17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsسراج البیان

Ayahs 17:74–76

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم تجھے ثابت قدم نہ رکھتے تو تو تو ان کی طرف تھوڑا سا جھک ہی جاتا (ف 1) ۔

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اور اگر ایسا کرتا تو ہم تجھے زندگی میں اور موت کے بعد دونا مزہ چکھاتے ، اور تو اپنے لئے ہم پر کوئی مددگار نہ پاتا ۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور وہ لوگ تو تجھے زمین (مکہ) سے دل برداشتہ کرنے ہی لگے تھے تاکہ تجھے زمین سے نکالیں اور اس صورت میں وہ بھی تیرے بعد وہاں تھوڑے ہی دنوں رہیں گے ۔

پیغمبرانہ ذمہ داریاں : (ف 1) آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے ، بعض کے نزدیک یہ آیت مدنی ہے ، اور بعض کے مکی اس اختلاف کی بنا پر واقعات بھی مختلف ہیں ، یہاں ثقیف والوں کا قصہ بیان کیا جاتا ہے ، کہ وہ چند رعایتوں اور خصوصیتوں کے طالب تھے ، جو اسلامی مساوات کے منافی تھیں ، اور مکہ میں حجر اسود کو قصہ یعنی مکہ والے حضور ﷺ کو مجبور کرتے تھے کہ جس طرح آپ اس پتھر کو بوسہ دیتے ہیں ، اسی طرح آپ ہمارے بتوں کا بھی احترام کریں ، تو کیا مضائقہ ہے ؟ اس آیت کا مفہوم بہرحال واضح ہے ، مخالفین چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کو میٹھی میٹھی باتیں کر کے بہکا دیا جائے اور اسلام کی راہ اعتدال سے منحرف کردیا جائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم اس باب میں کامیاب نہیں ہو سکتے ، نبی اگر صرف انسانی ہو تو تمہارے حربے شاید کارگر ہو سکیں ، مگر وہ پیغمبر بھی ہوتا ہے یعنی نفس بشری کے ساتھ وہ نفس نبوی بھی رکھتا ہے اس لئے اس کو ورغلانا سخت دشوار ہے ، انبیاء کو خاص نوع کا ثبت و استقلال دیا جاتا ہے ، ان کا قلب جبرائیل کا مہبط ہوتا ہے ۔ ان کا دماغ مطلع انوار ہوتا ہے ۔ آیت کا یہ مقصد ہرگز نہیں ، کہ حضور ﷺ واقعی شرک کی جانب مائل ہوگئے تھے یا کفار کی حامی بھری تھی ، اور اللہ نے انہیں ان کے چنگل سے نکالا ، کیونکہ یہ معنی منصب نبوت کے منافی ہیں بلکہ غرض یہ ہے کہ مخالفین اسلام کی کوششیں یہی رہتی تھیں کہ وہ اپنے مقاصد مشومہ کی تکمیل کریں ، اور حضور ﷺ کو جادہ مستقیم سے منحرف کردیں ، اور بات یہ ہے کہ وہ ضروری کامیاب بھی ہوجاتے جس حد تک ان کی مساعی کا تعلق ہے ، اگر آپ پیغمبر نہ ہوتے اور آپ کو اللہ کی جانب سے تثبت الہی کی نعمت نہ دی جاتی ۔ (آیت) ” ضعف الحیوۃ وضعف الممات سے غرض یہ بتانا ہے کہ نبی کی پیغمبرانہ ذمہ دادی کس حد تک اہم ہوتی ہے ، اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عام اختلافی سطح سے بہرحال مند ہو ۔ حل لغات : کادوا : کاد ، قرب واقع کے لئے سے وقوع ضروری نہیں ۔
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

یہ دستور پڑگیا ہے (ف 1) ۔ ہمارے ان رسولوں کا جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا اور تو ہمارے دستور میں تبدیلی نہ پائے گا ،

