20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsسراج البیان

Ayahs 20:39–43

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

یہ کہ لڑکے کو صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈال دے ، پھر دریا اس کو کنارہ پر ڈال دے گا ، موسیٰ (علیہ السلام) کا اور میرا دشمن اسے اٹھا لے گا اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت ڈالی ، اور تاکہ تو میری آنکھ کے سامنے پرورش پائے (ف 1) ۔

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تیری بہن جا رہی تھی اور کہتی تھی میں تجھے ایک شخص بتاؤں جو اس لڑکے کو پالے ، پھر ہم تجھے تیری ماں کی طرف لے آئے ، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائے اور تونے ایک شخص کو قتل کیا اور ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور جانچا ہم نے تجھ کو ایک ذرا سا جانچنا ، پھر تو اہل مدین میں کئی برس رہا ، پھر تو اسے موسیٰ (علیہ السلام) (اس وادی میں) تقدیر کے موافق آپہنچا ۔

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا ۔

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تو اور تیرا بھائی معجزے لے کر جاؤ ، اور میری یاد میں تم دونوں سستی نہ کرو ۔

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ اس نے سراٹھا رکھا ہے ۔

(ف 1) ام موسیٰ کی جانب وحی کے معنی یہ ہیں کہ بذریعہ الہام ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا میں صندوق میں رکھ کر بہا دو ، وہ امن وسل امتی کے ساتھ حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل تک پہنچ جائے گا ، اور دشمنوں کے ہاں تربیت حاصل کرے گا ، ام موسیٰ کا ایمان ملاحظہ ہو کہ لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے دریا میں پھینک رہی ہیں کتنا زبردست عقیدہ ہے کس قدر محکم یقین ہے کہ نتائج سے بےپروا ہو کر اپنے بیٹے کو دریا کی موجوں کے سپرد کر رہی ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ کی عنایت دیکھئے کہ اس نے ام موسیٰ (علیہ السلام) کے تقویت ایمان کے ثمرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شاہی محلات میں پہنچا دیا ، اور تربیت کے لئے یہ سامان کیا ، کہ ماں ہی کو دودھ پلانے کی خدمت سونپی گئی ، جو لوگ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ ہی طرح حیرت انگیز طور پر ان کی مد فرماتا ہے ، (آیت) ” ثم جئت علی قدر یموسی “۔ سے غرض یہ ہے ، کہ ابتدائی تمام منزلیں طے کر چکنے کے بعد اب تم اس انداز خاص تک پہنچ گئے ہو ، جہاں ضرور ہے کہ تمہیں اپنی خدمات کے لئے مختص کرلیا جائے ۔
Ayahs 20:44–46

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

سو اس سے نرمی سے بات کرو ، شاید وہ سوچے یا ڈرے (ف 1) ۔

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں بولے کہ اے ہمارے رب ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر تعدی کرے یا جوش میں آئے ،

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا ، ڈرو نہیں ، میں تم دونوں کے ساتھ ہوں ، سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں ۔

