت کی ساری خوشیاں تو ان ہی لوگوں کو حاصل ہوں گی جن کو آخرت میں ٹھہرنے کا اچھا ٹھکانا نصیب ہوگیا۔
Ayah 13:30پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ امت مسلمہ کی طرف رسول بنائے گئے ‘ آپ ﷺ ان کو پیغام الٰہی سنائیں
48 ؎ اے پیغمبر اسلام ! آپ کو اللہ نے اپنا رسول منتخب فرما کر اک امت کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ﷺ ان کو پیغام الٰہی سنا دیں۔ آپ ﷺ اس طرح کے رسول ہیں جس طرح کے رسول آپ ﷺ سے پہلے بھی بھیجے جا چکے اور آپ ﷺ کی امت سے پہلے کتنی ہی امتیں تھیں جو گزر چکیں آپ بھی اپنی امت کو وہ کلام پڑھ کر سنائیں جو آپ ﷺ پر وحی کیا گیا یعنی قرآن کریم کے احکام پڑھ کر ان کو سنائیں اور وہ جو رحمن کے ساتھ کفر کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو بتا دیں کہ رحمن اور اللہ دونوں ایک ہی طاقت و قوت کے دو الگ الگ نام ہیں لیکن اس سے وہ طاقت تقسیم نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ کوئی تقسیم کرنے والی چیز ہے۔ آپ چاہیں اس کو رحمن کہیں اور چاہیں اللہ۔ مفہوم میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
دراصل وہ رحمن نام سے الرجک ہیں حالانکہ وہی آپ ﷺ کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں
49 ؎ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام جو ساری امتوں اور قوموں میں ایک جیسا معروف و مشہور تھا اور ہے وہ تو ” اللہ “ ہی ہے لیکن اس کے ان گنت نام ہیں جو اسکی صفات کے پیش نظر اس کے رکھے گئے۔ اسی طرح رحمن بھی اس کا یعنی ” اللہ “ کا صفاتی نام ہے ایسا نہیں کہ ” اللہ “ اور ہے اور ” رحمن “ اور ۔ یہ ان لوگوں کی شرارت ہے جو شرارتی ذہن رکھتے ہیں اور ان کے ذہن و دماغ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی نئی شرارت جنم لیتی رہتی ہے۔ ابوجہل نے سنا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ بیت اللہ کے قریب کھڑے ہو کر دعا مانگ رہے ہیں کہہ رہے ہیں یا اللہ ‘ یا رحمن تو اس نے یہ سمجھ لیا کہ شاید محمد رسول اللہ اللہ کے ذہن میں کوئی تبدیلی آگئی کہ چلایا ایک ایک کی بات کہنے والے نے دوسرے کا نام بھی تو لیا اس لئے اس نے ساتھیوں سے جا کر کہا کہ آج میں تم کو ایک عجیب بات بتائوں ‘ وہ یہ کہ محمد نے بھی دو خدائوں کا پکارنا شروع کردیا اور اس کا نام اس نے رحمن رکھا حالانکہ اج تک رحمن نام کا کوئی خدا ہم نے نہیں سنا تھا۔ گویا ان کو تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی۔ سچ ہے کہ مشرک کو جتنادکھ اور قلق اللہ وحدہ لا شریک اللہ کے نام سے ہوتا ہے اور کسی بات سے اتنا دکھ نہیں ہوتا کیونکہ ” اللہ “ کو تو وہ بھی مانتے تھے لیکن اس کو ” احد “ نہیں مانتے تھے بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساجھی اور بھی تسلیم کرتے تھے۔ اگر غور کرو گے تو آج کے مشرک بھی سب سے زیادہ ” اللہ “ کے ساتھ وحدہ کی ضرب کو برداشت نہیں کرسکتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ نے اپنے ساتھ بہت سے اپنے اولالء اور دوست جو بنائے ہیں اور ان کے ذمہ جو کام لگائے ہیں یہ بھی اس کے پیارے ہیں لہٰذا ان کا نام بھی ساتھ لینا ضروری ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اعلان فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا نہیں اور میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھے اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اسی کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔
Ayah 13:31قرآن کریم کا نزول ہدایت کیلئے ہے پہاڑ چلانے اور مردے زندہ کرنے کیلئے نہیں
50 ؎ قرآن کریم نے جن پرانی سے پرانی قومی بیماریوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک یہ بیماری بھی ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کوئی نبی بھیجا گیا تاکہ ان کو راہ ہدایت دکھائے تو انہوں نے اپنے وقت کے نبی و رسول سے ہمیشہ اوٹ پٹانگ سوال کئے جن سوالوں کا نبوت و رسالت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہی صورت حال خود نبی اعظم و آخر ﷺ کو پیش آئی۔ آپ ﷺ نے رسالت کا دعویٰ کیا اور اپنے دعویٰ پر پے درپے اتنے دلائل پیش کئے کہ ان کو انکار کی کوئی گنجائش نہ رہی یسا کہ قبل ازیں ذکر کیا گیا کہ اپ ﷺ کا وجود مسعود اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والا کلام آپ ﷺ کی سیرت و کردار ایک سے ایک بڑھ کر دلیل نبوت و رسالت پیش کر رہے تھے لیکن شیطان نے ان کو یہ شرارت سکھائی کہ تم رسول اللہ سے یہ سوال کرو کہ مکہ کی سرزمین ہموار ہے ؟ جدھر دیکھو پہاڑ ہی پہاڑ نظر آ رہے ہیں اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو ان پہاڑوں کو حکم دیں کہ یہ یہاں سے ٹل جائیں اور زمین ہموار ہوجائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔ پھر اس طرح کی باتیں جب کفار کے منہ سے صحابہ کرام (رح) سنتے تو ان کے دل میں بھی اس طرح کے خیال پیدا ہوتے کہ اللہ قادر ہے اور اس کی قدرت سے کیا بعید ہے اگر ان کی فرمائش مان لی جائے تو شاید وہ اسلام قبول کرلیں اور ہمارے دن پھرجائیں بلاشبہ یہ مسلمان بھی بالکل سادہ لوگ تھے اور سادگی ہی کے باعث ان کے خیال میں یہ بات آئی ہوگی ورنہ سیدھی بات تو یہی ہے کہ جن چیزوں کا علق نبوت و رسالت سے نہیں ان کو گر دکھانے سے اور طرح کے سوالات بھی پیدا ہو سکتے اور نہ ماننے والے ایک دو نہیں کتنی ہی باتیں بنا سکتے تھے اور آئیں بائیں شائیں کر کے نکل سکتے تھے بلکہ بارہا انہوں نے ایسا کیا بھی۔
