13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور بادلوں کی گرج اس کی ستائش کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کی دہشت سے سرگرم ستائش رہتے ہیں وہ بجلیاں گراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان کی زد میں لے آتا ہے لیکن یہ منکر ہیں کہ اس کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں حالانکہ وہ (اپنی قدرت میں) بڑا ہی سخت اور اٹل ہے

رعد اس کی حمد کے ترانے گا رہی ہی ‘ فرشتے اس کے جلال میں ہیں ‘ بجلی اس کے حکم کے تابع ہے 24 ؎ فرمایا دیکھو یہ بجلی کی کڑک جسے سن کر تم دہل جاتے ہو اور تمہارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں وہ کیا ہے اور کیوں ہے ؟ وہ سراسر حمد وثناء الٰہی کا ترانہ ہی تو ہے ۔ یہ اس کی کرشمہ سازیوں کا گیت ہی تو گا رہی ہے۔ وہ بزبان حال اپنے پیدا کرنے والے کو ہر عیب اور ہر ناتوانانی سے پاک ہی تو بیان کر رہی ہے وہ کہہ رہی ہے کہ میرا خالق ہر خوبی اور ہر کمال سے متصف ہے اور فرشتے بھی اس کی پاکیزگی اور حمد کے ثناء خواں ہیں سب اس مالک الملک اور رب ذوالجلال والاکرام سے لرزاں و ترساں ہیں کوئی بڑی سے بڑی قوت اور بڑے سے بڑا فرشتہ اس کے سامنے دم نہیں مار سکتا۔ رعد کیا ہے ؟ وہ ایک کڑک ہی تو ہے جو بادلوں کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے۔ بجلی گرتی ہے تو کس کی حکم سے ؟ وہ اللہ ہی تو ہے جس کے نظام میں یہ سب کچھ اس کے قانون قدرت کے مطابق ہو رہا ہے۔ زیر نظر آیت میں جو کچھ بیان ہوا وہ گزشتہ بیان کی وضاحت ہے کہ اللہ نے جو کچھ کہا وہ خوبی اور اچھائی تو ہے علاوہ ازیں کچھ بھی نہیں لیکن کبھی اچھائی اور خوبی کی بات بھی تمہاری عاجز اور درماندہ نگاہوں کیلئے خوف و دہشت کی ہولناکی بن جاتی ہے۔ تم اپنی حالت اور اضافت کے لحاظ سے سمجھنے لگتے ہو کہ برائی ہے لیکن اس لئے نہیں کہ وہ فی فصہ برائی ہے بلکہ اس لئے کہ تمہاری حالت اور اضافت کے لحاظ سے برائی ہوگئی۔ ؎ کفر ہم نسبت بہ خالق حکمت ست چوں بہ ما نسبت کنی کفر آفت است اس حقیقت کی وضاحت کیلئے ایک مثال بیان کی جو ہر انسان کے علم و مشاہدہ میں ہمیشہ آتی رہتی ہے فرمایا بجلی کا چمکان مایوسیوں کیلئے پیام امید ہوتا ہے اگر نہ چمکے تو باران رحمت کے ظہور کا پیام بھی نہ ملے لیکن تمہارے لئے یہ معاملہ خوف وامید کا معاملہ بن گیا بارش کی امید سے خوش ہوتے ہو لیکن ساتھ ہی بجلی کی تیزی سے لرزاں و ترساں بھی ہو۔ پھر وہ بجلی جو زمین کیلئے زندگیوں کا پیام ہے جب کسی انسان پر گرتی ہے تو اس کیلیے موت کا پیام بن جاتی ہے اس طرح بادل کا گرجنا تمہارے لئے سرتا سر دہشت اور ہولناکی ہے حالانکہ وہ فی الحقیقت ہولناکی نہیں وہ اللہ کی وحدانیت کا ترانہ ہے وہ گرج گرج کر اس کی ستائشوں کا اعلان کرتا ہے ‘ اس کی تقدیس و تسبیح میں رطب اللسان ہے ‘ فرشتے اس کے گرجنے کے خوف سے نہیں ڈرتے اللہ کے خوف سے ترساں رہتے ہیں۔ پھر تم اپنی زندگی کا ایک ایک ورق الٹتے جائو دیکھو گے کہ تمہاری ساری مسرتیں اور تمہاری ساری خوشیاں اسی طرح کی تکالیف و مصائب میں گھری ہوئی ہیں ایک بچہ کی پیدائش سے لے کر اس کے جوان ہونے تک اور پھر اقتدار و ملازمت کی کرسی تک پہنچنے کیلئے جو کچھ ہوا اس میں کتنی کتنی پریشانیوں سے تم دوچار ہوئے لیکن کیا بغیر کسی امید کے ؟ اس لئے تو پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا تھا کہ ” ال ایمان بین الخوف والرجاء “ کتنا بڑا سچ ہے اور کتنی بڑی حقیقت ہے ؟ و ھم یجادلون فی اللہ “ یعنی اللہ کی قدرت و حکمت کی یہ نشانیاں ہمیشہ انسان کے علم و مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں اور اس پر بھی اس کی غفلت کا یہ حال ہے کہ اللہ کی ہستی اور اس کی یگانگت کے بارے میں ہمیشہ جھگڑتا رہتا ہے گویا یہ حقیقتیں ثابت نہیں اور یہ نشانیاں کبھی ظہور میں ہی نہیں آئیں۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ایسا خدا جس کے نظام کائنات کی کارفرمائیاں اتنی عجیب و عظیم ہوں اور جس کا اختیار و اقتدار اتنا ہمہ گیر و کامل ہو یہ نادان اس خدا کے مقابلہ میں دوسروں کو لاتے ہیں اور اس کی ذات وصفات میں اوروں کو شریک کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کا پکارنا ہی سچا پکارنا ہے جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ پکارنے والے کی کچھ نہیں سنتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ بس پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں اور منکرین حق کی پکار اس کے سوا کچھ نہیں کہ ٹیڑھے راستوں میں بھٹکتے پھرنا ہے

