18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsسراج البیان

Ayahs 18:36–44

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کی گھڑی قائم ہو اور اگر میں اپنے رب کی طرف پھر پہنچایا بھی جاؤں تو ان باغوں سے بہتر جگہ پاؤں گا (ف 1) ۔

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس کے حریف نے باتوں میں اس سے کہا کہ کیا تو اس کا منکر ہوا جس نے تجھے مٹی سے بنایا ، پھر نطفہ سے ، پھر تجھے پورا مرد بنا دیا ۔

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن میں کہتا ہوں کہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کوئی شریک نہیں ٹھہراتا ،

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تو اپنے باغ میں آیا تونے کیوں نہ کہا کہ جو اللہ چاہے سو ہی ہوتا ہے بغیر اللہ کے کچھ زور نہیں اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کم دیکھتا ہے ۔

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو شاید میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر (باغ) دے اور تیرے باغ پر آسمان سے عذاب بھیج دے اور وہ صبح کو چٹیل میدان رہ جائے ،

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی سوکھ جائے ، پھر تو تلاش سے بھی اسے نہ لاسکے ۔

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس کا پھل گھیرا گیا پھر صبح کو اپنی لاگت پر جو اس میں خرچ کی تھی ہاتھ ملتا اٹھا ، اور وہ اپنی چھتریوں پر گرا پڑا تھا ، اور کہنے لگا کاش کہ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ۔

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا اس کی کوئی جماعت مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ ہی لے سکا ۔

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

اسی مقام پر سب اختیار سچے اللہ کیلئے ثابت ہے وہی بدلہ اور ثواب دینے میں بہتر ہے ۔

سرمایہ داری کا غرور : (ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور پھولا نہیں سماتا ، اس کے خیال میں یہ عیش و کامرانی دائمی ہے ، اور آخرت میں بھی بزعم خود عزت وافتخار کا تنہا سزاوار ہے ، وہ اپنے دوسرے خدا پرست ساتھی سے کہتا ہے ، میرے پاس شاداب باغات ہیں ، دولت تم سے زیادہ ہے ، یہ سب باتیں اس انداز سے کہتا ہے کہ گویا ان تمام نعمتوں کو اس لئے اپنی محنت سے حاصل کیا ہے ، اور اللہ کے فضل وکرم کو اس میں کوئی دخل نہیں ، مومن اور خدا پرست اس کی تمام شیخی کی باتوں کو سنتا ہے ، اور کہتا ہے کہ یہ کفر ہے ، اللہ کے ساتھ اپنے نفس کو شریک ٹھہراتا ہے تمہیں اپنی قوت پر نہیں ، بلکہ اللہ کی توفیق پر خوش ہونا چاہئے تھا ، اور یہ کہنا چاہئے تاھ کہ یہ سب کچھ اللہ کی ضمانت سے مجھے ملا ہے ، اور جب تک اللہ چاہے گا ، اس کا فضل وکرم میرے شامل حال رہے گا تم مجھے حقارت کی نگاہ سے سے دیکھتے ہو ، اور تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ مجھے تم سے کہیں زیادہ دولت دے سکتا ہے ، اس کے خزانے سدا معمور رہتے ہیں ، اور ہو سکتا ہے کہ تمہاری دولت لٹ جائے ، اللہ کا عذاب آجائے اور تمہارے باغات غارت ہوجائیں ، چناچہ یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو چشم عتاب سے دیکھتے ہیں ، اور آن کی آن میں اس کا تمول خاک میں ملا دیتے ہیں باغ اجڑ جاتا ہے کلیاں گرتی ہیں ، سارا خرمن جل جاتا ہے ، اب وہ کف افسوس ملتا ہے اور کہتا ہے اے کاش ! میں اپنے رب کی عنایتوں کا معترف ہوتا ، اور اس دولت وتمول کو دائمی نہ سمجھتا ۔ اس مثال میں وہ شخص جو کبر و غرور کا مجسمہ ہے ، کفار مکہ سے ملتا جلتا ہے ، اور خدا پرست انسان مسلمان ہے جو اسلام کا نمائندہ ہے ، وہ کہتا ہے ، مکہ والو ! تمہیں مسکینوں کو بنگاہ حقارت نہ دیکھنا چاہئے ہو سکتا ہے ، ہم کو اللہ تعالیٰ بلندی پر پہنچا دے اور تم تمام آسائشوں سے محروم ہوجاؤ ، یہ مال و دولت تو آزمائش کے لئے تمہیں دیا گیا ہے ، کہ تم کہاں تک اس کے امین ثابت ہوتے ہو ، جب تم غرور کا اظہار کرو گے ، اور اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا نہیں کرو گے ، تو اللہ تم سے یہ نعمتیں چھین لے گا ، اور ان لوگوں کو دے دیگا جو اس کے فرمانبردار بندے ہوں گے ، سو بالکل اسی طرح وقوع پذیر ہوا ، اللہ نے مکہ والوں سے اقتدار چھین لیا ، اور مسلمانوں کو دے دیا جو مسکین مگر خدا کے شکر گزار اور دوست تھے ، قیصر و کسری کی حکومتوں کے وارث ٹھہرے اور جو تھوڑی سی دولت پر اس درجہ مغرور تھے ، ذلیل ورسوا ہوئے ۔ یہ اللہ کا قانون ہے کہ وہ حق شناس قوموں کو آگے بڑھاتا ہے اور ان قوموں کو جن کا سرمایہ عمل محض تعلی اور ہنر ہو گرا دیتا ہے ، اور فنا کے گھاٹ اتار دیتا ہے ۔ حل لغات : ابدا : بطور مجاز کے ہے یعنی جب تک میں زندہ ہوں ۔ غورا : عمق ۔ گہرائی ، نیچے اتر جانا ۔ عروشھا : جمع عرش ، بمعنے ٹٹی ۔
Ayahs 18:45–47