شیریں گفتار ہونا مبلغ کیلئے ضروری ہے : (ف 1) فرعون کے پاس بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جو نصیحتیں ارشاد فرمائی ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ وہ آج کل کے علماء کو آب زر سے لکھ لینا چاہئے ارشاد ہوتا ہے ، کہ دیکھنا میری یاد سے غافل نہ ہوجانا ، اور ہر وقت عبودیت اور نیاز مندی کے تعلقات کو قائم رکھنا کیونکہ یہی چیز ہے جس سے دلوں میں پاکیزگی موجود رہتی ہے اور انسان دنیا کی تمام لذتوں کو آخرت کے مقابلہ میں حقیر سمجھتا ہے ، ذکر وشغل کی برکات سے روح میں نزہت وتواناہی پیدا ہوتی ہے اور دل و دماغ مجلے اور روشن ہوجاتے ہیں یہی وہ اکسیر ہے جس کے باعث چہروں پر نور اور قلب میں سرور موجزن ہوتا ہے ، اور یہی وہ کبریت احمر ہے جس سے بہرہ ور ہونے والا انسان حقیقتا نہایت خوش قسمت انسان ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون چونکہ ایک بہت بڑی مادی قوت سے نبرد آزما ہونے کے لئے جا رہے ہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ ان میں اسی تناسب سے روحانیت ہو ، اور فرعون کے عساکر کے مقابلہ میں ان کے پاس بھی اللہ کی زبر دست اعانت موجود ہو ، علماء اور راہنمایان دین کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ وہ بھی اللہ کے اس ارشاد کو نہ بھولیں ، اور مقام اصلاح پر جلوہ فرما ہونے سے پہلے صالح ، نیک اور خدا پرست انسان بننے کی کوشش کریں ، اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ جب کبر و غرور کے اس مجسمہ کے پاس جاؤ جس کا نام فرعون ہے ، تو نہایت دفق وملاطفت سے پیش آنا ، حلاوت اور شیرینی سے باتیں کرتا ، تاکہ اس کے دل میں اثر پیدا ہو سکے اور اس کی قساوت قلبی پر خشیت الہی غالب ہوجائے ، یہاں ذرا ملاحظہ کیجئے ، فرعون کے مقابلہ میں جو جابر ہے ، ظالم ہے ، اور بدرجہ اتم سرکش ہے ، اپنے پیغمبر کو اخوت اور ملاطفت کی تلقین کی جارہی ہے ، سوچئے اور بتائیے ہمارے علماء اور قدسیان طریقت کا رویہ عام مسلمانوں کے مقابلہ میں کیا ایسا ہی ہے ؟ وہ مسلمان جو کلمہ گو ہیں ، خدا کو ایک مانتے ہیں ، اور فروتنی و انکسار سے رہنا اپنے لئے فخر جانتے ہیں ، ان کی ادنی کوتاہیوں اور لغزشوں پر ہمارے علماء اور مرشدین کس خشونت اور درشتی سے پیش آتے ہیں ؟
Ayahs 20:47–49

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

سو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم دونوں تیرے رب کے وہ رسول ہیں سو تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیجدے اور انہیں نہ ستا ، ہم تیرے رب کے پاس سے نشانی لیکر تیرے پاس آئے ہیں اور سل امتی اس کی ہے جو ہدایت کا پیرو ہے ۔ (ف 2)

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہم پر وحی آئی ہے کہ جو کوئی جھٹلائے اور منہ موڑے اسی کو عذاب ہوگا ۔

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

وہ بولا ، اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ،

(ف 2) فرمایا فرعون سے جا کر بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرو ، اس سے کہو ، ہم اللہ کے رسول ہیں ، اور اس بات پر مامور ہیں کہ بنی اسرائیل کی غلامی اور رقیت کو آزادی اور حریت سے بدل دیں اب تمہیں زیبا نہیں ، کہ مزید تکلیفات اور عذاب میں ہماری قوم کو مبتلا رکھو ہم تمہارے پاس معجزات اور خوارق لے کر آئے ہیں ، سل امتی اور بہبودی اسی میں ہے کہ ہدایت ورشد کو قبول کرلو ، اور ان مظالم سے باز آجاؤ ۔ حل لغات : طغی : سرکش ہوگیا حدود فطرت سے آگے بڑھ گیا ۔
Ayahs 20:50–58

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی (مناسب) صورت عطا فرمائی ، پھر اسے ہدایت فرمائی (ف 1) ۔

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

بولا پہلی امتوں کا کیا حال ہے ؟ ۔

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا ان کا علم میرے رب کے پاس کتاب میں ہے میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے ۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے سڑکیں چلائیں اور آسمان سے پانی اتارا سو اس سے ہم نے مختلف اقسام کی سبزی بوٹی نکالی ۔

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھاؤ اور اپنے چار پائے چراؤ ، بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے ۔ اور اس میں سے دوسری بار تمہیں نکالیں گے ۔

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو اپنے کل معجزے دکھائے سو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا ۔