حقیقت یہی تھی کہ ان کو راہ ہدایت کی طرف لانے کیلئے ان باتوں میں مصروف کرنا اور خود ایسی باتوں میں مبتلا ہونا سوائے ناسمجھی کے اور کچھ نہ تھا ان کو بار بار سمجھایا جاتا کہ سوال وہ کرو جو دعویٰ کے متعلق ہو اور وہ باتیں مت بنائو جن کا فی نفسہ اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔
اللہ ان کو مجبور کر کے ایمان کی طرف نہیں لانا چاہتا ورنہ یہ بات اللہ پر کیا مشکل تھی
51 ؎ مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ کفار تو جو سوال اٹھاتے ہیں اٹھاتے ہی ہیں لیکن آپ کو اس طرح کے شبہات تو نہیں گزرنے چاہئے تھے۔ تمہاری سمجھ میں یہ کیوں نہیں آتا کہ اللہ اگر ان لوگوں کو مجبور کر کے ایمان کی طرف لانا چاہتا تو آج سے یہ کب کا ہوگیا ہوتا۔ بات صرف یہ ہے کہ جو کسی کو مجبور کر کے کرایا جائے وہ جو آپ چاہیں اس کا نام رکھیں لیکن اس کا نام ایمان نہیں ہوسکتا عقل سے کام لو اور بات کو سمجھو ایمان نام ہے آزادی اور مرضی سے کسی چیز کو ماننا یا اس سے انکار کردینا۔ یعنی آپ ہدایت ان لوگوں کے سامنے پیش کریں آپ کا کام صرف اتنا ہی ہے جب آپ ﷺ نے ہدایت پیش کردی تو اپنا کام مکمل کردیا اب ماننا نہ ماننا ان کی مرضی ہے اگر وہ چاہیں گے ان کا دل مانے گا تو مان لیں گے ورنہ انکار کردیں گے اگر اللہ مجبور کر کے منوانا چاہتا تو یہ بات اس کے سامنے آخر کیا مشکل تھی۔ دنیا میں کتنی مخلوقات ہیں اپنے اردگرد خیال کر کے اندازہ کرو کہ تم ان سب کو گننا چاہو تو گن نہ سکو پھر آپ دیکھ رہے ہیں کہ اللہ نے ان سب کو جس جس کام پر مجبور کر کے لگایا ہے وہ وہ کام وہ کر رہے ہیں اگر ارادہ اور اختیار دیا ہے تو صرف انسان کو ‘ یہی وجہ ہے کہ وہ مکلف بنایا گیا اگر یہ ارادہ اور اختیار اس سے چھین لیا جائی تو وہ انسان نہیں رہتا اور نہ ہی اس کو مکلف کہہ سکتے ہیں آپ بھی عجیب سوال اٹھاتے ہیں بچوں کی طرح کہ دودھ میں پانی ڈال دو چلو ڈال دیا تو فوراً کہو اچھا دودھ سے پانی نکال دو ۔ یہی بات تمہاری ہوئی کہ پہاڑوں کو اٹھا کر طائف میں رکھ دو ‘ اچھا قصی بن کلاب کو قبر سے اٹھا دو تاکہ وہ ہمارے ساتھ باتیں کرے۔ ہمارے راستے ہموار نہیں ہیں اور اس طرح صاف نہیں ہیں ان کو ہموار کر دو ۔ یہ باتیں تم بہکی بہکی تو خود کر رہے ہو اور نئے نئے مطالبات اور انہونی باتیں کرتے ہو اور پھر اس پر اصرار اور ضد کئے جاتے ہو ایک بار کان کھول کر سن لو کہ اگر ان لوگوں سے ارادہ اور اختیار چھین کر ان کو اسلام کے ماننے پر مجبور محض کیا جائے اور یہ مجبور ہو کر وہ سب کچھ کرنا شروع کردیں تو یہ ان کی مجبوری اور معذوری ہوگی اس کو ایمان نہیں کہا جائے گا پھر یہ بھی کہ اگر ایسا کر کے دکھایا جائے تو کیا پھر یہ لوگ ایسا نہیں کہیں گے کہ واہ بھائی واہ ! یہ تو بہت بڑا جادوگر ہوگیا ہے ہم تو اس کو اتنا بڑا جادوگر کم از کم نہیں سمجھتے تھے تو کیا اس چیز کا نام ایمان ہے ؟
شرارتی تو شرارتیں کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اللہ کا عذاب ان کو لپیٹ میں لے لے
52 ؎ مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ کٹ حجتیاں کرنے والے اس طرح کی کٹ حجتیاں کرتے رہین گے اور ایک کے بعد دوسرا مطالبہ کرتے رہیں گے کیونکہ ان کے دل و دماغ میں تسلیم کرلینے اور مان لینے کا کوئی تصور بھی نہیں ہے یہ نت نئے مطالبات کرنے والے دراصل اسلام کے ساتھ شغل کر کے دوسروں کو بھی اس شغل میں مصروف کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ کود بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس کا مقصد ہدایت پانا نہیں بلکہ شرارت کرنا ہے۔ اللہ سارے انسانوں کو کسی ایک طریقہ پر مجبور کر کے لگانا نہیں چاہتا بلکہ اس نے جو ہدایت کی کتاب دنیا کے سامنے پیش کی ہے اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگ سوچ سمجھ کر ہدایت کی طرف آئیں وہ لوگوں کو بھیڑ بکری نہیں بنانا چاہتا۔ تم خوب سمجھ لو کہ کتاب اللہ ہدایت خلق کیلئے نازل ہوئی ہے عجائب ‘ آفرینیوں کیلئے نہیں نازل ہوئی۔ اگر کوئی کتاب اس لئے نازل کی ہوتی کہ پہاڑوں کو چلائے اور مردوں سے صدائیں نکال دے تو تم پر بھی ایسی ہی چیز اترتی لیکن نہ ایسا ہوا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ اس طرح کی عجائب آفرینیوں کی فرماش اس بات کی دلیل ہے کہ دلوں میں سچائی کی طلب نہیں اگر طلب ہوتی تو پہاڑوں کے چلنے کا انتظار نہ کرتے یہ دیکھتے کہ انسانوں کے دلوں کو یہ کتاب کس راہ چلاتی ہے اور مردہ جسموں کی جگہ مردوں روحوں کو کس طرح زندہ کردیتی ہے کیونکہ قرآن کریم روح کی غذا ہے تاکہ روح زندہ رہے کہیں مر نہ جائے اور یہ کہ جن کی روح مر گئی ان کے جسم خواہ کس عیش و نشاط میں رہے ان کو زندہ نہیں کہا جاسکتا۔
