21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsسراج البیان

Ayahs 21:78–80

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو یاد کر جب وہ دونوں کھیت کا جھگڑا فیصل کرتے تھے جب اس میں رات کے وقت ایک قوم کی بکریاں چر گئی تھیں ، اور ہم ان کا فیصلہ دیکھ کررہے تھے (ف 1) ۔

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

پھر ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو فیصلہ سمجھا دیا ، اور ہر ایک کو ہم نے حکم اور علم دیا تھا ، اور ہم نے پہاڑ داؤد کے تابع کردیئے تھے ، کہ وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے اور پرند (بھی) اور ہم (ہی) نے یہ کیا تھا ۔

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو تمہارا پہناوا بنانے کی صنعت سکھلائی تھی کہ تمہاری لڑائی میں محفوظ رکھے (یعنی زندہ) سو کیا تم شکر کرتے ہو ؟

اللہ کی اپنے بندوں پر بو قلمون رحمتیں : (ف 1) ان سب آیات میں اللہ تعالیٰ کی بوقلمون نعمتوں کا ذکر ہے کہ کس طرح کسی کسی بندے کو نوازا گیا ، داؤد وسلیمان (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد ہے ، کہ دونوں کو ہم نے پیغمبرانہ فراست عطا کر رکھی تھی ، مگر وقت نظر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اجتہاد بڑھ گیا ، قصہ یہ ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس دو فریق آئے ایک کا باغ تھا ، اور دوسرے کی بکریاں باغ والے نے کہا ، رات کو اس کی بکریوں نے میرے باغ کا ستیاناس کردیا ہے ، اس سے ہر جانہ دلوائیے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا ، تم اس کی بکریاں چھین لو ، یہ اس غفلت وبے پرواہی کی سزا ہے جس کی وجہ سے تمہارا باغ غارت ہوگیا ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) تک یہ معاملہ پہنچا تو انہوں نے فرمایا میرا فیصلہ اس سے مختلف ہے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) سے پوچھا ، وہ کیا ہے آپ نے فرمایا کہ بکریوں سے اس وقت تک استفادہ کیا جائے جب تک کہ نقصان کی تلافی نہ ہو ، اور اس کے بعد بکریاں واپس کردی جائیں ، کیونکہ بکریوں کا بطور تملیک مدعی کے سپرد کردینا ، قرین عدل نہیں ، حضرت داؤد (علیہ السلام) بیٹے کی فراست پر خوش ہوئے اور اس تجویز سے اتفاق کیا ؟ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امر مجتہد فیہ میں اختلاف جائز ہے بلکہ بعض حالات میں ضروی ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دانشمندی اور دور فہمی کے بیشمار قصے کتابوں میں مذکور ہیں اور انکی حکیمانہ امثال تو مشہور ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام تھا جس سے وہ ممتاز ومفتخر تھے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی اللہ کے بیشمار انعامات سے سرفراز تھے ، ان کہ سامان حرب کی تیاری میں کمال حاصل تھا ، زرہیں ، یعنی آہنی قمیص سب سے پہلے انہوں نے ایجاد کیں ، پہاڑوں میں راستے انہوں نے بنائے اور پرندوں کو جنگی خدمات کے لئے استعمال کیا ، حل لغات : الکرب : بےچینی ۔ الحرث : کھیت اور باغ دونوں کے لئے اس کا استعمال قرآن میں ہوا ہے ۔ نفشت : نفش سے ہے ، رات کے وقت مال ڈھور کا کھیت میں جا پڑنا ۔
Ayahs 21:81–82

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے سخت ہوا (ف 1) ۔ سلیمان (علیہ السلام) کے قابو میں کی تھی ، کہ وہ اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی ہے (یعنی کنعان) اور ہمیں ہر چیز کی خبر ہے ۔

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور شیطانوں میں سے جو اس کے لئے دریا میں غوطہ لگاتے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے ، اور ہم ان کے نگہبان تھے (کہ شرارت نہ کریں)

