17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsسراج البیان

Ayahs 17:36–41

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور جس بات کا تجھے علم نہیں اس کے درپے نہ ہو ، بیشک کان ، اور آنکھ ، اور دل ، ان سب کی اس سے پرسش ہوگی (ف 1) ۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین میں اتراتا ہوا نہ چل نہ تو زمین پھاڑ سکتا ہے ، اور نہ پہاڑوں کی بلندی پر پہنچ سکتا ہے ۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب باتوں کی برائی تیرے رب کو ناپسند ہے ،

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ تعلیم اس حکمت سے ہے جو تیرے رب نے تجھے وحی کی ہے ، اور اللہ کے ساتھ دوسرے معبود نہ ٹھہرا ورنہ تو ملزم راندہ ہو کر جہنم میں ڈالا جائے گا ،

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

کیا تمہیں خدا نے بیٹوں کے لئے چن لیا اور آپ فرشتوں میں سے بیٹیاں لے بیٹھا ہے ؟ تم بڑی بات بولتے ہو ۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے سمجھایا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں ، اور یہ ان میں نفرت ہی بڑھاتا ہے ۔

حرمت نفس اور دیگر اخلاقی نصائح : (ف 1) ان تمام اخلاق وآداب کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے تعبیر کیا ہے یعنی بہترین دانائی یہ ہے ، کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے ، جو شخص اللہ اور اس کے بندوں کو نہیں پہچانتا ، وہ بیوقوف اور بےعقل ہے ۔ اس سے قبل والدین کی اطاعت ، توحید ، عزیزوں اور قرابت داروں کے متعلق حسن سلوک کی تلقین کی تھی ، اسراف وتبذیر سے روکا تھا ، میانہ روی اور اقتصاد پر ابھارا تھا عربوں کو قتل اولاد کے فعل شفیع سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے جب اس نے پیدا کیا ہے ، تو وہ اس کے لئے رزق کا سامان بھی پیدا کر دے گا تم محض بھول اور افلاس کی وجہ سے ان کی موت نہ چاہیؤ۔ زنا کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ بدترین فعل ہے اس سے نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں ، جرات و غیرت تباہ ہوجاتی ہے ، قوم میں بزدلی اور جبن (بددلی) پیدا ہوجاتا ہے اور اخلاقی لحاظ سے قوم مردہ ہوجاتی ہے ۔ ان آیات میں چند اخلاقی احکام اور فرامین ہیں جو یہ ہیں ۔ 1۔ حرمت نفس : یعنی یہ جائز نہیں کہ ، بلا کسی وجہ کسی شخص کو زندگی کے حق سے محروم کردیا جائے ، کیونکہ اس طرح دنیا میں ابتری اور بدنظمی پھیل جاتی ہے ۔ 2۔ یتیم کی عزت ، یتیم کے مال کو اس کے مفاد کے لئے صرف کرو ، اور جب تک وہ جوان نہ ہو ، دیانتداری کے ساتھ مال کی نگہداشت کرو ، 3۔ پورا پورا تولو ، اور پورا ماپ کردو 4۔ بےتحقیق بات نہ مانو ، کیونکہ اللہ نے قلب و دماغ کو ذمہ دار اور مسؤل بنایا ہے ۔ 5۔ فکر کا اظہار نہ کرو ۔ (6) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ یہ عام معاملات کی باتیں ہیں ، جن پر دنیا کا نظام حکمرانی قائم ہے ، جب تک ان باتوں پر عمل نہ ہو ، دنیا کا امن مخدوش رہتا ہے ، اسلام چونکہ فطرتا استعماری وتمدنی مذہب ہے ، اس لئے وہ ان اساسی حقائق کو پوری اہمیت کے ساتھ ظاہر کرتا ہے ۔ حل لغات : لاتقف : تتبع نہ کر ، پیچھے نہ لگ ۔ مرحا : اظہار مسرت میں غلو ، اترانا تکبر کرنا ۔ مدحورا : راندہ ہوا ، دحر کے معنی ہیں ، دفع کرنا ، چلانا ، اور دور پھینکنا ۔
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

تو کہہ اگر اس کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسے وہ کہتے ہیں تو وہ سب صاحب عرش کی طرف ومنازعت کی راہ نکالتے (ف 1) ۔