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور حیات دنیا کی مثال تو انہیں سنا ، وہ پانی کی مانند ہے جو ہم نے آسمان سے نازل کیا ، پھر اس میں روئیدگی مل گئی ، پھر کل کو چورا چورا ہوگئی ، اسے ہوا نے اڑایا ، اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے ، (ف 1) ۔

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے حیات دنیا کی زینت ہیں ، اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تیرے رب کے پاس ثواب میں اور امید میں بہتر اور خواب ہیں ۔

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو زمین کی کھلی دیکھے گا اور ہم ان سب کو اٹھائیں گے تو ہم ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے ،

باقیات الصالحات : (ف 1) یہ آیت سابقہ تمثیل کا تتمہ ہے ، غرض یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو دنیا کی آب وتاب سے مرعوب ہیں اور آخرت سے غافل ان کو بتایا جائے ، کہ بہ عروس حشمت و دولت چند ہی دنوں میں اپنا سہاگ کھو بیٹھے گی ، دنیا کی مثال کس قدر عمدہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے ، کہ جیسے برسات میں ہری ہری گھاس بھلی معلوم ہوتی ہے ، اور اس کی تازگی وشادابی آنکھوں میں ایک سرور پیدا کردیتی ہے ، اسی طرح دنیا بظاہر بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہے ، اور تمہارے لئے سرمایہ نشاط بہم پہنچاتی ہے ، مگر خزاں میں جس طرح گھاس سوکھ جاتی ہے ، پاؤں تلے دوری جاتی ہے ، اسی طرح دنیا پر دور خزاں آتا ہے اور اس وقت اس کی خوبصورتی اس سے چھن جاتی ہے ۔ آج جو شخص مالدار ہے سرمایہ اور دولت میں کھیل رہا ہے کل مفلس اور قلاش نظر آتا ہے ، اور ایک حبہ اس کے پاس نہیں رہتا ۔ بچے ، اور جوان جو ماں باپ کی آنکھوں کا نور ہیں ، اچانک موت کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں ، اور ان کے چراغ سکون وعیش کو گل کر جاتے ہیں ، یہ ہے دنیا کی مسرتوں کا انجام ۔ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر محبت کس چیز سے کی جائے اور کن چیزوں کو دیرپا اور نتیجہ خیز سمجھا جائے ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے باقیات الصالحات زیادہ بہتر ہیں ، زیادہ نیک انجام ہیں اور زیادہ موزون ۔ یعنی ایسے بلند کام کرو ، جو باقی رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ، دنیا مٹ جائے ، مگر تمہارے اعمال کے نقوش اس کی موج سے نہ ہٹ سکیں ، ایسے کام کرو ، جو ملت کو زندہ کردیں ، قوم کو آگے بڑھائیں ، اور خود تمہاری بات وسعادت کا باعث نہیں کیونکہ دنیا میں صرف اعمال ہی باقی رہنے والی چیز ہے ، جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس صحیح معنوں میں سرمایہ بہجت و سرور وہ اعمال صالحہ کو اپنا نصب العین بنائے ۔ مال و دولت اور عزت وجاہ عارضی چیزیں ہیں تم جانتے ہو لاکھوں کر ڑوں بیشمار مالدار زمین کے نیچے مدفون پڑے ہیں آج انہیں کون جانتا ہے ۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہیں ، جنہیں عزت واحترام سے یاد کیا جاتا ہے ان کے نام اور حالات زندہ ہیں ، باوجود زمانہ کے لوگوں کے دلوں میں برابر جاگزیں ہیں ، یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے دنیا میں رہ کر اس کی ادنی مسرتوں سے کنارہ کشی کی ہے اور انکو اپنا نصب العین قرار دیا ہے ۔ حل لغات : عقبا : انجام ، عاقبت ، ھشیما : تنکا تنکا ۔ ھشم کے اصلی معنے توڑنے کے ہیں ۔
Ayahs 18:48–50