(ف 1) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا مستخر کی ، اس کے معنی یہ ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) فضا اور جو سے (محدود مقام تک) حسب منشاء استفادہ کرلیتے تھے ، اور ان کو اس پر ضبط اور کنٹرول حاصل تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کے پاس ایک تخت تھا ، جو ہوا میں اڑتا تھا ، اور شام سے یمن اور یمن سے شام تک اس کی پرواز ہوتی تھی ، تو کیا یہ تسخیر طیاروں کی صورت میں تھی ؟ واضح طور پر اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا ، مگر متبادر معنے جو سمجھ میں آتے ہیں ، وہ یہی ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس طیارہ کی قسم کی کوئی چیز تھی ، اور وہ ان کی اپنی ایجاد تھی جس کی وجہ سے وہ ہواؤں میں اڑتے پھرتے تھے ۔ بات یہ ہے کہ گو آج کل کا زمانہ ایجادات واختراعات کے باب میں بہت آگے نکل گیا ہے ، مگر یہ ضروری نہیں کہ حضرت انسان سے پہلی دفعہ اس حد تک ترقی کی ہو ، چناچہ اثری تحقیقات سے تو معلوم ہوتا ہے کہ بارہا اس محفل دنیا کو آراستہ کیا گیا ہے ، اور عقل و حکمت کی کارفرمائیوں سے حیرت زا اور عجیب تر بنایا گیا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ درمیان میں حوادث ارضی وسماوی نے ان ترقی کے نشانوں کو مٹا دیا ہو ۔ اس لئے اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں طیاروں کی قسم کوئی چیز پائی جائے تو اس میں کوئی تاریخی استحالہ لازم نہیں آتا ۔
Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے دکھ پہنچا ہے ، اور تو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان (ف 2) ۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

سو ہم نے اس کی سن لی ، اور اس کا دکھ دور کیا ‘ اور اس کے اہل اسے دے دئیے ، اور اس کے ساتھ اور بھی ان کی مانند اپنے پاس کی رحمت سے اسے دئیے اور نصیحت عبادت کرنے والوں کے لئے ۔

صبرایوبی : (ف 2) صبر ایوب مشہور ہے ، بات یہ ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) صبر و عبادت کا پیکر تھے اور ان کی نبوت کا موضوع یہ تھا کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کے متعلق عقیدت ونیاز مندی کے جذبات پیدا کریں ، اور انتہائی مصائب میں بھی ان کو اللہ کی چوکھٹ پر جھکانے کی کوشش کریں ، اور انہیں بتائیں کہ ہر حالت میں صرف اللہ کو اپنا کارساز اور چارہ گر سمجھنا چاہئے اس پیغام صبر و توکل کے لئے ضرورت تھی کہ وہ خود عملی طور پر لوگوں کے لئے نمونہ اور اسوہ ثابت ہوں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت آزمائشوں میں ڈالا یہاں تک کہ اپنے عزیز اقربا بھی ان کا ان حالات میں ساتھ نہ دے سکے مگر باوجود اس ابتلاء عظیم کے صبر و توکل کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹا ، اور وہ برابر اللہ کی عبادت میں مصروف رہے بلکہ ہر مصیبت اور ہر دکھ کے وقت ان کے جذبہ نیاز مندی میں اضافہ ہوتا رہا ، اور انہوں نے بہر حال اپنے کو اللہ کا شکر گزار اور نیاز مند بندہ ثابت کیا ، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انکی سن لی اور تمام تکلیفوں کو راحت ومسرت سے بدل دیا اقربا اور عزیز جو مصیبت کے وقت الگ ہوگئے تھے پھر واپس آگئے ، اور کڑی آزامائش کا سلسلہ ختم کردیا گیا گویا حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ عبادت کا اعلی ترین مقام عبادت وشکر اور صبر و توکل ہے ۔ حل لغات : یغوصون : غوص سے ہے بمعنی غوطہ زنی ۔
Ayahs 21:85–90

