18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsسراج البیان

Ayahs 18:71–76

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے ، تاآنکہ ایک کشتی میں دونوں سوار ہوئے ، خضر (علیہ السلام) نے کشتی کو پھاڑ ڈالا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تونے اس لئے پھاڑ ڈالا کہ کشتی والوں کو ڈبو دے ، تونے انوکھا کام کیا (ف 1) ۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

بولا کیا میں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا ۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

کہا ، میری بھول پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کر اور میرے کام کے سبب میرے سر پر سختی نہ ڈال ۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چلے ، تاآنکہ ایک لڑکے سے دونوں ملے خضر (علیہ السلام) نے اسے مار ڈالا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تونے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے بدلے مار ڈالا ؟ یہ تو تونے ناپسند کام کیا ۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

بولا کیا میں نے تجھ سے نہ کہا تھا ، کہ تو میرے ساتھ ہرگز نہ صبر کرسکے گا ۔

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) بولا ، اگر میں اس کے بعد تجھ سے کوئی بات پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا ، تو میری طرف سے معذور ہوگا ۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تقاضائے اصلاح اور خضر (علیہ السلام) کی عاقبت اندیشی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب خضر (علیہ السلام) سے ملتے ہیں تو طلب علم کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہیں ، اور ان کی صحبت سے استفادہ کریں ، اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم صرف کتابیں پڑھا دینا نہیں ، بلکہ استاد شاگرد کو ہر لمحہ اپنے ساتھ رکھے ، اور اس کی دماغی تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کہتے ہیں صبر و برداشت شرط ہے ، اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو جو کچھ بھی دیکھو ، اس پر خاموشی سے غور کرنا ہوگا اور جب تک میں تمہیں خود نہ بتاؤں تم مجھ سے سوالات نہ کرنا ، مقصد یہ تھا کہ شاگرد پہلے سے عجیب و غریب حالات کے مشاہدہ کے لئے مستعد ہوجائے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ شرط منظور کرلی ، اب استاد اور شاگرد دونوں نے سفر اختیار کیا ، کشتی پر بیٹھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ جس کشتی پر وہ سفر کر رہے ہیں ، استاد نے اسی کے ایک تختہ کو توڑ دیا ہے ، یہ دیکھ کر ان سے نہ رہا گیا ، اور جذبہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر موجزن ہوگیا اور باوجود شرط کے پوچھ ہی تو لیا ، کہ حضرت آپ نے یہ کیا ستم ڈھایا ، بلاوجہ کشتی کو توڑ دیا ، حضرت خضر (علیہ السلام) مسکرائے اور کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم خاموشی سے واقعات کا مطالعہ نہ کرسکو گے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فورا احساس ندامت ہوا سمجھ گئے کہ آپ صاحب فراست ہیں ۔ بلاوجہ حرکت نہ کی ہوگی ، پھر آگے بڑھے ، کشتی سے اترے ، دیکھا کہ ایک لڑکا کھیل رہا ہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) نے اسے پکڑا اور قتل کردیا ، اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صبر نہ ہوسکا ، بےقرار ہو کر پوچھا کہ کیوں صاحب بلاتصور ایک جان عزیز کو ضائع کردینا کہاں کی بھلائی ہے ، آپ نے یہ بہت برا کام کیا ہے ؟ اس قصہ میں دو باتیں بتانا مقصود ہیں ، ایک تو یہ کہ پیغمبر جذبہ اصلاح کس قدر جوش کیس اتھ موجود ہوتا ہے ، وہ نہیں برداشت کرسکتا ، کہ بظاہر کسی برائی کا اس کے سامنے ارتکاب کیا جائے ، اور وہ اسے نہ روکنے کی کوشش کرے ، وہ گناہوں کو دیکھ کر بےچین ہوجاتا ہے ، دوسری بات وہی ترتیب ہے کہ ہر واقعہ کے دو پہلو ہوتے ہیں ، ایک ظاہری اور دوسرا باطنی ، سمجھدار اور دانا حضرات کا فرض ہے کہ وہ تمام واقعات ژوف نگاہی سے دیکھیں اور ظاہری صورت حال سے دھوکا نہ کھائیں ۔ تفصیل آیندہ صفحہ میں دیکھئے ۔ حل لغات : امرا : خطرناک اور بہت اہم چیز ، چناچہ جب کوئی واقعہ خطرناک صورت ، اختیار کرے تو کہتے ہیں ، امرالامر : نکرا : غیر مشروع ، ناشناسائی ، وناسپاسی وناخوشی ، وتعجب :
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں چلے اور ایک گاؤں کے لوگوں کے پاس دونوں آئے اور ان سے کھانا مانگا ، انہوں نے ان کی مہمانی سے انکار کیا ، وہاں انہوں نے ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی ، خضر (علیہ السلام) نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کردیا ، موسیٰ (علیہ السلام) بولا ، اگر تو چاہتا تو اس محنت پر ان سے مزدوری لے سکتا تھا ، (ف 1) ۔