(ف 1) مشرکین کی دسیسہ کاریوں اور ریشہ دوانیوں کا ذکر ہے کہ یہ لوگ آپ کے وطن سے خارج کرنے کے لئے کس قدر کوشاں ہیں اور کس کس طریق سے یہ آپ کو مجبور کررہے ہیں ، کہ آپ اپنا وطن مالوف ترک کردیں ، مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ انبیاء کی ایذا دہی کے بعد اللہ کا عذاب آتا ہے ، اور مخالفین کی قوتون کو نابود کردیا جاتا ہے ، یہ سنت الہی ہے جس میں خلاف نہیں ہوتا ، چناچہ ہجرت کے دوسرے سال بدر میں ان مکہ کے اکابر سے قدرت نے پوری طرح انتقام لے لیا ، جو حضور ﷺ کو مکہ سے نکال دینے کا موجب بنے تھے ۔
Ayahs 17:78–81

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

سورج ڈھلنے کے وقت سے رات کے اندھیرے تک نماز پڑھا کر ، اور قرآن فجر کو (پڑھا کر) بیشک فجر کا قرآن مشہود ہے (ف 2) ۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور کچھ رات قرآن کے ساتھ جاگتا رہ یہ تیرے لئے زائد حکم ہے ، شاید تیرا رب تجھے تعریف کے مقام میں کھڑا کرے ۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور کہہ اے رب مجھے (مدینہ میں) پسندیدہ طور سے داخل کر ، اور پسندیدہ طور سے (مکہ سے) نکال اور اپنی طرف سے مجھے ایک حکومت کی مدد دے ۔

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور کہہ حق آیا ، اور باطل نکل بھاگا ، بیشک باطل نکل بھاگنے والا ہے ۔

(ف 2) مجوسی سورج کی عبادت کرتے اور عموما اس وقت کرتے جس وقت سورج کامل عروج پر ہو ، قرآن نے نماز کے اوقات ایسے بتانے ہیں جب کہ سورج زوال پذیر ہوجائے ، دلوک : وہ وقت ہے جب سورج افق نور سے ڈھل جائے اور یہ تین دفعہ ہوتا ہے ظہر کے وقت جب سورج پہلی دفعہ زوال پذیر ہوتا ہے عصر کے وقت جب دوسری دفعہ دوسرے مرتبہ میں افق نور سے سورج ڈھلتا ہے ۔ اور تیسری دفعہ جب افق مغرب میں غروب ہوجاتا ہے ۔ لدلوک الشمس : سے غرض یہ ہوگی کہ کلما دلکت الشمس ، غسق اللیل رات کی نماز ہے یعنی عشاء اور قران الفجر ، صبح کی اس طرح پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے ۔ حل لغات : نافلۃ لک : یعنی زیارت و برکت :
Ayahs 17:82–83

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور قرآن میں سے ہم وہ باتیں نازل کرتے ہیں ، جو مومنین کے لئے صحت اور رحمت ہیں مگر ظالموں کا نقصان ہی زیادہ ہوتا ہے ، (ف 1) ۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر فضل کرتے ہیں تو وہ ٹلا جاتا ہے ، اور اپنی کروٹ (شکر سے) دور کرا لیتا ہے اور جب اسے برائی چھوئے تو ناامید ہوتا ہے ۔

حق آگیا : (ف 1) قرآن مجید حق وصداقت ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ باطل اس کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے ، تمام دنیائے کفر کو پکار کر کہہ دیا گیا ، کہ اب تمہاری عمر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے حق ظہور پذیر ہوچکا ہے ، آفتاب نکل آیا ہے ، اب کفر کی تاریکیوں کے لئے گنجائش نہیں ، دنیا میں اب صرف صداقت اور سچائی کی حکومت ہوگی ، اور اسلام کا آفتاب جلوہ افگن ہوگا یہ کیوں ؟ اس لئے قرآن ہی وہ کتاب ہے جو فطرت کے اسرار روموز کے چہرہ پر غور سے نقاب اٹھاتی ہے ، جو حق کی ترجمان ہے جس سے دل کی تمام بیماریاں دور ہوتی ہیں ، اور نعمت مجسم اور شفاء کامل ہے ۔ ہمارے اعتراضات اور شکوک جو دلوں میں پیدا ہوتے ہیں ، اور الحاد وکفر کا موجب بنتے ہیں ، قرآن حکیم میں ان کا بہترین حل موجود ہے کیونکہ یہ خدا کی کتاب ہے اور سینوں کے اسرار سے آگاہ ہے ، دماغ کے خطرات سے واقف ہے اور جس کے سامنے نفس کی مستور خواہشیں بھی واشگاف ہیں مگر ظالم اور حق ناشناس طبیعتیں اس کی برکات سے محروم رہتی ہیں ، اور سوائے خسارہ اور گھاٹے کے ان کے حصہ میں اور کچھ نہیں آتا ۔
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

