37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsسراج البیان

Ayahs 37:39–48

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور وہی بدلا پاؤ گے ۔ جو کچھ تم کرتے (ف 1) تھے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے خالص بندے ہیں

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

ان کے لئے روزی مقرر ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

طرح طرح کے میوے اور ان کی عزت کی جائے گی

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

تختوں کے آمنے سامنے

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

نتھری ہوئی شراب کے پیالہ کا ان پر دور چلے گا

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

وہ شراب سفید ہوگی پینے والوں کے لئے مزیدار

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس شراب سے سر گھومے گا اور نہ اس کی وجہ سے بیہودہ بکیں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس بڑی آنکھوں والی نیچی نگاہ والی عورتیں ہونگی

عقیدت مندی کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے 1: قیامت میں یہ عجیب لطف کی بات ہوگی ۔ کہ معتقدین اپنے مقتداوں کو ڈھونڈنے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تم لوگ ہماری نجات کی ذمہ داری لیتے تھے ۔ اور کھلے بندوں کہتے تھے ۔ کہ ہماری عقیدت مندی تمہارے لئے بمعنی میں مفید ثابت ہوگی ۔ اور بجز ہماری اطاعت کے نجات اور سعادت کی سب راہیں مسدود ہیں ۔ آج ہم تکلیف میں ہیں ۔ عذاب الٰہی کو اپنے روبرو دیکھ رہے ہیں ۔ تمہماری مدد کرو ۔ اور عذاب سے چھڑاؤ۔ کہ کہیں گے غلط ہے ۔ ہم تمہاری بدبختی اور محرومی کے ہرگز ذمہ دار نہیں ہیں ۔ ہمارے پاس کوئی قرت نہیں تھی ۔ کہ ہم مجبور کرکے تم کو اپنے حلقہ اراوت میں داخل کرتے ۔ تم خود گمراہ تھے ۔ اس لئے ہماری باتوں میں آگئے ۔ آج تو ہمارے رب کی بات پوری ہوتی نظر آتی ہے آج تو یہ ہوگا کہ پیر اور مرید دونوں جہنم کا مزہ چکھیں گے آج وقت کتنا تکلیف دہ ہوگا ۔ کو وہ لوگ جو دنیوی پیشوا لوگوں کی عقیدت مندی اور اراوت کا مرکز تھے اور جن کے لئے دنیا ہر شحص سے دست وگریباں ہوتے تھے ۔ آج وہ یوں آنکھیں پھیر لیں گے اور کامل بیزاری کا مظاہر کریں گے ۔ اور لطف یہ ہے کہ وہ خود بھی خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے ۔ فرمایا : آفتاب نبوت کی حقانیت میں کون شبہ کرسکتا ہے ۔ بات صرف یہ تھی کہ ان کی آنکھوں پر کبرونخوت کا پردہ پڑگیا تھا ۔ جب حضور ﷺ ان لوگوں کو توحید کی طرف بلاتے اور کہتے کہ بجز خدائے واحد کے اور کوئی شخصیت اس لائق نہیں کہ ۔ کہ اس کی چوکھٹ پر اپنی جبیں نیاز جھکائی جائے تو یہ کہتے کیا ہم اپنے خداؤں سے منہ موڑ لیں ۔ کیا بتوں کو چھوڑ دیں ۔ اور محض اس بناء پر اپنے معبودوں سے بیزاری کا اعلان کردیں کہ ایک شاعر اور مجنون ہمیں اس چیز کے لئے مجبور کررہا ہے ۔ گویا کمک بختوں کے نزدیک حضور شاعر تھے اور جو کچھ کہتے تھے اس میں کوئی صداقت نہ تھی اور مختل دماغ کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ فرمایا یہ بات نہیں آج ان لوگوں کو معلوم ہوگا ۔ کہ ان کا عقیدہ آپ کے متعلق کس درجہ غلط تھا ۔ آپ حق وصداقت کا پیغام لے کر آئے ہیں اور تمام رسولوں کی تصدیق کرتے ہیں ۔ انہیں اس انکار وتمردی پادش میں عذاب الیم کا مزہ چکھنا پڑیگا ۔ اور کہا جائے گا کہ بتاؤ کون عقل سلیم سے خارج ہے ؟ کس کا دماغ مختل ہے ؟ اور کون ہے جس کو تم شعر اور دروغ بانی کے ساتھ مہتم کرتے ہو جو سزائیں تم کو دی جائیں گی ۔ وہ تمہاری کرتوت کی بنا پر ہونگی ۔ ورنہ اللہ کی رحمتیں یہی چاہتی ہیں ۔ کہ تم ایمان و عمل صالح کی دعوت کو قبو کرلو اور اس عذاب سے مخلصی حاصل کرلو ۔
Ayahs 37:49–61

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا (ف 2) وہ ان سے ہیں چھپے دھرے

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر سوال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف منہ کریں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک بولنے والا بولے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

