23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsسراج البیان

Ayahs 23:38–45

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ رسول کچھ نہیں صرف ایک آدمی ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے ، اور ہم تو اس (ف 1) ۔ پر ایمان لائیں گے نہیں ۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

وہ بولا اے رب میری مدد کر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ۔

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

فرمایا اب تھوڑے دنوں کے بعد پچھتائیں گے ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

پھر انہیں سچے وعدہ کے مطابق چنگھاڑنے آپکڑا پھر ہم نے انہیں کوڑا کردیا ، سو ظالم لوگوں کے لئے دوری ہے ۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد اور امتیں پیدا کیں ۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی امت اپنے وقت سے نہ آگے جائے نہ پیچھے ۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا ، پھر ہم بھی بعض کے پیچھے بعض کو (ہلاک) کرتے چلے گئے ، اور ہم نے انکو کہانیاں بتا دیا سو دور ہوں تو لوگ جو ایمان نہیں لاتے ۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور صریح دلیل دے کر بھیجا ۔

قوم ہود (علیہ السلام) کا آخرت سے انکار : (ف 1) دنیا میں ہر وقت ایسے مادہ پرست لوگ موجود رہے ہیں جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہوتا ، اور جو چاہتے ہیں کہ انہیں افکار و اعمال میں پوری آزادی دے دی جائے ، وہ جو چاہیں کریں ، اور جو چاہیں کہیں ، ان کی روک ٹوک کرنے والا نہ ہو ، وہ محض نفس کے بندے ہوئے ہیں ان کے سامنے صرف یہ نصب العین ہوتا ہے کہ جس طرح ہو ، دنیاوی زندگی عیش سے گزر جائے نہ انہیں اللہ کا ڈر ہوتا ہے ، اور نہ اعمال کی باز پرس کا خیال ، انکی رائے میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی کا کوئی اخلاقی مقصد نہیں ، وہ ایک حیوان ہے جو کھاتا پیتا اور مرجاتا ہے بخلاف اس کے مذہب نے ہمیشہ ایمان بالآخرۃ کے عقیدے پر زور دیا ہے ، اور اس کی اہمیت کو واضح طور پر بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس عقیدے کی بدولت شخصی ذمہ داری کا خیال پیدا ہوتا ہے اس کا ماننا اخلاق اور روحانیت کے قیام کیلئے از بس ضروری ہے کیونکہ مذہبی عقائد سے جو شخص عاری ہے جو خدا سے نہیں ڈرتا اور اس کو نہیں جانتا ، آخرت کو ایک نوع کا واہمہ قرار دیتا ہے ۔ وہ ہرگز نیکی کی جانب راغب نہیں ہو سکتا ۔ غور فرمائیے ، کیا نیکی کے لئے اس شخص کے دل میں کوئی تحریص پیدا ہو سکتی ہے جو موت کے بعد زندگی کا قائل نہیں ؟ وہ نیکی اور بدی کے ثمرات کا فرق سمجھنے سے یکسر قاصر رہے گا ۔ بات یہ ہے کہ ایمان بالاخرۃ کا عقیدہ ایک اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے اس سے دلوں میں خشیت الہی پیدا ہوتی ہے ، نیز دیانتداری اور فرائض کا احساس بڑھتا ہے کیونکہ اس عقیدہ کو ماننے والا احتساب اور مکافات پر پورا پورا یقین رکھتا ہے ، سرکشی اور معصیت کے لئے اس وقت دل میں تحریک ہوتی ہے جب مکافات اور سزا کا خیال دماغ سے بالکل نکل جائے ، اس وقت انسان پر ہوائے نفس کا پورا تسلط ہوتا ہے ، ان وجوہ کی بنا پر ہر نبی نے اپنی قوم کو ایمان بالاخرۃ کی تلقین کی ، اور کہا کہ دیکھو تمہاری یہ زندگی عارضی ہے اور تمہیں آگے بڑھنا ہے اور ایک دائمی وابدی زندگی بسر کرنا ہے اس دائمی وابدی زندگی کی تیاری کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس زندگی کو تسلیم کرو ، اور اس کے بعد اس میں کامیاب وکامران رہنے کے لئے جدوجہد کرو ، حضرت ہود (علیہ السلام) نے جب یہ عقیدہ اپنی قوم کے سامنے پیش کیا تو حسب معمول ان مادہ پرست لوگوں نے وہی پرانے اعتراضات شروع کردیئے کہنے لگے کی موت کے بعد بھی زندگی ہے کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے ، اور ہمارا قالب ہڈیوں کی صورت میں باقی رہ جائے گا اس وقت بھی ہمیں اٹھایا اور چلایا جائے گا ، یہ بات تو باکل عقل وفہم سے عبید ہے یہ تو ہم کبھی تسلیم نہیں کرسکتے ، ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ بس یہی زندگی ہے اس کے بعد نہ جینا ہے اور نہ مرنا ، ہم میں سے کوئی شخص نہیں اٹھایا جائے گا ، یہ شخص تو سراسر مفتری اور کاذب ہے اور باز پرس کے خیال سے جذبہ احتیاط اور ولولہ بیداری قلوب میں موجزن ہوتا ہے ، اور ہم اس کی بات ماننے کیلئے ہرگز تیار نہیں ، حضرت ہود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی کہ مولا یہ میرے پیغام کو نہیں مانتے ، اور مجھے جھٹلاتے ہیں ، تو ان سب سے نبٹ لے اور میری مدد کر ۔ نتیجہ یہ ہوا ، کہ دستور الہی کے موافق عذاب الہی آیا ، اور ان تمام مادہ پرست منکرین کو خس و خاشاک کی طرح بہا کرلے گیا ، اس وقت انکی کوئی منطق کام نہ آسکی اور نہ ان کے اعوان وانصار انہیں بچا سکے ، ارشاد ہے کہ یہ قانون ہلاکت ناگزیر اور ضروری ہے ، جب وقوع پذیر ہوتا ہے تو پھر اس میں تقدم وتاخر نہیں ہوسکتا ۔ حل لغات : اترفنھم : التراف سے ہے جس کے معنے بہت نعمت دنیا مراد آسودہ حالی سے ہے ، ھیہات ھیہات : بور وتعذر کو ظاہر کرنے کیلئے ہے ۔ فبعدا : لعنت اللہ کی رحمت سے دوری ، تترا : مسلسل پیہم پے درپے ، ۔ احادیث : حدیث کی جمع ہے بمعنی بات ، حکایت اور قصہ ۔
Ayahs 23:46–48

