20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsسراج البیان

Ayahs 20:77–84

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کو رات میں لے نکل ، پھر ان کے لئے دریا میں خشک خطرہ نہ کر ، (ف 1) ۔

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر فرعون اپنی فوج لے کر ان کے پیچھے ہو لیا ، تو گھیر لیا ان کو پانی نے جیسا گھیر لیا ،

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ بتائی ،

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ! تمہارے دشمن سے ہم نے تمہیں نجات دی ، اور کوہ طور سے داہنی طرف تم سے وعدہ کیا ، اور تم پر من وسلوی نازل کیا ۔

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

اچھی چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دین ، اور اس میں سرکشی نہ کرو ، کہ تم پر میرا غضب نازل ہو ، اور جس پر میرا غضب نازل ہوا ، وہی ٹپکا گیا ،

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور بیشک جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر ہدایت پائے میں میں اس کے لئے بڑا بخشنے والا ہوں ۔

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ (علیہ السلام) تونے اپنی قوم سے ایسی جلدی کیوں کی ،

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

بولا وہ میرے لئے پیچھے ہی ہیں اور اے میرے رب میں نے تیری طرف آنے میں اس لئے جلدی کی کہ تو راضی ہوجائے ۔

تائید غیبی کے سامان : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے ہر چندیہ کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو مگر اس نے نہ مانا ، اور چونکہ مقابلہ کی قوت نہ گھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے تائید کا سامان پیدا کردیا ، فرمایا تم بنی اسرائیل کو رات کی تاریکی میں ارض مصر سے نکال لئے جاؤ اور پھر دریا میں عصا مارو اور خشک ہوجائے گا اور تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے اس میں راستہ بن جائے گا جس کی وجہ سے بغیر پل کے عبو کرسکو گے ۔ فرعون کو جب معلوم ہو ا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر ارض مصر سے نکل بھاگنے کی کوشش میں ہیں ، تو اس نے اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ تعاقب کیا ، اور دریا میں گھوڑا ڈال دیا ، نتیجہ یہ ہوا کہ نہنگ امواج دریا نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا طعم بنایا ، اور موت کے گھاٹ اتار دیا ، بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم اللہ پر توکل کرکے کمر ہمت باندھ لیتی ہے تو باوجود بےسروسامانی کے اللہ اس کی اعانت فرماتا ہے اور غیب سے اس کے لئے غلبہ واقتدار کے سامان پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ دیکھ لیجئے وہ دریا جس نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو راستہ دیدیا وہ فرعون کے لئے مرگ وہلاکت کا سامان بن گیا ، اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ خدائی مدد موسیٰ (علیہ السلام) کے شامل حال تھی ، دریا کا پانی رک جانا اور اس میں راستہ بن جانا ، یہ بہ صورت معجزہ ہے ، عام حالات میں ایسا نہیں ہوتا ، مگر اللہ تعالیٰ جس نے دریا اور سمندر پیدا کئے ہیں اگر چاہے تو چشم زدن میں تمام سمندروں کو خشکی سے بدل دے اور لوہے کو پانی کر دے ، اس کی قدرت واستطاعت کے سامنے ہر چیز ممکن اور مطیع ہے ۔ ان آیات میں بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ دیکھو میں نے کس طرح تمہارے دشمن سے نجات دلائی اور کیونکر تمہاری تربیت کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر آنے کی دعوت کی پھر کن کن عنایات کے ماتحت تمہیں معیشت کے دھندوں سے آزاد رکھا ، تم پر من وسلوی نازل کیا ، تاکہ آزادی سے تم دین سیکھ سکو ، اور اللہ تعالیٰ کی ایک شاندار قوم بن سکو ، یہ عجیب بات ہے کہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ نے جس قدر عنایات کی بارش کی یہ لوگ اتنے ہی غافل رہے اور برابر سرکشی بڑھتی گئی ، ان نعمتوں کے اظہار کی ضرورت اس لئے پیش آئی ، تاکہ حضور ﷺ کے وقت کے یہودی اور عیسائی ان باتوں کو سمجھیں ، اور ان کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو جو بھیجا ہے تو ان کی رشدوہدایت کے لئے بھیجا ہے اور یہ بھی ان پر اللہ کا ایک مزید انعام ہے ۔ حل لغات : اسر : امر ہے اسرا کے معنی رات کو سفر کرنے کے ہیں یعنی راتوں رات نکال لے جاؤ ۔
Ayahs 20:85–93

