21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsسراج البیان

Ayahs 21:40–41

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ ان پر اچانک آجائے گی ، پھر ان کو ہکا بکا بنادے گی ، پھر وہ اسے نہ ہٹا سکیں گے اور نہ مہلت پائیں گے (ف 1) ۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور تجھ سے پہلے بہت رسولوں کے ساتھ ٹھٹھے ہوچکے ہیں ، سو ان میں سے ٹھٹھے بازوں کو اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ ٹھٹھا کرتے تھے ۔

(ف 1) عذاب کے باب میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ مجرموں کو ابتدا میں ڈھیل دی جاتی ہے مگر جب وہ حد مقرر سے آگے بڑھ جاتے ہیں ، اس وقت اللہ کا عذاب اچانک آجاتا ہے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو اس عذاب سے بچا نہیں سکتی ، مگر بیوقوف لوگ اس ڈھیل کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اعمال حسنہ کا نتیجہ ہے جو دنیا میں نازونعمت کے سارے سامان ہمیں میسر ہیں ، ورنہ ایک لمحہ بھی ہم دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ مکہ والے بار بار حضور ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ، وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نہایت حکمت اور قدرت والی ہے ، جسے جب چاہے ، اپنے مصالح کے ماتحت گرفتار کرلے پھر کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے ۔
Ayahs 21:42–43

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

تو کہہ رات میں اور دن میں رحمن سے کون تمہاری حفاظت کرتا ہے ، بلکہ وہ اپنے رب کی یاد سے روگردان ہیں ، (ف 2) ۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ہمارے سوا ان کے اور بھی معبود ہیں کہ انہیں بچاتے ہیں اور وہ اپنی جانوں ہی کی مدد نہیں کرسکتے اور ہمارے مقابلہ میں کوئی ان کا مصاحب نہیں ۔

صرف خدا محافظ ہے : (ف 2) حقیقت یہ ہے کہ یہ محض اللہ کی مہربانی ہے ، کہ انسان باوجود اس درجہ نافرمانیوں کے سطح زمین پر دنداناتاپھرتا ہے ورنہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہمارے لئے مصائب و حوادث کا عظیم الشان پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ، یہی پانی جو اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، اگر سیلاب کی شکل اختیار کرلے تو ہمارے لئے کتنا عذاب دہ ہوجاتا ہے ، ہوا کے ٹھنڈے ٹھنڈے فرحت افزا جھونکے اگر بادتند میں تبدیل ہوجائیں ، تو کس درجہ تباہی پھیل جاتی ہے ، اور آگ جس سے روزانہ ہم طرح طرح کے کھانے پکا کر نوش جان کرتے ہیں ، اگر پھیل جائے تو آن کی آن میں کئی گھر پھونک کے راکھ بنادیتی ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ مشرکین سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ رات سوائے ہمارے تمہاری کون خبرداری کرتا ہے جو تمہیں آفات ارضی وسماوی سے بچاتا ہے ، تمہارے معبود ، دیوتا تو اپنی حفاظت ، نصرت پر بھی قادر نہیں پھر یہ تمہاری ضروریات پوری کرسکیں گے ؟ حل لغات : یکلؤکم : کلاء سے ہے بمعنی حفاظت :
Ayahs 21:44–46

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ داؤوں کو فائدہ پہنچایا ہے یہاں تک کہ ان کی عمر دراز ہوئی ، پھر کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو ان کے کناروں (ف 1) ۔ سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ، اب کیا وہ (قریش) غالب ہوں گے ،

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

تو کہہ میں تو تمہیں وحی کے مطابق ڈراتا ہوں اور (سچ ہے کہ ) بہرے جب ڈرائے جاتے ہیں ، پکار نہیں سنتے ،

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر تیرے رب کے عذاب کی بو بھی انہیں پہنچے ، تو کہنے لگیں ، خرابی ہماری ، بیشک ہم ظالم تھے ۔