فرمایا یہ لوگ اس طرح کی ہٹ دھرمیاں کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ آجائے جس کو عذاب الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جو ہر قوم کیلئے ایک طرح کا نہیں تھا اگرچہ اس کا نتیجہ ایک ہی جیسا برآمد ہوا اور وہ تھا ان کی تباہی و بربادی۔ آپ گزشتہ ساری دعوتوں کو ایک ایک کر کے پڑھو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ بلاشبہ ان کے عذاب کی کیفیت اگرچہ مختلف تھی لیکن نتیجہ ایک ہی جیسا تھا اور اب بھی ایک ہی جیسا ہے کہ یا تو ان کی موت ہوگی اور یا پھر ان کو قیامت کے ساتھ دوچار کردیا جائے گا جو پوری قوم کی زندگی کیلئے تباہی کا باعث ثابت ہوگی۔
Ayah 13:32اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ سے پہلے بھی پیغمبروں کی ہنسی اڑائی گئی اور دیکھو کہ ان کا انجام کیا ہوا ؟
53 ؎ زیر نظر آیت میں گزشتہ آیت کے مضمون کی مزید تشریح فرما دی اور فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ حالات جو آپ کو درپیش ہیں کچھ آپ ہی کو پیش نہیں آئے ‘ آپ ﷺ سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو بھی اس طرح کے حالات سے سابقہ پڑتا رہا کہ مجرموں اور منکروں کو ان کے جرم پر فوراً نہیں پکڑا گیا اور وہ انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے۔ جب وہ انتہا کو پہنچ گئے تو پھر ان کو عذاب الٰہی نے پکر لیا اور ایسا پکڑا کہ کسی کو مقابلہ کی تاب نہ رہی۔ ان علاقوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھو جن علاقوں میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مسکن اور ان کی دعوتوں کے مرکز تھے اور ان سرکش اور نافرمان قوموں کی عبرتناک تباہی و ہلاکت کی داستان تاریخ کے صفحات ‘ اثری کتبات اور عمارتوں کے کھنڈروں میں یکساں ثبت ہیں اور پھر ایک بات یاد رکھنے کی یہ بھی ہے کہ جن قوموں کو پکڑ لیا گیا تھا ان کو بھی معاً گرفت نہیں ہوگئی انہیں ایک مدت تک برابر مہلت ملتی رہی جس سے ان کا تمردو عصیان اور بڑھتا ہی گیا تا آنکہ کوئی گنجائش ہی عذر و ترحم کی نہ رہ گئی۔
ان مثالوں سے چاہئے تو یہ تھا کہ موجودہ کفار اور معاندین بھی اپنے انجام سے غافل نہ ہوتے لیکن ایک زمانہ آئے گا جب صلتیں ختم ہوجائیں گی اور سزا اپنے وقت موعود پر مل کر رہے گی اور جو انجام پہلوں کا ہوا تھا ان کا بھی ہوجائیگا۔
Ayah 13:33جس ہستی کے علم کا یہ حال ہو کہ وہ ہر آن سارے عملوں سے واقفہو اس کا کوئی ہمسر کیسے ؟
54 ؎ پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے یعنی جو ایک شخص کے حال سے فرداً فرداً واقف ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی نیک آدمی کی نیکی چھپی ہے اور نہ کسی بد آدمی کی بدی اس کے مقابلہ میں یہ جسارتیں کی جا رہی ہیں یعنی یہ کہ اس کے ہمسر اور مدمقابل تجویز کئے جا رہے ہیں اس کی ذات اور صفات اور حقوق میں اس کی مخلوق کو شریک کیا جا رہا ہے اور اس کی خدائی میں رہ کر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو کچھ چاہیں کریں ہم سے کوئی بازپرس کرنے والا نہیں۔ لوگوں نے اس کے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں ؟ اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو اگر واقعی وہ خدا کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو ذرا ان کے نام لو کہ وہ کون ہیں ؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبر دے رہے ہو جسے وہ اپی زمین میں نہیں جانتا ؟ یا تم لوگ بس یونہی جو منہ میں آا ہے کہہ ڈالتے ہو ؟ یعنی اس کے شریک جو تم نے تجویز کر رکھے ہیں ان کے معاملے میں تین ہی صورتیں ممکن ہیں :
1۔ یہ کہ تمہارے پاس کوئی مستند اطلاع آئی ہو کہ اللہ نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنی صفات یا اختیارات یا حقوق میں شریک قرار دیا ہے اگر یہ صورت ہے تو ذرا براہ کرم ہمیں بھی بتائو کہ وہ کون کون اصحاب ہیں اور ان کے شریک خدا کئے جانے کی اطلاع آپ حضرات کو کس ذریعہ سے پہنچی ہے۔
2۔ یہ کہ اللہ کو خود خبر نہیں ہے کہ زمین میں کچھ حضرات اس کے شریک بن گئے ہیں اور اب آپ اس کو یہ اطلاع دینے چلے ہیں۔ اگر یہ بات ہے تو تم بھی صفائی کے ساتھ اپنی اس پوزیشن کا اقرار کرو پھر ہم بھی دیکھ لیں گے کہ دنیا میں کتنے ایسے احمق نکلتے ہیں جو تمہارے اس سراسر لغو مسلک کی پیروی پر قائم رہتے ہیں۔
3۔ اگر یہ دونوں باتیں نہیں ہیں تو تیسری صورت یہ باقی رہ جاتی ہے کہ تم بغیر کسی سند اور بغیر کسی دلیل کے یونہی جن کو چاہتے ہو خدا کا رشتہ دار ٹھہرا لیتے ہو جس کو چاہتے ہو داتا اور فریاد رس کہہ دیتے ہو اور جس کے متعلق چاہتے ہو تم یہ دعویٰ کردیتے ہو کہ فلاں علاقے کے سلطان فلاں صاحب ہیں اور فلاں کام فلاں صاحب کی تائید و امداد سے بر آئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جس پر اللہ راہ بند کر دے تو راہ کون دکھائے ؟