تو کہہ ہر کوئی اپنے طور طریقے پر کام کرتا ہے سو تیرا رب اسے خوب جانتا ہے جو خوب راہ یافتہ ہے (ف 2) ۔

(ف 2) فطرت انسانی کی کمزوریوں کی طرف اشارہ ہے کہ ناز ونعمت کے وقت محسن کو بھول جاتا ہے اور تکلیف کے وقت مایوس ہوجاتا ہے ، حالانکہ مسرتوں اور خوشیوں میں اللہ کو یاد رکھنا چاہئے تھا ، اور مصیبت میں تو خشوع کے ساتھ اس کے سامنے زیادہ جھکنا چاہئے تھا ، یہ اکثریت کا مرقع ہے اللہ کے ایسے بندے بھی ہیں جو دونوں حالتوں میں شاکر رہتے ہیں نہ دنیا کی آسائشیں اس کے لئے وجہ ابتلاء ہوتی ہیں ، اور نہ مصیبتیں باعث لغزش : حل لغات : زھق : زھوقا کے معنی نابود اور ہلاک ہونے کے ہیں یعنی نیست اور ضائع ہوگیا ، شاکلتہ : صورت ، نہج اور طریق ، امر : بات حکم ارادہ ، منشاء وغیرہ ۔
Ayahs 17:85–91

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور روح کی بابت تجھ سے پوچھتے ہیں تو کہہ روح میرے رب کے حکم سے ہے ، اور تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے (ف 1) ۔

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے تیری طرف نازل کی ہے اسے لے جائیں پھر تو اپنے لئے ہم پر کوئی وکیل نہ پائے کہ لائے ۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر تیرے رب کی مہربانی سے ، کیونکہ تجھ پر اس کا بڑا فضل ہے ۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

تو کہہ ، اگر سب آدمی اور جن ایسا قرآن لانے پر جمع ہوجائیں ، تو اس کی مانندہر گز نہ لاسکیں گے ، اگرچہ بعض بعض کے مددگار ہوں ۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے آدمیوں کے لئے اس قرآن میں ہر ایک مثال کو طرح طرح سے بیان کیا ہے پھر بھی اکثر لوگوں نے ناشکری ہی کی ۔

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہا کہ ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تو زمین سے ہمارے لئے ایک چشمہ جاری کرے ،

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تیرے لئے کھجور اور انگور کا کوئی باغ ہو ، پھر تو اس کے درمیان نہریں جاری کرے ۔

(ف 1) یہاں کس روح کے متعلق پوچھا جا رہا ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے قرآن نے روح کو متعدد معانی میں استعمال کیا ہے ، روح جبرائیل (علیہ السلام) کو بھی کہتے ہیں اور قرآن کو بھی اس طرح روح مراد روح حیوانی بھی ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے ، مفسرین کی اکثریت کی رائے یہ ہے یہ یہاں روح سے متعارف روح مراد ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ، اس قسم کے سوالات کا تعلق مذہب سے نہیں ہے ، پیغمبر کے فرائض میں یہ چیز داخل نہیں ہے کہ وہ تمہیں روح کی حقیقت سمجھائے وہ اس لئے آیا ہے ، تاکہ روح کو جو کچھ بھی وہ ہے تازگی اور نمود بخشے ، اسے تزکیہ وتطہیر سے اس قابل بنائے کہ وہ فضائے قدس میں پرواز کرسکے تمہارا علم محدود ہے ، تم اس کی گہرائیوں کو نہیں پا سکتے تمہارے لئے یہ ناممکن ہے کہ اس کی حقیقت کو سمجھ سکو ، آج بھی جبکہ ہمارا علم ترقی کرچکا ہے ہم روح کے متعلق بہت کم جانتے ہیں اور آئندہ بھی ہم بہت زیادہ نہیں جان سکیں گے ، کیونکہ ہمارا علم صرف محسوسات تک محدود ہے ، اور وہ بھی ناقص طریق پر ، ہمارے لئے کسی چیز کی پوری حقیقت سے آگاہ ہونا ناممکن ہے ۔ حل لغات : ظھیرا : پشت پناہ :
Ayahs 17:92–94