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف سو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ سرکش تھے (ف 1) ۔

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

سو بولے کہ کیا ہم اپنے برابر کے دو آدمیوں پر ایمان لائیں ، اور ان کی قوم ہماری غلامی میں ہے ؟

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

پھر انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا سو ہلاک شدوں میں ہوگئے ۔

آزادی ہر شخص کا انسان حق ہے : (ف 1) جن لوگوں پر اللہ کا عذاب آیا ، ان میں فرعون اور اس کی قوم بھی تھی یہ نہیں تحقیق ہوسکا کہ یہ کون فرعون تھا ، البتہ یہ حقیقت ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تقریبا چار سو سال بعد مصر میں بنی اسرائیل کی حالت بہت خراب تھی وہ ہر طرح غلامی کی لعنتوں میں گرفتار ہوگئے فرعون نے ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے اور ان کو ہر نوع کی خوبیوں سے محروم رکھا ، ان کے جذبات غیر وحمیت کو کچل دیا اور مفلس اور نادار بنادیا تاکہ وہ ہمیشہ فرعون اور اس کی قوم کے محتاج رہیں ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو آیات ومعجزات دیکر بھیجا ، تاکہ وہ بنی اسرائیل میں روح بیداری پھونکیں ، اور ان کو فرعون کے چنگل سے چھڑائیں ۔ چنانچہ انہوں نے فرعون سے کھلے بندوں مطالبہ کیا ، کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ، ہم بنی اسرائیل کی آزادی وحریت کے کفیل ہیں ہم خدا کا پیغام لے کر آئے ہیں ، اور ایک لمحہ کیلئے بھی تیری خدائی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ فرعون اور اس کی قوم نے یہ مطالبہ سنا تو از راہ تکبر کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے ان دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں ، اور ان کی قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں یہ کس طرح ممکن ہے ، علو و برتری کے تحیل نے فرعون اور اس کے حاشیہ برداروں کو اندھا کردیا ، اور وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ آزادانہ زندگی بسر کرنا قوم کا انسانی حق ہے ، جس کا چھین لینا سراسر ظلم تعدی ہے ، بالآخر اس ظلم اور تکذیب کا نتیجہ یہ ہوا ، کہ ان لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا ، عین اس وقت جب یہ لوگ بنی اسرائیل کا تعاقب کر رہے تھے دریا کی موجوں نے آلیا ، اور یہ اپنے سازو سامان اور عزت و غرور کے ساتھ غرق ہوگئے ۔
Ayahs 23:49–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، کہ شاید وہ ہدایت پائیں (ف 2) ۔