(ف 1) اللہ کی توحید خالص اسلامی عقیدہ ہے ، جس کو قرآن حکیم نے مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے ، کبھی مظاہر فطرت کی یکسائی کو تائید میں پیش کیا کبھی خود نفس انسانی کی بوالعجیبوں کی طرف توجہ دلائی کبھی مشرکین کے عقائد کی تردید کی ، اور فرمایا کہ شرک عقلا محال ہے چناچہ اس آیت میں مشرکین کے عقیدہ شرک پر اعتراض کیا ہے ارشاد ہے کہ اگر واقعی یہ بت خدا ہیں ، جنہیں تم پوجتے ہو ، تو پھر ہونا یہ چاہئے کہ انہیں صاحب عرش کا قرب خاص حاصل ہو ، اور اللہ کے نزدیک یہ ذی مرتبت وجاہت ہوں ورنہ تمہیں یہ قرب کیونکہ عطا کروا سکتے ہیں ؟ جبکہ خود درجہ قرب سے محروم ہیں ، آیت کا دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ مگر اللہ کے سوا اور خدا بھی موجود ہیں تو پھر اللہ کے ساتھ انہیں ہر بات میں تعرج کرنا چاہئے ، لڑائی اور فساد ہونا چاہئے ، اور پھر اس صورت تخالف میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجاؤ لازم ہوا ۔
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک اور بالاتر ہے اس سے جو وہ کہتے ہیں ، بہت بلند ہے (ف 2) ۔

(ف 2) یہ کلمہ تقدیس قرآن حکیم اللہ کے تخیل کو نہایت اعلی سے پاک ہے اس کی لزاہت ووحدانیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بےمثل ہو ، کسی وصف میں اس کا کوئی شریک اور مددگار نہ پایا جائے ، وہ ہر لحاظ سے جسم ومکان سے بھی بےنیاز ہو ،
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو ان میں ہے سب اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اور کوئی شے نہیں ہے ، جو اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو ، لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے وہ بردبار بخشنے والا ہے (ف 3) ۔

اللہ کی تسبیح ! (ف 3) یعنی اس کے لئے شرک کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی حمد و ستائش کر رہا ہے ، اور عمل وقول سے اطاعت شعاری کا اظہار کر رہا ہے ، ہر چیز تسبیح کناں ہے ، اگرچہ ناشکرا اور نافرمان انسان اشیاء کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتا ، مگر یہ حقیقت ہے کہ سب چیزیں اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے ، کہ ہر شے کے لئے قدرت کے تولید اور بقاوفنا اور فطرت کی جانب سے ایک قاعدہ مقرر ہے ، ہر چیز مقروہ نظام کے ماتحت برقرار اور قائم ہے ، یہ اطاعت شعاری اور فطرت کے قوانین کی پابندی بےجان چیزوں کی تسبیح ہے ۔ حل لغات : سبیلا : جھگڑے اور فساد کی راہ یا تقرب کا راستہ :
Ayahs 17:45–46

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیدہ پردہ ڈال دیتے ہیں ، (ف 4) ۔

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر ایک ڈھکنا رکھتے ہیں کہ قرآن کو نہ سمجھیں ‘ اور ان کے کانوں میں گرانی ڈالتے ہیں ، اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا وحدانیت کے ساتھ ذکر کرتا ہے ، تو نفرت کرکے اپنے پیٹھ پھیر کر الٹے بھاگتے ہیں ،

(ف 4) غرض یہ ہے کہ کفار اپنی فطری صلاحیتوں کو ضائع کرچکے ہیں کہ ان میں قبول کا مادہ نہیں رہا ، جب یہ قرآن سنتے ہیں ، تو تعصب وجہالت کی دیواریں انکے آگے کھڑی ہوجاتی ہیں ، اس لئے استفادہ سے محروم رہتے ہیں ۔
Ayahs 17:47–50

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کس نیت سے قرآن سنتے ہیں ، (یعنی ہنسنے کو) جب تیری طرف کان لگاتے اور جب آپس میں مصلحت کرتے ہیں ، جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو کے مارے ہوئے کے پیرو ہو (ف 1) ۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھ تجھ پر کیسی مثالیں ، بٹھاتے ہیں اور گمراہ ہوتے ہیں ، سو راہ نہیں پاسکتے ۔

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں ، اور چورا ہوگئے تو کیا ہم نئی پیدائش میں اٹھیں گے ؟

