28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsسراج البیان

Ayahs 28:80–81

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جنہیں علم ملا تھا بولے کمبختی تمہاری جو کوئی ایمان لایا اور نیک کام کئے اس کے لئے اللہ کا ثواب ہی بہتر ہے ۔ اور یہ بات صرف صابروں کو سکھلائی جاتی ہے

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر ہم نے قارون کو مع اس کے گھر کے زمین میں دھنسا دیا سو اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی جماعت نہ تھی کہ اس کی مدد کرتی ۔ اور نہ وہ خود اپنا انتقام لے سکا

حل لغات : خسفنا ۔ دھنسا دیا بالامس ۔ گزشتہ کل ویکانّ اللہ ۔ وے ۔ کانّ سے بالکل الگ ایک کلمہ ہے اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی اپنی غلطی پر متنبہ ہو ۔ اور ندامت کا اظہار کرے
Ayahs 28:82–83

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور جو لوگ کل اس کے رتبہ کی آرزو کرتے تھے ۔ فجر کو اٹھ کر بولے ۔ ارے غضب یہ تو اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے روزی کشادہ اور تنگ کرتا ہے ۔ اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ۔ ارے غضب کافروں کا بھلا نہیں ہوتا

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

یہ آخرت کا گھر ہم انہیں لوگوں کو دیں گے ۔ جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے ۔ اور نیک انجام متقیوں (ف 1) کا ہے

ف 1: ارشاد ہے ۔ کہ آخرت کی مسرتیں اور آسائشیں ان لوگوں کے لئے مقدر ہیں ۔ جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مال و دولت اور اختیار وقوت دیتا ہے ۔ اور وہ اس غلط استعمال نہیں کرتے ۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ خواہ مخواہ دوسرے لوگوں سے اونچا رہنے کی کوشش کی جائے ۔ اور نہ وہ یہ چاہتے ہیں ۔ کہ دنیا میں ظلم وستم سے فساد برپا کریں ۔ اور وہ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں ۔ اور جانتے ہیں ۔ کہ انجام انہیں لوگوں کا بہتر ہے ۔ جو پاک باز اور متقی ہیں
Ayah 28:84

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو نیکی لائے گا ۔ اس کو اس سے بہتر ملے گا ۔ اور جو بدی (ف 2) لائے گا ۔ سو برائی کرنے والے اسی قدر سزا پائیں گے جو کرتے تھے

ف 2: اللہ کے قانون مکافات کی تشریح ہے ۔ کہ وہ کسی شخص پر ظلم نہیں کرے گا ۔ وہ لوگ جو نیک ہیں ۔ ان کا جو اپنے پاس سے بڑھا دے گا ۔ اور برے لوگوں کو بس اسی تناسب سے سزا دیگا جس تناسب سے کہ انہوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے یعنی وہ اجر ثواب میں تو اپنے فضل وکرم کا مظاہرہ کریگا مگر سزا اور عذاب میں سخط وغضبت نہیں کھائے گا ۔
Ayah 28:85

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

جس نے اے محمد ﷺ تجھ پر قرآن فرض کیا ہے وہ تجھے پھر پہلی جگہ لوٹا (ف 3) لے جانے والا ہے ۔ تو کہہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت لایا ہے اور کون صریح گمراہی میں ہے

مراجعت وطن کی پیشیگوئی 3: حضور ﷺ نے جب مکہ والوں کو رشدوہدایت کا پیغام پہنچایا ۔ تو ان لوگوں کو سخت ناگوار گزرا ۔ اور انہوں نے انتہائی درجہ کی مخالفت کی ۔ اور اس حد تک عناد اور دشمنی کا مظاہرہ کیا ۔ کہ حضور ہجرت پر مجبور ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ آپ فکر نہ کریں ۔ آپ کو پھر مکہ میں لوٹا دیا جائے گا ۔ اور موقع دیا جائے گا ۔ کہ آپ اپنے وطن مالوف میں رہیں اور خیر و برکت کا سیغام ان کے کانوں تک پہنچائیں ۔ غور فرمائیے ۔ ایک شخص بےکسی اور بےچارگی کے عالم میں ہجرت کرتا ہے ۔ وطن سے تین سو کوس دور جارہتا ہے ۔ مگر اس کو یہ مژدہ سنایا جارہا ہے ۔ کہ تم ضرور وطن پہنچو گے چناچہ قرآن کی یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی ۔ حضور ﷺ مکہ میں دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاتحانہ داخل ہوئے اور یہی مکہ والے جنہوں نے حضور ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردیا تھا ۔ بالآخر اللہ کے سامنے جھکے اور ان میں سے اکثر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا حل لغات ، ۔ معاد ۔ اصلی مقام ۔ وطن ۔ جہاں آدمی گھوم گھام کر پہنچ جائے ۔ عالم آخرت
Ayah 28:86

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور تجھے یہ توقع نہ تھی کہ تجھ پر کتاب نازل کی جائے گی ۔ مگر تیرے رب کی رحمت سے نازل کی گئی ۔ پس تو کافروں کا مددگار نہ ہو

حل لغات :۔ ظھیرا ۔ پشت پناہ ۔ موید
Ayahs 28:87–88

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اللہ کی آیتوں سے اس کے بعد کہ وہ تیری طرف نازل (ف 1) ہوچکیں کافر تجھے روکیں اور اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور مشرکوں میں سے نہ ہو

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور تو اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہ پکار اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر لوٹائے جاؤ گے

حل لغات :۔ ھالک : فانی یا بےسود ۔ دونوں معنوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ھلک الثوب یا حللک الناع