پکارنا اس کا حق ہے غیر اللہ کو پکارنے والوں کی مثال پانی کو مٹھی میں بند کرنے کی ہے 25 ؎ فرمایا حقیقی دعا صرف اللہ ہی کے حضور میں ہو سکتی ہی ‘ سننے کی قوت ‘ قبول کرنے کی قوت اس اکیلے میں تو ہے اس کے علاوہ کسی اور سے دعا مانگنا حماقت محض اور خالصتہ بیوقوفی کی دلیل ہے کسی اور میں کوئی اختیار ہی کب ہے ؟ قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان عام ہے کہ توحید ربوبیت و خالقیت سے توحید الوہیت پر استدلال کرتا ہے چناچہ زیر نظر آیت میں بھی یہی ہوا اور سلسلہ بیان اس طرف پھر گیا ہے فرمایا عبدیت کی سچی پکار وہی ہے جس کا خطاب اللہ رب العزت ذوالجلال والاکرام سے ہو جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مٹھی میں پانی بند کرنا چاہے اور اسے اپنے تشنہ لبوں تک لے جانا چاہے۔ معلوم ہے کہ وہ اپنی کوشش میں کبھی کامیاب نہ ہوگا اس کی کوشش بھٹک بھٹک کر رہ جائے گی۔ یہ غیر خدا کے آگے عرض و نیاز کرنے ‘ دعا مانگنے کی مثال دی ہے کہ جیسے کوئی احماق پیاسا پانی جیسی بےجان ‘ بےارادہ ‘ لا یعقل چیز کی طرف اس امید پر ہاتھ پھیلائے رہے کہ پانی از خود اس کے منہ میں پہنچ جائے اور اس کی پیاس بجھا دے تو اس سے بڑھ کر حماقت اور کیا ہوگی اسی طرح یہ احمق دعا کے ذریعہ سے فریاد رسی اس سے چاہتے ہیں جو سرے سے قادر ہی فریاد رسی پر نہیں بلکہ وہ خود حاجت مند اور ضرورت مند ہیں اگر ” کباسط کفیہ الی الماء “ بطور محاورہ لیا جائے تو مٹھی میں پانی لینے کے معنی ہوں گے اور اگر لفظی ترجمہ سے جو مفہوم اخذ ہوتا ہے اس کا بیان ہے تو دوسرے معنوں میں زیادہ وزن ہوگا۔ پھر فرمایا کہ دیکھو ” کافروں کی پکار تو ہمیشہ بےاثر ہوتی ہے “ اس لئے کہ وہ تو غیر اللہ کے سامنے رہتی ہے اور کافروں کی جو دعائیں بظاہر مقبول ہوتی ہیں ان واقعات کا تعلق دعا سے نہیں ہوتا اگرچہ وہ دعا کرتے بھی ہوں کیونکہ رب تو بہرحال سب کا وہی ہے جو اس کو رب مانے اس کا بھی اور جو اس کو رب نہ مانے اس کا بھی اور پھر وہ ایسا رب بھی نہیں کہ جو اس کو مانے اس کو تو روزی دے لیکن جو اس کو نہ مانے اس سے چھین لے۔ ایسا نہیں ہو سکتا اور تکوینی اسباب و مصالح سے عام نظام ربوبیت کے ماتحت کیونکہ رب بہرحال اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کافروں کی غیر مقبول دعائوں سے مراد ان کی آخرت سے متعلق دعائیں ہیں نہ کہ دنیا سے متعلق۔ (روح) غیر اللہ کے نام کے وظیفے پڑھانے والوں اور پیروں ‘ مرشدوں ‘ ولیوں ‘ بزرگوں اور نبیوں کو اپنی دعائوں میں پکارنے والوں کو بھی قرآن کریم کی ایسی آیتوں پر ضد ‘ ہٹ دھرمی اور مکتب فکر کے تعصب کی عینک اتار کر دیکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کیا دعوت پیش کر رہا ہے اور وہ کیا راگ الاپ رہے ہیں۔ ” اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاجت روائی خلق کیلئے خاص فرمایا ہے۔ لوگ گھبراتے ہوئے ان کے پاس اپنی حاجتیں لاتے ہیں “۔ (الامن والعلیٰ احمد رضا بریلوی ص 29) ” اولیاء سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع و شنی مرغوب ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا دشمن انصاف۔ “ (حیاۃ الاموات فتویٰ رضویہ ج 4 ص 300) انبیاء مرسلین ‘ اولیاء علماء و صالحین سے ان کے وصال کے بعد استعانت و استداد جائز ہے۔ اولیاء بعد انتقال بھی دنیا میں تصرف کرتے ہیں “۔ (ایضاً ) ” میں نے جب مدد طلب کی یا غوث ہی کہا ‘ ایک مرتبہ میں نے ایک دوسرے ولی (حضرت محبوب الٰہی سے مدد مانگنی چاہی مگر میری زبان سے ان کا نام ہی نہ نکلا بلکہ زبان سے یا غوث ہی نکلا۔ “ (ملفوظات ص 307) ” جو شخص کسی نبی یا رسول یا کی ولی سے وابستہ ہوگا تو وہ اس کے پکارنے پر حاضر ہوگا اور مشکلات میں وہ اس کی دستگیری کرے گا۔ “ (فتاویٰ افریقہ از بریلوی ص 135) اس جگہ صرف نمونہ دکھانا منظور ہے حوالہ جات اکٹھا کرنا مقصود نہیں یہ تو صرف آپ کی توجہ کیلئے عرض کیا ہے اور ان حوالہ جات کو پڑھنے کے بعد قرآن کریم کی زیر نطر آیت کو ایک بار حرفاً حرفاً پڑھ لو۔ فرمایا ہے کہ : لہ دعوۃ الحق والذین یدعون من دونہ لا یستجیبون لھم بشئی الا کباسط کعبہ الی الماء لیبلغ فاہ و ما ھو ببالغہ وما دعاء الکفرین الا فی ضلل (3 : 14) کا پکارنا سچا پکارنا ہے جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ پکارنے والے کی کچھ نہیں سنتے ‘ ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ بس اے پانی ! میرے منہ میں آجا حالانکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں اور منکرین حق کی پکار اس کے سوا کچھ نہیں کہ ٹیڑھے رستوں میں بھٹکتے پھرنا ہے۔ “ بات کس کی سچی۔ یہ ایک بیان احمد رضا بریلوی کا ہے اور دوسرا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ فیصلہ خود فرما لیں۔ منکرین حق کی پکار کیا ہے ؟ ٹیڑھے رستوں میں بھٹکتے پھرنا 26 ؎ فرمایا کافروں کی یہ چیخ و پکار سب ضائع اور بےفائدہ ہے کیونکہ جو دینے پر قادر ہے اس سے وہ مانگتے نہیں اور جن سے وہ مانگتے ہیں وہ بےبس ہیں کہ وہ خود اس دروازے کے بھکاری ہیں جو سب کا داتا ہے جب وہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تو دوسروں کی مدد وہ کیا کریں گے ؟ اور اگر یہ بےجان پتھروں کے وہ مجسمے ہیں جو نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ دے سکتے ہیں تو ان کی دعا کیا خاک منظور ہوگی۔ ” اس سے کسی کو یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ اگر لکڑی یا پتھر سے گھڑی ہوئی کسی مورتی سے یہ معاملہ کیا جائے تو کفر اور شرک ہے لیکن اگر کسی انسان سے جو زندہ ہے جس کی آنکھیں ہیں وہ ان سے دیکھتا ہے ‘ جس کے کان ہیں وہ ان سے خوب سنتا ہے اس سے یہ معاملہ کیا جائے تو شرک نہ ہوگا بلاشبہ وہ بھی مشرک ہوگا جس طرح مشرکین ان مجسموں کو اپنا الٰہ اور معبود سمجھا کرتے تھے اگر کسی انسان کے متعلق بھی کسی کا یہ عقیدہ ہو تو وہ قطعاً مشرک ہوگا۔ “ ” یہ توحید کا سبق ہر مومن کی لوح قلب پر یوں منقش ہوچکا ہے کہ وہ کسی غیر خدا کو اپنا معبود یا اللہ سمجھنے کا تصور تک بھی نہیں کرسکتا حتیٰ کہ اس مرقع ہر خوبی و زیبائی ﷺ کیلئے بھی ہر کلمہ گو ہر نماز میں کئی کئی بار پورے یقین اور شرح صدر سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ “ میں گواہی دیتا ہوں کہ میرا آقا و راہنما محمد رسول اللہ ﷺ بایں ہمہ کمالات اللہ کا بندہ ہے اور اس کا رسول ہے۔ جب حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا نہیں ‘ خدا کے بیٹے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو کی اور کے متعلق اس کے دل میں شرک کا خیال کیسے آسکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ ملت میں انتشار پیدا کرنے اور افراط وتفریط سے بچائے اور راہ ہدایت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ “ (ضیاء القرآن)
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں جو کوئی ہے اللہ ہی کے آگے سجدہ میں گرا ہوا ہے خوشی سے ہو یا مجبوری سے اور ان کے سائے صبح و شام گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں

آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کے آگے سجدہ ریز ہے خوشی سے یا مجبوری سے 27 ؎ ساری کی ساری مخلوقات اللہ ہی کے قانون تکوینی کی مطیع و منقاد ہے۔ ” وللہ یسجد “ اس ترکیب کے اقتضاء سے معنی یہ پیدا ہوئے کہ اللہ ہی کی مطیع و منقاد ہے نہ کسی اور کی ” جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے “۔ مراد ہے ساری مخلوق اور سجدہ سے مراد وہ شرعی سجدہ نہیں بلکہ اپنے اصل اور لغوی معنی میں ہے یعنی سب کے سب اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور اس کی مشیت کے مطیع و منقاد ہیں۔ (راغب) چیزوں کے سائے گھٹتے بڑھتے ہیں تو یہ بھی توحید کا درس دے رہے ہیں 28 ؎ تمام مخلوق اس کے سامنے جھکی ہوئی ہے کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ہر آنکھ دیکھ سکتی ہے کہ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں۔ تم جو احکام الٰہی سے سرتابی کرنا چاہتے ہو خود اپنے سائے ہی کو دیکھ لو کہ جو اندازہ اس بارے میں بنا دیا گیا ہے اس سے کبھی وہ باہر نہیں جاسکتا۔ صبح کو چڑھتی دھوپ میں اس کا ایک خاص ڈھنگ ہوتا ہے شام کو ڈھلتی دھوپ میں ایک خاص ڈھنگ۔ اگر غور کرو تو قدرت الٰہی کے احکام و قوانین کے آگے ٹھیک اسی طرح تمہاری ہستیاں بھی مسخر ہیں خواہ تم کو انکار ہو یا اقرار اور سائے کی یہ ترتیب اس رب ذوالجلال والاکرام کی توحید کا سبق دے رہی ہے۔ سایہ کیا ہے ؟ سایہ ایک عدی اور سلبی شے ہے جس کا اطلاق اس حال پر ہوتا ہے جب روشنی کسی جسم کثیف کے توسط سے دور ہوجائے … جیسے رات کا اطلاق دن کے عدم پر ہوتا ہے۔ یہاں پر اگر یہ لفظی معنی لئے جائیں جب کوئی اشکال نہیں۔ مراد یہ ہوگی کہ اشیاء موجود فی الخارج اور ان کے اظلال سب ہی قادر مطلق کے مطیع و منقاد ہیں۔ وحشی قوموں میں ” سایہ “ کو عالم بالا کی کوئی چیز سمجھ کر اس سے بہت ڈرا گیا ہے۔ قرآن کریم نے بتایا کہ رموجود شے کی طرح اس کا سایہ بھی محض مخلوق ہے اور ہر کثیف چیز کے ساتھ لازم ہے۔ یہ جو تصور دیا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا سایہ نہیں تھا بلکل ایک تصوری بات ہے جس کی حقیقت سوائے جہالت کے کچھ بھی نہیں۔ جیسے یوں کہا جائے کہ کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب کی سب آپ ﷺ ہی کے سایہ سے ہے تو خوش ہوجائیں گے اور اگر یہ کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کا سایہ نہ تھا تو منہ چڑھانے لگیں ۔ اندھی عقیدت میں جو عقیدہ طے پا گیا بس وہ لوہے پر لکیر ہے۔ اصلیت اس کی موجود ہو یا نہ ہو ہماری بلا ہے۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

