44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsسراج البیان

Ayahs 44:38–57

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان میں ہے اس کو کھیل نہیں (ف 1) بنایا

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے تو ان کو ٹھیک کام پر پیدا کیا ہے ۔ لیکن ان میں بہت لوگ نہیں جانتے

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

بیشک ان سب کا وعدہ فیصلے کا دن ہے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئیگا اور نہ انہیں مدد ملے گی

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

مگر جس پر اللہ نے رحم کیا بیشک وہی ہے غالب مہربان

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تھوہر کا درخت

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

گنہگار کا کھانا ہے

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

پگھلے ہوئے تانبے کی طرف پیٹوں میں جوش مارتا ہے

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

جیسے کھولتا پانی

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

پکڑو اس (آدمی کو) پھر گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ لیجاؤ

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر اس کے سر پر پانی کا عذاب ڈال دو

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

مزاچکھ تو ہی بڑا عزت والا سردار ہے

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

بیشک یہ وہی ہے جس میں تم شک کرتے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

بیشک متقی چین کی جگہ میں ہوں گے

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

باغوں اور چشموں میں

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

باریک اور گاڑھے ریشم کی پوشاک پہنیں گے ۔ ایک دوسرے کی طرف منہ کئے ہوں گے

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

اس طرح ہوگا اور گورے رنگ کی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ان سے بیاہ دینگے

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

ہر ایک میوہ خاطر جمعی سے وہاں منگوالیں گے

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

وہاں سوائے اس موت کے جو پہلے مرچکے اور موت نہ چکھیں گے اور انہیں عذاب جہنم سے اللہ نے بچا لیا

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

یہ تیرے رب کا فضل ہے ۔ یہی بڑی مراد ملنی ہے

حل لغات :۔ بلوء ۔ آزمائش ۔ انعام ۔ ہم نے کائنات کو بلا مقصد نہیں پیدا کیا 1: مادیت کا نظریہ ہے ۔ کہ یہ کارگاہ حیات کا نتیجہ ہے ۔ محض بخت واخلاق کا اور مجازفۃ وتخمین کا ۔ یہ عالم حیات یونہی بلا کسی غرض اور غایت کے پیدا کردیا گیا ہے یا پیدا ہوگیا ہے ۔ اور اس کی تخلیق میں کسی اخلاقی ۔ نصب العین کو کوئی دخل نہیں ۔ قرآن حکیم اس نظریہ کی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو محض فعل عبث کے طور پر نہیں پیدا کیا ہے ۔ کہ اس کا کچھ مقصد بھی نہ ہو ۔ بلکہ ان کے بنانے میں حکمت ضرور ہے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ زندگی کی تکمیل ہو ۔ اور انسان کو مواقع دیئے جائیں ۔ کہ وہ آخرت کے لئے تیاری کرے ۔ اور اپنی روح میں اتنی قوت اور بالیدگی پیدا کرلے ۔ کہ اس کو اللہ کا قرب حاصل ہو ۔ اس ضمن میں یہ واضح رہے ۔ کہ غرض اور مقصد کے دومعنی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اللہ کو کائنات کے پیدا کرنے سے اپنی ذات کی تکمیل مدنظر ہے ۔ اور اس نے اس لئے انسان کو منصہ شہود پر جلوہ گر کیا ہے ۔ کہ اس سے اس کا کوئی اپنا مطلب نکلتا ہے ۔ اور ایک یہ کہ جہاں تک اس عالم پر غور کیا جاتا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ انسان کو جو اتنی نعمتوں سے نوازا گیا ہے ۔ تو آخر فاطرالسموات کی طرف سے کچھ مطالبہ ہونا چاہیے ۔ جن کی تکمیل خود اس کے لئے مفید ہو ۔ ورنہ اتنا بڑا آسمان پیدا کرنا بےکار ہے ۔ یہ عریض اور وسیع زمین جو انسان کے پاؤں تلے بچھادی گئی ہے ۔ بےسود ہوگی ۔ اور یہ نجوم وکواکب جو اس کے لئے سرگرداں ہیں ۔ بےمعنے ہوں گے ۔ ذرا غور سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ غرض اور مقصد کی یہ دوسری تعبیر صحیح ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ مفصل بالاغراض نہیں ہے ۔ ان کو اپنی ذات کی بلندی و رفعت کے لئے اس ساری کائنات میں کسی چیز کی بھی احتیاج نہیں ۔ یہ سب کچھ اگر فنا ہوجائے اور مٹ جائے تو اس کی عظمت اور جلالت قدر میں کوئی کمی پیدا نہیں ہوسکتی ۔ اور وہ اپنی ذات میں بہمہ وجوہ کامل اور لائق ستائش ہے ۔ بہر آینہ ان آیتوں کا مفہوم یہ ہے ۔ کہ انسان دنیا پر اس نقطہ نظر سے غور کرے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کیوں اس کو پیدا کی ۔ اور اس کو بنی آدمی سے کیا توقعات ہیں ؟ کیونکر ایک دن مقرر ہے ۔ جب سب لوگ اس کے حضور میں جمع کئے جائیں گے ۔ اور ان سب سے پوچھا جائے گا ۔ کہ انہوں نے نفس حیات کو کس حد تک مفید بنانے کی کوشش کی ہے ۔ ان سے سوال کیا جائے گا ۔ کہ انہوں نے عمر عزیز کے لمحات گرانقدر کن مشاغل میں صرف کئے ہیں ۔ پھر اعمال کے اعتبار سے وہاں دو ہی جگہیں ہیں ۔ دوزخ جہاں بد عمل لوگ جائیں گے ۔ اور جنت جہاں باعمل اور صالح لوگ سکونت رکھیں گے ۔ اب سوچنا یہ ہے ۔ کہ تم اپنے لئے کس مقام کو پسند کرتے ہو ۔ جہنم کو جو مقام غضب وغصہ ہے ۔ جہاں زقوم کھانے کو ملے گا ۔ یا جنت کو جو جوار رحمت اور رافت ہے ۔ جہاں زندگی کے تمام تکلفات مہیا ہوں گے ۔ حل لغات :۔ کالمھل ۔ تیل کی تلچھٹ کی طرح ۔
Ayahs 44:58–59