وہ مجھ سے کہا کرتا تھا کہ کیا تو یقین کرتا ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم تب بدلہ پائیں گے

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

پھر کہے گا تم (اسے دوزخ میں) جھانک کر دیکھو گے

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

پھر وہ (آپ ہی) جھانکے گا اور اسے دوزخ کے بیچوں بیچ دیکھے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

ہو اسے مخاطب کرکے کہے گا اللہ کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردے

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے رب کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی ان میں ہوتا جو حاضر کئے ہوئے ہیں

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

سو کیا اب ہم کو مرنا نہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

ہمیں صرف پہلی بار مرنا تھا اور ہمیں عذاب نہ ہوگا ؟

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک یہی بڑی مراد ملتی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی چیزوں کے لئے چاہیے کہ عمل کرنے والا عمل کریں

ف 2: ان آیات میں اللہ کے ان مخلص بندوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے وقت اور اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کیا ۔ اور اس کے پھیلانے میں ہر نوع کی مصیبتوں کو نجندہ پیشانی برداشت کیا ۔ ان کے لئے اللہ کے ہاں ہر قسم کی آسودگی اور تنعم کا سامان ہوگا ان کو ایسی غذائیں ملیں گی ۔ جن کے متعلق اس سے پہلے آیات میں شاید جاچکا ہے ۔ یعنی میو وں سے ان کے کام وذہن کی تواضع کی جائے گیا ۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ آرام کے باغوں میں رہیں گے ۔ اور آراستہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے اللہ کی نعمتوں کا نظارہ کرینگے ۔ لطیف اور عمدہ جام ہائے شراب کی گردش ہوگی جو دودھ کی طرح سفید ہوگی ۔ اور نہایت لذیذ درد سر اور تکلیف دہ خمار سے بالکل پاک ہوگی جس میں کیف ہوگا ۔ مگر عقل میں فتور نہیں پیدا ہوگا عورتیں ایسی عفیف کو سوائے خاوند کے دوسروں پر للچائی ہوئی نظریں نہ ڈالیں گی ۔ بڑی بڑی آنکھیں ۔ رنگ محفوظ انڈوں کی طرح سفید ۔ گویا تمام زندگی کیف و سرور کی زندگی ہوگی ۔ حل لغات :۔ عول ۔ شراب پینے کے بعد جو سربھاری ہوجاتا ہے اس کو کہتے ہیں ۔ قصرات یطرف ۔ دونوں معنے ہیں نیچی نگاہیں رکھنے والی عورتیں اور وہ عورتیں جو اپنے شوہر کے سوائے دوسرے مرد پر نظر ڈالیں ۔
Ayahs 37:62–63

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

کہ یہ (ف 1) مہمانی بہتر ہے یا زقوم کا درخت ؟

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے وہ درخت ظالموں کے لئے فتنہ یعنی بلا اور آزمائش بنایا ہے

جنت کی زندگی 1: جنت کی جن نعمتوں کا تذکرہ گذشتہ آیتوں میں ہوا ہے ۔ یہ ان انعامات کے مقابلہ میں جو ہونے والے ہیں وہ تو ایسی پاکیزہ کامل اور پر سعادت زندگی ہے کہ اس کی صحیح صحیح کیفیت سے اس دنیا میں واقف ہونا ناممکن ہے ۔ محلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قوۃ اعین ۔ یہ محض سمجھانے کے لئے لفائذ کے بعض پہلو ایسے بیان فرمادیئے ہیں جن سے ہم اصل حقیقت کا کچھ کچھ اندازہ کرسکتے ہیں ۔ اور سمجھ سکتے ہیں ۔ کہ جب ادنیٰ ضروریات حیات کو اللہ تعالیٰ نے اس حسن وخوب کے ساتھ پورا کیا ہے تو وہ روحانی حاجات زندگی جو کہیں بیش قیمت ہیں ۔ باحسن وجوہ پوری کی جائیں گی ۔ جب کھانے پہننے اور اٹھنے بیٹھنے کا یہ اہتمام ہے تو پھر وہ سعادتیں جن کا تعلق روح کی آسودگی اور بالیدگی کے ساتھ ہے کس درجہ توجہ کی محتاج ہیں ۔ ان نعمتوں کی تفصیل سے غرض یہ نہیں ہے کہ بس یہی جنت ہے بلکہ وہاں بیشمار احوال مسرت واجتہاج ہیں کہ جن کا اس وقت پورا اندازہ ہونا ناممکن ہے ان کے تذکرہ سے مقصد صرف یہ ہے کہ آپ جنت کے ذرا قریب ہوسکیں اور وہاں کی عظیم القدر زندگی کی ایک جھلک دیکھ پائیں ۔ جو لوگ ان نعمت ہائے گوناگوں کو سن کر اور ان انعامات بوقلمون کو پڑھ کر محض اس بنا پر جنت کا انکار کردیتے ہیں ۔ کہ صاحب یہ تو محض مادی خواہشات کی تکمیل کا سامان ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ضمیر کو دھوکہ دیتے ہیں اور بہت فریب نفس میں مبتلا ہیں ! اگر یہ لوگ دل کی گہرائیوں کو ٹٹولیں یہ تو ان کو معلوم ہو کہ ہمیں سوائے ان خواہشات کی تکمیل کے شوق کے اور کچھ موجود ہی نہیں ہے ۔ صراتاً انسان یہی کچھ چاہتا ہے ۔ اور ساری عمر اپنی چیزوں کے لئے کوشاں رہتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ دیکھو اگر تم دنیا میں نیک رہے اور ہمارے قانون کو تم نے اپنا نصب العین بنایا ۔ تو ہم تم کو وہ سب کچھ دینگے جن کے لئے تم حیات چند روزہ میں مصروف جدوجہد رہتے ہو ۔ تو اس میں انکار کی کون وجہ ہے جب یہی چیزیں دنیا میں تمہاری ساری تگ ودو کا دارومدار اور محور رہیں ۔ تو اب تمہیں خوش ہونا چاہیے ۔ کہ اللہ نے تمہاری ان خواہشات کو بعینہ پورا کردیا ہے ۔ یہ کہ ان کو سن کر تمہارا توازن فہم اپنے مرکز سے ہٹ جائے ۔ اور تم اس پر اعتراض کرنے لگو ان آیات میں اہل جنت کے مطالبات اور ان کی مسرتوں کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر یہ لوگ اپنے کو جنت میں پاکر شکر و اطمینان کا اظہار کرینگے ۔ حل لغات : الدینون ۔ ہم مفعول ہے دین سے متعلق ہے جس کے معنے جزا کے ہوتے ہیں سواء الجحم ۔ جہنم کا وسو لیردین ۔ ارادہ سے ہے بمعنی ہلاک کرنا ۔
Ayahs 37:64–71