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسے تو کہا کرتا ہے آسمان کو ہم پر ٹکڑے ٹکڑے گر ادے ، یا تو فرشتوں کو اور اللہ کو سامنے لے آئے (ف 1) ۔

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا کوئی سونے کا گھر تیرے پاس ہوجائے یا تو آسمان پر (ہمارے سامنے) چڑھ جائے ، اور ہم تیرے چڑھنے پر پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے ، جب تک کہ تو ہم پر ایک کتاب نہ اتارے کہ ہم اسے پڑھ لیں تو کہہ مرا رب پاک ہے ، میں تو ایک بھیجا ہوا آدمی ہوں ۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور لوگوں کو ایمان لانے سے جب ان کے پاس ہدایت آئی صرف اسی بات نے روکا ہے کہ وہ بولے کیا اللہ نے ایک آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے ،

پیغمبروں کا دائرہ اختیار : (ف 1) قرآن بےمثل اور بےنظیر صحیفہ آسمانی ہے ، انسانی ذہینت اور طاقت میں اس کا جواب ممکن نہیں ، اس میں ہر نوع کے لوگوں کے خیالات ملحوظ رکھے ہیں ، ایک عامی انسان سے لے کر فیلسوف ودانا تک کے لئے اس میں ہدایت ہے ، ہر دل و دماغ کے لوگ اس کی نعمتوں سے استفادہ کرسکتے ہیں ، اور ہر قسم کی ترقی حاصل کرسکتے ہیں مگر یہ بدبخت مکہ والے ، جن کی ذہینت مسخ ہوچکی ہے کم بختیوں میں مبتلا ہیں ، بجائے اس کے کہ اس نسخہ کیمیا سے فائدہ حاصل کریں ، بلاضرورت معجزات طلب کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں جناب ہم تو جب مانیں گے جب یہاں مکہ کی سنگلاخ زمین میں پانی کے چشمے پھوٹ نکلیں یا یہاں انگور اور کھجوروں کے باغات ہوں ، یا آپ اتنے امیر اور متمول ہوں ، کہ آپ کا مکان سونے کا ہو ، یا آسمان پر آپ ہماری آنکھوں کے سامنے چڑھیں ، اور کتاب لے آئیں ، اور یا پھر عذاب ہی آجائے اور آسمان ہم پر ٹوٹ پڑے ، جیسا کہ اکثر آپ کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ان سے کہہ دیجئے تم لوگ منصب نبوت کو نہیں سمجھے ، بھلا ان خوارق کا آپ سے کیا تعلق ؟ آپ تو رسول ہیں اور انسان ہیں ، اور پابند ہیں ، کہ احکام الہی کی پیروی کریں ، اس لئے تمہاری خواہشات کی تکمیل بلا ارادہ الہی از خود نہیں کرسکتے ، اگر تمہاری آنکھیں بینا ہوں ، تو نفس نبوت اور روح پیغام کو دیکھو ، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صفحات قرآن میں کس قدر معانی کے دریا بہہ رہے ہیں ، انگور اور کھجور تو کیا چیزیں ہیں ، حکمت و دانائی کے کتنے بار آور شجر اس میں موجود ہیں جن کے پھل سے دنیا ہمیشہ شیربن کام رہے گی ، تم قرآن کے احکام پر عمل پیرا رہ کر دیکھو ، تو تمہیں چاندی سونے کے محلات بھی یہی مل جائیں ، اور قیصر و کسری کے سربفلک قصور کو فتح کر لوگے اور تمہاری فتوحات اور کامرانی کا غلغلہ بلند ہوگا ، اور تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اسلام واقعی اللہ کا مذہب ہے ، جو ہر طرح ارفع واعلی ہے ۔ حل لغات : ینبوعا : وہ چشمہ جو ابل رہا ہو ، بڑا چشمہ ۔ فتیلا : صف بصف مقابل ، زخرف : اصل معنی زینت اور آرائش کے ہیں سونے پر بھی اس کا طلاق ہوتا ہے ۔
Ayahs 17:95–96

