28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsسراج البیان

Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں امام بنایا ۔ کہ آگ کی طرف بلاتے تھے ۔ اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ ملے گی

حل لغات :۔ ائمۃ ۔ امام کی جمع ہے یعنی گناہوں میں پیش پیش
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگائی ۔ اور قیامت کے دن وہ برے لوگوں میں ہوں گے (ف 2)

عذاب الٰہی کب آتا ہے 2: مقصد یہ ہے کہ فرعونیوں پر اس وقت تک عذاب نہیں آیا ۔ جب تک کہ انہونے کفر وعصیان میں فلوکا درجہ حاصل نہیں کرلیا ۔ کیونکہ خدا کا قانون ہے کہ مقدمین کو مہلت دی جائے ۔ ان کے اعمال سے تعرض نہ کیا جائے ۔ اور کردار رہ عمل کے لئے پوری آزادی دی جائے حتیٰ کہ دل سیاہ ہوجائے ۔ طبیعت میں تاثیر وانفعال کی تمام قوتیں مفقود ہوجائیں ۔ اور گناہوں کا پیمانہ چھلک جائے قرآن کی اصطلاح میں لعنت سے مراد اللہ کے فیوض وبرکات سے محرومی ہے : اور اس کی رحمت سے دوری سب وشتم کے قسم کی کوئی چیز مراد نہیں
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور تحقیق ان کی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعدموسیٰ کو کتاب دی کہ لوگوں کو راہ سمجھانے (ف 1) والی اور ہدایت اور رحمت تھی ۔ کہ شاید وہ نصیحت پکڑیں

اتمام محبت 1: ارشاد ہے کہ ہم نے موسیٰ کو تورات اس وقت دی ۔ جبکہ عاد اور ثمود کی بربادیوں کے واقعات رونما ہوچکے تھے ۔ جب کہ عمالقہ جیسی شاندار قوم باوجود سازو سامان کی کثرت اور فراوانی کے فنا کے گھاٹ اتر چکی تھی ۔ اور جب کہ کئی قومیں اللہ کے فیض وغضب کا شکار ہوچکی تھیں ۔ مقصد یہ تھا ۔ کہ نافرمان لوگ ان واقعات سے عبرت پکڑیں ۔ اور نصیحت حاصل کریں اور تورات کو اپنے لئے رحمت وہدایت کا سبب قرار دیں ۔ مگر ہوا یہ کہ باوجود واقعات کی تفصیل اور وضاحت کے یہ لوگ آخر وقت تک گمراہی پر مصر رہے ۔ تاآنکہ اللہ کے عذاب نے انہیں آپکڑا ۔ اور یہ بےبس ہوکر رہ گئے ۔ حل لغات : بصائر ۔ جمع بصیرت بمعنی دلیل ۔ یقین ۔ عبرت ۔ زیرکی بینائی
Ayahs 28:44–45

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور تو کوہ طور کی جانب غربی میں نہ تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تھا اور تو حاضرین میں نہ تھا

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

اور لیکن ہم نے بہت سی امتیں پیدا پھر ان پر لمبی مدتیں گزر گئیں اور تو اہل مدین میں مقیم نہ تھا ، کہ ان کے سامنے ہماری آئتیں پڑھتا لیکن ہم رسول بھیجتے رہے ہیں

حل لغات :۔ قرونا ۔ زمانے کی جمع ہے ۔ مراد اہل زمانہ سے ہے ۔ قومیں ۔ امتیں
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور کوہ طور کے کنارے پر موجود نہ تھا ۔ جب ہم نے (موسیٰ کو پکارا تھا) لیکن یہ تیرے رب کی رحمت سے ہے کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے (ف 2) پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ۔ شایدوہ نصیحت پکڑیں

آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایک دلیل 2: ان آیات میں واقعات اور قصص کی اس تفصیل کو اللہ تعالیٰ نے بطور اعجاز کے پیش کیا ہے ۔ اور حضور ﷺ کی نبوت پر دلیل ٹھہرایا ہے ۔ ارشاد ہے کہ جب موسیٰ کو جبل طور کے غربی جانب مخاطب کیا گیا ۔ اور اس کو تورات دی گئی تو آپ اس وقت موجود نہ تھے ۔ اور نہ آپ مدین میں مقیم تھے ۔ جب حضرت موسیٰ اور حضرت شعیب میں ملاقات اور گفتگو ہوئی ۔ تو آپ اس وقت بھی حاضر نہ تھے ۔ اور نہ اس وقت موجود تھے ۔ جب کہ ہم نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور خلعت نبوت سے نوازا ۔ پھر جو آپ یہ واقعات مبصرانہ تفصیل کے ساتھ ذکر کررہے ہیں ۔ تو کیونکر ؟ ارشاد ہے کہ یہ محض ہمارے فضل ورحمت سے تمہیں یہ علم اور معارف عطا کئے گئے ہیں ۔ تاکہ لوگوں کو راہ راست پر گامزن کرو ۔ اور گناہ کے نتائج و عواقب سے آگاہ کرو ۔ کہ اس سے قبل ان کے پاس کوئی نذیر نہیں آیا یعنی قرآن حکیم میں اقوام دائم کے حالات کو عصمت اور تفصیل کے ساتھ ذکر کرنا ۔ اور مشکل واقعات کی گتھیوں کو سلجھانا ۔ حالانکہ ایام وقرون نے صدہا پردے درمیان میں حائل کر رکھے ہیں ۔ یقینا اعجاز ہے ۔ اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر زبردست دل ہے ۔ پھر اس چیز پر بھی غور کیجئے ۔ کہ آپ امی اور ان پڑھ ہیں ۔ اور خود تورات میں بھی واقعات کو اس رنگ میں ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ ان حالات میں اگر ایک شخص قوموں کے عروج وزوال پر بحث کرتا ہے اور ان کے اسباب وعمل بیان کرتا ہے ۔ اور ان کی تہذیب و تمدن کے خط وخال دکھاتا ہے ۔ تو پھر اس میں کیا شبہ رہ جاتا ہے کہ تائید غیبی یقینا اس کے ساتھ ہے ۔ ورنہ انسانی طاقت و وسعت میں تو یہ امکان نہیں ۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور (ف 1) یہ نزول قرآن اس لئے ہے کہ (مباوا) ان اعمال بد کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں ۔ ان پر کوئی آفت پڑے تو وہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے تونے کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کو مانتے اور مومنوں میں ہوتے