55 ؎” حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کیا ہے ان کیلئے ان کی مکاریاں خوش نما بنا دی گئی ہیں “۔ اس شرک کو مکاری کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ دراصل جن اجرام فلکی ‘ فرشتوں ‘ ارواح یا بزرگ انسانوں کو خدا کی صفات و اختیارات کا حامل قرار دیا گیا ہے اور جن کو خدا کے مخصوص حقوق میں شریک بنا لیا گیا ہے ان میں سے کسی نے بیں کبھی نہ ان صفات و اختیارات کا دعویٰ کیا ہے ‘ نہ ان حقوق کا مطالبہ کیا اور نہ لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ تم ہمارے آگے پرستش کے مراسم ادا کرو ہم تمہارے کام بنا دیا کریں گے اور تمہاری بگڑی سنوار دیا کریں گے۔ یہ تو چالاک انسانوں کا کام ہے کہ انہوں نے عوام پر اپنی خدائی کا سکہ جمانے کیلئے اور ان کی کمائیوں سے حصہ بنانے کیلئے کچھ بناوٹی خدا گھڑ لئے ہیں اور لوگوں کو ان کا معتقد بنایا ہے اور اپنے آپ کو کسی نہ کسی طور پر ان کا نمائندہ ٹھہرا کر اپنا الو سیدھا کیا ہے اور ایک وجہ شرک کو مکر سے تعبیر کرنے کی یہ ہے کہ دراصل یہ ایک فریب نفس ہے اور ایک چور دروازہ ہے جس کے ذریعہ سے انسان دنیا پرستی کیلئے اخلاقی بندشوں سے بچنے کیلئے اور غیر ذمہ دارانہ زندگی بسر کرنے کیلئے راہ فرار نکالتا ہے اور تیسری وجہ جس کی بناء پر مشرکین کے طرز عمل کو مکر سے تعبیر کیا گیا ہے آگے آتی ہے۔
” اور وہ راہ راست سے روک دیئے گئے ہیں “۔ اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جب انسان ایک چیز کے مقابلہ میں دوسری چیز کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کو مطمئن کرنے کیلئے اور لوگوں کو اپنی راست روی کا یقین دلانے کیلئے اپنی اختیار کردہ چیز کو ہر طریقہ سے استدلال کر کے صیحم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی رد کردہ چیز کے خلاف ہر طرح کی باتیں چھانٹنی شروع کردیتا ہے۔ اس بناء پر فرمایا گیا ہے کہ جب انہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کردیا تو قانون فطرت کے مطابق ان کیلئے گمراہی اور اس گمراہی پر قائم رہنے کیلئے ان کی مکاری خوش نما بنا دی گئی اور اس فطری قانون کے مطابق راہ راست پر آنے سے روک دیئے گئے۔ اس وقت بھی کتنی ہی مکاریاں ہیں جو محض اس اصول کے تحت معرض وجود میں آئیں اور آج لوگ ان پر سختی سے قائم ہیں اور ان کے خلاف خدا بھی بات سننے کیلئے تیار نہیں۔ معمولی چیزیں تو شمار سے باہر ہیں لیکن بڑی بڑی مکاریوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ مثلاً یہ کہیں گے اور بڑے دھڑلے سے بیان کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق نہیں اور یہ کہ فعل خلق میں کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا شرک جلی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کریں گے کہ عیٰہ (علیہ السلام) نے فلاں چیز اللہ کے حکم سے پیدا کی۔ دیکھو قرآن کریم میں کتنے واضح الفاظ میں موجود ہے کہ ” انی اخلق لکم “
یہ کہیں گے اور بڑے زوردار الفاظ میں کہیں گے زندگی اور موت دینے والا صرف اور صرف اللہ ہے کسی دوسرے کو زندگی اور موت دینے والا ماننا شرک جلی ہے اور پھر اس پر دلائل دینے لگیں گے تو قرآن کریم اور احادیث سے ثبوت بھی پیش کریں گے اور ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کریں گے کہ دیکھو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی تو مردوں کو زندہ کرتے تھے اور پھر کتنے مردوں کا ذکر بھی کریں گے کہ فلاں فلاں مردے انہوں نے زندہ کئے تھے اور ساتھ ہی یہ کہہ کر سارا معاملہ ختم کردیں گے کہ وہ ” باذن اللہ “ زندہ کرتے تھے اور یہ معجزات آپ کو عطا کئے گئے تھے آپ کے اختیار میں نہیں دیئے گئے تھے۔ کوئی پوچھے کہ جہاں اللہ کی خالقیت کے سوا دوسروں کی خالقیت کی نفی کی گئی ہے کیا وہاں کوئی استثناء کی گئی ہے کہ کوئی پیدا نہیں کرسکتا مگر باذن اللہ ! اگر نہیں تو یہ سابقے اور لاحقے لگانے کیلئے اللہ نے تم کو بھیجا ہے حالانکہ سیدھی سی بات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کفر کو موت اور اسلام کو زندگی سے تعبیر کیا ہے کسی کو کفر سے نکالنا انسان کے اختیار میں نہیں لیکن اگر اللہ ہے تو کسی کو سیدھی تفہیم بھی کرا دے اور انبیاء کرام (علیہ السلام) اور اللہ کے نیک بندوں کا کام بھی یی تھا اور ہے کہ لوگوں کو کفر سے نکالنے اور اسلام کی طرف آنے کی دعوت دیں۔ بلاشبہ وہ دعوت دیتے ہیں اور پھر باذن اللہ جس کی قسمت میں موجود ہوتا ہے ہدایت پا جاتا ہے اور جس کے متعلق کفر کا فیصلہ ہوچکا ہے وہ کفر ہی پر قائم رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ جس نے اسلام کو قبول کیا اس نے زندگی پائی اور جو کفر پر قائم رہا وہ مر گیا اور اس طرح کا مارنا اور زندہ کرنا انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذمہ تھا اور وہ یہ کام باذن اللہ انجام دیتے رہے اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے یہ اعلان فرما دیتے تھے کہ فلاں زندہ ہوجائے گا یا فلاں زندہ نہیں ہوگا اور اس طرح کی بیسیوں باتیں ہیں جو لوگ بیان کرتے آئے ہیں ‘ کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
” پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس کے قانون مشیت کے مطابق گمراہ ٹھہرا آخر کون ہے جو اس کیلئے ہادی اور راہنما ٹھہرے اور اس کو راہ راست پر لے آئے اور قانون تکوینی کے متعلق پیچھے بہت وضاحت کردی گئی ہے۔
Ayah 13:34ایسے مجرموں کیلئے دناج میں بھی عذاب ہے اور آخرت میں بھی کون ان کو بچانے والا نہیں
56 ؎ ایسے لوگوں کیلئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے کہ آسائش و آرام کی ہرچیز موجود ہے لیکن اس کے باوجود وہ بےچین ہیں اور اس آسائش اور آرام سے کچھ فائدہ حاصل ہی نہیں کرسکتے۔ لوگ ان سے یہ عقیدت رکھتے ہیں کہ یہ صاحب اولاد دیتے ہیں لیکن ان کا یہ حال ہے کہ وہ خود اولاد جیسی نعمت سے محروم ہیں۔ لوگ ان سے دعائیں کرانے آتے ہیں لیکن وہ خود ہیں کہ مسلسل ہسپتال میں رہ رہے ہیں کہ ایک گھنٹہ گھر اور دس پھر ہسپتال میں۔ اللہ نے بہت کچھ مال و دولت دے رکھا ہے لن کی ان کو ڈاکٹر کی ہدایت ہے کہ مونگ کی دال اور سوکھی چپاتی استعمال کریں وہ بھی ایک دن میں صرف ایک یہ تو ان کی دنیا کا حال ہے اور آخرت کا تو اس سے بھی بدتر ہے کیونکہ انہوں نے آخرت کیلئے کچھ تیاری ہی کب کی ہے ؟ کہ اپنے اعمال کی گندگی ہی کا نتیجہ تو وہ اس دنیا میں بھگت رہے ہیں تو پھر آخرت تو ان کی یقینا پہلے ہی بیکار ہوچکی ہے۔
Ayah 13:35جنتی زندگی کا وعدہ الٰہی تو صرف پرہیزگاروں اور متقی انسانوں ہی سے ہے
57 ؎ جنت کا وعدہ ان لوگوں سے ہے جو متقی اور پرہیزگار ہیں کہ برائیوں سے خود بچتے ہیں اور دوسروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود نیکیاں کماتے ہیں اور دوسروں کو نیکیاں کمانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کو اس انعام میں جو کچھ دیا جائے گا وہ باغات ہی تو ہوں گے جن کے نے چا نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ان کے پھل خاص وقتوں کے نہیں ہوں گے بلکہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور ان کا مزہ ہمیشہ ایک ہی جیسا رہے گا ایسا نہیں کہ ان کو سٹوروں میں بند کر کے ان کی زندگی کو بڑھا لیا گیا ہو لیکن ان کے مزے خراب ہوچکے ہوں اور وہ درخت بھی ایسے درخت ہوں گے جن پر خزاں نہیں آئے گی اور پت جھڑ میں ان کے پتے بھی نہیں گریں گے یہ انجام ان لوگوں کا بیان کیا جا رہا ہے جو صحیح معنوں میں متقی اور پرہیزگار ہیں اور رہے منکرین تو ان کیلئے آتش دوزخ تیا رکی گئی ہے۔ گویا اس آیت میں صاف صاف دونوں راستوں کا یعنی کفر و ضلالت اور ایمان و ہدایت کا انجام بتا دیا کہ ایک کا نتیجہ دائمی سکھ ہے اور دوسرے کا مستقل دکھ تاکہ کسی کو اس باب میں اشتباہ نہ رہے۔
خیال رہے کہ تقویٰ کی اولین شرط کفر و شرک سے احتیاط ہے۔ اس کی وضاحت قرآن کریم میں بار بار آ چکی ہے کہ جنگ کی کوئی نعمت عارضی نہیں جس کو فنا ہو اور نہ ہی کوئی راحت وہاں زائل ہوگی کہ آج ہے لیکن کل رہے گی یا نہیں ؟ بلکہ مستقل رہے گی۔
Ayah 13:36اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنا پیغام پہنچاتے رہیں ایمان والے آپ ﷺ کے ساتھ ہیں
58 ؎ یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو سچے اہل کتاب تھے چونکہ کتب سابقہ میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے نشانات و علامات دی گئی ہیں ان کو پڑھنے کے باعث ان کے دل میں ایک نبی و اعظم و آخر ﷺ کی محبت موجود تھی اور وہ تہ دل سے اس بات کے معترف تھے کہ وہ نبی آنے والا ہے اور پھر جب آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور انہوں نے آپ ﷺ کو اچھی طرح پہچان لیا اور آپ ﷺ کی ایک نشانی اور علامت کو دیکھا اور ان کے دل یقین پا گئے آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو وہ خوش ہوگئے اور انہوں نے ذرا دیر نہ لگائی اور آپ ﷺ پر اتاری گئی ہدایت قرآن کریم کو بھی تہ دل سے مان گئے اور وہ اسلام لے آئے لیکن انہی اہل کتاب میں سے بعض جماعتیں اور گروہ ایسے بھی تھے جو واضح طور پر انکار کر گئے اور ان کے انکار کا باعث ان کی یہ ہٹ دھرمی تھی کہ اس نبی کا تعلق بنی اسماعلی سے کیوں ہے اور بنی اسحٰق سے کیوں نہیں ؟ بس یہ ضد تھی جو ان کو لے ڈوبی اور ان سب گروہوں کی ضد اگرچہ الگ الگ قسم کی تھی لیکن نتیجہ سب کا انکار ہی تھا اس لئے ان کو ایک ہی ضرب کے نیچے رکھا گیا۔
فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اعلان کر دیجئے کہ میں تو صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ میری دعوت کا مقصد اس کی طرف دعوت دینا ہے اور اس کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے اور میرا واپس لوٹنا بھی اس کی طرف اور اس کے قانون کے مطابق ہے گویا اس آیت میں بلکہ آیت کے آخری حصہ میں توحید ‘ رسالت اور معاد تینوں بنیادی عقیدے آگئے۔ ” انما امرت “ اثبات رسالت ۔ ” اعبداللہ ولا اشرک بہ “ اثبات توحید۔ ” الیہ ماب “ اثبات معاد یعنی قیامت و آخرت۔