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

تو کہہ ، تم پتھر ہوجاؤ ، یا لوہا بن جاؤ ،

حضور ﷺ سحر زدہ نہیں تھے ! (ف 1) حضور ﷺ کو سحر زدہ کوتاہ نظری کی وجہ سے کہتے تھے ، جب دیکھتے کہ نبوت کے اسرار ان کی سمجھ سے بالا ہیں اور اسلام کے عجیب و غریب نظام کو سمجھنے کی صلاحیت ان میں موجود نہیں تو حیرت واستعجاب میں ڈوبے ہوئے اس کیفیت نافہمی کو جادو وسحر کی جانب منسوب کردیتے ، بات یہ ہے کہ نبوت انتہاء درجے کی دانائی وعقل کا نام ہے ، نبی فہم و فراست کے لحاظ سے انسانیت کا آخری نقطہ ہوتا ہے ، اس کے اعمال وافعال میں نظم وترتیب قائم رکھنے کیلئے پیغمبرانہ بصیرت کی حاجت ہے ، جو لوگ اس بصیرت وآگاہی سے محروم ہوتے ہیں ، وہ سہل اندیشی کی بنا پر کہہ دیتے ہیں ان کے اعمال میں ترتیب اور غرض ومقصد کی سطحیت نہیں اس لئے یہ دیوانہ یا سحر زدہ ہے ، ورنہ اصل میں پیغمبر نہایت بلند نگاہ انسان ہوتا ہے ، جس طرح ایک گنوار شائستہ اور مہذب شہری کے اعمال وافعال سمجھنے سے قاصر ہے ، اور وہ مجبور ہے کہ اس کی بعض حرکات کو محض جنون سے تعبیر کرے ، اسی طرح یہ گنوار بھی مجبور تھے کہ حضور ﷺ کے اعمال کو جنون وسحر کہیں ۔ حل لغات : وترا : بوجھ ، ثقل ۔ وفاتا : ماتکر وتفرق من لمتین ۔ ہڈیوں کا ٹوٹ کر اور بوسیدہ ہو کر بھوسے کی طرح چورا ہوجانا ۔
Ayahs 17:51–54

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور مخلوق جو تمہیں بڑی معلوم ہو ، پھر وہ کہیں گے کہ ہمیں کون پھر الٹے گا ؟ تو کہہ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا ، پھر تیری طرف اپنے سر ہلائیں گے اور (ٹھٹھے سے) کہیں گے ” قیامت کب ہوگی ؟ تو کہہ شاید (ف 1) ۔ وہ نزدیک ہی ہو ۔

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا ، پھر تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور گمان کرو گے کہ ہم تھوڑی دیر رہے ۔

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے بندوں سے کہہ کر وہ ہی بات بولیں جو بہتر ہے ، شیطان ان میں آپس میں لڑائی کرتا ہے ، بیشک شیطان آدمی کو صریح دشمن ہے ۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے ، گر چاہے تم پر رحم کرے ، یا چاہے تمہیں عذاب دے ، اور ہم نے تجھے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا ۔

(ف 1) مکہ والوں کا ایک شبہ آپ کی تعلیمات کے متعلق یہ تھا کہ اس میں حشر ونشر کے کوائف کا ذکر ہے ، وہ کہتے تھے ، یہ کیونکر ممکن ہے ، کہ مرا ہوا انسان جی اٹھے ، اور مردہ ہڈیوں میں حرکت وعمل پیدا ہوجائے ان کے خیال میں یہ زندگی جب ختم ہوجائے تو پھر اس کا اعادہ نہیں ہو سکتا ، اور ہم ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو جاتے ہیں ، قیامت اور حشراجساد کا عقیدہ ان کے لئے نہایت حیرت انگیز تھا ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے ، تمہیں اس میں کیا اعتراض ہے ، کیا اللہ نے تم کو کتم عدم سے لا کر وجود کی دنیا میں آباد نہیں کیا ہے ، کیا اس نے تمہیں بغیر کسی مادی ذریعہ کے پیدا نہیں کیا ؟ جب اسی نے اس سے پہلے تمہیں پیدا کیا تھا ، تو وہ تمہیں پھر بھی زندگی بخش سکتا ہے ، جب حقائق واسباب کو اسی نے پیدا کیا ہے تو اس کے اختیار میں یہ بھی ہے کہ ان کو بدل بھی دے وہ پتھر اور لوہے کو انسانوں میں تبدیل کرسکتا ہے ، اس لئے قرآن کہتا ہے ، کہ تم جو کچھ بھی ہوجاؤ تم میں لوہے اور پتھر کی سی سختی اور صلاحیت بھی پیدا ہوجائے تب بھی وہ تمہیں زندہ انسانی صورت میں تبدیل کر دے گا ، یہ سب کچھ اس کے اختیار میں ہے ۔ ” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین ‘ ثم امین ‘۔
Ayahs 17:55–56