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور وہ سب صف بستہ تیرے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے ، تم ہمارے پاس آئے جیسے ہم نے تمہیں پہلے پیدا کیا تھا ، بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمہارے لئے کوئی وعدہ ہی نہ ٹھہرائیں گے (ف 1) ۔

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور کتاب رکھی جائے گی اس وقت تو مجرموں کو دیکھے گا کہ کتاب کے لکھے ہوئے سے ڈر رہے ہوں گے ، اور وہ کہیں گے کہ افسوس ہم پر اس کتاب کا کیا حال ہے کہ کوئی چھوٹی یا بڑی بات ایسی نہیں جو اس میں مرقوم نہ ہو ، اور جو عمل کئے تھے وہ سب اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا ، وہ جنوں میں سے تھا ، سو اپنے رب کے فرمان سے نکل بھاگا ، پس کیا تم میرے سوا اس (ابلیس) کو اور اس کی اولاد کو دوست ٹھہراتے ہو ؟ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ، اور ظالموں کا بدلہ برا ہے ۔

(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص طرز بیان ہے کہ واقعہ کی تصویر کھینچ دیتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم واقعہ کی تمام جزئیات کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں قیامت اور حشر ونشر کے متعلق جتنی باتیں ذکر فرمائی ہیں ، وہ سب اس اسلوب بیان کی آئینہ دار ہیں ۔ اور یہ طرز بیان اس درجہ موثر کہ قیامت کے احوال کو پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے جیسے آپ پر واقعی قیامت گزری ہے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ان تمام کیفیات کو دیکھ رہے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ تم ہمارے پاس پہلی حالت میں لائے جاؤ گے ، بالکل فطرت میں تمام تکلفات دنیا میں دھرے رہ جائیں گے ، تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم کبھی تم کو اپنے ہاں نہ بلائیں گے ، اور تمہارے لئے محاسبہ اعمال کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ، مگر آج تمہارا یہ زعم غلط ثابت ہو رہا ہے ، آج تم ہمارے حضور میں کھڑے ہو اپنے جرائم کی فہرست تمہارے ہاتھ میں ہے ، اور دیکھ رہے ہو کہ لغزش خیال سے لے کر بڑے بڑے گناہوں تک سب باتیں اس میں مندرج ہیں ، کہو اب کیا جواب ہے خوب سوچ لو ، یہ وقت آنے والا ہے اور وہ اتنا سخت وقت ہوگا اور کوئی شخص تمہیں ان مشکلات سے مخلصی نہیں دلا سکے گا ، اس سے قبل کہ موت کے فرشتے آئیں تمہارا فرض ہے کہ اپنی آئندہ زندگی پر غور کرو اور زاد آخرت مہیا کرو ۔ حل لغات : موعدا : میقات ، اسم ظرف ہے ۔ وعد : سے بمعنی وعدہ گاہ ، و زمان وعدہ
Ayahs 18:51–53