ان لوگوں سے پوچھو آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ تم کہو اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں پھر ان سے کہو جب وہی پروردگار ہے تو پھر یہ کیا ہے کہ تم نے اس کے سوا دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے جو اپنی جانوں کا نفع و نقصان بھی اپنے اختیار میں نہیں رکھتے ؟ نیز ان سے کہو کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہیں ؟ یا یہ کہ اندھیرا اور اجالا برابر ہوجائے ؟ یا پھر یہ بات ہے کہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے بھی اسی طرح مخلوقات پیدا کی ہے جس طرح اللہ نے پیدا کی ہے اور اس لیے پیدا کرنے کا معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا ہے تم ان سے کہو اللہ ہی ہے جو ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے وہ یگانہ ہے سب کو مغلوب رکھنے والا

آسمان اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ اللہ ! پھر تم نے دوسروں کو حاجت روا کیوں بنا لیا ؟ 29 ؎ اگر مشرکین عرب سے بھی یہ سوال کیا جاتا کہ اس سارے نظام کائنات کا خالق و موجد ‘ حافظ و نگہبان ‘ مدبر و حاکم کون ہے ؟ تو یہ باوجود اپنے شرک کے اس کے قائل نکلیں گے کہ وہ تو ایک ہی خدائے قادر و توانا ہے جسے عرب کی بولی اور مشرکین کے عقیدہ میں بھی ” اللہ “ کہا جاتا ہے۔ پس اس سے ان کی گرفت ہوسکتی ہے اور تم ان سے کہہ سکتے ہو کہ پھر تم اتنی بات تو ہم کو بتا دو کہ تم ان بےبس اور بےاختیار معبودوں کو اس کا شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟ جو اپنے آپ کو نفع نہیں پہنچا سکتے اور اپنے آپ کو ضرر سے نہیں بچا سکتے وہ تمہارے کس کام آئیں گے ؟ کیا اندھا اور دیکھنے والا اس طرح اندھیرا اور اجالا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ 30 ؎ پوچھا یہ جا رہا ہے کہ کیا اندھا اور بینا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ کیا اندھیرا اور روشنی دونوں ایک ہی جیسی ہیں ؟ تو کوئی کیا جواب دے گا یہی کہ نہیں کبھی اندھا اور بینا اور اندھیرا اور اجالا برابر نہیں ہو سکتے ؟ اھچا تو پھر تم ہی بتائو کہ مشرک اور موحد یعنی محرم ال ایمان اور صاحب ال ایمان شرک اور توحید ‘ کفر اور ایمان کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس لئے کہ جس طرح اندھا اور بینا ایک دوسرے کی ضد ہیں ‘ اندھیرا اور اجالا ایک دوسرے کی ضد ہیں بالکل اسی طرح صاحب ال ایمان اور محروم ال ایمان ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ سرک اور توحید ایک دوسرے کی ضد ہیں اور کفر اور ایمان بھی ایک دوسرے کی ضد ہیں پھر یہ ایک سطح پر کیسے آسکتے ہیں ؟ اس میں ان ” روشن خیال “ اور ” پاپولر “ لوگوں کا رد بھی ہوگیا جو سب کو صحیح کہنے کے عادی ہیں۔ خصوصاً مذہب کے معاملہ میں وہ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟ اس لئے کہ وہ ایسا نہ کہیں تو ” روشن خیال “ اور ” پاپولر “ نہیں کہلا سکتے اور ایسا کہلانا ان کی خاص مجبوری ہے اور سچ پوچھو تو یہی لوگ اصل میں ” ہر جائی “ ہیں اگرچہ یہ اصطلاح ان کو پسند نہ آئے۔ اس کائنات میں جو کچھ ہے سب کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے کیا اس خالق کے ساتھ کوئی اور خالق بھی ہے ؟ اگر اس کائنات کی چھوٹی بڑی ‘ خوبصورت ‘ بدصورت چیزوں میں سے چند چیزیں بھی ان کے حاجت روائوں اور مشکل کشائوں نے پیدا کی ہوتیں تو پھر ان کو کدا ماننے اور ان کی عبادت کرنے کے متعلق شک ہو سکتا تھا لیکن ہرچیز کا جب وہی خالق ہے اور اس کے سوا باذن اللہ ہو یا بغیر اذن اللہ کوئی خالق ہو ہی نہیں سکتا تو پھر اس کے سوا کسی اور کو معبود بنانے کا تو سرے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے ان لوگوں کو بھی سبق سیکھ لینا چاہئے جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو باذن اللہ کسی چیز کا خالق تصور کرتے ہیں تو بات جلد واضح ہوجاتی جیسا کہ اس سے قبل ہم بار بار یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ ” خلق “ کا لفظ وسیع معنی رکھتا ہے جب کسی غیر اللہ کو ” خالق “ کہا جائے گا تو اس کے معنی وہ نہیں ہو سکتے جو اللہ کو ” خالق “ کہنے کے ہوتے ہیں اور یہی حال عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کا ہے۔ رہا باذن اللہ کا معاملہ تو اس کے متعلق بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ باذن اللہ تخلیق بھی وہی ہے جو مخلوق سے ممکن ہے اور جو تخلیق حقیقی نہیں ہے جیسے اللہ ” رب “ ہے لیکن دوسروں کو ” رب “ کہا گیا ہے تاہم جس معنی میں اللہ کو رب کہا گیا ہے اس معنی میں کوئی اور رب نہیں مانا گیا۔ ہاں ! اللہ ہی سب کا خالق حقیقی ہے اور وہی سب کا پیدا کرنے والا ہے 31 ؎ آیت کے اختتام پر مزید اعلان کرایا گیا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ پھر اعلان کر دیجئے کہ کسی کو شبہ نہ رہے کہ ہرچیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور تخلیق کائنات میں کسی کو کوئی دخل نہیں وہ واحد و یکتا ہے رب ہونے میں بھی معبود ہونے میں بھی اور خالق ہونے میں و بھی بلکہ نگاہ حقیقت آگاہ سے دیکھا جائے تو موجود حقیقی بھی وہی ایک ہے باقی سب موجودات اس کے وجود کے فلال ہیں وہ اکیلا ہی سب پر غالب ہے۔ یہاں مختصر سی تین صفات بیان کر کے بہت سی پھیلی ہوئی گمراہیوں اور کچیر التعداد مذاہب شرک کی جڑ کاٹ دی پہلی صفت جو یہاں بیان ہوئی وہ یہ کہ اللہ ہی سب چھوٹی بڑی ‘ جوہر و عرض ‘ ایجاب و سلب ‘ خوشگوار و ناخوشگوار سب کا خالق ہے۔ دوسری صفت یہ کہ وہ عدداً بھی ایک ہی ہے اور اپنی ذات کے لحاظ سے بھی اور اپنی صفات کمالیہ کے لحاظ سے بھی یہ نہیں کہ اس کی ” شخصیت “ تو ایک ہو لیکن اس کے ” بروز “ اور ” اقنوم “ کئی ہوں۔ تیسری صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ساری مخلوقات پر غالب و حاکم ہے اس کے اوپر کوئی ہستی یا کوئی قانون حاکم و متصرف نہیں۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اس نے آسمانوں سے پانی برسیا تو اپنی سمائی کے مطابق وادیاں بہہ نکلیں اور میل کچیل سے جھاگ بن بن کر پانی کی سطح پر اٹھا تو سیلاب کی رَو اسے بہا لے گئی اور دیکھو اس طرح کا جھاگ اس وقت بھی اٹھتا ہے جب لوگ زیور یا کوئی اور چیز بنانے کیلئے (مختلف دھاتوں کو) آگ میں تپاتے ہیں حق اور باطل کے معاملہ کی مثال ایسی ہی سمجھو جو اللہ بیان کرتا ہے پس جھاگ رائیگاں گیا اور جس چیز میں انسان کے لیے نفع تھا وہ زمین میں رہ گئی ، اس طرح اللہ مثالیں بیان کرتا ہے