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا ہم نے تو تیرے پیچھے تیری قوم کو آزمایا ، اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا (ف 1) ۔

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) غصہ میں بھرا ہوا غمگین اپنی قوم کی طرف لوٹا کہا اے قوم کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہ کیا تھا ؟ کیا تم پر مدت بڑھ گئی تھی یا تم نے یہ چاہا ، کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو ، کہ تم نے میرے وعدہ کے خلاف کیا ؟ ۔

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

بولے ہم نے اپنے اختیار سے تیرے وعدہ کا خلاف نہیں کیا ، مگر ہم پر قوم فرعون کے زیورات کے بوجھ لادے گئے تھے ، سو ہم نے وہ پھینک دیئے پھر اس طرح سامری نے (اس کو) ڈھالا ۔

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

پھر اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنانے کا لا وہ ایک دھڑ تھا جو گائے کی آواز دیتا تھا پھر وہ بولے یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے سو موسیٰ بھول کر چلا گیا ۔

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا ، اور ان کے نفع نقصان پر کچھ اختیار نہیں رکھتا ؟

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور پہلے انہیں ہارون (علیہ السلام) کہہ چکا تھا کہ اے قوم اس بچھڑے کے سبب تم بہکا دیئے گئے ہو اور تمہارا رب تو رحمن ہے سو تم میرے تابع رہو اور میری بات مانو ۔

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

بولے کہ ہم برابر اسی بچھڑے کے معتکف (مجاور) رہیں گے ، جب تک موسیٰ ہمارے پاس لوٹ کر آئے ،

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اے ہارون جب تونے ان کو دیکھا تھا کہ وہ گمراہ ہوئے تو جھ کو کس چیز نے روکا ۔