Ayah 13:37ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے آپ ﷺ لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں
59 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے پہلا حکم یہ دیا گیا کہ یہ ہم نے جو آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ہے تو اس کا ہر قلم صاف اور واضح ہے کوئی بات اس میں بہم نہیں بیان کی گئی۔ ” عربنا “ ٹیکس اس کے ساتھ ہی ملحق آپ کو اس طرح مخاطب کیا گیا کہ مفہوم آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کی طرف منتقل ہوجائے خواہ وہ شخص اس وقت تھا جب آپ کو مخاطب کیا گیا اور خواہ رہتی دنیا تک کے سارے انسانوں میں سے ہر ایک انسان کو مراد لیا جاسکے اور یہ انداز خطاب ایسا ہی ہے جیسے اس سے پہلے کئی بار مخاطب رسول اللہ ﷺ کئے گئے اور اصل خطاب آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد سے کام گیا یہی بات اس جگہ بھی مراد لی گئی ہے۔ فرمایا اگر آپ ﷺ ان کی خواہشوں پر چلنے لگیں اور وہ بھی اس کے بعد کہ آپ ﷺ کے پاس صحیح علم پہنچ گیا تو یاد رکھئے کہ نہ تو آپ ﷺ کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ ہی کوئی بچانے والا اور اس طرح آپ ﷺ کے پاس صحیح علم پہنچ گیا تو یاد رکئے کہ نہ تو آپ ﷺ کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا اور اس طرح آپ ﷺ کو مخاطب فرما کر امت کے سارے افراد کو اس کی اہمیت جتلا دی کہ علم آنے کے بعد بھی اگر کوئی انسان گمراہی سے نکل کر ہدایت کی طرف آنے کی کوشش و سعی نہ کرے تو وہ کتنا بڑا مجرم ٹھہرے ؟ ایسا کہ اس کا جرم کبھی قابل معافی نہ ہوگا اور اس کی گرفت نہایت ہی سخت ہوگی۔
Ayah 13:38بیوی اور اولاد کا ہونا منافی نبوت نہیں اور نہ ہی کسی نبی کے اختیار میں کوئی نشان رکھا گیا ہے
60 ؎ کیا عیالداری کمالات نبوت کے منافی ہے ؟ ہرگز نہیں تو پھر بعض احمقوں کو آپ کے صاحب ازواج و اولاد ہونے پر کیوں اعتراض ہو رہا ہے ؟ آیت میں بتایا گیا ہے کہ سلسلہ رسالت تو بہت قدیم ہے اور آپ ﷺ کا دعویٰ رسالت دنیا کی تاریخ میں کوئی انوکھا واقعہ نہیں ‘ نوح (علیہ السلام) ‘ ابراہیم (علیہ السلام) ‘ اسحٰق (علیہ السلام) ‘ اسماعیل (علیہ السلام) ‘ یعقوب (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) ‘ دائود ‘ سلیمان (علیہ السلام) آخر ان سب کے حالات دنیا و تاریخ میں محفوظ ہیں کیا یہ سب حضرات عیال دار نہیں تھے ؟ اگر تھے تو پھر ان لوگوں کو آپ کی عیالداری پر اعتراض کیوں ہے ؟ زیر نظر آیت میں تردید ہے بدھ مت اور مروجہ مسیحیت اور دوسرے جاہلی مذاہب کی جہاں خانہ داری اور عیال داری کی زندگی کو تقرب الٰہی اور خدا رسی کے منافی سمجھا گیا ہے۔ اس آیت میں بڑی عبرت و بصیرت کا سبق ہے ہمارے زمانہ کے ان ” مجرد “ اور ” تارک الدنیا “ مشائخ اور مجاوروں اور اہل قبور کیلئے جنہوں نے ہندوئوں کی طرح شادی ‘ بیاہ ‘ بیوی اور بچوں کو کمالات و ولایت کے منافی سمجھا۔ یہ سارے مجرد اور تارک الدنیا کے دعویدار بدکاریوں اور بےحیائیوں میں مبتلا ہیں لیکن ان ساری چیزوں کو برداشت کرتے ہوئے مصنوعی نیکی اور اس کو سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں سے دور رہا جائے لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ نے ” النکاح سنئی “ کا درس دے کر ان سب باتوں پر پانی پھیر دیا۔
اور رسالت کے متعلق دوسری گمراہی کہ رسول کو جب ہی رسول مانیں جب وہ کوئی نشانی دکھانے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے تو کسی رسول کے اختیار میں یہ نہیں دیا کہ وہ کوئی نشانی اللہ کے حکم کے بغیر دکھا سکے۔ رہی یہ بات کہ ہر نبی و رسول اپنے زمانہ کے لوگوں کیلئے ایک مستقل نشان ہے تو نبوت و رسالت بھی کب اختیاری یا کسی چیز ہے کوئی شخص جب چاہے اپنے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کرلے اور نبی و رسول بن بیٹھے ہرگز نہیں جب تک نبوت جاری تھی اس وقت تک بھی کسی نبی کو بغیر اجازت الٰین یہ معلوم تک نہ ہوسکا کہ میں نبی و رسول بنایا جانے والا ہوں۔ پھر جب سے نبوت و رسالت کو ختم کردیا گیا اور بین الٰہی لگ گیا کہ کوئی نیا یا پرانا نبی اب نہیں آئے گا تو اب خواہ وہ کتنی کمائی کرے لیکن نبوت و رسالت کے عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتا اور آپ ﷺ سے پہلے اے پیغمبر اسلام ! ہم نے یہ بات کسی نبی کے اختیار میں نہ دی تھی ہاں ! ہر نبی و رسول نے جب الٰہی پیغام پہنچایا اور لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور پھر مسلسل وہ انکار ہی پر بضد رہے تو انجام کار وہ وقت بھی آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے عذاب کیلئے کوئی نشان مقرر کیا اور پھر جب وہ وقت آگیا تو وہ نشان اپنے وقت پر ظاہر ہوگیا اور اس طرح جو کچھ ہوا اور جو کچھ طے پایا وہ اللہ کے حکم سے ہوا اور اپنے وقت پر ہوا اگر آپ کی قوم پر بھی وہ وقت آگیا تو یقینا نہیں ٹلے گا ان کو کہئے کہ جلدی نہ مچائیں۔ اس لئے کہ ان کی جلدی کے ساتھ ہم بھی جلدی نہیں کردیں گے کیونکہ یہ کام ہماری سنت کے خلاف ہے اور سنت کے خلاف ہم نہ کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ ” کل اجل کتاب “ ہر بات کے مقررہ وقت کیلئے ایک نوشتہ ہے یعنی طے شدہ میعاد ہے اور وہ اس سے پہلے ظہور میں نہیں آسکتی۔