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسمعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یاد کر ‘ یہ سب صابر تھے (ف 1) ۔

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا ، وہ نیک بختوں میں تھے ۔

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو یاد کر جب وہ غصہ سے لڑکر چلا گیا ، پھر سمجھا کہ ہم اسے نہ پکڑیں گے ، پھر تاریکیوں میں پکارا ، کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو پاک ہے ، میں ظالموں میں تھا ۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

سو ہم نے اس کی سن لی اور اسے غم سے نجات دی اور یونہی ہم مومنوں کو نجات دیں گے ۔

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور ذکریا (علیہ السلام) کو یاد کر ، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے ۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

سو ہم نے اس کی پکار سنی اور اسے یحیٰ بخش دیا اور اس کی عورت کو چنگا کردیا ، یہ لوگ نیکیوں پر دوڑتے اور ہمیں توقع اور ڈر سے پکارتے اور ہمارے آگے دبے رہتے تھے ۔

(ف 1) ذوالکفل کے متعلق اختلاف ہے کہ ہو زمرہ انبیاء میں سے تھے یا صلحاء امت میں ، قرآن نے انہیں انبیاء (علیہم السلام) کی صف میں کھڑا کیا ہے جمہور علماء کا مذہب بھی یہی ہے کہ یہ پیغمبر تھے مگر یہ تحقیق نہیں کہ یہ کس عصر کے پیغمبر تھے ۔ ذوالنون حضرت یونس (علیہ السلام) کا لقب ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ تمام انبیاء صابر تھے ، صالح تھے اللہ پر بھروسہ اور توکل رکھنے والے تھے ، اور ان کے دلوں میں اللہ کی خشیت اور اس کا خوف تھا ۔ ان سب کی خصوصیت جو قرآن حکیم نے بتائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہر ابتلاء کے وقت بےچین ہو کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے ، صرف اسی کا نام تھا جو ان کے لئے وجہ طمانیت ہوسکتا تھا ، اور صرف اس کی ذات تھی جس پر ان کو ناز اور بھروسا تھا ، اس لئے اللہ بھی ہر مشکل اور مصیبت میں ان کا خیال رکھتا تھا ، اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا تھا ، کیونکہ قاعدہ یہی ہے کہ جو شخص صرف رضاء الہی کے لئے ساری دنیا سے الگ ہوجائے ، اور جس کے تمام تعلقات منقطع ہوجائیں محض اس بنا پر کہ مادیت پرست مخلوق اس کی خدا پرستی سے بیزار اور متنفر ہے ، تو اس وقت خدا کی ذات آپ اس کی ہر طرح پر کفیل ہوجاتی ہیں ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کے اعمال بد سے سخت نالاں تھے اور چاہتے تھے کہ وہ ان کی اصلاح کریں ، مگر جب ان کی نافرمانیاں حد سے گزر گئیں ، تو وہ اس وقت ناراض اور مایوس ہو کر ان سے جدا ہوگئے تاکہ ان کے شر شے محفوظ رہ سکیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور یہ تھا کہ وہ چندے ان میں قیام کریں ، اور ان کو پاکبازی اور توحید کی تلقین کریں ۔ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے تھے کہ یونس (علیہ السلام) اس درجہ جلد ہجرت پر آمادہ ہوجائیں ، اور قوم کو بدستور گمراہی اور ضلالت میں چھوڑ جائیں ، اس لئے عین اس وقت جب کہ وہ کشتی میں سوار ہو کر ان لوگوں سے دور نکل جانا چاہتے تھے ، اللہ نے انہیں بڑی آزمائش میں ڈال دیا ، اور اس وقت آزاد کیا ، جب انہوں نے اپنی لغزش کو محسوس کیا اور خلوص قلب سے دعاء مانگی ۔ حل لغات : مغاضبا : ناراض ، ناخوش ، اور بیزار ۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور اس عورت (مریم علیہ السلام) کو یاد کر جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی پھر ہم نے اس (عورت) میں اپنی روح پھونک دی اور اس کو اور اس کے بیٹے کو تمام جہان کے لئے نشانی قرار دیا (ف 1) ۔