منکرین قرآن کی بہانہ جوئی 1: لو لا ان تصیبھم میں لولا امتناعیہ ہے اور اس کی خبرمحذوف ہے اور دوسرا لولا تخفیفہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ہم نے جو آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ۔ تو محض اتمام حجت کے لئے کیونکہ یہ لوگ اس قسم کے ہیں ۔ کہ جب ان کو مصیبت پیش آئی ہے ۔ اور عذاب الٰہی کو دیکھتے ہیں ۔ تو اس وقت محشر سے کہتے ہیں کہ لو لا ارسلت الینا رسولا ۔ یعنی مولا آپ نے ہم میں رسول کیوں مبعوث نہیں فرمایا کہ ہم اس کی پیروی کرتے ۔ اور گناہ ومعصیت کے کاموں کو چھوڑ دیتے ۔ پھر جب وہ وقت آگیا کہ اللہ نے آپ کو حق وصداقت دے کر ۔ تو اب اگر نادانی یہ کہتے ہیں کہ ہم کو بھی تورات کی طرح کی کتاب ملنا چاہیے تھی ۔ قرآن تو ہم نہیں مانتے ۔ کیونکہ یہ کسی قدر مختلف ہے ۔ کیا ان کو یہ معلوم نہیں ۔ کہ انہیں کے خواجہ تاشوں نے تو رات کا بھی انکار کیا تھا ۔ اور موسیٰ وہارون کے متعلق صاف کہہ دیا تھا ۔ کہ کہ یہ دو جادو گر ہیں ۔ ہم ان کو نہیں تسلیم کرتے ارشاد ہے ۔ ان سے کہو ۔ کہ اگر تمہارے پاس تورات و قرآن سے کوئی بہتر کتاب موجود ہے تو اس کو پیش کرو میں اس کی پیروی کرنے کے لئے تیار ہوں غرض یہ ہے کہ ان لوگوں کی بہانہ جوئی اور عذر ومعذرت کو دور کرنے کے لئے ہم نے رسول بھیجا ۔ کہ یہ نہ کہیں ۔ اللہ نے ہمارے مطالبہ کو پورا نہیں کیا ۔ ورنہ حق واضح تھا ۔ اور بعثت رسول کی چنداں ضرورت نہ تھی فرمایا ۔ کہ اگر یہ لوگ تمہارے اس سوال کا جواب نہ دیں اور ان دونوں جلیل القدر کتابوں سے بہتر کوئی کتاب نہ لاسکیں ۔ تو پھر آپ سمجھ لیجئے ۔ کہ یہ لوگ نیک نیت نہیں ہیں محض ہواؤہوس کے بندے ہیں ۔ اور انکار کے لئے بطور بہانہ وضد کے اس طرح کی باتیں کہتے ہیں اس کے بعد اس حقیقت کو بیان کیا کہ اصل گمراہی کیا ہے یا اور کون شخص راہ راست بےبھٹکا ہوا ہے ۔ اور کون ظالم ہے !
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

سو جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق آیا تو یوں کہنے لگے کہ اس (رسول) کو وہ چیز کیوں نہ ملی تھی جو موسیٰ کو ملی کیا وہ لوگ اس چیز کے جو پہلے موسیٰ کو ملی تھی منکر نہیں ہوچکے ہیں ! کہتے ہیں کہ تورات اور قرآن دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے معافق ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم تو دونوں کو نہیں مانتے

حل لغات :۔ الحق ۔ پیام صدق ، وصداقت تطاھرا ۔ ایک دوسرے کے ہم نوا ہیں
Ayahs 28:49–51

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

تو کہہ اگر تم سچے ہو تو تم اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لاؤ جو ہدایت میں ان دونوں سے بڑھی ہوئی ہو میں اسی پر چلنے لگوں گا