Ayah 13:39مٹانا اور نقش کرنا اللہ کے اختیار میں ہے اصل کتاب اس کے پاس ہے
61 ؎ آج ایک قوم برسراقتدار ہے اور کل دوسری کی باری ہوگی ؟ اس طرح کسی کا برسر اقتدار آنا اور کسی کا اقتدار سے ہٹ جانا اندھا دھند نہیں ہوا بلکہ اس کیلئے ایک قانون مشیت موجود ہے اس قانون کے مطابق قومیں برسراقتدار آتی اور اقتدار سے ہٹائی جاتی ہیں اور یہ بھی کہ ہرچیز کے ساتھ اس کی فنا لگی ہوئی ہے جب بقا اپنا کام کرتی ہے تو فنا بھی ساتھ ساتھ اپنا کام کر رہی ہوتی ہے تا آنکہ وہ وقت آجاتا ہے کہ فناً بقا پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں فنا بقاء میں تبدیل ہوتی اور بقاء فنا میں اور اللہ تعالیٰ نے جو اس بقاء اور فنا کیلئے قانون بنا رکھا ہے عین اس کے مطابق بقاء و فنا کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اس طرح جو مٹتا ہے وہ اللہ کے قانون سے اور جو قائم رہتا ہے وہ اللہ کے حکم سے اور اس کی اصل کتاب اللہ ہی کے پاس ہے کہ کس کو کب تک ثابت رہنا ہے اور کس کو کب مٹ جانا ؟ اور یہ اصل احکام ہیں جن میں کبھی نسخ نہیں ہوتا اور یہی مفہوم قرآن کریم کی سورة آل عمران 3 کی آیت 6 میں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ ہو ۔ (عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران 3 : 6)
اور ” یمعو اللہ ما یشاء ویسبت “ سے بعض لوگوں نے قضا و قدر کے ٹل جانے سے بھی مراد لیا ہے لیکن ان کی بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور کہانیاں اور واقعات جو انہوں نے نقل کئے ہیں ان میں سے بیشتر واہی تباہی کے قصے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب و سنت میں نہیں ہے اور یہ مضمون ہم نے سورة یوسف کی آیت 21 میں بیان کردیا ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 13:40آپ ﷺ کی زندگی میں وعدوں کو پورا کردیں یا بعد میں ‘ بہرحال وعدوں کا پورا ہونا لازم ہے
62 ؎ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کے ذمہ تو جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ پیام حق پہنچا دو ‘ محاسبہ اللہ کا کام ہے اور وہ حساب لے کر رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جن جن باتوں کا وعدہ کیا گیا ہے تمہاری زندگی ہی میں ظاہر ہوجائیں۔ ہو سکتا ہے کہ تمہارے بعد ظہور میں آئیں۔ یہ بات کہ ان نتائج و عواقب کا ظہور تمہارے سامنے نہ ہوا مواعبد الٰہی کی صداقت پر کچھ اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ یہ بات مختلف صورتوں میں بار بار کہی گئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مقصود صرف یہی نہیں تھا کہ مستقبل کی خبر دے دی جائے بلکہ یہ حقیقت بھی واضح کرنی تھی کہ کوئی شخصیت خواہ کتنی ہی اہم ہو لیکن پھر شخصیت ہے اور کاروبار حق کا معاملہ اس کی موجودگی و عدم موجودگی پر موقوف نہیں جو کچھ ہونا چاہئے اور جو کچھ ہونے والا ہے بہرحال ہو کر رہے گا خواہ پیغمبر اپنی زندگی میں دیکھ لے یا نہ دیکھ سکے۔
پھر غور کرو کہ نتائج کا ظہور بھی ٹھیک ٹھیک اسی طرح ہوا جن باتوں کی خبر دی گئی تھی ان کا بڑا حصہ تو خود پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی ہی میں ظاہر ہوگیا یعنی انہوں نے دنیا چھوڑنے سے پہلے تمام جزیرہ عرب کو حلقہ بگوش اسلام پایا البتہ بعض باتوں کا ظہور آپ ﷺ کے بعد ہوا مثلاً منافقوں کا استیصال ‘ بیرونی فتوحات کا حصول اور خلافت ارضی کے وعدہ کی تکمیل۔
آپ کا کام فقط پیغام حق کا پہنچانا ہے ‘ حساب ہمارے ذمہ کی بات ہے
63 ؎ حساب کیا ہے ؟ اعمال کا نتیجہ۔ جیسے ان کے اعمال ہوں گے ویسا ان کو ان کا نتیجہ بھی مل جائے گا۔ آپ ان تک ہمارا پیغام پہنچانے کے پابند ہیں وہ آپ ﷺ نے پہنچا دیا۔ اب معاملہ ان کا اور ہمارا ہے۔ آپ زیادہ فکر اور تشویش میں نہ پڑیں عذاب اپنے وقت معین پر آئے گا۔ زیر نظر آیت نے بات مزید واضح کردی کہ رسالت اور الوہیت کی حدود بالکل جداگانہ ہیں۔ غلط ملط کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔ رسول اور پھر مقرب ترین رسول کا کام بھی صرف تبلیغ احکام اور تبلیغ دین ہے باقی اس پر سزا و جزا سوال و بازپرس کا تعلق صرف فاطر کائنات سے ہے اور یہی بات ہے جو عام طور پر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی اور یہی وجہ ہے کہ تبلیغ دین کا جو نتیجہ نکلنا چاہئے نہیں نکلتا۔ ہر مبلغ پیغام سنانے کے بعد اس کے نتیجہ پر نظر رکھتا ہے پھر جب دیکھتا ہے کہ نیجہا وہ نہیں نکلا جو اس کے ذہن و دماغ میں ہے تو وہ اپنے پیغام میں مناسب تبدیلی کرتا ہے تاکہ نتیجہ وہ نکل آئے جو اس کی مرضی کے مطابق ہو تو یہیں سے وہ آفت رونما ہوجاتی ہے جس کو فرقہ بندی کا نام دیا گیا ہے اور جو اسلام کی نظر میں ایک کھلا شرک ہے پھر ایسے موحد مشرکوں کی کوئی کمی نہیں رہتی جو کچھ اس وقت ہمارے ملک عزیز میں ہو رہا ہے سب کا سب اس کی زندہ مثال ہے۔