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

کہ تونے میری پیروی نہ کی کیا تونے میرے حکم کی نافرمانی کی ۔

سامری کا بچھڑا : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر پہنچے تو ان کے پیچھے بدبخت لوگوں کو موقع ملا کہ قوم میں گمراہی کے جراثیم پھیلائیں ، چناچہ سامری نامی ایک شخص نے ان کو مشورہ دیا کہ جو زیورات اور چاندی سونے کے ظروف تمہارے پاس ہیں ، وہ آگ میں ڈال دو ، انہوں نے اس کی بات مان لی ، اس نے کچھ اس طرح چاندی اور سونے کو پگھلا کر ایک قابل تیار کیا جو بچھڑے کی شکل کا تھا ، اور اس میں ہوا کے آنے جانے کی وجہ سے ایک قسم کی آواز پیدا ہوتی تھی بنی اسرائیل جو دماغی لحاظ سے بہت پست اور درماندہ تھے اور غالبا مصر میں گائے کی پرستش کے عادی بھی تھے سامری کے بھرے میں آگئے ، سامری نے کہا ، یہ تمہارا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا رب ہے ، تمہیں اس کی پرستش کرنا چاہئے وہ پرانے جذبہ گاؤ پرستی اور اس کرشمہ کی وجہ سے کہ سونے چاندی کا مرکب بول رہا ہے گمراہ ہوگئے ، اور گائے کے بچھڑے کو حقیقی خدا سمجھنے لگے ، موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تو وہ غضب وغصہ سے بھرے ہوئے واپس لوٹے ، اور قوم سے سختی کے ساتھ احتساب کیا کہ تم نے یہ کیا حرکت کی کہ بےجان قالب کی پوجا شروع کردی ، کیا اللہ کے وعدے کے ایفاء میں کچھ دیر ہوگئی تھی ، یا تمہیں عذاب الہی کی خواہش ہے انہوں نے ، اس فعل کی ساری ذمہ داری سامری پر عائد ہوتی ہے ، ہم نے اس کے کہنے کے موافق کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان احمقوں کو یہ بھی نہیں سوجھتا کہ خدا ہونے کے لئے صرف عجیب ونادر ہونا کافی نہیں ، بلکہ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کی ضروریات کو جانے ان کی پکار سنے اور قبول فرمائے انکو منافع وبرکات سے بہرہ مند کرے ، اور ان کے دشمنوں کو مغلوب رکھے ، یہ بچھڑا نہ انکی باتوں کو جواب دیتا ہے اور نہ کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے ، پھر کیونکر اس کو خدائی مسند پر فائز قرار دیا جائے ۔ بات یہ ہے کہ خدا وہ ہے جو ہماری تمام ضروریات سے آگاہ ہے ، جو دل کے بھیدوں کو جانتا ہے ، اور ہر آن ہمارا خیال رکھتا ہے ، وہ ایسی ذات بابرکت ہے جس کے نام سے دلوں میں سرور پیدا ہوتا ہے ، اور جو ہماری لئے ہر طرح موجب اطمینان اور راحت و سکون قلب ہے ، مگر مشرک ہیں ، کہ ان کی نظر ان معمولی حقائق تک بھی نہیں پہنچتی ، وہ ہر عجیب ونادر چیز کے سامنے جھک جاتے ہیں ، اور یہ نہیں سمجھتے کہ خدائی کا تخیل کس درجہ بلند وارفع ہے ۔ حل لغات : فتنا : آزمائش میں ڈال دیا ، یعنی آزمائش کا ایک موقع پیدا کردیا ، اسی لئے گمراہی کا انتساب سامری کی جانب کیا ہے ۔ واضلھم السامری : یعنی سامری نے ان کو بہکا دیا ہے ۔ اوزارا : جمع وزر ، بمعنی بوجھ ۔ بنی اسرائیل چاندی سونے کے زیورات بجائے خود اپنے ساتھ لے آئے تھے اب چونکہ وہ ان تمام باتوں کو چھوڑ چکے تھے اور جنگل میں آباد تھے اس لئے ان زیورات کو غیر ضروری بوجھ قرار دیا ، اور آسانی سے اضاعت پر راضی ہوگئے ۔
Ayahs 20:94–95

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

بولا اے میری ماں کے بیٹے میری ڈاڑھی اور میرا سر نہ پکڑ ، میں ڈرا کہ تو کہے گا ، کہ تونے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈالی ، اور میری بات یاد نہ رکھی (ف 1) ۔

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) بولا ، اے سامری تیرا کیا حال ہے ؟