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر وہ تیرا کہا پورا نہ کرسکیں تو جان لے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کے پیرہ ہیں ۔ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو پیغمبر خدا کی ہدایت کے اپنی خواہش کا مطیع ہے ۔ بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے لئے پے درپے قرآن اتارا کہ شاید وہ نصیحت پکڑیں

حل لغات :۔ وصلنا لھم القول : قرآن کو ہم نے مسلسل ترتیب کے ساتھ نازل کیا ۔ یعنی ہم ان لوگوں کے پاس پیہم (ہدایت) کی باتیں بھیجتے رہے
Ayah 28:52

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس قرآن کریم سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس قرآن پر (ف 1) ایمان لاتے ہیں

ف 1: فرمایا ضلالت اور بےراہ روی کی جڑ ہوائے نفس کا اقتدار ہے ۔ اور گمراہ وہ شخص ہے جس کے سامنے کوئی اصول نہیں ۔ جس کی زندگی کا کوئی نصب العین نہیں ۔ جو کسی دستور العمل کو نہیں مانتا ۔ اور پھر خواہشات نفس کے اور کسی چیز کا احترام نہیں کرتا ۔ اور ظالم کی زندگی بالکل حیوانات کی زندگی ہے ۔ کہ کھایا پیا بچے جنے اور مرگئے ۔ ظالم اپنی رائے کو صائب اور صرف اپنے ارادوں کو درست خیال کرتا ہے ۔ اور اللہ کے احکام سے روگردانی کرتا ہے ۔ اور اپنی ہی بات کو بہرطور معقول اور قرین دانش سمجھتا ہے ۔ وہ مغرور ہے ۔ ہوائے نفس کا پیرو ہے ۔ اور ذلیل ہے ۔ جس کی اللہ کے ہاں کوئی قدرو قیمت نہیں اور نہ جس کو کبھی توفیق ہدایت ملی
Ayahs 28:53–54

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے وہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے ۔ اور ہم تو اس سے پہلے بھی فرمانبردار تھے

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

انہیں ان کا اجر دوہرا ملے گا ۔ اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا ۔ اور بدی کو نیکی سے دفع کرتے اور جو ہم نے ان کو دیا ہے ۔ اس میں سے خرچ (ف 1) کرتے ہیں

اہل کتاب میں سے سعادت مند گروہ 1: ان آیات میں اہل کتاب میں سے اس طبقہ کی تعریف کی ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے توفیق ہدایت سے بہرہ ور کیا ہے ارشاد ہے ۔ کہ ان لوگوں کے قرآن کو تسلیم کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ہم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یقینا یہ پیغام رشدوہدایت ہے ۔ حق اور سچائی ہے ۔ اور ہم تو اس کو تورات کی روشنی میں پہلے سے تسلیم کرتے تھے فرمایا ۔ ان لوگوں کو قیامت کے دن دوہرا اجر دیا جائے گا ۔ کہ انہوں نے تورات کو بھی حرز جان بنایا ۔ اور اب قرآن کو بھی مانتے ہیں ۔ ان لوگوں نے ایمان کے سلسلہ میں انتہائی صبر اور بھلائی سے کام لیا ہے ان کی عادت ہے کہ اسلام کرنے کے بعد مخالفین کی تکلیف وہی اور ایذار سانی کا جواب حسن سلوک سے دیتے ہیں ۔ اور اللہ کی راہ میں بےدریغ خرچ کرتے ہیں ۔ وہ اس درجہ متعین اور سنجیدہ ہیں ۔ کہ لغوبات سے تعرض کرتے ہیں جب کبھی معاملہ پارٹی کے لوگ ان کو ہدف ملامت و استہزاء بنانا چاہتے ہیں یہ سلام کرکے رخصت ہوجاتے ہیں ۔ اور عزت و کرامت سے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ اور کہہ دیتے ہیں ۔ کہ ہم اپنے اعمال کے پوری طرح ذمہ دار ہیں ۔ تم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہو ۔ پھر شرارت سے کیا فائدہ ۔ جاؤ ہم تم سے جاہلوں اور حقیقت ناآشناؤں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے حل لغات :۔ یدرون ۔ در سے ہے ۔ یعنی دور کرنا
Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بےیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ موڑتے اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں ۔ اور تمہارے اعمال تمہارے لئے سلام ہو تم پر ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے

حل لغات : اللغو ۔ مخالف عقیدہ کوئی بات ۔ بیہودہ اور باطل بات
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ تو جسے چاہے راہ پر نہیں لاسکتا (ف 2) ۔ لیکن اللہ جسے چاہے راہ پر لائے ۔ اور وہ راہ پر آنے والوں کو خوب جانتا ہے