مسیح (علیہ السلام) اللہ کی نشانی ہیں : (ف 1) حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی روح کی نفخ سے تعبیر کیا ہے ، کیونکہ ان کو خرق عادات کے طور پر پیدا کیا گیا ، اور اس لئے بھی کہ ان کا درجہ ومقام بہت بلند تھا ، یہودیوں کو یہ بتلانا مقصود ہے ، کہ تمہارے ظنون فاسدہ بےدینی اور الحاد پر مبنی ہیں ، ورنہ مریم عفیفہ اور مسیح ناصری اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک نشانی ہیں ۔
Ayahs 21:92–93

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ سب لوگ تمہارے بن کے ہیں اور سب کا ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا رب ہوں سو میری بندگی کرو ، (ف 2)

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور لوگوں نے اپنا معاملہ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ، وہ سب ہماری طرف لوٹ آئیں گے ۔

(ف 2) اللہ کا سچا اور اصلی دین اسلام ہے ، جس میں اس کی توحید و تفرید کا اعلان ہے جس میں اس ذات پاک کی ربوبیت کی تلقین ہے ، جو تمام انسانوں کو ایک وحدت میں منسلک کرنا چاہتا ہے ، اور جس کی غرض وغایت یہ ہے کہ نوع انسانی کے دماغی افق کو بلند اور تابناک بنا دیا جائے ، اس کے بعد جتنے فرقے اور گروہ ہیں ، اور جس قدر مذہبی ودینی جماعتیں ہیں سب گمراہی اور ضلالت میں ہیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تمہاری قوم ہی ایک سچی اور اطاعت شعار قوم ہے ، اور یہ لوگ جنہوں نے اپنے وجود کو مختلف گروہوں اور جماعتوں میں بانٹ لیا ہے مجرم ہیں ، یہ سب کے سب ہمارے پاس آئیں گے ، اس وقت ہم انہیں بتائیں گے کہ کون راہ راست پر گامزن تھا ، اور کون گمراہ ۔
Ayah 21:94

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

سو جو کوئی نیک عمل کرے گا ، اور وہ ایمان بھی رکھتا ہوگا تو اس کی کوشش نامقبول نہ ہوگی اور ہم اس کو لکھتے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) مقصود یہ ہے کہ کوئی شخص کسی فرقے اور کسی عقیدے کے ساتھ تعلق رکھے ، اگر وہ اسلام کے حقائق تسلیم کرلے اور اپنی زندگی کو سنوار لے ، تو وہ نجات کا مستحق ہے ، اور اس کی مساعی عنداللہ مشکور ہیں ۔
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کیا ، ممکن نہیں کہ وہ ہمارے پاس لوٹ کر نہ آئیں (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی جن لوگوں کا فسق وفجور انتہا تک پہنچ جاتا ہے ، عذاب الہی کے مستحق ہوتے ہیں ، وہ عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد رجوع کی صلاحیت نہیں رکھتے ، ان میں پھر دنیا میں لوٹ جانے کی قوت نہیں رہتی ، گو وہ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک موقعہ اور دیا جائے ، مگر اللہ کا ہی فیصلہ ہے کہ عذاب کے بعد ان کے حق میں کوئی رعایت ملحوظ نہ رکھی جائے کیونکہ عذاب آنا ہی اس وقت ہے جبکہ انسانی گناہ حدود اصلاح ورجوع سے تجاوز کر جائیں ۔
Ayahs 21:96–100

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یاجوج وماجوج کھولے جائیں ، اور وہ ہر بلندی سے (پھیلتے) دوڑتے آئیں (ف 3) ۔