توحید الٰہی کی تفہیم ایک مثال کے ذریعہ سے تاکہ بات ذہن نشین ہو جائے 32 ؎ زیر نظر اس سورت کے مضامین میں سے جو مواعظ بیان کئے گئے ہیں ان میں سے ایک مرکزی موخطت ہے۔ فرمایا جو کچھ بھی ہے ” حق “ اور ” باطل “ کی آویزش ہے لیکن ” حق “ اور ” باطل “ کی حقیقت کیا ہے ؟ کونسا قانون الٰہی ہے جو اس کے اندر کام کر رہا ہے ؟ یہاں واضح کیا ہے کہ یہ ” بقا وانفع “ کا قانون ہے یعنی اللہ نے کائنات ہستی کے قیام و اصلاح کیلئے یہ قانون ٹھہرا دیا ہے کہ یہاں وہی چیز باقی رہ سکتی ہے جس میں نفع ہو جس میں نفع نہیں وہ ٹھہر نہیں سکتی اسے نابود ہوجانا ہے۔ اس نازک اور دقیق حقیقت کیلئے کیسی صاف اور عامۃ الورود مثال بیان کردی جو ایک جاہل بد سے لے کر فاضل عصریات تک سب کے کام آسکتی ہے اور سب اس سے یکساں نصیحت حاصل کرسکتے ہیں ایسی مثال جس کے معائنہ سے کوئی انسانی نگاہ بھی محروم نہیں ہوسکتی ؟ فرمایا جب پانی برستا ہے اور زمین کیلئے شادابی و گل ریزی کا کام و سامان مہیا کرتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ تمام وادیاں نہروں کی طرح رواں ہوجاتی ہیں لیکن پھر کیا تمام پانی رک جاتا ہے ؟ کیا میل کچیل اور کوڑا کرکٹ اپنی اپنی جگہ تھمے رہتے ہیں ؟ کیا زمین کی گود ان کی حفاظت کرتی رہتی ہے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ زمین کو اپنی نشو ونما کیلئے ج قدر پانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ جذب کرلیتی ہے اور اس طرح اس سارے کوڑے کرکٹ کو بھی اپنی ہی نشو ونما کیلئے زمین کھا جاتی ہے جس جس چیز کی زمین کو ضرورت ہوتی ہے خود نگل لیتی ہے اور ندی نالوں ‘ جوہڑوں ‘ تالابوں اور جھیلوں میں جس قدر سمائی ہوتی ہے اتنا پانی و وہ روک لیتے ہیں باقی پانی جس تیزی کے ساتھ گرا تھا ویسی ہی تیزی سے بہہ بھی جاتا۔ میل کچیل ‘ کوڑا کرکٹ ‘ جھاگ بن کر سمٹتا اور ابھرتا ہے پھر پانی کی روانی اسے اسی طرح اٹھا کرلے جاتی ہے کہ تھوڑی دیر کے بعد وادی کا ایک ایک گوشہ دیکھ جائو کہیں ان کا نام و نشان بھی نہیں ملے گا۔ پھر غور کرو کہ وہ تو رواں پانی تھا لیکن وہ چیز جس کو تم سونا چاندی ‘ تانبا اور پیتل کے ناموں سے یاد کرتے ہو ان میں سے کوئی یا ان کی طرح کی کوئی دھات آگ پر تپاتے ہو تو کھوٹ الگ ہوجاتا ہے اور خالص دھات الگ نکل آتی ہے کھوٹ کیلئے نابود ہوجانا ہے اور خالص دھات کیلئے باقی رہنا۔ اسی طرح کی مثالوں سے تم ذرا غور کرو گے تو دیکھو گے تو حید خالص کتنی نافع چیز ہے اور شرک و کفر کس قدر نابود ہونے کے قابل ہے۔ اب تم اپنی زندگی پر غور کرو کہ تم نابود ہونے والی چیز کو روک رہے ہو یا نفع پہنچانے والی کو اور اگر نابود ہونے والی چیز کو روک رہے ہو تو تمہارا انجام کیا ہوگا اور اگر نفع دینے والی چیز کو روک رہے ہو تو تم کس نتیجہ سے دوچار ہوگے ؟ خود ہی سمجھ لو۔ اس مثال کا انجام کیا رہا کہ جو چیز نافع ہے وہ رک جائے گی اور جو نابود ہوگی وہ غیر نافع ہو گی 33 ؎ فرمایا نفع کیلئے بقا اور غیر نافع کیلئے نابود ہونا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ یہاں بقاء و انفع کا قانون کام کر رہا ہے۔ یہاں باقی رہنا اس کے لئے ہے جو نافع ہو ‘ جو نافع نہیں وہ چھانٹ دیا جائے گا۔ یہی حقیقت ” حق “ اور ” باطل “ کی ہے۔ ” حق “ وہ بات ہے جس میں نفع ہے بس وہ کبھی مٹنے والی نہیں۔ ٹکٹا ‘ ثابت ہونا ‘ باقی رہنا اس کا قدرتی خالصہ ہے اور ” حق “ کے معنی ہیں قیام و ثبات کے ہیں۔ لیکن ” باطل “ وہ ہے جو نافع نہیں اس لیے اس کا قدرتی خاصہ ہی یہ ہوا کہ مٹ جائے ‘ محو ہوجائے ‘ ٹل جائے۔ ان الباطل کان ذھوقا۔ اس حقیقت کا ایک گوشہ ہے جسے ہم نے ” بقا و اصلح “ کی شکل میں دیکھا ہے لیکن قرآن کریم نے اصلح نہیں کہا بلکہ ” انفع “ کہا ہے کیونکہ صالح وہی ہے جو نافع ہو۔ کارخانہ ہستی کی فطرت میں بناوٹ اور تکمیل ہے اور تکمیل جبھی ہو سکتی ہے جب کہ صرف نافع اشیاء ہی باقی رکھی جائیں اور غیر نافع چھانٹ دی جائیں اور یہی حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے جا بجا ” قصاء بالحق “ سے بھی تعبیر کیا ہے یعنی حق کا فیصلہ۔ ” اللہ اس طرح کی مثالیں بیان کرتا ہے۔ “ ایک بار پھر غور کرو کہ جھاگ کوئی بھی ہو۔ پانی کا ‘ پیشاب کا ‘ سونے چاندی کا اور دوسری دھاتوں کے پگھلانے کا وہ کہاں ہوتا ہے ؟ جان لو ‘ تسلیم کرلو کہ اوپر ہوتا ہے لیکن وہ کب تک باقی رہتا ہے اور کتنا نافع ثابت ہوتا ہے ‘ اس کے وجود کو کتنی دیر بقاء ہے ؟ فقط کچ دیر کیلئے جو بالکل معمولی ہے اور پھر وہ ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور اگر ختم نہ ہو تو بہرحال ختم کردیا جاتا ہے اور اصل چیز باقی رہ جاتی ہے بس اس سے ” حق “ اور ” باطل “ کو سمجھ لو۔ بعض اوقات جھاگ کی طرح باطل حق پر چھا جاتا ہے اور وہ خوبصورت بھی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جلد ہی نابود ہوجاتا ہے اور ” حق “ ثابت رہتا ہے۔ پھر ذرا مزید سوچ لو کہ یہ دنیا کی زندگی کیا ہے ؟ کتنی دیر ہے ؟ لیکن اس کے بعد اخروی زندگی کیسی ہے ؟ اگر تم نے ” حق “ اختیار کرلیا تو یقینا وہ ” آخرت “ میں بھی کام دے گا کیونکہ ” آخرت “ خود دیرپا ہے اور ” حق “ بھی فیصلہ خود کرلو کہ تمہارا نفع کس میں ہے اور نقصان کس میں ؟
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم قبول کیا تو ان کے لیے سرتا سر خوبی ہے جنہوں نے قبول نہیں کیا اگر کرہ ارضی کی تمام دولت ان کے اختیار میں آجائے اور اسے دوگنا کردیا جائے تو یہ لوگ اپنے بدلہ میں ضرور اسے بطور فدیہ کے دے دیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے حساب کی سختی ہے اور ٹھکانا جہنم اور کیا ہی برا ٹھکانا ہے