(ف 1) مخالفین اسلام کو اپنی معاندانہ کوششوں پر بڑا ناز تھا ، ان کا خیال تھا کہ ان کی ناپاک مساعی سے اسلام کی بڑھتی ہوئی برکات رک جائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ محض وہم باطل ہے انہیں دیکھنا چاہئے ، کہ فتوحات اسلامی کی وسعتیں کہاں تک پھیلتی چلی جا رہی ہیں ، کیا اسی مغلوبیت کا نام قبضہ و غلبہ ہے ؟ یہ تاریخ کا چمکتا ہوا واقع ہے ، کہ اسلام جس ہمہ گیری اور غیر محدود طور پر پھیلا دنیا کا کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ، تاریخ عاجز ہے کہ مسلمان مجاہدین کی مثال پیش کرسکے ۔ پھر کیا باطل اس طرح کامیاب ہو سکتا ہے ؟ کیا جھوٹ کو اتنا فروغ حاصل ہوتا ہے کہ لوگ جوق در جوق اس کو قبول کریں ، اور خاص وعام طبائع اس قدر متاثر ہوں ؟ یعنی حضور ﷺ نے ہرچند ان لوگوں کو حقیقت کی طرف بلایا ۔ مگر یہ قوت سماعت سے محروم ہوچکے ہیں ، اس لئے مطلقا کان نہیں دھرتے ، اور نہیں سنتے کہ سب کچھ ان کے بھلے کے لئے کہا جارہا ہے ۔
Ayahs 21:47–48

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازوئیں رکھیں گے ، سو کسی جان پر ایک ذرہ ظلم نہ ہوگا ، اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی عمل ہوگا ، ہم اسے لائیں گے ، اور ہم کافی محاسب ہیں (ف 2) ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی (جو) فیصلہ کرنے والی اور روشنی اور ان متقیوں کیلئے نصیحت ہے ۔

وزن اعمال : (ف 2) وزن اعمال کی تفصیلی کیفیت کو معلوم کرنا انسانی استعداد سے دور ہے کیونکہ اس کا تعلق ایک ایسے عالم سے ہے جو اس وقت تک نادیدہ ہے ، البتہ یہ درست ہے کہ اعمال کے حسن وقبح کو جانچنے کے لئے ، اور ان میں مدارج قائم رکھنے کے لئے ایک معیار کی ضرورت ہے بس یہی معیار ترازوئے عدل ہے ، مقصد بہرحال یہ ہے کہ جہاں تک اعمال کا تعلق ہے ، اللہ کی عدالت میں کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا ، اور ہر شخص کو وہی ثمرہ یا بدلہ ملے گا جس کا وہ ٹھیک طور پر حقدار ہے ۔ حل لغات : نفحۃ : تھوڑا سا حصہ ۔ مثقال : نام وزن ، مقدار ۔
Ayah 21:49

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں وہ قیامت سے کانپتے ہیں (ف 1) ۔

قرآن میں تنوع ہے ! : (ف 1) قرآن حکیم چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے اس میں مصنوعی ترتیب مضامین نہیں ، بلکہ تنوع ہے اور تنوع کے ساتھ ایک باریک ربط ہے جس کا سمجھنا صرف اہل بصیرت کے لئے ممکن ہے ، اس تنوع بیان کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ پڑھنے والے کے دل میں شوق جستجو بڑھتا جاتا ہے ، اور طبیعت میں ملال پیدا نہیں ہوتا ، ان آیات سے قبل توحید کا ذکر تھا ، رسالت ونبوت کا بیان تھا ، اور حشر ونشر کی کیفیات کی توضیح تھی اب انبیاء (علیہم السلام) کے حالات بیان فرمائے ہیں ۔ ارشاد ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو جو کتاب عنایت فرمائی ، وہ بالکل فیصلہ کن تھی ادہام و خرافات کی تاریکیوں کو دور کرنے والی روشنی تھی ، اور کامل نصیحت تھی ، اللہ کے وہ پاکباز بندے اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔ جو بن دیکھے اس پر ایمان رکھتے ، اور اس سے ڈرتے ہیں ، اور قیامت کے خیال سے لرزاں وترساں رہتے ہیں ، غرض یہ ہے کہ یہودی باوجود تورات کے موجود ہونے کے اس لئے بدبخت اور محروم رہے کہ ان میں خشیت الہی کا جذبہ مفقود ہوچکا تھا ، اور اللہ پر سے اعتقاد اٹھ گیا تھا ،
Ayahs 21:50–51

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ ذکر (قرآن) مبارک ہے جسے ہم نے اتارا ہے سو کیا تم اس کے منکر ہو (ف 2) ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی نیک راہ عنایت کی تھی ، اور ہم اس کو جانتے تھے ۔