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

بولا اے موسیٰ کیا تو اس لئے آیا ہے کہ اپنے جادو سے ہمیں ہماری زمین سے نکالے ؟ ۔

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

سو ہم بھی تیرے پاس ایک ایسا ہی جادو لائیں گے تو تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک صاف میدان میں ایک جگہ وعدہ گاہ مقرر کر کہ اس کے خلاف نہ کریں نہ ہم اور نہ تو ۔

(ف 1) حکومتوں کی ہمیشہ یہ ذہنیت رہی ہے کہ محکوموں کو غیر متعلق مسائل میں الجھا دیا جائے ، اور اصل مطالبہ سے ان کی نگائیں پھیر دی جائیں ، چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے جب فرعون سے کہا ، کہ ہم تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول مقرر ہو کر آئے ہیں ، اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ کر دو ، تو اس نے بجائے اس کے کہ اصل مطالبہ کے متعلق کچھ جواب دے یہ کہا کہ تمہارا پروردگار کون ہے ؟ میں تو ابھی تک یہی نہیں جان سکا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت حکیمانہ جواب دیا کہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ، اور پھر ہر چیز کے فرائض علم و انصاف سے مرتب کئے ، اور تم ہو کر باوجود فرعونی الوہیت کے بنی اسرائیل پر مظالم ڈھا رہے ہو ، اس کے بعد اس نے سوالات کا رخ دوسری طرف پھیر دیا ، کہنے لگا ، تو تمہارے خیال میں پہلے سب لوگ گمراہ تھے ؟ آخر جب تم نہیں آئے تھے ، اس وقت لوگوں کے پاس اللہ کا کونسا پیغام تھا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب دیکھئے کتنا جچا تلا ہے ، کہ اس کے بعد کچھ کہنے سننے کی گنجائش نہیں رہی فرمایا گذشتہ قوموں کے حالات اللہ کو معلوم ہیں ، اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ ومستتر نہیں ، غرض یہ تھی کہ فرعون غیر متعلق ، بحثوں میں الجھا نہ سکے ایسے جامع اور معقول جواب دئیے کہ اس کو اصل مسئلہ کی طرف متوجہ ہونا پڑا ۔ حل لغات : القرون الاولے : پہلی قومیں ، گذشتہ زمانے کے لوگ ۔ لا یضل ربی ولا ین سے : میرا پروردگار نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ۔ لا ولی النھی : نھیۃ کی جمع معنے عقل والوں کے لئے ۔
Ayahs 20:59–61

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

کہا تمہارا وعدہ گاہ جشن کا دن ہے اور یہ کہ سب لوگ پہر دن چڑھے جمع ہوں (ف 1) ۔

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

پھر فرعون واپس لوٹا پھر اپنا فریب جمع کیا ، پھر باہر آیا ،

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا کمبختی تمہاری خدا پر جھوٹ نہ باندھو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں عذاب کے ساتھ ہلاک کرے ، اور جس نے جھوٹ باندھا ، وہ نامراد ہوا ۔

جادوگروں سے مقابلہ : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی معقول اور مسکت بحث سے مجبور ہو آخر فرعون نے اصل سوال کی جانب توجہ منعطف کی ، مگر عجیب تلبیس اور چالاکی سے کہنے لگا اچھا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے شہروں سے نکال باہر کرو ، ہم اس مقابلہ کے لئے تیار ہیں ، ایک دن مقرر کر دو ، ہم بھی اپنے جادوگر بلاتے ہیں ، اس دن مقابلہ ہوجائے گا ، اور معلوم ہوگا ، کہ کون زیادہ کامیاب اور فتحیاب ہے ۔ موسی (علیہ السلام) نے اس خیال سے کہ اسے معلوم تو ہو کہ جادو کی حقیقت کیا ہے ، اور معجزہ وسحر میں کیا فرق ہے ، اس اعلان مبازرت کو قبول فرما لیا اور کہا یوم الزینہ کو تم آجانا میلہ کی وجہ سے لوگوں کا ہجوم بھی ہوگا اور بھرے مجمع میں اس حقیقت کے اظہار کا موقع ملے گا کہ تائیدات غیبی کس کے ساتھ ہیں یوم الزینہ سے مراد وہ دن ہے جس روز قبطی اور اسرائیلی ، یا صرف قبطی سج دھج کر جشن مناتے تھے قرآن میں اس دن کی تعین موجود نہیں ، حضرت ابن عباس ؓ کا خیال ہے کہ عاشوراء کا دن تھا ، فرعون کی ستم ظریفی دیکھئے کہ آزادی و استقلال کے مطالبہ کو کس غلط رنگ میں دیکھتا ہے ، بات صرف اتنی ہے کہ بنی اسرائیل غلام ہیں ، مظلوم ہیں چار سو سال سے نہایت ذلیل زندگی بسر کر رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا ، کہ وہ ان کی غلامی کی زنجیریں کاٹ دیں ، فرعون یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کوششیں ہمیں ہمارے املاک سے محروم کرنے کے لئے ہیں ، اور آزادی و استقلال بجائے خود کوئی چیز نہیں ۔ حل لغات : موعدا : ظرف زمان ومکان دونوں کے لئے آتا ہے ، کیدہ تدبیر ، مکر ۔
Ayahs 20:62–67