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم قبول کیا خوبی ان ہی کیلئے ہے 34 ؎ ” جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم قبول کیا تو ان کیلئے بھلائی ہی بھلای ہے “۔ حکم قبول کرنا کیا ہے ؟ ایک عمل ہے پھر عمل کا نتیجہ اس کے ساتھ لازم ہے اور یہ بھی اللہ کا حکم قبول کرنا فی صف نیکی ہے کو ین کہ اللہ کا حکم سراسر نیکی اور خوبی ہے ظاہر ہے جب عمل خوبی اور اچھائی ہے اور وہ بھی عنداللہ تو اس کا نتیجہ تو بہرحال خوبی اور آخرت بھی اس کی سنور گئی تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوبی ہوگی ؟ ” جنہوں نے قبول نہیں کیا اگر کرہ ارض کی تمام دولت ان کے اختیار میں آجائے اور اسے دوگنا کردیا جائے تو یہ لوگ اپنے بدلہ میں ضرور اسے دیں گے تاکہ وہ بطور فدیہ دیں اور ہساب کی سکتی سے بچ جائیں۔ ” گویا جن لوگوں نے دنیوی زندگی میں اللہ کا ہکم قبول نہیں کیا ان کیلئے آخرت کی ناکامی تو لازم ہوگئی اور پھر دنیا اگر کسی کی بن بھی گئی جب آخرت تباہ و برباد ہوگئی تو یقینا وہ تباہ و برباد ہوگیا اور ناکامی اس کے حصے میں آئی۔ اب اس ناکامی سے بچنے کیلئے کہا جا رہا ہے کہ فرض کرو اس کے قبضہ میں ساری دنیا کا مال و متاع ہے اور اس وقت جتنا اس کے پاس فرض کرلیا گیا ہے اتنا مزید بھی اس کو مل جائے اور سارا ملا کر چاہے گا دے دوں اور اس آخرت کی ناکامی سے بچ جائوں تو ایسا ممکن نہیں ہوگا اس لئے کہ اب وہ جہاں کھڑا یا جہاں پہنچ گیا ہے اس کو دارالجزاء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے دارالعمل نہیں اور یہ مال دینا ظاہر ہے کہ سراسر عمل ہے جس کا تعلق بھی دارالعمل ہی سے ہے دارالجزاء میں تو اس کی جزاء ہوگی جس کو وہ خود دارالعمل میں خرچ کر گیا۔ اس سے ان لوگوں کا سارا بھرم کھل گیا جو مردوں کو پیچھے سے مال سپلائی کرنے کے دعویدار ہیں اور قوم کو اس گلط نظریہ پر لگا کر اپنے پیٹ کو دوزخ کی آگ سے دھڑا دھڑ بھر رہے ہیں اور عوام کا الانعام ہیں۔ کہ وہ اپنے مردوں کو بخشوانے کی خاطر ان کی جیبیں بھر رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ یہ سب تو خود غرض انسان ہیں آخرت کا لیٹر بکس مطلق نہیں اگر یقین نہیں آیا تو آیت کے اس حصہ کو بار بار پڑھو۔ والذین لم یستجیبوا لہ لو ان لھم ما فی الارض جمیعا و مثلہ معہلا قتلوا بہ اولئک لھم سواء الحساب (13 : 18) یہ مال جو تم مرنے والے کی نیت سے تیسرے ‘ چوتھے ‘ ساتویں ‘ دسویں اور چالیسویں میں خرچ کرتے ہو کیا سمجھ کر خرچ کرتے ہو ؟ اگر یہ سمجھ کر خرچ کرتے ہو کہ اس ہمارے مرنے والے کے کچھ کام آئے گا تو اس کے متعلق اللہ کی بات تم نے سن لی کہ اگر مرنے والے نے آخرت کلئے و کچھ تیار نہیں کیا تو اب جب وہ دارالعمل سے رخصت وہ گیا تو دارالجزء میں ساری دنیا کا مال بھی اس کو مل جائے اور اتنا مزید بھی اور وہ چاہے کہ میں فدیہ میں دے کر آخرت کی زندگی میں کامیاب و کامران ہو جائوں تو اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کو کامیابی حاصل ہوگی اس لئے صاف صاف بات تو یہ ہے کہ وہ ناکام و نامراد ہوگیا۔ پھر وہ تمہارا خرچ کیا ہوا کس کام آیا ؟ اچھا یہ بات کون کہہ رہ ہے کہ آخرت میں ساری دنیا کا مال اس کو ملے اور اتنا مزید بھی تاکہ وہ فدیہ میں دے کر رہائی حاصل کرلے تو نہیں کرسکے گا ؟ ظاہر ہے کہ یہ کہنے والا تو اللہ ہی ہے پھر تم نے برادری ‘ خاندان ‘ باپ دادا اور خصوصاً اس ملال کی بات کو اللہ کی بات کے مقابلہ میں بڑا اور سچا سمجھایا نہیں ؟ آخر انہی کے کہنے پر تو تم نے وہ مال خرچ کیا جو تیسرے ‘ چوتھے ‘ ساتویں ‘ دسویں اور چالیسویں میں خرچ کیا۔ مزید ایک بار غور کرلو کہ یہ تمہارا دیا ہوا مال ان لوگوں کے کچھ کام نہ آیا جن کو اس مال کی ضرورت تھی کہ وہ اس مال کو دے کر یہاں کامیاب ہوجائیں اس لئے کہ وہ فی الواقع ناکام تھے۔ رہے وہ لوگ جو پہلے ہی کامیاب قرار دیئے گئے اور آخرت کی خوشحالی ان کو مل گئی تو ان کے کام تمہارا یہ مال کیسے آیا ؟ کیونکہ اس مال کی آخرت میں تو کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ رہا وہ مال جو تم نے اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں سے خرچ کیا تو اس کا اجر اس لئے ہوا کہ وہ تمہارا عمل تھا جو تم نے دارالعمل میں رہ کر کیا جہاں عمل کرنے کا صلہ یا نتیجہ لازم ہے اور یہ بھی اللہ نے بتایا ہے جیسا کہ آیت کے پہلے حصہ میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ للذین استجابوالربھم الحسنیٰ ۔ فرمایا ” ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور کی اہی برا ٹھکانا ہے “۔ یعنی وہ لوگ جو نیکی کو تو قبول نہیں کرتے اور برائی کی طرف بڑی رغبت رکھتے ہیں اور ہمارا قانون یہ ہے کہ جو حق کو قبول کرتے ہیں ان کیلئے خوبی ہوتی ہے اور جو نہیں کرتے ان کیلئے محرومی ہوتی ہے۔ اس لئے جنہوں نے قبول کیا ان کے اعمال نافع ہوگئے اور اب نافع عمل مٹ نہیں سکتا۔ جنہوں نے انکار کیا وہ غیر نافع ہوگئے اور غیر نافع باقی نہیں رہ سکتا ! اس طرح جو بات گزشتہ آیت میں بتائی گئی تھی اس کو پر یٹیکلی سمجھا دیا کوئی سمجھے یا نہ سمجھے اس کی مرضی ہم صرف یہ کہنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ ایسے نا سمجھوں کیلئے ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے جس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں کیونکہ انہوں نے اس کیلئے کوئی راہ کھلی رہنے ہی نہیں دی۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ دونوں آدمی برابر ہوجائیں ؟ وہ جو یہ بات جان گیا ہے کہ جو بات تجھ پر تیرے پروردگار کی جانب سے اتری ہے حق ہے اور وہ جو اندھا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہی لوگ سمجھتے بوجھتے ہیں جو دانشمند ہیں

کیا جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر ہیں ؟ نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو صاحب عقل ہیں 35 ؎ سوال پوچھ کر بات کو ذہن نشین کرایا جا رہا ہے کہ تم ہی بتائو کہ جو شخص جانتا ہے اس کو جو اس کے اللہ کی طرف سے نازل ہوا اور اس پر ایمان لایا کہ ہاں ! یہ میرے رب کا نازل کیا ہوا ہے اور وہ جو اندھا ہے یعنی اس کو اللہ نے نازل فرمایا نہیں مانتا اور نہ ہی سمجھتا ہے تو کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ ظاہر ہے صاف ‘ سیدھی اور واضح بات تو یہی ہے کہ وہ برابر نہیں ہو سکتے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ فرمایا ہم نے یہ بات اس لئے بیان کی ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور پھر نصیحت کو حاصل کرنے کیلئے ہم نے یہ قانون ٹھہرایا ہے کہ صاحب عقل ہی نصتح حاصل کرسکتے ہیں یا جو نصیحت حاصل کرتے ہیں وہی صاحب عقل ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہمارے مذہبی راہنما اور دین کے ٹھیکہ دار ہم کو کہتے ہیں کہ دین و مذہب میں عقل و دانش سے کام نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس کا تعلق شاید ” عقل و دانش “ سے کچھ نہیں اور بات پھر وہیں آ کر ٹھہری کہ اللہ کہتا ہے دین و مذہب عقل و دانش والوں ہی کیلئے ہے اور ہمارے دین کے ٹھیکہ دار کہتے ہیں کہ مذہب و دین کا تعلق عقل و دانش سے کچھ نہیں اب ایک بات رب ذوالجلال والاکرام کی ہے اور دوسری مذہبی ٹھیکہ داروں کی ‘ تمہاری مرضی کی جس کی چاہو مانو اور جس کی چاہو ترک کر دو ۔ ہاں ! اس کا خلاصہ ایک بار پھر سن لیجئے۔ فرمایا : جسے حق کا علم و عرفان حاصل ہوگیا اور جس نے جان لیا کہ یہ بات سچائی ہے اور یہ بات سچائی نہیں کیا اس کا اور اس آدمی کا ایک حکم ہو سکتا ہے جو تاریکی میں ہے اور حق کے مشاہدہ سے اندھا ہو رہا ہے ؟ یعنی پہلا تو علم و بصیرت پیش کر رہا ہے اور دوسرے کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں کہ کہتا ہے مجھے دکھائی نہیں دیتا۔ پس پہلے کی جگہ علم کی ہوئی اور دوسرے کی جمل و کو ری کی ہوئی پھر دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ہاں ! نصیحت پذیر وہی ہو سکتے ہیں جو اصحاب دانش ہیں جنہوں نے دانش و فہم سے منہ موڑ لیا ان سے کوئی توقع نہیں ہے۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ کے ساتھ اپنا عہد پورا کرتے ہیں اپنا قول وقرار توڑنے والے نہیں

جو لوگ وعدہ کو پورا کرتے ہیں اور عہد و پیمان کو توڑتے نہیں 36 ؎ اب اس آیت سے ان لوگوں کے اعمال گنائے ہیں جنہوں نے احکام حق قبول کئے اور دنیا کیلئے نافع ہوگئے اور یہ اعمال کیا کیا ہیں ان کی تفصیل دی جا رہی ہے۔ فرمایا : وہ اللہ کی بندگی کا عہد پورا کرتے ہیں اور اپنی عبودیت میں سچے اور کامل ہیں اور اپنے مالک حقیقی کے عہد کو کبھی نہیں توڑتے اس عہد سے مراد وہی فطری عہد ہے جس کو ” عبدالست “ ” عبدازل “ عالم ارواح “ کا عہد اور ” روز میثاق کا عہد “ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اور ہم اس کو عہد فطرت کہتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ نام خود قرآن کریم میں بتایا ہے جہاں ارشاد فرمایا ۔ فطرت اللہ النبی فطر الناس علیھا اور اس کی تفصیل ہم سورة الاعراف کی آیت 172 ‘ حاشیہ نمبر 196 ‘ جلد سوم کے صفحہ 781 پر پوری تفصیل سے بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمالیں۔
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں جوڑے رکھتے ہیں اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں حساب کی سختی کے خیال سے اندیشہ ناک رہتے ہیں