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور سچا وعدہ نزدیک آجائے ، پھر ناگاہ کافروں کی آنکھیں اوپر لگی رہ جائیں ، (اس وقت کہیں گے کہ) شامت ہماری ہم اس حال سے غافل تھے بلکہ ہم ظالم تھے ۔

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

تم لوگ اور اللہ کے سوا جن کو تم پوجتے ہو سب دوزخ کا ایندھن ہو ، تم اس پر پہنچو گے ۔

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ معبود ہوتے ، تو وہ دوزخ پر نہ پہنچتے ‘ اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

انہیں وہاں چلانا ہے اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے ۔

یاجوج وماجوج : (ف 3) یاجوج وماجوج کی تفصیلات گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں ، مختصر یوں سمجھ لیجئے کہ قوموں کی بدعقیدگی اور مظالم کا ایک طوفان اٹھے گا ، جو نظام عالم کو تہ وبالا کر دے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ مذہب کی وقت دلوں سے اٹھ جائے گی ، دینداری کے خلاف جنگ کی جائے ، اور نظام کائنات کی بنیادیں محض ہوس وجوع پر رکھی جائیں گی ، جب انسانوں میں شریر اور بدباطن لوگ رہ جائیں گے ، اور صرف مادیت کی حکومت ہوگی ۔ ان حالات میں بطور انتقام اللہ تعالیٰ ایک قوم کو تباہی و غارت گری کے لئے انسانوں پر مسلط کردیں گے ، تاکہ یہ بات ثابت ہو کہ انتہا مادیت کے معنے آخری تباہی کے ہیں ۔ حل لغات : کفران : ضیاع ، فقدان ، اور انکار ۔ حرام : ممنوع ، ناشائستہ وناروا ۔ ینسلون : جدا ہونا ، نکل جانا ۔
Ayahs 21:101–103

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن کے لئے ہماری طرف سے پہلے سے نیکی مقرر ہوگئی ہے ، وہ اس سے دور رہیں گے (ف 1) ۔

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

وہ دوزخ کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ اس مزوں میں جن کو ان کا جی چاہے گا ہمیشہ رہیں گے ۔

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

اس بڑی گھبراہٹ کا انہیں غم نہ ہوگا اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے ، یہ تمہارا دن ہے جس کا تم سے وعدہ ہوا تھا ۔

اہل جنت کو دوزخ کو اذیتوں کا کھٹکا نہیں : (ف 1) جنت اور دوزخ اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کے دو مقام ہیں ، جو لوگ مشرک ہیں ، جنہوں نے حق پرستی کے قعر کو چھوڑ کر شرک پرستی کو نشیمن بنایا ہے ، وہ اللہ کی ناراضگی اور ناخوشی کے مہبط ہیں ، اس لئے ان کا مقام بھی وہ ہے جہاں سے غیض وغضب کے شعلے بھڑکتے ہیں ، اور جن کے مقدر میں نیکی ہے ، اور نصیب میں اللہ کی توحید ، وہ رضا الہی کا موجب ہیں ، اور ان کا مقام بھی وہ سرور آفرین ہے کہ وہاں جہنم کے ہولناک شعلوں کی آواز تک نہیں پہنچے گی ، اور چونکہ دنیا میں انہوں نے ایثار وقربانی سے کام لیا تھا ، اور محض اللہ کی رضا جوئی کے لئے ان تمام لذتوں اور آسائشوں کو خیر باد کہا تھا ، اس لئے یہاں ان کو ہر قسم کی لذتیں عطا کی جائیں گی ، اور روح وجسم کی تمام مسرتیں ان کے حصہ میں آئیں گی اور وہ دائمی وابدی ہو نگی ، کوئی خوف و گھبراہٹ ان کے نزدیک نہیں آئے گا ، حتی کہ نفخہ ثانیہ کے بعد حساب ومحاسبہ کے ڈر سے بھی وہ بالکل بےخطر ہوں گے ، فرشتے خوشخبریوں کے تحائف لے کر ان کا استقبال کریں گے ، اور ان کو بتائیں گے کہ اللہ کے نزدیک ان کا مقام کس درجہ بلند ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان نجات کے صحیح معنوں میں مستحق ہیں ، اور یہ غلط ہے کہ ہر مسلمان خواہی نہ خواہی جہنم کی اذیتوں کو محسوس کرے گا ، یہاں واضح طور پر بتلا دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے لئے کام نجات مقدرات میں سے ہے اور وہ جہنم کی خوفناک اذیتوں سے قطعی محفوظ رہیں گے ۔
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹیں گے (ف 2) ۔ جیسے کاغذ کو طومار لپٹیتا ہے جیسے ہم نے پہلی پیدائش شروع کی تھی (ویسے) ہم اسے دہرائیں گے (یہ) وعدہ ہمارے ذمہ ہے ہمیں کرنا ہے ۔