ف 2: اہل کتاب کے اس صفت شعار گروہ کے ساتھ ایک ایسی جماعت بھی تھی ۔ جو قرآن کی روشنی سے دلوں کی ظلمتوں کو دور کرنا چاہتی تھی ۔ اور حضور کی یہ انتہائی خواہش تھی کہ لوگ بھی اسلام کی ضیاباریوں سے دماغوں کو منور کرلیں قرآن نے کہا ۔ اور آپ ہدایت کی جانب دعوت دے سکتے ہیں اور یہ کرسکتے ہیں ۔ کہ صبح وشام انہیں ان کے اعمال بد کے نتائج سے آگاہ کرتے رہیں ۔ مگر توفیق ہدایت آپ کے بس کی بات نہیں ۔ یہ آپ کے اختیار سے باہر ہے ۔ کہ جس کو چاہیں دائرہ فلاں و فوز میں شامل کرلیں ۔ اور اس کے سینے کو حق وصداقت کے لئے کھول دیں ۔ مفسرین کی رائے ہے ۔ کہ یہ آیت عام نہیں ہے ۔ بلکہ ابوطالب سے متعلق ہے ۔ کہ ہرچند حضور نے ان سے کہا ۔ چچا ایک دفعہ تو میرے سامنے توحید و رسالت کی گواہی دے دیجئے مگر انہوں نے جانتے بوجھتے یہی کہا ۔ کہ بھتیجے یہ نہیں ہوسکتا ۔ کہ میں اعیان قریش کی مخالفت کروں ۔ اور اسلام قبول کرلوں گویا باوجہ اعتراف علم اور حضور کی خواہش کے ابوطالب رشدو ہدایت کی برکتوں سے محروم رہ گئے ۔ کیونکہ اللہ کی طرف سے توفیق و استعداد ذاتی نہیں ہوئی تھی ۔ اور خدا کو منظور نہیں تھا ۔ کہ ابو طالب دنیا سے ایمان وایقان کی دولت لے کر جاتے
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت کے پیرو ہوں ۔ تو ہم اپنے ملک سے اچک لئے جائیں ۔ کیا ہم نے انہیں ادب کے یا امن مکان میں جگہ نہیں دی ۔ جس کی طرف ہو جنس کے میوے کھچے چلے آتے ہیں ! ہماری طرف سے روزی ہے مگر ان میں بہت لوگ نہیں جانتے

حل لغات نتخطف ۔ اچک لئے جائیں گے ۔ یعنی ہم کو ہمارے گھروں سے نکال باہر کیا جائے گا
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے ایسی بہت سی بستیاں کھپار یعنی ہلاک کرادیں جو اپنی معیشت میں اتراچ کی تھیں سو یہ ان کے گھر پڑے ہیں جو ان کے ہلاک ہوئے پیچھے شاذو نادر ہی آباد ہوئے اور آخر ہم ہی وارث ہوئے

حل لغات :۔ بطرت ۔ تکبر اختیار کریں ۔ بطر سے ہے یعنی کبر و غرور
Ayah 28:59

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں تھا جب تک کہ ان کے بڑے شہر میں ایک رسول نہ بھیجے جو ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے ۔ جب تک کہ وہاں کے لوگ ظلم اختیار (ف 1) نہ کریں

ابتلا اور عذاب میں منطقی فرق 1: آیت کا مطلب بالکل واضح ہے ۔ کہ عذاب الٰہی سے پیشتر تمام حجت کے طور پر انبیاء کا آنا ضروری ہے ۔ مگر بعض اہل زیغ نے اس کے معنے یہ سمجھے ہیں ۔ کہ ہر مصیبت اور ہر بتلاء سے قبل لازمی ہے کہ ایک پیغمبر فرض کرلیاجائے ۔ اور اس مصیبت یا ابتلاء کو اس کے انکار کا نتیجہ ٹھہرایا جائے ۔ اس مفہوم کے پیش کردنے میں ایک دھوکہ یہ بھی ہے ۔ کہ ہر مصیبت کو عذاب کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ ان دونوں میں منطقی لحاظ سے عموم وخصوص مطلق ہے یعنی ہر عذاب تو یقینا مصیبت ہے مگر ہر مصیبت عذاب نہیں ۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ نیک بندوں کے لئے بمنزلہ آزمائش کے ہو ۔ اور بس فی امھا رسولا سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء ہمیشہ مرکزی شہروں میں آتے ہیں دیہات میں نہیں الا واھلھا ظالمون سے مراد یہ ہے کہ عذاب اس وقت تک نہیں آتا جب تک کہ ظلم اور عصیاں کثرت سے نہ پھیل جائے حل لغات : القریٰ ۔ قریب کی جمع ہے شہر گاؤں پستی
Ayahs 28:60–61

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیز تمہیں ملی ہے سو دنیا کے جیتے جی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے ۔ اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے ۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اور وہ اسے پانے والا ہے کیا اس شخص کی مانند ہوجائے گا جسے ہم نے حیات دنیا کے فائدوں سے بہرہ مند کیا ۔ پھر وہ قیامت کے دن پکڑے ہوؤں (ف 1) میں آئے گا