حضرت خضر (علیہ السلام) کا حسن سلوک اور گاؤں والوں کی بدبختی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) طویل مسافت طے کرنے کے بعد ایک گاؤں میں پہنچے بھوک سے بےقرار ہو رہے تھے ، گاؤں والوں سے کہا کہ ہم مسافر ہیں ، ہمیں اپنا مہمان بناؤ ، انہوں نے ازراہ شقاوت انکار کردیا اور شرف مہمان نوازی سے محروم رہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) ان کی اس حرکت سے قطعا ملول نہ ہوئے ، اتفاق سے ایک دیوار پر نظر پڑی ، تو دیکھا کہ کہنگی اور بوسیدگی کے باعث گر رہی ہے آپ اٹھے اور اس کی تعمیر میں مصروف ہوگئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روکا اور کہا جو گاؤں اخلاق کی مبادیات سے بھی ناواقف ہے اور اس درجہ بداخلاق ہے کہ مسافر کو ایک وقت کا کھانا بھی نہیں کھلا سکتا وہ ہرگز اس ہمدردی اور حسن سلوک کا مستحق نہیں ، آپ کو اگر یہ کام کرنا ہی ہے تو کم از کم اپنی محنت کا معاوضہ تو مانگ لیجئے ، کیونکہ مزدوری مقرر کرلینے میں شفا کو کوئی حرج نہیں ، حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا ، بس اب نصیحت رہنے دیجئے ، آپ کے ساتھ میری نہیں نبھ سکتی ، لہذا رفاقت ہوچکی ، اب میں یہ بتائے دیتا ہوں کہ میں نے افعال کیوں کئے اس کے بعد مجھ میں اور آپ میں جدائی ہے ، اس زمانے میں نہ ہوٹل تھے ، نہ آمد ورفت میں آسانیاں تھیں ، کہ سفر کرنے والے کثرت سے ہوں ، اور شہروں میں مسافروں کا ہجوم رہے ، فائدہ یہ تھا کہ شدید حادثات کے سخت اگر کوئی شخص سفر اختیار کرتا تو راستے میں جو گاؤں پڑے ، وہاں کے لوگ رہنما اس کی مہمان نوازی کے لئے تیار رہتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) نے انہیں حالات کے ماتحت اور اسی حق کی بنا پر ضیافت کا مطالبہ کیا ، ورنہ اس قسم کی استدعاء انبیاء کی بلندی کے یکسر منافی ہے ؟ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء بھی از دیار علم کے لئے کوشاں رہتے ہیں اور علم کے لئے کوئی آخری حد مقرر نہیں کی جاسکتی ، علم ایک سمندر ہے ناپیدا کنار ، بجز اللہ تعالیٰ کے ہر شخص ہر حالت میں محدود علم کا مالک ہے ، اور اسے ضرورت ہے کہ اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے ۔
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

اس نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں جدائی ہے اب میں تجھے اس کا بھید جس پر تو صبر نہ کرسکا ، بتاؤں گا (ف 2) ۔