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پھر وہ اپنے معاملے میں باہم جھگڑے اور پوشیدہ مشورہ کیا (ف 1) ۔

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

بولے ، بیشک یہ دونوں جادوگر ہیں ، ان کا ارادہ ہے کہ تمہیں اپنے جادو کے زور سے تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارا دین جو اشرف ہے موقوف کردیں ۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

سو تم اپنا فریب جمع کرو ، پھر صف باندھ کر آؤ اور جو غالب آیا ، وہی جیتا ۔

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یا تو ڈال ، یا ہم پہلے ڈالیں ۔

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

کہا نہیں تم ڈالو ، پھر تب ہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں انکے جادو سے موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں دوڑتی ظاہر ہوئیں ۔

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

سو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے دل میں ڈر پانے لگا ۔

(ف 1) جب فرعون اپنے جادوگروں اور لشکر کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں آگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے واعظانہ طور پر فرمایا کم بختو ، حقیقت وصداقت کے پیغام کو سحر وجادو سے تعبیر کر کے کیوں اللہ پر بہتان باندھتے ہو ، کیا تمہارے دلوں میں خوف موجود نہیں ، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ یاد رکھو اگر تمہارے تمرد کا یہی عالم رہا ، تو نیست ونابود کردیئے جاؤ گے ، ان لوگوں نے یہ باتیں سنیں ، اور آپس میں اختلاف رائے کا اظہار کرنے لگے ، اور بالآخر اسی بات پر جمع ہوگئے جس کو فرعون نے ان میں پھیلایا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) دو جادوگر ہیں ، جو چاہتے ہیں کہ قبطیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیں ، اور ان کی روایات سے ان کو پلٹ دیں ، آخر اس بات پر اتفاق ہوا ، کہ سب لوگ پوری تیاری کرکے صف آراء ہوں تمام تدبیریں حق کو سرنگوں کرنے کے لئے صرف کردیں ، اور پوری قوت کے ساتھ باطل کا مظاہرہ کیا جائے ، معلوم ہوتا ہے ، فرعون کے زمانہ میں سحر وجادو کا بہت زور تھا اور مذہبی راہ نما عموما شعبدہ باز اور کرشمہ ساز ہوتے تھے جو سادہ لوح قبطیوں اور اسرائیلیوں کو گمراہ کرتے ، ابتداء جب انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی مسند رشد و ہدایت پر فائز دیکھا ، تو انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ بھی کاہن یا جادوگر ہیں ، کیونکہ ان کے زمانے میں اس قماش کے لوگ ہادی اور مذہبی قائد خیال کئے جاتے تھے ۔ حل لغات : ان ھذن : میں اصحاب نحو وادب نے بیسیوں صورتیں پیش کی ہیں ، مگر سب نوع کے حجابات میں الجھن کو دور نہیں کرتے ، کہ آخر قرآن میں اس غیر مانوس انداز کو کیوں اختیار کیا گیا ، تفصیلات کا یہ مقام نہیں یوں سمجھ لیجئے ، کہ ہر آیت میں کی ایک موسیقی ہوتی ہے ، اور اس آیت کی صوتی مناسبت کا تقاضا یہ تھا کہ ھذن پر ان اثر انداز نہ ہو تاکہ آیت کی موسیقی قائم رہے اور یہ کمال بلاغت ہے ۔ حبالھم : رسے ، حبل کی جمع ، عستہم ، عصاء کی جمع ہے ۔
Ayahs 20:68–69