جو لوگ احکام الٰہی کو جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں 37 ؎ ان لوگوں کی دوسری صفت بیان کی جا رہی ہے فرمایا : ” اللہ نے جو رشتے جوڑ دیئے ہیں انہیں ظلم و ناانصافی سے توڑتے نہیں بلکہ ہر رشتہ کا پاس کرتے ہیں اور ہر تعلق کا حق ادا کرتے ہیں۔ گویا پچھلی آیت میں حقوق اللہ کا مکمل بیان آگیا اور زیرنظر آیت میں حقوق العباد کی مکمل فہرست آگئی اور ان لوگوں کی تیسری صفت بھی اس آیت میں ارشاد فرما دی۔ فرمایا : یہ لوگ آخرت کی فکر سے بےپرواہ نہیں ہوتے۔ جو کچھ کرتے ہیں اس میں خوف آخرت کی کھٹک موجود ہوتی ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی کے آگے ایک دن حساب دینا ہے اور حساب کی سختی پیش آنے والی ہے۔ اس لئے ان کے حسن کردار کی بنیاد خشیت الٰہی پر ہوتی ہے اس لئے وہ بہت ہی خوش نصیب ہوتے ہیں اور ان کی مثال جو یندہ یا بندہ والی ہے۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے محبت کرتے ہوئے صبر کیا ، نماز قائم کی ، جو کچھ روزی انہیں دے رکھی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں پوشیدگی میں بھی اور کھلے طور پر بھی ، انہوں نے برائی کے مقابلہ میں برائی نہیں کی جب پیش آئے تو اچھائی ہی سے پیش آئے تو یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے عاقبت کا گھر ہے

جو لوگ اللہ سے محبت کرتے ‘ نماز قائم کرتے اور راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں 38 ؎ صاحب عقل و دانش لوگوں کے جو اوصاف ان آیات کریمات میں بیان کئے گئے ہیں ان آیات میں سے یہ تیسری آیت ہے پہلی دو آیات میں ان لوگوں کے تین اوصاف ذکر کئے گئے اور اس آیت میں مزید چار اوصاف مذکور ہیں۔ فرمایا : وہ لوگ اللہ کی محبت میں ہر طرح کی ناگوار حالتیں صبر و ثبات کے ساتھ جھیل لیتے ہیں۔ شدتوں اور محنتوں سے منہ نہیں موڑتے اور آزمائشوں کو پیٹھ نہیں دکھاتے۔ یہی لوگ رضائے الٰہی کے محل و مقام میں ہوں گے جو دین حق پر ہر طرح کی جسمانی صعوبتوں اور دماغی پریشانیوں کے باوجود قائم رہتے ہیں اور ہر طرح کے احکام تشریی اور مصائب تکوینی پر صبر و ثبات سے کام لیتے ہیں۔ اس سے یہ اشارہ بھی مل گیا کہ راہ الٰہی میں ان چیزوں سے واسطہ لازم و ضروری ہے ممکن نہیں کہ ایک آدمی راہ حق اختیار کرے اور پھر مصائب اور صعوبتیں ایک بار اس پر ٹوٹ نہ پڑیں اور یہی اس کی ذات کو نکھار دیتی ہے۔ زیر نظر آیت میں دوسری صفت ان کی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نماز کو اس کی ساری شرطوں کے ساتھ قائم رکھتے ہیں۔ نماز کے اوقات ‘ نماز کی غرض وغایت اور نماز کے فرائض و سنن سب کا مکمل اہتمام رکھتے ہیں۔ اوقات میں اول وقت کا انتخاب کرتے ہیں اور غرض وغایت میں ان الصلوٰۃ و تنھی عن الفحشاء والمنکر کو پیش نظر رکھتے ہیں اور فرائض و سنن میں نماز با جماعت ‘ قبلہ رخ ہونے ‘ جگہ اور لباس کے پاک کرنے ‘ وقت کے پہچاننے اور ارکان کو بڑے آرام و سکون کے ساتھ ادا کرنے اور اذکار نماز کو سمجھ کر پڑھنے اور عمل کرنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ مل ہمارے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی اور خیر کا باعث ہوگا۔ اس آیت میں تیسری صفت ان کی یہ بیان ہوئی کہ وہ جو کچھ کماتے ہیں اسے صرف اپنے نفس ہی پر خرچ نہیں کرتے بلکہ دوسروں پر بھی خرچ کرتے ہیں اور ہر حال میں خرچ کرتے ہیں کھلے طور پر بھی ‘ پوسیدہ طور پر بھی اور یہ بھی کہ وہ مال خرچ کرنے میں صرف اپنی مرضی اور خواہش ہی کو مدنظر نہیں رکھتے بلکہ ان کے دل میں رضائے الٰہی اس طرح رچ بس چکی ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی اور خواہش پر اس کو ترجیح دیتے ہیں وار چوتھی صفت ان کی یہ بان فرمائی کہ وہ بدی کے بدلے بدی کرنا بھی پسند نہیں کرتے چہ جائیکہ وہ بدی میں پہل کریں۔ کوئی ان کے ساتھ کتنی ہی برائی کرے یہ بھلائی سے پیش آئیں گے۔ یدرئون بالحسنۃ السیتہ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اپنی خطائوں اور لغزشوں کو نیکیاں کر کے مٹاتے رہتے ہیں کیونکہ نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو۔ بات بالکل صحیح اور سچ ہے۔ اولئک عصبی الدار انہی لوگوں کیلئے جنت ہے جو اس دنیا کے بعد کی اور آخری چیز ہے۔ زیر نطر تین آیات میں 7 صفات بیان کی گئی ہیں۔ ایت 20 میں ایک ‘ 2 میں دو اور 22 میں چار کل سات صفات بیان ہوئیں ان صفات کو پھر غور سے دیکھو اس لئے کہ یہ صفات ان لوگوں کی بیان ہوئیں جو عنداللہ عقل و دانش والے لوگ ہیں۔ آپ کے ہاں بھی ہر بستی سے لے کر قصبہ ‘ شہر ‘ صوبہ اور پھر ملک میں بڑے بڑے صاحب عقل و دانش موجود ہیں ان سات صفات کو ان لوگوں میں تلاش کرو جو تمہارے ماحول کے عقل مند لوگ کہلاتے ہیں اگر ان میں یہ ساتوں صفات موجود ہیں تو ماشاء اللہ یہ لوگ سونا ہیں اور دین و دنیا میں کامیابی ان کے قدم چوم رہی ہوگی اور اگر ان سات میں سے جتنی ہوں گی ان کی نسبت سے وہ عقل و دانش میں بھی ہوں گے۔ 7 ‘ 1 ‘ 7 ‘ 2 ‘ 7 ‘ 3 ‘ 7 ‘ 4 ‘ 7 ‘ 5 ‘ 7 ‘ 6 یا مکمل۔ اگر ان میں سے ایک صفت بھی ان میں موجود نہیں تو سمجھ لو کہ وہ کتنے ہی صاحب اقتدار ‘ کتنے ہی صاحب مال ‘ صاحب اولاد ‘ صاحب عہدہ و اقتدار حتیٰ کہ وہ ملک کی اعلیٰ مسندوں پر ہی بیٹھے ہوئے نظر آئیں لیکن سمجھ لو کہ عنداللہ وہ عقل و دانش سے بالکل کورے ہوں گے اور وہاں ان کی کوئی قیمت نہیں ہوگی بلاشبہ وہ آخرت کے لحاظ سے بالکل تنگ و عار ہیں اور عنداللہ ان کی کوئی حقیقت نہیں خواہ کوئی ہوں اور خواہ وہ کون ہوں۔ جو لوگ ایسے ہیں کہ ان کیلئے آخرت کی کامیابیاں رکھی گئی ہیں 39 ؎ خیال رہے کہ کسی فعل پر جو جزاء ملتی ہے اس کو عربی زبان میں ” عقبی “ کہتے ہیں اور اس کے لغوی معنی پیچھے آنے کے ہیں چونکہ ہر فعل و عمل کی جزاء اس کے پیچھے آتی ہے اس لئے اس کو ” عقبیٰ “ کہتے ہیں ” اعقبہ “ کا معنی ہے ” جازاہ “ اور اگر جزاء اچھی ہو تو اس کو العقبۃ العقبیف العاقبہ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور اگر جزاء بری ہو تو اس کیلئے العقوبۃ المعاقبۃ اور لاعقاب کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہی
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

ہمیشگی کے باغ جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد ، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک کردار ہوں گے وہ بھی جگہ پائیں گے اور ہر دروازے سے فرشتے ان پر آئیں گے