حضر (علیہ السلام) کے جوابات : (ف 2) ان آیات میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی حیرانیوں کو دور کیا ہے ، اور واقعات کے باطن کی طرف اشارہ کیا ہے ، یعنی اس حقیقت سے آگاہ فرمایا ہیں کہ منصب نبوت اور قضاء و فیصلہ کے لئے کس قدر دوربینی وژرف نگاہی کی ضرورت ہے ، بسا اوقات واقعات کا ظاہر غلط طریق کار کی جانب راہنمائی کرتا ہے ، اور اس سے غلط نتائج مرتب ہوتے ہیں یہ حضرت موسیٰ پر چونکہ امت کی ذمہ داریاں عائد ہونے والی تھیں ، اس لئے ان کے لئے اس نوع کی علمی تربیت ضروری تھی تاکہ اس منصب کی اہمیت میں سے کما حقہ آگاہ ہوسکیں ۔ حل لغات : یرید : دیوار کیلئے بطور مجازا محاورہ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ کشتی چند محتاجوں کی تھی ، جو دریا میں کام کرتے تھے ، سو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کروں ، اور ان کے پرے ایک بادشاہ تھا جو ہر (بےعیب) کشتی زبردستی چھین لیتا تھا (ف 1) ۔

(ف 1) حضرت خضر (علیہ السلام) نے بتایا کہ کشتی کو عیب دار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان غریب ملاحوں کے لئے ہر حال وسیلہ روز گار بنی رہے ، ایسا نہ ہو کہ اسے کار آمد سمجھ کرلو گرشاہی اپنے لئے مخصوص کرلے ، ان مسکینوں کی گذر محض کشتی پر تھی اس وقت کا بادشاہ ظالم اور غاصب تھا ، رعایا کی ہر اچھی چیز چھنوا لیتا ، اور اپنے لئے مخصوص کرلیتا ۔
Ayahs 18:80–81

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ لڑکا جو تھا ، تو اس کے والدین مومن تھے سو ہم ڈرے کہ کہیں یہ لڑکا سرکشی اور کفر کرکے ان کو عاجز نہ کر دے (ف 2) ۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

سو ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا رب ان کے لئے ستھرائی اور محبت میں اس سے بہتر اور زیادہ لگاؤ رکھتا لڑکا بدل دے ۔

(ف 2) لڑکے کو اس لئے مارو ، کہ اس کے والدین نیک اور صالح تھے اس کے چال چلن اور قرائن سے معلوم ہوتا تھا ، کہ بڑا ہو کر یہ کفر وسرکشی کا پیکر ہوگا والدین کو سخت مصیبت میں ڈال دیگا ، اس لئے اس کا زندگی سے محروم ہوجانا والدین کے لئے خیرو برکت کا موجب تھا ، یہاں یہ ملحوظ رہے کہ کسی شخص کے متعلق اس نوع کا حتمی فیصلہ عام انسان نہیں کرسکتے ، حتی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی مظاہر اس واقعہ کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے ، اس کے لئے خضر (علیہ السلام) کی دور رس نگاہیں چاہئیں ، جو مستقبل کی تاریکیوں کو خیال کی روشنی میں دیکھ سکیں ،
Ayahs 18:82–83

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ (ف 3) ۔ دیوار جو تھی سو شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی ، اور اس کے نیچے ان کا خزانہ گڑا تھا ، اور ان کا باپ نیک شخص تھا ، سو تیرے رب نے چاہا ، کہ وہ دونوں جوان ہو کر اپنا وہ خزانہ تیرے رب کی رحمت سے (خود) نکالیں ، اور میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیا ، یہ اس کا بھید ہے جس پر تو صبر نہ کرسکا ۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور وہ (یہود) تجھ سے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں ، تو کہہ ، اب اس کا ذکر میں تمہارے سامنے پڑھتا ہوں ۔

(ف 3) دیوار کے متعلق بتایا کہ اس کے خیمے یتیموں کا ایک خزانہ مخفی تھا ، اگر اس کو گرنے سے نہ بچا لیا جاتا ، تو لوگ یتیموں کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی لوٹ لیتے اور اس طرح وہ ایک بہت ضروری اعانت سے محروم رہتے ، بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح حضرت خضر کا الہام موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے بظاہر مخالف تھا ، اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اولیاء اللہ کا امام طریقت ظاہری شرع کے مخالف ہو ، اور حقیقت میں دوست ہو ۔ یہ استدلال غلط ہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کے الہامات بالکل موسوی شریعت کے مطابق تھے ، بات صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دقت نظر سے کام نہیں لیا ، اور قانون کا مقصد محض یہ سمجھا کہ اس کا تعلق ظواہر امور سے ہے ، خضر نے انہیں بتایا کہ یہ درست نہیں ، شریعت ظاہر و باطن پر محتوی ہوتی ہے ، پیغمبر وہ ہے جس کی نگاہ واقعات اور حقائق کی گہرائیوں تک پہنچے ۔ حل لغات : یرھقہما : ادھاق سے ہے جس کے معنی بلوغ کی حد تک پہنچنے اور دشوار کرنے کے ہیں ۔ زکوۃ : اخلاق کی پاکیزگی ، پاک طینتی ۔ رحما : ہمدردی ۔
Ayahs 18:84–91

