37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsسراج البیان

Ayahs 37:113–119

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق کو برکت دی اور ان کی اولاد میں کوئی نیک (ف 1) ہے اور کوئی اپنے حق میں صریح ظالم ہے

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر احسان کیا

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

اور انہیں اور ان کی قوم کو بڑی سختی سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو واضح کتاب دی

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

اور ان کو سیدھی راہ دکھائی

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور پچھلوں میں ہم نے ان کا ذکر وخیر باقی رکھا

ف 1: یہ ایک پرانا اختلاف ہے ۔ کہ ذبیچ کون ہے ۔ حضرت اسماعیل یا حضرت اسحاق ؟ صحیح اور محققانہ رائے یہ ہے کہ اس سعادت کا فخر حضرت اسماعیل کو حاصل ہوا ۔ دلائل یہ ہیں :۔ (1) قرآن کا انداز بیان اس پر شاہد ہے ۔ کیونکہ اس سارے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے ۔ وبشرناہ باسحاق یتبا من الصالحین ۔ کہ ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کی نبوت اور سعادت کی خوشخبری سنائی ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے ۔ کہ ہم نے اس بات کی بھی بشارت دی تھی ۔ کہ حضرت اسحاق کی نسل بڑھے گی ۔ اور ان کے ہاں یعقوب پیدا ہوں گے ۔ ومن وراء اسحاق یعقوب پھر یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ جس بیٹے کو آئندہ چل کر نبوت کا اعزاز حاصل کرنا ہے ۔ اور جس کا ایک نسل کا باپ ہونا پہلے سے مقدور ومعلوم ہے ۔ اس کو ابراہیم ذبح کرنے کے لئے تیار ہوجائیں ۔ (2) حضور ﷺ نے اپنے متعلق ارشاد فرمایا ہے انا امن الذبحین ۔ یہاں غلام حلیم کا تذکرہ ہے اور دوسری جگہ تصریح فرما دی ہے کہ اس حلم وصبر کے مستحق حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے ۔ واسمعیل والیسع وذوا الکفل کل من الصابرین ۔ (3) اسلوب بیان سے ظاہر ہے ۔ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پہلے اولاد نہیں ہے ۔ اور وہ ایک ایسا مسعود مولود چاہتے ہیں ۔ جو ان کے منصب صلاح وتقویٰ ہی آپ کے پہلو ٹھے بیٹے تھے ۔ (4) آج تک نحر اور قربانی کی رسوم کا تعلق ارض بیت اللہ سے ہے ۔ اگر حضرت اسحاق مراد ہوتے تو قربانی کا مرکز شام ہوتا
Ayahs 37:120–122

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

کہ سلام ہو موسیٰ اور ہارون (ف 1) پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم نیکوں کو بدلادیتے ہیں

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

بیشک وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں تھے

قرآن کا نظریہ فضیلت 1: غرض یہ ہے کہ جب کوئی اللہ کا بندہ مخلوقات کی مخالفت کی پرواہ نہ کرکے حقانیت کو قبول کرلیتا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے برکات کے دروازے کھول دیتے ہیں ۔ اسے دنیا اور دین کی ہر نعمت سے بہرہ مندی کا موقع دیتے ہیں ۔ دیکھئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب توحید کی آواز کو بلند کیا ۔ تو اس وقت وہ یکہ و تنہا تھے ۔ ساری قوم میں ہمنوانہ تھا ۔ اور ایسا بھی نہ تھا جو سنجیدگی کے ساتھ دعوت ابراہیمی کے متعلق سوچتا اور غوروفکر سے کام لیتا ۔ پھر ایک وقت آیا ۔ کہ اس دعوت کا احیاء ہوا ۔ مکہ کی وادیاں توحید کے زمزموں سے گونج اٹھیں ۔ اور حضرت ابراہیم دیرینہ خواب پورا ہوا ۔ حضرت اسحاق نے اور حضرت اسمعٰیل نے آپ کے منصب امامت کو سنبھالا ۔ اور چارہ انگ تجازوشام میں توحید کے پیغام کو پھیلایا ۔ اس طرح یکہ و تنہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) امتوں اور گروہوں کے مورث ہوئے ۔ اور ضروری قرار دیا گیا ۔ کہ اسلامی دنیا ان کے لئے رحمتوں اور برکتوں کا اعتراف کرے ۔ اور ان کے مقام عبادت کو اپنے لئے مرکز ٹھہرائے ۔ اور اس آواز کو جو انہوں نے بلند کی تھی ۔ ساری دنیا میں پہنچا دے ۔ پھر جہاں حضرت ابراہیم ان فضائل و محاسن سے متصف تھے ۔ وہاں یہودی نہایت ظالم ثابت ہوئے ۔ انہوں نے اسرائیلی تعلیمات کو فراموش کردیا ۔ اور دنیا کی حقیر خواہشات کو اپنا نصب العین ٹھہرایا ۔ یہ اس لئے تصریح فرمادی ۔ تاکہ یہودی باوجود اپنی بداعمالیوں کے اس انتساب سے ناجائز استفادہ نہ کریں ۔ اور یہ نہ کہیں کہ ہم چونکہ حضرت اسحاق کی اولاد ہیں ۔ اس لئے بغیر اعمال صالحہ کے فضائل و محاسن کا استحقاق رکھتے ہیں ۔ قرآن حکیم نے جس نظریہ فضیلت کو پیش کیا ہے ۔ اس میں مورثی فضائل کا کہیں ذکر نہیں ۔ ہر شخص کو اپنے ذاتی مجدد وشرف کا ذمہ اور ٹھہرایا ہے اور کہا ہے ۔ کہ بزرگی وہ ہے ۔ جس کا تعلق براہ راست تمہارے اپنے اعمال سے ہے ۔
Ayahs 37:123–127