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

تو کہہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے ، تو ہم ان پر آسمان سے ایک فرشتہ رسول بنا کر بھیجتے (ف 1) ۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

تو کہہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے بیشک خدا اپنے بندوں سے خبردار ہے دیکھنے والا ۔

(ف 1) دراصل وجہ اعتراض یہ تھی کہ ان کے خیال میں انبیاء (علیہم السلام) بشر نہیں ہونا چاہئیں وہ یہ سمجھتے تھے کہ نبوت فوق البشر لوگوں کا حصہ ہے ان کی نخوت و غرور کو گوارا نہیں تھا ، کہ ان کا ہم جنس انسان نبوت کے خلعت سے نوازا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت معقول جواب دیا ہے ، کہ کم بختو ! زمین پر جب تم جیسے انسان رہتے ہیں تو انبیاء بھی انسانوں میں سے ہونا چاہئیں ، تاکہ تم صحیح معنوں میں ان کی اطاعت کرسکو ، اور یہ نہ کہہ سکو ، کہ صاحب ہم فرشتوں کی پاکبازی کو کب پہنچ سکتے ہیں عجیب بات ہے جو بات تمہارے بھلے کی ہے اسی سے تمہیں چڑ ہے ، اور اس بات کے تم مخالف ہو ۔
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جسے اللہ ہدایت کرے وہی ہدایت پر ہے اور جسے گمراہ کرے ان کے لئے اس کے سوا تو کسی کو رفیق نہ پائے گا ، اور ہم قیامت کے دن انہیں اوندھے منہ (ف 2) اندھے اور گونگے اور بہرے کرکے اٹھائیں گے ۔ ان کا ٹھکاناہ جہنم ہے جب جہنم بجھنے لگے گی ہم ان پر زیادہ آگ بھڑکادیں گے ۔

کافر منہ کے بل چلیں گے : (ف 2) اللہ کی ہدایت تو عام ہے ، سب لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر کچھ لوگ جان بوجھ کر گمراہی مول لیتے ہیں اور حقائق کی جانب سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں واقعات کو دیکھتے ہیں مگر عبرت حاصل نہیں کرتے ، یہ ایسے لوگ ہیں ، جن سے ہدایت کی قابلیت چھن جاتی ہے ۔ اور محرومی وبدبختی کی زندگی بسر کرتے ہیں ان لوگوں کے متعلق ارشاد ہے کہ جب اللہ نے انہیں ہدایت نہیں دی ، اور یہ تعصب وجہالت کی وجہ سے اسلام کی روشنی سے فیضیاب نہیں ہوئے ، تو اب کون انہیں سمجھا سکے گا ؟ کون ان کا مددگار اور چارہ ساز ہو سکے گا ؟ ان لوگوں کو جہنم میں منہ کے بل چلایا جائے گا ، یہ ایک نوع کی سزا ہے ، جس طرح دنیا میں انہوں نے ہمیشہ سیدھی راہ کی مخالفت کی ، اور ہمیشہ راہ صواب سے ہٹ کر چلے ، اسی طرح آخرت میں انہیں سلامت دومی نصیب نہ ہوگی اور کہا جائے گا کہ دنیا میں تم نے اپنے لئے کج روی پسند کی تو آج یہاں تمہاری سزا یہی ہے کہ منہ کے بل چلو ، حضور ﷺ سے پوچھا گیا ، کہ یہ لوگ منہ کے بل کس طرح چل سکیں گے آپ نے فرمایا ، جس طرح اب پاؤں کے بل چلتے ہیں یعنی جو خدا انہیں پاؤں کے بل دنیا میں چلا رہا ہے ، وہ عقبی میں منہ کے بل چلانے پر قادر ہے اس بات میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
Ayahs 17:98–99