ں اور الفاظ کو دیکھ کر اس کے اچھے یا برے انجام کا پتہ لگا لیا جاتا ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں ان کیلئے ان کے آبائو اجداد اور اولاد کیلئے 40 ؎ یہ نیک کردار اور اولوالباب خود تو بحمد اللہ جنت میں داخل ہوں ہی گے ان کے ساتھ ان کے آبائو اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کی اولاد بھی انشاء اللہ جنت میں ساتھ ہوں گے اس لئے کہ یہ خود ہی صاحب عقل و دانش نہیں تھے بلکہ ان کے آبائو اجداد اور ان کی اولاد اور بیویاں اور دوسرے کتنے رشتہ دار بھی صاحب فہم و بصیرت تھے اور یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ معاون و مدگار تھے۔ غور کیجئے کہ ان کی رشتہ داریاں تو ہیں لیکن جنت میں جانے کا باعث صرف رشتہ داریاں نہ ہوئیں بلکہ ان سب کے اعمال صالحہ ہوئے۔ جس سے ثابت ہوگیا کہ بض خاندانوں میں اللہ نے یہ خیر و برکت بھی رکھی ہے کہ وہ نسلاً نیکوکار ‘ خدا ترس ‘ بلند اخلاق ‘ بلند کردار اور اعلیٰ اوصاف کے حامل چلے آتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا یہ وہ فضل ہے جس کی حد و انتہا کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء من عبادہ فرمایا یہی لوگ ہیں کہ ان پر ہر دروازہ سے سلامتی ہی سلامتی ڈالی جائے گی اور وہ سلمتی کے سوا وہاں کچھ نہ سن پائیں گے۔ ہر طرف ان پر مبارکبادیوں کی بارش برستی ہوگی۔ حالت سرور و فرحت و نشاط میں انسان گفتگو بھی اس قسم کی سننا چاہتا ہے جو اس کیلئے اور زیادہ کیف آور اور نشاط انگیز ہو۔ چناچہ فرشتے بھی ہر طرف سے آ آ کر ایسے ہی پیغام پہنچائیں گے۔ یہ وہ مقام ہے کہ سارے نبیوں کو بھی حاصل نہ ہوگا اور اس میں عین ممکن ہے غیر نبی نبی پر فوقیت حاصل کرلیں اگرچہ مجموعی صورت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دوسرے لوگوں سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے تاہم بعض وصف میں رفعت کی بلندی دوسرے نیک بندوں کیلئے بھی بہت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر ایک طح سے خاص الخاص فضل ہوگا۔
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

یہ جو تم نے صبر کیا تو اس کی وجہ سے تم پر سلامتی ہو پھر کیا ہی اچھا عاقبت کا ٹھکانا ہے جو ان لوگوں کے حصہ میں آیا

کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ جو فرشتوں کی مبارکبادیوں کے مستحق قرار پائے 41 ؎ ” سلم علیکم “ سلامتی ہو تم پر۔ کون کہہ رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کی وہ طاقتیں اور قوتیں جن کو فرشتوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ شاباش ان کو کیوں دی جا رہی ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ انہوں نے حق کی خاطر باطل سے ٹکر لی اور اس کے فسوں کو توڑ کر رکھ دیا اور ان کی دنیا تو گزری وہ جیسی کیسی بھی تھی لیکن ان کی اصل سعی و کوشش آخرت کی خاطر تھی وہ ان کو خوبملی اور وہ سلامتی کے مستحق ٹھہرے۔ اس لئے فرشے ان کو تسلیمات و تحیات پیش کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ساری عمر نفس کو گناہوں سے بچاتے رہے اور نیکی اور اطاعت پر مداومت کرنے میں کوشاں رہے جو دنیا کی لذتوں اور عیش و طرب سے زندگی بھر کنارہ کش رہے۔ امام زینالعابدین سے مروی ہے کہ روز حشر اعلان کیا جائے گا کہ اہل صبر و استقامت حاضر ہوں کچھ لوگ حاضر ہوں گے انہیں حکم ملے گا کہ جائو جنت میں چلے جائو راستہ میں ان سے فرشتے پوچھیں گے کہ کہاں جا رہے ہو ؟ وہ کہیں گے جنت کی طرف ‘ فرشتے کہیں گے کیا حساب سے بھی پہلے ؟ وہ جواب دیں گے جی ہاں ! پوچھا جائے گا تم کون ہو ؟ وہ بتائیں گے کہ ہم اہل صبر ہیں۔ فرشتے استفسار کریں گے کہ تمہارے صبر کی حقیقت کیا تھی ؟ تو وہ فرمائیں گے کہ ہم نے اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رکھا اور اس کی نافرمانی سے بچے اور دنیا کے مصائب و الام پر صبر سے کام لیا تو فرشتے کہیں گے تم جنت میں داخل ہوجائو نیک عمل کرنے والوں کا اجربہت ہی اچھا ہوتا ہے۔ “ یہی وہ لوگ ہیں جو فرشتوں کو مبارکبادیوں کے مستحق قرار پائے اور یہ ان کی کامیابی و کامرانی کی دلیل ہے۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ اللہ کا عہد مضبوط کرنے کے بعد پھر اسے توڑ دیتے ہیں اور جن رشتوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں قطع کر ڈالتے ہیں اور ملک میں شر و فساد برپا کرتے ہیں تو ایسے ہی لوگ ہیں کہ ان کیلئے لعنت ہے اور ان کیلئے برا ٹھکانا ہے

جو لوگ عہد الٰہی کو توڑنے اور زمین میں فساد مچانے والے ہوں ان کیلئے لعنت کے سوا کیا ہے ؟ 42 ؎ صاحب عقل و دانش کے مقابلہ میں نافہم ‘ الحج فہم اور بدبختوں کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ یہ وہی کم بخت ہیں جن کی صدا یہ تھی کہ دین و مذہب میں عقل و دانش سے کام نہیں لیا جاتا اور یہ مکمل طور پر دین و مذہب کو جو اللہ اور اسکے رسول نے بتایا تھا اس کو بالائے طاق رکھ کر معاشرہ میں کچھ رسومات بنا کر ان کی پیروی کرنے لگے تھے اور ان پر اتنی سختی کے ساتھ کاربند تھے کہ گویا یہی احکام اسلام ہیں اور اگر ان کی مکمل تصویر دیکھنا چاہو تو آج بھی ان مذہبی ٹھیکہ داروں میں دیکھ سکتے ہو اور ان کے بیان کردہ اسلام میں تلاش کرسکتے ہو جس چیز کو یہ لوگ اسلام اسلام کے نام سے موسوم کرتے نہیں تھکتے اس میں انہوں نے ایک بات بھی تو اسلام کی نہیں رہنے دی۔ اسلام کے نام پر بنائی ہوئی ان عمارتوں کے اندر جو کچھ کیا جا رہا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے کچھ نہ پوچھئے۔ سب سے بڑی اور سب سے بری بات جو اللہ تعالیٰ کی لعنت کی اصل پھٹکار ہے وہ مذہبی گروہ بندی اور فرقہ بندی ہے جس کو قرآن کریم نے کھلا شرک قرار دیا ہے اور سارے مکاتب ہائے فکر کے علماء اس گروہ بندی اور فرقہ بندی کو مضبوط کرنے کیلئے دن رات کوشاں ہیں اور اس کو دین کا ایک اہم کام سمجھ کر رہے ہیں۔ غور کرو کہ جس چیز کی بنیادہی غلط ہو اس کے صحیح ہونے کی کوئی صورت آخر کیسے ؟ فرمایا یہی لوگ ہیں کہ وہ عہد الٰہی کے ناقض ہیں اور حقوق اللہ کی ذرا پرواہ نہیں کرتے اور اس طرح حقوق العباد کا ان کو ذرا خیال نہیں اور زندگی میں کسی ضابطہ حیات کے وہ پابند نہیں ‘ بالکل چھوٹ ہیں اور جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں جس طرف جی چاہتا ہے نکلتے ہیں ‘ انکا کام صرف اور صرف دھونس و دھاندلی ہے اور فساد فی الارض ان کا مرغوب و مقبول مشغلہ ہے ۔ ذرا اپنے ملک عزیز کے صاحب اقتدار طبقہ کو نگاہ میں رکھو اور اپنے اندر تجزیہ کر کے دیکھو کہ قرآن کریم جو کچھ کہہ رہا ہے وہ سب کا سب تو یہاں موجود نہیں ؟ اگر ہے تو پھر ہمارے معاشرہ کی حالت کیسی ہے ؟ کیا کلام الٰہی کا یہ معجزہ اس ملک عزیز میں رونما ہے یا نہیں ؟ فرمایا یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ہوچکے ہیں اور لعنت کا یہ جو تا ان پر تابڑ توڑ برس رہا ہے اور ان کا انجام بھی کبھی نیک نہیں ہوگا بلکہ وہاں بھی ان کیلئے خرابی ہی خرابی ہے۔ دنیا کی اس حالت میں وہ اپنی خرابی کو چھپائے ہوئے ہیں اور آخرت میں وہ اس طرح ظاہر ہوجائے گی کہ ان کے چھپائے بھی نہیں چھپ سکے گی۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور بعض کی نپی تلی کردیتا ہے لوگ دنیا کی زندگی پر شادمانیاں کرتے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی تو آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے محض تھوڑا سا برت لینا ہے