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اسے زمین میں قدرت دی اور ہر شے کا سامان بھی اسے دیا (ف 1) ۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

پھر وہ ایک راہ پر چلا ۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ سورج ڈوبنے کی جگہ پر جا پہنچا ، تو اس نے سورج کو کیچڑ کے چشمہ میں ڈوبتا ہوا پایا ، اور وہاں اس نے ایک قوم کو دیکھا ہم نے کہا اے ذوالقرنین یا تو تو انہیں عذاب دے ، یا ان میں خوبی رکھ دے ۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

بولا جو کوئی ظالم ہے ہم اسے عذاب دیں گے ، پھر وہ اپنے رب کی طرف جائے گا ، اور وہ بھی اسے سخت عذاب دے گا ۔

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو کوئی ایمان لایا اور نیک کام کئے اس کے لئے اچھا بدلہ ہے ، اور ہم اسے اپنے کام میں آسان بات کہیں گے ۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر ایک اور راہ (یعنی منزل) چلا ۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ سورج نکلنے کی جگہ جا پہنچا تو اس نے اس کو ایسے لوگوں پر طلوع ہوتے پایا ، جن کیلئے ہم نے سورج کے در سے کچھ پردہ ہی نہ رکھا تھا ۔

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یوں ہی ہے ، اور اس کے پاس کی خبر خوب ہمارے قابو میں آچکی ہے ۔

(ف 1) قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہودیون کے تعلقات مشرکین مکہ سے بہت زیادہ تھے ، بنا برین مشرکین مکہ ان سے اسلام کے متعلق اعتراضات پوچھتے رہتے ، انہوں نے کہا ہوگا پیغمبر اسلام سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کرو ، تاکہ معلوم ہو کہ اس کا مبلغ علم کیا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا ، یہ آیات جواب میں نازل ہوئیں ۔ قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے ، کہ وہ غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے اور قصے کے صرف اس حصہ کو بیان کرتا ہے جس کا تعلق انسانی رشد وہدایت سے ہے ، چنانچہ قرآن حکیم نے بتایا ، کہ خدائے تعالیٰ نے اسے وسیع اقتدار دے رکھا تھا ، وہ بہت بڑا فاتح تھا ، اس کا شوق فتحیابی اسے سمندر کے کنارے تک لے گیا ، جہاں اس نے سورج کو دیکھا ، کہ گولے پانی میں ڈوب رہا ہے یعنی وہ خشکی سے بہت دور ہے ، وہاں ایک قوم آباد تھی ، اس نے درخواست کی کہ ہم سے ظالمانہ سلوک نہ کیا جائے ہم مروت و احسان کے خواہشمند ہیں ، ذوالقرنین نے انہیں تسلی دی اور کہا تم غم نہ کھاؤ میں نیکوکاروں سے نیک سلوک کروں گا ۔ حل لغات : ذوالقرنین : قون وسعت یا حصہ اقتدار سے تعبیر ہے ۔ حضور ﷺ نے حضرت سے کہا تھا ” ان لک بیتا فی الجنۃ وانت ذوقرینھا “۔ مکنا : مکنت سے ہے جس کے معنی قدرت اور توانگری کے ہیں ۔ تعرب : مراد یہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا ، اسی لئے وجدھا کا لفظ استعمال کیا ہے ۔
Ayahs 18:92–99

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر وہ ایک اور راہ چلا ، (ف 1) ۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب دو دیواروں کے درمیان جا پہنچا ، تو ان دو دیواروں سے اس طرف اس نے ایک قوم کو پایا ، جو بات نہیں سمجھتے تھے ۔

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

وہ بولے ، اے ذوالقرنین ‘ یاجوج وما جوج زمین میں (بڑے) فسادی ہیں ، پس کیا ہم تجھے اس شرط پر خراج دیں ، کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دے ۔