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کا بدلہ ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور بوسیدہ ہوگئے ہم پر نئی پیدائش (ف 1) ۔ میں جی اٹھیں گے ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس پر نظر نہیں کی کہ جس خدا نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ، وہ ان کی مانند پیدا کرنے پر قادر ہے ، ان کے لئے ایک وقت (موت کا) ٹھہرایا ہے جس میں کچھ شبہ نہیں ، سو ظالم بغیر ناشکری کئے نہیں رہتے ۔

(ف 1) آخرت کے متعلق ایک گروہ کو ہمیشہ شک رہا ہے اور آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں ، جنہیں عاقبت کا یقین نہیں اسی لئے قرآن حکیم نے اس شبہ کو کوئی صورتوں میں ذکر فرمایا ہے ، اور جواب دیا ہے تاکہ ہر زمانہ کے متشکک لوگ تسلی و اطمینان حاصل کریں ، اللہ فرماتے ہیں کہ زمین وآسمان کو پہلی دفعہ پیدا کرنے میں ہمیں کوئی تکلف نہیں ہوا ، تو اب فنا کے بعد بھی انہیں دوبارہ منقہ شہود پر لایا جاسکتا ہے ، جو چیز ایک مرتبہ بغیر کسی وسیلہ مادی کے پیدا ہو سکتی ہے اس کا ہزار مرتبہ یونہی پیدا ہونا بھی ممکن ہے ، البتہ اگر تمہیں اللہ پر یقین نہیں اور تم اللہ کو نہیں مانتے ، تو پھر حشر ونشر کے کوائف پر معترض ہونا یقینا غلط ہے ، ہونا یہ چاہئے کہ نفس خدا کے مسئلہ کا پہلے بحث کرلی جائے ۔
Ayahs 17:100–102

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

تو کہہ ، اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس خوف سے کہ سب رحمتیں خرچ نہ ہوجائیں انہیں بند ہی کر رکھتے اور انسان دل کا تنگ ہے (ف 2) ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے پوچھ کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس آیا ، تو فرعون نے اسے کہا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں تجھے جادو کا مارا ہوا سمجھتا ہوں ۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) بولا کہ تو جان چکا ہے کہ ان کو سوائے آسمان و زمین کے رب کے اور کسی نے نازل نہیں کیا یہ سوجھانے کے لئے ہیں اور اے فرعون میں تجھے ہلاک ہونے والا سمجھتا ہوں ۔

(ف 2) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ دراصل اس قسم کے شبہات تمہارے دل میں اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ تمہیں ان مسائل کے سمجھنے میں الجھن ہوتی ہے یا یہ مسائل ناقابل فہم ہیں ، بلکہ یہ انکار وتمرد محض اس لئے ہے کہ تم حضور ﷺ کی نبوت کو فراخدلی کے ساتھ برداشت نہیں کرسکے ، تمہارے دلوں میں بخل ہے اور تم نہیں چاہتے کہ محمد ﷺ یوں ان معارف کو ہر کس و ناکس کے سامنے پیش کریں اس میں تم اپنی توہین سمجھتے ہو نبوت کے خزانے اگر تمہیں ہلتے تو تم اس دریا دلی سے ہرگز خرچ کرتے تمہیں رنج ہے ، تو یہ ہے کہ ہدایت عام ہوئی جاتی ہے ، اور تم بڑے بڑے لوگوں کے لئے کوئی وجہ تخصیص نہی رہی ۔ بات یہ ہے کہ انسان فطرتا بخل پسند ہے ، کشادہ دلی کے ساتھ دوسروں کی خوبیاں تسلیم نہیں کرتا ، اور ایک شخص کے فضائل و محاسن کا محض اس لئے انکار کردیتا ہے ، کہ وہ خود کیوں ان سے متصف نہیں ۔ حل لغات : قتورا : بخیل ، تنگ دل ، قتر سے بنا ہے جس کے معنی تنگی اور ضیق کے ہیں ۔ تسع ایت : تو معجزے جو فرعون کو دکھائے گے تھے ،
Ayahs 17:103–105