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ‘ ان کو تیرا رب خوب جانتا ہے ، اور بعض نبیوں کو ہم نے بعض پر بزرگی دی ، اور داؤد (علیہ السلام) کو ، ہم نے زبور دی ، (ف 1) ۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

تو کہہ ، اللہ کے سوا جن کو تم (معبود) سمجھے ہو ‘ ان کو پکارو ، سو نہ وہ تمہاری تکلیف دور کرنے پر قدرت رکھتے ہیں اور نہ بدلنے پر ،

فرق مراتب : (ف 1) اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ تمام انبیاء یکساں طور پر قابل احترام ہیں ، سب کی عزت کرنا چاہئے اور سب کو اللہ کی جانب سے عہدہ نبوت پر فائز سمجھنا چاہئے ، البتہ مرتبے اور درجے کے لحاظ سے فرق مراتب ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت کا خلعت عطا کیا گیا ، جناب موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف مکالمہ بخشا گیا ، حضرت مسیح (علیہ السلام) رفعت سے نوازے گئے سلیمان (علیہ السلام) کو بادشاہت اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زبور دی گئی غرضیکہ سب انبیاء اپنے اندر کچھ نہ کچھ خصوصیات رکھتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے افضل ہیں ۔
Ayahs 17:57–58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

وہ جنہیں پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ کی تلاش میں ہیں کہ کون ان میں اس کا زیادہ مقرب ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ، بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے ۔ (ف 2) ۔

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کوئی (نافرمان) بستی نہیں ، جسے ہم قیامت کے دن سے پہلے ہلاک نہ کریں ، یا سخت عذاب میں نہ ڈالیں ، یہ کتاب میں (تقدیر کی) لکھا ہوا ہے ۔