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

آسمان اور زمین کی پیدائش میں نے ان (ابلیس اور اس کی اولاد) کو نہیں دکھلائی اور نہ خود انکی پیدائش انہیں دکھلائی ، اور میں اپنا بازو گمراہ کرنے والوں کو نہیں (ف 1) ۔ بنایا کرتا ۔

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن وہ کہے گا ، کہ میرے شریکوں کو جو تمہارے گمان میں تھے اب پکارو ، پھر وہ پکاریں گے پھر وہ انہیں جواب نہ دیں گے ، اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کی جگہ قائم کریں گے ۔

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم آگ کو دیکھ کر سمجھ جائیں گے کہ ہمیں اس میں گرنا ہے مگر اس سے ہٹ رہنے کا موقع نہ پائیں گے ۔

انسانی فطرت کی بلندیاں : (ف 1) مشرکین کو بتایا ہے کہ کم بختو ، اپنی فطرت کی بلندیوں کو محسوس کرو ، تمہیں اللہ تعالیٰ نے مسجود ملائک بنایا تھا تمہیں اس منصب پر فائز کیا تھا ، کہ دنیا کی اعلی ترین مخلوق تمہارے سامنے جھکے ، تمام کائنات پر تم حکومت کو ، ذرے سے آفتاب تک سب چیزیں تمہاری مسخر کردیں ، تاکہ تم اللہ کی نیابت کے فرائض ادا کرو ، اور اس کی عظمت کی گواہی دو ، مگر تم ہو کہ نفس کی پوجا میں مبتلا ہو ، شیطان کے نقش قدم پر چل رہے ہو غیر اللہ کی پرستش کو عبادت سمجھتے ہو کیا یہ لوگ جن کو تم عرش الوہیت پر بٹھا رہے ہو ، اللہ کے ساجھی ہیں ، انہوں نے آسمان کا کوئی حصہ بنایا ہے یا زمین کی پیدائش میں ان کا کوئی بہرہ ہے ؟ اور جب یہ عام مخلوقات کی طرح محتاج اور مجبور ہیں ، تو تم کیوں کی ان کی عبادت کرتے ہو ؟ آہ انسان کس قدر جاہل اور ظالم ہے ، اتنا بلند مرتبہ ہو کر دوسروں کے آگے جھکنا فرض سمجھتا ہے اور اپنی فطرت سے نا آشنا ہے ۔ حل لغات : ما اشھدتم : مقصد یہ ہے کہ وہ کائنات کی تخلیق کے وقت شاہا ومعاون نہیں تھے ، جو آج خدائی اور ساجھے کے مستحق ہوں ۔ عضدا : بازو یا معاون ۔ موبقا : ہلاکت کی جگہ ، بعض کے نزدیک یہ جہنم کی ایک وادی ہے یا حصہ ہے جسے جہنم کے مختلف طبقات کے لئے برزخ کہنا چاہئے ۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں آدمیوں کے لئے ہر ایک کہاوت کو طرح طرح سے بیان کیا ہے اور آدمی بڑا جھگڑالو ہے ۔ (ف 1) ۔

قرآن نسل انسانی کی مشترکہ میراث ہے : (ف 1) قرآن حکیم تمام نسل انسانی کی مشترکہ میراث ہے اس لئے اس میں ہر طبقہ اور ہر نوع کے انسانوں کے لئے رشد وہدایت کا سامان موجود ہے ، اس میں ان لوگوں کے لئے بھی تسکین ہے جو حکمت وفلسفہ کے دلدادہ اور جویاں ہیں ، اور ان لوگوں کے لئے بھی جو فلسفہ و حکمت سے زیادہ ، روحانیت سے شغف رکھتے ہیں ، طرز بیان میں تخیلات بھی ہیں ، خطاب بھی ہے منطق بھی ہے اور شبیہات اور استعارے بھی ، ترغیب اور ترہیب بھی ، غرضیکہ فلسفہ قیادت کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو اس میں تفصیل کے ساتھ موجود نہ ہو مگر انسان بالطبع جھگڑالو ہے ، اس لئے اس چشمہ ہدایت وعرفان سے مکمل استفادہ نہیں کرتا ، اور اللہ کی رحمت وفیضان سے محروم رہتا ہے ۔
Ayahs 18:55–56