(ف 2) یعنی یہ تمام واقعات قیامت آنے کے بعد رونما ہوں گے ، اس وقت آسمان کی وسعتوں کو یوں سمیٹ لیا جائے گا ، جس طرح کاغذوں کے طو مار کو لپیٹ لیا جاتا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اتنے بڑے آسمان کو چشم زدن میں سمیٹ لینا اتنا ہی سہل ہے ، جتنا کہ خطوط کے کاغذات کو لپیٹ لینا لکھنے والے کے لئے سہل ہوتا ہے یعنی اللہ کے لئے یہ چیز جسے تم مشکل اور محال قرار دے رہے ہو بالکل آسان ہے ۔ حل لغات : زفیر : سانس کو پہلے الٹا کھینچ کر پھر بلند کرنا ، اسی لئے گدھے کی پہلی آواز کو زفیر اور دوسری کو شہیق کہتے ہیں اور سختی ومصبیت کو بھی زفر کہتے ہیں ، حسیسھا : نرم آواز ۔ السجل : ایک فرشتے کا نام ہے یا کاغذ کا طومار ، یا قبالہ ، یا چک یا مہر ۔
Ayahs 21:105–106

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور ہم نے نصیحت کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ میرے نیک بندے زمین کے وارث ہوں گے (ف 1) ۔

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

اس میں مطلب کو پہنچتے ہیں لوگ بندگی کرنے والے ۔

زمین کے وارث کون ہیں ؟ : (ف 1) غرض یہ ہے کہ صالحین کے لئے کامیابی و کامرانی قطعی ویقینی ہے پہلی آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہے کہ صلحاء زمین کے وارث ہوں گے ، اور تمام مادی وروحانی سربلندیاں ان کو عطا کی جائیں گی ، مگر صلحاء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ کیا وہ لوگ جو امور حکمرانی سے محض ناواقف ہیں ، اور صرف سجادوتسبیح کو ، ” صلاح وتقوی “ کا معیار گردانتے ہیں ، یا وہ لوگ جو ان شروط دین کے ساتھ اس کردار کے بھی حامل ہیں ، جو زندہ قوموں کا کردار ہے اور ان تمام اوصاف سے متصف ہیں جن کا ہونا حکمران قوم کے لئے ضروری ہے قرآن کہتا ہے کہ اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں کے لئے الگ الگ قواعد بتا دیئے ہیں ، چناچہ اخلاق کے لئے جدا ضابطے ہیں ، اور معاشرت کے لئے علیحدہ دستور ہیں ، جن پر گل پیرا ہو کر انسان اخلاق ومعاشرت کی تمام برکتوں کو حاصل کرسکتا ہے ، اسی طرح سیاسی زندگی اور سیاسی برتری کے لئے بھی تفصیلات بیان کی ہیں اب جو قوت بھی ان تفصیلات کو عملا تسلیم کرتی ہے وہ اسی حد تک ان برکات سے ضرور استفادہ کرے گی ، اور دنیا میں سربلند ہو کر رہے گی ، کیونکہ یہ علو و برتری اسلامی پروگرام پر فی الجملہ عمل کا نتیجہ ہے ۔
Ayahs 21:107–108