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

بولا جو میرے رب نے مجھے مقدور دیا ہے وہ بہتر ہے ، سو تم محنت میں میری مدد کرو تاکہ میں ان کے اور تمہارے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں ۔

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تم لوہے کے تختے میرے پاس لاؤ یہاں کہ جب انہوں نے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا میدان لوہے سے بھر کر برابر کردیا ، تو ذوالقرنین نے کہا تم سب دھونکو ، یہاں تک کہ جب وہ سب لوہا آگ کردیا تو ذوالقرنین نے کہا کہ پگھلا ہوا تانبا میرے پاس لاؤ کہ اس کے اوپر ڈالوں ،

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان (یاجوج ماجوج) کو طاقت نہ ہوئی کہ اس پر چڑھ آئیں ۔ اور اس میں سوراخ بھی نہ کرسکے ۔

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

کہا ، یہ میرے رب کی رحمت سے ہے جب میرے رب کا وعدہ آئے گا وہ اس دیوار کو ڈھا دے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے ۔

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور اس دن ہم بعض کو بعض میں موجیں مارتا چھوڑ دیں گے اور نر سنگا پھونکا جائے گا پھر ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے ۔

معیار حکمرانی : (ف 1) مغرب میں فتوحات کے بعد جب ذوالقرنین نے مشرق کا رخ کیا تو وہاں ایک خانہ بدوش قوم پائی یہ اقصائے مشرق کے رہنے والے تھے ، اس کے بعد وہ دوسری جانب بڑھا یہاں دونوں طرف پہاڑ تھے اور درمیان میں ایک درہ تھا ، یہاں کچھ لوگ آباد تھے ، انہوں نے اپنی زبان میں کہا ، جسے ذوالقرنین نہیں سمجھتے تھے ، کہ یا جوج وماجوج کی قومیں ہماری ہاں آکر لوٹ مار کرتی ہیں ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیاں ایک دیوار کھینچ دیں ؟ تاکہ ہم ان کے حملوں سے محفوظ ہوجائیں ، ہم اس کام کے مصارف بھی آپ کو ادا کرنے لئے تیار ہیں ، ذوالقرنین نے کہا مجھے اللہ نے بہت کچھ دے رکھا ہے ، تمہارے روپے پیسے کی ضرورت نہیں ، البتہ اگر تم میرا ساتھ دو تو میں ایک مضبوط دیوار تعمیر کرسکتا ہوں جس پر یاجوج وماجوج کی قومیں غالب نہ آسکیں گی ، چناچہ ذوالقرنین نے ان کی اعانت سے ایک دیوار تعمیر کرا دی ، اور ان کو ہمیشہ کے لئے بیرونی حملہ سے محفوظ کردیا ۔ ذوالقرنین کون تھا ؟ اس کی تعمیر کردہ دیوار کہاں ہے ؟ یاجوج وماجوج کن قوموں کا نام ہے ؟ اس قسم کے سوالات ہیں ، جن کا جواب تفسیر سے متعلق نہیں ، تاریخ سے متعلق ہے ۔ قرآن کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ذوالقرنین نہایت نیک اور صالح بادشاہ تھا ، وہ صرف فاتح نہ تھا ، بلکہ نوع انسانی کا سچا ہمدرد بھی تھا ، وہ فتوحات کی وسعت کے ساتھ ایمان دار اور مخلوق کے دلوں کی تسخیر کرنے والا بھی تھا وہ صرف بادشاہ نہ تھا بلکہ نیک خصال اور مصلح انسان تھا ۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ، کہ بادشاہ کے فرائض کیا ہیں ، بادشاہ وہ نہیں ، جو رعیت کے مال و دولت پر غاصبانہ قبضہ جمالے اور عیش کرے ۔ بادشاہ وہ ہے جو رعایا کا خادم ہو ، اور بلا عوض محض فرضی منصبی سے متاثر ہو کر محکوموں کی فلاح و بہبود کے متعلق سوچے ، یہ وہ معیار حکمرانی ہے جس کو بادشاہوں کے سامنے قرآن پیش کرتا ہے ، اور مطالبہ کرتا ہے ، کہ خدمت اور اصلاح کو دستور العمل بناؤ اور بنی نوع انسان کی ہمدردی دلوں میں پیدا کرو تاکہ تمہاری حکومت لوگوں کے لئے خیروبرکت کا موجب ہو ، ورنہ حکمرانی اور سفاکی باہم مترادف حقیقتیں ہوں گی جو ہرگز قابل تعریف نہیں ہو سکتیں ۔ حل لغات : خرجا : خرچ ضددخل ۔ ردما : مضبوط دیوار ۔ قطرا : پگھلا ہوا تانبہ ۔ نقبا : سوراخ ، نقب اسی سے ہے ۔
Ayahs 18:100–101