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے مریم (علیہا السلام) کے بیٹے اور اس کی ماں کو ایک نشانی بنایا ، اور ان دونوں کو ایک ٹیلے پر جہاں ٹھہراؤ اور نتھرا پانی تھا ، جگہ دی ۔

(ف 2) یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد صرف قوم کی آزادی تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کی روحانی تربیت کی جائے تاکہ وہ دوسری قوموں کے لئے اسوہ ونمونہ بنیں ، اسی نے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک روشن کتاب عنایت فرمائی تاکہ وہ گمراہی کی ظلمتوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی میں آجائیں ۔
Ayahs 23:51–54

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے رسولو ! ستھری چیزیں کھاؤ ، اور نیک عمل کرو ، جو تم کرتے ہو ، میں جانتا ہوں (ف 3) ۔

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں تمہارا رب ہوں ، سو مجھ سے ڈرو ۔

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر امتوں نے پھوٹ کر اپنا کام اپنے درمیان ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ، ہر گروہ ان خیالوں پر جو ان کے پاس میں خوش ہے ۔

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

سو تو انہیں انکی غفلت میں ایک وقت تک چھوڑ دے ۔

(ف 3) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی ماں کو اس آیت میں ایک نشانی قرار دیا گیا ہے بہت سی نشانیوں سے تعبیر نہیں کیا گیا جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک خرق عادت میں دونوں برابر کے شریک ہیں ، اور وہ خرق عادت ولادت بلا زوج ہے یعنی مریم (علیہ السلام) نے بغیر خاوند کے بچہ جنا اور مسیح (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے لہذا یہ نشانی ہے ان مادہ پرستوں کے لئے جو اسباب و علل کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں اور اس خالق العلل کی قدرتوں اور حکمتوں سے آگاہ نہیں ، اور اس میں دونوں برابر کے شریک ہیں ۔ مقصد یہ ہے جس قدر پیغمبروں کا ذکر گزر چکا ہے ، سب کو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ وہ قوم میں اکل حلال کا جذبہ پیدا کریں اور انہیں نیکی وصلاح کی طرف بلائیں ، اور یہ یقین دلوں میں پیدا کریں ، کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر حل کو دیکھ رہا ہے ۔ حل لغات : ربوۃ : اونچی جگہ ، غالبا یہ مسیح کے بچپن کا واقعہ ہے ، حضرت مریم نے جب دیکھا کہ قوم کی مخالفت بڑھ رہی ہے تو وہ ان کو لیکر دمشق کی زمین میں چلی گئیں ۔
Ayahs 23:55–60

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم مال اور اولاد سے ان کی مدد کرتے ہیں ۔ (ف 1) ۔

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

(اور) دوڑ دوڑ کر ان کی بھلائیاں ملاتے ہیں ؟ کوئی نہیں ، بلکہ وہ سمجھتے نہیں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

البتہ جو لوگ اپنے رب کے خوف سے تھر تھراتے ۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کی آیتوں کو مانتے ۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے ۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور وہ جو دیتے ہیں جو کہ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈرتے ہیں کہ انہیں رب کی طرف جانا ہے ۔