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا مت ڈر ، تو ہی غالب رہے گا (ف 1) ۔

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے ڈالدے ، کہا ان کی صنعت کو نگل جائے ، جو انہوں نے بنایا ہے وہ تو جادوگر کا فریب ہے ، اور جہاں جادوگر آتا ہے ، نامراد رہتا ہے ۔

معجزہ اور جادو کا مقابلہ : (ف 1) میدان مقابلہ میں دونوں قومیں جمع ہوگئیں ، اور انتظار کیا جانے لگا کہ دیکھیں کون غالب رہتا ہے ، جادوگروں نے ابتداء کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ، یا تو آپ کچھ ڈالئے ، یا ہماری کرشمہ سازیاں دیکھئے موسیٰ (علیہ السلام) نے جوابا کہا ، پہلے جو کچھ تمہارے پاس ہے ، اس کا اظہار ہوجائے ، اس کے بعد میں بھی اپنی طرف سے کچھ پیش کروں گا دونوں حریف اپنی اپنی جگہ پر مطمئن تھے ، اس لئے اس تقدم وتاخر کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ، اور مقابلہ کا آغاز ہوگیا ، جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسے پھینکے ، تو وہ ایسے دکھائی دینے لگے کہ سانپ لہرا رہے ہیں ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ افسون گری دیکھ کر سہمے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا گھبراؤ نہیں تم غالب رہو گے ، اپنی عصاء جو تم نے داہنے ہاتھ میں لے کہ اپنے زمین پر پھینک دو ، تمہارا یہ عصاء اتنا بڑا اژدھا بن جائے گا اور سب سانپوں کو جو جادو کی وجہ سے ظہور میں آئے ہیں کھا جائے گا کیونکہ حق کے مقابلہ میں باطل کامیاب نہیں ہو سکتا ، سحر اصل میں دھوکا و فریب اور نفسیاتی غلبہ کا نام ہے ، جادوگر کچھ تو خواص اشیاء کو جانتے تھے ، جس سے عام لوگ آگاہ نہیں ہوتے اور کچھ نفسیاتی قوت کو بعض ریاضتوں سے بڑھالیتے ، جس کے باعث وہ جو کچھ چاہتے ، عوام کی نظروں میں کر دکھاتے ، یہ بھی ہوتا تھا کہ محض چالاکی اور فن فریب سے وہ جہلاء کو اپنی بزرگی اور عظمت کا یقین دلاتے ۔ موسی (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ بظاہر رستے سانپ کی شکل میں دوڑ رہے ہیں تو بشریت کی وجہ سے قدرے گھبرائے مگر اللہ تعالیٰ نے فورا اس غلط فہمی کو دور کردیا ، ارشاد ہوا ، کہ اس میں حقیقت موجود نہیں ، یہ محض نظر فریبی ہے ، جادو اور دھوکا ہے ، انشاء اللہ تم غالب رہو گے ، اور اس کے بعد بطور اصول کے واضح کردیا ، کہ اس نوع کے شعبدہ باز حق کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتے ، حق کے لئے کامیابی مقدرات میں سے ہے ، اس قصے سے بطور استدلال کے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ وہ شخص جو عالم دین ہے اور رشدو ہدایت کو لوگوں میں پھیلانا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ان تمام علوم میں ماہر ہو جو اس کے مخالف معاصرین میں پائے جاتے ہیں اور کسی علمی بات میں ان لوگوں سے کم نہ ہو ، آج نوجوانوں میں الحاد پھیل رہا ہے ، اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء میں جمود اور تعطل پیدا ہوگیا ہے ، وہ ساحرہ فرنگ طلسمات سے آگاہ نہیں اور نہیں جاننا چاہتے کہ دشمن کن طریقوں سے دین کی چھاؤنیوں پر حملہ آور ہوتا ہے ، غور فرمائیے ، موسیٰ (علیہ السلام) کو کیوں اسی قسم کے اعلی ترین معجزات دیئے گئے ، جس قسم کے شعبدات ان میں رائج تھے ، اسی لئے ان لوگوں کو معلوم ہوا ، کہ جو شخص ہمیں ایمان واسلام کی دعوت دیتا ہے وہ معارف ومعلومات میں ہم سے کہیں آگے ہے ۔ حل لغات : فاوجس : وجس کے معین میں ہیں ، کچھ کہنے کے ہیں، یہاں مقصود دل میں ہے ۔
Ayahs 20:70–73