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور بیشک الیاس رسولوں میں (ف 2) ہے

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہتر خالق کو چھوڑتے ہو ؟

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

جو اللہ ہے تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

پھر انہوں نے اسے جھٹلایا سو وہ بھی پکڑے آویں گے

ف 2: فرعون مصر کے وقت جب بنی اسرائیل پر تشدد ہونے لگا اوسان کی طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا رکھا گیا ۔ تو اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی ۔ اور حضرت موسیٰ اور ہارون کو اس ظالم حکومت کی سرکوبی کے لئے بھیجا گیا ۔ کہ فرعون اور اس کی قوم کو توحید اور آزادی کا پیغام سنائیں ۔ اور ان کو بنی اسرائیل کے استخلاص کے لئے آمادہ اور مستعد کریں ۔ چناچہ ان دونوں بزرگوں نے پوری قوت کے ساتھ فرعون کا مقابلہ کیا ۔ اور بالآخر اپنی قوم کو اس کے چنگل سے چھڑانے میں کامیاب ہوگئے ان آیات میں انہی واقعات کا تذکرہ ہے واتینھما الکتب سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ ہارون (علیہ السلام) کی نبوت بھی ایک مستقل نبوت تھی ۔ ظنیت وتبعیت کا کوئی تذکرہ نہ تھا ۔ ان کو بھی کتاب دی گئی ۔ اور ان کے قلب پر بھی تورات کے معارف ونکات کا نزول ہوا تھا ۔ حل لغات :۔ المسلمین ۔ واضح یا وضاحت کرنے والی ۔
Ayahs 37:128–129

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے خالص بندے (ف 1) ہیں

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور پچھلوں میں ہم نے اس کا ذکر خیر چھوڑا

ف 1: حضرت ابن عباس کی رائے میں حضرت الیاس اور حضرت ادریس ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں ۔ مگر جمہور مفسرین کی رائے سے ۔ کہ یہ ایک مستقل پیغمبر تھے ۔
Ayahs 37:130–131

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

کہ اسلام ہوں (آل یسٰین (ف 2) یعنی الیاس پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

ہم یوں نیکیوں کو بدل دیتے ہیں

حل لغات : خردل ۔ رائی فتکن ۔یہاں اجتماع کے لئے ہے ۔ یعنی گو وہ صغیر و حقیر عمل ہوا اور انتہائی خطا میں بھی ہو ۔
Ayahs 37:132–138

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں (ف 3) میں تھا

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور بیشک لوط رسولوں میں تھا ۔

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

جب ہم نے اسے اور اس کے سب گھروالوں کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا کہ باقی رہنے والوں میں تھی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر دوسروں کو ہم نے ہلاک کردیا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