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس دن ہم کافروں کے سامنے جہنم پیش کریں گے (ف 1) ۔

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھیں ہمارے ذکر سے پردہ میں تھیں ۔ اور وہ سن نہ سکتے تھے ۔

(ف 1) ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج کی تفصیلات کے بعد عرصہ حشر کی جانب توجہ مبذول فرمائی ہے ، اور بنایا ہے کہ اصل حکمرانی اللہ کے لئے مختص ہے ، قیامت کا وعدہ سچا ہے ، ایک دن ایسا آئے گا ، جب سب لوگ خدا کے حضور میں جمع ہوں گے ، اور مکافات عمل کی بنا پر ہر شخص اپنے افعال کا جواب وہ ہوگا ، اس وقت منکرین حق جن کی آنکھیں حقائق سے بےنور ہیں جہنم میں پھینکنے جائیں گے ، آج جو اللہ کی یاد سے غافل ہیں ، اس کا ہم سننا جن کو بار گوش معلوم ہوتا ہے ، اور وہ بصیرت سے محروم ہیں ، اس دن پچھتائیں گے ، (آیت) ” ولات حین مناص “۔
Ayahs 18:102–103

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے سوا میرے بندوں کو حمائتی ٹھہرائیں ؟ ہم نے کافروں کی مہمانی کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے (ف 2) ۔

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

تو کہہ کیا ہم تمہیں بتلائیں کہ اعمال میں زیادہ زیان کار کون ہے ۔

(ف 2) یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ مشرک ان لوگوں کی پوجا کرتے ہیں جو میرے بندے ہیں ، اور جنہیں اپنی بندگی پر ناز ہے ، کیا ان سے یہ لوگ ان کی خاطر طوق عبودیت اتار پھینکیں گے ، اور مسند الوہیت پر بیٹھ جائیں گے فرمایا ان کا یہ خیال محض وہم ہے ، مخلص بندے ان کی مشرکانہ حرکات سے یکسر ہزار ہیں ۔ حل لغات : نزلا : ضیافت ، مہمانی ، بطور طنز وتحکم کے ہے ۔
Ayahs 18:104–106

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ جن کی کوشش حیات دنیا میں اکارت گئی ۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں (ف 1) ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

وہی اپنے رب کی آیتوں اور اس کی ملاقات کے منکر ہیں ، سو ان کے اعمال اکارت ہوئے ، سو ہم انکے لئے قیامت کے دن تول قائم نہ کریں گے ۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ ان کا بدلہ جہنم ہے اس سبب سے کہ وہ کافر ہوئے اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا ٹھہرایا ۔

اعمال کے متعلق اسلام کا فلسفہ !: (ف 1) خود فریبی کی انتہا ہے کہ انسان برائی کا ارتکاب کرے ، اور پھر یہ یقین رکھے کہ اس کا دامن عصمت قطعا گناہ سے آلودہ نہیں ہوا ، اور اپنے افعال میں حق بجانب ہے ، اس قسم کے لوگ غایت درجہ کے بدبخت اور شقی ہیں ، ان سے توبہ وانابت کی امید نہیں رکھی جاسکتی یہ مصیبت کو ثواب اور شر کو خیر سمجھتے ہیں ، ان کا زاویہ نگاہ بدل چکا ہے ، اور یہ صلاحیت کی استعداد کھو چکے ہیں ، اس لئے ان کے لئے اعمال اکارت جائیں گے ، اسلام کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ اعمال کے مقدار اور افعال کے حجم کو نہیں دیکھتا ، بلکہ اس کی نظر نصب العین پر پڑتی ہے جو شخص بلند نصب العین کو اپنے اعمال وافعال کا محور قرار دیتا ہے ، وہ اسلام کی اصطلاح میں نیک ہے اور جو کوئی نصب العین نہیں رکھتا ، یا خسیس و ذلیل مطمح نظر کا مالک ہے ، اس کا ہر فعل ضائع ہوجاتا ہے ۔
Ayahs 18:107–108