(ف 2) مکہ والے فرشتوں کی عبادت کرتے تھے عیسائی مسیح (علیہ السلام) و عزیز (علیہ السلام) کو پوجتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ تم جن لوگوں کی عبادت کرتے ہو ، وہ تو خود محتاج ہیں ، اللہ کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی بڑی کوشش یہی رہتی ہے ، کہ اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے جب ان کی یہ حالت ہے ، تو کیونکر وہ تمہارے شرک پر خوش ہو سکیں گے ؟ حل لغات : تحویلا : تبدیلی ، پھیرنا ، ہٹانا ۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے معجزے بھیجنے اس لئے موقوف کردیئے ہیں کہ اگلے لوگوں نے انہیں جھٹلایا تھا ، اور ہم نے ثمود کو بطور دلیل (یعنی معجزہ) اونٹنی دی تھی ، پھر اس پر انہوں نے ظلم کیا ، اور معجزے ہم صرف ڈرانے کے لئے بھیجتے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) مشرکین کا ایک اعتراض یہ تھا کہ ہمارے مطالبے کیوں پورے نہیں ہوتے ؟ کیوں مکہ کے پہاڑ درمیان سے نہیں ہٹ جاتے ؟ اور کیوں نہریں نہیں بہتیں ؟ یعنی ہم جو کچھ چاہتے ہیں ، اس کو کیوں پورا نہیں کیا جاتا ؟ قرآن کہتا ہے ، تمہیں معجزہ طلبی کی عادت ہوگئی ہے ، تم عجائب پرستی کے مرض میں مبتلا ہو ، تم سے پہلے تمام معجزات دکھائے جا چکے ہیں ، مگر انکار کرنے والوں نے ہمیشہ انکار ہی کیا ، اور ایماندار لوگوں نے ایمان کی دعوت کو قبول کرلیا ، اس لئے آج اگر تمہارے مطالبوں کو پورا بھی کردیا گیا ، جب بھی تم انکار ہی کرو گے تم سے ایمان کی توقع نہیں ، آیات ومعجزات کا مقصد تو یہ ہے کہ تمہارے دلوں میں خوف پیدا ہو ، تم اللہ سے ڈرو ، اور جب خوف واتقاء کی نعمتوں سے تم تہی دامن رہتے ہو ، تو اب معجزات دکھائے جا چکے ہیں ، مگر انکار کرنے والوں نے ہمیشہ انکار ہی کیا ، اور ایماندار لوگوں نے ایمان کی دعوت کو قبول کرلیا ، اس لئے آج اگر تمہارے مطالبوں کو پورا بھی کردیا گیا ، جب بھی تم انکار ہی کرو گے ، تم سے ایمان کی توقع نہیں ، آیات ومعجزات کا مقصد تو یہ ہے کہ تمہارے دلوں میں خوف پیدا ہو تم اللہ سے ڈرو ، اور جب خوف واتقاء کی نعمتوں سے تم تہی دامن رہتے ہو ، تو اب معجزات دکھانے سے کیا فائدہ ؟ ثمود کی قوم کو دیکھو ، انہوں نے ہلاکت کے لئے معجزہ طلب کیا ، انہیں اونٹنی کا معجزہ دیا گیا ، ان سے کہا گیا ، اس اونٹنی کا وجود بطور نشانی کے ہے ، اس کی بیحرمتی نہ کرنا ، ورنہ مٹ جاؤ گے ، انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں ، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کا عذاب آگیا ، کیا تم بھی یہی چاہتے ہو ، کہ قوم ثمود کی طرح مٹ جاؤ ۔ حل لغات : بالایت : خوارق ، معجزات : الرؤیا : حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں شاہد ، یعنی کو رؤیت سے تعبیر کیا ہے ۔ والشجرۃ الملعونۃ : کھانے کی ہر چیز جو مرغوب ہو ، عرب اسے زقوم اور ملعون کہتے تھے ۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور جب ہم نے تجھ سے کہا کہ تیرے رب نے آدمیوں کو گھیر رکھا ہے ، اور وہ دکھلاوا جو ہم نے تجھے دکھلایا تھا اور وہ درکت جس پر قرآن میں لعنت ہوئی ہے ہم نے آدمیوں کیلئے فتنہ ٹھہرایا ہے اور ہم انہیں ڈراتے ہیں ، مگر یہ ڈرانا ان کی سرکشی کو اور کئی درجہ بڑھاتا ہے (ف 1) ۔

مدارک روحانیہ کا ارتقاء : (ف 1) اس آیت بتایا ہے کہ معراج جسمانی کا معجزہ قابل انکار نہ تھا ، مگر تم نے انکار کیا ، حالانکہ اس میں کیا استحالہ ہے ؟ چاہئے تو یہ تھا کہ آپ لوگ اس حیرت انگیز ارتقاء سے عبرت حاصل کرتے ، اور حضور ﷺ کے مدارک روحانیہ کی برتری کے قائل ہوتے اور یہ کہ انکار کرتے ہو ۔ اسی طرح قرآن میں شجر زقوم کا ذکر کیا گیا ، اور تمہیں اعتراض سوجھا ، کہ آگ میں کیونکر اشجار پیدا ہو سکتے ہیں ، حالانکہ تم وہاں کی آگ کی نوعیت سے واقف نہیں ، اور تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کے سب کچھ اختیار میں ہے ۔ جب ان باتوں نے تم میں سوائے انکار کے اور کوئی جذبہ پیدا نہیں کیا تو مزید معجزات سے کیا حاصل ۔
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا ، بولا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تونے مٹی سے بنایا ؟ (ف 2) ۔

(ف 2) آدم (علیہ السلام) اور فرشتوں کے قصہ کو قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر ذکر کیا ہے ، مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسان کو دینی قدومنزلت سے آگاہی ہو اور وہ اپنے رتبہ فضیلت سے آشنا ہو ، اس میں جذبہ خوداری پیدا ہو ، اور وہ سوائے اللہ کے اور کسی کے چوکھٹ پر نہ جھکے ، انہیں معلوم ہو کہ فرشتے تک ہمارے احترام میں جھک جاتے ہیں ، یہ قصہ بائیبل میں مذکور نہیں ہے ، یہ حضور کے غیوب مختصہ میں سے ہے کہ ابتدائے آفرینش کے واقعات بیان فرمائے ہیں ۔
Ayahs 17:62–66