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

پھر فرعون نے انہیں اس ملک میں بےچین رکھنا چاہا (ف 1) ۔ پھر ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کردیا ۔

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم زمین میں بسو ، پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں سمیٹ کر جمع کر لائیں گے ۔

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے سچ کے ساتھ اسے نازل کیا اور وہ سچ کے ساتھ نازل ہوا اور ہم نے تجھے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف مژدہ سنانے اور ڈرانے کیلئے بھیجا ہے ،

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بن اسرائیل کی آزادی کے لئے تشریف لا کے اور فرعون کو بہت سی نشانیاں دکھائیں اور کہا کہ میں خدا کی طرف سے حریت وآزادی کا پرچم لہرانے آیا ہوں ، میں اس لئے مبعوث ہوا ہوں کہ بنی اسرائیل کی غلامی کو دور کروں ، اور تجھے کیفر کردار تک پہنچاؤں تو فرعون نے از راہ کبر کہا میری رائے میں تمہارا دماغ صحیح نہیں ہے ، میری حکومت کو کون الٹ سکتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ، مجھے اپنی حقانیت پر یقین ہے اور دل میں تو بھی جانتا ہے کہ مجھے میرے رب نے بھیجا ہے ، اور بصائر و دلائل سے نوازا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارے لئے ہلاکت مقرر ہوچکی ہے ، اور تم عذاب الہی سے بچ نہیں سکتے ہو نتیجہ یہی ہوا کہ موسیٰ کی پیشگوئی پوری ہوئی ، اور فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوا ۔ غرض یہ ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں فرعون کامیاب نہیں ہوا ، اسی طرح آپ کے مقابلہ میں یہ لوگ بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے ، اللہ تعالیٰ کا ہمہ گیر قانون یہ ہے ، کہ صداقت کے علم کو بلند کیا جائے ، اور جھوٹ کر سرنگوں کیا جائے ، یہ ناممکن ہے کہ حق پرستوں کی جماعت رسوا اور ذلیل ہو ، اللہ اپنے بندوں کی بہرحال حمایت کرتا ہے اور انہیں ہر قسم کے ابتلاء میں کامیاب فرماتا ہے ۔ حل لغات : انی لا ظنک یفرعون : ظن کے معنی یہاں یقین کے ہیں قرآن نے کثرت سے ظن کو یقین کے معنوں میں استعمال فرمایا ہے ، مثبورا : ملعون ، تباہ حال ، خائب و خاسر ، ہلاک وغیرہ ۔ لفیفا : اکٹھے ، یہ اسم جمع ہے اسمعی کی رائے میں جمع ہے جس کا واحد موجود نہیں ۔
Ayahs 17:106–108

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو پڑھنے کا وظیفہ کیا جدا جدا کرتے تاکہ تو ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کے سامنے اسے پڑھے اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا (23 برس تک) (ف 1) ۔

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

تو کہہ (اے اہل مکہ) تم قرآن پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ بیشک وہ جنہیں قرآن سے پہلے علم دیا گیا ہے ہے (اہل کتاب) جب یہ قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں پر گر کر سجدہ کرتے ۔