رزق کی تنگی و فراخی اللہ تعالیٰ کے قانون مشیت کے مطابق ہے 43 ؎ دنیا کی سب سے پرانی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی یہ بھی ہے کہ جہلاء عقیدہ و عمل کے حسن و قبح دیکھنے کی بجائے امیری اور غریبی کو دیکھتے ہیں اور ان کے ہاں انسانوں کی قدر و قیمت ان کے مال و دولت اور اقتدار سے لگائی جاتی ہے۔ جن لوگوں کے پاس دولت کے انبار ہیں ‘ زمینوں کے قطعات کے قطعات اور علاقوں کے علاقے ہیں وہ بڑے لوگ ہیں اور اللہ میاں کے ہاں بھی وہ محبوب ہی سمجھے جاتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔ کل ان کا گمان یہ تھا اور آج ہمارا بھی بالکل وہی ہے کہ جسے دنیا میں خوب سامان عیش مل رہا ہے وہ خدا کا محبوب ہے خواہ وہ کیسا ہی گمراہ اور بدکار ہو اور جو تنگ حال ہے وہ خدا کا مغضوب ہے خواہ وہ کتنا ہی نیک ہو۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے وقت میں بھی اسی بنیاد پر قریش کے سرداروں کو نبی اعظم و آخر ﷺ کے ساتھیوں پر فضیلت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھ لو اللہ کس کے ساتھ ہے ؟ اس پر متنبہ فرمایا گیا ہے کہ رزق کی کمی بیشی کا معاملہ اللہ کے ایک دوسرے ہی قانون سے تعلق رکھتا تھا جس میں بیشمار دوسری مصلحتوں کے لحاظ سے کسی کو زیادہ دیا جاتا ہے اور کسی کو کم یہ کوئی معیار نہیں ہے کہ جس کے لحاظ سے انسانوں کے اخلاق و معنوی حسن و قبح کا فیصلہ کیا جائے۔ انسانوں کے درمیان فرق مراتب کی اصل بنیاد اور ان کی سعادت و شقاوت کی اصل کسوٹی یہ ہے کہ کسی نے فکر و عمل کی صحیح راہ اختیار کی اور کس نے غلط۔ کس نے عمدہ اوصاف کا اکتساب کیا اور کس نے برے اوصاف کا مگر نادان لوگ اس کی بجائے یہ دیکھتے ہیں کہ کس کو دولت زیادہ ملی اور کس کو کم۔ وہ لوگ جو دنیا کی زندگی اور اس زندگی کی فراوانیوں پر خوش ہوگئے ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ کیا ’ پدی اور کیا پدی کا شوربہ “ کس بات پر ریجھ گئے ہو ؟ آج جن زمینوں ‘ باغوں ‘ کارخانوں اور کو ٹھیوں کے تم مالک ہو۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ان کے مالک اور لوگ تھے اور تمہارا اس جگہ نام و نشان بھی موجود نہ تھا۔ مشیت الٰہی کی یہ کرشمہ سازی کہ آج ان ساری چیزوں پر تمہارا نام چل رہا ہے لیکن کتنی دیر ؟ حاشاء اللہ ! کہ آنے والے کل کو تمہارا نام و نشان بھی یہاں نہیں ہوگا اور یہ ساری کی ساری ملکیتیں بدل کر رکھ دی جائیں گی اور یہ سب کچھ ہوگا لیکن تم نہیں ہو گے ‘ کتنے بھولے ہو ‘ کتنے ناسمجھ ہو ‘ کتنے نافہم ہو ‘ کتنے بیوقوف ہو کہ ان چیزوں پر نازاں وفرحاں ہو جن کو ذرا بھی ثبات نہیں ہے نہ تمہاری اس زندگی کو اور نہ تمہاری ان ساری اشیاء کو جن پر تم شاداں وفرحاں ہو۔ لیکن تم نے کیا سمجھا کہ مرو گے تو یہ سب کچھ تمہارے ساتھ چلا جائے گا ؟ غور کرو کہ کتنے ہیں جو اس کو ساتھ لے گئے ؟ تم تو بالکل جس طرح خالی ہاتھ آئے خالی ہاتھ ہی یہاں سے لے جائے جائو گے۔ نہ یہاں لانے پر تم سے پوچھا گیا اور نہ یہاں سے لے جانے کے وقت تمہاری مرضی پوچھی جائے گی۔ پھر یہ درمیان میں تم کو جو وقت مل گیا تم اس پر انحصار کر کے کیسے فیصلے کرنے لگے تم نے اپنی کاغذ کی نائو کو کہاں بہا دیا اور تم کو ذ را خیال نہ آیا اب ڈوبی یا کب ڈوبی ؟ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں کیا ہے ؟ کچھ بھی نہیں 44 ؎ پھر غور کرو کہ اس دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں کیا چیز ہے ؟ اپنی اس دس ایکڑ زمین جس پر تم نازاں ہو ذرا اس خدا کی زمین کے ساتھ مقابلہ کر کے تو دیکھو کہ اس کی حیثیت کیا ہے ؟ پھر اس کروڑوں سال پرانی دنیا میں اپنی زندگی کے پچاس ساٹھ سال کا مقابلہ کرو کہ تم کو کتنی عمر ملی ہے پھر اس کائنات کی فانی زندگی کو اس آخرت کی زندگی کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھو جس کی طرف تم کو منتقل کردیا جائے گا اور تم بغیر حیل و حجت منتقل ہو جائو گے بالکل اس طرح جس طرح تمہارے باپ دادا منتقل ہوگئے اور وہی انتقال اشیاء جو کل تم ایک متوفی کالے رہے تھے آج وہی انتقال تمہاری وفات سے دوسرے لے رہے ہیں۔ اب بتائو کہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ ہاں ہاں ! اگر عقل مند ہو تو سمجھ سوچ کر جواب دو کیا تم اس وقت وہ زمینیں ‘ کارخانے ‘ کو ٹھیاں اپنے ساتھ رکھتے ہو جن پر تمہیں اتنا ناز تھا کہ جن لوگوں کے پاس یہ تھیں تم نے انہیں انسان ہی نہ مانا اور ان کے باپ دادا کو محض اس لئے تسلیم نہ کیا اور ان کے پاس ان فانی چیزوں کی ریل پیل نہیں تھی اور تم اپنے آپ کو ہم چوما دیگرے نیست سمجھتے رہے اور باپ دادا والے بنے بیٹھے رہے اور تم نے اس حصے کی بڑ بڑ کو کتاب و سنت پر ترجیح دے لی۔ اب بتائو کہاں ہے تمہارا وہ حقہ اور کہاں ہے تمہاری وہ چاریاری اور کہاں ہیں تمہاری وہ ساری چیزیں جن کو تم اپنا سمجھتے تھے۔ فرمایا دنیا کا مال و متاع کیا ہے ؟ آخرت میں جا کر کچھ بھی نہیں۔
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی وہ کہتے ہیں ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی اترتی ؟ کہہ دو اللہ جسے چاہتا ہے راہ میں گم کردیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے اسے راہ دکھا دیتا ہے

کافروں کا پرانا مطالبہ کہ پیغمبر اسلام پر کوئی آیت کیوں نہیں اتاری گئی ؟ 45 ؎ ڈھیٹ اور ضدی کس کو کہتے ہیں ؟ وہی جو اپنی بات کو بار بار دہراتا جائے اور یہ نہ سمجھے کہ میں نے جب ایک بار بات کہہ دی اور اس کا جواب حاصل کرلیا اب دوبارہ اس بات کے دہرانے کا فائدہ ؟ لیکن کفار کا یہی وطیرہ تھا کہ ہر بار نئے نئے نشانات طلب کرتے اور بار بار اپنے مطالبہ کو دہراتے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم کتنے ضدی اور کتنے ڈھیٹ ہو کہ ایک ہی بات بار بار دہراتے چلے جاتے ہو کیا تم کو کوئی نشانی نہیں دکھائی گئی ہے غور کرو کہ سب سے بڑی نشانی تو خود پیغمبر اسلام کا وجود با مسعود ہے کہ کسی کے سامنے تہ زانو نہ کر کے تم کو راہ ہدایت کی طرف بلا رہا ہے اور تمہاری زندگی میں وہ وہ گر تم کو بتا رہا ہے کہ تم خود ششدر و حیران ہو اور تمہاری سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ اس کے کلام کا کیا جواب دیں۔ رسول بذاتہ تم میں موجود ہے تم اپنی زندگیوں کو دیکھ کر اس کی زندگی کا بھی خیال کرو کا تم کو اس کی زندگی کے ایک ایک دن میں کئی کئی نشانات نہیں دکھائے گئے لیکن تم ہو کہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہو کیا تم نبوت کو کھلونا بنانا چاہتے ہو کہ تم جو چاہو تم کو دیا جائے اور جو مانگو وہ مل جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قانون تکوینی کام کر رہا ہے اور اس کے مطابق جو گمراہ ہونے کے قابل ہوتا ہے گمراہی حاصل کرتا ہے اور جو ہدایت پانا چاہتا ہے اس کو ہدایت مل جاتی ہے اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ گمراہی انہی کے حصے میں آتی ہے جو اپنی فہم خداداد سے کام نہیں لیتے۔ یہ پیچھے آیت نمبر 7 کے طور پر بھی اس سورت میں گزر چکی ہے اس کو ملاحظہ فرمالیں۔