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

پھر بولا دیکھ تو اس کو جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دیگا تو میں سوائے تھوڑے لوگوں کے اس کی اولاد کی جڑ کاٹ ڈالوں گا ، (ف 3) ۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

فرمایا ، چلا جا ، ان میں سے جو تیرے تابع ہوگا تو تم سب کی سزا دوزخ ہوگی ، پورا بدلہ ۔

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

جسے تو اپنی آواز سے ان میں سے بہکا سکے ، بہکا ، اور اپنے سوار اور پیادے ان پر چڑھا لا اور مال اور اولاد میں ان کا شریک ہو ، اور ان انہیں وعدہ دے اور شیطان انہیں سوائے فریب کے اور کچھ وعدہ نہیں دیتا ۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا غلبہ نہ ہوگا اور تیرا رب کارساز کافی ہے ۔

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل (روزگار) تلاش کرو ، وہ تم پر مہربان ہے ۔

(ف 3) شیطان کو مہلت دی گئی ، کہ وہ ایک وقت مقررہ تک زندہ رہے ، مگر اس کی زندگی کے یہ معنی نہیں ہیں ، کہ وہ لامحالہ سب کو گمراہ کر دے گا ، بلکہ صاف صاف کہہ دیا گیا ، کہ تم اپنی تمام قوتوں کو برروئے کار لے آؤ ، تم انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر دیکھو ، جو تمہارے اختیار میں ہے ان سے جھوٹے وعدے کرو ، خواہشات نفس پر قبضہ کرو ، دل کی گہرائیوں میں سما جانے کی کوشش کرو ، اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرو ، مگر یاد رکھو ، میرے خاص بندے تیری دسترس سے باہر ہیں ، ان پر تیرا قبضہ نہیں ہو سکتا ، جن کے دلوں میں میری محبت ہے ۔
Ayahs 17:67–69

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب دریا میں تم پر سختی آتی ہے تو خدا کے سوا ان سب کو جنہیں تم پکارا کرتے تھے بھول جاتے ہو ، پھر جب وہ تمہیں خشکی پر بچا لاتا ہے تو تم منہ موڑتے ہو ، اور انسان ناشکرا ہے (ف 1) ۔

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم اس سے نڈر ہو کہ وہ تمہیں جنگل کے کنارے زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے پھر اپنے لئے کوئی کارساز نہ پاؤ ؟ ۔

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا اس سے نڈر ہو کر پھر تمہیں دوسری بار دریا میں لائے ، اور تم پر آندھی کا جھونکا بھیجے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں غرق کرے ، پھر تم اپنے لئے ہم پر کوئی اس کا دعوی دار نہ پاؤ ؟

فطرت انسانی کا اقرار : (ف 1) انسانی فطرت ہے کہ مصائب ومشکلات کے وقت دل کی تمام قوتیں بیدار ہوجاتی ہیں ، اور ایمان کے مخفی نقوش جو ہواہوس کے توغل کی وجہ سے دب جاتے ہیں ابھر آتے ہیں ، جب کہ مصیبت کے بادل مطلع قلب پر اضطراب و انتشار بن کر چھا جاتے ہیں ، توحید الہی کے عقدوں کو کھلنے کا موقع ملتا ہے ، اسرار منکشف ہوتے ہیں ، اور دل کی گہرائیوں میں یقین چمکنے لگتا ہے ، اس آیت میں اس کیف وحال کی جانب قرآن حکیم نے انسان کو متوجہ کیا ہے ، اور فرمایا ہے جب تم تکلیفوں اور مصیبتوں میں اللہ کو یاد کرتے ہو ، اور اس کے نام کے ساتھ تسلی وتسکین حاصل کرتے ہو تو عافیت وامن کی حالت میں کیوں اس حقیقت کو فراموش کردیتے ؟ کیا وہ خدا جس نے تمہیں مشکلات سے نجات دی ہے پھر تمہیں مشکلات میں نہیں پھنسا سکتا ؟ تم عذاب الہی سے اپنے تئیں محفوظ خیال کرتے ہو ؟ جس نے جنگل کی تاریکیوں میں تمہاری راہنمائی کی ، متلاطم سمندر سے تمہاری کشتی کو پار لگایا اور اگر وہ زمین میں تمہیں دھنسا دے تو یہ اس کی قدرت میں ہے ، اس طرح وہ تمہیں سمندر میں غرق بھی کرسکتا ہے ، یہ سب اس کی قدرت کا ادنی کرشمہ ہے ، جب انسانی بےچارگی اور بےبسی کا یہ عالم ہے تو پھر جو لمحہ عافیت سے گزر جائے اسے اللہ کی بخشش اور نوازش سمجھنا چاہئے کہ اس نے ہمیں مہلت دی ، اور ہمارے گناہوں کی ہمیں فی الفور سزا نہیں دی ۔
Ayahs 17:70–73