مال و دولت آزمایش ہے ! (ف 1) مخالفین اور معاندین جب یہ دیکھتے ، کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود اسلام کی مخالفت اور عداوت کے ان کو مال اولاد سے بہرہ ور کر رکھا ہے ، تو وہ یہ سمجھئے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی نوازش ہے وہ ہم سے خوش ہے جبھی تو ہمیں سب کچھ دے رہا ہے قرآن حکیم کہتا ہے یہ ان کی سادہ لوحی اور نافہمی ہے ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون مکافات سے آگاہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ منکرین کی مادی مسرتوں میں مخل نہیں ہوتا ، اور ان کے مال و دولت میں خلل انداز نہیں ہوتا تاآنکہ ان کا غرور اور گناہ اصلاح وہدایت کی تمام قوتیں چھن جاتی ہیں ، اور وہ فنا کے قریب ہوجاتے ہیں ۔ جو لوگ نیک اور پاکباز ہیں کبھی مال و دولت پر مغرور نہیں ہوتے اور کبھی مادی آسائشوں کو تقوی وصلاح کا معیار قرار نہیں دیتے بلکہ جس وقت ان کے ہاتھ میں دولت آجاتی ہے تو وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ خدا کی طرف سے آزمائش نہ ہو ۔ حضرت فاروق ؓ کے متعلق مشہور ہے کہ جب فتوحات معرکے سلسلہ میں کسری کے کنگن ان کو ہے تو انہوں نے سراقہ کو دے دینے اور کہا ، یا اللہ میں نہیں چاہتا کہ یہ بیش قیمت زیور میرے لئے وجہ ابتلا ہوجائے میں اسے ایک مسلمان کو دیئے دیتا ہوں ۔
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہ لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے اور وہ ان میں آگے بڑھتے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے ، جو نیکیوں کے حصول میں سبقت کرتے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ جلدی جلدی دامن مراد کو نیکیوں اور فضیلتوں سے بھر لیں ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کی محبت ہے اور وہ ہر وقت اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ان کا محبوب خدا انکی کسی حرکت سے ناراض ہوجائے ، وہ اللہ کی آیتوں پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں ، اور اس کے حکموں کو مانتے ہیں ، وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی ذات بےمثل اور بےہمتا ہے اور اس قابل ہے کہ پوری توجہ کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے ، وہ اللہ کی راہ میں اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں اور دل میں ڈرتے بھی ہیں ، کہ اس میں ریا اور نمود کا شائبہ نہ ہونے پائے ۔
Ayahs 23:62–64

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ نکلیف نہیں دیتے ، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سچ بولتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف 2) ۔

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر ان کے دل بیہوش ہیں ، اور ان کو اس کے سوا اور کام لگے ہیں ، جن کو وہ کر رہے ہیں ۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے آسودہ لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو ناگاہ وہ فریاد کریں گے ۔

(ف 2) اس آیت میں اسلامی اصول فقہ وتشریح کی فضیلت بیان فرمائی ہے کہ یہ بہت آسان اور سہل ہے ، اور اس میں کوئی بات ایسی نہیں جو انسانی طاقت اور وسعت سے باہر ہو ، بات یہ ہے کہ اسلام سے قبل جس قدر مذاہب موجود تھے سب ہیں ریاضات شاقہ کو عبادت قرار دیا گیا تھا ، اور یہ بتایا دیا تھا کہ تم جس قدر تکلیف اٹھاؤ گے اسی قدر اللہ تعالیٰ کو اپنے قریب پاؤ گے اسلام کہتا ہے یہ اصول غلط ہے ، عبادات اور اس کے قدر ہلکا پھلکا اور آسان ہونا چاہئے ، کہ ہر شخص برداشت کرینگے ، چنانچہ اسلام ایسا ہی آسان مذہب ہے جو رہبانیت اور شکر پسندی کو ناجائز قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خوش اور مسرت کی عبادت زیادہ پسند ہے ایسی عبادت جو طبیعت پر بار اور بوجھ ہو بہتر نہیں ۔ حل لغات : وجلۃ : خوفزدہ : غمرۃ : بمعنے سختی ، مراد غفلت اور جہالت سے ہے ۔ مترفیہم : سرمایہ دار ، اور خوش حال لوگ ترف سے ہے ، جس کے معنے نمارہ اور ستر زندگی بسر کرنے کے ہیں ۔ یجئرون : جوار سے ہے آزاد بلند کرنا ، چلانا ۔
Ayahs 23:65–68

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

آج فریاد نہ کرو ، تم ہماری طرف سے چھڑائے نہ جاؤ گے (ف 1) ۔

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

تمہارے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو تم اپنی ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے ۔

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

قرآن سے تکبر کرکے افسانہ میں مشغول ہو کر اس کو چھوڑتے تھے ۔

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

سو کیا انہوں نے اس بات میں فکر نہ کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی بات آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادوں کے پاس نہیں آئی تھی ؟