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی غیرت دینی : (ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) قوم کی اس بت پرستی کی حرکت سے سخت طیش میں تھے ، فرط غضب میں انہوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) سے بھی سختی کے ساتھ باز پرس کی اور کہا کہ تم نے یہ سب کچھ کیوں اپنے سامنے ہونے دیا یہاں چند باتیں قابل غور ہیں ۔ 1۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طبیعت میں فطرتا سختی تھی ، اور ایسا ہونا ضروری بھی تھا کیونکہ مقابلہ فرعون سے تھا ، اور اس کی قوم کے جبارہ سے ۔ 2۔ یہ غضب ذاتی طور پر نہ تھا ، بلکہ دین کے مقابلے میں محض اللہ کی محبت کے جوش سے تھا ، 3۔ واقعات اسی نوع کے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسے پیغمبر کا غصہ سے بےتاب ہوجانا بالکل اضطراری تھا ، کیونکہ انہوں نے بڑی مشکلوں سے بنی اسرائیل کو فرعون کے چنگل سے نکال کر یہاں رکھا تھا تاکہ یہ گمراہی کے اثرات سے محفوظ رہیں ، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ یہاں بھی یہ لوگ محفوظ نہیں رہے ، اور ساری محنت اکارت گئی تو غصہ سے بھڑ اٹھے ۔ 4۔ موسیٰ (علیہ السلام) جہاں پیغمبر تھے ، وہاں انسان بھی تھے ، اور بشری تقاضے اور داعی ان میں موجود تھے ۔ ان حقائق و حالات میں اگر انہوں نے ہارون (علیہ السلام) کی ڈاڑھی پکڑ لی اور بظاہر اولیا انداز میں تخاطب فرمایا تو بالکل طبعی اور قدرتی امر تھا ۔ اس جواب طلبی میں ہارون (علیہ السلام) نے جو ارشاد فرمایا ، وہ سننے کے قابل ہے ، کہتے ہیں میں نے زیادہ زور کے ساتھ اس لئے ان لوگوں کو گوسالہ پرستی سے نہیں روکا ، کہ ان میں تفریق نہ پیدا ہوجائے گویا ہارون (علیہ السلام) کی نظر میں اختلاف وتشتت کا مرض شرک کے مرض سے بھی زیادہ خطرناک اور ہولناک ہے ، انہوں نے یہ تو گوارا کرلیا ، کہ ایک جماعت کی جماعت گمراہی کے عقیدے پر جمی رہے ، مگر یہ گوارا نہیں کیا کہ قوم میں اختلاف پیدا ہو اور قوم دو گروہوں میں تقسیم ہوجائے ، کیونکہ ان کو یقین تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آجانے کے بعد شرک توحید سے بدل سکتا ہے ، اور قوم پھر ایک خدا کی پرستار بن سکتی ہے مگر شاید یہ مشکل ہو کہ دو گروہوں میں بٹی ہوئی جماعت پھر سلک وحدت میں منسلک ہو سکے ، کیا ہمارے افتراق انگیز علماء اس حقیقت پر غور فرمائیں گے : حل لغات : لن نبرح : مابرح اور ماذال ایک ہی قبیل سے ہیں ۔ فما خطبک : خطب بمعنی حالت یہاں مقصود یہ ہے کہ تمہارا عذر کیا ہے ۔
Ayahs 20:96–98

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

وہ بولا میں نے وہ کچھ دیکھا جو ان اسرائیلیوں نے نہ دیکھا پھر میں نے اس رسول (جبریل) کے نقش قدم میں سے ایک مٹھی خاک اٹھالی ، وہ میں نے (بچھڑے کی پیٹ میں) ڈالدی اور میرے جی نے مجھے یہی صلاح دی (ف 1) ۔

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰ بولا ، چلا جا ، تیری سزا اسی زندگی میں یہ ہے ، کہ تو (ہر کسی کو) کہے گا کہ مجھے نہ چھوؤ ، اور تیرے لئے ایک وعدہ ہے ، جو تجھ سے خلاف نہ ہو (یعنی عذاب قیامت) اور اپنے معبود کو دیکھ ، جس پر تو مجاور ہو بیٹھا تھا ، ہم اس کو جلا دیں گے ، پھر اسے دریا میں بکھیر دیں گے ۔

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود صرف وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہر شئے اس کے علم میں شمار ہی ہے ۔