دیندار اور مادہ پرستی 1: اس آیت میں منکرین کے شبہ کا جواب ہے کہ اگر ہم اسلام قبول کریں گے تو نتخطف من او حتتا یعنی ہمیں ہماری سرزمین سے نکال باہر کیا جائے گا ۔ اور املاک و دولت سب کچھ چھین لیا جائے گا ۔ ارشاد ہے کہ کیا تم دولت عقبی کے مقابلہ دنیائے ونی کے سامان عیش و عشرت سے کرتے ہو ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں ۔ کہ یہ سب کچھ عارضی وفانی ہے ۔ اور آخرت کی نعمتیں باقی رہنے والی اور دائمی ہیں ۔ اور منافع کے لحاظ سے کہیں بہتر اور موزوں ہیں فرمایا پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ دیندار اور دنیا دار کیا اگر اور درجہ میں برابر ہیں ؟ دیندار اور متقی کے لئے جنت کے پر بہار دروازے کھلے ہوں گے ۔ اور دنیا کے طالب کو چند روزہ عیش کے بعد خدا کے حضور میں پکڑ کر لا کھڑا کیا جائے گا بات اصل یہ ہے کہ لوگوں کو عقبیٰ اور دینداری پر کامل یقین نہیں ہے ۔ ورنہ حقیقت میں سچا دیندار انسان ہرگز دنیا میں ایک مادہ پرست سے کم خوش حال نہیں رہتا ۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ مادہ پرستی میں قناعت نہیں ہے اور مسرت مفقود ہے اور دینداری میں طمانیت ہے تسکین ہے اور مسرت و قناعت ہے ملوہ پرستی حرص وآز کے جذبات کو بڑھا دیتی ہے ۔ انفرادی خود غرضی پیدا کردیتی ہے ۔ اور انسان کو جرائم کے قریب تر کردیتی ہے ۔ کہ وہ انہیں کی طرح بلندقسم کے مطمح نظر سے محروم ہوتا ہے ' بخلاف اس کے دینداری ہمہ قناعت ہے ۔ افراد کے لئے ایثار و محبت ہے ۔ اور انسانیت کا بلند ترین نصب العین ہے ۔ اس کی وجہ سے فرشتوں کا قرب اور عالم لاہوت سے وابستگی کا احساس پیدا ہوتا ہے اور انسان یہ سمجھتا ہے ۔ کہ وہ فراز عرش سے متصل ہے اور عالم اجساد سے اس کا کوئی تعلق نہیں حل لغات :۔ المحضرین محضر کی جمع بمعنے مجرم ۔ جس کو پکڑ کر کسی عدالت کے سامنے حاضر کیا جائے
Ayahs 28:62–63

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن اللہ انہیں پکارے گا ۔ تو کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں ہیں ؟

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

(شرکاء) جن پر بات پوری ہوگئی یوں کہیں گے کہ اے ہمارے رب یہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے بہکایا تھا جیسے ہم گمراہ تھے ویسے ہی ہم نے انہیں بھی گمراہ کیا تھا ۔ ہم تیرے آگے ان سے دست بردار ہوتے ہیں وہ فی الحقیقت ہم کو نہ پوجتے تھے بلکہ اپنی خواہشوں (ف 2) کو

ف 2 یعنی آج تو مریدان باعقیدت اپنے مرشدوں پر بیحد بھروسہ رکھتے ہیں اور انہیں خدا کا ہم مرتبہ سمجھتے ہیں مگر قیامت کے دن معاملہ بالکل برعکس ہوگا ۔ یہ عقیدت کی شان ازلی تو رہبر اکامل کے پیچھے دوڑیں گے ! اور پیران طریقت آگے آگے ان سے بیزاری کا اظہار کرینگے مرید یہ کہیں گے کہ ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ۔ اور وہ جواب دینگے غلط ہے جس طرح ہم گمراہ ہوئے ۔ اسی طرح یہ لوگ بھی بہک گئے اور حقیقت میں یہ محض ہوائے نفس کے تابع تھے ۔ انہوں نے ہماری بالکل عبادت نہیں کی
Ayahs 28:64–66

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ تم اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ پھر وہ بلائیں گے تو ان کو جواب نہ دیں گے ۔ اور عذاب دیکھیں گے ۔ کاش وہ راہ پر ہوتے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جس دن ان کو پکارے گا تو کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

پھر اس دن انہیں کوئی بات نہ سوجھے گی سور وہ آپس میں بھی (ف 1) پوچھ گچھ نہ کریں گے

ف 1 : اس سے قبل کی آیتوں میں تو مشرکین سے توحید کے متعلق پوچھا گیا تھا اس آیت میں بتایا گیا ۔ کہ نبوت کے سلسلہ میں بھی سوال کیا جائے گا ۔ کہ تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آئے ۔ انہوں نے تم تک ہمارا پیغام پہنچایا اور تمہاری راہنمائی کی ۔ بتاؤ تم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اس سے ان کی کیفیت یہ ہوگی کہ مارے خوف اور ندامت کے ان سے کوئی جواب نہ پڑیگا ۔ خاموش رہیں گے اور اتنا بھی نہ ہوسکے گا ۔ کہ کسی ساتھی سے پوچھ لیں اور بتادیں ارشاد ہے کہ یہ احتساب کی گھڑیاں بہت شدید اور سخت ہونگی ۔ وہی لوگ ان سے عہدہ برآء ہوسکیں گے اور فوزوتطح سے اپنا دامن بھر سکیں گے ۔ جو گناہوں سے اس دنیاہی میں دست بردار ہوگئے ۔ اور جنہوں نے دولت ایمان سے بہرہ وافر حاصل کرلیا حل لغات : حل لغات :۔ فعمیت علیھم الانباء ۔ محاورہ ہے مقصد یہ ہے کہ کوئی خبر ان کو نہیں سوجھے گی
Ayahs 28:67–68