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور ہم نے تجھے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہان کے لئے رحمت (ف 2) ۔ بنا کر بھیجا ہے ،

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

تو کہہ مجھ پر تو یہی وحی نازل ہوئی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے پس کیا تم مانتے ہو ؟ ۔

(ف 2) حضور ﷺ کا فیض عام ہے ، آپ کسی خاص قوم اور خاص زمانہ کے لئے نہیں ہیں بلکہ آپ کی نبوت تمام کائنات انسان کیلئے ہے ، آپ کی رحمتیں وسیع ، اور آپ کا پروگرام ہمہ گیر ہے ، اور آپ کی تعلیم یہ ہے کہ دنیا کے ہر گوشت میں ، ہر وقت اور ہر حالت میں صرف اللہ کے تعلقات عبودیت کو استوار کیا جائے ۔
Ayahs 21:109–112

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ کہ تم سب کو یکساں طور پر خبر دے چکا اور میں نہیں جانتا کہ جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے وہ نزدیک ہے یا دور (ف 3) ۔

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

وہ اس بات کو جو پکار کر کہی جائے جانتا ہے اور تمہاری پوشیدہ باتیں بھی جانتا ہے ۔

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید یہ (وعدہ) تمہاری آزمائش اور ایک وقت تک تمہاری بہرہ مندی ہو ۔

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

(رسول نے) کہا ، اے رب انصاف کے ساتھ فیصلہ کر اور ہمارا رب رحمن ہے اسی سے ہم تمہاری ان باتوں پر جو تم بناتے ہو ، مدد مانگتے ہیں ۔

(ف 3) ان آیات پر سورة انبیاء کا اختتام ہے ، اور ان میں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے ، کہ اسلام کی تعلیم بالضرور توحید ہے یعنی باطل اور جھوٹ کے خلاف کھلی جنگ ، حق اور سرکشی کے درمیان ابدی منافرت اور ظلم و استبداد کے مقابلہ میں قوت و غلبہ کا دائمی مطالبہ فرماتے ہیں تم توحید کے مسلک کو قبول کرلو یا انکار کر دو ، ہم بہرحال ایک خدا کی پرستش کریں گے ، اور اسی خدا کی قوتوں سے ڈریں گے ، تمہاری مخالفت اور تمہارے عناد کی قطعا کچھ پروا نہیں کریں گے ۔ ہمارے دلوں میں صرف ایک ذات کی محبت ہے اور صرف اسی ذات کا ڈر ہے ، جو رب السموت والارض ہے ۔ یہ آیات اپنے مفہوم میں مکہ والوں کے لئے کھلے اعلان جنگ کی حیثیت رکھتی ہیں ، اس لئے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں مکہ میں اسلام کی حکمت عملی خوف وہراس کی حکمت عملی تھی ، انہیں ان آیات پر غور کرنا چاہئے کہ کس جرات وجسارت کے ساتھ ان لوگوں کو تباہ کردیا گیا ہے ، اور واضح کردیا گیا ہے کہ تم گو انکار کرو مگر حقیقت وہی ہے جس کا ہم اعتراف کرلیتے ہیں ، اور جسے پھیلانا ہم دین کی خدمت سمجھتے ہیں ۔ حل لغات : المستعان : وہ ذات جس سے استعانت اور مدد چاہیں ۔ زلزلۃ الساعۃ : قیامت کا زلزلہ ۔ تذھل : ذھول سے ہے یعنی بھول جانا ، مقصد یہ ہے کہ مصیبت اور خوف کی زیادتی سے تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی وہ اپنے سامنے اپنے بچوں کو تڑپتے ہوئے دیکھیں گی ، مگر خوف وہراس کے غلبہ کی وجہ سے ان کی جانب متوجہ نہ ہو سکیں گی ،