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور آدمیوں کو جب ان کے پاس ہدایت (قرآن) آئی تو ان کو ایمان لانے اور اپنے رب سے استغفار مانگنے سے صرف اسی بات نے روکا کہ اگلوں کی رسم (یعنی قہر الہی) ان پر آئے یا ان کے سامنے عذاب آکھڑا ہو (ف 2) ۔

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم رسولوں کو بشارت سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر جھگڑا کرتے ہیں کہ حق کو باطل سے گرا دیں ، اور انہوں نے ہماری آیتوں سے ان باتوں کو جن سے ڈرائے گئے ٹھٹھا ٹھیرا لیا ہے ۔

(ف 2) یعنی قرآن کی تعلیمات صداقت اور سچائی پر مبنی ہیں اور یہ منکرین محض تعصب کی وجہ سے ان کو قبول نہیں کرتے ہیں ، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر ان کی گمراہی بڑھتی گئی ، اور عناد ودشمنی نے غیرت حق کو برانگیختہ کردیا ، تو اللہ کا قانون مکافات حرکت میں آجائے گا ، اور یہ عذاب الہی سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکیں گے ۔ حل لغات : مثل : صفت ، حال ، داستان ، قصہ ، سنۃ الاولین : پہلوں کا سا معاملہ یعنی قانون مکافات ۔ قبلا : سامنے متقابل :
Ayahs 18:57–59

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

جو کوئی اپنے رب کی آیتوں سے سمجھایا گیا اور اس نے اس سے منہ موڑا اور اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو بھول گیا ، اس سے زیادہ ظالم کون ہے ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈالا ، اور کانوں میں گرانی ، تاکہ قرآن کو نہ سمجھیں ، اور اب اگر تو انہیں ہدایت کی طرف بلائے ، تو وہ کبھی ہدایت پر نہ آئیں گے (ف 1) ۔

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور تیرا رب بخشنے والا ، رحمت والا ہے ، اگر ان کے کئے پر ان کا مؤاخذہ کرے ، تو فورا ان پر عذاب بھیج دے ، بلکہ ان کے لئے ایک معیاد ہے اس سے ادھر کہیں پانہ کی جگہ نہ پائیں گے ۔

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں (سدوم وغیرہ کی) ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا جب وہ ظالم ہوگئی تھیں اور ہم نے ان کی ہلاکت کا وقت مقرر کیا تھا ،

(ف 1) یہ ان کی قساوت قلبی اور بدبختی کی انتہائی صورت ہے کہ دل مسخ ہوگئے ہیں ، اور کانوں میں حق کے لئے قوت سماعت نہیں رہی ۔ یہ یاد رہے کہ یہ محض ایک انداز بیان ہے ورنہ اعراض و غفلت کی کوتاہیاں ہمیشہ ان سے سرزد ہوئیں ، انہوں نے خود دلوں کو تعصب وعناد کی تاریکیوں سے آلودہ رکھا اور کانوں کو حق کی آواز سے نا آشنا اللہ اس کیفیت تغافل و انکار کو دلوں پر پردہ ڈال دینے سے تعبیر کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے ، ان لوگوں نے بھی اس بات پر اعتراض نہیں کیا ، کہ قرآن ہمیں ناقابل اصلاح ٹھہراتا ہے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ بالکل ہمارے ارادوں کی ترجمانی ہے ۔ حل لغات : موئلا : مرجع وماوی :
Ayahs 18:60–70

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جوان سے کہا کہ میں برابر چلوں گا ، جب تک مجمع بحرین پر نہ پہنچوں یا میں قرنوں تک ہی چلتا جاؤں (ف 1) ۔

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب دونوں مجمع بحرین پر پہنچ گئے ، تو دونوں اپنی مچھلی بھول گئے ، پھر مچھلی نے دریا میں سرنگ بنا کر اپنی راہ نکال لی ،

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

پھر جب دونوں آگے نگل گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جوان سے کہا کہ ہمارا صبح کا کھانا لا ، ہم نے اپنے اس سفر میں تکلیف اٹھائی ہے ۔

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

بولا تونے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا ، میں مچھلی بھول گیا ، اور اس کا ذکر کرنا مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا اور اس نے عجب طور سے دریا میں راہ لی ۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا یہی وہ (جگہ) ہے جس کے ہم متلاشی تھے پھر دونوں اپنے نقش قدم شناخت کرتے پیچھے ہٹے ۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