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

سو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کئے ۔ سو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تیرا رب جو چاہے (ف 2) پیدا کرے اور پسند کرے ان کا کچھ اختیار نہیں ہے ۔ اور اللہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بلند

اللہ جس کو چاہے اپنی خدمات کے لئے مختص کرلے 2: یخلق مایشاء ومختار سے مقصود اصل میں ایک شبہ کارندہ ہے ۔ مکہ والوں کو ہمیشہ یہ بات کھٹکتی تھی کے خدا نے قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر محمد ﷺ ایسے بےیارو مدد گا شخص کو نبوت اور رسالت کے لئے کیوں منتخب کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم روساء ہیں ۔ معززین ہیں ۔ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور دنیا کے لحاظ سے وجیہہ ہیں عظیم الشان ہیں ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر کرکے آخر اللہ نے یہ کیا سوچا کہ ایک یتیم بنیوا کو سرداری بخش دی ! کیا ہم میں کوئی اس قابل نہ تھا ۔ کہ اس کے سر پر نبوت کا تاج رکھا جاتا ! کیا ہم سب نالائق تھے ! ان کی رائے میں یہ سخت تکلیف دہ اور ناقابل برداشت فروگذاشت تھی ! عیسائی اور یہودی بھی تقریباً اس نوع کے اعتراضات کرتے ۔ وہ بھی یہ کہتے کہ نبوت کے اعزاز کے لئے اب تک بنی اسرائیل کو اہل سمجھا گیا ہے اور نبی اسمعیل کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ۔ اس لئے ضروری تھا کہ اگر عرب میں کسی پیغمبر کو بھیجنا منظور تھا تو وہ بنی اسرائیل میں سے ہوتا ۔ بنی اسمعیل میں سے نہ ہوتا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ تم لوگ ہماری مصلحتوں سے آگاہ نہیں ہو ۔ تمہاری نظریں بالکل سطحی ہیں ۔ تم یہ انہیں جان سکتے ۔ کہ کون شخص نبوت کے عہدہ جلیلہ کے لئے مناسب اور موزوں ہے ۔ تم صرف یہ دیکھتے ہو کہ تم میں کون زیادہ سرمایہ دار اور زیادہ اعمان وانصار رکھنے والا ہے ۔ اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کون قلب و دماغ کے لحاظ سے ان سب سے بلند ہے اور کون بےیارومددگار ہے ۔ کہ ہم اس کو منتخب کریں اور لاکھوں پر بھاری بنادیں غرض یہ ہے کہ تم کو اللہ کے معاملات میں دخل اندازی کا استحقاق نہیں ہے ۔ وہ جو چاہے کرے ۔ اور جس شخص کو چاہے برگزیدہ کرے حل لغات : ویختار ۔ اس کے بعد من یشاء محذوف ہے بمعنی جس کو چاہتا ہے دیا کی خدمت
Ayahs 28:69–71

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور تیرا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو اگر اللہ قیامت کے دن ہمیشہ تم پر رات رکھے ۔ تو اللہ کے سوا اور کون سا معبود ہے ۔ کہ تم کو روشنی لادے ۔ پھر کیا تم سنتے نہیں ؟

حل لغات :۔ سرمدا ۔ دائمی ۔ ہمیشہ
Ayahs 28:72–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر اللہ قیامت کے دن تک ہمیشہ تم پر دن رکھے تو اللہ کے سوا اور کون سا معبود ہے کہ تم کو رات لادے ۔ جس میں تم آرام پاؤ۔ پھر کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن کو پیدا کیا تاکہ تم اس میں آرام پاؤ۔ اور اس کا فضل (ف 1) (روزی) تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر کرو