آج نہ چلاؤ: (ف 1) ارشاد ہے کہ سرمایہ دار اور خوشحال لوگ جو ازراہ غرور وکبر اسلام کی صداقتوں اور سچائیوں کو ٹھکرا رہے ہیں ، ایک وقت آئے گا جب نہایت بیچارگی کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کئے جائیں گے ، اور ان کے عذاب کا فیصلہ ہوگا ، اس وقت یہ چیخیں گے اور چلائیں گے ، اور فریاد کریں گے ، تب ہم کہیں گے آج چیخنا اور چلانا بالکل بےسود ہے ، تمہیں ہم سے کوئی مدد نہیں ملے گی ، جانتے ہو ، دنیا میں تمہارا وتیرہ کیا تھا تمہارے پاس میرے احکام آنے اور تم نے انکار کردیا ، میری آیتیں پڑھی گئیں ، اور تم انہیں سن کر بھاگ کھڑے ہوئے تم نے تکبر اور غرور کا اظہار کیا ، تم نے راتوں کو قرآن کو ہجو ومذمت کے افسانوں میں گزار دیا اور پوری کوشش کی کہ لوگ تعلیمات حقہ سے بیزار ہوجائیں ، بات یہ تھی کہ قریش مکہ جب رات کو اپنی محفلیں آراستہ کرتے ، اور باتیں چھڑتیں تو قرآن مہم کی ہجو ومذمت کیلئے فسانے تراشے جاتے ، اور قرآن کی توہین کو موضوع حسن قرار دیا جاتا ، ہر شخص مزے لے لے کر قرآن پر حملے کرتا ، اور پھر سامعین سے داد طلب کرتا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا ایسے جرم کے ارتکاب کے بعد بھی تم فریاد وزاری کرکے توقع رکھتے ہو کہ ہم تمہیں عذاب سے بچائیں گے یہ امید غلط ہے ، اور یہ توقع بالکل فضول ہے ۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا وہ اپنے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں پہچانتے کہ اس کو اوپری سمجھتے ہیں (ف 2) ۔

(ف 2) فرماتے ہیں کیا انہوں نے اس کلام میں غور وفکر نہیں کیا اور کیا انہوں نے نہیں سوچا ، کہ قرآن کا انداز بیان ہی بتا رہا ہے کہ یہ کلام کسی انسانی دماغ کی اختراع نہیں ، قرآن کی بلاغت ووضاحت قرآن کا پیغام اور جامعیت قرآنی تعلیمات کا تجربہ یہ سب باتیں اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ یہ کلام بلاشبہ اللہ کا کلام ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ آخر ان لوگوں کو قرآن پر تنقید کرنے کی کیوں جرات ہوئی انہوں نے بےسوچے سمجھے کیوں اسے ہدف استہزاء بنایا ، جب کہ اس کا انداز بیان صاف طور پر بتلا رہا ہے ، کہ انسانی علم اس کی مثل پیدا کرنے سے یک قلم قاصر اور عاجز ہے ۔ اللہ تعالیٰ دریافت فرماتے ہیں ، کیا اس میں کوئی انوکھا پیغام ہے جو تم نے نہیں سنا ، اور محض عجیب اور نادر ہونے کی وجہ سے اس کے منکر ہو ، یا کچھ اور معاملہ ہے ؟
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق بات لایا ہے اور ان میں سے اکثر لوگوں کو حق برا معلوم ہوتا ہے (ف 3) ۔

ہم نے رسول کا انکار کیا تھا ، کیا باوجود دلائل و براہیم کے تم نے اسے نہیں پہچانا ، یا تمہاری نظروں میں اسے خلل دماغ کا عارضہ تھا ؟ اس کے بعد خود جوابا ارشاد فرمایا ، کہ ان باتوں میں کوئی بات بھی صحیح نہیں ، اصل واقعہ یہ ہے کہ قرآن سراسر حق وصداقت ہے ، اور پیغمبر سچا ہے ، یہ ان لوگوں کی محرومی اور شقاوت ہے ، کہ انہوں نے قرآن کو تسلیم نہیں کیا اور خواہشات نفس کی پیروی کی ۔
Ayahs 23:71–72