(ف 1) سامری نے جو یہ قصہ سنایا ہے کہ میں نے جبریل (علیہ السلام) کے نقش قدم کو دیکھ لیا تھا ، اور ایک مٹھی مٹی وہاں سے اٹھالی تھی اور اس قالب میں ڈال دی تھی ، تاکہ اس میں آواز پیدا ہوجائے ، یا تقدیس آجائے ، یہ محض اس کا اپنا وہم تھا ، جیسا کہ اس نے خود تصریح کردی ہے کہ میرے نفس نے مجھے یونہی سمجھا دیا تھا ، ورنہ قرآن حکیم نے اس بات کی صراحت نہیں فرمائی کہ اس مٹی کی وجہ سے اس میں آواز پیدا ہوگئی تھی ، نہ قرآن میں یہ مذکور ہے کہ جبرئیل کے نقش پا میں یہ تاثیر ہے ۔ ابو مسلم اصفہانی نے ” بصرت “ کے معنی علم کے لئے ہیں ، اور فقبضت قبضۃ من اثر ال رسول “۔ کے معنے سنت موسیٰ کی پیروی کے قرار دیئے ہیں ، ترجمہ یہ ہوگا کہ سامری نے کہا کہ میں نے معلوم کیا کہ یہ لوگ راہ راست پر نہیں ہیں ۔ اس لئے میں نے آپ کی اطاعت کی اور آپ کی پیروی اختیار کی پھر چھوڑ دی اور گؤسالہ پرستی کی طرح ڈالی ۔ حل لغات : ان تقول لا مساس : یعنی تمہاری حالت ایسی ہوجائے گی ، کہ لوگ تم سے نفرت کریں گے ، اور قریب نہیں بھٹکنے دیں گے ، بنی اسرائیل کو گمراہ کرنے کی سزا اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ دی کہ باقی عمر لوگوں سے جدا رہا ، کیونکہ قدرت نے اس کے بدن میں ایسا مادہ پیدا کردیا ، کہ وہ جس کو ہاتھ لگاتا یا کوئی اس کو چھوٹا ، تو جس کو ہاتھ لگایا جاتا ، اور چھونے والا دونوں بخار میں مبتلا ہوجاتے ، یہ تو صرف دنیا کے عذاب کی کیفیت تھی ، عقبے کا عذاب اس کے سوا رہا ۔
Ayahs 20:99–103

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

گزشتہ خبروں میں سے ہم تجھے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوں قصہ سناتے ہیں ، اور ہم نے تجھے اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب ) دی ہے (ف 1) ۔

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو اس سے منہ موڑے وہ قیامت کے دن ایک بوجھ اٹھائے گا ،

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

اور اس بوجھ میں ہمیشہ رہے گا ، اور قیامت کے دن ان کے لئے برا بوجھ ہے ۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس دن نرسنگا پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو نیلی آنکھیں کرکے اٹھائیں گے ۔

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

وہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ تم تو صرف دس روز (دنیا میں) رہے تھے ۔

دنیا کی جامع ترین کتاب : (ف 1) قرآن حکیم میں کمال یہ ہے کہ اس میں رشد واصلاح کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا گیا ، ہر نوع اور ہر قسم کے دلائل بیان کئے گئے ہیں آپ دیکھیں گے کہ کہیں فلسفیانہ براہین کا انبار ہے ، کہیں فطرت کے عجائبات سے استشہاد ہے ، کہیں یہ کہا گیا ہے کہ خود اپنے نفسیات کا مطالعہ کرو ، اور دل کی گہرائیوں کو دیکھو اور کہیں دنیا کے اہم اور مفید البیان واقعات گنائے ہیں ، اخلاق ومعاشرت کی تفصیلات جدا ہیں اور حکم ونصائح کا ذکر ، علیحدہ عقائد کے مسائل بھی ہیں ، اور اقوام وامم کے حالات بھی یہی وجہ ہے کہ جامعیت کے اعتبار سے قرآن کا پایہ کائنات کے تمام صحیفوں سے کہیں بلند ہے ۔
Ayahs 20:104–108

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہیں گے جب ان میں اچھی راہ والا شخص بولے گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے تھے (ف 2) ۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور پہاڑوں کی بابت تجھ سے پوچھتے ہیں ، تو کہہ میرا رب انہیں اڑا کر بکھیر دے گا ۔

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

پھر زمین کو صاف میدان کو چھوڑے گا ،

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

تو زمین پر کوئی ٹیلا اور موڑ نہ دیکھے گا ۔

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس دن سب لوگ بغیر اس کے کہ ادھر ادھر کو مڑیں پکارنے والے کے پیچھے ہوں گے ، اور رحمن کیلئے آوازیں پست ہونگی ، سو تو سوائے نرم کھس کھسی آواز کے اور کچھ نہ سنے گا ۔