پھر دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جس پر ہم نے اپنی طرف سے رحمت کی تھی اور اپنے پاس سے ہم نے اسے علم سکھلایا تھا ۔

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کیا میں اس شرط پر تیری پیروی کروں کہ جو بھلائی تجھے سکھلائی گئی ہے تو مجھے سکھلائے ،

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

کہا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر کی طاقت نہ رکھے گا ۔

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور تو کیونکر اس بات پر صبر کرے گا جس کی سمجھ بوجھ تیرے قابو میں نہیں ۔

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

کہا انشاء اللہ تو مجھے صابر پائے گا ، اور میں تیرے کسی حکم کی نافرمانی نہ کروں گا ۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

کہا تو اگر تو میری پیروی کرتا ہے تو کسی بات کا مجھ سے سوال نہ کیجیؤجب تک کہ میں اس کا آپ ہی تجھ سے ذکر کر دوں ،

موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) ! (ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے اس قصہ میں علم کی وسعتوں کی جانب ہماری توجہ کو مبذول کیا ہے ، اور بتایا ہے کہ ایک نبی اور پیغمبر بھی باوجود حصول کمالات کے علم کی پہنائیوں سے پوری طرح بہرہ ور نہیں ۔ ہو سکتا ہے یہ واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی عہد نبوت کا ہو ، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب توراۃ مل چکی اور احکام و فرامین عطا ہوچکے ، تو ضرورت تھی کہ ان احکام کا طریق استعمال انکو بتایا جائے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کے ذریعہ اس ترتیب کا انتظام ہوگیا انہوں نے واقعات کو اس رنگ میں پیش کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قضاء فیصلہ کے اسرار و رموز سے آگاہ ہوگئے ان کو معلوم ہوگیا کہ فیصلہ وقضا کے وقت صرف ظاہری صورت حالات پر بھروسہ کرنا ، بعض اوقات غلط ہوتا ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ فیصلہ سے قبل مقدمہ کی ظاہری وباطنی سطح کا اچھی طرح سے جائزہ لے لیا جائے ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کے متعلق زیادہ تفصیلات قرآن و حدیث میں مذکور نہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ، جو فرعون کے معاصر ومقابل ہیں ، اور بنی اسرائیل کی نجات کے داعی ہیں ، بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ موسیٰ بن میتا بن یوسف ہیں ، امام بخاری (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اس کی تغلیط فرمائی ہے ۔ بہرحال قصہ کا آغاز یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طلب علم کے لئے سفر کرتے ہیں ، ساتھ ساتھ ایک ملازم ہے ، اس کے پاس زادراہ ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی منزل دور ہے ، وہ وہاں پہنچنا چاہتے ہیں ، جہاں دو دریاؤں کا سنگم ہے ملازم سے اثنائے سفر جبکہ تھک جاتے ہیں ، کہتے ہیں کہ کھانا لاؤ ، وہ کہتا ہے کہ حضرت کھانا غائب ہے ، جب آپ سستانے کے لئے پتھر پر بیٹھے تھے اس وقت مچھلی جھولے میں سے نکل کر پانی میں جا گری اور بھاگ گئی ، اب کیا پکائیں اور کیا کھائیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم تھا کہ یہی وہ مقام ہے جس کی ہمیں تلاش ہے ان کو حق تعالیٰ کی طرف سے بتادیا گیا ہوگا کہ جہاں تمہاری مچھلی خود بخود پانی میں جا گرے گی وہی خضر (علیہ السلام) کا مقام ہے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خوشی سے اچھل پڑے آپ نے فرمایا یہی تو وہ جگہ ہے جہاں ہم پہنچنا چاہتے ہیں ۔ حل لغات : حقبا : حقب کی جمع ہے ، طویل مدت کو کہتے ہیں یہ لفظ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طلب صادق کو ظاہر کرتا ہے کہ کیونکر وہ حصول علم کے لئے ساری عمر صرف کردینے کے لئے تیار ہیں ۔ غدآء نا : ناشتہ کھانا ، نصبا : تھکن ، سفر کی کوفت تھکان ، رشدا : ہر خیر کی بات :