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر حق ان کی خواہشوں کے مطیع ہوجائے ، تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہے ، بگڑ جائے لیکن ہم ان کی نصیحت ان کے پاس لائے ہیں ‘ سو وہ اپنی نصیحت (ف 1) ۔ سے منہ موڑتے ہیں ۔

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

یا تو ان سے محصول (یعنی مزدوری) اچھی ہے ، اور وہ بہتر روزی دینے والا ہے ۔

(ف 1) یعنی پیغمبر لوگوں کی راہ نمائی پر مامور ہوتا ہے ، اس سے یہ امید نہیں رکھنا چاہئے ، کہ وہ ضرور عوام کی خواہشات کی موافقت کرے گا اور عوام کے جذبات کی رعایت کرکے حق کو چھپائے گا ۔
Ayahs 23:73–74

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تو تو انہیں سیدھی راہ پر بلاتا ہے (ف 2) ۔

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو آخرت کے منکر ہیں ، وہ اس راہ سے ٹیڑھے ہوئے جاتے ہیں ۔

(ف 2) اس آیت میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ حضور ﷺ لوگوں سے روپیہ بٹورنے کی خواہش نہیں رکھتے تھے بلکہ سراسر بےنیاز تھے اور مخلصانہ طور پر لوگوں کو صراط مستقیم کی جانب دعوت دیتے تھے مگر یہ لوگ بےدین اور ملحد ہونے کی وجہ سے صراط مستقیم پر گامزن نہ ہو سکے اور گمراہ رہے ۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیف ان پر ہے ، اسے ہٹا دیں ، تو وہ بہکے ہوئے اپنی گمراہی (ف 3) ۔ میں ہمیشہ پڑے رہیں گے ۔

(ف 3) کفار کی نفسیات کفر کی تشریح فرمائی ہے ، کہ یہ لوگ لا بد تمرد ، وسرکشی میں سرگردان رہیں گے ، ہم اگر ان کو اپنی آغوش رحمت میں بھی لے لیں ، ان کے جرائم سے درگزر کریں ، اور عذاب کو ٹال دیں ، جب بھی ان کی کیفیت یہی رہے گی ، کہ ادھر عذاب دور ہوا ، ادھر یہ اسی کفر والحاد میں پھر مبتلا ہوگئے ۔
Ayahs 23:76–77

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں عذاب (ف 4) ۔ میں پکڑا تھا تو بھی انہوں نے نہ اپنے رب کے سامنے عاجزی کی اور نہ گڑ گڑائے ۔

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھولیں گے ، تب فورا اس میں ان کی آس ٹوٹے گی ۔

(ف 4) اس عذاب کے تین میں مفسرین کا اختلاف ہے اور مندرجہ ذیل واقعات اس سلسلے میں بیان کئے جاتے ہیں ۔ ، 1۔ ثمامہ بن اثال نے جب اسلام قبول کیا ، تو اس نے یمامہ جا کر مکہ والوں کا غلہ روک لیا ، نتیجہ یہ ہوا ، کہ سخت قحط پڑا ، اور بڑے بڑے صنادید قریش بھی مارے جھوک کے بلبلا اٹھے ، ابو سفیان نے حضور ﷺ سے کہا ، کیا آپ رحمۃ اللعالمین نہیں ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا تو اللہ سے دعا کیجئے ، قحط دور ہو ، حضور ﷺ کا دریائے رحمت جوش میں آگیا آپ نے دعا کی اور قحط دفع ہوگیا ، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ 2۔ بدر کے دن جو ذلت ورسوائی قریش کے حصہ میں آئی تھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ باوجود شکست فاش دینے اور اسلام کی فتح و کامیابی کے ان کے دلوں میں کوئی تاثر پیدا انہیں ہوا ، اور یہ قطعا نہیں پسیجے ۔ 3۔ عام دنیوی مشکلات مراد ہیں کہ یہ لوگ روزانہ مصائب و حوادث سے دوچار ہوتے ہیں ، مگر رجوع لائے اللہ کا جذبہ انکے دلوں میں پیدا نہیں ہونا ۔ حل لغات : خرجا : مال و دولت ۔ لناکبون : ناکب کی جمع ہے ، نکب عن الطرق کے معنے ہوتے ہیں ، راستے سے ہٹ گیا ۔