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

سو ہم نے یہ قرآن تیری بولی میں آسان (ف 1) کردیا ۔ شاید وہ نصیحت قبول کریں

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

اب تو بھی راہ دیکھ اور وہ بھی راہ دیکھتے ہیں

قرآن کیونکر سہل اور آسان ہے 1: اس آیت میں ایک نہایت ہی لطیف انداز میں یہ بتایا ہے ۔ کہ قرآن حکیم کو جو ہم نے سہل اور آسان قرار دیا ہے ۔ تو تیری تشریحات کے ساتھ اور تیری بیان کردہ تفصیلات کی وجہ سے ، یعنی اگر درمیان میں تیرا وجود نہ رہے ۔ رموز و اسرار کی عقدہ کشائی کے لئے تیری زبان فیض ترجمان نہ موجود ہو ۔ تو پھر محض عربی ادب کے بھروسہ پر اس کو سمجھنا اور اس کے معارف ونکات تک رسائی حاصل کرلینا سخت دشوار ہے ۔ اس کی تعلیمات سے صحیح معنوں میں تذکیر اور عبرت پذیری اسی وقت ممکن ہے ۔ جب مشکوٰۃ نبوت کی روشنی سے دل ودیدہ منور ہوں ۔ اور جب کہ یہ دیکھا جائے ۔ کہ اللہ کے پیغمبر اور کلام الٰہی کے اولین مخاطب نے اس کو کیونکر سمجھا ہے ؟ یہ بات کس درجہ العبیاز عقل اور محال ہے ۔ کہ ایک کتاب کو اس سے ماحول سے قطع نظر کرکے اور اس کو پیش کرنے والی کی تفہیمات سے بےنیاز ہوکر سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ یہ درست ہے کہ صحیفہ رشدوہدایت بدرجہ غایت سہل اور آسان ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ اس کو سمجھنے کے لئے ضروری شروط اور لوازم کی بھی احتیاج نہیں ۔ آسان سے آسان کتاب کو بھی اگر آپ اس کی ضروری شرائط سے الگ کرلیں گے ۔ تو وہ چیستان ہوکر رہ جائے گی ۔ پھر قرآن سے یہ کیوں تم توقع رکھتے ہو ۔ کہ اس کو عصر نبوی کی روایات سے بالکل جدا کرکے محض لغت کی مدد سے آپ سمجھ سکیں گے ۔ جس کو بہت بعد میں مرتب کیا گیا ہے ۔ اسی لئے جن لوگوں نے حدیث کا انکار کیا ہے ۔ اور پیغمبر کو یہ حق نہیں دیا ۔ کہ وہ ہم کو اللہ کا پیغام تفصیل کے ساتھ سنائیں ۔ وہ اختلاف وتشقت کی سخت الجھنوں میں گرفتار ہوگئے ہیں ۔ اور مصروف و متعین باتوں میں بھی عام مسلمانوں سے اختلاف کرنے لگے ہیں ۔ بلکہ خود آپس میں ان مسائل کا کوئی تصفیہ نہیں کرسکے ۔ جن کا تعلق دین کی اولیات سے ہے حل لغات :۔ سندس ۔ نازک اور لطیف ریشم بشتبرف ۔ دبیزریشم وزوجنھم بحورجات ۔ یعنی بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ان سے نکاح میں دیدی جائیں گی بلسانک ۔ یعنی تیری زبان کی تشریحات کی مدد سے ۔