Ayah 13:41کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اطراف سے سیکڑتے چلے آ رہے ہیں
64 ؎ معاندین و مخالفین کو خبر دی گئی ہے کہ وہ سریع الحساب ہے اس لئے ظہور نتائج کا وقت دور نہیں نیز یہ کہ دعوت حق کی فتح مندی اس طرح ظہور میں آئے گی کہ بتدریج مکہ کے اطراف و جوانب قریش مکہ کے تسلط سے کٹتے جائیں گے اور بالآخر مکہ بھی فتح ہوجائے گا۔ اس کو کہتے ہیں کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے “ مخالفین کو وارننگ اور اطلاع بڑی بہادری اور نہایت دیانتداری کی بات اور اطلاع دینے والے کی سچائی اس سے واضح ہوتی ہے۔ غور کرو کہ وہ مغرور اور سرکش اتنی موٹی بات بھی نہیں دیکھتے کہ ہم برابر جنگ میں کچھ نہ کچھ ملک اور حصہ زمین ان کے ہاتھ سے نکال نکال کر اسے اہل ایمان کے قبضہ میں دے رہے ہیں اگر یہ عذاب دنیوی نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہ آیت اور اس طرح کی دوسری آیات یہ بتاتی ہیں کہ یہ سورت مکہ میں نہیں بلکہ مدینہ میں نازل ہوئی اور اس کے باعث بض لوگوں کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ اس کی بعض آیات مکی اور بعض مدنی ہیں کیونکہ پہلی بات تو بطور پیش گوئی ہو سکتی ہے لیکن یہ دوسری بات تو ایسی ہے جو اس وقت کی جا رہی تھی اس لئے کہ اس کا رنگ ہونے والے واقعات کا نہیں بلکہ ہو چکنے والے واقعات کا سا ہے اور ساتھ لمبی یہ بھی بتا دیا کہ حساب کی ذمہ داری اللہ پر ہے اور کوئی قوت و طاقت اس کی مشیت و ارادہ کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی جیسا کہ مشرکین سمجھے ہوئے ہیں۔
Ayah 13:42پہلے لوگ بھی مخفی تدبیریں کرتے رہے لیکن ان کا رزلٹ کیا ہوا ؟
65 ؎ اب بتایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کے سارے منصوبے ناکام ہوں گے جو وہ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف کر رہے ہیں لیکن آپ ﷺ بھی ان سے غافل نہ رہیں ۔ ” للہ المکر جمیعاً “ اور یاد رکھیں کہ ان کی تدبیر کا کارگر ہونا یا ناکام ہونا اللہ کے اختیار میں ہے ان کے اپنے اختیار میں نہیں اور اللہ کی تدبیر بھی خود اللہ ہی کے اختیار میں ہے اس میں سے ان کے اختیار میں تو پہلے بھی کچھ نہیں ہے۔ پھر اللہ نے اپنا قانون بھی بتا دیا کہ ایک ہلاکت اور دوسری قوم کا قیام ‘ ان کے اعمال کی وجہ سے ہے۔ کافر جان لیں گے کہ کامیاب کون ہوتا ہے ؟ وہ اگر اپنی تدبیروں پر نازاں ہیں تو یہ ان کی اپنی ناسمجھی کی کھلی دلیل ہے اور کل نتیجہ اس پر مہر ثبت کر دے گا۔
انسان کے اعمال اس کے سامنے ہیں کافروں کے انجام سے بھی وہ خوب واقف ہے
66 ؎ اللہ ان کے مکروں کو توڑنا جانتا ہے اور اس نے بڑے بڑے غداروں ‘ فراڈیوں کے مکروں کو توڑ کر رکھا ہے اور اب بھی ان منافقوں کے مکر کو چلنے نہیں دے گا۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کل کو کوئی جان کیا کمائے گی اور آج وہ کیا کر رہی ہے۔ وہ ایک دوسرے سے تو چھپ سکتے ہیں لیکن اللہ سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں اور وہ کافروں کے انجام سے بھی اچھی طرح واقف ہے اس لئے کہ ان کا انجام اس کے ہاتھ میں ہے اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
Ayah 13:43پیغمبر اسلام کا دعویٰ تم تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ‘ انجام سچائی کو ظاہر کر دے گا
67 ؎ اب غور کرو کہ حق و باطل کی موجودہ آویزش کا نقطہ نزاع کیا ہے ؟ فرمایا تمہارا دعویٰ ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہو ‘ منکر کہتے ہیں نہیں ‘ تم بھیجے ہوئے نہیں۔ اب قانون قضا بالحق کے مطابق فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کی شہادت بس کرتی ہے۔ اللہ کی شہادت کیا ہے ؟ فرمایا اس کا مقصود بھی قضائے بالحق ہے اور بقاء انفع کے قانون کا نفاذ ہے جو ظاہر ہو کر بتلا دیتا ہے کہ حق کس کے ساتھ تھا اور باطل کا کون پرستار تھا اور اس گواہی اور شہادت کیلئے آپ کی امانت و دیانت اور صداقت ‘ پاکبازی ‘ پارسائی ہے جو آپ ﷺ کی عملی زندگی کے گوشہ گوشہ سے ظاہر ہو رہی ہے ۔ اہل کتاب کا نظریہ یہ تھا کہ ایک پیغمبر آخر الزمان کا آنا درست ہے اور گزشتہ کتابیں اس کی گواہی دیتی ہیں لیکن جب وہ موعود نبی و رسول آگیا تو کہنے لگے کہ کہ ” لست مرسلا “ کہ تم وہ پیغمبر مرسل نہیں ہو اور تمہارا دعویٰ نبوت صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا یہ بات ہمیشہ بہت دفعہ بیان کی جا چکی ہے کہ ان کے انکار کا باعث اس وجہ سے تھا کہ آنے والا نبی و رسول بنی اسماعیل سے کیوں ہے اور اس کا حسب و نسب بنی اسرائیل سے کیوں نہیں ؟ ورنہ محض مشرکوں کے جواب میں اہل کتاب کی شہادت پیش کرنا لا حاصل تھا۔ اس مضمون پر سورة ” رعد “ ختم ہو رہی ہے اور اب سورة ابراہیم شروع ہوگی۔ انشاء اللہ۔