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے کہ دوزخ (ف 1) کی جڑ میں اگتا ہے

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے شگوفے گویا شیطانوں کے سر ہیں

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو وہ اس میں سے کھائیں گے اور اس سے پیٹ بھریں گے

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر اس پر ان کے لئے کھولتے پانی کی ہولی ہے

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کا ٹھکانہ دوزخ کی طرف ہے

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انہوں نے اپنے باپ دادوں کو گمراہ پایا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

سو وہ انہیں کے نقش قدم پر دوڑ رہے ہیں

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور ان کے آگے اکثر پہلے لوگ گمراہ ہوچکے ہیں

ف 1: شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم ۔ اس پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ جہنم میں یہ درخت کیونکر پیدا ہوسکتے ہیں ۔ مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ اول تو جہنم کے متعلق یہ ٹھیک ٹھیک ہے نہیں ۔ کہ وہ کیا چیز ہوگی ۔ یہ درست ہے ۔ وہاں آگ ہوگی مگر بعض ایسے گرم کرے ہیں ۔ جن میں آگ برستی ہے ۔ اور وہ حدرجہ گرم ہیں ۔ اور ان میں نباتات کا وجود ممکن ہے ۔ ہوسکتا ہے یہ کرہ ہائے جار جہنم کا حصہ ہوں ۔ دوسرے آگ میں آتشین صفت نباتات کا ہونا ممکن ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ جہنم کا زقوم دنیا کے زقوم سے بالکل مختلف ہوگا ۔ فاندفع ماقیل اہل جہنم کے حالات بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا ۔ کہ اس عذاب الیم کا سبب یہ ہے کہ دنیا میں انہوں نے حق وناحق کی تمیز روا نہیں رکھی اور صداقت وواقعیت کو سمجھنے کی مطلقاً کوشش نہیں کی ۔ یہ اندھا دھند اپنے پیشواؤں دین اور قائدین دنیا کی تقلید کرتے رہے اور چونکہ وہ خود گمراہ تھے اس لئے بالطبع یہ بھی گمراہی سے نہ بچ سکے جبکہ انہوں نے ان کے نقش قدم پر چلنے میں بڑی سرگرمی اور سخت تگ ودو کا اظہار کیا ۔
Ayahs 37:72–74

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں ڈرانے (ف 2) والے بھیجے تھے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

سو دیکھ کر ڈرائے ہوؤں کا انجام کیسا ہوا ؟

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں

ف 2: ان آیتوں میں حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ آپ سے پہلے بھی اللہ کے رسول (علیہ السلام) آئے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو معصیت سے روکا ہے اور لوگوں نے ان کی شدید مخالفت کی ہے ۔ پھر اللہ کا قانون غضب حرکت میں آیا اور ان تمام سرکشوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا آپ ان لوگوں کی مخالفت سے گھبرائیے نہیں منکرین کا انجام آپ کے سامنے ہے اگر ان لوگوں نے استہزا اور استخفاف کو اسی طرح جاری رکھا ۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کا غصہ بھڑکے گا اور یہ اس کے عذاب سے ہرگز نہ بچ سکیں گے