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ، ان کی مہمانی کے لئے ٹھنڈی چھاؤں کے باغ ہیں (ف 2) ۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

ان میں ہمیشہ رہیں گئے وہاں سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے ۔

(ف 2) منکرین کا انجام واضح کرنے کے بعد اب مومنین کا مال بتایا ہے کہ ان کا مقام فردوس ہے جس میں یہ لوگ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔ کفار کے لئے ” نزل “ کے لفظ کو بطور طنز کے استعمال فرمایا تھا ، یہاں مومنوں کے لئے بھی ضیافت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ باوجود ابدی زندگی کے خاطر مدارات میں ہر لمحہ تنوع ہوگا ، اور یہ لوگ جنت میں اس طرح آرام و آسائش سے رہیں گے جس طرح کوئی عزیز مہمان رہتا ہے اس وضاحت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں مہمان کا درجہ کتنا بلند ہوگا ۔
Ayahs 18:109–110

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

تو کہہ اگر میرے رب کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سمندر سیاہی بن جائے ، تو میرے رب کی باتیں تمام ہونے سے پہلے سمندر خرچ ہوجائے گا اور اگرچہ ہم ویسا ہی ایک اور سمندر مدد میں لائیں (ف 3) ۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

تو کہہ ، میں بھی آدمی ہوں تمہاری مانند میری طرف وحی آئی ہے کہ تمہارا معبود فقط ایک معبود ہے پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے اس کو چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے ۔

خدا کا علم : (ف 3) اس سورة میں اصحاب کہف ، موسیٰ (علیہ السلام) و خضر (علیہ السلام) ، اور ذوالقرنین کے قصوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے حکم ومعارف کے دریا بہائے ہیں بتایا گیا ہے کہ کیونکر حق وصداقت کے لئے ثبات ، دوام مقدرات میں سے ہے اور اللہ کا علم کس قدر وسیع و متنوع ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) وخضر (علیہ السلام) دونوں اس بحر بیکراں سے استفادہ کرتے ہیں ، فرمایا ہے کہ حکمرانی اور طاقت بخشی صرف میرے اختیار میں ہے ، میں جسے چاہوں سرفراز کروں اور جسے چاہوں چشم زدن میں فنا وذلت کے گھاٹ اتار دوں ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی وسعت علم اور عظمت شان کا ذکر فرمایا ہے ، یہ بتایا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ میرا علم انبیاء اور ان ہی کتابوں تک محدود ہے تم میرے علم کی وسعتوں کو نہیں پا سکتے یہ قصے رشد وہدایت کے طریقے اور دوزخ اور جنت کی تفصیلات تو بقدر ضرورت تم کو بتا دی گئی ہیں ، ورنہ میری بیشمار عجائبات قدرت ہیں ، اور بےانتہاء اعطاف وکرم اور جو دوعطا جن کی تعبیر کے لئے تمہارے پاس الفاظ تک نہیں ، میری صفات بیحد کے سامنے سمندر ایک قطرہ کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتا ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے ، کہ مذہب نے اب تک جو کچھ اللہ تعالیٰ کے متعلق بتایا ہے اور ہمارے علوم نے جس حد تک ترقی کی ہے ، اور فطرت کے چہرے سے نقاب اٹھائے ہیں اور ذات حق کے بارہ میں انسان جو کچھ سمجھا ہے ، محض بقدر ظرف و استعداد کے ہے ورنہ ذات باری اور اس کے لامحدود قوانین کے متعلق جو ہم نہیں جانتے ہیں ، وہ بمنزلہ صفر کے ہے ہمارا علم محدود ہے اور وہ ذات اقدس لا محدود اسی لئے فرمایا ہے فخر دو عالم خیر البشر ﷺ نے ” لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک “۔ حل لغات : وزنا : وہ ” قدر “ جو اعمال کی قیمت ہے ، فردوس : جنت کا ایک نام ہے ۔