(ف 2) جو لوگ یہاں تن آسانیوں میں الجھل کر رہ جاتے ہیں اور مادیت میں اس درجہ پھنس جاتے ہیں ، کہ قرآن کی آواز پر کان نہیں دھرتے ایک وقت آئے گا ، جب وہ پچھتائیں گے ، ان کی پشت عذاب کے بوجھ سے جھک جائے گی اور یہاں کے تمام تکلفات کی اس وقت حقیقت کھلے گی ، (آیت) ” یوم ینفخ “۔ سے مراد یہاں دوسری دفعہ صور پھونکنا ہے ، اس وقت تمام لوگ اللہ کی حکمت وقدرت سے جی اٹھیں گے ، قرآن وحدیث کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ دو دفعہ یہ صور پھونکا جائے گا ، ایک اس وقت جب اللہ کو یہ منظور ہوگا ، کہ دنیا کا خاتمہ کر دیاجائے اور ایک اس وقت جب دوبارہ دنیا والے زندہ کئے جائیں گے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نفخ صور میں یہ تاثیر رکھی ہو ، کہ وہ ایک وقت تو کائنات کی موت اور دوسرے وقت مخلوق کی زندگی کا موجب ہو سکتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محض ایک اعلان اور تنبیہ ہو اور براہ راست زندگی اور موت میں اثر انداز نہ ہو ، بہرحال یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی چیز محال نہیں ، یہ تخلیق وامانت کے مختلف طریقے اللہ کے شؤن مختلفہ میں سے محدود لے چند ہیں ، ورنہ اصل بات یہ ہے کہ وہاں مطلقا ارادہ کی ضرورت ہے ، وسائل وذرائع بالکل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں جب وہ کسی چیز کو پیدا یا ناپید کرنا چاہتا ہے تو اس کے ارادہ میں جنبش ہوتی ہے اور وہ چیز موجود ہوجاتی ہے ، یا یک قلم ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد احوال قیامت کا بیان ہے اور یہ بتایا ہے کہ انسانی علم کس درجہ ناقص ہے جب سب لوگ دوبارہ زندہ ہوں گے تو یہ لوگ مختلف قیاس آرائیاں کریں گے ، کوئی کہے گا ہم دس روز تک عالم برزخ میں رہے ، اور کوئی کہے گا کہ صرف ایک دن رہے ہیں ۔ اور یہ کہنے والا اپنے زعم میں سب سے زیادہ صائب الرائے اور عقلمند ہوگا ۔ حل لغات : حملا : بوجھ یا بار ۔ زرقا : زرق کی جمع ہے (نیلی آنکھوں والے) عربوں میں نیلی آنکھوں والا منحوس شمار ہوتا تھا ، اور اس کے معنے اندھے کے بھی ہیں ۔ امثلھم : ان میں سے بہترین آدمی (عاقل وہوشمند) ۔
Ayahs 20:109–112

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس دن شفاعت کام نہ آئے گی ، مگر جسے رحمن نے اذن دیا ، اور اس کی بات پسند آئی (ف 1) ۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو آدمیوں کے آگے اور پیچھے ہے ، اور آدمی خدا کو علم کی رو سے نہیں گھیر سکتے ۔

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور زندہ ہمیشہ رہنے والے کے آگے منہ جھکے ہوئے ہونگے اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا ، وہ نامراد ہوا ۔

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جس نے مومن ہو کر نیک عمل کئے ، اسے نہ بےانصافی کا ڈر ہوگا ، اور نہ کسی کے دبانے کا (خوف) ہوگا ،