ایک واضح حقیقت 1: یہ بالکل سادہ اور واضح حقیقت ہے ۔ کہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔ مگر اتنی سی بات بھی مشرکوں کے دماغ میں نہیں آتی ۔ اور وہ اس کے سوا دوسروں کو اپنا معبود بنالیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کائنأت کا نظم ونسق ان کے ہاتھ میں ہے ارشاد ہے کہ کیا تم نے کبھی اپنے معبودوں کی قوتوں کا جائزہ بھی لینے کی کوشش کی ! کیا کبھی تم نے سوچا ہے کہ وہ کن اختیارات کے مالک ہیں ؟ اور کیا ان کی بےچارگی اور عجز پر بھی تم نے نظر کی ، بتاؤ کہ اگر آفتاب اور ماہتاب کا پیدا کرنے والا خدا ان کو روک لے اور آفات کو غروب نہ ہونے دے ۔ تو پھر یہ تمہارے خدا اور تمہارے مزعومہ معبود کیا تمہارے لئے پر سکون رات کا بندوبست کرسکتے ہیں ؟ یہ تو اس کی رحمت ونوازش ہے کہ اس نے لیل ونہار کے ادوار کو باقی رکھا ۔ تاکہ رات کو تم آرام کرو اور دن بھر کی تکان دور کرو ۔ اور دن میں معاش ڈھونڈو مگر تم ہو کہ ان حقائق پر غور نہیں کرتے ۔ اور نہ اللہ کی نعمتوں کا شکرادا کرتے ہو ۔ ولتبتغوا من فضلہ ۔ کہہ کر اس حقیقت کے چہرہ سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ مال و دولت کا حصول تقویٰ اور پرہیز گاری کے منافی نہیں ۔ بلکہ اللہ کے فضل کا اکتساب ہے ۔ افلاس فی نفسہ اسلامی نقطہ نگاہ سے کوئی بہتر چیز نہیں ہے ۔ بلکہ بعض حالات میں نہایت مذموم ہے ۔ ہاں طبیعت کی مسکنت اللہ کو پسند ہے ۔ اور کبروغرور ناپسند ممکن ہے کہ ایک دولت مند آدمی طبیعت کا نہایت غریب ہو اور ایک مفلس ونادار بہت متکبر اور مغرور ہو ۔ اس لئے اصل چیز اخلاق کے باب میں توانگری اور افلاس نہیں ۔ بلکہ دل کا غنا اور دل کی مسکنت ہے
Ayahs 28:74–75

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن وہ پکارے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تم دعویٰ کرتے تھے

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہر امت میں سے ایک گواہ کھینچ لیں گے ۔ پھر کہیں گے کہ اپنی سند (ف 1) لاؤ۔ تب کہیں گے کہ حق بجانب خدا ہے ۔ اور جو باتیں وہ جوڑتے تھے ۔ اس سے گم ہوجائیں گی

ف 1: یعنی اس وقت جو لوگ اپنے مقتداؤں کو عرش بریں پر متمکن سمجھتے ہیں ۔ قیامت کے دن جب ان سے مطالبہ کیا جائے گا ۔ کہ اپنے عقیدہ وشرک پر دلیل لاؤ۔ اور ہو اسباب داخل بیان کرو جس کی وجہ سے تم نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی پرستش کی ۔ تو وہ بالکل خاموش اور ساکت ہوجائیں گے ۔ اور کوئی معقول وجہ پیش نہ کرسکیں گے ۔ بلکہ اس وقت انہیں محسوس ہوگا کہ سچی اور درست بات اللہ ہی کی تھی ۔ اور ہم نے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا کر سخت گناہ کا ارتکاب کیا ہے ۔ حل لغات :۔ ونزعنا ۔ یعنی ہر امت کی صفوں میں سے ایک گواہ کھینچ لائینگے
Ayah 28:76

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

قارون (ف 2) موسیٰ کی قوم میں سے تھا سو وہ ان پر ظلم کرنے لگا اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیئے تھے کہ ایک زور آور جماعت اس کی کنجیاں اٹھانے سے تھک جاتی تھی ۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا ۔ کہ اتراؤ مت ۔ اللہ کو اترانے والے پسند نہیں آتے