(ف 2) اہل کتاب سے خطاب ہے ، کہ جب قرآن بھی صحف سابقہ کی طرح اللہ کی کتاب ہے اور اس میں نصیحت و برکت کا سامان وافر موجود ہے ، تو پھر یہ محرومی کیوں ہے کہ تم اس کو نہیں مانتے کیا اسی وجہ سے کہ دلوں میں ایمان کی روشنی باقی نہیں رہی ، اور خوف خدا کا خیال اٹھ گیا ہے ۔ حل لغات : رشدہ : پیغمبرانہ فراست ۔ التماثیل : جمع تمثال ، مورتیاں ۔
Ayahs 21:52–61

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیں کیا ہیں ؟ جن پر تم جمے بیٹھے ہو ؟ (ف 3) ۔

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

وہ بولے ہم نے اپنے باپ دادوں کو انہیں (اسی طرح) پوجتے پایا ہے ۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

بولا تم اور تمہارے باپ دادے صریح گمراہی میں ہو ۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ بولے ، کیا تو ہمارے پاس سچی بات لیکر آیا ہے یا تو کھلندریاں کرتا ہے ؟ ۔

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

بولا نہیں تمہارا رب وہی ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ، جس نے انہیں پیدا کیا ، اور میں اسی بات کا قائل ہوں ۔

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے میں تمہارے بتوں کا ضرور علاج بناؤں گا ۔

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پھر اس نے انہیں چکنا چور کر ڈالا ، مگر ان کے بڑے بت کو نہ توڑا کہ شاید وہ اس کی طرف پھر آئیں ۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

بولے کس نے ہمارے معبودوں سے یہ کیا ؟ وہ کوئی (بڑاہی) ستمگار ہے ۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

بولے ہم نے ایک جوان ابراہیم (علیہ السلام) نامی کی نسبت سنا ہے کہ وہ ان بتوں کا ذکر (کیا) کرتا ہے ۔

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

بولے تو اسے لوگوں کے سامنے لاؤ ، شاید وہ گواہی دیں ۔

پیغمبرانہ استعداد : (ف 3) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں مشرکانہ خیالات کے خلاف جو جذبہ تنفر موجود تھا اور جس سے بےقرار ہو کر انہوں نے اپنی قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ پہلے سے موجود تھا اور عہدہ نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی ان میں یہ پیغمبرانہ سوجھ بوجھ پائی جاتی تھی ، بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عہد نبوت سے قبل ایک استعداد خاص موجود ہوتی ہے اور ان کا دماغ پہلے انوار الہیہ کا مہبط ہوتا ہے ان کے کردار گفتار سے ایک شان امتیاز چمکتی ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ معمولی ہیں ، اور عام انسانوں سے یقینا ممتاز اور بلند انسان ہیں ۔ حل لغات : لاکیدن : کید کے معنے تدبیر ۔ سوء تدبیر ، اور مخالفانہ جدوجہد کے ہیں ۔
Ayahs 21:62–68

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

بولے اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تونے ہمارے معبودوں کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟ (ف 1) ۔

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

بولا نہیں بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کام کیا ہے سو تم ان بتوں سے پوچھ لو ، اگر وہ بولیں ۔

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

وہ اپنے دلوں میں سوچ کر بولے ، تم (تو) آپ ہی ظالم ہو ۔

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر سرنگون ہوئے ، تو جانتا ہے کہ یہ نہیں بولتے ،

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا ایسوں کو پوجتے ہو جو تمہارا نہ کچھ بھلا کرسکیں ، اور نہ برا ؟

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر ، اور اللہ کے سوا تمہارے معبودوں پر کیا تمہیں عقل نہیں ؟