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

پھر جادوگر سجدہ میں گر پڑے بولے ہم موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لائے (ف 2) ۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

بولا تم میرے حکم سے پہلے اس پر ایمان لائے ؟ وہی (موسی علیہ السلام) تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھلایا ہے ۔ سو اب میں تمہارے مقابل کے ہاتھ پاؤں کٹواؤں گا ، اور تم سب کو کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا اور تم جان لوگے کہ ہم میں کس کا عذاب سخت اور دیر تک رہتا ہے ۔

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

وہ بولے جو کھلی دلیلیں ہمارے پاس آئی ہیں ان پر اور اس پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ہم تجھے ہرگز ترجیح نہیں دیں گے پس جو حکم تو دینا چاہئے وہ حکم دے ، تو صرف اسی دنیا کی زندگی میں حکم دے سکتا ہے ۔

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہمارے گناہ بخشے اور یہ گناہ بھی کہ تونے ہم سے جبرا جادو کرایا اور اللہ بہتر اور (ہمیشہ) رہنے والا ہے ۔

(ف 2) جادوگروں نے اپنی فریب کاریوں کے مقابلہ میں جب حقیقت کی جلوہ گری دیکھی ، تو چونکہ صاحب بصیرت تھے ، فورا اللہ کے سامنے جھک گئے اور بےاختیار پکار اٹھے ، کہ ہم رب موسیٰ (علیہ السلام) وہارون (علیہ السلام) کو جانتے ہیں ، اس کی قدرتیں بےپناہ اور عظیم ہیں ، فرعون نے جب یہ منظر آنکھوں سے دیکھا تو بےتاب ہوگیا ، اور حاکمانہ انداز میں دھمکیاں دینے لگا جادوگروں کے دل میں چونکہ ایمان کی قوت راسخ ہوچکی تھی اس لئے وہ بےخوف ہوگئے ، اور جرات کے ساتھ فرعون سے کہہ دیا کہ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر گزرو ، ہم ان دھمکیوں سے خائف نہیں جن کا تعلق محض اس دنیا سے ، ہمارے دل حق کی روشنی سے منور ہوچکے ہیں اور ان میں غیر اللہ کے خوف وہراس کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بیشک جو اپنے رب کے پاس مجرم ہو کر آیا اس کے لئے جہنم ہے ، نہ اس میں مرے گا اور نہ جئے گا (ف 1) ۔

(ف 1) (آیت) ” لا یموت فیھا ولا یحی “۔ (جس میں نہ مرے گا نہ جئے گا) سے غرض یہ ہے کہ جہنم کی زندگی نہایت تلخ اور ناگوار ہوگی تو یہ ممکن ہوگا کہ موت کی وجہ سے خلاصی ہوسکے اور نہ یا اختیار میں ہوگا کہ زندگی کے لوازم سے استفادہ کیا جائے ۔
Ayahs 20:75–76

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے پاس با ایمان ہو کر نیکیاں کر کے آیا ، تو ایسوں کے لئے بلند درجے ہیں (ف 2) ۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، وہاں ہمیشہ رہیں گے یہ اس کا بدلہ ہے جو پاک ہوا ۔

(ف 2) حصول جنت کے لئے جن طرح ایمان شرط ہے اسی طرح کل صالح ضروری ہے محض اعتقاد جو عمل کے لئے محرب نہ ہو مفید نہیں کیونکہ اسلام تو ایمان وعمل دونوں کا نام ہے ۔