اور تم ان پر صبح کے وقت گزرتے ہو

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

اور رات کو بھی پھر کیا تم سمجھتے نہیں ؟

سدومیوں کی بداعمالیاں 2: سدومی لوگوں میں خواہشات نفس کی تکمیل کا مادہ حد سے زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ یہ دن رات ناپاک خیالات میں مستغرق رہتے اور اللہ کے قانون کو توڑتے ۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی تھی ۔ اس لئے ان میں جذبات جنسی کو پورا کرنے کا اندازہ ایک قلم بیہودہ اور غیر موزوں تھا ۔ حضرت لوط ان میں اس غرض کے لئے تشریف لائے کہ اس مرض مزمن کی اصلاح کریں ۔ اور ان کو بتائیں کہ اس جرم عظیم کے ہولناک نتائج کس صورت میں ظہور پذیر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ارتکاب غیر فطری ہے ۔ مضر ہے ۔ اور مہلک ہے ۔ تم اس سے بازآجاؤ۔ ان لوگوں میں قوت ارادی کی کمی تھی ۔ اور خبث عمل کا زہر ان کی رگوں میں پوری طرح سرایت کرچکا تھا ۔ اس لئے حضرت لوط (علیہ السلام) کی تعلیمات اور خصائح کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ اور یہ سودا ان میں بڑھتا گیا ۔ یہاں تک کہ اللہ کا قانون مکافات حرکت میں آیا ۔ اور فیصلہ ہوا کہ اس بدکردار قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ۔ تاکہ ان کی بداعمالیاں دوسروں تک متجاوزنہ ہوں چناچہ ان کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔ اور پتھروں کی ایسی بارش ہوئی ۔ کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دنیا سے غارت ہوگئے ۔ اس ضمن میں یہ بات لائق غوروفکر ہے ۔ کہ یہ علت اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس درجہ قابل اصلاح ہے ۔ کہ اس کے دور کرنے کے لئے ایک پیغمبر بھیجا جاتا ہے ۔ جو قوم کی طرف سے دلخراش طعنے سنتا ہے ۔ اور برابر اپنے اس اخلاقی مشن کی تبلیغ میں مصرروف ہے ۔ یعنی جب قوم میں یہ مرض عام ہوجائے ۔ تو پھر شرم ولحاظ کو بالائے طاق رکھ کر پیغمبرانہ عزنیت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ شرمناک پوزیشن یہ نہیں ہے کہ اس مرض کی اصلاح کے لئے درد مندانہ کوشش کی جائے ۔ بلکہ شرمناک یہ بات ہے کہ قوم کے نوجوان اس مہلک بیماری میں مبتلا ہوں ۔ اور اس کے ازالہ کے متعلق کچھ نہ سو چا جائے ۔ اس وقت نگران ناپاک خیال کے لوگوں کو آسمانی عذاب کے ذریعے ہلاک کردیا گیا تھا جو آج بھی یہ مرض قوموں اور نسلوں کو تباہ کررہا ہے ۔ اس سے اچھے باغ تباہ ہوجاتے ہیں کیرکٹر فنا ہوجاتا ہے اور تنومند اور باحوصلہ قوم کی تشکیل نہیں ہوتی ۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس نوع کے لوگ بقالالاصلاح کے قانون کے مطابق خود بخود مٹ جاتے ہیں ۔ حل لغات :۔ بعلا ۔ ان ہشام کا ایک بت ہے جو ہونے کا تھا ۔ ہوسکتا ہے اس کے معنے مطلقاً معبود کے ہوں اور مقصد یہ ہو ۔ مگر خلاق اکبر کی طرف تمہارا ذہن اہلسنت نہیں ہوتا ۔ بعل کے اصل معنے صاحب اور مالک کے ہیں شوہر کو غالباً اسی مناسبت سے بعل کہا جاتا ہے ۔
Ayahs 37:139–148

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور بیشک (ف 1) یونس (علیہ السلام) رسولوں میں تھا

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

جب وہ اس بھری ہوئی کشتی پر بھاگ کر پہنچا

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

پھر قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوگیا

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

پھر اسے مچھلی نگل گئی اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

پھر اگر یہ بات نہ ہوتی کہ خدا کی تسبیح کرنے والوں میں تھا

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو اس دن کہ مردے اٹھیں اس کے پیٹ میں رہتا

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے چٹیل میدان میں پھینک دیا اور وہ بیمار تھا

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت (یعنی کدو) اگایا

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

اور ہم نے اسے ایک لاکھ یا زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

پھر وہ ایمان لائے پھر ہم نے انہیں ایک وقت تک بہرہ مند کیا

ف 1: حضرت یونس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ یہ ارض نینوی کے نبی تھے انہوں نے قوم کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا مگر یہ لوگ سرکشی اور تمرد میں بڑھتے چلے گئے ۔ حتیٰ کہ یہ مایوس ہوکر چل دیئے ۔ اور ہجرت کی نیت سے جب کشتی پر سوار ہوئے ۔ تو وہ دریا میں ڈگمگانے لگی ۔ انہوں نے قرعہ اندازی کرکے یہ معلوم کرنا چاہا ۔ کہ کون شخص اس کشتی میں ایسا ہے جس کی شامت اعمال سے کشتی ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ تین دفعہ متواتر فرد حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر پڑا ۔ اس لئے ان کو دریا میں ڈال دیا گیا ۔ اور مچھلی نے انہیں نگل لیا ۔ یہ اصل میں اللہ کی طرف سے تادیب تھی ۔ کہ قوم سے مایوس ہوکر بغیر اذن الٰہی ان کو چھوڑ دینے کی یہ سزا ہے ۔ چناچہ انہوں نے تسبیح و تقدیس سے توبہ کی ۔ اور اللہ نے ان کو نجات دی ۔ حل لغات :۔ عجوزا ۔ بڑھیا انحوف ۔ ایک قسم کی مچھلی ہوسکتا ہے کہ اس نوع کی مچھلیاں زمانہ حال کے آدمیوں کو نہ چلی ہوں جن کے گلے میں اتنی وسعت ہو ۔ کہ وہ انسان کو زندہ نگل سکیں ۔ علم الحیوانات کے ماہرین نے صرف ایک بحرروم میں اس ہزار قسم کی مچھلیاں دریافت کی ہیں یقطئن بیلدار چیز ۔ تاکہ حضرت یونس آفتاب کی تمازت وحدت سے محفوظ رہے ۔