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

وہ بولے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا ؤ اور اپنے معبودوں کی مدد کرو ، اگر کرنا چاہتے ہو ۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تدبیر اصلاح ! : (ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ کو اگر اس حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور اس کے عام مفہوم کو مد نظر رکھا جائے ، جو لوگوں میں مشہور ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مقام پر جھوٹ بولا تو طبیعت میں سخت خلجان پیدا ہوتا ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ صحیح حدیث بھی قرآن کے مخالف مفہوم کو بیان کرسکتی ہے اور یا پھر انبیاء سے کذب کا صدور ممکن ہے ، اور یہ دونوں باتیں غلط ہیں ، نہ حدیث قرآن کے مخالف ہے ، اور نہ قرآن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تکذیب کا کہیں ذکر ہے ، اس سلسلہ میں ذیل کی باتیں پیش نظر رہنا چاہئیں ۔ 1۔ قرآن میں ابراہیم (علیہ السلام) کو صدیق کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے ، 2۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بت پرستوں سے کہ دیا تھا ، کہ میں تمہارے ہوس کو توڑ پھوڑ ڈالوں گا ۔ 3۔ بت پرستوں کو معلوم تھا کہ یہ سب ابراہیم (علیہ السلام) کی کاروائی ہے ، اس لئے صاف ظاہر ہے کہ (آیت) ” بل فعلہ کبیرھم ھذا “۔ کہنے سے مقصد واقعہ کا اخفاء نہیں ، بلکہ ایک لطیف پیرائے میں کفار کو متنبہ کرنا ہے کہ بےوقوفو ! جو بت کہ قوت گویائی اور نطق سے محروم ہیں ، اور اپنی حالت زار بھی بیان نہیں کرسکتے ، وہ تمہارے خدا کیونکر ہو سکتے ہیں ؟ چناچہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ، کہ اس بڑے بت نے یہ کہا (ہوگا) اس سے پوچھ لو تو ان کی آنکھیں کھل گئیں ، اور ان کو غور کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ بت واقعی بیکار ہیں ، اور ان کی پرستش کھلی گمراہی اور ظلم ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض دفعہ معمولی بات بھی انسان محسوس نہیں کرتا ، مگر جب اس کو ذرا چونکا دیا جاتا ہے ، تو وہ غور سے اصل حالات کا مطالعہ کرتا ہے ، اور اپنی غلطی پر متنبہ ہوجاتا ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ اس حکیمانہ اصول نفسی سے واقف تھے ، اس لئے انہوں نے بہ طریق اصلاح اختیار کیا ، اور اس میں ان کو کامیابی ہوئی ، کون کہہ سکتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے یہ تو نہایت عقلمندی اور دانائی ہے یعنی تدبر وتدبیر ہے ۔ اب رہا یہ معاملہ کہ حدیث میں اس کو کذبات میں شمار کیا گیا ہے تو اس کے متعلق ذیل کے نکات غور طلب ہیں ۔ (1) ۔ کذب عربی میں جھوٹ کا بالکل مترادف لفظ نہیں ہے ، بلکہ ہر بات جو بظاہر خلاف واقعہ ہو ، مگر اس سے مقصود کوئی بلند چیز ہو اس پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ (2) ۔ حدیث میں کذبات کا ذکر باب معاریض میں ہے یعنی غرض مخالف کی سادگی سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ (3) ۔ حدیث میں ابراہیم (علیہ السلام) کے کذبات ‘ کا بیان اس طرح ہے کہ میدان حشر میں ان کو سفارش کرنے میں بدیں وجہ قاتل ہوگا ، کہ ان سے نیک نیتی کے ساتھ سے ان لغزشوں کا صدور ہوتا ہے گویہ واقعہ اور دوسرے دو واقعے جھوٹ نہیں ہیں ۔ مگر انبیاء کا مقام چونکہ خشیت وخوف اور پاکبازی کے لحاظ سے بہت بلند ہے ، اس لئے وہ ان واقعات کو بھی جھوٹ کے ساتھ ادنی مماثلت ہونے کے باعث اپنے لئے معیوب سمجھیں گے ، اور سفارش کی جرات نہ فرمائیں گے ، (4) ۔ حدیث بالکل صحیح ہے ، اس کا مقصد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کاذب ثابت کرنا نہیں ، بلکہ ان کے مرتبہ اتقاء کو ظاہر کرنا ہے ، اس لئے اس میں اور قرآن کی ان آیات میں قطعا تحالف نہیں ۔ حل لغات : فتی : نوجوان ، جوانمرد وصاحب کرم ۔
Ayahs 21:69–72

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے کہا ، اے آگ ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈک اور سل امتی ہوجا ۔ (ف 1) ۔

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے ساتھ فریب کا ارادہ کیا سو ہم نے انہیں کو زیاں کار کردیا ۔

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کو بچا کر اس سرزمین کی طرف بھیجا جس میں ہم نے سارے جہان کی برکت رکھی ہے ۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) بخشا ، اور یعقوب (علیہ السلام) انعام میں دیا ، اور سب کو نیک بخت کیا ،