(ف 1) ان آیات میں مسئلہ شفاعت ذکر کرکے اللہ کی وسعت علمی اور قدر مطلق کا اظہار فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ اس کی ذات ہمہ دان ہے ، کوئی چیز اور کوئی جگہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ، بااقتدار ہے ایک وقت آئے گا ، جب کہ تمام جبینیں اس کے سامنے جھکی ہونگی ، کسی شخص کو لب کشائی کی جرات نہ ہوگی ، وہ جو چاہے گا ، ضرور ہوگا جو کرے گا عین معدات و انصاف قرار پائے گا اس لئے وہ لوگ جو اس کے احاطہ علمی کی وسعتوں سے آگاہ نہیں ہیں ، اور اس کے سامنے جرائم ومظالم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ اس دن نامرادی اور ناکامی سے دوچار ہوں گے ۔ حل لغات : قاعا صفصفا : صاف اور ہموار میدان : امتا : بلندی ۔ الحی القیوم : زندگی اور حیات کا منبع اصلی اور تمام کائنات کے قائم اور باقی رکھنے والی ذات : علماء طبعیات حیران وسرگردان ہیں کی مادہ میں زندگی کہاں سے آگئی کیونکہ اس میں تو سوائے اشکال وصنور کی قبولیت کے اور کسی قسم کی استعداد موجود نہیں ، یہ خیال کہ زندگی جسم کی موزون ترکیب کا نام ہے ، اب غلط ثابت ہوچکا ہے ، علم الحیوانات کے ماہرین نے ایسے حشرات دریافت کئے ہیں جن کی ترکیب بالکل سادہ اور بسیط ہے مگر حیات اور زندگی ان میں موجود ہے ، قرآن حکیم یہ کہہ کر علماء طبیعات کی حیرانی دور کردیتا ہے ، کہ یہ تمام زندگی ’ حی “ یعنی خدائے زندہ کی طرف سے ہے اسی نے حیات کو پیدا کیا ہے اور وہی جب تک چاہتا ہے اسے باقی رکھتا ہے ۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور یوں ہم نے تجھ پر عربی زبان میں قرآن اتارا ہے اور اس میں ان باتون کو جن سے ڈر پیدا ہو بار بار دہرایا ہے ، شاید وہ ڈریں ، یا قرآن ان کے دل میں غور وفکر پیدا کرے (ف 1) ۔

(ف 1) یعنی قرآن حکیم میں وعید اور عذاب کی تفصیلات اس لئے بیان کی گئی ہیں تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں ذرہ بھر بھی اثر پذیری کی استعداد موجود ہے وہ خشیت الہی سے قلب کو معمور کرلیں ، اور اس دنیا میں اللہ کی رضاء کو حاصل کریں ۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو اللہ جو سچا بادشاہ ہے بڑا بلند مرتبہ ہے اور قرآن پڑھنے میں (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبل اس کے کہ تیری طرف اس کی پوری وحی نازل ہو ، جلدی نہ کر اور کہہ کہ اے میرے رب مجھے اور زیادہ علم دے (ف 2) ۔

تفہیمات قرآن بھی منزل من اللہ ہیں !: (ف 2) جس طرح قرآن منزل من اللہ ہے اور منشاء الہی کا ترجمان ہے اسی طرح اس کی تفصیلات جو قلب پیغمبر اور افق نبوت سے جلوہ گر ہوتی ہیں ، منزل من اللہ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو تمام ضروری تفصیلات ووضاحت کے ساتھ نازل فرمایا ہے ، چناچہ اس آیت میں اسی حقیقت باہرہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب قرآن نازل ہو تو اس کے جاننے میں جلدی نہ کیجئے جب تک کہ تفصیلات کا انکشاف نہ ہوجائے ، اور وحی کے مقاصد تمام نہ ہوجائیں ، اور ہمیشہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ فہم قرآن میں زیادہ سے زیادہ برکت عنائیت فرمائے پیغمبر جو عصر نبوت میں تمام لوگوں سے زیادہ عالم ہوتا ہے جس کی معلومات براہ راست مشکوۃ قدس سے مستنیر ہوتی ہیں ، ان پر اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے ، کہ وسعت علمی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہو ، اور کسی منزل پر بھی قناعت اختیار نہ کرو ، جس کے صاف صاف معنے یہ ہیں کہ نفس علم کی پہنائیاں بیحد وسیع ہیں ، اور کسی شخص کے اختیار میں نہیں کہ وہ پورے علم کا احاطہ کرسکے ، ہاں یہ ضروری ہے کہ شوق تحصیل بڑھتا رہے ، اور کاروان طلب راستے میں کہیں قیام نہ کرے ۔