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ ضرور ہونا ہے ۔

(ف 1) قرآن حکیم بتدریج نازل ہوا ہے ، واقعات کے مطابق اترا ہے تاکہ سینوں میں محفوظ رہے ، اور لوگ اپنی ضروریات کا حل اس میں دیکھ کر اس کی صداقت کے قائل ہوں ، کیونکہ کلام جو باموقع اور برمحل ہو زیادہ موثر اور زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے ۔
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور روتے ہوئے ٹھوڑیوں پر گرے تھے اور قرآن ان کی عاجزی بڑھاتا ہے ، (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی قرآن حکیم کی خوبیاں مسلم ہیں ، وہ لوگ جو صاحب علم ہیں ، جنہیں اللہ کے کلام سے ذوق ہے ، وہ جب اس کو سنتے ہیں ، تو سر دھنتے ہیں ، اور اظہار تشکر کے لئے بارگاہ الہی میں سربسجود ہوجاتے ہیں ، انہیں خوب معلوم ہے کہ یہ کلام انسانی دماغ کا اختراع نہیں ، تم اگر اس نعمت سے محروم ہو ، اور اس کو نہیں مانتے ، تو اس کی وجہ سے قرآن کے فضائل میں کمی نہیں ہوتی ، کیونکہ ذوق سلیم رکھنے والے لوگوں میں اس کو مقبولیت تامہ حاصل ہے ۔
Ayahs 17:110–111

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

تو کہہ اللہ کو پکارو ، یا رحمن کو پکارو ، جس نام سے پکارو ، سو اس کے اچھے نام کئی ایک ہیں اور تو اپنی نماز میں نہ پکار ، اور نہ چپکے پڑھ ، اور اس کے درمیان کی راہ تلاش کر (ف 3) ۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہہ اللہ قابل تعریف ہے جس نے کوئی بیٹا نہیں لیا اور اس کی سلطنت میں کوئی اس کا شریک نہیں اور ذلت سے بچانے کو کوئی اس کا دوست نہیں اور اس کی پوری بڑائی کو ،

ہر زبان میں خدا کا نام لو ! (ف 3) قرآن حکیم تمام بنی آدم کی مشترکہ کتاب ہے ، اس لئے اس میں یہ التزام ہے کہ تمام اختلاف افگن چیزوں کی مخالفت کرے ، اور روح مذہب کے مرکز پر سب کو جمع کر دے ، اور ان تمام تفریقات کو مٹا دے ، جن کی وجہ سے ردائے انسانیت تار تار ہوجاتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ، کہ اللہ کو پکارو ، یا رحمن کو یاد کرو ، سب جائز ہے ، بشرطیکہ خدا کے جمال و جلال کو ملحوظ رکھا جائے یعنی یہ لفظی اختلاف کہ ” اللہ “ تو ہمارا خدا ہے اور رحمن مسلمانوں کا خدا ہے ، ناقابل التفات ہے ، سارے اچھے نام اور تمام اچھی صفتیں اللہ کے ساتھ متصف ہو سکتی ہیں ، تم خدا کو جس نام کے ساتھ چاہو ، یاد کرو ، یہ لفظی اختلافات ہیں ، خدا بہرحال ایک ہے اور وہی سب کا مالک و خالق ہے ، اور سب کے لئے یکسان لائق احترام و عبادت ہے ، ان اختلافات اسمی سے اس کی ذات میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا ، کیا پانی کو ، آب ’ ماء ، اور واٹر کہہ دینے سے اس کی حقیقت بدل جاتی ہے ۔ جب نہیں بدل جاتی ، تو اللہ کو مختلف زبانوں میں تعبیر کرنے سے کیوں کفر لازم آئے ؟ بات یہ ہے کہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کا ایک نہایت محترم اور لائق فہم تخیل پیش کیا ہے ، جس میں تجسم وحلول کا شائبہ تک نہیں ، اس لئے اگر اس تخیل کو پیش نظر رکھا جائے ، تو پھر مختلف زبانوں میں اس کا نام لینا قابل اعتراض نہیں رہتا ۔ آداب دعاء میں یہ ہدایت فرمائی کہ نہ تو بلند آواز میں ہو ، کہ خشوع و خضوع پیدا نہ ہو سکے ، اور نہ اس قدر آہستہ ہو ، کہ کان بھی نہ سنیں ، بلکہ درمیان راہ اختیار کی جائے ، کیونکہ اسلام تو کہتے ہی اس طریق کو ہیں جو وسط اور درمیانی ہو ۔