ابراہیم (علیہ السلام) کا کامل ایمان : (ف 1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب بتوں کی تذلیل وتوہین میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا ، توبت پرستوں کے حلقہ میں کھلبلی مچ گئی ، انہوں نے بالاتفاق کہا ، بتوں اور دیوتاؤں کے خلاف اس قسم کا جہاد ناقابل برداشت ہے یہ بہت بڑا گناہ ہے ، اس کی سزا سوائے اس کے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ آگ میں جھونک دیا جائے ، اور کچھ نہیں ، چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں ، اس کو آگ میں ڈال دو ، الاؤ میں جھونک دو ، اور پھونک دو اگر اللہ کی مشیت کچھ اور تھی ادھر یہ انتظام ہو رہے تھے ، کہ توحید کی حمایت کی پاداش میں اللہ کے ایک بندے کو زندگی سے محروم کردیا جائے دوسری جانب رحمت ایزدی ان کی حماقت پر ہنس رہی تھی ، عین اس وقت جب معاندین کی تدبیریں بظاہر کامیاب ہوچکی تھیں ، اللہ کا فضل روئے کار آیا ، اور وہ الاؤ جو جہنم کی طرح منہ کھولے اس حامی حق کا منتظر تھا ، بردوسل امتی سے تبدیل ہوگیا ، اللہ کی رحمت کے چھینٹے اس طرح پڑے ، تمام آگ بجھ کر سرد ہوگئی ، دیکھنے اور غور کرنے کی یہ بات نہیں کہ اس تبدیلی وتحول کے اسباب پر بحث کی جائے ، بلکہ اہل دل کے لئے غور وتفحص کی بات یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں کس درجہ محکم اور مضبوط ایمان تھا ، اور انہیں کتنا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ تھا ، آگ میں کود پڑنا اہل معرفت کے لئے اس تلاش اور کرید سے کہیں اہم ہے ، کہ اس طبعی انقلاب کے اسباب وعلل دریافت کئے جائیں ، پھر یہ بھی بصیرت افروز شے ہے کہ اللہ تعالیٰ گو اپنے بندوں کو کڑی آزمائشوں میں ڈالتا ہے ، مگر رسوا نہیں کرتا ، مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایمان کا امتحان لیا جائے ، اور یہ معلوم کیا جائے ، کہ بندے کے دل میں مولا کے متعلق کس درجہ اعتماد ہے ۔
Ayahs 21:73–77

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور انہیں ہم نے امام بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم رکھنے اور زکوۃ دینے کی وحی بھیجی ‘ اور وہ ہماری بندگی میں لگے رہے تھے (ف 1) ۔

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو علم اور حکم دیا ، اور اس بستی سے جو گندے کام کرتی تھی ، اسے بچا نکالا ، اور وہ لوگ بد ، اور گنہگار تھے ۔

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور اسے ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا وہ نیک بختوں میں ہے ۔

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح کو یاد کر جب اس نے اس سے پہلے پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی ، پھر اسے اور اس کے اہل کو بڑی گھبراہٹ سے بچا لیا ،

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اس قوم پر مدد دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ، بیشک وہ بد لوگ تھے ، سو ہم نے ان سب کو ڈبو دیا ،

(ف 1) اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو لوگ اس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے لئے دنیا کی تمام لذتوں اور رشتوں کو قربان کردیتے ہیں ، وہ ان کو دنیا میں خیروبرکت کا بڑا حصہ دار بنا دیتا ہے ، اور ان کو عام دنیا داروں سے کسی طرح کم حیثیت میں نہیں رہنے دیتا ، چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ تیاگ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت سے نوازا اور اولاد صالح عطا کی ، جو سب کے سب منصب قیادت و امامت پر فائز ہوئے اور اس سے بڑھ کر اور کیا مسرت ہوسکتی ہے ، کہ ایک شخص اپنی اولاد کو اپنے سامنے کامیاب وکامران دیکھے اسی طرح ارشاد فرمایا کہ ہم نے لوط کو جو ابراہیم (علیہ السلام) کے رشتہ دار تھے ، نجات دی ، اور ایک نہایت بدبخت اور رسوا قوم سے مخلصی عنایت کی ، پھر نوح (علیہ السلام) نے جب پکارا اور قوم کی بدکرداری کے خلاف احتجاج کیا ، تو ہم نے اس کی بھی سنی ، اور تمام قوم کو جو نافرمان اور سرکش تھی فنا کے گھاٹ اتار دیا ، غرض یہ ہے کہ ہم اپنے بندوں کی دعاؤں کو ہر وقت سنتے ہیں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں ۔ حل لغات : نافلۃ : عطیہ خاصہ ۔ وہ شخص جو بہت زیادہ سخی ہو ، اسے نوفل کہتے ہیں ۔ ائمۃ : امام کے جمع ہے ، بمعنے پیشوا ۔ حکما : پیغمبرانہ فہم و ادراک ۔