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی اور دریا میں سواری بخشی ، اور پاکیزہ رزق دیا ، اور اپنی خلقت میں سے بہتوں پر انہیں افضل ٹھہرایا (ف 1) ۔

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب آدمیوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے پھر جس کی کتاب اس کے داہنے ہاتھ میں دی جائیگی وہ اپنی کتاب پڑھیں گے اور ان پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہ ہوگا ،

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو اس دنیا میں اندھا رہا ، وہ آخرت میں اندھا ہے اور راہ سے بہت دور ہے ۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور وہ تو تجھے ہماری وحی سے جو ہم نے تیری طرف نازل کی ہے بچلانے ہی لگے تھے تاکہ تو اس کے سوا کچھ ہم پر افترا کرے اور اس وقت وہ تجھے دوست سمجھتے ۔

(ف 1) اسلام سے قبل انسان کو فی نفسہ گناہگار اور مجرم قرار دیا جاتا تھا ، انسان کے لئے ضروری تھا کہ وہ کائنات کی ہر چیز کا احترام کرے وہ پہاڑوں کے سامنے جھکے دریاؤں کو پوجے بتوں کو سجدہ کرے ، آفتاب ماہتاب اور ستاروں کو معبود سمجھے سانپ اور بچھوؤں کو دیوتا قرار دے ، صندل کی معمولی لکڑی اس کی جبین ناز کا قشقشہ بنے ہر آن ان معبودوں سے خائف رہے ، دنیا کی ہر چیز کو قابل عبادت سمجھے ۔ قرآن نے انسان کے مرتبہ کو بلند قرار دیا جنت اس کا مسکن ٹھہرایا اور فرشتے اس کی تعلیم کے لئے جھکے ، احسن تقویم اور تکریم کا خلعت عطا ہوا ، اور طے پایا کہ انسانی مخلوق کائنات کی ہر شے سے افضل ہے ، بحر وبر کی حکومتیں اس کے سپرد ہیں چاند اور ستارے اس کے مسخر ہیں ، سورج اس کا خادم ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے عزت دی ہے اسے مکرم ومحترم بنایا ہے ۔ ابروبادومہ وکورشید فلک کا راند تا تونانے بکف آوری اجلت نخوری ۔ ہمہ از بہر تو سرگشتہ وفرماں بردار شرط انصاف بنا شد کہ تو فرمان نبری ۔ حل لغات : حاصبا : اگر حصب سے مشتق ہو ، تو اس کے معنی شدت سے پھینکنے کے ہوں گے اور اگر حصباء سے نکلا ہو ، تو اس صورت سنگریزے برسانے والی آندھی یا اولے برسانے والے ابر ہونگے ، کیونکہ حصباء کے معنی پتھر اور کنکر کے ہیں ۔ قاصفا : قصف کے معنی توڑنا ، وہ تیز ہوا جو درختوں کو اکھاڑ دے اور سخت آواز ۔ تبیعا : تعاقب کرنے والا ۔ بامامھم : امام کے معنی عربی میں قابل اقتدار کے ہیں یہاں مفسرین نے پانچ معانی بیان فرمائے ہیں ۔ 1۔ نبی مراد ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعا روایت ہے ، 2۔ کتاب اعمال مراد ہے ، حسن ربیع اور ابولبابہ کا یہی مذہب ہے ، 3۔ مذہبی کتب مثل قرآن وتوریت وغیرہ مقصود ہے ، 4۔ ام کی جمع ہے یعنی ہر شخص کو اس کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا اہل زبان اس تاویل کو لغۃ کمزور خیال کرتے ہیں ۔ 5۔ ملک راسخہ جس سے تمام عادات منشعب ہوں یعنی ہر شخص میں کچھ عادات اس نوع کی ہوتی ہیں ، جنہیں مرکزی اور اساسی عادات کہا جاسکتا ہے اصل میں یہی عادات مواخذہ کے قابل ہوتی ہیں ۔