قارون 2: یہ آیات قارون کے متعلق ہیں ۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ انسان بعض دفعہ مال و دولت کے نشہ میں کسی درجہ سرشار ہوجاتا ہے اور تمام انسانی حقوق کو بھول جاتا ہے اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ عیش و عشرت کی یہ فراوانی اللہ کے فضل اور بخشش کا نتیجہ نہیں ہے ۔ بلکہ میری اپنی قوت بازو کا ثمرہ ہے ۔ اور میری عقل و فراست کا پھل ہے ۔ اس لئے میرے مال و دولت میں خدا کا کوئی حصہ نہیں اس قسم کے لوگ عموماً کم ظرف ہوتے ہیں بالی حوصلہ اور بلند ومقام لوگ باوجود تمول کے منکسر ہوتے ہیں اور بڑی فراخدلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں قارون کی شخصیت کے متعلق مفصل معلوم نہیں ۔ کہ کون تھا ۔ مفسرین نے مختلق یاس آرائیاں کی ہیں ۔ بعض کے نزدیک موسیٰ کے چچا زاد بھائیوں میں سے تھا ۔ اور بعض کے نزدیک چچا تھا ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ موسیٰ کا خالہ زاد بھائی تھا ۔ بہرحال قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ اسرائیلی تھا ۔ اور موسیٰ کی قوم میں سے تھا اللہ نے اس کو خوش حالی بخشی ۔ مال و دولت سے نوازا ۔ اور بےانتہاخزائن ووفائن کا مالک بنایا ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ اللہ کی ان بخششوں کا شکر ادا کرتا ۔ اور مخلوق خدا سے نایت انکسار ہکجز سے پیش آتا ۔ مگر یہ لگا اکڑنے اور اترانے ۔ قوم نے کہا ۔ دیکھو بہت زیادہ غرور اور تمکنت اچھی نہیں ۔ اپنے جامے میں رہو کیونکہ اللہ کو ایسی حرکتیں پسند نہیں ہیں ۔ مال و دولت میں سے کچھ آخرت لئے بھی خرچ کرو ۔ اور دنیا میں خدا کو نہ بھولو ۔ کہ آخرت میں خسارہ اٹھاؤ۔ لوگوں سے بھلائی کے ساتھ پیش آؤ۔ جس طرح کہ اللہ نے تمہارے ساتھ بھلائی کی ہے ۔ اور غرور کبر سے ملک میں فساد نہ مچاتے پھرو قارون نے جب یہ نصیحتیں سنیں ۔ تو عذرا ! چھیب وتکبر کہنے لگا ۔ اپنے وعظ کو رہنے دو ۔ میرے مال میں اللہ کی بخششوں کو کوئی دخل نہیں ۔ میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے ۔ اپنی قابلیت سے حاصل کیا ہے فرمایا ۔ اس کمبخت کو معلوم نہیں ۔ کہ اس سے قبل کئی قوموں کو اللہ تعالیٰ ان کے غرور اور دلیا پرستی کی وجہ سے ہلاک کرچکا ہے ۔ اور وہ قومیں دولت وقوت میں اعوان وانصار میں اس سے کہیں بڑھی ہوئی تھیں ۔ یہ انے تھوڑے سے مال پر اترارہا ہے اور یہاں چشم زون میں زندگی کی تمام لذتیں چھین لی جاتی ہیں اور پوچھا تک نہیں جاتا یہ گو ایک مخصوص واقعہ ہے ۔ مگر مقصد یہ ہے کہ دولت مندوں کو عیش و عشرت میں مصروف دیکھ کر عموماً کمزور طبیعت کے دنیا دار بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ کہ دیکھئے تو یہ لوگ کس درجہ خوش قسمت ہیں ۔ مگ راہل علم وعقل محض جاہ و ثروت کے نظاروں سے فریب میں نہیں آتے ان کی نگاہیں عاقبت پر لگی ہوتی ہیں ۔ وہ ان ضعیف ال ایمان لوگوں سے کہتے ہیں ۔ کہ تم دنیا کو کیوں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہو ۔ آخرت کی طرف دھیان رکھو ۔ کہ وہ ایمان داروں کے لئے کہیں بہتر ہے ۔ اور یاد رکھو عقبلی کا اجر صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا ۔ افلاس وغربت سے گھبراجانے والوں کو نہیں حل لغات : الکنوز ۔ کنز کی جمع ہے ۔ یعنی خزانہ مفاتحہ ۔ مفاتح جمع ہے مفتح اور مفتح کی ۔ مفتح بالکسر کے معنے کنجی کے ہیں ۔ اور مفتح با فتح کے معنی خزانہ ، لا تفرح : یعنی جامے سے باہر نہ ہو ، اترا نہیں ۔
Ayah 28:77

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو اللہ نے تجھے دیا ہے ۔ اس سے آخرت کا گھرحاصل کر ۔ اور دنیا سے اپنا حصہ فراموش نہ کر اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ نیکی کی ہے تو بھی نیکی کر ۔ اور زمین میں فساد نہ چاہ ۔ بیشک اللہ کو فساد کرنے والے پسند نہیں

حل لغات :۔ ولاتنس ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جہاں عقبے کے لئے تم سے کہا جاتا ہے کہ اس کے لئے زاد مہیا کرو ۔ وہاں یہ نہیں کہا جاتا ۔ کہ دنیا بالکل فراموش کردو ۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ دولت بھی جمع کرو اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ بھی کرو
Ayahs 28:78–79

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

کیا یہ مال تو مجھے اس علم سے ملا ہے جو میں جانتا ہوں ۔ کیا اس نے نہ ملا کہ اس سے پہلے اللہ نے قرنوں میں سے ان لوگوں کو ہلاک کیا ہے ۔ جو اس سے زیادہ زور رکھتے تھے ۔ اور مال میں بھی اس سے زیادہ تھے ! اور کیا گنہگاروں سے ان کے گناہوں کی بابت باز پرس نہ ہوگی !

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر اپنے ٹھاٹھ سے اپنی قوم کے سامنے نکلا جو لوگ حیا سے دنیا کے طالب تھے یوں بولے کاش کہ جو قارون کو ملا ہے (ف 1) ہم کو بھی ملے ۔ بیشک اس کی بڑی قسمت ہے

نفسیات انسانی کا ادق تجزیہ 1: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نفسیات انسانی کا نہایت عمدہ تجزیہ کرکے دکھایا ہے ۔ کہ کس طرح اس کو کسی پہلو قرار نہیں ۔ یہ تو یہ کیفیت تھی ۔ کہ جب قارون کو سج دھج میں محل سرائے سے نکلتے دیکھتے تو ان کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی ۔ کہ کاش کہ ہم بھی اسی طرح مال و دولت سے بہرہ ور ہوتے اور یا اب یہ حالت ہے ۔ کہ قارون جب اپنے غرور کی وجہ سے زمین میں دھنس گیا ۔ تو یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کررہے ہیں کہ اس نے ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا ۔ اور گویا اب ان کو احساس ہوا ۔ کہ منکرین کے لئے فوز و فلاح نہیں ۔ حل لغات : فی زینتیہ ۔ اپنی سج دھن میں حظ ۔ حصہ نصیب اور قسمہ